متفرق مضامین

جنّات کی حقیقت (قسط چہارم)

(لئیق احمد مشتاق ۔ مبلغ سلسلہ سرینام، جنوبی امریکہ)

علماء اور مفسّرین کے مضحکہ خیز عقائد ،تاویل و استدلال کے مقابل اِمامِ آخرالزّمانؑ اور آپ کے خلفاء کے بیان فرمودہ حقائق و معارف

کتب تفاسیر میں جنّات کا ذکر

(گذشتہ سے پیوستہ)تفسیر کمالَیْن شرح اردوتفسیر جلالیْن میں سورت الانعام کی آیت نمبر113:

وَ کَذٰلِکَ جَعَلۡنَا لِکُلِّ نَبِیٍّ عَدُوًّا شَیٰطِیۡنَ الۡاِنۡسِ وَ الۡجِنِّ یُوۡحِیۡ بَعۡضُہُمۡ اِلٰی بَعۡضٍ زُخۡرُفَ الۡقَوۡلِ غُرُوۡرًا ؕ وَ لَوۡ شَآءَ رَبُّکَ مَا فَعَلُوۡہُ فَذَرۡہُمۡ وَ مَا یَفۡتَرُوۡنَ

کی تفسیر میں لکھا ہے :’’اور اسی طرح ہم نے ہر نبی کے لئے بہت سے دشمن پیدا کر دئے تھے۔ کچھ شیاطین(شریر) آدمی اور کچھ جِنّات جو آپس میں ایک دوسرے کو سکھاتے ہیں (وسوسہ ڈالتے ہیں)چکنی چپڑی باتیں، تاکہ ان کو دھوکا میں ڈال دیں۔بقرینہ تقسیم اس آیت میں شیطان سے مراد مجازاً عام معنی لئے گئے ہیں۔ لیکن اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ ہر جگہ حقیقی معنی ترک کر دئیے جائیں اور صرف مجازی معنی ہی مراد لئے جائیں۔ بلکہ اگر غور کیا جائے تو مجاز حقیقت کا فرع ہوتا ہے۔ اس لحاظ سے اس آیت سے بھی وجود جِنّات پر روشنی پڑ رہی ہے۔ لہٰذا اس مجاز سے حقیقت جِنّ کے انکار پر استدلال کرنا نہایت عبث ہے اور اس وسوسہ پر چونکہ فعل کی طرف میلان بلکہ جزم مرتب ہو رہا ہے اس لئے اس وسوسہ پر مذمت کی گئی ہے، جو فی الحقیقت عزم پر مذمت ہے۔ ورنہ محض وسوسہ مضر نہیں ہوتا۔‘‘

پھر اِسی سورت کی آیت نمبر 131:

یٰمَعۡشَرَ الۡجِنِّ وَ الۡاِنۡسِ اَلَمۡ یَاۡتِکُمۡ رُسُلٌ مِّنۡکُمۡ یَقُصُّوۡنَ عَلَیۡکُمۡ اٰیٰتِیۡ وَ یُنۡذِرُوۡنَکُمۡ لِقَآءَ یَوۡمِکُمۡ ہٰذَا ؕ قَالُوۡا شَہِدۡنَا عَلٰۤی اَنۡفُسِنَا وَ غَرَّتۡہُمُ الۡحَیٰوۃُ الدُّنۡیَا وَ شَہِدُوۡا عَلٰۤی اَنۡفُسِہِمۡ اَنَّہُمۡ کَانُوۡا کٰفِرِیۡنَ

