از مرکز

امیر المومنین حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے ساتھ ناصرات الاحمدیہ یوکے ساؤتھ کی (آن لائن) ملاقات

اپنے ذہن سے اپنے مذہب، اپنے عقائد، اپنی شخصیت اور اپنے خاندانی پس منظر کے حوالہ سے ہر طرح کا احساس کمتری مٹا دیں

26؍جون 2021ء کو امام جماعت احمدیہ عالمگیر حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے ناصرات الاحمدیہ کی ممبرات (بعمر13تا 15سال) کے ساتھ آن لائن ملاقات فرمائی۔

حضور انور اس ملاقات میں اپنے دفتر اسلام آباد (ٹلفورڈ) سے رونق افروز ہوئے جبکہ ناصرات الاحمدیہ کی 370ممبرات نے مسجد بیت الفتوح لندن سے شرکت کی۔

اس پروگرام کا آغاز تلاوت قرآن کریم سے ہوا، جس کے بعد ناصرات الاحمدیہ کی ممبرات کو حضورا نور سے چند سوالات پوچھنے کا موقع ملا۔

ایک ناصرہ نے حضور انور کی خدمت میں سوال کیا کہ جب اسلام عورتوں کو مساوی حقوق دیتا ہے تو پھر بعض معاشروں میں ایسا کیوں نہیں ہوتا۔

حضور انور نے فرمایا کہ ہم ہر معاشرے اور ملک کے ذمہ دار نہیں ہیں۔ اسلام کہتا ہے کہ مرد اور عورت برابر ہیں اور مسلمانوں کو عورتوں کے ساتھ برابری کا سلوک کرنا چاہیے۔ اسلام تعلیم دیتا ہے کہ وہ دونوں حقوق کی حد تک مساوی ہیں لیکن کچھ ایسے حقوق ہیں جن کا اطلاق مختلف طریق پر ہوتا ہے۔ لیکن اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ عورتوں کو ان کے حقوق سے محروم کیا جائے۔ اس لیے ایک حقیقی اسلامی معاشرے میں مردوں اور عورتوں، لڑکوں اور لڑکیوں کے ساتھ مساوی برتاؤ کیا جائے گا۔ جو ایسا نہیں کر رہے وہ اسلامی تعلیم پر عمل نہیں کر رہے۔

حضور انور نے مزید فرمایا کہ یہ آج کے دور کے معاشرے اور ترقی یافتہ دنیا کا دعویٰ ہے کہ وہ مردوں اور عورتوں کے ساتھ مساوی برتاؤ کرتے ہیں۔ لیکن نوکریوں کے معاملے میں مردوں اور عورتوں کے ساتھ مساوی سلو ک نہیں کیا جاتا۔ معاوضہ کے حوالہ سے، اگر مردوں اور عورتوں کو ایک جیسی نوکری دی جائے تو عورتوں کو مردوں کی نسبت کم معاوضہ دیا جاتا ہے۔ یہ امتیازی سلوک ہے اور اسلام ہرطرح کے امتیازی سلوک کے خلاف ہے۔

ایک اور ناصرہ نے حضور انور کی خدمت اقدس میں سوال کیا کہ ایسے معاشرے میں رہتے ہوئے جہاں وہ اپنے خیالات کے اظہار سے خوفزدہ ہو کہ کہیں لوگ اس کو بد تمیز یا پسماندہ نہ سمجھیں ، اپنے ایمان پر کیسے قائم رہا جا سکتا ہے۔

حضور انور نے فرمایا کہ پہلی چیز تو یہ ہے کہ آپ میں احساس کمتری نہیں ہونا چاہیے۔ اگر آپ اسلام پر ایمان لائی ہیں اور آپ کا خیال ہے کہ آپ کا مذہب ہی سچا مذہب ہے اور یہ جملہ مذاہب میں آخری مذہب ہے اور ایسا کامل مذہب ہے جس میں سابقہ انبیاء کی جملہ اچھی تعلیمات یکجا کردی گئی ہیں، تو پھر کوئی احساس کمتری نہیں ہونا چاہیے۔ دوسرے ایسے لوگ جو محض دنیاوی لوگ ہیں اور آپ کے مذہبی امور کے بارے میں سننا ہی نہیں چاہتے، انہیں سننے پر کیوں مجبور کیا جائے؟ کچھ اچھے لوگ تلاش کریں، ان سے ہلکی پھلکی بات کریں اور جب آپ کو لگے کہ وہ خدا، مذہب اور عقائد کے بارے میں بات سننے کو تیار ہیں تو پھر آپ انہیں اسلام کی حقیقی تعلیم سے روشناس کروائیں۔

