متفرق مضامین

سیرت وشہادت حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ (قسط دوم)

(ظہیر احمد طاہر ابن نذیر احمد خادم۔جرمنی)

آنحضرت ﷺ نے فرمایا: میرے پاس حضرت جبریل امین علیہ السلام تشریف لائے تھے، انہوں نے مجھے بتایا کہ میری امت اس کو شہید کردے گی

حلیہ مبارک

سیرت نگاروں نے لکھا ہے کہ آپؓ انتہائی خوبصورت تھے، ذہانت و ذکاوت آپ کے چہرے پر جھلکتی تھی، قوت وشجاعت کے پیکر اور غیر معمولی خوبیوں کے مالک تھے۔حضرت انس بن مالکؓ فرماتے ہیں : لوگوں میں حسینؓ سے زیادہ کوئی آنحضرت ﷺ سے مشابہت نہیں رکھتا تھا۔

(جامع ترمذی اَبۡوَابُ الۡمَنَاقِبِ بَابُ:مَنَاقِبۡ اَبِیۡ مُحَمَّدِ الۡحَسَنِ بۡنِ عَلِیِّ بۡنِ اَبِیۡ طَالِبٍ وَالۡحُسَیۡنِ…حدیث:3546)

حضرت علی ؓفرماتے ہیں کہ حسن ؓ سینے سے سر تک آنحضرتؐ کے سب سے زیادہ مشابہ تھے اور حسینؓ سینے سے نیچے۔

(جامع ترمذی اَبۡوَابُ الۡمَنَاقِبِ بَابُ:مَنَاقِبۡ اَبِیۡ مُحَمَّدِ الۡحَسَنِ بۡنِ عَلِیِّ بۡنِ اَبِیۡ طَالِبٍ وَالۡحُسَیۡنِ…حدیث:3549)

شادی اور اولاد

حضرت حسین رضی اللہ عنہ نے مختلف اوقات میں پانچ شادیاں کیں۔آپ کی اولاد کی تعداد کے بارے میں اختلاف نظر پایا جاتا ہے بعض نے چار بیٹے اور دو بیٹیاں اور بعض نے چھ بیٹے اور تین بیٹیاں لکھے ہیں۔ ایران کی فتح کے بعدآپ کی شادی ایران کے بادشاہ یزدگرد کی بیٹی شہر بانو سے ہوئی۔ ان کے بطن سے38ھ بمطابق658ء کو امام حسین ؓکے بیٹے امام علی زین العابدینؒ پیدا ہوئے۔واقعہ کربلا کے روز امام علی زین العابدین بیمار ہونے کی وجہ سے خیمہ میں تھے اس لیے ان کی جان بچ گئی۔بعدمیں ان کے ذریعہ خاندان سادات کی نسل آگے چلی۔

شہادت کی آسمانی خبر

حضرت حسین رضی اللہ عنہ کا نام نامی تاریخ اسلام میں ایک روشن باب کی حیثیت رکھتا ہے متعدد روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے نبی کریم ﷺ کو اس دردناک واقعہ سے آپ کی زندگی میں ہی مطلع فرمادیا تھا۔

حضرت اُ م الفضل بن الحارث ؓ بیان کرتی ہیں : ایک دن میں حضور ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئی اور حضرت حسینؓ کو آپ کی گود میں دے دیا۔ کچھ دیر بعد میں نے توجہ کی تو رسول اللہ ﷺ کی آنکھوں سے آنسو جاری تھے، میں نے پوچھا: یا نبی اللہﷺ! میرے ماں باپ آپؐ پر قربان،کیا بات ہے ؟ آپؐ نے فرمایا: میرے پاس حضرت جبریل امین علیہ السلام تشریف لائے تھے ، انہوں نے مجھے بتایا کہ میری امت اس کو شہید کر دے گی۔ میں نے پوچھا : اس کو ؟ آپؐ نے فرمایا: ہاں۔اور وہ اس (مقام شہادت) کی سرخ مٹی بھی میرے پاس لائے

(المستدرک، کِتَابُ مَعۡرِفَۃِ الصَّحَیَۃِ، اَوَّلُ فَضَائِلِ اَبِی عَبۡدِ اللّٰہِ الۡحُسَیۡنِ…حدیث:4818)

جامع ترمذی میں لکھا ہے کہ ایک خاتون ام المومنین حضرت ام سلمہؓ کے پاس گئیں تو وہ رو رہی تھیں انہوں نے وجہ پوچھی تو حضرت ام سلمہؓ نے کہا :میں نے رسول اللہ ﷺ کو رؤیا میں دیکھا ہے۔ آپ کا سر اور داڑھی خاک آلود تھی۔ میں نے پوچھا یارسول اللہ ؐ! یہ کیفیت کیوں ہے۔ فرمایا: ابھی ابھی میں نے حسین کی شہادت کا منظر دیکھا ہے۔

(جامع ترمذی کتاب المناقب باب مناقب الحسن والحسین حدیث نمبر 3703)

واقعہ شہادت اوراُس کا پس منظر

حضرت علی رضی اللہ عنہ کی شہادت کے بعد کوفہ کی جامع مسجد میں بیس ہزار سے زائد افراد نے حضرت امام حسن رضی اللہ عنہ کی بیعت کرلی تھی۔ آپؓ چھ ماہ تک بطور خلیفہ اپنے فرائض انجام دیتے رہے لیکن حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ چلنے والے نزاع اور اس کے نتیجے میں مسلمانوں کے خون خرابہ میں کچھ کمی نہ آئی۔ مسلمانوں کو قتل وغارت گری اور باہمی نفاق سے بچانے کے لیے حضرت حسن ؓ نے حضرت معاویہؓ سے صلح کرلی اور اُن کے حق میں دستبردار ہوگئے۔اس واقعہ کا ذکر کرتے ہوئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا ہے:’’حضرت حسن ؓ نے میری دانست میں بہت اچھا کام کیا کہ خلافت سے الگ ہوگئے۔ پہلے ہی ہزاروں خون ہوچکے تھے۔ انہوں نے پسند نہ کیا کہ اَور خون ہوں۔ اس لیے معاویہ سے گزارہ لے لیا۔ ‘]

(ملفوظات جلد چہارم صفحہ 379، ایڈیشن 2003ء)

حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کی شہادت کا پس منظر بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں :’’آج اس زمانہ میں جماعت احمدیہ سے زیادہ کون واقعہ کربلا کا احاطہ اور تصور کرسکتا ہے۔ اس لیے حضرت مصلح موعودؓ نے فرمایاکہ وہ تم کو حسین بناتے ہیں اور آپ یزیدی بنتے ہیں۔ یہ دونوں فریق کون تھے ؟ یہ دونوں

