حضرت مصلح موعود ؓمتفرق مضامین

اطاعت و ادب خلافت از روئے ارشادات حضرت مصلح موعودؓ (قسط دوم۔آخری)

(ظہیر احمد طاہر ابن نذیر احمد خادم۔جرمنی)

جب ہم زندگی کے ہر معاملہ میں خلیفہ وقت کے مشورے اور اۤپ کی ہدایات پر عمل کریں گے تو اُن میں خارق عادت برکت پڑے گی

حضرت خلیفۃ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ نے ایک خطبہ جمعہ میں اطاعت کے مضمون کو بیان کرتے ہوئے انگریز فوج کے ایک افسر کی اطاعت کا واقعہ بیان کرتے ہوئے فرمایا:

’’بیلا کلاوا کی جنگ ایک نہایت مشہور جنگ ہے۔ اس میں انگریزوںکو روسی فوج کا مقابلہ کرنا پڑا۔ایک دن جنگ کی حالت میں اطلاع ملی کہ روسی فوج کا ایک دستہ حملہ کے لیے اۤرہا ہے اور اُس میں اۤٹھ نو سَو کے قریب اۤدمی ہیں ۔ اس اطلاع کے اۤنے پر انگریز کمانڈر نے ماتحت افسر کو حکم دیا کہ تم اپنی فوج کا ایک دستہ لے کر مقابلے کے لیے جاؤ۔ اس افسر کو اطلاع مل چکی تھی کہ روسی دستہ اۤنے کی اطلاع غلط ہے اصل میں روسی فوج اۤرہی ہے جو ایک لاکھ کے قریب ہے۔ جب انگریز کمانڈر نے حکم دیا کہ ایک دستہ لے کر مقابلے کےلیے جاؤ تو اُس افسر نے کہا یہ خبر صحیح نہیں ایک لاکھ فوج اۤرہی ہے اور اُس کا مقابلہ ایک دستہ نہیں کرسکتا۔ انگریز کمانڈر نے کہا مجھے صحیح اطلاع ملی ہے تمہارا کام یہ ہے کہ اطاعت کرو۔ وہ سات اۤٹھ سَو کا دستہ لے کر مقابلہ کے لیے چل پڑا لیکن جب قریب پہنچا تو معلوم ہوا کہ حقیقت میں ایک لاکھ کے قریب دشمن کی فوج ہے۔بعض ماتحتوں نے کہا کہ اس موقع پر جنگ کرنا درست نہیں ہمیں واپس چلے جانا چاہئے مگر اُس افسر نے گھوڑے کو ایڑ لگا کر اۤگے بڑھایا اور کہا ماتحت کا کام اطاعت کرنا ہے اعتراض کرنا نہیں ۔ باقیوں نے بھی گھوڑے بڑھا دیئے اور سب ایک ایک کرکے اس جنگ میں مارے گئے۔ قوم اۤج تک اس واقعہ پر فخر کرتی ہے اور کہتی ہے کہ اس کی قوم کے لوگوں نے اطاعت کا کیسا اعلیٰ نمونہ دکھایا اور گو یا انگریز قوم کا واقعہ ہے مگر کون ہے جو اس واقعہ کو سن کر خوشی محسوس نہیں کرتا۔ ایک جرمن بھی جب اس واقعہ کو پڑھتا ہے تو وہ فخر محسوس کرتا ہے اور کہتا ہے کاش! یہ نمونہ ہماری قوم دکھاتی ، ایک فرانسیسی بھی جب یہ واقعہ پڑھتا ہے تو فخر محسوس کرتا اور کہتا ہے کاش! یہ نمونہ ہماری قوم دکھاتی، ایک روسی بھی جب یہ واقعہ پڑھتا ہے تو فخر محسوس کرتا ہے اور کہتا ہے کاش! یہ نمونہ ہماری قوم دکھاتی ۔ پس اطاعت اور افسر کی فرمانبرداری ایسی اعلیٰ چیز ہے کہ دشمن بھی اِس سے متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا مگر بغیر مصائب میں پڑے اور تکلیفوں کو برداشت کرنے کے یہ مقام حاصل نہیں ہوسکتا۔‘‘

(خطبہ جمعہ فرمودہ24؍جنوری1936ءمطبوعہ خطبات محمود جلد 17صفحہ 72تا73)

اسی طرح حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اطاعت ہی کے ضمن میںترک فوج کی اطاعت کا واقعہ بیان کرتے ہوئے فرمایا:

