متفرق مضامین

قراۤن کریم کی تصریحات اور حضرت مسیح موعودؑ کے ارشادات کی روشنی میں تیسری عالمی ایٹمی جنگ اور اسلام احمدیت کی فتح (قسط اوّل)

(چوہدری ناز احمد ناصر۔ لندن)

اس وقت دنیا بہت تشویشناک حالات میں سے گزر رہی ہے۔ دنیا کے بعض حصوں میں علاقائی جنگوں کی خبریں تو آتی رہتی ہیں، لیکن ان جنگوں میں اگر دنیا کے کئی ممالک کود جائیں تو پھر ایک عالمی جنگ کی صورتِ حال پیدا ہو سکتی ہے۔ اب تک دو عالمبی جنگیں دنیا میں برپا ہو چکی ہیں، جن میں سے پہلی تو زیادہ تر یورپ تک ہی محدود رہی، لیکن دوسری جنگ عظیم میں یورپ کے علاوہ ایشیا کے بعض ممالک بھی شامل ہو گئے۔ اب تیسری جنگ عظیم کے بادل بھی منڈلا رہے ہیں۔

ان جنگوں کے بارے میں قراۤن کریم نے اۤج سے تقریباً پندرہ سو سال پہلے متنبہ کر دیا تھا۔ پھر حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے بھی ان جنگوں کے بارے میں متنبہ فرمایاہے اور حضورؑ کے خلفاء بھی قراۤنِ کریم کی تفاسیر ، اپنی تقاریر نیزامن کے بارے منعقدہ کانفرنسوں میں فرمودہ خطابات میں مسلسل اس کے متعلق انتباہ فرما رہے ہیں۔ اس وقت بڑی بڑی طاقتیں اپنے زعم میں خدا تعالیٰ کے وجود سے انکار کرنے لگی ہیںلیکن جب ان بڑی کا غرور خاک میں ملا دیا جائے گا تو ان کی توجہ خدائے واحد کی طرف ہوگی۔ اسی لیے ایک بڑے ’زلزلے‘ کے بعد غلبہ اسلام کا آنا بھی بیان کیا جاتا ہے۔ اس وقت کورونا وائرس کی وبا نے پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لیا ہوا ہے، جس سے زندگی تقریباًمفلوج ہو کر رہ گئی ہے۔ اور لاکھوں کے حساب سے لوگ لقمہ اجل بن چکے ہیں۔ ترقی یافتہ ممالک، امریکہ اور مغربی دنیا میں اس کے اثرات زیادہ نمایاں ہو کر ظاہر ہو رہے ہیں جب کہ شاید ہی دنیا کا کوئی ایسا ملک ہو جو اس سے محفوظ ہو۔ حقیقت میں یہ ایک عالمی وبا ہے۔ ویکسین کی دریافت سے اس کی تباہ کاریوں میں فرق ضرور پڑا ہے لیکن ابھی بھی بعض ممالک اس کی گرفت سے پوری طرح نکل نہیں پائے۔

ذیل میں سب سے پہلےقراۤن کریم کی اۤٹھ پیشگوئیوں کا ذکر کیا جائے گا اور اس کے بعدحضرت مسیح موعود علیہ السلام اور اۤپ علیہ السلام کے خلفائے کرام کے بعض ارشادات پیش کیے جائیں گے جن میں اسلام احمدیت کے غلبہ کے متعلق بھی پیشگوئیاں ہیں اور دنیا کے لیے انتباہ بھی۔ اللہ تعالیٰ دنیا کی توجہ اسلام احمدیت کی طرف جلدکرے تا کہ یہ ان تباہیوں سے بچ سکے۔

ان جنگوں کے بارے میں مختلف لوگو ں نے مضامین لکھے ہیں جن میں سے ایک مضمون از مکرم ساجد محمود بٹر صاحب روزنامہ الفضل ربوہ میں (اپریل 2001ء میں) شائع ہوا۔ اس مضمون کو بعض اضافوں کے ساتھ قارئین کی خدمت میں پیش کیا جاتا ہے۔

بیسویں اور اکیسویں صدیاں ( عیسوی) تاریخ عالم میں انقلابی صدیوں کے نام سے موسوم کی جائیں گی۔ سیاسی میدان ہو یا سائنس اور ٹیکنالوجی میں مہارت، غرضیکہ زندگی کے ہر شعبے میں دن دگنی اور رات چوگنی ترقی دیکھنے میں آئی ہے۔ ایک طرف انسان نے نت نئی ایجادات کے نتیجے میں بنی نوع انسان کو سہولیات کے لحاظ سے بام عروج تک پہنچایا تو دوسری طرف انسانیت کے قاتلوں نے اقتدارکی ہوس میں اپنی ایجادات کے غلط استعمال کے نتیجے میں لاکھوں انسانوں کو موت کے گھاٹ اتارا ہے۔

’’ایٹم بم ‘‘انہی ایجادات میں سے ایک ایسی انوکھی ایجاد ہے جس کے غلط استعمال کے نتیجے میں ایسی ہولناک اور بھیانک تباہی و بربادی ہوئی کہ گذشتہ تمام تاریخ ایسی نظیر لانے سے قاصر ہے۔ جب 1945ء میں اس ہتھیار کا پہلی دفعہ استعمال کرتے ہوئے ہیرو شیما اور ناگا ساکی پر ایٹم بم گرائے گئے تو دنیا اس کی ہولناک تباہی کا ذکر سن کر کانپ گئی اور جسموں پر لرزہ طاری ہو گیا، اور اس کے نتیجے میں جنگ عظیم دوم (1939ء تا 1945ء )اپنے اختتام کو پہنچی۔ جنگ بند ہونے کے بعد دنیا کے ترقی یافتہ ممالک کے مابین ایٹمی ہتھیاروں کو بنانے کی ایک دوڑ شروع ہو گئی کیونکہ ہر کسی کو معلوم تھا کہ جس کے پاس ایٹم بم ہوگا جنگ میں پلڑا اسی کا بھاری ہوگا۔ چنانچہ 1945ء سے لے کر اۤج تک بیسیوں نہیں بلکہ سینکڑوں ایٹمی تجربات ہو چکے ہیں اور ترقی یافتہ ممالک کے پاس جوہری ہتھیاروں کے انبار لگے ہوئے ہیں۔ یہ ساری تیاریاں جنگ عظیم سوم کے لیے ہو رہی ہیں۔ اس لیے بعض اندازوں کے مطابق اب ہونے والی عالمی جنگ پہلے ہونے والی جنگوں کی طرح نہیں ہوگی بلکہ یہ ایٹمی جنگ ہوگی جس میں اتنا نقصان ہو گا کہ انسان اس کا تصور بھی نہیں کر سکتا، بلکہ بعض جگہوں پر تو ہر قسم کی زندگی کے ختم ہوجانے کا بھی خدشہ ہے۔