لَا اِلٰہَ اِلَّااللّٰہُ مُحَمَّدٌرَّسُوۡلُ اللّٰہ

پڑھنے والے تھے یا پڑھنے کا دعویٰ کرنے والے تھے۔لیکن ایک کلمہ کی حقیقت کو جانتے ہوئے مظلوم بنااور دوسراکلمہ کا پاس نہ کرتے ہوئے ظالم بنا۔ واقعہ کربلا بھی جس میں حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ، آپ کے خاندان کے افراد اور چند ساتھیوں کو ظالمانہ طور پر شہید کیا گیا، اصل میں حضرت عثمان ؓ کی شہادت کے واقعے کا ہی ایک تسلسل ہے۔ جب تقویٰ میں کمی ہونی شروع ہوجائے، ذاتی مفادات اجتماعی مفادات پر حاوی ہوناشروع ہوجائیں، دنیا دین پر مقدم ہوجائے تو پھر یہی کچھ ہوتا ہے کہ ظلم و بربریت کی انتہا کی جاتی ہے۔ اللہ والوں کے نام پر ہی خون بہایا جاتا ہے۔‘‘

(خطبہ جمعہ فرمودہ 10؍دسمبر 2010ءمطبوعہ الفضل انٹرنیشنل 31؍دسمبر2010ء صفحہ 5)

یزید کی دشمنی کی وجہ

حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ مرض الموت میں مبتلا ہوئے تو انہوں نے اپنے گورنروں اور عمالوں کے ذریعے لوگوں سے اپنے بیٹے یزید کے حق میں بیعت لینا شروع کردی لیکن چندکبار صحابہ رسول ﷺاُس کے حق میں نہ تھے۔ ان میں حضرت حسین بن علی ؓ، عبداللہ بن عمرؓ، عبداللہ بن زبیرؓاور عبدالرحمٰن بن ابی بکر رضی اللہ عنہم کے نام نمایاں ہیں۔ چنانچہ 60ھ میں حضرت معاویہ ؓکی وفات کے بعد جب یزید حکمران ہوا تواسے اس کے سوا کوئی فکر نہ تھی کہ جن لوگوں نے اُس کے باپ کے کہنے پر اس کے حق میں بیعت سے انکار کردیا تھا اُن سے بیعت لی جائے تاکہ اُس کی حکومت کے لیے کوئی خطرہ نہ رہے۔لہٰذا اُس نے مدینہ کے گورنر ولید بن عتبہ کے نام خط میں لکھا کہ

أمّا بعدُ فخذۡ حسینًا وعبداللّٰہ بن عمر وابن الزبیر بالبیعۃ أَخذًا لیس فیہ رُخۡصۃ حتی یبایعوا

(الکامل فی التاریخ،تَارِیۡخۡ ابۡن الأثیر،ذکر بیعۃ یزید صفحہ 500،ناشر: بیت الافکار الدّولیۃ،الاردن)

حسینؓ،عبداللہ بن عمرؓ اور ابن زبیرؓسے بیعت لینے میں تشدد کرو اور جب تک بیعت نہ کرلیں انہیںذرا مہلت نہ دو۔

یزید کی بیعت نہ کرنے کی وجہ

اگرچہ مسلمانوں کی اکثریت نے امت کو تفرقہ اور انتشار سے بچانے کے لیے یزید کی بیعت کرلی تھی لیکن مختلف علاقوں میں مسلمانوں کی ایک بڑی تعداد ایسی تھی جو یزید کی بیعت کو ناپسند کرتی تھی جن میں بعض اکابر صحابہ بھی شامل ہیں۔ حضرت امام حسین ؓبھی اُن لوگوں میں شامل تھے جنہوں نے پسند نہ کیا کہ ایک فاسق فاجر کے ہاتھ پر بیعت کریں۔جیسا کہ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام فرمایا ہے کہ’’یزید پلید کی بیعت پر اکثر لوگوں کا اجماع ہوگیا تھا مگر امام حسین ؓ نے اور ان کی جماعت نے ایسے اجماع کو قبول نہیں کیا اور اس سے باہر رہے۔ ‘‘

(مجموعہ اشتہارات جلد اوّل صفحہ 178۔ خط بنام مولوی عبدالجبار)

حضور علیہ السلام نے ایک اور موقع پر فرمایا:’’حضرت امام حسن ؓنے پسند نہ کیا کہ مسلمانوں میں خانہ جنگی بڑھے اور خون ہوں۔ انہوں نے امن پسندی کو مدّنظر رکھا اور حضرت امام حسین ؓ نے پسند نہ کیا کہ فاسق فاجر کے ہاتھ پر بیعت کروں کیونکہ اس سے دین میں خرابی ہوتی ہے۔ دونوں کی نیت نیک تھی۔

اِنَّمَا الۡاَعۡمَالُ بِالنِّیَّاتِ۔‘‘

(ملفوظات جلد چہارم صفحہ 580،ایڈیشن 2003ء)

یزید کا خط ملنے پر جب مدینہ کے گورنر ولید بن عتبہ نے ان اصحاب کو یزید کی بیعت کرنے کو کہا تو انہوںنے سوچنے کے لیے وقت مانگا۔ حضرت عبداللہ بن زبیررضی اللہ تعالیٰ عنہ اسی رات مکہ کی طرف روانہ ہوگئے۔ جبکہ دوسری شب حضرت حسین ؓبھی مکہ کی طرف ہجرت کرگئے۔ دونوں حضرات 3؍شعبان بمطابق 9؍مئی جمعہ کے دن مکہ پہنچے۔حضرت عبداللہ بن زبیر ؓنے بیت اللہ میں قیام کیا اور حضرت امام حسینؓ شعب ابی طالب میں چلے گئے۔چند روز بعد حضرت عبداللہ بن عمرؓ اور حضرت عبداللہ بن عباسؓ بھی مکہ آگئے۔ذوالحجہ کے آغاز پر جب اہل کوفہ کو یہ علم ہوا کہ حضرت امام حسین ؓ مدینہ چھوڑ کر مکہ تشریف لے آئے ہیں تو انہوں نے آپ کی خدمت میں ہزاروں کی تعداد میں خطوط لکھ کراپنی وفاداری کا یقین دلایا اور لکھا کہ آپؓ ہمارے پاس تشریف لائیے کہ شاید آپ کی وجہ سے خدا ہم سب کوحق پر مجتمع کردے۔ ایک خط میںانہوں نے لکھا :’’… باغات سرسبز ہوگئے ہیں اور پھل پک چکے ہیں اور پیالے چھلک رہے ہیں، آپ جب چاہیں اپنے جمع شدہ لشکر کے پاس آجائیں، آپ پر سلامتی ہو۔ ‘‘