’’ایک ترک جرنیل نے روسیوں سے لڑائی کی ۔ تُرک جرنیل کو مشورہ دیا گیا کہ اپنے ہتھیار ڈال دو کیونکہ دشمن بہت زیادہ طاقتور ہے لیکن وہ اِس پر تیار نہ ہوا۔ اۤخر وہ قلعہ بند ہوگیا روسیوںنے مہینوں اُس کا محاصرہ رکھا اور کوئی کھانے پینے کی چیز باہر سے اندر نہ جانے دی ۔ نتیجہ یہ ہوا کہ جب غذا کا ذخیرہ ختم ہوگیا تو اُس نے سواری کے گھوڑے ذبح کرکے کھانے شروع کردیئے مگر ہتھیار نہ ڈالے لیکن اۤخر وہ بھی ختم ہوگئے تو اُس نے بُوٹوں کے چمڑے اور دوسری ایسی چیزیں اُبال اُبال کر سپاہیوں کو پلانی شروع کردیں مگر ہتھیار نہ ڈالے۔ اۤخر سب سامان ختم ہوگئے اور روسی فوج نے قلعہ کی دیواروں کو بھی توڑ دیا تو یہ بہادر سپاہی اطاعت قبول کرنے پرمجبور ہوئے ۔ چونکہ یہ ایک عام قاعدہ ہے کہ مفتوح فاتح کے سامنے اپنی تلوار پیش کرتا ہے اسی قاعدہ کے مطابق جب اُس ترکی جرنیل نے روسی کمانڈر کے سامنے اپنی تلوار پیش کی تو روسی کمانڈر کی اۤنکھوں میں اۤنسو اۤگئے اور وہ کہنے لگامَیں ایسے بہادر جرنیل کی تلوار نہیں لے سکتا ۔ تو اطاعت اور قربانی اور ایثار ایسی اعلیٰ چیزیں ہیں کہ دشمن کے دل میں بھی درد پیدا کردیتی اور اس کی اۤنکھوں کو نیچا کردیتی ہیں ۔‘‘

(خطبہ جمعہ فرمودہ24؍جنوری 1936ءمطبوعہ خطبات محمود جلد 17صفحہ 73)

حضور رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے مندرجہ بالا واقعات بیان کرنے کے بعد فرمایا:

’’اگر ہمارے کارکن بھی وہ اطاعت ، قربانی اور ایثار پیدا کریں جن کا حقیقی جرأت تقاضا کرتی ہے تو دیکھنے والوں کے دل پر جماعت احمدیہ کا بہت بڑا رُعب پڑے گا اور ہر شخص یہی سمجھے گاکہ یہ جماعت دنیا کو کھا جائے گی …خلافت کے تو معنے ہی یہ ہیں کہ جس وقت خلیفہ کے منہ سے کوئی لفظ نکلے اُس وقت سب سکیموں، سب تجویزوں اور سب تدبیروں کو پھینک کر رکھ دیا جائے اور سمجھ لیا جائے کہ اب وہی سکیم وہی تجویز اور وہی تدبیر مفید ہے جس کا خلیفہ ٔوقت کی طرف سے حکم ملا ہے۔ جب تک یہ روح جماعت میں پیدا نہ ہو اُس وقت تک سب خطبات رائیگاں، تمام سکیمیں باطل اور تمام تدبیریں ناکام ہیں۔‘‘

(خطبہ جمعہ فرمودہ24؍جنوری 1936ءمطبوعہ خطبات محمود جلد 17صفحہ 74)

حضرت خلیفۃ المسیح الثانی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنے ایک خطبہ میں جنگ حنین میں صحابہ کی اطاعت کا ذکر کرتے ہوئے بیعت خلافت ثانیہ کے موقع پر جماعت کے اخلاص اورخلافت کی اطاعت کے متعلق فرمایا :

’’جب خدا تعالیٰ نے مجھے خلیفہ بنایا بے شک قادیان کے اکثر لوگوں نے بیعت کرلی تھی ۔ لیکن باہر کی بہت سی جماعتیں متردد تھیں ۔ بڑے بڑے کارکن سب مخالف تھے ، خزانہ خالی تھا اور مخالفت کا دریا تھا۔ جو اُمڈا ہوا چلا اۤرہا تھا ۔ کیا کوئی کہہ سکتا ہے کہ اس وقت میں اس کی نصرت سے کامیاب ہوا ۔ اس وقت خدا ہی تھا جو میری تائید کے لیے اۤیا اور اسی نے دوسرے ہی دن مجھ سے وہ ٹریکٹ نکلوایا کہ ’’کون ہے جو خدا کے کام کو روک سکے ۔‘‘ اور جہاں جہاں یہ ٹریکٹ پہنچا۔ جس طرح حنین کی لڑائی کے موقعہ پر جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے یہ اۤواز بلند کرائی گئی کہ اے انصار خدا کا رسول تم کو بلاتا ہے۔اور صحابہ بے تاب ہوکر اس اۤواز کی طرف بھاگے ۔بلکہ جن کے گھوڑے نہیں مڑتے تھے انہوں نے ان کی گردنیں کاٹ دیں اور پیدل دوڑے اسی طرح جب میری اۤواز باہر پہنچی متردد جماعتوں کے دل صاف ہوگئے اور تاروں اور خطوں کے ذریعہ بیعت کرنے لگیں ۔ وہی خدا جو اس وقت فوجوں کے ساتھ تائید کے لیے اۤیا اۤج میری مدد پر ہے ۔ اور اگر اۤج تم خلافت کی اطاعت کے نکتہ کو سمجھو تو تمہاری مدد کو بھی اۤئے گا۔ نصرت ہمیشہ اطاعت سے ملتی ہے جب تک خلافت رہے نظامی اطاعت پر اور جب خلافت مٹ جائے انفرادی اطاعت پر ایمان کی بنیاد ہوتی ہے ۔‘‘