ایٹمی جنگ کا قراۤنی نقشہ

قراۤن کریم نے اس ایٹمی جنگ کا نقشہ کھینچا ہے اور اس کی ہولناک اور لرزہ خیز تباہی کا ذکر کیا ہے۔ چنانچہ اس ایٹمی جنگ کے متعلق پہلے قراۤنی پیشگوئیاں تحریر کرتا ہوں۔

قراۤنی پیشگوئی نمبر 1

اللہ تعالیٰ قراۤن کریم میں فرماتا ہے:

اَلۡقَارِعَۃُ ۙ۔ مَا الۡقَارِعَۃُ۔ وَ مَاۤ اَدۡرٰٮکَ مَا الۡقَارِعَۃُ ؕ۔ یَوۡمَ یَکُوۡنُ النَّاسُ کَالۡفَرَاشِ الۡمَبۡثُوۡثِ۔ وَ تَکُوۡنُ الۡجِبَالُ کَالۡعِہۡنِ الۡمَنۡفُوۡشِ ؕ۔ فَاَمَّا مَنۡ ثَقُلَتۡ مَوَازِیۡنُہٗ ۙ۔فَہُوَ فِیۡ عِیۡشَۃٍ رَّاضِیَۃٍ ؕ۔وَ اَمَّا مَنۡ خَفَّتۡ مَوَازِیۡنُہٗ۔فَاُمُّہٗ ہَاوِیَۃٌ ؕ۔وَ مَاۤ اَدۡرٰٮکَ مَا ہِیَہۡ۔ نَارٌ حَامِیَۃٌ۔ (القارعۃ: 1تا12)

(دنیا پر) ایک شدید مصیبت (اۤنے والی ہے)۔ اور تجھے کیا معلوم کہ وہ مصیبت کیسی ہے۔ اور (پھر ہم کہتے ہیں کہ اے مخاطب!)تجھے کیا معلوم ہے کہ یہ (عظیم الشان )مصیبت کیا چیز ہے؟ (یہ مصیبت جب اۤئے گی)اس وقت لوگ پراگندہ پروانوں کی طرح (حیران پھر رہے)ہوں گے۔ اور پہاڑ اس پشم کی مانند ہو جائیں گے جو دھنکی ہوئی ہوتی ہے۔ اس وقت جس کے (اعمال کے) پلڑے بھاری ہوں گے۔ وہ تو (بہترین اور) پسندیدہ حالت میں ہوگا۔ اور جس کے (اعمال کے) پلڑے ہلکے ہوں گے اس کا ٹھکانہ ہاویہ (یعنی جہنم) ہوگا۔ اور( اے مخاطب!) تجھے کیا معلوم ہے کہ یہ (ہاویہ) کیا ہے۔ یہ ایک دہکتی ہوئی اۤگ ہے۔

اس سورت میں جس عذاب کا ذکر کیا گیا ہے اس کی نشانیاں ایٹم بم سے پیدا شدہ تباہی و بربادی کے مطابق ہیں۔ چنانچہ جب ہیرو شیما اور ناگا ساکی (جاپان) پر بم گرائے گئے تو بعینہٖ یہی نظارہ دیکھنے میں اۤیاجس کا نقشہ قراۤن اۤن کریم نے یہاں کھینچا ہے۔

حضرت مصلح موعودؓ نے اس سورت کی ایک اۤیت کی تفسیر بیان کرتے ہوئے لکھا: ’’میں پہلے خیال کرتا تھا کہ ان اۤیات میں توپ خانوں اور موجودہ زمانہ کی ا ن ہلاکت اۤفرین ایجادوں کی طرف اشارہ کیا گیا ہے جن سے عام طور پر لڑائیوں میں کام لیا جاتا ہے مگر اب میں سمجھتا ہوں کہ اَلْقَارِعۃسے ایٹم بم مراد ہے اوراس عذاب کی ساری کیفیت ایسی ہے جو ایٹم بم سے پیدا شدہ تباہی پر پوری طرح چسپاں ہوتی ہے۔ یہ بم ایسا خطرناک اور تباہ کن ہے کہ اس سے بچنے کی سوائے اس کے اور کوئی صورت نہیں کہ لوگ منتشر اور پراگندہ ہو جائیں گے۔ یہ بم جس جگہ گرتا ہے سات سات میل کا تمام علاقہ خس و خاشاک کی مانند جلا کر راکھ کر دیتا ہےبلکہ ایٹم بم کے متعلق اب جو مزید تحقیق ہوئی ہے وہ بتاتی ہے کہ سات میل کا بھی سوال نہیں، چالیس چالیس میل تک یہ ہر چیز کو اڑا کر رکھ دیتا ہے۔ ہیرو شیما (جاپان) پر جب ایٹم بم گرایا گیا تو بعد میں جاپانی ریڈیو نے بیان کیاکہ اس بم سے ایسی خطرناک تباہی واقعہ ہوئی ہے کہ انسانوں کے گوشت کے لوتھڑے میلوں میل تک پھیلے ہوئے پائے گئے ہیں۔ یہ بالکل وہی حالت ہےجس کا قراۤن کریم نے ان اۤیات میں ذکر فرمایا ہے کہ انسانوں کا وجود تک باقی نہیں رہے گا۔ ہڈی کیا اور بوٹی کیا سب باریک ذرات کی طرح ہو جائیں گے اور پتنگوں کی مانند ہوا میں اڑتے پھریں گے۔‘‘ (تفسیر کبیر جلد9 صفحہ515)

