متفرق مضامین

خلافت کی بیعت اور اطاعت در معروف کا حقیقی مفہوم

(شمشاد احمد قمر۔ پرنسپل جامعہ احمدیہ جرمنی)

اللہ تعالیٰ نے سورۃ النّورمیں فرمایا کہ

وَعَدَ اللّٰہُ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا مِنۡکُمۡ وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَیَسۡتَخۡلِفَنَّہُمۡ فِی الۡاَرۡضِ کَمَا اسۡتَخۡلَفَ الَّذِیۡنَ مِنۡ قَبۡلِہِمۡ(النور:56)

کہ جو لوگ ایمان لائیں گے اور عمل صالح کریں گے، اللہ کا ان سے وعدہ ہے کہ انہیں زمین میں ضرور خلافت عطا فرمائے گا۔

اور اسی آیت کے آخر میں فرمایا کہ

وَ مَنۡ کَفَرَ بَعۡدَ ذٰلِکَ فَاُولٰٓئِکَ ہُمُ الۡفٰسِقُوۡنَ

یعنی (خلافت کے قیام کے بعد) جو اس کا انکار کرے گا وہ فاسقوں میں سے ہوگا۔

اللہ تعالیٰ خلافت کے قیام کے بعد اس کی نافرمانی کو واضح طور پہ فسق قرار دے رہا ہے۔لیکن افسوس کہ بعض اوقات کچھ لوگ جانتے بوجھتے ہوئے اور بعض لوگ اپنی سادگی کی وجہ سےایسے لوگوں کی باتوں میں آکر کہہ دیتے ہیں کہ خلیفہ ٔ وقت کے صرف معروف فیصلے کو ماننے کا حکم ہے۔ ایسا کہنا دراصل اپنے اندر نفاق کا رنگ رکھتا ہے۔ منافق بھی دو قسم کے ہوتے ہیں۔ایک وہ جو خوب جانتے ہیں کہ وہ مومن نہیں بلکہ محض دھوکا دینے کے لیے مومنین کے ساتھ شامل ہوئے ہیں اور دوسرے وہ جو اپنے خیال میں تو واقعی ایمان پر قائم ہوتے ہیں لیکن ایمان ابھی پورے طور پر دل میں راسخ نہیں ہوتا اور کسی چھوٹے سے ابتلامیں بھی کمزوری دکھا تے اور اعتراض کرنے لگتے ہیں۔ جیسا کہ اللہ نے فرمایا:

كُلَّمَا أَضَاءَ لَهُمْ مَشَوْا فِيهِ وَإِذَا أَظْلَمَ عَلَيْهِمْ قَامُوا۔( البقرہ: 21)

کہ جب ان پر روشنی ہوتی ہے تو چل پڑتے ہیں اور جب ان پہ اندھیرا چھا جاتا ہے تو رک جاتے ہیں۔لہٰذا ایسی سوچ سے بھی بچنا ضروری ہے جس سے نفاق کا رنگ جھلکتا دکھائی دے۔

اطاعت کے بارے میں اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے کہ

وَأَطِيعُوا اللّٰهَ وَالرَّسُولَ لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُونَ۔(آل عمران : 133)

کہ اللہ کی اطاعت کرو اور رسول کی اطاعت کرو تاکہ تم پر رحم کیا جائے۔

ایک اور مقام پر فرمایا کہ

مَنْ يُطِعِ الرَّسُولَ فَقَدْ أَطَاعَ اللّٰهَ (النساء:81)

کہ جس نے رسول کی اطاعت کی اس نے اللہ کی اطاعت کی۔یعنی اللہ کی اطاعت در اصل رسول کی اطاعت سے ہی وابستہ ہے۔

اسی طرح احادیث میں آنحضورﷺ نے اپنے خلفاء کی اطاعت کو لازمی قرار دیا ہے۔چنانچہ آپﷺنے فرمایا کہ

عَلَیکُم بِسُنَّتِی وَسُنَّۃِ الخُلَفَاءِ الرَّاشِدِیْنَ المَھْدِیِیّنَ۔

کہ تم پر میری سنّت اور میرے خلفا ئے راشدین کی سنّت پر عمل کرنا لازم ہے۔

( ترمذی کتاب العلم باب الاخذ بالسنّۃ۔ ابو داؤد کتاب السّنّۃ باب لزوم السّنّۃ)