(خطبہ جمعہ فرمودہ 27؍اگست 1937ءمطبوعہ روزنامہ الفضل قادیان 4؍ستمبر 1937ء صفحہ7تا8)

قوموں کی بقا،اُن کی نشوونما ،اُن کی ترقی ،اُن کی خوشحالی، اُن کے امن اور خوف سے نجات کا راز ایک قیادت کے گرد جمع ہوکر،باہمی اتفاق واتحادکے ساتھ اۤگے بڑھنے کا نام ہے ۔جبکہ دنیا کے تمام نظاموںمیں خلافت وہ واحد نظام ہے جس کی بنا خالق کائنات نے اپنے ہاتھ سے رکھی ہے۔پس جو نظام اللہ تعالیٰ کی مرضی اور منشا سے قائم ہوا ہے اُسی کے ذریعہ انسانی زندگی کے تمام معاملات کو بخوبی اور احسن رنگ میں چلایا جا سکتا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ جو انسان خدا تعالیٰ کے قائم کردہ اۤسمانی نظام کے سائے تلے اۤجاتا ہے وہ اپنی دنیا و اۤخرت سنوار لیتا ہے ۔ حضرت خلیفۃ المسیح الثانی رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں :

’’میں تمہیں نصیحت کرتاہوں کہ خواہ تم کتنے ہی عقلمند اور مدبر ہو۔ اپنی تدابیر اور عقلوں پر چل کر دین کو کوئی فائدہ نہیں پہنچا سکتے ۔جب تک تمہاری عقلیں اور تدبیریں خلافت کے ماتحت نہ ہوں۔ اور تم امام کے پیچھے پیچھے نہ چلو۔ ہر گز اللہ تعالیٰ کی مدد اور نصرت تم حاصل نہیں کر سکتے۔ پس اگر تم خدا تعالیٰ کی نصرت چاہتے ہو تو یاد رکھو اس کا کوئی ذریعہ نہیں سوائے اس کے کہ تمہارا اٹھنابیٹھنا،کھڑا ہونا اور چلنا اور تمہارا بولنا اور خاموش ہونا میرے ماتحت ہو۔بیشک میں نبی نہیں ہوں لیکن میں نبوت کے قدموں پر کھڑا ہوں ۔ ہر وہ شخص جو میری اطاعت سے باہر ہوتا ہے ۔ وہ یقینا ًنبی کی اطاعت سے باہر جاتا ہے ۔جو میرا جوأ اپنی گردن سے اتارتا ہے ، وہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کا جوأاتارتا ہے اور جو ان کا جوأ اتارتا ہے۔وہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا جوأ اتارتا ہے اور جو اۤنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا جوأ اتارتا ہے ، وہ خد تعالیٰ کا جوأاتارتا ہے میں بے شک انسان ہوں ، خدا نہیں ہوں ۔ مگر میں یہ کہنے سے نہیں رہ سکتا کہ میری اطاعت اور فرمانبرداری میں خدا تعالیٰ کی اطاعت اور فرمانبرداری ہے ۔‘‘

(خطبہ جمعہ فرمودہ 27؍اگست 1937ءمطبوعہ روزنامہ الفضل قادیان 4؍ستمبر 1937ء صفحہ8)

جماعت خلیفہ کے ماتحت ہے

جماعت اور افراد جماعت کو یہ اصول ہمیشہ یاد رکھنا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ کا باطنی ہاتھ جس انسان کو جماعت مومنین کی اصلاح اور ترقی کے لیے مقرر کرے وہی اس لائق ہے کہ اُس کی ماتحتی میں جماعت کے تمام امور طے ہوں اور اُسی کواس روحانی نظام میں اۤخری اتھارٹی حاصل ہوگی ۔ حضرت خلیفۃ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں :

’’اسلامی اصول کے مطابق یہ صورت ہے کہ جماعت خلیفہ کے ماتحت ہے اور اۤخری اتھارٹی جسے خدا نے مقرر کیا ہے اور جس کی اۤواز اۤخری اۤواز ہے،کسی انجمن،کسی شوریٰ یا کسی مجلس کی نہیں ہے۔خلیفہ کا انتخاب ظاہری لحاظ سے بیشک تمہارے ہاتھوں میں ہے۔تم اس کے متعلق دیکھ سکتے ہو اور غور کر سکتے ہو مگر باطنی طور پر خدا کے ہاتھ میں ہے۔ خدا تعالیٰ فرماتا ہے خلیفہ ہم قرار دیتے ہیں۔اور جب تک تم لوگ اپنی اصلاح کی فکر رکھو گے۔ ان قواعد اور اصولوں کو نہ بھولو گے جو خدا تعالیٰ کی رضا کے حصول کے لئے ضروری ہیں تم میں خدا خلیفہ مقرر کرتا رہے گا۔ اور اسے وہ عظمت حاصل ہو گی جو اس کام کے لیے ضروری ہے۔‘‘

(رپورٹ مجلس مشاورت منعقدہ 7؍اپریل 1925ء صفحہ 24بحوالہ احمدیہ گزٹ کینیڈا،مئی2001ء)

اطاعت سے ہی اتحاد اور ترقی ممکن ہے

اتحاد قوموں کی ترقی کی علامت اور اُن کی زندگی کی بقا کے لیے انتہائی ناگزیر عمل ہے ۔ جو قومیں دنیا میں ترقی کرنا چاہتی ہیں اور اپنے مقاصد کو پایہ ٔتکمیل تک پہنچانا چاہتی ہیں اُن کے لیے ضروری ہے کہ وہ وحدت کی لڑی میں پروئی رہیں اور ایک واجب الاطاعت امام کے پیچھے پیچھے چلنے والی ہوں۔ حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں :

’’جماعت کے اتحاد اور شریعت کے احکام کو پورا کرنے کے لئے ایک خلیفہ کا ہونا ضروری ہے اور جو اس بات کو رد کرتا ہے وہ گویا شریعت کے احکام کو رد کرتا ہے۔ صحابہ کا عمل اس پر ہے اور سلسلہ احمدیہ سے بھی خداتعالیٰ نے اسی کی تصدیق کرائی ہے۔ جماعت کے معنی ہی یہی ہیں کہ وہ ایک امام کے ماتحت ہو جو لوگ کسی امام کے ماتحت نہیں وہ جماعت نہیں اور ان پر خداتعالیٰ کے وہ فضل نازل نہیں ہو سکتے اور کبھی نہیں ہو سکتے جو ایک جماعت پر ہوتے ہیں۔

پس اے جماعت احمدیہ! اپنے آپ کو ابتلاء میں مت ڈال اور خداتعالیٰ کے احکام کو ردّ مت کر کہ خدا کے حکموں کو ٹالنا نہایت خطرناک اور نقصان دہ ہے۔ اسلام کی حقیقی ترقی اس زمانہ میں ہوئی جو خلافت راشدہ کا زمانہ کہلاتا ہے پس تو اپنے ہاتھ سے اپنی ترقیوں کو مت روک اور اپنے پاؤں پر آپ کلہاڑی مت مار۔ کیسا نادان ہے وہ انسان جو اپنا گھر آپ گراتا ہے اور کیا ہی قابل رحم ہے وہ شخص جو اپنے گلے پر آپ چھری پھیرتا ہے پس تو اپنے ہاتھ سے اپنی تباہی کا بیج مت بو اور جو سامان خداتعالیٰ نے تیری ترقی کے لئے بھیجے ہیں ان کو رد مت کر کیونکہ فرمایا ہے

لَئِنۡ شَکَرۡتُمۡ لَاَزِیۡدَنَّکُمۡ وَ لَئِنۡ کَفَرۡتُمۡ اِنَّ عَذَابِیۡ لَشَدِیۡدٌ۔ (ابراہیم :8 )

البتہ اگر تم شکر کرو گے تو میں تمہیں بڑھاؤں گا اور زیادہ دوں گا اور اگر تم نے ناشکری کی راہ اختیار کی تو یاد رکھو کہ میرا عذاب بھی بڑا سخت ہے۔‘‘

(کون ہے جو خدا کے کام کو روک سکے ،انوار العلوم جلد2 صفحہ 13تا14)

اسی طرح حضور رضی اللہ عنہ نے جماعت کی ترقی کا یہ راز بیان فرمایا ہے کہ ہر فرد جماعت خلیفۂ وقت کے احکام کی اطاعت کرے اور خلیفۂ وقت کے ہر حکم پر جان قربان کرنے کے لیے تیار رہے ۔ حضورؓ فرماتے ہیں :