کے تحت لکھا ہے:’’اے گروہ جِنّ و انس! کیا تمہارے پاس ہمارے پیغمبر جو تمہی میں سے تھے نہیں آئے تھے؟ (یعنی تمہارے مجموعہ میں سے جو صرف انسانوں کی صورت میں صادق آئیں یا جِنّات کے رسول سے مراد وہ ڈرانے والے ہیں جنہوں نے انبیاء کا کلام سن کر اپنی قوم کو تبلیغ کی ) انہوں نے ہماری آیتیں تمہیں نہیں سنائی تھیں ؟ اور آج کے دن سے جو تمہیں پیش آیا ہے نہیں ڈرایا تھا ؟ وہ عرض کریں گے ہم اپنے اوپر آپ گواہی دیتے ہیں (کہ انہوں نے ہمیں سب کچھ پہنچایا تھا۔ حق تعالیٰ فرماتے ہیں)فی الحقیقت دنیا کی زندگی نے انہیں فریب میں ڈال دیا تھا (اس لئے وہ ایمان نہیں لا سکے) اور خود ہی اپنے خلاف گواہ ہو گئے کہ وہ کافر تھے۔ يَا مَعْشَرَ الْجِنِّ، ضحاک کی رائے یہ ہے کہ جس طرح دنیا میں انسانی انبیاء آئے اسی طرح جِنّات میں بھی جِنّاتی نبی آئے، جیساکہ نص سے معلوم ہوتا ہے۔ مگر دوسروں کی رائے یہ ہے کہ انبیاء صرف انسان ہو ئے اور خطاب مجموعہ کے لحاظ سے ہوگا۔ جیسا کہ

يَخْرُجُ مِنْهُمَا اللُّؤْلُؤُ

میں ضمیر تثنیہ مجموعی لحاظ سے ہے۔حالانکہ موتی مونگے صرف سمندر شور سے برآمد ہوتے ہیں۔ اور یا انسانی انبیاء کے جو قاصد ہوتے ہیں انہیں کو رُسل جِن کہا گیا ہے۔ جلال مفسر ؓ کی دونوں توجیہات کا حاصل یہی ہے…انسان اور جِنات دونوں میں اگر انبیاء کا الگ الگ سلسلہ قائم رہا ہے تو مِنْکُمْ کی قید اس لئے لگائی گئی کہ باہمی مناسبت اور ہم جنس ہونے کی وجہ سے استفادہ کرنے میں سہولت ہو۔ لیکن اگر انسانوں ہی کے رسولوں کا اتباع ان پر بھی فرض کیا گیا ہوتو پھر مِنْکم انسان اور جِنّات کے لحاظ سے الگ الگ نہیں ہوگا بلکہ مجموعہ کے لحاظ سے ہوگا۔رہا یہ کہ انسانی رسولوں سے پھر جِنّات کو کیا مناسبت اور اکتساب فیض کی کیا صورت ہوگی؟ کہا جائے گا کہ انسان جامعیت و اکملیت اس مشکل کا حل ہے۔ ویسے بھی یہاں تو توحید کا بیان ہے جو تمام انبیاء کا دعوتی اصول مشترک ہے۔ اور اس کا اتباع بھی سب پر لازم ہے۔‘‘

پھر سورت الاعراف کی آیت نمبر28:

یٰبَنِیۡۤ اٰدَمَ لَا یَفۡتِنَنَّکُمُ الشَّیۡطٰنُ کَمَاۤ اَخۡرَجَ اَبَوَیۡکُمۡ مِّنَ الۡجَنَّۃِ یَنۡزِعُ عَنۡہُمَا لِبَاسَہُمَا لِیُرِیَہُمَا سَوۡاٰتِہِمَا ؕ اِنَّہٗ یَرٰٮکُمۡ ہُوَ وَ قَبِیۡلُہٗ مِنۡ حَیۡثُ لَا تَرَوۡنَہُمۡ ؕ اِنَّا جَعَلۡنَا الشَّیٰطِیۡنَ اَوۡلِیَآءَ لِلَّذِیۡنَ لَا یُؤۡمِنُوۡنَ

کی تفسیر میں لکھا ہے :’’اے آدم کی اولاد کہیں تمہیں بہکا نہ دے (گمراہ نہ کردے) شیطان (یعنی اس کی پیروی نہ کرو ورنہ فتنہ میں پڑ جاؤ گے) جیسا کہ اس نے تمہارے دادا دادی کو (اپنے فیور میں لےکر)جنّت سے نکلوا چھوڑا تھا ایسی حالت میں کہ ان کے لباس اتروا دئیے تھے (یہ حال ہے) تاکہ اُن کا ستر انہیں دکھا دے، وہ یعنی (شیطان) اور اس کا لشکر (گروہ) تمہیں اس طرح دیکھتا ہے کہ تم اسے نہیں دیکھ سکتے۔(اُس کی جسمانی لطافت یا کسی قسم کا رنگ نہ ہونے کی وجہ سے) ہم شیطانوں کو انہیں لوگوں کا یار (مددگار) ہونے دیتے ہیں جو ایمان نہیں لاتے۔ لَا تَرَوْنَهُمْ سے جِنّات کو مطلقاًدیکھنے کا انکار کرنا نہیں ہے۔ بلکہ عادتاً عام طور پر دیکھنے کی نفی کرنا مقصود ہے۔پس انبیاء یا غیر انبیاء میں سے عوام و خواص کا بعض اوقات جِنّات کو دیکھ لینا اس کے منافی نہیں ہو گا۔‘‘

