پرسیکیوشن رپورٹس

اسلامی جمہوریہ پاکستان میں احمدیوں پر ہونے والے دردناک مظالم کی الَم انگیز داستان (قسط چہارم۔ آخری)

(مطہر احمد طاہر۔ جرمنی)

ڈی ایس پی نے کہااپنے گھروں پرسےقرآنی آیات ختم کرلیں کیونکہ مسلمانوں کے جذبات مجروح ہوتے ہیں

احمدیوں کے گھر سے مقدس کلمات ہٹا دیے گئے

ضلع گوجرانوالہ (اگست 2020ء):مخالفین کی جانب سے شکایت موصول ہونے پر ڈی ایس پی عمران عباس چدھڑ نے مقامی احمدیہ قیادت کو طلب کیا۔ مورخہ 27؍جولائی 2020ء کو احمدیوں کا 7 رکنی وفد ڈی ایس پی سے ملا جس نے احمدیوں کو کہا کہ وہ اپنے گھروں پر سے قرآنی آیات ختم کرلیں کیونکہ مسلمانوں کے جذبات مجروح ہوتے ہیں۔ احمدیوں کو اس بات کی بھی ہدایت کی گئی کہ عید الاضحی کے موقع پر جانوروں کی قربانی چار دیواری کے اندر کریں اور غیر احمدی احباب کو گوشت نہ تقسیم کیا جائے۔

احمدیوں نے جواب دیا کہ وہ اپنے ہاتھوں سے تو آیات نہیں مٹائیں گے البتہ اگر پولیس آکر ایسا کرنا چاہے تو بے شک کرلے۔ چنانچہ 29؍جولائی 2020ء کو پولیس مزدوروں اور اوزاروں کے ساتھ آکر احمدیوں کے گھروں سے قرآن کی آیات مٹا گئی۔ احمدیوں سے مزید یہ بھی مطالبہ کیا گیا کہ وہ تحریری طور پر لکھ کر دیں کہ وہ دوبارہ ایسا نہیں کریں گے۔ لیکن احمدیوں نے یہ غیر قانونی مطالبہ ماننے سے انکار کردیا۔

پولیس نے یہ بھی کہا کہ اگر مخالفین کی طرف سے مزید شکایت موصول ہوئی تو ایسا ہی قدم دوبارہ اُٹھایا جائے گا۔ گوجرانوالہ میں پولیس ملاؤں کے تابع ٹولہ معلوم ہوتا ہے۔

عبادت کرنے پر احمدیوں کو سراسیمگی کا سامنا

آنبہ نوریہ ضلع شیخوپورہ (اگست 2020ء): کچھ عرصہ قبل یہاں احمدیوں کو ان کے حقِ عبادت سے محروم کردیا گیا تھا اور ان کومشترکہ قبرستان میں اپنے مردے دفنانے سے روک دیا گیا تھا۔ اُس کے بعد سے اس علاقے کے احمدیوں نے اپنی اجتماعی عبادات کے لیے ایک گھر کا انتخاب کیا۔ شر پسند غیر احمدیوں نے نماز پڑھتے ہوئے احمدیوں کی ویڈیو بنا کر سوشل میڈیا پر پھیلادی۔ یہ معاملہ پھر قانون نافذ کرنے والے اداروں تک جا پہنچا۔

پولیس نے احمدیوں اور اہل سنت والجماعت کے درمیان ایک معاہدہ کروایا جس کے تحت دونوں فریقین کو آئینِ پاکستان کے تحت اپنی مذہبی رسومات کی ادائیگی کا حق حاصل ہے۔ خلاف ورزی پر، دونوں گروہوں کو قانونی چارہ جوئی کی اجازت ہوگی۔ اس معاہدے پر دونوں فریقین کے چھ، چھ افراد نے دستخط کیے جب کہ دو ثالثوں کے دستخط بھی لیے گئے۔