’’جس نے خلیفہ وقت کی بیعت کی ہے اسے یاد رکھنا چاہئے کہ خلیفہ وقت کی بیعت کے بعد اس پر یہ فرض عاید ہوچکا ہے کہ وہ اس کے احکام کی اطاعت کرے …ہمارے سپرد ایک بہت بڑا کام ہے اور وہ کام کبھی سرانجام نہیں دیا جاسکتا جب تک ہر شخص اپنی جان اس راہ میں لڑا نہ دے ۔ پس تم میں سے ہر شخص خواہ دنیا کا کوئی کام کررہا ہو اگر وہ اپنا سارا زور اس غرض کے لیے صرف نہیں کردیتا ،اگر خلیفۂ وقت کے حکم پر ہر احمدی اپنی جان قربان کرنے کے لیے تیار نہیں رہتا ۔ اگر اطاعت اور فرمانبرداری اور ایثار ہر وقت اس کے سامنے نہیں رہتا تو اس وقت تک نہ ہماری جماعت ترقی کرسکتی ہے اور نہ وہ اشخاص مومنوں میں لکھے جاسکتے ہیں۔‘‘

(خطبہ جمعہ فرمودہ 25؍اکتوبر 1946ءمطبوعہ روزنامہ الفضل قادیان 15؍نومبر1946ء صفحہ 6)

حقیقی ایمان اور صالح اعمال بجالانے کی ایک زبردست کسوٹی خلیفۂ وقت کے ساتھ ہمارا مضبوط تعلق ہے ۔ یہ تعلق جس قدر پختہ اورمضبوط ہوگا اُسی قدرہم اس نعمت سے فیضیاب ہوسکتے ہیں ۔ اگر ہم اپنی زندگی خلیفہ وقت کی ہدایات اور ارشادات کے مطابق گزارنا شروع کردیں اور تابع فرمان بن کر اپنی گردنیں خلیفہ وقت کے حضور جھکائے رکھیں تو اس سے نہ صرف ہمارا ایمان سلامت رہے گابلکہ ہمارے اعمال بھی صالح اعمال میں شمار ہوںگے ۔حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں :

’’یاد رکھو ایمان کسی خاص چیز کا نام نہیں بلکہ ایمان نام ہے اس بات کا کہ خدا تعالیٰ کے قائم کردہ نمائندہ کی زبان سے جو بھی آواز بلند ہو اس کی اطاعت اور فرمانبرداری کی جائے۔ اگر اسلام اور ایمان اس چیزکا نام نہ ہوتا تو محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے ہوتے کسی مسیح کی ضرورت نہیں تھی لیکن اگر محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے ہوتے مسیح موعود کی ضرورت تھی تو مسیح موعود کے ہوتے ہماری بھی ضرور ت ہے ۔ ہزار دفعہ کوئی شخص کہے کہ میں مسیح موعودپر ایمان لاتاہوں۔ ہزار دفعہ کوئی کہے کہ میں احمدیت پر ایمان رکھتا ہوں۔خدا کے حضور اس کے ان دعوؤں کی کوئی قیمت نہیں ہو گی۔ جب تک وہ اس شخص کے ہاتھ میں اپنا ہاتھ نہیں دیتا جس کے ذریعہ خدا اس زمانہ میں اسلام قائم کرنا چاہتا ہے۔جب تک جماعت کا ہر شخص پاگلوں کی طرح اس کی اطاعت نہیں کرتا اور جب تک اس کی اطاعت میں اپنی زندگی کا ہر لمحہ بسر نہیں کرتا۔اس وقت تک وہ کسی قسم کی فضیلت اور بڑائی کا حقدار نہیں ہو سکتا۔‘‘

(خطبہ جمعہ فرمودہ 25؍اکتوبر 1946ءمطبوعہ روزنامہ الفضل قادیان 15؍نومبر1946ء صفحہ 6)

حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ سورۃ البقرۃ اۤیت نمبر249 کی تفسیر بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں :

’’ضمنی طور پر اس اۤیت سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ ملائکہ سے فیوض حاصل کرنے کا ایک یہ بھی طریق ہے کہ اللہ تعالیٰ کے قائم کردہ خلفاء سے مخلصانہ تعلق قائم رکھا جائے اور اُن کی اطاعت کی جائے۔ چنانچہ اس جگہ طالوت کے انتخاب میں خدائی ہاتھ کا ثبوت یہی پیش کیا گیا ہے کہ تمہیں خداتعالیٰ کی طرف سے نئے دل ملیں گے جن میں سکینت کا نزول ہوگا۔ اور خداتعالیٰ کے ملائکہ اُن دلوں کو اُٹھائے ہوئے ہوں گے۔ گویا طالوت کے ساتھ تعلق پیدا کرنے کے نتیجہ میں تم میں ایک تغیر عظیم واقع ہوجائے گا۔ تمہاری ہمتیں بلند ہوجائیں گی۔ تمہارے ایمان اور یقین میں اضافہ ہوجائے گا۔ ملائکہ تمہاری تائید کے لئے کھڑے ہوجائیں گے اور تمہارے دلوں میں استقامت اور قربانی کی روح پھونکتے رہیں گے۔ پس سچے خلفاءسے تعلق رکھناملائکہ سے تعلق پیدا کردیتا اور انسان کو انوار الٰہیہ کا مہبط بنا دیتا ہے۔‘‘