(البدایہ والنہایہ (مترجم ) جلد ہشتم صفحہ 197۔ ناشر نفیس اکیڈمی کراچی۔جنوری1989ء )

حضرت حسینؓ پہلے ہی یزید کی سلطنت سے نکل کر کسی گوشۂ عافیت میں رہنا چاہتے تھے۔ تاریخ پر گہری نظر رکھنے والے جانتے ہیںکہ آپ چاہتے تھے کہ خلافت کے نام پر قائم ملوکیت سے نجات ملے اور کسی قسم کا لڑائی جھگڑا اور فساد بھی نہ ہو۔چنانچہ اہل کوفہ کی جانب سے یکے بعد دیگرے متعدد خطوط کے ملنے پر امام حسینؓ نے اپنے چچا زادحضرت مسلم بن عقیلؓ کو حالات معلوم کرنے کےلیے کوفہ بھیجاتاکہ وہ حالات کا جائزہ لے کر آپ کو حقیقت حال سے مطلع کریں۔جب مسلم بن عقیل کوفہ پہنچے تو انہوں نے مختار بن ابی عبید کے گھر قیام کیا۔لوگ جوق در جوق ان کے پاس آکر بیعت کرنے لگے۔ تاریخ طبری میں لکھا ہے کہ ’’ان کے آنے کا اہل کوفہ میں چرچا ہوا تو لوگ آن آن کر ان سے بیعت کرنے لگے۔ بارہ ہزار آدمیوں نے بیعت کی۔‘‘

(تاریخ طبری (مترجم )جلد چہارم صفحہ147۔ناشر نفیس اکیڈیمی اردوبازار کراچی۔طبع اپریل 2004ء )

امام ابن کثیر ؒنے اپنی کتاب البدایہ والنہایہ میںلکھا ہے کہ’’پس اہل عراق میں سے بارہ ہزار آدمیوں نے آپ کی بیعت پر اتفاق کیا پھر وہ بڑھ کر اٹھارہ ہزار تک پہنچ گئے تو حضرت مسلمؒ نے حضرت حسینؓ کو لکھا کہ وہ عراق آجائیں، بیعت اور امور آپ کے لیے ہموار ہوچکے ہیں۔‘‘

(البدایہ والنہایہ (مترجم ) جلد ہشتم صفحہ 198۔ناشر نفیس اکیڈمی کراچی۔سن اشاعت جنوری1989ء)

حضر ت مسلم بن عقیل نے لوگوں کے جوش وجذبہ اور عقیدت کو دیکھ کر حضرت حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی خدمت میں ایک خط تحریر کیا جو شہادت سے تقریباً ستائیس روز پہلے آپ کو موصول ہوا۔ اس خط میںانہوںنے تحریر کیا کہ’’…پیش رو اپنے اہل سے جھوٹ نہیں بولتا بلاشبہ اہل کوفہ آپ کے ساتھ ہیں، آپ جب میرے اس خط کو پڑھیں تو آجائیں۔‘‘

(البدایہ والنہایہ (مترجم ) جلد ہشتم صفحہ 218۔ناشر نفیس اکیڈمی،کراچی۔ جنوری 1989ء)

جب مسلم بن عقیل کوفہ تشریف لائے تھے،اُس وقت حضرت نعمان بن بشیرؓ کوفہ کے گورنر تھے۔ انہوں نے مسلمؓ سے کچھ تعرض نہ کیا اور نہ ہی انہیں لوگوں سے حضرت حسینؓ کے نام پر بیعت لینے سے روکا۔ اب تک تمام حالات آپؓ کے حق میں جا رہے تھے ۔یزید بھی ان حالات پر گہری نظر رکھے ہوئے تھا، اُسے جب یہ اطلاع ملی کہ لوگ آپؓ کے نام پر جوق در جوق مسلم بن عقیل کی بیعت کررہے ہیں تو اُس نے حضرت معاویہ ؓکے آزاد کردہ غلام سرجون کے مشورہ سے بصرہ کے گورنرعبداللہ ابن زیاد بن ابوسفیان کو کوفہ کی گورنری سونپ دی اوراُسے لکھا :’’میرا یہ خط دیکھتے ہی تم کوفہ کی طرف روانہ ہوجائو۔ وہاں جاکر ابن عقیل کو اس طرح ڈھونڈو جیسے کوئی نگینہ کو ڈھونڈتا ہے۔ انہیں یا تو گرفتار کرلینا یا قتل کرڈالنا یا شہر سے نکال دینا۔‘‘

(تاریخ طبری (مترجم )جلدچہارم، حصہ اوّل صفحہ 154۔سن اشاعت اپریل 2004ء)

ابن زیادکے کوفہ میں آتے ہی حالات نے پلٹا کھایا اورسارے کا سارا منظر تبدیل ہوگیا۔اُ س نے بڑے مخالفین کو گرفتار کرلیا اور سخت اقدامات شروع کردیے۔اس کے غلام معقل نے بھیس بدل کر مسلم بن عقیل کا پتہ چلا لیا کہ آپ ان دنوں ہانی بن عروہ جو کہ عمائدین کوفہ میں سے تھے ان کے گھر میں ٹھہرے ہوئے ہیں۔ایک روز ہانی بعض شرفائے کوفہ کے ساتھ عبیداللہ بن زیاد کے پاس گئے تو اس نے پوچھا کہ مسلم کو تم نے چھپا رکھا ہے ؟ ان کے انکار پر اُس کے غلام نے گواہی دی تو ہانی نے بتایا کہ میں نے مروت کی وجہ سے انہیں پناہ دی ہے۔اس پر ابن زیاد نے ہانی کو قید کردیا۔جب یہ افواہ پھیلی کہ ہانی کوگرفتارکرلیا گیا ہے تو حضرت مسلم بن عقیل نے کئی ہزارعقیدت مندوں کے ساتھ ابن زیاد کے قصر کو گھیرے میں لے لیا۔اس پر ابن زیاد نے شہر کے اُن رؤسااور افسران کوجو اس کے پاس موجود تھے حکم دیا کہ وہ اپنے اپنے قبیلہ کے لوگوں کو وہاں سے ہٹانے کی کوشش کریں ۔

مسلم ؓجب قصر کے دروازہ پر پہنچے تو تمام رؤسا قصر پر چڑھ کر اپنے اپنے برادری والوں کے سامنے آئے اور انہیں سمجھا سمجھا کر واپس کرنے لگے۔ اب لوگ مسلم ؓ کے پاس سے سرکنے لگے۔ شام ہونے تک پانچ سو آدمی رہ گئے۔ جب شب کی تاریکی پھیلی تو وہ بھی ساتھ چھوڑ کر چلے گئے۔

(تاریخ طبری (مترجم )جلدچہارم، حصہ اوّل صفحہ 149۔سن اشاعت اپریل 2004ء)