حضور انور نے نصیحت کرتے ہوئے فرمایا کہ کبھی بھی بلا توقف یہ نہ کہیں کہ اسلام ہی سب سے اعلیٰ مذہب ہے اور دیگر مذاہب سے بہتر ہے۔ اگرچہ ہم اسلام کی بالا دستی کا ثبوت فراہم کر سکتے ہیں لیکن دوسروں کو براہ راست یہ بات بتاکر پریشان کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ جب وہ آپ سے مذہب کے بارے میں بات کرنا چاہیں، تو پھر آپ انہیں اسلام کے حق میں ثبوت دے سکتی ہیں۔ انہیں مذہب اور ہستی باری تعالیٰ اور انبیاء علیہم السلام کے متعلق اپنے عقائد بتائیں۔ پھر آہستہ آہستہ سے اور حکمت کے ساتھ اور دوستانہ ماحول میں آپ ان سے بات کر سکتی ہیں اور وہ آپ کی بات سنیں گے۔ بصورت دیگر اگر آپ بے باک ہوں گی تو یقینی طور پر وہ آ پ کو بد تمیز اور پسماندہ ہی کہیں گے۔ اس لیے بے باک ہونے کی بجائے حکمت سے کام لیں۔

ایک ناصرہ نے حضور انور سے دریافت کیا کہ اگر اس کی کلاس فیلوز کی طرف سے سکول میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو گالیاں دی جا رہی ہوں اور آپ کی طبعی وفات کے بارے میں جھوٹے الزامات لگائے جا رہے ہوں تو کیا کرنا چاہیے۔

حضورِ انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا کہ مخالف اسی طرح کیا کرتے ہیں۔ آپ ان سے پوچھیں کہ انہیں کس طرح علم ہوا؟ انہیں بتائیں کہ میں اپنے بارے میں، اپنے والدین کے بارے میں، اپنے بہن بھائیوں کے بارے میں اور چاہنے والوں کے بارے میں آپ سے زیادہ جانتی ہوں۔ تم یہ کس طرح کہہ سکتے ہو کہ تم ان کے بارے میں مجھ سے زیادہ جانتے ہو؟ تو ہمیں اس طرح سے رویہ اختیار کرنے کا کہا گیاہے، اس لیے جیسا وہ پسند کریں انہیں کرنے دو۔ ان کے اخلاق ان کے ساتھ ہیں۔

حضور انور نے مزید فرمایا کہ یہ ایسے لوگ ہیں جو ہر وقت ناگوار باتوں اور گالیوں سے کام لیتے ہیں۔ کیا انہوں نے احمدیوں کے بارے میں پاکستان میں یہ قانون نہیں بنایا کہ احمدی مسلمان، مسلمان نہیں ہیں؟ پھر ان سے آپ کو مزید کیا امید ہے؟ اس لیے پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔ آپ کو اپنے مذہب کی تاریخ کا علم ہونا چاہیے پھر آپ کو پتہ ہوگاکہ وہ جھوٹ بول ر ہے ہیں۔ اور کسی بھی احساس کمتری کے بغیر آپ ان کو بتا سکتی ہیں کہ وہ جو بھی کہ رہے ہیں وہ جھوٹ ہے اور ان کے ملاؤں کی من گھڑت کہانی ہے۔

ایک اور ناصرہ نے حضورِ انور سے سوال کیا کہ بسااوقات چھوٹے بچے اپنے والدین کی کسی نصیحت پر عمل نہیں کرتے اور بعد میں احساس ہوتا ہے کہ وہ بات ان کے فائدہ میں تھی، تو ایسی غلطیوں سے بچنے کے لیے انہیں کیا کرنا چاہیے؟