(تفسیر کبیر جلد دوم صفحہ561)

خلیفۂ وقت سے مشورے کی اہمیت

خلیفۂ وقت کا وجود امت کے اتحاد ،یکجہتی اور ترقی کے لیے بنیادی حیثیت رکھتا ہے۔ وہ ایک مضبوط مرکز ہوتا ہے۔ جس کے گرد نظام سلسلہ کے بے شمار پروگرام اور منصوبے گردش کرتے ہیں۔وہ قومی اجتماعیت اور استحکام کے لیے ایک سنگِ میل ہوتا ہے۔وہ ایک مینارِ نور اور قبلہ ہوتا ہے جسے دیکھ کر قوم کا ہر فرد اپنی سوچ کا قبلہ درست کرتا ہے ۔اس کی مضبوطی قوم کی مضبوطی ہوتی ہے۔ خلافت کے استحکام سے قوم اور جماعت کا استحکام وابستہ ہے ۔یہی وجہ ہے کہ رسول کریم ؐنے امام کو ڈھال قرار دیا ہے اور اپنے ماننے والوں کو نصیحت فرمائی ہے کہ جب تک امام کے پیچھے پیچھے چلتے رہو گے اور اطاعت کا جُوأ اپنی گردنوں پر سجائے رکھو گے اس وقت تک کامیابی اور کامرانی تمہارا مقدر بنی رہے گی اور تم رشدوہدایت سے ہمکنار ہوتے رہو گے۔پس جب ہم زندگی کےہر معاملہ میںخلیفہ وقت کے مشورے اور اۤپ کی ہدایات پر عمل کریں گے تو اُن میں خارق عادت برکت پڑے گی ۔ حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں:

’’جب تک باربار ہم سے مشورے نہیں لیں گے اس وقت تک ان کے کام میں کبھی برکت پیدا نہیں ہو سکتی۔ آخر خدا نے ان کے ہاتھ میں سلسلہ کی باگ نہیں دی ۔ میرے ہاتھ میں سلسلہ کی باگ دی ہے۔ انہیں خدا نے خلیفہ نہیں بنایا مجھے خدا نے خلیفہ بنایا ہے۔اور جب خدا نے اپنی مرضی بتانی ہوتی ہے تو مجھے بتاتا ہے انہیں نہیں بتاتا۔ پس تم مرکز سے الگ ہو کر کیا کر سکتے ہو۔ جس کو خدا اپنی مرضی بتاتا ہے جس پر خدا اپنے الہام نازل فرماتا ہے ۔جس کو خدا نے اس جماعت کا خلیفہ اور امام بنادیا ہے اس سے مشورہ اور ہدایت حاصل کر کے تم کام کر سکتے ہو۔ اس سے جتنا زیادہ تعلق رکھو گے۔ اسی قدر تمہارے کاموں میں برکت پیدا ہو گی۔اور اس سے جس قدر دُور رہو گے ۔ اُسی قدر تمہارے کاموں میں بے برکتی پیدا ہوگی جس طرح وہی شاخ پھل لاسکتی ہے جو درخت کے ساتھ ہو۔ وہ کٹی ہوئی شاخ پھل پیدا نہیں کرسکتی جو درخت سے جدا ہو اسی طرح وہی شخص سلسلہ کا مفید کام کر سکتا ہے جو اپنے آپ کو امام سے وابستہ رکھتا ہے۔ اگر کوئی شخص امام کے ساتھ اپنے آپ کو وابستہ نہ رکھے تو خواہ وہ دنیا بھر کے علوم جانتا ہو وہ اتنا کام بھی نہیں کر سکے گا جتنا بکری کا بکروٹہ کر سکتا ہے۔‘‘

(خطبہ جمعہ فرمودہ یکم نومبر 1946ءمطبوعہ روزنامہ الفضل قادیان 20؍نومبر1946ء صفحہ 7)

حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ نے خلافت کی اسی اہمیت کے پیش نظر ایک موقع پر مبلغین اور واعظین کو نصیحت کرتے ہوئے فرمایا :