مسلم بن عقیل کی شہادت

ان حالات سے دلبرداشتہ ہوکرحضرت مسلم بن عقیل نے ایک بوڑھی عورت کے گھر میں پناہ لے لی لیکن اُس عورت کے بیٹے نے ابن زیاد کے ڈر سے مخبری کردی۔ چنانچہ ابن زیاد نے محمد بن اشعت کوانہیں گرفتار کرنے کے لیے بھیجا۔ کچھ دیر لڑائی کے بعد محمد بن اشعت کے امان دینے پر آپ نے ہتھیار ڈال دیے لیکن راستہ میں اُن کی باتوں سے آپ جان گئے تھے کہ ابن زیاد آپ کے ساتھ نرمی کا سلوک نہیں کرے گا۔چنانچہ آپ نے محمد بن اشعت سے کہا کہ مجھے بچانا تمہارے بس میں نہیں صرف اتنا کرنا کہ حسین ؓ کو میرے انجام کی خبر کرکے کہلا دینا کہ کوفہ والوں پر ہرگز ہرگز اعتبار نہ کریں اور واپس لوٹ جائیں۔ ابن زیاد کے پاس پہنچنے پر محمد بن اشعت نے اپنی امان کا ذکر کیا تو ابن زیادسخت ناراض ہوا اورمسلم بن عقیل کو قتل کرنے کا حکم دے دیا۔ یہ حکم سن کر مسلم بن عقیل نے وہاں پر موجوداپنے ایک رشتہ دار عمروبن سعد بن ابی وقاص کو بھی یہ وصیت کی کہ حضرت حسین ؓ تک ان کا یہ پیغام پہنچادے کہ وہ کوفہ آنے کا ارادہ ترک کردیں نیز یہ وصیت کی کہ میری میت کو دفن کردینا۔ بعدازاںمسلم بن عقیل کی گردن کاٹ کر ان کی نعش کو چھت سے نیچے پھینک دیا گیا۔مسلم بن عقیل کی شہادت کی اطلاع ملنے پر یزید نے ابن زیاد کو ایک تعریفی خط تحریر کیا جس میں لکھا :’’مجھے خبر ملی ہے کہ حسین (رضی اللہ عنہ) عراق کی طرف آرہے ہیں۔نگران مقرر کر، مورچے تیار رکھ۔ جس سے بد گمانی ہو اس کو حراست میں لے لے۔جس پر تہمت بھی ہو اسے گرفتار کرلے۔‘‘

(طبری جلد چہارم حصہ اول صفحہ 173۔اپریل 2004ء۔نفیس اکیڈمی کراچی)

مسلم بن عقیل کے قتل کے بعد ابن زیاد نے ظلم وستم کی انتہا کردی۔اُس نے حضرت حسینؓ کے حامیوں کو چُن چُن کر قتل کرانا شروع کردیا۔اِن حالات کو دیکھتے ہوئے کوفہ والوں نے اپنی سوچ یکسر تبدیل کرلی اور اب ان کوفہ والوں کا روّیہ اُن کوفہ والوں سے بالکل مختلف تھا جنہوں نے ہزاروں خط لکھ کر حضرت حسین ؓسے بے شمار عہدوپیمان باندھے تھے۔

حضرت حسین ؓکا سفر کوفہ

کوفہ کی بنیاد حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے دَور خلافت میں حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے رکھی جو کسریٰ کی حکومت کے خلاف لڑنے والے اسلامی لشکر کے کمانڈر تھے۔یہ شہرعراق کے محاذ پر جہاد میں مصروف عرب قبائل کے خاندانوں کو بسانے کے لیے آباد کیا گیا۔ اس شہر کے باسیوں کی ابتدا سے ہی یہ عادت رہی ہے کہ وہ اپنے حکام سے بہت جلد نالاں ہوجاتے اور مرکز میں ان کی شکایتیں پہنچاکر نئے حاکم کا مطالبہ کرتے۔

اگرچہ کوفہ والے یزید کی سربراہی کو بھی دل سے ماننے پر آمادہ نہ تھے اسی لیے انہوں نے حضرت حسین رضی اللہ عنہ کی خدمت میں ان گنت خطوط بھیج کر آپ سے مدد کی اپیل کی تھی لیکن ان کی منافقانہ ذہنیت انہیں ہمیشہ حق کی طرف مائل ہونے سے روک دیتی تھی۔دوسری طرف حضرت حسین ؓنے مسلم بن عقیل کا پہلاخط ملتے ہی کوفہ جانے کی تیاری شروع کردی تھی۔ اہل مکہ اور آپ ؓکے اعزہ واقربا بھی کوفیوں کی غداریوں سے خوب واقف تھے، انہوں نے آپ کو کوفہ جانے سے روکنے کی بہت کوشش کی۔حضرت عبداللہ بن زبیر ؓنے مشورہ دیا کہ آپ مکہ میں رہ کر اپنی خلافت کے لیے کوشش کریں، ہم آپ کاساتھ دیں گے۔ اسدالغابہ میں لکھا ہے کہ مکہ ہی میں اہل کوفہ کے خطوط اُن کے پاس پہنچے۔ لہٰذا انہوں نے سفر کا سامان تیار کرلیا، بہت سے لوگوں نے انہیں منع کیا، ان منع کرنے والوںمیں ان کے بھائی محمد بن حنفیہ، ابن عمر ؓاور ابن عباسؓ وغیرہ تھے مگر حضرت حسینؓ نے فرمایا کہ میںنے رسول اللہ ﷺ کو خواب میں دیکھا ہے آپ نے مجھے جس بات کا حکم دیا ہے اُس کو میں ضرور کروں گا۔

(اسدالغابہ (مترجم ) جلد سوم صفحہ 570۔ناشر المیزان اردو بازارلاہور)

حضرت عبداللہ بن عباس ؓنے آپ کے ارادے کو دیکھ کر مشورہ دیا کہ اگر آپ ہر صورت جانا ہی چاہتے ہیں تو عورتوں اور بچوں ساتھ نہ لے جائیں کہیں ایسا نہ ہو کہ حضرت عثمانؓ کی طرح اپنے گھر والوں کے سامنے قتل کردیے جائیں۔ ایک روایت میں لکھا ہے کہ حضرت عبداللہ بن عباس ؓ نے آپ کو یہ مشورہ بھی دیا تھا کہ اگر آپ مکہ کو چھوڑنا ہی چاہتے ہیں تو کوفہ کی بجائے یمن چلے جائیں۔

(الکامل فی التاریخ،تَارِیۡخۡ ابۡن الأثیر،صفحہ 508،سنۃ ستین،ناشر: بیت الافکارالدّولیۃ،الاردن)