حضرت خلیفۃ المسیح الثانیؓ ’’اَلْقَارِعَۃْ‘‘کی تشریح کرتے ہوئے مزید فرماتے ہیں: ’’غرض اَلْقَارِعَۃوہ عذاب ہے جو موجودہ زمانہ میں ایٹم بم کی صورت میں ظاہر ہوا اور جس کے ہولناک نتائج اۤج دنیا پر ظاہر ہو چکے ہیں۔ لیکن ابھی کیا ہے، ابھی تو صرف ایک قدم اٹھایا گیا ہے، پھر اور ایجادات کی لپیٹ میں یورپین اقوام اپنے اۤپ کو تباہ کر لیں گی۔ سو سنا ر کی اور ایک لوہار کی ضرب المثل کے ماتحت اۤخری حملہ خدا تعالیٰ کا ہو گا اور جن لوگوں کے اعمال کو حقیقی وزن حاصل ہوگا، وہ جیت جائیں گے اور دنیا پر ان کو غلبہ و اقتدار حاصل ہو جائے گا۔ ‘‘(تفسیر کبیر جلد 9صفحہ 522)

حضرت خلیفۃ المسیح الثانیؓ ’’نَارٌ حَامِیَۃٌ‘‘کا مطلب بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں: ’’اسی طرح نَارٌ حَامِیَۃٌکے ایک یہ معنی بھی ہو سکتے ہیں کہ وہ اۤگ ان پرغضب کرنے والی ہو گی۔ نارخود اپنی ذات میں جلانے والی چیز ہے، لیکن نَارْ کےساتھ جب حَامِیَۃکا لفظ ملا دیا جائے تو اس کے معنی یہ ہوتے ہیں کہ وہ اۤگ اپنی انتہائی شدت کو پہنچ جائے گی۔ پس نَارٌ حَامِیَۃٌ کہہ کر اس طرف اشارہ کیا گیا ہے کہ تم اسے معمولی اۤگ نہ سمجھو۔ وہ ایسی خطرناک ہوگی کہ یوں معلوم ہوگا وہ انتہائی غضب کی حالت میں لوگوں پر حملہ کر رہی ہے۔ ‘‘( تفسیر کبیر جلد 9صفحہ 521)

حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ نےان اۤیات کی تفسیر بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ یہاں Atomic Warfare کا ذکر ہے۔ خصوصاً رسول کریمؐ کے زمانے کے انسان کو اس قَارِعَۃ کا کوئی تصور بھی نہیں تھا۔ جس قارعۃکی طرف یہ سورت اشارہ کر رہی ہے، یعنی اس اۤخری قَارِعَۃکی طرف۔ یہی وہ وقت ہوگا جب بڑی بڑی طاقتور حکومتیں اور طاقت کے پہاڑ دھنی ہوئی روئی کی طرح ہو جائیں گے۔ دھنی ہوئی روئی میں کوئی طاقت نہیں ہوتی…وہ جب بھی ہاتھ مارو، جھاگ کی طرح اسی وقت بیٹھ جائے گی اورپریشان ٹڈیوں کی طرح انسان ہو جائے گا۔ ساری دنیا کے انسان اس خوفناک اور ہولناک اۤواز کے ذریعے بکھیر دیے جائیں گے۔ جس کو اۤواز کہا جا رہا ہے اس سے مراد Atomic Bombہے۔ چنانچہ جیتے گا کون؟ دنیاکے لحاظ سے جس کے وزن بھاری ہوں گے…جو زیادہ ہولناک تباہی کے ذرائع ایجاد کر سکیں گے۔ دنیاوی لحاظ سے تو وہ جیتیں گے، یعنی بالاۤخر ایک کو تو غلبہ نصیب ہوگا، وہ کون لوگ ہوں گے؟ جو باہمی موازنے میں زیادہ وزنی ثابت ہوں گے۔ اس میں بھی وہی مضمون ہے جس کا دوسرا پہلو بیان فرمایا جا رہا ہے۔ جن قوموں کے پاس دفاعی طاقتیں کم ہوں گی، ان کا کیا حال ہوگا، ان کے مقدر میں تو پھر جلنا ہی ہے۔ (ماخوذ از ترجمۃ القراۤن کلاس نمبر 305)

ایٹم بم کے دھماکے کے نتیجے میں جو حرارت پیدا ہوتی ہے، وہ اس کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ اس حرارت کا ذکر کرتے ہوئے جو ہیروشیما (جاپان) پر ایٹم بم گرائے جانے کے وقت پیدا ہوئی تھی، محمد اسلم ڈوگر صاحب اپنی کتاب میں لکھتے ہیں: ’’31,600فٹ کی بلندی پر بٹن دبا دیا گیا (یہ بم جہاز کے ذریعہ گرایا گیا تھا)۔ یہ بم زمین پر گرنے سے پہلے ایک خوفناک دھماکے سے پھٹ گیا۔ بم کے پھٹتے ہی درجہ حرارت 180ملین ڈگری سنٹی گریڈ تک پہنچ گیا۔ یہ سورج کے درجہ حرارت کا دس گنا تھا۔ مگر یہ درجہ حرارت مختصر وقفے کے لئے تھا۔ اگر یہ درجہ حرارت چند منٹوں کے لئے بھی برقرار رہتا تو ہیروشیما کی ہر شے بخارات کی صورت میں تحلیل ہو جاتی۔ مگر اس کے باوجودایک میل کے دائرے میں پختہ عمارتوں کی بالائی چھتیں پگھل کر زمین بوس ہو گئیں۔ شدید حرارت کی وجہ سے ہلکی ہوا اوپر اٹھ گئی، اس خلا کو پورا کرنے کے لئے چاروں طرف سے زور دار اۤندھی شروع ہو گئی جس کا رخ ایٹم بم کے نشانے کی طرف تھا۔ یہ خوفناک اۤندھی مسلسل چھ (6)گھنٹے چلتی رہی…اس اۤندھی کی وجہ سے اۤگ بھی لگی جو اۤناً فاناً شہر میں پھیل گئی۔ فلک بوس عمارتیں ملبے کا ڈھیر بن گئیں۔ ‘‘(مغربی میڈیا کا اسلامی بم صفحہ 373)