’’مبلغین اور واعظین کے ذریعہ بار بار جماعتو ں کے کانوں میں یہ اۤواز پڑتی رہے کہ پانچ روپے کیا،پانچ ہزار روپیہ کیا، پانچ لاکھ روپیہ کیا، پانچ ارب روپیہ کیا، اگر ساری دنیا کی جانیں بھی خلیفہ کے ایک حکم کے اۤگے قربان کردی جاتی ہیں تو وہ بے حقیقت اور ناقابلِ ذکر چیز ہیں …اگر یہ باتیں ہر مرد، ہر عورت ،ہربچے ، ہر بوڑھے کے ذہن نشین کی جائیں اور ان کے دلوں پر ان کا نقش کیاجائے تو وہ ٹھوکریں جو عدمِ علم کی وجہ سے لوگ کھاتے ہیں کیوں کھائیں ۔‘‘

(تعلیم العقائد والاعمال پر خطبات صفحہ 65۔مرتب شیخ یعقوب علی عرفانی ؓ)

اپنی اولاد کو خلافت سے وابستہ کرنا

نظام خلافت کے تعلق میں والدین کا یہ فرض بنتا ہے کہ نہ صرف خود اس نظام سے وابستہ رہیں بلکہ اپنی اولاد کے اندر یہ روح اور جذبہ پیدا کرنے کی ہر ممکن کوشش کریں کہ تمام برکتیں خلافت کی اطاعت ، خلافت کے ادب و احترام اور خلافت کے ساتھ دلی وابستگی میں پنہاں ہیں۔27؍اکتوبر 1959ء کو مجلس خدام الاحمدیہ مرکزیہ کے اٹھارھویں سالانہ اجتماع کے موقع پر حضرت خلیفۃ المسیح الثانی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے نوجوانوں سے ایک تاریخی اور تاریخ ساز عہد لیاتھا۔اس عہد کے الفاظ یہ ہیں:

’’ہم اس بات کا بھی اقرار کرتے ہیں کہ ہم نظام خلافت کی حفاظت اور اس کے استحکام کے لئے اۤخر دم تک جدو جہد کرتے رہیں گے اور اپنی اولاد اور اپنی اولاد در اولاد کو ہمیشہ خلافت سے وابستہ رہنے اور اس کی برکات سے مستفیض ہونے کی تلقین کرتے رہیں گے تاکہ قیامت تک خلافت احمدیہ محفوظ چلی جائے اور قیامت تک سلسلہ احمدیہ کے ذریعہ اسلام کی اشاعت ہوتی رہے ۔‘‘

(روزنامہ الفضل ربوہ 28؍اکتوبر 1959ء)

حضور رضی اللہ عنہ کا اطاعت وادب خلافت

حضرت خلیفۃ المسیح الثانی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے دل میں اطاعت و ادب خلافت کا جو جذبہ موجزن تھا اُس کا اندازہ درج ذیل چند واقعات سے بخوبی لگایا جاسکتا ہے ۔ ایک موقع پر حضرت خلیفۃ المسیح الاوّل رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اۤپ رضی اللہ عنہ کو اطاعت و ادب خلافت کا سرٹیفکیٹ عطاکرتے ہوئے فرمایا:

’’میاں محمود بالغ ہے اس سے پوچھ لو کہ وہ سچا فرمانبردار ہے …مَیں خوب جانتا ہوں کہ وہ میرا سچا فرمانبردار ہے اور ایسا فرمانبردار ہے کہ تم (میں سے ) ایک بھی نہیں ۔‘‘

(اخبار بدر قادیان دارالامان۔4؍جولائی 1912ء صفحہ 7)

حضرت خلیفۃالمسیح الثانی رضی اللہ عنہ کس طرح خلیفہ وقت کی اطاعت و فرمانبرداری کرتے اور حضرت خلیفۃ المسیح الاوّل رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا ادب و احترام ملحوظِ خاطر رکھا کرتے تھے، اس کا ذکر کرتے ہوئے حضرت مولانا شیر علی صاحب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ

’’خلافت اولیٰ کے زمانہ میں مَیں نے دیکھا کہ جو ادب اور احترام اور جو اطاعت اور فرمانبرداری اۤپ حضرت خلیفۃ المسیح الاوّلؓ کی کرتے تھے اس کا نمونہ کسی اور شخص میں نہیں پایا جاتا تھا۔ اۤپ کے ادب کا یہ حال تھا کہ جب اۤپ حضرت خلیفۃ المسیح الاوّلؓ کی خدمت میں جاتے تو اۤپ دوزانو ہو کر بیٹھ جاتے۔ اور جتنا وقت اۤپ کی خدمت میں حاضر رہتے اسی طرح دوزانو ہی بیٹھے رہتے ۔ مَیں نے یہ بات کسی اور صاحب میں نہیں دیکھی۔ اسی طرح اۤپ ہر امر میں حضرت خلیفۃ المسیح الاوّل ؓکی پوری پوری فرمانبرداری کرتے ۔ کسی امر کے متعلق حضرت خلیفۃ المسیح الاوّلؓ کا ارشاد ہوتا تو اۤپ اس کی پوری پوری تعمیل کرتے۔‘‘