(تفسیر کمالیْن شرح اردو تفسیر جلالیْن ،مصنفہ علامہ جلال الدین محلّی و علامہ جلال الدین سیوطی ؒ۔ شرح ولانا محمد نعیم دیوبندی۔جلد دوم صفحہ 194تا 197۔206تا 209۔239تا241،ایڈیشن جنوری 2008ء۔دارالاشاعت کراچی)

پھر سورت الاحقاف کی آیت نمبر 31،30:

وَ اِذۡ صَرَفۡنَاۤ اِلَیۡکَ نَفَرًا مِّنَ الۡجِنِّ یَسۡتَمِعُوۡنَ الۡقُرۡاٰنَ ۚ فَلَمَّا حَضَرُوۡہُ قَالُوۡۤا اَنۡصِتُوۡا ۚ فَلَمَّا قُضِیَ وَلَّوۡا اِلٰی قَوۡمِہِمۡ مُّنۡذِرِیۡنَ۔قَالُوۡا یٰقَوۡمَنَاۤ اِنَّا سَمِعۡنَا کِتٰبًا اُنۡزِلَ مِنۡۢ بَعۡدِ مُوۡسٰی مُصَدِّقًا لِّمَا بَیۡنَ یَدَیۡہِ یَہۡدِیۡۤ اِلَی الۡحَقِّ وَ اِلٰی طَرِیۡقٍ مُّسۡتَقِیۡمٍ