حضور انور نے فرمایا کہ جب آپ خود ماں باپ بنتے ہیں تو پھر آپ کو پتہ چلتا ہے کہ یہ آپ کے فائدے کی بات تھی۔ کسی بھی فیصلہ میں جلدی نہ کریں۔ جب آپ اپنے والدین سے کچھ سنیں تو فوری طور پر اکتاہٹ کا اظہار کرنے کی بجائے اور اس کا انکار کرنے کی بجائے، آ پ کو اس بارے میں سوچنا اور غور کرنا چاہیے کہ وہ کیا کہہ رہے ہیں۔ اور اپنے آپ سے سوال کرنا چاہیے کہ جو وہ کہہ رہے ہیں وہ آپ کے فائدے میں ہے یا نقصان میں۔اس لیے عقلمند ہوتے ہوئے اور بالغ ہوتے ہوئے، جیساکہ اب آپ کی عمر 12، 13 ، 14 یا 15 سال کی ہے تو آپ کو اپنے والدین کی نصیحت کے فوائد اور بات نہ ماننے کے نقصانات کا پتہ ہونا چاہیے۔ اگر آ پ کو اس نصیحت کے بارے میں کوئی شک ہے تو آپ اپنے والدین سے دوبارہ پوچھ سکتی ہیں اور یہ آپ کے والدین کی ڈیوٹی ہے کہ وہ آپ کو تفصیل سے آگاہ کریں۔

حضور انور نے مزید فرمایا کہ آپ کو کوئی بھی کام کرنے سے پہلے دو مرتبہ سوچنا چاہیے اور اسی طرح انکار کرنے سے پہلے بھی۔ تحمل سے کام لیں اور اللہ سے دعا کریں کہ مجھے سمجھ نہیں آرہی کہ وہ کیا کہہ رہے ہیں، اس لیے اگر یہ بات کسی طرح سے بھی میرے فائدہ میں ہے تو مجھے اس کا فہم عطا فرما اور اس پر عمل کی توفیق دے۔ اس طرح سے آپ میں بہتری آسکتی ہے۔ ہر کام سے پہلے دو مرتبہ سوچیں اور فیصلہ کرنے سے پہلے اللہ تعالیٰ سے دعا کریں۔

ایک اور ممبر نے سوال پوچھا کہ دماغی صحت کے لیے کون سی دعائیں فائدہ مند ہیں خاص کر جب آپ کو معاشرے کی طرف سے دباؤ اور امیدوں کا سامنا ہو۔

حضور انور نے فرمایا کہ پہلی بات تو یہ ہے کہ اپنے ذہن سے اپنے مذہب، اپنے عقائد، اپنی شخصیت اور اپنے خاندانی پس منظر کے حوالہ سے ہر طرح کا احساس کمتری مٹا دیں۔ اپنی ذات میں خود اعتمادی پیدا کریں۔ پھر اپنی پنجوقتہ نمازوں میں اللہ تعالیٰ کے حضور دعا بھی کریں۔ ایک سجدہ اس مقصد کے لیے مختص کردیںکہ اللہ تعالیٰ آپ کو عصر حاضر کے معاشرے کی برائیوں سے بچنے کی طاقت عطا کرے۔ تو بہترین طریقہ تو یہی ہے کہ اپنی پنجوقتہ نمازوں میں دعا کریں۔

حضور انور نے مزید فرمایا کہ اپنی صحتیابی کے لیے دعا، ایک سجدہ یا ایک یا دو رکعتیں مختص کریں۔ پھر اللہ تعالیٰ آپ کی راہنمائی فرمائے گا پھر اس کےعلاوہ درود شریف پڑھیں اور یہ دعا لَا حَوْلَ وَلَا قُوّۃَ اِلَّا بِاللّٰہِ الْعَلِیِّ الْعَظِیْمِ بھی جس قدر ہو سکے ضرور پڑھیں۔ اس دعا کا ترجمہ یاد کریں اور پھر پڑھیں۔ پھر استغفار بھی کثرت سے کریں۔ اس کے گہرے معانی سمجھنے کی کوشش کریں۔ یہ آپ کو بری چیزوں سے بھی بچائے گی اور آپ میں خود اعتمادی بھی پیدا ہوگی۔

ایک بچی نے بتایا کہ نسل پرستی تو عام ہو چکی ہے اور حضور انور سے دریافت کیا کہ نسل پرستی سے کس طرح نپٹا جائے۔

