ادبیات

ملفوظات حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام اور فارسی ادب (قسط نمبر 82)

(محمود احمد طلحہ ۔ استاد جامعہ احمدیہ یو کے)

رفع کے معنے

۱۰۔ رفع کے متعلق جو اعتراض کرتے ہیں۔ اس کے لئے سمجھنا چاہئے کہ رفع سے یہودی تو یہی معنے سمجھے ہوئے تھے کہ جس پر لعنت پڑے اس کا روح آسمان پر نہیں جاتا۔ ان کا یہ مذہب کب تھا کہ نجات کے لئے آسمان پر جانا ضروری ہے پس یہودیوں کی اصل غرض مسیح کو صلیب دینے سے یہ تھی۔ ان کے جسم سے ان کو کیا کام تھا۔ اللہ تعالیٰ کو بھی اسی اختلاف کا رفع کرنا اور ان کی غلط فہمی کو رفع کرنا مقصود تھا۔ اب اگر رفع سے جسمانی مراد ہے تو یہودیوں کے اس الزام کی بریّت کہاں ہے؟ اس طر ح پر ہر قسم کے اعتراضوں کا جواب پہاڑوں کی طرح یاد ہونا چاہئے۔ مستحضر جواب دینا ہر ایک کا کام نہیں۔ اگر پکا جواب نہ ہو تو؎

عذرنا معقول ثابت میکندالزام را۔ کا معا ملہ ہوتا ہے

اﷲ تعالیٰ نے اس سلسلہ کی سچائی کے تو ایسے دلائل دے دیئے ہیں۔ کہ اگر یاد ہوں تو پھر کوئی مشکل نہیں۔

(ملفوظات جلد سوم صفحہ 442)

اس حصہ میں حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام نے فارسی کا یہ جملہ استعمال کیا ہے۔

عُذْرِنَامَعْقُوْل ثَابِتْ مِیْکُنَدْاِلْزَامْ رَا۔

ترجمہ:۔ خلافِ عقل جواب دینا، الزام کو ثابت کرتا ہے۔

متعلقہ مضمون

رائے کا اظہار فرمائیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close