یعنی قرآن کریم اور احادیث کے مطابق نبوّت اور خلافت کی اطاعت ہی اللہ تعالیٰ کی اطاعت کہلائے گی۔

ان آیات اور احادیث سےیہ سوال بھی حل ہو جاتا ہے کہ کیا حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور آپ کے خلفاءکی بیعت کرنالا زمی ہے؟ کیونکہ اس حدیث میں آنحضورﷺ نے اپنی اور اپنے خلفاءکی سنّت پرعمل کولازم قرار دیا ہے۔آنحضورﷺ کی اس بارے میں کیا سنّت تھی ؟ قرآن کریم سے ثابت ہے کہ آپ مومنوں سے اللہ کے حکم کے مطابق بیعت لیتے تھے۔قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ

لَقَدْ رَضِيَ اللّٰهُ عَنِ الْمُؤْمِنِيْنَ إِذْ يُبَايِعُوْنَكَ تَحْتَ الشَّجَرَةِ …(الفتح:19)

یعنی یقیناً اللہ مومنوں سے راضی ہو گیا جب وہ درخت کے نیچے تیری بیعت کر رہے تھے…

پھر فرمایا کہ

اِنَّ الَّذِیۡنَ یُبَایِعُوۡنَکَ اِنَّمَا یُبَایِعُوۡنَ اللّٰہَؕ یَدُ اللّٰہِ فَوۡقَ اَیۡدِیۡہِمۡ…(الفتح:11)

یعنی یقیناً وہ لوگ جو تیری بیعت کرتے ہیں وہ اللہ ہی کی بیعت کرتے ہیں۔

اسی طرح سورۃ الممتحنۃآیت13میں بھی مومن عورتوں سے معروف اطاعت کی بیعت لینے کا حکم دیا گیا ہے۔ اسی طرح روایات اور تاریخ سے ثابت ہے کہ آپﷺ کے خلفاءبھی بیعت لیتے رہے اور صحابہؓ ان کی بیعت کرتے تھے۔

اپنی سنّت کے عین مطابق آنحضورﷺ نے آنے والے امام آخرالزماں کی بھی بیعت کرنے کی تاکید کرتے ہوئے فرمایا کہ

فَإِذَا رَأَيْتُمُوهُ فَبَايِعُوهُ وَلَوْ حَبْوًا عَلَى الثَّلْجِ، فَإِنَّهُ خَلِيْفَةُ اللّٰهِ الْمَهْدِيُّ۔

کہ جب تم اسے دیکھو تو اس کی ضرور بیعت کرنا خواہ تمہیں برف پر گھٹنوں کے بل جانا پڑے کیونکہ وہ خدا کا خلیفہ مہدی ہوگا۔

(ابن ماجہ،کتاب الفتن،بَابُ خُرُوجِ الْمَهْدِيِّ)

اسی طرح شیعہ روایات میں بھی آتا ہے کہ سورت نور کی آیت وَعَدَ اللّٰهُ الَّذِينَ آمَنُوْا مِنْكُمْ (النور: 56)کے متعلق حضرت امام جعفر صادق سے پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا:

’’اس سے مراد امام قائم علیہ السلام اور ان کے اصحاب ہیں‘‘

(بحار الانوار از ملاباقر مجلسی۔مترجم سید حسن امداد۔

جلد 11صفحہ 113۔محفوظ بُک ایجنسی کراچی)

اسی خلیفۃ اللہ کے بارے میں آپؐ نے فرمایا کہ

فَإِذَا رَأَيْتُمُوهُ فَبَايِعُوهُ وَلَوْ حَبْوًا عَلَى الثَّلْجِ، فَإِنَّهُ خَلِيْفَةُ اللّٰهِ الْمَهْدِيّ

یعنی جب اسے دیکھو تو اس کی بیعت کرنا خواہ برف کے تودوں پر گھٹنوں کے بل چل کر جانا پڑے کیونکہ وہ اللہ کا خلیفہ مہدی ہے۔