صوابی میں احمدیوں کو درپیش خطرات

ٹوپی، ضلع صوابی (اگست 2020ء):اس علاقے میں قلیل تعداد میں جماعتِ احمدیہ وجود رکھتی ہے۔ انور احمد صاحب اور آپ کے بھائیوں کے خاندان یہاں آباد ہیں جبکہ باقی احمدی بیرونِ ملک منتقل ہوچکے ہیں۔ انور احمد صاحب کے گھر کے قریب دو مساجد ہیں جن میں اکثر مُلّا جمعہ کے خطبوں میں احمدیوں کو قتل کرنے اور ان پر تشدد کی ترغیب دیتے ہیں۔ چنانچہ احمدیوں کو پُر تشدد ہجوم کی جانب سے حملے کا شدید خطرہ ہے۔ مزید برآں، مسلح ڈکیتی کا بھی امکان موجود ہے۔ ان احمدی گھرانوں کو پولیس کو اطلاع دینے اور مسلسل احتیاط کرنے کی نصیحت کی گئی ہے۔

احمدیہ قبرستان میں ایک احمدی کی تجہیز و تکفین کی مخالفت

نواں کوٹ، صفدر آباد، ضلع شیخوپورہ (4؍اگست 2020ء):ایک احمدی نصیر احمد صاحب کی وفات 3؍اگست2020ء کو ہوئی۔ مقامی احمدیہ قبرستان میں ان کی تدفین کے انتظامات کیے گئے تھے لیکن جب دفنانے کا وقت قریب آیا تو درجن بھر کے قریب غیر احمدی جتھے کی صورت میں آن پہنچنے اور احمدیوں کو تدفین سے روک دیا۔

چنانچہ پولیس کو بلوایا گیا جس پر غیر احمدیوں نے کہا کہ اُن کے اور احمدیوں کے درمیان معاہدے کےمطابق اس قبرستان میں کسی احمدی کو دفنانے کی اجازت نہیں ہوگی۔ یادرہے کہ اس سے قبل مخالفین نے احمدیوں کی جنازگاہ کی تعمیر پر جھگڑا کیا تھا جس پر صرف یہ معاملہ طے ہوا تھا کہ احمدی قبرستان کے اندر کسی قسم کی تعمیر نہیں کریں گے۔ اس معاہدے میں ایسی کوئی شق نہیں تھی کہ احمدیوں کو اپنے مرحومین وہاں دفنانے کی اجازت نہیں ہوگی۔

چنانچہ نصیر احمد مرحوم کا جنازہ پولیس کی موجودگی میں ادا کرکے احمدیہ قبرستان میں اُن کی تدفین عمل میں لائی گئی۔

مقدمات اور قید و بند کی صعوبتیں برداشت کرنے والے احمدی!

13؍مئی 2014ء کو تعزیراتِ پاکستان 295-A، 337۔ 2 اور 427 کے تحت تھانہ شرق پور میں چار افرادِ جماعت کے خلاف ایک جھوٹا مقدمہ درج کیا گیا۔ ان احمدیوں کے نام خلیل احمد، غلام احمد، احسان احمد، اور مبشر احمد ہیں۔ دو دن بعد یعنی 16؍مئی 2014ء کو پولیس کی حراست میں مدرسے کے ایک طالب علم نے خلیل احمد کو شہید کردیا۔ باقی تین احمدیوں کو 18؍جولائی 2014ء کو گرفتار کرلیا گیا تھا اور ایک سال بعد، سیشن کورٹ کے جج کی سفارش پر اُن کے مقدمہ میں 295-Cکی خوفناک شق شامل کرلی گئی۔ 11؍ اکتوبر 2017ء کو سیشن کورٹ کے ایک جج نے ان احمدیوں کو سزائے موت سُنائی۔ اس فیصلہ کے خلاف لاہور ہائی کورٹ میں اپیل کی گئی اور اڑھائی سال سے زائد عرصہ گزرنے کے باوجود، عدالت کو ان احمدیوں کا کیس سننے کا وقت نہیں مل سکا۔