کی تفسیر میں بیان کرتے ہیں:’’اور( یاد کیجئے) جب کہ ہم لے آئے (مائل کر دیا )آپ کے پاس جِنّات کی ایک جماعت (نصیبین، یمن یا نینوی کے جِنّات جو سات یا نو تھے اور آنحضرت ﷺ بطن نخلہ میں اپنے احباب کے ساتھ نماز فجر پڑھ رہے تھے،شیخین کی روایت کے مطابق)جو قرآن سننے لگے تھے۔غرض جب وہ قرآن کے پاس پہنچے تو (آپس میں ) کہنے لگے خاموش رہو (غور سے سنو)پھر جب قرآن پڑھا جا چکا (قراءت سے فراغت ہو گئی)تو وہ جِنّات اپنی قوم کے پاس ان کو خبردارکرنے کے لئے واپس پہنچ (لوٹ )گئے کہ اگر وہ ایمان نہ لائے تو ان پر عذاب آجائے گا۔اس بات سے ڈرانے کے لئے (یہ جِنّ یہودی تھے)کہنے لگے اے بھائیو ! ہم ایک کتاب (قرآن) سن کر آرہے ہیں، جو موسیٰ کے بعد اتاری گئی جو پہلی کتابوں کی (جیسے توراۃ ہے) تصدیق کرنے والی ہے۔ حق (اسلام) اور راہ راست کی طرف راہنمائی کرتی ہے۔ اے بھائیو تم اللہ کی طرف بلانے والے (محمد ﷺ جو ایمان کی طرف دعوت دینے والے ہیں)کا کہا مانو اور اس پر ایمان لے آؤ۔ اللہ تمہارے گناہ معاف کر دے گا۔ نَفَرًاتین سے دس افراد تک بولا جاسکتا ہے۔ نینویٰ موصل میں حضرت یونس علیہ السلام کی بستی کا نام ہے۔ جِنّات نصیبین کے نام یہ ہیں۔ 1،منشی۔2،ناشی۔ 3، مناصین۔ 4، ماضر۔ 5، الاحقب (مواہب میں ابن درید سے نقل کیا ہے اور بقیہ نام نہیں لکھے)۔ مفسّر نے بطنِ نخلہ مقام کا نام بتلایا ہے۔ حالانکہ یہ جگہ مدینہ سے دو مرحلہ کے فاصلے پر ہے،اور آنحضرت ﷺ نے صلوٰۃالخوف پڑھی ہے۔ طائف سے جب آپ کی واپسی ہوئی تو نخلہ میں فروکش ہوئے یہاں جِنّات کی حاضری ہوئی، جبکہ آپ نماز تہجد میں مصروف تھے۔اور تفسیر کبیر میں ہے کہ آنحضرتﷺ اہل مکہ سے مایوس ہو کر طائف تشریف لے گئے۔ وہاں سے واپسی پر بطن نخلہ میں فروکش ہوکر نماز فجر پڑھ رہے تھے کہ اشراف ِجِنّ حاضر خدمت ہوئے۔ سورۃ الجن کی آیات اسی سلسلہ کی ہیں۔ بعض نے ان کی تعداد ستر بتلائی ہے۔ جن میں یہود، نصاریٰ، مجوس، بت پرست سب قسم کے تھے۔ روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ جِنّات تین قسم کے ہیں۔ ایک قِسم کے پَر ہوتے ہیں،دوسری قسم سانپ اور کتوں کی شکل میں ہوتی ہے اور تیسری قِسم ہوائی ہوتی ہے۔ مومن جِنّات کے متعلق اقوال ہیں۔ امام اعظم اور ابو اللیث کے نزدیک جہنم سے رہائی دے کر ان کو نابود کر دیا جائے گا۔ جِنّات جَنّت میں داخل نہیں ہوں گے۔ علامہ نفسی کہتے ہیں کہ امام اعظم ان کو ثواب ملنے میں توقف فرماتے ہیں، اور نفی بھی یقین سے نہیں کرتے، تینوں ائمہ اور صاحبین کے نزدیک انسانوں کی طرح یہ بھی اہل جَنّت ہوں گے، اور بعض کی رائے میں جَنّت کے آس پاس رہیں گے … جِنّات کو کفر و معصیت پر عذاب ہونا تو متفق علیہ ہے۔ لیکن ایمان و طاعت پر جَنّت و ثواب ملنا مختلف فیہ ہے۔ جمہور تو عمومات شریعہ کی وجہ سے اور نیز سورۃ انعام کی آیت ’’وَلِكُلٍّ دَرَجَاتٌ مِمَّا عَمِلُوا‘‘کے سبب جَنّت و ثواب کا عطا ہونا انسانوں کی طرح مانتے ہیں۔‘‘

(تفسیر کمالیْن شرح اردو تفسیر جلالیْن ،مصنفہ علامہ جلال الدین محلّی و علامہ جلال الدین سیوطی ؒ۔ شرح ولانا محمد نعیم دیوبندی۔جلد ششم صفحہ137تا144۔ایڈیشن جنوری 2008ء۔دارالاشاعت کراچی)

مولوی عبد المجید لدھیانوی صاحب اپنی تفسیر ’’تبیان الفرقان‘‘ میں بیان کرتے ہیں:

’’یٰمَعۡشَرَ الۡجِنِّ وَ الۡاِنۡسِ اَلَمۡ یَاۡتِکُمۡ رُسُلٌ مِّنۡکُمۡ یَقُصُّوۡنَ عَلَیۡکُمۡ اٰیٰتِیۡ وَ یُنۡذِرُوۡنَکُمۡ لِقَآءَ یَوۡمِکُمۡ ہٰذَا ؕ قَالُوۡا شَہِدۡنَا عَلٰۤی اَنۡفُسِنَا وَ غَرَّتۡہُمُ الۡحَیٰوۃُ الدُّنۡیَا وَ شَہِدُوۡا عَلٰۤی اَنۡفُسِہِمۡ اَنَّہُمۡ کَانُوۡا کٰفِرِیۡنَ‘‘ (سورۃالانعام آیت 131)۔