حضور انور نے فرمایا کہ نسل پرستی پیدا کیوں ہوئی ہے؟ جب آپ تالی بجاتی ہیں تو ایک ہاتھ سے نہیں بجتی، آپ کو دونوں ہاتھ استعمال کرنے پڑتے ہیں۔ اس لیے دونوں طرف خامیاں ہیں۔ بعض مہاجرین جو مغربی ممالک کی طرف آتے ہیں وہ اس معاشرے میں آکر integrate نہیں ہوتے اور اس سے ہٹ کر بہت سے ایسے ہیں جو کام بھی نہیں کرتے۔ یا اگر وہ کام بھی کرتے ہیں تو ٹیکس ادا نہیں کرتے اور خود کو مقامی لوگوں سے الگ رکھتے ہیں۔ جب مقامی باشندے دیکھتے ہیں کہ یہ معاشرے کا حصہ نہیں بن رہے جبکہ یہ گورنمنٹ سے benefits بھی حاصل کر رہے ہیں جو ان مقامی لوگوں کے ٹیکسز سے ادا ہوتے ہیں تو یہ بات انہیں غصہ دلاتی ہے۔ اور ایسے لیڈرز جو مہاجرین کے لیے نفرت رکھتے ہیں وہ عوام الناس کو ان کے خلاف اکساتے ہیں۔ اسی لیے نسل پرستی بڑھ رہی ہے۔

حضور انور نے مزید فرمایا کہ اگر مہاجرین خود کو لوکل معاشرے کے ساتھ integrateکرنے کی کوشش کریں تو وہ مقامی لوگوں کے شبہات دور کر سکتے ہیں۔ Integration کا یہ مطلب نہیں ہے کہ آپ مقامی لوگوں کی طرح کا لباس پہنیں یا کلبز میں جائیں یا الکوحل والے مشروبات پینا شروع کر دیں۔ نہ ہی اس کا یہ مطلب ہے کہ آپ ان کے کلبز میں جا کرڈانس کریں۔ نہ ہی اس کا یہ مطلب ہے کہ آپ اپنے اخلاق سے ہاتھ دھو بیٹھیں۔ اگر مقامی لوگوں کو یہ یقین دہانی ہوجائے کہ مہاجرین ان کے لیے مفید وجود ہیں اور وہ ملک کی بہتری کے لیے سرگرم ہیں اور ملک کی اقتصادی ترقی میں اپنا حصہ ڈال رہے ہیں تو وہ ایسے سوال نہیں اٹھائیں گے۔ پھر جب ہم مقامی لوگوں سے بات چیت کریں تو ہم ان کے شبہات کو دور کرسکتے ہیں۔

احمدی مسلمانوں کے اپنے عقائد کے حوالہ سے (مقامی لوگوں کو) آگاہ کرنے اور مہاجرین کی مثبت شرکت جو نسل پرستی پر قابو پانے میں مددگار ہو سکتی ہے کے بارے میں حضورِ انور نے فرمایا کہ اپنی سہیلیوں کو بتاؤ کہ ہم ملک کا حصہ بننا چاہتے ہیں اور انہیں بتاؤ کہ یہ ہمارا ایمان ہے کہ جس ملک میں ہم رہ رہے ہیں وہی ہمارا وطن ہے اور یہ آنحضرت ﷺ کی حدیث ہے کہ وطن کی محبت جزوِ ایمان ہے۔ اس لیے ہم اپنے ملک سے پیار کرتے ہیں۔ اس لیے آ پ کو محنت کرنی ہوگی اور اور ہر بات کی تفصیل اپنے ساتھ پڑھنے والوں کو بتانی چاہیے۔ ان کے ساتھ مل جل کر رہیں لیکن یہ بات ذہن میں رہے کہ اپنے اخلاق، اپنی تعلیمات اور اپنا ایمان کبھی ہاتھ سے نہیں دینا۔

ناصرات الاحمدیہ کے تاثرات

ناصرات الاحمدیہ نے حضور انور سے ملاقات کے بارے میں اپنے تاثرات کا اظہار یوں کیا۔

عزیزہ آشیتا صاحبہ جن کا تعلق Morden Hall Park سے ہے، نے اپنے جذبات کا ا ظہار یوں کیا کہ مجھے یہ کلاس بہت معلوماتی لگی اور میں نے حضور انور سے بہت سی نئی چیزیں سیکھیں۔

عزیزہ رمائصہ جن کا تعلق Baitul Futuh جماعت سے ہے، نے بتایاکہ میرے خیال سے یہ ملاقات بہت اچھی رہی اور مجھے بہت مزہ آیا۔ کلاس میں آنے سے پہلے، میرے ذہن میں چند سوالات تھے اور ان سب کے جوابات مل گئے۔