لیکن آپ مشیت خداوندی کے تحت کوفہ جانے کا پختہ عزم کرچکے تھے۔مسلم بن عقیل کی طرف سے آنے والی پہلی خوشکن رپورٹ کے ملتے ہی آپ نے حج کو عمرہ میں بدلا اور 3؍ذوالحجہ 60ہجری کو مع اہل وعیال مکہ سے کوفہ کی طرف سفر کا آغاز کردیا۔آپ کے قافلہ میں کل 72؍افراد تھے جن میں 14؍خواتین بھی شامل تھیں۔اس قافلے نے مکہ سے کربلا تک پہنچتے پہنچتے 13جگہوں پر پڑاؤ کیا۔ پہلی منزل تنعیم اور دوسری منزل صفاح نامی جگہ تھی۔ اس جگہ حضرت حسین ؓ کی ملاقات مشہور شاعر فرزدق (ہمام بن غالب بن صعصعہ 38ھ تا110ھ)سے ہوئی تو اُس نے ایک سوال کے جواب میں آپؓ کو کوفہ والوں کی خصلت سے آگاہ کرتے ہوئے کہا :

قُلُوۡبُ النَّاسِ مَعَکَ، وَسُیُوۡفُھُمۡ مَعَ بَنِیۡ اُمَیَّۃ۔

(الکامل فی التاریخ،تَارِیۡخۡ ابۡن الأثیر،صفحہ 508،سنۃ ستین،ناشر: بیت الافکارالدّولیۃ،الاردن)

اگرچہ لوگوں کے دل آپ کے ساتھ ہیں مگر ان کی تلواریں بنو امیہ کی حمایت میں نکلیں گی۔

قافلہ والوں کی تیسری منزل ذات العرق تھی اس جگہ حضرت امام حسین ؓ کے چچازاد عبداللہ بن جعفرؓ مدینہ سے آکر آپ سے ملے اور آپ کو کوفہ کی بجائے مدینہ واپس لوٹنے کی تجویز دی لیکن حضرت امام حسینؓ نے فرمایا: میں نے ایک خواب میں آنحضرت ﷺ کو دیکھا ہے، آپؐ نے مجھے ایک ارشاد فرمایا ہے جسے میں ہر صورت میں پورا کروں گا۔ اس لیے اب واپسی محال ہے۔ راستہ میں مختلف جگہوں سے لوگ آپ کے قافلہ میں شامل ہوتے رہے۔ امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی مکہ سے کوفہ کی طرف روانگی کی خبر ہونے پر ابن زیاد نے تمام راستوں پر پہرہ بٹھادیا تاکہ آپ پر نگاہ رکھی جاسکے۔ امام حسینؓ نے ایک قاصد قیس بن مسہر صیداوی کو کوفہ کی خبر لانے کے لیے بھیجا تو اُسے گرفتار کرکے قتل کردیا گیا۔اسی طرح مسلم بن عقیل کے قتل کی خبر آپ کو مقام ثعلبیہ میں ملی تو آپ کے ارادے میں کچھ تغیر ہوا۔اس موقع پرچند ساتھیوں نے بھی واپسی کا مشورہ دیا لیکن مسلم بن عقیل کے بھائیوں نے آگے جانے پر اصرار کیا اور کہا کہ یا تو ہم مسلم کے خون کا بدلہ لیں گے یا خود لڑ کر جان دے دیں گے۔ حضرت امام حسین ؓنے سب ساتھیوں کو جمع کرکے کوفہ کے حالات سے آگاہ کیا اور بتایا کہ ہمارے حامیوں نے ہمارا ساتھ چھوڑ دیا ہے۔ اس لیے اگر کوئی شخص واپس لوٹنا چاہتا ہے تو وہ خوشی سے ایسا کرسکتا ہے میری طرف سے اس پر کوئی الزام نہیں، یہ سن کروہ لوگ جو راستے میں ساتھ ہوگئے تھے آہستہ آہستہ الگ ہونے لگے اور صرف وہی جاںنثار ساتھی باقی رہ گئے جومکہ سے آپؓ کے ساتھ آئے تھے۔

شہادت کی منصوبہ بندی

ابن زیاد نے کوفہ آکر نہ صرف حضرت حسینؓ کو شہر میں داخل ہونے سے روکنے کی منصوبہ بندی کی بلکہ آپ کے قتل کاپلان بھی تیار کرلیا۔بظاہر اپنا رستہ صاف کرنے کے لیے اُس نے کوفہ کے مفتی اور قاضی القضاۃ شریع کوسونے کی اشرفیوں کے لالچ میں حضرت حسین ؓکے خلاف قتل کا فتویٰ جاری کرنے پر بھی آمادہ کرلیا۔

جب یزید بن معاویہ نے آپ کی شہادت کا منصوبہ بنایا تو گورنر کوفہ عبیداللہ بن زیاد کو اس کام پر مامور کیا۔اس نے مفتی وقت، چیف جسٹس قاضی القضاۃ شریع کو طلب کرکے حضرت حسین ؓ کے واجب القتل ہونے کے فتویٰ کے لیے کہا۔ قاضی نے ایسا کرنے سے انکار کردیا تب گورنر کوفہ ابن زیاد نے اسی رات سونے کی چند تھیلیاں اس کے گھر بھجوادیں۔ صبح ہوتے ہی قاضی شریع نے کہا کہ میں نے رات اس پر بہت غور کیا ہے اور میں اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ’’حسین بن علی دین رسول ؐسے خارج ہوگیا ہے لہٰذا وہ واجب القتل ہے ‘‘چنانچہ اس نے قلم اٹھایا اور آپؓ کے قتل کا فتویٰ تحریر کردیا اور اس پر ایک سو قاضیوں اور مفتیوں نے مہریں لگائیں اور سر فہرست قاضی شریع کا نام تھا۔

(جواہر الکلام از حاجی مرزا حسن صفحہ88۔مطبع علمی تبریز ایران۔ بحوالہ الفضل ربوہ 16؍جنوری 2008ء)