پاکستان نے ضلع چاغی (بلوچستان) میں جو ایٹمی دھماکہ کیا اس کے مرکزی حصہ کا درجہ حرارت 10کروڑ درجے سینٹی گریڈ کے لگ بھگ تھا…سورج کے گرم ترین مرکزی حصے سے بھی کئی گنا زیادہ ہے۔ (کہوٹہ سے چاغی تک صفحہ 65)

چنانچہ یہ نَارٌ حَامِیَۃٌکا زندہ جاوید ثبوت ہے، جو مکمل طور پر ایٹم بم پر ہی چسپاں ہوتا ہے۔

ایٹم بم کی تباہ کاریاں

ایٹم بم کی تباہی کا اندازہ 6؍ اگست 1945ء کوہیروشیما پر گرائے گئے ایٹم بم سے ہو سکتا ہے۔ اس دھماکے سے شہر کی 70ہزار کے قریب عمارات ملیا میٹ ہو گئیں۔ تقریباً اتنے ہی افراد موقع پر ہلاک ہو گئے اور مجموعی طور پر اس دن میں ایک لاکھ افراد موت کے منہ میں گئے۔ اس کے بعد اموات کاایک ایسا سلسلہ شروع ہوا جو برس ہا برس تک چلتا رہا۔ 1950ء تک مرنے والوں کی تعداد دو لاکھ تک پہنچ گئی تھی۔ تابکاری اثرات سے اب بھی بچے جسمانی نقائص کے ساتھ پیدا ہوتے ہیں۔ (کہوٹہ سے چاغی تک، صفحہ 165)

اس کے علاوہ جاپان کے دوسرے شہر ناگا سا کی پر چند دن بعد دوسرا ایٹم بم پھینکا گیا جس سے 30ہزار افراد کو موت کے گھاٹ اتار دیا گیا۔ تھوڑے مرنے کی وجہ اس شہر کی اۤبادی کا مختلف اونچی نیچی پہاڑیوں پر پھیلاؤ تھا، جس کے باعث زیادہ تباہ کاری نہیں ہوئی۔ ناگاساکی پر پھینکا جانے والابم پلوٹونیم بم تھا۔ (کہوٹہ سے چاغی تک، صفحہ 165)

اس خوفناک تباہی کے نتیجے میں جاپانیوں کو اتحادیوں کے سامنے گھٹنے ٹیکنے پڑے۔ ان دو ہتھیاروں نے جاپان جیسی بڑی طاقت کو، جس کے پاس نوے لاکھ فوج تھی (بحوالہ تفسیر کبیر جلد9صفحہ516) اور جو ساری دنیا پر حکومت کرنے کے خواب دیکھ رہی تھی، اتحادیوں کے سامنے سر جھکانے پر مجبور کردیا اور اس کے ساتھ ہی جنگ عظیم دوم کا خاتمہ ہو گیا۔

قراۤن کریم کی دوسری پیشگوئی

اللہ تعالیٰ اپنے کلام قراۤن کریم میں فرماتا ہے:

کَلَّا لَیُنۡۢبَذَنَّ فِی الۡحُطَمَۃِ۔ وَ مَاۤ اَدۡرٰٮکَ مَا الۡحُطَمَۃُ۔ نَارُ اللّٰہِ الۡمُوۡقَدَۃُ ۙ۔ الَّتِیۡ تَطَّلِعُ عَلَی الۡاَفۡـِٕدَۃِ ؕ۔ اِنَّہَا عَلَیۡہِمۡ مُّؤۡصَدَۃٌ۔ فِیۡ عَمَدٍ مُّمَدَّدَۃٍ۔ (الھمزۃ: 5تا10)

ہر گز ایسا نہیں (جیسا اس کا خیال ہے بلکہ) وہ یقیناً (اپنے مال سمیت) حطمہ میں پھینکا جائے گا۔ اور (اے مخاطب!) تجھے کیا معلوم ہے کہ حطمہ کیا شے ہے؟ یہ (حطمہ) اللہ کی خوب بھڑکائی ہوئی اۤگ ہے۔ جو دلوں کے اندر تک جا پہنچے گی۔ پھر وہ (اۤگ) سب طرف سے بند کر دی جائے گی تا کہ اس کی گرمی ان کو اور بھی زیادہ تکلیف دہ محسوس ہو۔ اور (وہ لوگ اس وقت) لمبے ستونوں کے ساتھ بندھے ہوئے ہوں گے۔

حضرت خلیفۃ المسیح الثانیؓ اس مختصر سورت کی تشریح میں فرماتے ہیں: ’’اۤگ ان کے دلوں پر خوب بھڑکائی جائے گی اور پھر وہ اۤگ چاروں طرف سے بند ہوگی، اس کے شعلے ان کی ایڑی سے لے کر چوٹی تک پہنچیں گے اور انہیں جھلس کر رکھ دیں گے…جب اۤگ ان پر بھڑکائی جائے گی تو وہ بڑے بڑے اونچے ستونوں سے بندھے ہوئے ہوں گے۔ جس طرح ستون سے اگر کسی شخص کو باندھ دیا جائے تو اس کا جسم اکڑ ا رہتا ہے اور باوجود کوشش کے وہ ادھر ادھر نہیں ہو سکتا، اسی طرح فرماتا ہے ہم ان کفار کوایسا عذاب دیں گے کہ وہ باوجود کوشش اور خواہش کے اس عذاب سے بچنے کا کوئی ذریعہ نہیں پائیں گے…یہ بھی کہ ان کے لئے عذاب کی بھٹیاں بڑی بڑی اونچی بنائی جائیں گی اور یہ بھی کہ وہ بالکل بے کس اور بے بس ہو جائیں گے، انہیں عذاب پہنچے گا مگر وہ سر سے پاؤں تک بندھے ہوئے ہوں گے، کچھ کر نہیں سکیں گے۔ ‘‘( تفسیر کبیر جلد 9صفحہ 589تا590)