اے جِنّوں اور انسانوں کے گروہ ! کیا تم میں سے تمہارے پاس رسول نہیں آئے تھے جو پڑھتے تھے تم پر میری آیات، اور ڈراتے تھے تمہیں اِس دن کی ملاقات سے۔ وہ کہیں کہ ہم اقرار کرتے ہیں اپنے آپ پر اور دھوکہ میں ڈال دیا ان کو دنیاوی زندگی نےاور انہوں نے اپنے آپ پر گواہی دی کہ یہ لوگ کافر تھے۔ ’’یٰمَعۡشَرَ الۡجِنِّ وَ الۡاِنۡسِ ‘‘اے جِنّوں اور انسانوں کے گروہ ! اس سے مراد وہی ہیں جو جہنم میں پڑگئے، جن کا ذکر پیچھے آیا۔ ان جہنمیوں کو تنبیہ کرتے ہوئے یہ بات پوچھی جائے گی اے جِنّوں اور انسانوں کے گروہ ’’ أَلَمْ يَأْتِكُمْ رُسُلٌ مِّنْكُمْ ‘‘کیا تم میں سے تمہارے پاس رسول نہیں آئے تھے،

’’يَقُصُّوْنَ عَلَيْكُمْ آيَاتِيْ‘‘

جو تم پر میری آیات پڑھتے تھے،

’’وَيُنْذِرُوْنَكُمْ لِقَاءَ يَوْمِكُمْ هَذَا‘‘

اور تمہیں تمہاری اس دن کی ملاقات سے ڈراتے تھے۔ کیا ایسے رسول تمہارے پاس نہیں آئے تھے؟ جنّوں اور انس سے مشترکہ خطاب ہوگا، کیا تم میں سے تمہارے پاس رسول نہیں آئے تھے۔اس آیت کے تحت مفسرین نے ذکر کیا ہے کہ معلوم یوں ہوتا ہے کہ سرورکائنات ﷺ سے پہلے اللہ تعالیٰ نے رسول دونوں قسم کے بھیجے ہیں، کہ جِنّوں کی طرف بھی رسول آئے، اور انسانوں کی طرف بھی آئے۔باقی یہ ہے کہ وہ حقیقتاً ایسے تھےکہ اللہ کی وحی ان پر اترتی ہو، جو جِنّوں کی طرف بھیجے گئے ہیں یا رسولوں سے تربیت پاکر وہ اپنی قوم کی طرف ڈرانے والے بن گئے ہوں، ان دونوں میں احتمال ہیں۔ ایسا بھی ہو سکتا ہے کہ اصل تو رسول انسان ہوں اور انسانی رسولوں سے تربیت پاکر بعض جِنّ اپنی قوم کی طرف جاتے اور جاکر ڈراتے ہیں،اس کا ذکر قرآن کریم میں صراحتاً سورۃ الجن کے اندر آئے گا، ایسا ہی سورۃ الاحقاف کے آخری رکوع میں بھی ہے کہ وہ جِنّ ایمان لائے اور ایمان لانے کے بعد پھر اپنی قوم کی طرف چلے گئے، اور جاکر قوم کو ڈراتے ہوئے کہنے لگے:

’’يَا قَوْمَنَا أَجِيْبُوْا دَاعِيَ اللّٰهِ۔

اے ہماری قوم اللہ کے داعی کی بات مان لو ‘‘۔ وہ رسول اللہ ﷺ کی تعلیم سے متاثر ہو کر ایمان لائے اور ایمان لانے کے بعد پھر جاکر اپنی قوم کو ڈرایا اس کا ذکر بھی وہاں ہے۔تو ایسے یہ جِنّات جو لوگوں کو لگتے ہیں،تو عاملین یہ بتاتے ہیں کہ جب ان کو حاضر کیا جائےتو ان میں سے کوئی یہودی ہوتا ہے، کوئی نصرانی ہوتا ہے۔ جس سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کا ایمان بھی اسی طرح سے کسی کا موسیٰ علیہ السلام پر کسی کا عیسیٰ علیہ السلام پر،کوئی داؤد علیہ السلام کا کلمہ پڑھتا ہے یہ گروہ ان کے اندر پائے جاتے ہیں۔ بظاہر معلوم یہ ہوتا ہے کہ مستقل رسول تو آئے انسانوں میں اور انسانوں سے متاثر ہوکر جِنّ تعلیم حاصل کرکے آگے تبلیغ کرتے تھے۔اور ایسا بھی ممکن ہے کہ سرورکائنات ﷺ سے پہلے مستقل طور پر جنّوں میں بھی رسول بھیجے جاتے ہوں۔لیکن یہ حقیقت اب بالکل واضح ہے اور مسلّمہ ہے کہ سرور کائنات ﷺ جِنّ وانس دونوں کی طرف بھیجے گئے تھے۔ آپ کی خدمت کے اندرجِنّوں کا آنا، ایمان لانا اور آپ ﷺ کا ان کو وعظ و تبلیغ کرنا یہ واقعات روایاتِ حدیث کے اندر موجود ہیں۔