حضرت حسین ؓنے آخری پڑائو کربلا کے مقام پر ڈالا۔ابن زیاد نے عمرو بن سعد بن ابی وقاص کو حضرت حسینؓ سے لڑنے کے لیے سردار لشکر بنایا اور اُسے رَے کی حکومت کا لالچ دے کر حضرت حسین ؓ کی نگرانی کے لیے روانہ کیا۔نیز حر بن یزید تمیمی کو علیحدہ طور پرایک ہزار فوج کے ساتھ بھیجا۔جب حضرت حسین ؓکا حر سے سامنا ہوا تو آپؓ نے آگے بڑھ کر حر سے کہا کہ میں تو تم لوگوں کے بلانے پر یہاں آیا ہوں۔ اگر تم لوگ اپنے عہد پر قائم ہو جو تم نے خطوط کے ذریعہ مجھ سے باندھا تھا تو میں شہر میں داخل ہوتا ہوں ورنہ واپس چلا جائوں گا۔ چنانچہ آپ واپسی کے ارادے سے مڑے تو حر کو ابن زیاد کا خوف دامن گیر ہوا،اس لیے وہ اپنی فوج کے ساتھ آپ کے سامنے کھڑا ہوگیا۔اس پرآپ نے شمال کی جانب سفر اختیارکیا جب قادسیہ کے مقام پر پہنچے تو معلوم ہوا کہ عمرو بن سعد ایک بڑی فوج کے ساتھ اس جگہ مقیم ہے۔آپ قادسیہ سے واپس ہوئے اور چند میل کے فاصلہ پر کربلا کے مقام پر پڑائو ڈال لیا۔ اگلے روز عمروبن سعد بھی اپنی فوج کے ساتھ کربلا پہنچ گیا۔ عمرو بن سعد نے حضرت حسین ؓ سے بات کرنے کے لیے آپ کو بلایااور کہا کہ ’’بیشک آپ یزید کے مقابلے میں زیادہ مستحق خلافت ہیں لیکن اللہ تعالیٰ کو یہ منظور نہیں کہ آپ کے خاندان میں حکومت وخلافت آئے۔ علی اور حسن (رضی اللہ عنہما) کے حالات آپ کے سامنے گزر چکے ہیں۔ اگر آپ اس سلطنت وحکومت کے خیال کو چھوڑ دیں تو بڑی آسانی سے آزاد ہوسکتے ہیں، نہیں تو پھر آپ کی جان کوخطرہ ہے اور ہم لوگ آپ کی گرفتاری پر مامور ہیں۔ ‘‘

(تاریخ اسلام جلد اوّل صفحہ 684۔مصنفہ اکبر شاہ نجیب آبادی۔ ناشردارالاندلس لاہور۔1426ھ)

اس پر حضرت حسین ؓ نے کسی قسم کے لڑائی جھگڑے کی بجائے صلح جوئی کی راہ اختیار کرتے ہوئے عمروبن سعد سے مطالبہ کیا کہ وہ آپ کی راہ میں رکاوٹ نہ بنے اور اس جگہ سے جانے دے۔آپ نے اس کے سامنے تین تجویزیں پیش کرتے ہوئے فرمایا:’’اول تو یہ کہ جس طرف سے میں آرہا ہوں، اسی طرف مجھے واپس جانے دو تاکہ میں مکہ مکرمہ میں پہنچ کر عبادت الٰہی میں مصروف رہوں۔ دوم یہ کہ مجھ کو کسی سرحد کی طرف نکل جانے دو کہ وہاں کفار کے ساتھ لڑتا ہوا شہید ہوجائوں۔ سوم یہ کہ تم میرے راستے سے ہٹ جائو اور مجھ کو سیدھا یزید کے پاس دمشق کی جانب جانے دو۔ میرے پیچھے پیچھے اپنے اطمینان کی غرض سے تم بھی چل سکتے ہو۔ میں یزید کے پاس جاکر براہ راست اس سے اپنا معاملہ اسی طرح طے کرلوں گا جیسا کہ میرے بڑے بھائی حسن نے امیر معاویہ سے طے کیا تھا۔‘‘

(تاریخ اسلام جلد اوّل صفحہ 685۔ناشر دارالاندلس لاہور۔1426ھ۔ البدایہ والنہایہ جلد ہشتم صفحہ 227)

حضرت حسین ؓکی تجاویز پرعمروبن سعد نے خوشی کا اظہار کیا اور آپ کو یقین دلایا کہ ابن زیاد ان تجاویز کو ضرور منظور کرلے گا۔ کیونکہ اس سے فتنے کا دروازہ بند ہوجائے گا۔ چنانچہ اس نے تمام کیفیت ابن زیاد کو لکھ بھیجی۔ ابن زیاد نے بھی ان تجاویز کو پسند کیا مگر شمر ذی الجوشن نے جو اس وقت اُس کے پاس موجود تھا اُسے مشورہ دیا کہ اگر یہ لوگ تمہاری اطاعت قبول نہیں کرتے تو انہیں کہیں مت جانے دے۔ کیونکہ اس طرح یزید کے سامنے تمہاری کچھ وقعت نہیں رہے گی۔اس پر ابن زیاد نے جواباًعمرو بن سعدکو تحریر کیاکہ’’یہ تینوں باتیں کسی طرح منظور نہیں ہوسکتیں۔ ہاں صرف ایک صورت قابل پذیر ائی ہے۔ وہ یہ کہ حسین اپنے آپ کو ہمارے سپرد کردیں اور یزید کی بیعت نیابتاً اول میرے ہاتھ پر کریں، پھر میں ان کو یزید کے پاس اپنے اہتمام سے روانہ کروں گا۔‘‘

(تاریخ اسلام جلد اوّل صفحہ 685۔ناشر دارالاندلس لاہور۔1426ھ)

حضرت حسین ؓنے اُس کی اطاعت سے انکار کرتے ہوئے فرمایا کہ ایسا کبھی نہیں ہوسکتا۔اب ابن زیادکو یہ فکر لاحق ہوئی کہ کہیں ابن سعد، حضرت حسین ؓ سے سازباز نہ کرلے۔ اس نے ایک چوب دار جویرہ بن تمیمی کے ہاتھ ایک خط ابن سعد کے نام روانہ کیا جس میں تحریر کیاکہ’’میں نے تم کو حسین بن علی (رضی اللہ عنہما) کی گرفتاری پر مامور کیا تھا۔ تمہارا فرض تھا کہ ان کو گرفتار کرکے میرے پاس لاتے یا گرفتار نہ کرسکتے تو ان کا سر کاٹ کر لاتے۔ میں نے تم کو یہ حکم نہیںدیاتھا کہ تم ان سے مصالحت اختیار کرکے دوستانہ تعلقات بڑھائو۔ اب تمہارے لیے بہتری یہی ہے کہ فوراً بلاتامل اس خط کو پڑھتے ہی یا تو حسین بن علی (رضی اللہ عنہما) کو میرے پاس لائو ورنہ جنگ کرکے ان کا سرکاٹ کر بھیجو۔ اگر ذرا بھی تامل تم سے سرزد ہوا تو میں نے اپنے سرہنگ کو جو یہ خط لے کر آرہا ہے، حکم دیا ہے کہ وہ تم کو گرفتار کرکے میرے پاس پہنچائے اور لشکر وہیں مقیم رہ کر دوسرے سردار کا منتظر رہے جس کو میں تمہاری جگہ مامور کرکے بھیجوں گا۔‘‘

(تاریخ اسلام جلد اوّل صفحہ 685۔مصنفہ اکبر شاہ نجیب آبادی۔ناشر دارالاندلس لاہور۔1426ھ )