عزیزہ راحیلہ جن کا تعلق Thornton Heath جماعت سے ہے، نے بیان کیا کہ میں نے اس ملاقات سے واقعتاً بہت حظ اٹھایا، اس بار بہت سے سوالات پوچھے گئے جس کا دائرہ اس قدر وسیع تھا کہ مذہب سے لے کر روزمرہ زندگی کے معاملات تک سب شامل تھے جیسے کہ سبزیاں اگانے کا طریقہ وغیرہ۔ اس لیے میرے لیے یہ کلاس بہت مزے کی تھی اور اس قدر متنوع تھی کہ ہر کسی کے لیے لطف اندوز ہونے کا سامان تھا۔ میں نےایک نئی بات یہ سیکھی کہ آپ نیم کے پتوں کو بطور کیڑے مار دوائی کے استعمال کرکے اس سے سبزیاں دھو سکتے ہیں۔

عزیزہ شافعہ جن کا تعلق Morden Hall Park سے ہے، نے کہا کہ میں اس کلاس سے بہت محظوظ ہوئی اور اس سے بہت کچھ سیکھا۔ میرا خیال ہے کہ بہت سے سوالات پوچھے گئے جو ہر ایک کے ذہن میں بالعموم ہوتے ہیں۔ سکول کے بارے میں جو سوا ل ہوئے اور جب لوگ آ پ سے کلاس میں سوال کرتے ہیں تو مجھے لگتا ہے کہ اب حضور انور کی راہنمائی اور عطا فرمودہ علم کے بعد میں ان سوالات کے جوابات دے سکتی ہوں۔

عزیزہ ماریہ احمد رانا جن کا تعلق بیت الفتوح سے ہے، نے اپنے جذبات کا اظہار یوں کیا کہ میں نے اس ملاقات سے بہت کچھ سیکھا، خاص طور پر تبلیغ کے بارے میں کیے گئے سوالات سے اور احمدیت کے بارے میں کیے جانے والے سوالات کے جواب کے حوالہ سے۔ میری ہمت میں بھرپور اضافہ ہوا جب حضور انور نے فرمایا کہ سب کو اپنی احساس کمتری دور کرنا چاہیے اور اپنے عقائد بیان کرنے کے حوالہ سے بھرپور اعتماد کا اظہار کرنا چاہیے۔

عزیزہ رامین مرزا جن کا تعلق South Cheam سے ہے، نے بتایا کہ سارا پروگرام ہی بہت اچھا تھا اور میرے خیال سے بہت منظم رنگ میں منعقد ہوا۔ سوالات دلچسپ تھے اور حضور انور نے بصیرت افروز جوابات عطا فرمائے۔ کوووڈ 19 کی وجہ سے لگائی گئی پابندیوں اور احتیاطوں کا بھی بھرپور خیال رکھا گیا تھا۔

عزیزہ فریحہ ہاشمی جن کا تعلق Carshalton جماعت سے ہے، نے اظہار کیا کہ آج کی مجلس سوال و جواب نے میرے سب سوالات کا جواب فراہم کردیا اور یہ بہت مفید ثابت ہوئی۔ میں ان(ہدایات) کواپنی روزمرہ زندگی میں لاگو کر سکتی ہوں اور اپنی روزمرہ ضروریات کے بارے میں راہنمائی حاصل کر سکتی ہوں۔

عزیزہ شرینہ جاوید جن کا تعلق Richmond Park سے ہے، نے کہا کہ آج حضور انور نے علم و عرفان کے سمندر بہا دیے۔

عزیزہ علینہ احمد جن کا تعلق Southfields سے ہے، نے اپنے جذبات کا اظہار یوں کیا کہ یہ (کلاس) بہت دلچسپ تھی کیونکہ بہت سے سوالات جن کا تعلق بہت سے لوگوں سے تھا کے جوابات دیے گئے اور سب حاضرین نے بہت دلچسپی کا اظہار کیا۔ یہ کلاس بہت دلچسپ تھی اور مجھے حضور انور کے جوابات سے بہت علم حاصل ہوا۔

عزیزہ صبا قیصر جن کا تعلق Hounslow South سےہے ، نے کہا کہ مجھے سوال پوچھنے کا موقع ملا اور یہ ایک خوش قسمتی کا موقع تھا اور گھبراہٹ بھی تھی لیکن بہت سپیشل بھی تھا۔ یقینی طور پر یہ دن میری زندگی کے سب سے پسندیدہ دنوں میں سے تھا۔