’’ أَلَمْ يَأْتِكُمْ رُسُلٌ‘‘

رسل سے عام مراد لیا جائے تو خطاب دونوں کو ہے۔ جِنّوں میں بھی رسول آئے، چاہے مستقل رسول یا رسولوں کا نمائندہ۔ اور اسی طرح سے انسان و جِنّ دونوں کے اندربھی پائے جاسکتے ہیں۔ یاپھر یہ ہوگا کہ مجموعی طورپر مجمع کو خطاب کیا جارہا ہے، تو جب یہ جِنّ اور انسان مجموعہ مراد لیا جائے تو جو انسانوں میں رسول آئے ہیں، گویا وہ جِنّوں کی طرف بھی ہیں،چاہے جِنّوں کے اندررسول کوئی نہ ہو۔مطلب یہ ہواکہ رُسل سے اگر مستقل رسول مراد لئے جائیں صاحب رسالت صاحب وحی تو پھر اس مجموعے کی طرف نسبت ہوگی کہ اے جِنّوں اور انسانوں کے گروہ!کیا ہم نے تمہاری طرف رسول نہیں بھیجے؟ جب دونوں گروہ اکٹھے کر لئے تو ایک گروہ کے اندر جو رسول ہوں گے وہ ایسے ہی ہیں جو دونوں کی طرف ہیں، اور اگر اس کو عام رکھا جائے صاحب رسالت ہو یا نہ ہو، وحی اس کے اوپر آتی ہو یا نہ آتی ہو بلکہ صاحب رسالت کی طرف سے کوئی نمائندہ بن کر چلاجائے وہ بھی رسول کا مصداق ہے تو پھر کسی تاویل کی ضرورت نہیں، بالیقین جِنّوں میں سے بھی ہیں اور انسانوں میں سے بھی ہیں، تو صاحب رسالت صاحب وحی مستقل ہوئے انسان اور ان کی نمائندگی کے طور پر کچھ لوگ ان کو سمجھانے والے جِنّوں میں سے بھی ہوئے‘‘۔

(تبیان الفرقان جلد سوم صفحہ 483تا486،ایڈیشن صفر المظفر 1434ھ۔مکتبہ شیخ لدھیانوی کہروڑپکا،ضلع لودھراں)

مولوی عبد المجید لدھیانوی صاحب ایک اور آیت کی تفسیر میں بیان کرتے ہیں:’’اور یہ ابلیس جو اصل کے اعتبار سے جِنّات میں سے ہے،یہ فرشتہ نہیں۔ سورت کہف کے اندر صراحت آئے گی آپ کے سامنے:

وَ اِذۡ قُلۡنَا لِلۡمَلٰٓئِکَةِاسۡجُدُوۡا لِاٰدَمَ فَسَجَدُوۡۤا اِلَّاۤ اِبۡلِیۡسَ ؕ کَانَ مِنَ الۡجِنِّ ‘‘