(بحارالانوار جلد 13باب ماوردمن اخباراللہ واخبارالنبی)

پس یہ ثابت ہے کہ آنحضورﷺ اور آپ کے خلفاء بیعت لیتے تھے اور اس بیعت پر اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں اپنی رضا اور خوشنودی کا اظہار فرمایا ہے۔اس سے ظاہر ہے کہ اس بیعت سے پیچھے ہٹنا اللہ تعالیٰ کی ناراضگی کا باعث ہے۔اسی سنّت کے مطابق حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور آپ کے خلفاءکی بیعت کرنا بھی لازم ہےاور آنحضورﷺ نے بیعت کے بغیر آنے والی موت کو جہالت کی موت قرار دیا ہے۔

اس بارے میں معروف اور غیر معروف کی بحث شیطانی وساوس ہیں۔ یہ اعتراض کرنے والے قولِ معروف کی حقیقت سے ہی ناواقف ہیں۔عربی لغت میں معروف کا مطلب لکھا ہے کہ

’’وَالْمَعْرُوف اِسْمٌ لِکُلِّ فِعلِ یُعْرَفُ بِالْعَقْلِ اَوِ الشَّرع حُسْنُہُ وَالْمُنْکَرمَا یُنْکَرُ بِھِمَا‘‘

یعنی معروف ہر اس قول یا فعل کا نام ہے جس کی خوبی عقل یا شریعت سے ثابت ہے اور منکر ہر اس بات کو کہا جائے گا جو عقل و شریعت کی رو سے بُری ہو۔

(مفردات امام راغب )

حضرت مسیح موعود علیہ السلام

یَاْ مُرُھُمْ بِالْمَعْرُوْفِ

کی تفسیر میں فرماتے ہیں:’’یہ نبی ان باتوں کے لئے حکم دیتا ہے جو خلاف عقل نہیں ہیں۔ اور ان باتوں سے منع کرتا ہےجن سے عقل بھی منع کرتی ہے۔اور پا ک چیزوں کو حلال کرتا ہے اور ناپاک کو حرام ٹھہراتاہے اور قوموں کے سر پر سے وہ بوجھ اتارتا ہے جس کے نیچے وہ دبی ہوئی تھیں۔اور ان گردنوں کے طوقوں سے وہ رہائی بخشتا ہے جن کی وجہ سے گردنیں سیدھی نہیں ہو سکتی تھیں۔‘‘

(براہین احمدیہ حصہ پنجم، روحانی خزائن جلد 21صفحہ 420)

حضرت خلیفۃ المسیح الاوّل رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:’’ایک اور غلطی ہے وہ طاعت در معروف کے سمجھنے میں ہے کہ جن کاموں کو ہم معروف نہیں سمجھتے اس میں اطاعت نہ کریں گے۔ یہ لفظ نبی کریمﷺ کے لئے بھی آیا ہے۔وَلَا يَعْصِيْنَكَ فِي مَعْرُوْفٍ۔اب کیا ایسے لوگوں نے حضرت محمد رسول اللہﷺ کے عیوب کی بھی کوئی فہرست بنا لی ہے۔ اسی طرح حضرت صاحب نے بھی شرائط بیعت میں طاعت در معروف لکھا ہے۔ اس میں ایک سرّ ہے۔ میں تم میں سے کسی پر ہر گز بد ظن نہیں۔ میں نے اس لئے ان باتوں کو کھولا تا تم میں سے کسی کو اندر ہی اندر دھوکہ نہ لگ جائے‘‘

(خطبات نور صفحہ 420تا421)