عزیزہ صالحہ صدیقہ جن کا تعلق Roehampton Vale سے ہے، نے بتایا کہ میں حضور انور کے ساتھ کلاس سے بہت محظوظ ہوئی، ماشاء اللہ حضور مسکرا رہے تھے اور دوران کلاس تبسم فرماتے رہے۔ اس بات نے مجھے بہت خوشی پہنچائی اور کلاس سے بہت کچھ سیکھنے کو ملا۔ اس وبا کی وجہ سے ایک سال کے بعد حضور انور کو دیکھنے کا موقع میسر آنا بہت سپیشل احساس تھا اور صرف حضور انور کو دیکھنا، آپ سے باتیں کرنا اور گفت و شنید کا میرے پر بہت گہرا اثر ہوا۔

ماہین محمود جن کا تعلق Merton جماعت سے ہے، نے کہا کہ میں اس کلاس سے بہت لطف اندوز ہوئی ہوںاگرچہ ہم حضورِ کے سامنے بیٹھے حاضرین والے کمرے میں نہ تھے۔ ایک طویل عرصہ کے بعد، دیگر ناصرات کے ساتھ اکٹھے بیٹھنے نے ہمیں باہم پھر سے جوڑ دیا اس لیے میں اس ماحول سے خوب محظوظ ہوئی ہوں۔

عزیزہ شافعہ کامران جن کا تعلق Roehampton سے ہے نے کہا کہ میں نے اس آن لائن کلاس سے بہت لطف اٹھایا۔ میں نے حضور انور سے ایک سوال پوچھا اور آپ نے بہت بصیرت افروز جواب عطا فرمایا۔ اس کلاس میں شمولیت میری خوش قسمتی تھی۔

عزیزہ کافیہ فاروق جن کا تعلق Deer Park جماعت سے ہے، نے اپنے جذبات کا اظہار یوں کیا کہ مجھے اس تجربہ سے بہت خوشی ہوئی کیونکہ ایسا محسوس ہوتا تھا کہ حضورانور ہمارے سامنے تشریف فرما ہیں اگرچہ یہ ایک آن لائن کلاس تھی۔ مجھے محسوس ہوا کہ یہ کلاس بہترین انتظامات کی ایک اعلیٰ مثال تھی۔

عزیزہ کاشفہ سہیل جن کا تعلق Farnham جماعت سے ہے، نے کہا کہ یہ ایک نہایت دلچسپ کلاس تھی۔ اگرچہ ہم حضور انور کے سامنے نہیں بیٹھے تھے تاہم باہمی گفتگو کا معیار نہایت اعلیٰ تھا اور ہر کسی کو اپنی مرضی سے سوال پوچھنے کی اجازت تھی۔ حضور انورنے متعدد سوالات کے جواب عطا فرمائے اور میرے لیے اس دن کو ایک یادگار دن بنا دیا۔

عزیزہ طوبیٰ شیخ جن کا تعلق Sutton جماعت سے ہے، نے اپنے تاثرات میں کہا کہ یہ ایک بہت اچھی تقریب تھی۔ اور مجلس سوال و جواب بھی بہت دلچسپ تھی۔ اگرچہ میں نے کوئی سوال نہیں پوچھا تاہم جو سوالات پوچھے گئے وہ بہت دلچسپی کے حامل تھے۔

عزیزہ فردوس ادریس جن کا تعلق Clapham جماعت سے ہے، نے کہا کہ آج کے دن میری خوش قسمتی ہے کہ مجھے تلاوت کا موقع ملا۔ شروع میں مجھے گھبراہٹ تھی تاہم تلاوت کے بعد پر سکون ہو گئی۔ حضور انور کو اس قدر طویل عرصہ کے بعد دیکھ کر بے حد خوشی ہوئی۔ اگرچہ یہ ذاتی ملاقات نہ تھی تاہم میں بے حد محظوظ ہوئی۔

عزیزہ صبیحہ خلعت چیمہ جو نیشنل ناصرات ٹیم کی ممبر تھیں، انہوں نے اپنے جذبات کا اظہار یوں کیا کہ حضرت امیرالمومنین، حضور انور سے آن لائن ملاقات کا تجربہ کسی معجزہ سے کم نہیں تھا۔ کسی بھی ایسی مجلس میں شامل ہونا جس میں ہمارے پیارے امام رونق افروز ہوں ہمیشہ میرے دل کو اللہ تعالیٰ کے شکر کے جذبات سے بھر دیتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں ایسی قیادت اور راہنمائی سے نوازا ہے جو پوری دنیا میں کسی اَور کو نصیب نہیں ہے۔