وہ جِنّات میں سے تھا جو اپنے رب کے حکم کے سامنے سرکش ہو گیا، نافرمان ہو گیا۔

’’كَانَ مِنَ الْجِنِّ‘‘

وہاں صراحت ہے۔ آدم کے پیدا ہونے سے پہلے جِنّوں کی آبادی تھی یہ جو تھا ابلیس جس کا نام بعض کتابوں کے اندر عزازیل نقل کیا گیا ہے ’’تکبرعزازیل راخوارکردبزندان لعنت گرفتارکرد‘‘تو یہ عبادت گذار تھا، بہت زیادہ عبادت کرتاتھا، بہت بڑا صوفی اور پرہیزگار تھا، اور اس کی آمد و رفت آسمان پر تھی، جیسے سرورکائنات ﷺ کے تشریف لانے سے پہلےعام شیاطین اور جِنّات بھی آسمان کی طرف جاتے تھے، روایات میں جس طرح آتا ہے، قرآن کریم کی آیات میں بھی اشارہ ہے کہ حضور ﷺ کے تشریف لانے کے بعد ان کو دھتکارا گیا، اور آسمان کے پاس ان کا جانا ممنو ع ٹھہرادیا گیا، ورنہ ان کی آمدورفت اوپر تک تھی، بادلوں کے اوپر تک خبریں سننے کے لئےیہ آیاجایا کرتے تھے۔ بعض آیات کے اندر اس کی تفصیل آئے گی۔ تو یہ بھی جاتا تھا،اِن فرشتوں میں شامل رہتا تھا، فرشتوں میں یہ ظاہری طور پر شامل تھا۔ لیکن یہ جو عام طور پر مشہور ہے کہ یہ فرشتوں کا استاذ تھا، استاذ ملائکہ تھا یہ بظاہر واعظوں کی بنائی ہوئی بات ہے، ورنہ روایات سے اس قسم کا کوئی اشارہ نہیں ملتا کہ یہ فرشتوں کا استاذ تھا۔ استاذ ملائکہ کے طور پر اگر اس کا ذکر کیا کرتے ہیں تو یہ انہی لطیفوں میں سے ہے جس قسم کے لطیفے واعظ اپنے ذہن سے تراشتے رہتے ہیں۔ یہ بھی انہی باتوں میں سے کوئی بات معلوم ہوتی ہے۔ باقی استاذی وغیرہ کچھ اس کو حاصل نہیں‘‘۔

(تبیان الفرقان جلدچہارم صفحہ 67،ایڈیشن صفر المظفر 1434ھ۔ مکتبہ شیخ لدھیانوی کہروڑپکا،ضلع لودھراں)

مولانا عاشق الٰہی صاحب اپنی تفسیر’’انوارُ البیان‘‘ میں رقمطراز ہیں:

’’یٰمَعۡشَرَ الۡجِنِّ وَ الۡاِنۡسِ اَلَمۡ یَاۡتِکُمۡ رُسُلٌ مِّنۡکُمۡ۔

(اے جِنّوں اور انسانوں کے گروہ کیا تمہارے پاس رسول نہیں آئے)۔ آیت شریفہ میں جو یہ فرمایا:

’’اَلَمۡ یَاۡتِکُمۡ رُسُلٌ مِّنۡکُمۡ ‘‘

اس سے بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ جِنّات میں بھی رسول انہیں میں سے آتے رہے ہیں کیونکہ یہ خطاب انسانوں اور جِنّوں دونوں جماعتوں کو فرمایاہے۔ حضرات مفسّرین نے اس بارے میں علمائے سلف کے مختلف اقوال نقل کئے ہیں۔ مفسّر ابن کثیر نے صفحہ 177جلد 2بحوالہ ابن جریر،ضحاک بن مزاحم سے نقل کیا ہے کہ جِنّات میں بھی رسول گزرے ہیں۔ اور لکھا ہے کہ ان کا استدلال اِسی آیت کریمہ سے ہے، پھر لکھا ہے کہ آیت اس معنی میں صریح نہیں ہے ہاں متحمل ہے کیونکہ مِنْکُمکا معنی مِنْ جملتکمبھی ہو سکتا ہے، جس کا معنی ہوگا کہ مجموعہ جِنّ وانس سے رسول بھیجے…مفسّر ابن کثیر نے بعض علماء سے نقل کیا ہے کہ جِنّات میں رسول نہیں آئے۔ اور اس قول کو مجاہد اور ابن جریج وغیرہ واحد من السلف والخلف کی طرف منسوب کیا ہے اور روح المعانی صفحہ 28جلد 8میں بعض حضرات کا یہ قول نقل کیا ہے کہ رُسُلٌ مِّنْکُمْ میں جو لفظ رُسُلآیا ہے یہ عام ہے۔ یعنی حقیقی رسولوں کو اور رسولوں کے رسولوں کو شامل ہے، مطلب یہ ہے کہ جو حضرات اللہ کے رسول تھے، وہ اپنے طور پر دین حق کے پہنچانے کے لئے جن افراد کو امّتوں کے پاس بھیجا کرتے تھے ان کو بھی رسول فرمایا ہے۔ یعنی جِنّات کی طرف جِنّات میں سے حضرات انبیاء کرام علیہم السلام جومبلغ بھیجا کرتے تھے ان پر یہ لفظ رسولوں کا فرستادہ ہونے کے اعتبار سے صادق آتا ہے۔ رسول تو بنی آدم ہی میں سے تھے، لیکن رسولوں کے ارسال فرمودہ نمائندے جِنّات میں سے بھی تھے۔ یہ تو معلوم ہے کہ بنی آدم سے پہلے اس دنیا میں جِنّات رہتے اور بستےتھے، اور یہ بھی معلوم ہے کہ یہ قوم بھی احکامِ خداواندی کی مکلّف ہے۔تو تبلیغ احکام کے لئے اللہ تعالیٰ نے ان کے پاس رسول نہ بھیجے ہوں، سمجھ میں نہیں آتا۔ بلکہ