ابن زیاد کا یہ خط جمعرات کے دن 9؍محرم الحرام 61ہجری کو ابن سعد کے پاس پہنچا۔ یہ خط پڑھتے ہی وہ گھوڑے پر سوار ہوا اور اُس نے لشکر کو تیاری کا حکم دیا اور خود آگے بڑھ کر حضرت حسین ؓسے کہا کہ ابن زیادکاحکم آیا ہے کہ اگر میں نے اس کے حکم کی تعمیل میں ذرا بھر دیر کی تو اُس کا قاصدفوراً مجھے گرفتار کرلے گا۔ حضرت حسین ؓ نے اُس سے کہا کہ تم مجھے کل تک مہلت دے کر کچھ سوچ لینے دو۔ ابن سعد نے جویرہ کی طرف دیکھا تو اس نے کہا کہ کل کچھ دور نہیں، اس قدر مہلت دے دینی چاہئے۔

جویرہ کو روانہ کرنے کے بعد ابن زیاد نے کچھ سوچ کر شمر ذی الجوشن کوبھی اس کے پیچھے بھیجتے ہوئے کہا کہ اگر عمرو بن سعد گرفتار ہوتو تم فوج کی کمان سنبھالو۔ شمر ذی الجوشن نے کہا کہ میری ایک شرط ہے وہ یہ کہ میری بہن ام البنین بنت حرام، علیؓ کی بیوی تھی جس کے بطن سے علیؓ کے چار بیٹے عبیداللہ، جعفر، عثمان اور عباس پیدا ہوئے۔ تم میرے چاروں بھانجوں کے لیے امان لکھ دو۔ عبیداللہ بن زیاد نے اسی وقت کاغذ منگواکر ان چاروں کے لیے امان نامہ لکھا اور اس پر مہر لگا کر شمر ذی الجوشن کے حوالے کردیا۔اب ابن زیاد کے حکم سے حضرت امام حسینؓ کے قافلے والوں کا پانی بھی بند کردیا گیا۔ انہوںنے دریا کے کنارے پانچ سو آدمیوں کا پہرہ بٹھادیا۔ حضرت حسین ؓنے اپنے بھائی عباس بن علی ؓ کو پچاس آدمیوں کے ہمراہ پانی لینے کے لیے بھیجا مگر ان ظالموں نے انہیں ایک گھونٹ پانی لینے نہ دیا۔

یہ صورت حال دیکھ کر آپؓ نے اپنے ساتھیوں کو بلایا اور انہیں کہا کہ دشمنوں کو صرف میری ذات سے دشمنی ہے۔ اس لیے بہتر ہے کہ تم لوگ یہاں سے چلے جائو۔انہیں تمہارے یہاں سے چلے جانے پر خوشی ہوگی۔اس لیے میں تم سب کو اجازت دیتا ہوںکہ اپنی اپنی جان بچالو۔ لیکن آپ کے ہمراہیوں نے کہا کہ ہم ہرگز ہرگز آپ کو اکیلا چھوڑ کر نہ جائیں گے۔ صبح ہونے پر مخالف لشکر نے صفیں درست کیں تو حضرت حسین ؓنے بھی اپنے ساتھیوں کو مناسب ہدایات دےکر متعین کیا۔ شمر ذی الجوشن نے اپنے بھانجوں عبیداللہ،جعفر، عثمان اور عباس کو میدان میں بلواکر کہا کہ امیرابن زیاد نے تم کو امان دے دی ہے۔ اُس کی بات سن کر انہوںنے کہا کہ ابن زیاد کی امان سے اللہ کی امان بہتر ہے۔ شمر ذی الجوشن اپنا سا منہ لے کر رہ گیا۔دونوں لشکروں کے صف آرا ء ہونے کے بعد حضرت امام حسین ؓنے کوفیوں کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا:’’لوگو! تم میں سے ہر ایک شخص جو مجھ سے واقف ہے اور ہر ایک وہ شخص بھی جو مجھ کو نہیں جانتا، اچھی طرح آگاہ ہوجائے کہ میں نبی اکرم ﷺ کا نواسہ اور علی (رضی اللہ عنہ ) کا بیٹا ہوں۔ فاطمہ (رضی اللہ عنہا) میری ماں اور جعفر طیار( رضی اللہ عنہ ) میرے چچا تھے۔ اس نسبتی فخر کے علاوہ مجھ کو یہ فخر بھی حاصل ہے کہ نبی اکرمﷺ نے مجھ کو اور میرے بھائی حسن ؓ کو جوانان اہل جنت کا سردار بتایا ہے۔ اگر تم کو میری بات کا یقین نہ ہوتو ابھی تک نبی اکرمﷺ کے بہت سے صحابی زندہ ہیں، تم ان سے میری اس بات کی تصدیق کرسکتے ہو۔ میں نے کبھی وعدہ خلافی نہیں کی، میں نے کبھی نماز قضا نہیں کی اور میں نے کسی مومن کا قتل نہ کیا، نہ آزار پہنچایا۔ اگر عیسیٰ ؑکا گدھا بھی باقی ہوتا تو تمام عیسائی قیامت تک اس گدھے کی پرورش اور نگہداشت میں مصروف رہتے۔ تم کیسے مسلمان اور کیسے امتی ہو کہ اپنے رسول ﷺکے نواسے کو قتل کرنا چاہتے ہو، نہ تم کو اللہ کا خوف ہے نہ رسول ﷺکی شرم ہے۔ میں نے جبکہ ساری عمر کسی شخص کو بھی قتل نہیں کیا تو ظاہر ہے کہ مجھ پر کسی کا قصاص بھی نہیں۔ پھر بتائو کہ تم نے میرے خون کو کس طرح حلال سمجھ لیا؟میں دنیا کے جھگڑوں سے آزاد ہوکر مدینہ میں نبی اکرم ﷺکے قدموں میں پڑا تھا۔ تم نے وہاں بھی مجھ کو نہ رہنے دیا۔ پھر مکہ مکرمہ کے اندر بیت اللہ میں مصروف عبادت تھا، تم کوفیوں نے مجھ کو وہاں بھی چین نہ لینے دیا اور میرے پاس مسلسل خطوط بھیجے کہ ہم تم کو امامت کا حقدار سمجھتے اور تمہارے ہاتھ پر بیعت خلافت کرنا چاہتے ہیں۔ جب تمہارے بلانے کے موافق میں یہاں آیا تو اب تم مجھ سے برگشتہ ہوگئے۔ اب بھی اگر تم میری مدد کرو تو میں صرف یہ چاہتا ہوں کہ مجھ کو قتل نہ کرو اور آزاد چھوڑ دو تاکہ میں مکہ یا مدینہ میں جاکر مصروف عبادت ہوجائوں اور اللہ تعالیٰ خود اس جہان میں فیصلہ کردے گا کہ کون حق پر تھا اور کون ظالم تھا۔ ‘‘