حضرت خلیفۃ ا لمسیح الخامس ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرماتے ہیں:’’پس جب نبی اللہ تعالیٰ کے احکامات سے پرے نہیں ہٹتا توخلیفہ بھی جو نبی کے بعد اس کے مشن کو چلانے کے لئے اللہ تعالیٰ کی طرف سے مومنین کی ایک جماعت کے ذریعہ مقرر ہوتاہے، وہ بھی اسی تعلیم کو، انہیں احکامات کو آگے چلاتا ہے جو اللہ تعالیٰ نے نبیﷺ کے ذریعہ ہم تک پہنچائےاور اس زمانے میں آنحضورﷺ کی پیشگوئیوں کے مطابق ہی حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے وضاحت کر کے ہمیں بتائے۔تو اب اسی نظام خلافت کے مطابق جو آنحضورﷺ کی پیشگوئیوں کے مطابق حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ذریعہ جماعت میں قائم ہوا ہےاور انشا ءاللہ قیامت تک قائم رہے گا۔ ان میں شریعت اور عقل کے مطابق ہی فیصلے ہوتے رہے ہیں اور انشا ءاللہ ہوتے رہیں گے اور یہی معروف فیصلے ہیں۔‘‘

(شرائط بیعت اور احمدی کی ذمہ داریاں، صفحہ 172،ایڈیشن2007ء)

پس جب لغت عرب سے ثابت ہے کہ مبنی بر عقل و شریعت ہر قول اور فعل معروف کہلاتا ہے تو یہ کیسے ممکن ہے کہ اللہ تعالیٰ کسی ایسے شخص کو دنیا کی ہدایت کے لیے نبی یا خلیفہ بنا دے جو شریعت اور عقل کے خلاف فیصلے کرے؟ لہٰذا خدا کے مقرر کردہ خلیفہ کا ہر فیصلہ معروف فیصلہ کہلائے گا اور اس کی اطاعت سے انکار کرنا غیر معروف فیصلہ کہلائے گا۔یعنی معروف قول اور فعل نبی اور خلیفہ کی مکمل اطاعت ہی کا نام ہے اور یہی ایمان کی جڑہے۔

حضرت مسیح موعود علیہ السلام اطاعت کے متعلق فرماتے ہیں:’’اطاعت ایک ایسی چیز ہے کہ اگر سچے دل سے اختیار کی جائے تو دل میں نور اور اور روح میں ایک لذّت اور روشنی آ جاتی ہے۔مجاہدات کی اس قدر ضرورت نہیں ہے جس قدر اطاعت کی ضرورت ہے مگر ہاں یہ شرط ہے کہ سچی اطاعت ہو اور یہی مشکل امر ہے۔اطاعت میں اپنے ہوائے نفس کو ذبح کرنا ضروری ہوتا ہے۔ بدوں اس کے اطاعت ہو نہیں سکتی اور ہوائے نفس ہی ایک ایسی چیز ہے جو بڑے بڑے موحدوں کے قلب میں بھی بت بن سکتی ہے۔‘‘

(تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام جلد 2 صفحہ 248)

اس قسم کے منافق طبع لوگ ہر نبی کے دَور میں ہوتے رہے ہیں جو عوام النّاس کو بہکانے کی کوشش کرتے ہیں۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی اطاعت کے متعلق بھی بعض منافقین نے یہی سوال اُٹھاتے ہوئے کہا تھا کہ آپؑ کے صرف اس حکم کو ماننا ضروری ہے جو اللہ نے الہاماً فرمایا ہو۔باقی امور میں صرف معروف امر کو ماننا ضروری ہے۔اس کے جواب میں حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:’’ اگر رسول کے ہر ایک حکم کی اطاعت کرنا ضروری نہیں تو خدا تعالیٰ نے یہ کیوں فرمایا کہ

وَمَا أَرْسَلْنَا مِنْ رَسُولٍ إِلَّا لِيُطَاعَ بِإِذْنِ اللّٰهِ (النساء:65)

اگر رسول کے [صرف] اُس حکم کو ماننا تھا جو خدا تعالیٰ کی طرف سے وحی کے ذریعے آئے تو یوں کہنا چاہئے تھا کہ ہم جو حکم دیتے ہیں اس لئے دیتے ہیں کہ لوگ [صرف]اس کو مانیں۔رسول کی اطاعت پر زور دینا ثابت کرتا ہے کہ یہ اطاعت اس اطاعت کے علاوہ ہے جو رسولوں کے الہامات میں ہوتی ہے۔یہاں جو خدا تعالیٰ نے فرمایا ہے