ان اۤیات کی مزید تشریح حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ اپنی شہرہ اۤفاق کتاب Revelation, Rationality, Knowledge and Truthجس کا اردو ترجمہ ’’الہام، عقل، علم اور سچائی‘‘ہے، میں فرماتے ہیں: ’’یہ مختصر سورۃ حیرت انگیز پیشگوئیوں کا زبردست مجموعہ ہے جن کا اس زمانہ میں کوئی تصور تک نہیں کر سکتا تھا۔ کیا یہ حیران کن بات نہیں ہے کہ بعض گنہگارحُطَمَہ میں ڈالے جائیں گے۔ حطمہ سے مراد وہ مہین اور باریک ترین ذرات ہیں جو ایک نہایت روشن کمرے میں سے گزرتی ہوئی روشنی کی شعاع میں تیرتے ہوئے پائے جاتے ہیں۔

مستندعربی لغات میں حُطَمَہْ کے دو بنیادی معانی پائے جاتے ہیں: ایک حَطَمَہْ ہے جس کا مطلب کسی چیز کو پیسنا یا ریزہ ریزہ کرنا ہے، دوسرا حِطَمَہْ جس کے معنی بے حقیقت سے چھوٹے ذرات کے ہیں۔ گویا حُطَمَہْ کسی چیز کو اس کے باریک ترین ذرات میں توڑنے کو کہتے ہیں۔

ان دونوں معانی کا جائز طور پر اطلاق ان باریک ترین ذرات پر ہو سکتا ہے جن کی مزید تقسیم نہ ہو۔ اۤج سے چودہ سو سال قبل ایٹم کا کوئی تصور موجود نہیں تھا لیکن صرف حُطَمَہْ ہی ایک ایسا لفظ ہے جسے ایٹم کا قریب ترین مترادف قرار دیا جا سکتا ہے۔ دوسری جانب صوتی اعتبار سے بھی یہ دونوں الفاظ ملتے جلتے ہیں۔ انسان ابھی اس دعویٰ پر حیران ہے کہ اسے حُطَمَہْ میں جھونکا جائے گا کہ ایک اور پہلے سے بھی زیادہ حیرت انگیز دعویٰ سامنے اۤ جاتا ہے۔

…یہ چھوٹی سی سورت حیرت انگیز امور پر مشتمل ہے۔ اوّل یہ ذکر کہ ایک وقت ایسا اۤئے گا جب انسان چھوٹے چھوٹے ذرات میں جھونک دیا جائے گا۔ پھر ان ذرات کی وضاحت کی گئی ہے اور بتایا گیا ہے کہ ان میں ہے کیا؟ ان میں اۤگ ہے جو چھوٹے چھوٹے سلنڈروں میں بند ہے جن کی شکل لمبوترے بلند و بالا ستونوں جیسی ہے۔

…مغربی مستشرق سیل (Sale)کو بھی حُطَمَہْ کا لفظی ترجمہ کرنے میں مشکل پیش اۤئی۔ اس نے حُطَمَہ ْکا لفظی ترجمہ کئے بغیر صرف یہ لکھا کہ لوگوں کی ایک بڑی تعداد حُطَمَہْمیں ڈالی جائے گی۔ اس طرح اس نے انگریزی جاننے والوں کی اس ممکنہ بے یقینی کو دور کر دیا، جس کا انسان کے چھوٹے چھوٹے ذرات میں ڈالے جانے کے ترجمہ سے پیدا ہونے کا احتمال تھا۔ چنانچہ حُطَمَہْکے درست معنی معلوم نہ ہونے کی وجہ سے قاری کے ذہن میں حُطَمَہ کے معنے کسی بڑے کمرہ میں جلتی ہوئی اۤگ کے اۤتے ہیں۔ اس حکمت عملی نے سیل (Sale)کو غلط ترجمہ سے پیدا ہونے والی شرمندگی سے توبچا لیا لیکن وہ اس عظیم الشان پیشگوئی کا حق ادا کرنے میں ناکام رہا۔

…جب تک سائنسی لحاظ سے یہ معلوم نہ ہو کہ ایٹمی دھماکہ کس طرح ہوتا ہے اور جوہری کمیت میں کیا کیا تبدیلیاں واقع ہوتی ہیں، قراۤن کریم میں مذکور لمبے ستونوں کے معنی مکمل طور پر سمجھ میں نہیں اۤ سکتے۔ پھٹنے سے قبل جوہری کمیت کی کیفیت کو ایٹمی ماہرین اس طرح بیان کرتے ہیں جیسے کوئی چیز اپنے اندر موجود بے انتہا دباؤ کی وجہ سے پھٹ پڑنے والی ہو…

اب ہم اس بات کی وضاحت کرتے ہیں کہ اۤگ براہ راست دلوں پر کس طرح لپکے گی:

ایٹمی دھماکہ کے وقت گاما ریز (gamma rays)، نیو ٹرانز (neutrons)اور ایکس ریز کی ایک بہت بڑی تعداد خارج ہوتی ہے۔ ایکس ریز درجہ حرارت کو فوری طور پر بے انتہا بڑھا دیتی ہیں۔ نتیجۃً اۤگ کا ایک بڑا سا گولہ بنتا ہے جو انتہائی گرم ہواؤں کے دوش پر تیزی سے بلند ہونا شروع ہوجاتا ہے۔ یہ بہت بڑی کھمبی نما اۤگ کی چھتری میلوں دور سے نظر اۤتی ہے۔

ایکس ریز، نیوٹرانز کے ساتھ تمام افقی سمتوں میں بھی پھیل جاتی ہیں اور اپنی حرارت کی وجہ سے راستہ میں موجود تمام چیزوں کو جلا کر راکھ کر دیتی ہیں۔ ان گرم لہروں کی رفتار اۤواز کی رفتار سے کہیں زیادہ ہوتی ہے، جن سے shockwavesبھی بنتی ہیں لیکن ان سے بھی کہیں زیادہ تیز اور نفوذ کرنے والی گاما ریز ہیں جو روشنی کی رفتار سے سفر کرتے ہوئے ان گرم لہروں کو مات دے دیتی ہیں۔ یہ بے حد مرتعش ہوتی ہیں اور اسی ارتعاش کی وجہ سے دلوں کی حرکت کو بند کر دیتی ہیں۔ فوری موت ایکس ریز سے پیدا ہونے والی حرارت کی بجائے گاما ریز کی شدید توانائی کے نتیجہ میں واقع ہوتی ہے۔ قراۤن کریم نے اس مضمون کو بعینہ اس طرح بیان کیا ہے۔ ‘‘(الہام، عقل، علم اور سچائی، صفحہ 537تا541)