(تاریخ اسلام جلد اوّل صفحہ689تا690۔مصنفہ اکبر شاہ نجیب آبادی)

حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کی یہ تقریر سن کر تمام لوگ خاموش رہے اور کسی نے کوئی جواب نہ دیا۔تھوڑی دیر انتظار کے بعد آپ نے فرمایا کہ ’’اللہ کا شکر ہے کہ میں نے تم پر حجت پوری کردی اور تم کوئی عذر پیش نہیں کرسکتے۔‘‘ پھر آپ نے چند لوگوں کے نام لےکر ان سے پوچھا کہ کیا تم لوگوں نے مجھے بااصرار یہاں نہیں بلوایا تھا اور جب میں یہاں آیا ہوں تو تم مجھے قتل کرنا چاہتے ہو۔یہ سن کر ان لوگوں نے کہا کہ ہم نے آپ کو کوئی خط نہیں لکھا اور نہ آپ کو بلایا۔ آپ نے ان کے خطوط نکالے اور پڑھ کر سنائے۔ انہوں نے خطوط سن کہا کہ یہ خطوط ہم نے بھیجے یا نہ بھیجے مگر اب ہم علی الاعلان آپ سے بیزاری کا اظہار کرتے ہیں۔ یہ جواب سن کر حضرت حسین ؓاونٹ سے اُترے اور گھوڑے پر سوار ہوکر لڑائی کے لیے مستعد ہوگئے۔

شمر ذی الجوشن کے کہنے پر عمرو بن سعد نے لشکر حسین ؓ کی طرف تیر پھینک کر لڑائی کا آغاز کیا۔پھر کوفیوں کے لشکر سے دو آدمی مقابلے کے لیے نکلے،حضرت حسینؓ کی طرف سے ایک بہادر نے ان دونوں کو ٹھکانے لگادیا۔ کچھ دیر اسی طرح لڑائی ہوتی رہی۔ پھر آپؓ کے لشکر کے ایک ایک آدمی نے کوفیوں کی صفوں پر حملہ کرنا شروع کیا۔ آپ کے ساتھیوںنے آل ابی طالب کو اس وقت تک میدان میں نہ نکلنے دیا جب تک وہ ایک ایک کرکے شہید نہ ہوگئے۔ پھر مسلم بن عقیل کے بیٹوں نے سبقت کرتے ہوئے دشمن پر حملہ کیا۔ ان کے بعد حضرت حسینؓ کے بیٹے علی اکبر نے دشمنوںپر بہادرانہ حملے کیے اور بہت سے دشمنوں کو ہلاک کرنے کے بعد خود بھی شہید ہوگئے۔ اس کے بعد آپ کے بھائی عبداللہ، محمد، جعفر اور عثمان نے لڑائی میں باقاعدہ حصہ لیا اور دشمنوں کا نقصان کرنے کے بعد اپنی جان جانِ آفرین کے سپرد کردی۔ آخر میں حضرت حسین ؓ کے ایک نو عمر بیٹے محمد قاسم نے دشمنوں پر حملہ کیا اور وہ بھی شہید ہوگئے۔ حضرت حسینؓ کے لیے کربلا میں اپنی شہادت سے بڑھ کر یہ مصیبت تھی کہ انہوں نے اپنی آنکھوں سے اپنے بیٹوں اور بھائیوں کو شہید ہوتے دیکھا۔ آپؓ کے دکھوں میں یہ دکھ بھی شامل تھا کہ آپ کی بیٹیاں اور بہنیں تمام روح فرسا مناظر اپنی آنکھوں سے دیکھ رہی تھیں۔ خیمہ میں صرف عورتیں اور علی بن حسین المعروف زین العابدین موجود تھے جو اس وقت بیمار اور چھوٹے بچے تھے۔

حضرت حسین ؓ جب تنہا رہ گئے پھر بھی آپ بہت بہادری اور جوانمردی سے لڑتے رہے۔و وُجد بالحسین ثلاث و ثلاثون طعنۃ وأربع وثلاثون ضربۃ غیرالرمیۃ۔(الکَامل فی التَّاریخ،بیت الافکار الدّولیۃ،الاردن،صفحہ520)آپ کے جسم پر نیزے کے 33اور تلوار کے 34زخم لگے تھے۔اس کے علاوہ تیروں سے بھی متعدد زخم جسم مبارک کو لگے۔ پہلے آپ گھوڑے پرسوار تھے جب گھوڑا مارا گیا تو آپ نے پیدل لڑنا شروع کیا۔ دشمنوںمیں سے کوئی شخص بھی آپ کو اپنے ہاتھ سے قتل نہ کرنا چاہتا تھا۔بالآخر شمر ذی الجوشن نے چھ اشخاص کے ہمراہ آپ پر حملہ کیا۔ ان میں سے ایک کی تلوار سے آپؓ کا بایاں ہاتھ کٹ کر زمین پر جاپڑا۔ آپ نے جوابی وار کرنا چاہا لیکن آپ کا دایاں ہاتھ بھی بہت مجروح ہوچکا تھا اس لیے تلوار نہ اٹھا سکے۔ پھر سنان بن انس نخعی بدبخت نے آپ کو نیزہ مارا جو شکم سے پار ہوگیا۔ آپ زمین پر گر پڑے، اس نے نیزہ کھینچا تو اس کے ساتھ ہی آپ کی مبارک روح بھی پرواز کرگئی۔ انا للہ و انا الیہ راجعون۔ شمر یا اُس کے حکم سے کسی بدبخت نے حضرت حسین ؓ کا سر جسم سے جدا کردیا اور پھر ان ظالموں نے آپ کے جسم مبارک پر گھوڑے دوڑاکر اُسے خوب کچلوایا، پھر خیمے لُوٹے اور آپ کے اہل بیت کو گرفتار کرلیا۔

حضرت مسیح موعود علیہ السلام شہادت کے واقعہ کے متعلق فرماتے ہیں :’’ امام حسین کا مظلومانہ واقعہ خدائے تعالیٰ کی نظر میں بہت عظمت اور وقعت رکھتا ہے اور یہ واقعہ حضرت مسیح کے واقعہ سے ایسا ہمرنگ ہے کہ عیسائیوں کو بھی اس میں کلام نہیں ہوگی۔‘‘ (ازالہ اوہام، روحانی خزائن جلد 3صفحہ 136۔حاشیہ )

(جاری ہے)

(تصویر: https://en.wikipedia.org/wiki/Husayn_ibn_Ali)

٭…٭…٭

متعلقہ مضمون

رائے کا اظہار فرمائیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close