وَمَا أَرْسَلْنَا مِنْ رَسُولٍ إِلَّا لِيُطَاعَ بِإِذْنِ اللّٰهِ

اس سے رسول کے احکام کی اطاعت مراد ہے۔

ہماری جماعت کے لوگوں کو اس بات سے بہت ہوشیار رہنا چاہئے۔ یہ ایک سخت گستاخی کا کلمہ ہےاس لئے اس سے اجتناب کرنا چاہئے۔ اور باتیں جانے دو تم لوگوں نے کم از کم یہ تو بیعت میں اقرار کیا ہوا ہے کہ امر بالمعروف کی اطاعت کریں گے۔ اب دو ہی باتیں ہیں۔ ایک یہ کہ حضرت مسیح موعودؑ کا ہر ایک حکم معروف ہے۔دوسرے یہ کہ نہیں۔اگر نہیں تو ماننا پڑے گا کہ خدا نے ایسا مسیح موعود بھیجا ہے جس کو امر بالمعروف کا بھی پتہ نہیں…یہ ناممکن ہے کہ نبی امر بالمعروف کے خلاف کوئی بات کہے۔‘‘

(خطبہ جمعہ فرمودہ 30؍جولائی 1915ءمطبوعہ خطبات محمودجلد4صفحہ410)

پھر فرمایا:’’پس کیسا افسوس ہے اس انسان پر جو کرے تو بدی لیکن اپنے نفس کے لئے اسے نیکی ظاہر کرے۔ اس کی بجائے تو یہ بہتر ہے کہ وہ کہے کہ مسیح موعود کا یہ حکم تو قابل عمل ہے لیکن میرے اندر یہ کمزوری ہےاس لئے میں اس کی پابندی نہیں کر سکتا۔اگر ایسا نہیں کہتا تو اس کی وجہ سے جتنے لوگ اس فعل کے مرتکب ہوں گے، ان کے گناہ کا بوجھ ان کے سر ہو گا۔خدا تعالیٰ ہماری جماعت کو سمجھ دے کہ وہ رسول کے سب حکموں کو مانیں۔ یہ سوال ہمیشہ انہی لوگوں کی طرف سے کیا گیا ہے جن کی فطرتیں گندی ہوتی ہیں، نہ خلفاء میں سے کسی نے کہا ہے،نہ صحابہ ؓکبار میں سے،نہ مجددین اور اولیاء کرام میں سے کسی نے کہا ہے۔‘‘

(خطبہ جمعہ فرمودہ 30؍جولائی 1915ءمطبوعہ خطبات محمودجلد4صفحہ411)

پس قرآن و حدیث سے واضح ہوتا ہے کہ خلافت کی اطاعت میں رسول کی اطاعت اور رسول کی اطاعت میں اللہ کی اطاعت ہے۔ گویا خلافت کے احکام کا انکار بھی اسی طرح اللہ کے انکار کا باعث بنتا ہے جس طرح رسول کے احکام کا انکار۔کیونکہ جس کو اللہ نے چنا ہو اس کا انکا ر اصل اس کے منتخب کرنے والے کا ہی انکار تصوّر ہو گا۔ جس طرح رسول یا نبی کو اللہ چنتا ہے اسی طرح اس رسول کے خلیفہ کو بھی اللہ ہی چنتا ہے۔ سوچنے کی بات ہے کہ قرآن کریم میں جن مقامات پر رسول کی اطاعت کا حکم ہے۔ کیا وہ آیات اب منسوخ ہو گئی ہیں؟ ہرگز نہیں بلکہ اب بھی اسی طرح واجب العمل ہیں جیسے پہلے تھیں۔اب ان تمام آیات میں رسول کی جگہ اس کے جانشین اور خلیفہ کی اطاعت مراد ہے۔حضرت مصلح موعو د رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:’’بے شک میں نبی نہیں ہوں لیکن نبوّت کے قدموں پر اور اس کی جگہ پر کھڑا ہوںہر وہ شخص جو میری اطاعت سے باہر ہوتا ہے وہ یقیناً نبی کی اطاعت سے باہر ہوتا ہے…میری اطاعت اور فرمانبرداری میں اللہ کی اطاعت اور فرمانبرداری ہے‘‘