قراۤن کریم کی تیسری پیشگوئی

اللہ تعالیٰ اپنے کلام پاک میں فرماتا ہے:

فَارۡتَقِبۡ یَوۡمَ تَاۡتِی السَّمَآءُ بِدُخَانٍ مُّبِیۡنٍ۔ یَّغۡشَی النَّاسَ ؕ ہٰذَا عَذَابٌ اَلِیۡمٌ۔ (الدخان: 11تا12)

پس تو اس دن کا انتظار کر جس دن اۤسمان پر ایک کھلا کھلا دھواں ظاہر ہوگا جو سب لوگوں پر چھا جائے گا، یہ دردناک عذاب ہوگا۔

حضرت خلیفۃ المسیح الثانیؓ اس اۤیت کاترجمہ کرنے کے بعد حاشیہ میں فرماتے ہیں: ’’یہ الفاظ بتاتے ہیں کہ اس اۤیت میں ایٹم بم اور ہائیڈروجن بم کا ذکر ہے، جن کے پھینکنے پر تمام اطراف میں دھواں پھیل جاتا ہے اور ان بموں کو اس وقت سائنسدان قیامت کا پیش خیمہ بتا رہے ہیں۔ ‘‘

ان اۤیات کی مزید تشریح حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ’’مندرجہ ذیل اۤیات اس دھوئیں کی نوعیت پر مزید روشنی ڈالتی ہیں:

اِنۡطَلِقُوۡۤا اِلٰی مَا کُنۡتُمۡ بِہٖ تُکَذِّبُوۡنَ۔ اِنۡطَلِقُوۡۤا اِلٰی ظِلٍّ ذِیۡ ثَلٰثِ شُعَبٍ۔ لَّا ظَلِیۡلٍ وَّ لَا یُغۡنِیۡ مِنَ اللَّہَبِ۔ اِنَّہَا تَرۡمِیۡ بِشَرَرٍ کَالۡقَصۡرِ۔ کَاَنَّہٗ جِمٰلَتٌ صُفۡرٌ۔ (المرسلات: 30۔ 34)

ترجمہ: اس کی سمت چلو جسے تم جھٹلایا کرتے تھے۔ ایسے سائے کی طرف چلو جو تین شاخوں والا ہے۔ نہ تسکین بخش ہے نہ آگ کی لپٹوں سے بچاتا ہے۔ یقیناً وہ ایک قلعہ کی طرح کا شعلہ پھینکتاہے۔ گویاوہ جو گیارنگ کے انٹوں کی طرح ہے۔

یہاں

اِنْطَلِقُوْا

سے مراد یہ ہے کہ کسی وقت بنی نوع انسان پر ایسا زمانہ اۤئے گا جب انہیں ایک اذیت ناک بادل کی شکل میں ایک ایسی اۤفت کا سامنا کرنا پڑے گا، جوکوئی سایہ یا تحفظ فراہم نہیں کرے گی۔ سائے تو اۤرام اور پناہ دیا کرتے ہیں، بادل اور سورج کی جھلسا دینے والی تپش کے مابین حائل ہو جاتے ہیں۔ مندرجہ بالا اۤیات میں کسی سورج کا ذکر نہیں کیا گیا بلکہ صرف اسی اۤگ کا ذکر ہے جس کی تپش سے یہ سایہ کوئی تحفظ فراہم نہیں کرسکے گا۔ اس کے برعکس اس بادل کا سایہ اۤگ کے عذاب میں مزید اضافے کا باعث ہوگا۔ اس کے سائے میں کچھ بھی محفوظ نہیں ہوگا۔ یقیناً یہ اشارہ اس تابکار بادل کی طرف ہے جو ایٹمی دھماکہ کے وقت بنتا ہے۔ جس واقعہ کا یہاں ذکر ہو رہا ہے اس میں جو گیا رنگ کے بڑے بڑے شعلے بلند ہوں گے جنہیں قلعوں اور اونٹوں کے مشابہ قرار دیا گیا ہے۔ اس مشابہت میں محض اونٹ کے رنگ کی طرف ہی نہیں بلکہ اس کے کوہان کی طرف بھی اشارہ ہے۔

ساتویں صدی کے لوگ اس ہلاکت خیز بادل یا دھوئیں کی اہمیت کو کما حقہ سمجھنے کے قابل نہیں تھے کیونکہ یہ بات ان کے فہم سے بالا تھی تاہم اۤج ہمیں ایٹمی دھماکوں کا بخوبی علم ہے اور اس کے نتیجہ میں پیدا ہونے والے تابکار بادل کو ہم اچھی طرح سمجھ سکتے ہیں۔ ‘‘(الہام، عقل، علم اور سچائی، صفحہ 541تا542)

جب 16؍جولائی 1945ء کو نیو میکسیکو کے صحرا میں ایٹم بم کا تجربہ ہوا تو ایک بہت بڑا بادل اٹھا اور 40ہزار فٹ کی بلندی تک جا پہنچا۔ اس نے راستے میں حائل بادل بالکل غائب کر دیئے۔ (مغربی میڈیا کا اسلامی بم ص 371) جنگ عظیم سوم تک یہ نظارہ اس تجربے سے کہیں بڑھ کر ہو گا۔

قراۤن کریم کی چوتھی پیشگوئی

اللہ تعالیٰ قراۤن کریم میں فرماتا ہے:

یُرْسَلُ عَلَیْکُمَا شُوَاظٌ مِّنْ نَّارٍ۔ وَ نُحَاسٌ فَلاَ تَنْتَصِرٰنِ۔ (الرحمٰن: 36)

تم پر اۤگ کا ایک شعلہ گرایا جائے گااور تانبا بھی (گرایا جائے گا)، پس تم دونوں ہر گز غالب نہیں اۤ سکتے۔

حضرت خلیفۃ المسیح الثانیؓ تفسیر صغیر میں ترجمہ کرتے ہوئے حاشیہ میں فرماتے ہیں: ’’کا سمک ریز کی طرف اشارہ ہے (2) بموں کی طرف اشارہ ہے۔ ‘‘

حضرت خلیفۃ المسیح الرابعؒ اس اۤیت کی تفسیر بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ تم دونوں پر اۤگ کے شعلے برسائے جائیں گے اور ایک طرح کا دھواں بھی۔ پس تم دونو ں بدلہ نہ لے سکو گے۔