ایسے وقت میں جب دنیا بھر کے احمدی دن رات یہ دعائیں کر رہے ہیں کہ انہیں پھر سے حضورِ انور کا قرب نصیب ہو، مجھے یہ سعادت ملی کہ براہ راست حاضرین مجلس میں بیٹھ کر حضورِ انور کے فہم وا دراک سے علم حاصل کروں، جہاں نوجوان بچیوں کو اپنی پریشانیاں اور علم کی تشنگی سوالات کی صورت میں بیان کرنے کا موقع ملا، مجھے احساس ہوا کہ یہ محض حضورِ انور کے جوابات ہی نہیں تھے بلکہ بچیوں کے لیے حضور انور کی شفقت اور حوصلہ افزائی بھی تھی تاکہ وہ نوجوان احمدی ناصرات ہونے میں فخر محسوس کریں۔

عزیزہ فوزیہ محمود جو ناصرات کی نیشنل ٹیم میں شامل ہیں، نے اظہار کیا کہ دنیا بھر سے آن لائن ملاقاتوں کے کلپس(clips) دیکھنے کے بعد میں بے چینی سے ہماری ناصرات کی ملاقات کے لیے بیتاب تھی۔ اور جب وہ دن آیا تو اس دن گھبراہٹ، اعصابی تناؤ اور خوشی کے ملے جلے جذبات تھے۔

یہ آن لائن ملاقات تھی اور ناصرات بہت بے چینی سے حضور انور کی تشریف آوری کے انتظار میں تھیں۔ ملاقات کے شروع ہونے سے چند لمحات قبل میں نے محسوس کیاکہ وہی ہال جو آوازوں سے گونج رہا تھا اور زندگی کی رونق پورے آب و تاب پر تھی وہاں اچانک حضور انور کی تشریف آوری سے مکمل خاموشی چھا گئی۔ پھر حضور کا مسکراتا ہوا چہرہ سکرین پر دکھائی دیتے ہی پوری مجلس پرسحر طاری ہوگیا۔ آن لائن ملاقات ہونے کے باوجود حضور انور کا ہر کسی سے گفتگو فرمانا، باہمی سوال و جواب اور حضور انور کی موجودگی سے انتشار روحانیت محسوس کیا جا سکتا تھا۔

حضور انور نے نہایت تحمل سے بچیوں کو سوالات کے جوابات سے نوازا، اور جس قدر تفصیل بیان ہو سکتی تھی بیان فرمائی۔ یقینی طور پر جوابات سے نوازتے ہوئے حضور انور از راہ تفنن شفقت کا اظہار فرماتے رہے۔

حضور انور اور ناصرات کے درمیان تعلق اور اپنائیت کا اظہار خوب عیاں تھا، جس کو بعد ازاں ٹی وی پر دیکھتے ہوئے محسوس کرنا ناممکن ہے۔ یہ ایسی چیز ہے جو اس موقع پر محسوس کی جا سکتی تھی۔ اس ملاقات کا حصہ بننا ایک ایسی سعادت تھی اور حقیقی خوشی کے ایسے لمحات تھے کہ گویا اردگرد کی دنیا تھم سی گئی ہو۔

میں بہت خوش قسمت ہوں کہ اس کامیاب تقریب میں شامل ہوئی اور اس دن پر ہمیشہ خوشی مناؤں گی۔ سب سے پہلی چیز جو میں نے ملاقات کے فوراً بعد کی وہ یہ تھی کہ میں نے اپنی فیملی کو ساری تفصیلات سے آگاہ کیا تاکہ یہ یادیں ہمیشہ کے لیے مجھے ذہن نشین ہوجائیں۔

جیساکہ آپ ناصرات کے تاثرات سے دیکھ سکتے ہیں، وہ یقینی طور پر اس دن کو ہمیشہ یاد رکھیں گی۔ اس میں کوئی شک نہیں ، انشاء اللہ۔ ناصرف شاملین مجلس بلکہ وہ بھی جو بعد میں ٹی وی پر اس پروگرام کو دیکھیں گے اور حضور انور کے جوابات کو سنیں گے ، وہ علم کے موتی لے کر اٹھیں گے اور دنیا کا سامنا ایک غیر معمولی عزم اور تازہ جوش کے ساتھ کریں گے۔

ان کا اعتماد انہیں اس قابل بنا دے گا کہ وہ سر اٹھا کر چلیں یہ جانتے ہوئے کہ وہ حضرت خلیفۃ المسیح کی ڈھال کے پیچھے ہیں اور انہیں لیڈر بننا ہے نہ کہ محض پیچھے چلنے والے۔