(الحکم قادیان 28؍دسمبر 1939ء صفحہ 8)

حضرت حکیم اللہ بخش رضی اللہ عنہ نے بھی حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی اطاعت ِ خلافت کا ایک واقعہ بیان فرمایا ہے ۔ اۤپ روایت کرتے ہیںکہ

’’ایک دفعہ ہم نے سنا کہ صاحبزادہ صاحب بیٹ میں شکار کو اۤرہے ہیں ہم بھی وہاں پہنچ گئے ۔ کھانے کا وقت ہوا تو اۤپ نے اور اۤپ کے ساتھیوں نے جو کھانا ساتھ لائے ہوئے تھے ، کھایا…نماز ظہر کا وقت ہوا تو مقامی امام کو نماز پڑھانے کا ارشاد فرمایا۔اسی طرح عصر کے وقت بھی ہوا۔ وہاں لوگوں نے درخواست کی کہ ایک رات ہمارے پاس ٹھہریں مگر اۤپ نے جواب دیا کہ مَیں حضرت خلیفۃ المسیح ؓ سے ایک ہی دن کی اجازت لے کراۤیا ہوں پھر کبھی اۤؤںگا تو رات ٹھہرنے کی اجازت لے کر آؤں گا۔ لہٰذا پھر جب اۤئے تو اپنا وعدہ پورا کیا۔ اس بات سے ہم نے خلیفہ کی اطاعت کا سبق سیکھا۔ ‘‘

(روزنامہ الفضل ربوہ 5؍نومبر 2007ء صفحہ 4)

پس خلافت راشدہ ہی رشدوہدایت کی اصل راہ اور اللہ تعالیٰ کے قرب کا اہم ترین ذریعہ ہے ۔خلافت کے ساتھ دلی وابستگی میں ہی اسلام کی بقا ،اُس کی مضبوطی اوراُس کی سربلندی وابستہ ہے۔جس طرح اسلام کے دَور اوّل میں امت محمدیہ نے خلافت کی کامل اطاعت کے نتیجہ میںبے مثال ترقی کی تھی اسی طرح اسلام کے دَور اۤخر میںبھی تمام تر ترقی اور کامیابی خلافت کی کامل اطاعت کے نتیجے میں حاصل ہو گی ۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ہر فرد جماعت اپنے اۤپ کو خلافت کے ساتھ بالکل اُسی طرح وابستہ کرلے جس طرح جسم کے اعضا دماغ کے ساتھ وابستہ ہوتے ہیں ۔ حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں :

’’اگر خلافت کے کوئی معنے ہیں تو پھر خلیفہ ہی ایک ایسا وجود ہے جو ساری جماعت میں ہونا چاہئے اور اُس کے منہ سے جو لفظ نکلے وہی ساری جماعت کے خیالات اور اَفکار پر حاوی ہونا چاہئے ، وہی اوڑھنا ، وہی بچھونا ہونا چاہئے ، وہی تمہارا ناک، کان ، اۤنکھ اور زبان ہونا چاہئے …اُس کی کامل اطاعت کرو ویسی ہی اطاعت جیسے دماغ کی اطاعت اُنگلیاں کرتی ہیں ۔ دماغ کہتا ہے فلاں چیز کو پکڑو اور اُنگلیاں جھٹ اُسے پکڑ لیتی ہیں ۔ لیکن اگر دماغ کہے اور اُنگلیاں نہ پکڑیں تو پھر ماننا پڑے گا کہ ہاتھ مفلوج اور اُنگلیاں رعشہ زدہ ہیں کیونکہ رعشہ کے مریض کی یہ حالت ہوا کرتی ہے کہ وہ چاہتا ہے ایک چیز کو پکڑے مگر اس کی اُنگلیاں اسے نہیں پکڑ سکتیں ۔ پس خلیفہ ایک حکم دیتا ہے مگر لوگ اُس کی تعمیل نہیں کرتے تو اِس کے معنے یہ ہوں گے کہ وہ رعشہ زدہ وجود ہیں ۔‘‘

(خطبہ جمعہ فرمودہ24؍جنوری 1936ءمطبوعہ خطبات محمود جلد 17صفحہ 75تا76)

اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ ہمیں حقیقی معنوں میں خلافت کی اطاعت اور اس مقام کی اہمیت کو سمجھتے ہوئے خلیفہ وقت کے ادب واحترام کی توفیق عطا فرماتا رہے تاکہ ہم اور ہماری نسلیں خلافت کے ساتھ وابستہ تمام فیوض و برکات سے حصہ پاتی رہیں ۔ اۤمین

٭…٭…٭

متعلقہ مضمون

رائے کا اظہار فرمائیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close