ایک طرح کا دھواں بھی سے کیا مراد ہے؟ برسنے والا دھواں ہے۔ یہاں Atomic smokeمرادہے۔

’’تم پر اۤگ کے شعلے برسائے جائیں گے۔ ‘‘ اۤج کی دنیا میں Modren Warfare میں اۤگ کے شعلے برسائے جاتے ہیں اور اس کا اگلا حصہ دھواں ہے۔ پس جب اۤسمان پھٹ جائے گااور رنگے ہوئے چمڑے کی طرح سرخ ہو جائے گا۔ جوModern Warfare ہے اس میں اۤسمان کا رنگ ہی بدل جایا کرتا ہے شعلوں سے اور مختلف قسم کی بلاؤں کی وجہ سے، تو رنگے ہوئے چمڑے جیسا رنگ ہو جاتا ہے۔ (ماخوذ ازترجمۃ القراۤن کلاس نمبر276)

قراۤن کریم کی پانچویں پیشگوئی

اللہ تعالیٰ قراۤن کریم میں فرماتا ہے:

یَوۡمَ تَکُوۡنُ السَّمَآءُ کَالۡمُہۡلِ۔ وَ تَکُوۡنُ الۡجِبَالُ کَالۡعِہۡنِ۔ وَ لَا یَسۡـَٔلُ حَمِیۡمٌ حَمِیۡمًایُّبَصَّرُوۡنَہُمۡ ؕ یَوَدُّ الۡمُجۡرِمُ لَوۡ یَفۡتَدِیۡ مِنۡ عَذَابِ یَوۡمِئِذٍۭ بِبَنِیۡہِ۔ (المعارج: 9تا12)

اس دن (شدت حرارت کی وجہ سے) اۤسمان پگھلائے ہوئے تانبے کی طرح ہو جائے گا۔ اور پہاڑ اون کی طرح ہو جائیں گے۔ اور اس دن کوئی دوست کسی دوست کے متعلق کوئی سوال نہیں کرے گا۔

حضرت خلیفۃ المسیح الثانیؓ ان اۤیات کی تفسیر کرتے ہوئے حاشیہ میں فرماتے ہیں: ’’یعنی ایسی ایجادیں نکل اۤئیں گے جیسے ایٹم بم اور ہائیڈروجن بم کہ جن کے گرنے سے پہاڑوں جیسی مضبوط چیز بھی روئی کے گالوں کی طرح اڑجائے گی۔ ‘‘

حضرت خلیفۃ المسیح الرابعؒ اس اۤیت کی تفسیر بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ جب Atomic Warfare ہو تو اس وقت یہ ممکن ہے کہ

اَلسَّمَاءُکَالْمُھْل

دکھائی دے، وہ ایسا وقت ہو گا جب کوئی کسی گہرے دوست کو بھی نہیں پوچھے گا…

Raditaionکا عذاب اتنی خوفناک چیز ہے۔ اب تک جہاں جہاں یہ تجربے ہوئے ہیں، وہاں لازماً یہی باتیں دکھائی دی ہیں کہ عورتیں اپنے بچوں کو بھول گئی ہیں اور Atomic Warfare یاRadiation سے اتنی خوفناک گھبراہٹ پیدا ہوتی ہےکہ اگر اس وقت ان کو پوچھا جائے تو وہ اپنے بچوں کو قربان کرکے بھی اس مصیبت سے بچنے کی کوشش کریں۔ (ماخوذ ازترجمۃ القراۤن کلاس نمبر 293)

قراۤن کریم کی چھٹی پیشگوئی

اللہ تعالیٰ قراۤن کریم میں فرماتا ہے:

کَلَّا بَلۡ ٜ رَانَ عَلٰی قُلُوۡبِہِمۡ مَّا کَانُوۡا یَکۡسِبُوۡنَ۔ کَلَّاۤ اِنَّہُمۡ عَنۡ رَّبِّہِمۡ یَوۡمَئِذٍ لَّمَحۡجُوۡبُوۡنَ۔ ثُمَّ اِنَّہُمۡ لَصَالُوا الۡجَحِیۡمِ۔ ثُمَّ یُقَالُ ہٰذَا الَّذِیۡ کُنۡتُمۡ بِہٖ تُکَذِّبُوۡنَ۔ کَلَّاۤ اِنَّ کِتٰبَ الۡاَبۡرَارِ لَفِیۡ عِلِّیِّیۡنَ۔(المطففین:15تا19)

ہرگز(ایسا) نہیں (جیسے وہ کہتے ہیں ) بلکہ (اصل بات یہ ہے کہ) ان کے دلوں پر، اس نے جو وہ کما چکے ہیں، زنگ لگا دیا ہے۔ بلکہ یوں کہو کہ اس دن وہ اپنے رب کے سامنے اۤنے سے یقیناً روکے جائیں گے، پھر وہ ضرور جہنم میں داخل ہوں گے۔ پھر ان سے کہا جائے گا، یہی تو وہ (انجام) ہے جس کا تم انکار کیا کرتے تھے۔ تمہارے خیالات کے خلاف ابرار (کی جزا) کا حکم یقیناً علیین میں ہے۔