وَإِنْ مِنْ أُمَّةٍ إِلَّا خَلَا فِيْهَا نَذِيْرٌ

کا عموم اس بات کو بتاتا ہے کہ بنی آدم سے پہلے جِنّات میں انہی میں سے رسول آتے ہوں گے۔ بنی آدم کے زمین پر آباد ہوجانے کے بعد جِنّات کو انہی انبیاء اور رُسل کے تابع فرمادیا ہو جو بنی آدم میں آتے رہے، تو یہ ممکن تو ہے لیکن قطعی ثبوت کے لئے کوئی دلیل نہیں۔بہر حال جو بھی صورت ہو اس بات کو سب تسلیم کرتے ہیں کہ حضرت خاتم النبیین سروردوعالم ﷺ رسول الثقلین ہیں اور رہتی دنیا تک جس طرح انسانوں کی طرف مبعوث ہیں جِنّات کی طرف بھی مبعوث ہیں۔ سورۃ احقاف کے آخری رکوع میں حضرت خاتم النبیینﷺکی خدمت میں جِنّات کی حاضری کا تذکرہ پھر ان کا اپنی قوم کی طرف جانا اور ان کو اسلام کی دعوت دینا

أَجِيْبُوْا دَاعِيَ اللّٰهِ وَآمِنُوْا بِهِ

مذکور ہے۔ اور سورۃ الرحمٰن میں جِنّات سے بار بار خطاب ہونا اور آنحضرت ﷺ کا جِنّات کو قرآن سنانااور ان کی دعوت پر ان کی جائے سکونت پر تشریف لے جاکر تعلیم دینا، اور تبلیغ فرمانا (جس کا احادیث شریف میں ذکرہے) اس سےیہ بات خوب ظاہر اور بہت واضح ہے کہ آنحضرت ﷺ جِنّات کی طرف بھی مبعوث ہیں۔ جن حضرات نے یہ فرمایا ہے کہ بنی آدم کے دنیا میں آباد ہو جانے کے بعد جِنّات کی ہدایت کے لئے بھی وہی رسول مبعوث ہوئے تھے جو بنی آدم کی طرف بھیجے گئے ان کے اس قول کی اس سے تائید ہوتی ہے کہ جب جِنّات کی جماعت رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضری دے کر واپس ہوئی، تو انہوں نے اپنی قوم سے جو باتیں کیں ان میں یہ بھی تھی

یٰقَوۡمَنَاۤ اِنَّا سَمِعۡنَا کِتٰبًا اُنۡزِلَ مِنۡۢ بَعۡدِ مُوۡسٰی مُصَدِّقًا لِّمَا بَیۡنَ یَدَیۡہِ یَہۡدِیۡۤ اِلَی الۡحَقِّ وَ اِلٰی طَرِیۡقٍ مُّسۡتَقِیۡمٍ۔

ان کا اپنی قوم سے یہ کہناکہ ہم نے ایسی کتاب سنی جو موسیٰ علیہ السلام کے بعد نازل ہوئی جو اس کتاب کی تصدیق کرنے والی ہے جو اس کے سامنے ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ جِنّات تورات شریف پر عمل کرتے تھے۔ اگر حضرت موسیٰ علیہ السلام کے زمانے میں خود ان میں سے کوئی رسول ہوتا تو وہ اُسی کی اتباع کرتے‘‘۔

(انوارُالبیان فی کشف اسرار القرآن ،جلد دوم صفحہ 269تا 272،ایڈیشن 2006ء۔دارالاشاعت کراچی پاکستان)

(جاری ہے)

٭…٭…٭

متعلقہ مضمون

رائے کا اظہار فرمائیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close