مکرمہ متین بھٹی صاحبہ، نیشنل سیکرٹری ناصرات نے بتایا کہ بطور نیشنل سیکرٹری ناصرات میرے لیے اس ملاقات کے جذبات کو بیان کرنا نا ممکن ہے۔ میں حضورِانور کی ناصرات کے لیے محبت دیکھ کر مسحور تھی جو سکرین کی شعاعوں کے ساتھ منور ہورہی تھی اور ہر ناصرہ کے دل میں اتر رہی تھی۔

حضور انور نے ہر ناصرہ کے سوال کا تسلی بخش جواب عطا فرمایا، جو حیران کن بات ہے۔ اتنی محبت اور شفقت! دوران ملاقات، میری آنکھوں سے آنسو رواں تھے۔ میں مستقل درود پڑھ رہی تھی۔ وہ دعائیں جو 1400سال قبل آنحضورﷺ نے آنے والے موعود مسیح و مہدی کی جماعت کے لیے کی تھیں، وہ آج حضرت امیر المومنین کے وجود سے پوری ہو رہی تھیں۔

اس ملاقات کی برکت سے ایسی ناصرات جن کو سکول اور گھر میں کچھ مسائل کا سامنا تھا، حضور نے ان کو ایک لائحہ عمل عطا فرمایا۔ کئی مرتبہ ناصرات کے ذہنوں میں الجھاؤ ہوتا ہے یا خاص معاملات یا عناوین کے بارے میں ذہن میں یکسوئی نہیں ہوتی جو سکول، گھر اورسوشل میڈیا پر چل رہے ہوتے ہیں، جن میں مساوات، دوستی، احساس کمتری یا برتری اور والدین کی اطاعت وغیرہ شامل ہیں۔

ایسے سوالات کے حضور انور نے سادہ اور عام فہم جوابات عطا فرمائے کہ ہر کوئی محسوس کر سکتا تھا کہ ناصرات نے آسانی سے انہیں سمجھ لیا۔ در اصل یہی بات ہے جو ان کے تاثرات سے عیاں ہے۔ اکثر ناصرات اس خوش قسمت ملاقات کو یاد رکھیں گی اور اس سے مستفید ہوتی رہیں گی۔

انشاء اللہ، ہم امید رکھتے ہیںکہ ہم حضورِ انور کے بیان فرمودہ ہر جواب کو اپنی مجالس میں زیر بحث لائیں گے اور حضورِ انور کی بیان فرمودہ راہنمائی پر روزمرہ زندگی میں عمل پیرا ہونے کے بعد اپنے تجربات دوسروں کے ساتھ شیئر کریں گے۔ انشاء اللہ ناصرات اپنے تجربات کو بھی ضبطِ تحریر میں لائیں گی جو دوسروں کے ایمان و ایقان میں اضافے کا باعث ہو گا اور ایک ایسی دنیا میں جہاں ہر چیز الجھن کا شکار ہے دوسروں کے لیے سوچ بچار کی شاہراہ وضع ہوگی۔

مجھے یقین ہے کہ اس تقریب نے ان ناصرات کو خلافت کے زیادہ قریب کر دیا ہے اور جب دنیا بھر کی جماعتوں کی ناصرات اس ملاقات کو دیکھیں گی یا پڑھیں گی تو وہ بھی بالکل ایسا ہی محسوس کریں گی جیساکہ ہماری ناصرات محسوس کر رہی تھیں، جو وہاں موجود تھیں۔

اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ انشاء اللہ دنیا بھر کی ناصرات اس ملاقات سے نیا نقطہ نظر حاصل کریں گی، جو انہیں خود اعتمادی میں بڑھائے گا کہ ان کی سب سے پہلی پہچان بطور احمدی بچی کے ہے اور سب سے بڑھ کر یہ کہ انہیں حضرت خلیفۃ المسیح کی محبت اور شفقت حاصل ہے۔

یقیناً حضور ا نور نے انہیں ایک احمدی بچی ہونے کے حوالہ سے ایک اعلیٰ مقام کا ادراک بخشا ہے، خاص طور پر ان کی احساس کمتری کو دور کرتے ہوئے جو ایک تیز رفتار، بدلتی ہوئی اور الجھن میں پڑی ہوئی دنیا میں کثرت سے پھیل رہی ہے۔

اللہ تعالیٰ پیارے حضور کو صحت و سلامتی اور جماعت کے حق میں اعلیٰ کامیابیوں سے نوازتا چلا جائے۔ آمین

٭…٭…٭

متعلقہ مضمون

رائے کا اظہار فرمائیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close