(الفضل 4؍ستمبر1937ء)

نماز ایک ایسی عبادت ہے جو بنیادی ارکان اسلام میں شامل ہے۔اس کے اندر بہت سے سبق پنہاں ہیں۔جب تک انسان ظاہری نماز کی ادائیگی کے ساتھ ساتھ اس مقصد کو پورا نہیں کرتا جو نماز میں بتایا گیا ہے تب تک نماز ایک دکھاوا ہے اور محض دکھاوے کی نماز انسان کے لیے برکت کا نہیں بلکہ ہلاکت کا باعث ہو جاتی ہے،جیسا کہ سورۃ الماعون میں فرمایا کہ

فَوَیۡلٌ لِّلۡمُصَلِّیۡنَ۔الَّذِیۡنَ ہُمۡ عَنۡ صَلَاتِہِمۡ سَاہُوۡنَ۔

(پس اُن نماز پڑھنے والوں پر ہلاکت ہو۔ جو اپنی نماز سے غافل رہتے ہیں۔)(الماعون:5تا6)

یعنی جو لوگ نماز کی روح اور مقاصد سے غافل ہیں، اُن کی نماز نجات کے بجائے ہلاکت کی طرف لے جا نے والی ہے۔ نماز باجماعت مومنوں کو ایک سبق سکھاتی ہے۔اس میں زندگی گزارنے کے گُر سکھائے گئے ہیں۔نماز باجماعت، یعنی ایک امام کی قیادت میں نماز ادا کرنے کا ثواب ستائیس گنا زیادہ بیان کیا گیا ہے۔اور اگر نمازیوں کے خیال میں امام کوئی غلطی کرے تو ادب سے صرف سبحان اللہ کہہ کر اشارہ کر نے کی اجازت ہے۔ اگر امام اسے قبول کر لے تو ٹھیک ہے، ورنہ اس بات کی قطعی اجازت نہیں کہ کوئی نمازی اپنی الگ نماز شروع کر دے۔امام کی کسی غلطی پر بھی نماز توڑ کے اور امام سے الگ ہو کر پڑھی گئی نماز قبول نہیں ہو گی۔جبکہ غلطی کے باوجود امام کے ساتھ وابستہ رہنے سے نہ صرف نما ز قبول ہو جائے گی بلکہ امامت میں ہونے کی وجہ سے اس نماز کے ثواب میں ستائیس گنا اضافہ بھی ہو جائے گا۔ گویا اللہ تعالیٰ نے ہمیں نماز کے ذریعہ یہ سبق دے دیا کہ جب ایک امام کی اقتدا میں آنے کی نیّت کر لی جائے تو پھر وہ امام غلطی بھی کرے تو تم اس سے الگ نہیں ہو سکتے ورنہ نماز قبول نہ ہوگی۔اسی طرح جب کسی امام کو اللہ تعالیٰ مقرر فرمائے گا تو سوچو کہ اس امام کے احکام سے انکار کیسے ممکن ہے؟ کیا اس سے الگ ہونا روحانی ہلاکت کا باعث نہ ہو گا؟ جبکہ اس کے برعکس اس کی قیادت میں کیے جانے والے ہر کا م کے فیوض و برکات میں بے انتہا اضافہ ہو جائے گا۔

آخری دَور میں بھی ایک نبی کی امامت میں ایک جماعت اور خلافت علیٰ منہاج نبوّت کے قیام کی خبر دی گئی ہےاور مومنین کو خبردار کیا گیا ہے کہ اس جماعت سے الگ مت ہونا۔چنانچہ آنحضرتﷺ فرماتے ہیں کہ

یَدُاللّٰہِ مَعَ الْجَمَاعَۃِ ومَنْ شَذَّ شُذَّ اِلَی النَّارِ۔

کہ خداتعالیٰ کا ہاتھ جماعت کے ساتھ ہوتا ہے اور جو جماعت سے الگ ہوتا ہے وہ آگ کی طرف لے جایا جاتا ہے۔

(ترمذی کتاب الفتن باب لزوم الجماعۃ )