یہ تین احمدی 6 سال سے زائد عرصہ سے قید ہیں۔

٭…20؍جنوری 2018ء کو تاندلیاں والا پولیس سٹیشن ضلع فیصل آباد میں ایک احمدی سعید احمد وڑائچ کے خلاف تعزیرات پاکستان 295-C ایف آئی آر نمبر 645 کے تحت توہین مذہب کا جھوٹا مقدمہ درج کیا گیا۔ سعید احمد صاحب کو اس سے ایک روز قبل گرفتار کرلیا گیا تھا۔ وہ گزشتہ ڈھائی سال سے قید میں ہیں۔

٭…طالبِ علم جامعہ احمدیہ وقار احمد، سید مبشر احمد ایاز پرنسپل جامعہ احمدیہ، اور محمد اظہر منگلا، لیکچرر جامعہ احمدیہ ربوہ، کے خلاف سوشل میڈیا پر قُرانی آیات بھجوانے کے ’’جرم‘‘ میں 12؍نومبر 2019ء کو سائبر کرائم قوانین کے تحت FIRنمبر 2019/152 کے ضمن میں احمدی مخالف تعزیراتِ پاکستان 298-C، توہین مذہب کی شق 295-A,، PECA-11، اور تعزیرات پاکستان نمبر 120-B، 109، اور 34 کے تحت مقدمہ درج کیا گیا۔ وقار احمد صاحب کو گرفتار بھی کیا گیا۔

٭… چک 120 ضلع ننکانہ میں ایک پچپن سالہ احمدی خاتون رمضان بی بی کے خلاف تعزیراتِ پاکستان 295-Cکے تحت 30؍اپریل 2020ء کو پولیس سٹیشن سانگلہ ہل میں FIRنمبر 20/275 کے تحت مقدمہ درج کیا گیا۔ رمضان بی بی کو گرفتار کرکے سنٹرل جیل شیخوپورہ منتقل کردیا گیا۔

٭… مورخہ 26؍مئی 2020ء کو روحان احمد، ملک عثمان احمد، حافظ طارق شہزاد، چند نامعلوم افراد، پروف ریڈر، کمپوزر، لکھاری، کمپیوٹر آپریٹر اور مالکان کے خلاف ایک واٹس ایپ گروپ میں مضمون لکھنے، جنرل نالج اور سوال جواب کے مقابلے کے حوالے سے پیغام شیئر کرنے پر FIRنمبر 20/29 کے تحت سائبر کرائم ونگ پولیس سٹیشن لاہور میں تعزیراتِ پاکستان 298-C,، 295-B، 120-B، 109، 34 R/W، 11-PECA-2016، کے تحت مقدمہ درج کرلیا گیا۔

پاکستان کے سائبر کرائم ڈیپارٹمنٹ جو کہ FIAکے تحت کام کرتا ہے نےواپڈا ٹاؤن میں روحان احمد کے گھرچھاپا مار کر انہیں تشدد کا نشانہ بنا یا اور گرفتار کرلیا۔ فی الحال روحان احمد لاہور کی کیمپ جیل میں ہے۔ اگر خدانخواستہ انہیں مجرم ٹھہرایا دیا جاتا ہے تو ان شقوں کے تحت انہیں عمر قید کی سزا ہوسکتی ہے۔

٭…15؍اگست 2020ء کو فضل سعید، آپ کے بھائی منور سعید اور آپ کے والد سعید احمد کے خلاف احمدی مخالف شق 298-Cکے تحتFIRنمبر 710 جانور کی قربانی کے خلاف پیر محل پولیس سٹیشن ضلع ٹوبہ ٹیک سنگھ میں مقدمہ درج کیا گیا۔

٭…پولیس سٹیشن پہالورہ ضلع سیالکوٹ میں FIRنمبر 309کے تحت ایک احمدی وحید احمد بٹ صاحب کو احمدیہ مخالف شق 298-Cاور توہین مذہب شق 295-Aکا مقدمہ بنا کر گرفتار کرلیا گیا۔

٭…٭…٭

متعلقہ مضمون

رائے کا اظہار فرمائیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close