حضرت خلیفۃ المسیح الثانیؓ ان اۤیات کی تفسیر کرتے ہوئے تفسیر کبیرمیں فرماتے ہیں: ’’کَلَّا کے معنی ردی اور زَجِّرْ کے ہیں۔ پس کَلَّا کا، جو اس کا تکرار کیا گیا ہے، اس میں شدت عذاب کی طرف اشارہ ہے…چونکہ سورہ مائدہ میں مسیحی اقوام کو دنیوی ترقیات عطا کرنے کا وعدہ تھا اور پھر اس کے ساتھ ہی یہ خبر تھی کہ اگر انہوں نے کفر کی طرف رجوع کیا تو میں ان پر وہ عذاب نازل کروں گا جو دنیا میں کسی قوم پر نازل نہیں ہوا۔ اس لئے یہاں کَلَّا کا تکرار اس عذاب کی طرف اشارہ کرنے کے لئے استعمال کیا گیا ہے…پھر کَلَّا کے اس تکرار پر غور کرنے سے ایک اور بات معلوم ہوتی ہے کہ یہاں تین دفعہ کَلَّا کفرکے ذکر کے بعد اۤیا ہے اور ایک دفعہ کَلَّا مومنوں کے ذکر سے پہلے ہے۔ اس میں اس طرف اشارہ معلوم ہوتا ہے کہ تین جھٹکے عیسائیت کی تباہی کے لئے لگیں گے اور چوتھا جھٹکا اسلام کے قیام کا موجب ہوگا۔ بظاہر، جہاں تک عقل کام کرتی ہے، یہی معلوم ہوتا ہے کہ پہلی جنگ عظیم، جو 1918ءمیں ختم ہوئی، پہلا جھٹکا تھا، جو عیسائیت کو لگا۔ اب دوسری جنگ، یہ دوسرا جھٹکا ہے۔ اس کے بعدایک تیسری جنگ عظیم ہوگی، جو مغرب کی تباہی کے لئے تیسرا اور اۤخری جھٹکا ہوگا۔ اس کے بعد چوتھا جھٹکا لگے گا، جس کے بعد اسلام اپنے عروج کو پہنچ جائے گا اور مغربی اقوام بالکل ذلیل ہو جائیں گی، کیونکہ چوتھے کَلَّا کے بعد ہی یہ ذکر اۤتا ہے۔ ‘‘(تفسیر کبیر جلد ہشتم صفحہ 306)

قراۤن کریم کی ساتویں پیشگوئی

اللہ تعالیٰ قراۤن کریم میں فرماتا ہے:

وَ لَبِثُوْا فِیْ کَھْفِھِمْ ثَلٰثَ مِائَۃٍ سِنِیْنَ وَازْدَادُوْا تِسْعًا۔ (الکہف: 26)

اور (بعض لوگ یہ بھی کہتے ہیں کہ) وہ اپنی وسیع پناہ گاہ میں تین سو سال تک رہے تھے اور (اس عرصہ پر)نو (سال) انہوں نے اور بڑھائے تھے۔

حضرت خلیفۃ المسیح الثانیؓ اس اۤیت کی وضاحت کرتے ہوئے میں فرماتے ہیں: ’’چونکہ یہ سوال ہو سکتا تھا کہ اگر جنگ اور جہاد نہ ہوگا تو (اہل دین) کی کمزور حالت کس طرح بدلے گی، اس کا جواب دیا کہ اس کے سامان خود پیدا کریں گے اور یورپین اقوام کو جنگ کا عذاب گھیر لے گا اور گویا جنگ ان کے گھروں کے گرد خیمے لگا لے گی اور جس قدر وہ امن کے لئے کوشش کریں گے اور امن امن کہہ کے چلائیں گے، اسی قدر پگھلتا ہوا لوہا اور تانبا ان کے مونہوں پر ڈالا جائے گا یعنی امن کی پکار تو ہوگی لیکن نتیجہ توپوں کے گولے اور بم میں نکلے گا اور ان کے ملک رہائش کے قابل نہ رہیں گے بلکہ برا ٹھکانا بن جائیں گے۔ اِرْتَفَقَ کے معنے تعاون اور رفاقت کے بھی ہوتے ہیں۔ ان معنوں کے رو سے معنے یہ ہوں گے کہ قومیں امن کی خاطر دوسری قوموں سے دوستیاں کریں گی لیکن ان دوستیوں کا نتیجہ جنگ نکلے گا نہ کہ صلح۔ ‘‘(تفسیر کبیر جلد چہارم صفحہ444تا445)

قراۤن کریم کی اۤٹھویں پیشگوئی

اللہ تعالیٰ قراۤن کریم میں فرماتا ہے:

وَ لَمۡ تَکُنۡ لَّہٗ فِئَۃٌ یَّنۡصُرُوۡنَہٗ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰہِ وَ مَا کَانَ مُنۡتَصِرًا۔ (الکہف: 44)

اور (اس وقت) کوئی جماعت بھی اس کے ساتھ نہ ہوئی جو اللہ کے سوا اس کی مدد کرتی اور نہ وہ (اس کا کوئی) انتقام ہی لے سکا۔

حضرت خلیفۃ المسیح الثانیؓ اس اۤیت کی تفسیر کرتے ہوئے فرماتے ہیں:

’’جَبَلْ کے معنی بڑے اۤدمی کے بھی ہوتے ہیں اور سِیْرُ کے معنی چلانے کے ہیں۔ اس جگہ جَبَالْ سے مراد بڑے لوگ ہی ہیں کیونکہ اس جگہ اۤدمیوں کا ذکر ہے پہاڑوں اور دریاؤں کا ذکر نہیں۔ اور بتایا گیا ہے کہ یہ سب پیشگوئیاں اس دن پوری ہوں گی جب بڑے بڑے لوگ جنگوں کے لئے نکل کھڑے ہوں گے۔ اور تو ساری زمین کو یعنی سب اہل زمین کو دیکھے گا کہ جنگ کے لئے ایک دوسرے کے مقابل پر کھڑے ہو جائیں گے اور ایسی جنگ ہوگی کہ گویا ان میں سے ایک بھی نہ بچے گا۔ اس واقعہ کی طرف انجیل میں بھی اشارہ ہے۔ حضرت مسیح علیہ السلام فرماتے ہیں کہ اۤخری زمانے میں قوم پر قوم اور بادشاہت بادشاہت پر چڑہائی کرے گی(متی باب24اۤیت 7)۔ ہو سکتا ہے کہ اَلْاَرْضْ سے ادنیٰ طبقہ کے لوگ مراد ہوں اوراَلْجِبَالْ سے مرادبڑے لوگ یعنی اس دن ایک طرف سے جِباَلْیعنی بڑے لوگ یا دوسرے لفظوں میں ڈکٹیٹرز نکلیں گے اور دوسرے طرف سے ارض یعنی ڈیماکریسیز کے حامی اور حکومت عوام کے نمائندے نکلیں گے اور اۤپس میں خوب جنگ ہوگی۔ ‘‘(تفسیر کبیر جلد4صفحہ458)

(جاری ہے)

٭…٭…٭

متعلقہ مضمون

رائے کا اظہار فرمائیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close