پھرآپﷺنے فرمایا:

مَن فَارَقَ الجَمَاعَۃَ شِبرًا فَمَاتَ اِلَّامَاتَ مِیْتَۃً جَاھِلِیَّۃَ

کہ جس نے جماعت سے ایک بالشت بھر بھی علیحدگی اختیار کی اور اس حال میں مر گیا تو اس کی موت جاہلیت کی موت ہوگی۔

(بخاری کتاب الفتن باب قول النبیؐ سترون بعدی اموراتنکرونھا)

ایک اور مقام پہ فرمایا:

مَن فَارَقَ الجَمَاعَۃَ شِبرًادَخَلَ النَّارَ

۔کہ جس نے جماعت کو ایک بالشت بھر بھی ترک کیا تو وہ آگ میں داخل ہو گیا۔

(مستدرک حاکم کتاب العلم حدیث نمبر 407)

پھر آخری زمانے میں فتنوں کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ

فَإِنْ رَأَيْتَ يَوْمَئِذٍ خَلِيفَةَ اللّٰهِ فِي الْأَرْضِ فَالْزَمْهُ، وَإِنْ نُھِكَ جِسْمُكَ وَأُخِذَ مَالُكَ۔

کہ اگر تم اس دن زمین میں اللہ کا خلیفہ دیکھو اس سے چمٹ جانا خواہ تمہارا جسم نوچ لیا جائے اور تمہارا مال چھین لیا جائے۔

(مسند احمد بن حنبل۔أَحَادِيْثُ رِجَالٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ،حَدِيْثُ حُذَيْفَةَ بْنِ الْيَمَانِ عَنِ النَّبِيِّ۔حدیث نمبر: 23425)

یہ احادیث ہمیں سبق دے رہی ہیں کہ تمام شرعی امورکی حفاظت اور قیادت کے لیے جب اللہ اپنا ایک خلیفہ اورا مام چن لے تو تم اس کی بیعت کرکے اس کی اقتدا میں آجانااور اس کی امامت سے باہر مت نکلنا۔وہ ساری زندگی کے لیے تمہارا امام ہے۔اب تمہاری ظاہری عبادتوں سمیت سب اعمال میں برکتیں اسی امام کی اطاعت سے وابستہ ہو گئی ہیں۔اس کی اطاعت کوچھوڑ کے تم انفرادی طور پر جتنی چاہو کوشش کرو، وہ کوششیں تمہیں کامیابی کی طرف نہیں ہلاکت کی طرف لے جائیں گی۔

حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:’’میں تمہیں نصیحت کرتا ہوں کہ خواہ تم کتنے ہی عقلمند اور مدبّر ہو، اپنی تدبیروں اور عقلوں پر چل کر دین کو کوئی فائدہ نہیں پہنچا سکتے جب تک عقلیں اور تدبیریں خلافت کے ماتحت نہ ہوںاور تم امام کے پیچھے نہ چلو ہر گز اللہ تعالیٰ کی مدد اور نصرت تم حاصل نہیں کر سکتے۔پس اگر تم خداکی نصرت چا ہتے ہو تو یاد رکھو ! اس کا کوئی ذریعہ نہیں سوائے اس کے کہ تمہارا اُٹھنا، بیٹھنا،کھڑا ہونا اور چلنا اور تمہارا بولنا اور خاموش ہونا میرے ماتحت نہ ہو‘‘

(الفضل 4؍ستمبر 1937ء)

جہاں اللہ اور اللہ کے رسولﷺ نے موعود امام اور اس کے ذریعےآخری دَور میں قائم ہونے والی خلافت کی اطاعت پر اس قدر زور دیا ہے تو خدا تعالیٰ کی قائم کردہ اُس خلافت کے متعلق سوال اٹھانا کہ صرف معروف حکم کی اطاعت واجب ہے، خلافت کی ہی نہیں بلکہ اس خدا کی نافرمانی ہے جس نے خلیفہ مقرر فرمایاہے۔ کیونکہ اگرخلیفہ اللہ نے مقررفرمایا ہے تو پھر یہ کیسے ممکن ہے کہ اس کا کوئی فیصلہ غیر معروف ہو؟ ایسا سوچنےکا مطلب ہے کہ(نعوذ باللہ)اللہ تعالیٰ سے انتخاب میں غلطی ہوئی؟ اس لیے یہ سوال اُٹھانا ایک بے ہودہ اور فسق و فجور میں مبتلا ہونے والی بات ہے۔

قارئین کرام اس بات پر بھی غور فرمائیں کہ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ رسول اور خلافت کی اطاعت کو دنیا کی ہر چیز اور ہر رشتہ سے بڑھ کر قرار دیتا ہےاور دونوں کے انکار کو فسق قرار دیا ہے۔ آنحضورﷺ کے متعلق فرمایا:

قُلۡ اِنۡ کَانَ اٰبَآؤُکُمۡ وَ اَبۡنَآؤُکُمۡ وَ اِخۡوَانُکُمۡ وَ اَزۡوَاجُکُمۡ وَ عَشِیۡرَتُکُمۡ وَ اَمۡوَالٌ اقۡتَرَفۡتُمُوۡہَا وَ تِجَارَۃٌ تَخۡشَوۡنَ کَسَادَہَا وَ مَسٰکِنُ تَرۡضَوۡنَہَاۤ اَحَبَّ اِلَیۡکُمۡ مِّنَ اللّٰہِ وَ رَسُوۡلِہٖ وَ جِہَادٍ فِیۡ سَبِیۡلِہٖ فَتَرَبَّصُوۡا حَتّٰی یَاۡتِیَ اللّٰہُ بِاَمۡرِہٖ ؕ وَ اللّٰہُ لَا یَہۡدِی الۡقَوۡمَ الۡفٰسِقِیۡنَ۔(التوبہ:24)

یعنی کہہ دے کہ اگر تمہارے باپ دادا،بیٹے، بھائی، تمہاری بیویاں اور رشتہ دار اور تمہارے وہ اموال جو تم کماتے ہواور وہ تجارت جس کے گھاٹے سے تم ڈرتے ہو اور وہ گھر جو تمہیں پسند ہیں، تمہیں اللہ اور اس کے رسول سے اور اس کی راہ میں جہاد کرنے سے زیادہ پیارے ہیں تو پھر انتظار کرو یہاں تک کہ اللہ اپنا فیصلہ لے آئے۔ اور اللہ فاسقوں کو ہدایت نہیں دیتا۔

اسی طرح خلافت کے بارے میں بھی آیت استخلاف کے آخر میں اللہ تعالی فرماتا ہے

وَ مَنۡ کَفَرَ بَعۡدَ ذٰلِکَ فَاُولٰٓئِکَ ہُمُ الۡفٰسِقُوۡنَ۔(النور:56)

کہ جو بھی اس ( خلافت کے قیام) کے بعد اس کا انکار کرے گا وہ فاسقوں میں سے ہوگا۔ غرض اللہ تعالیٰ نے نبوت اور خلافت دونوں کے انکار کو فسق قرار دے کر گویا خود معروف اور غیر معروف کا فیصلہ فرما دیا ہے کہ نبوت اور خلافت کے ہر حکم کو دنیا کی ہر چیز اور ہر رشتے سے بڑھ کر اہمیت دینا اور تسلیم کرنا معروف فیصلہ ہے اور ان کے کسی بھی حکم کو حقیر سمجھنا غیر معروف فیصلہ ہےاور فسق و فجور کا باعث ہے۔

حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز دسویں شرط بیعت میں ’’طاعت در معروف‘‘ کے الفاظ کی وضاحت بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں:’’اس نظام میں شامل ہو کر ایک بھائی چارے کا رشتہ مجھ سے قائم کر رہے ہو…یہاں برابری کا تعلق اور رشتہ قائم نہیں ہو رہا بلکہ تم اقرار کر رہے ہو کہ آنے والے مسیح کو ماننے کا خدا اور رسول کا حکم ہے۔ اس لئے یہ تعلق اللہ کی خاطر قائم کر رہا ہوں۔ اللہ تعالیٰ کے دین کی سربلندی اور اسلام کو اکناف عالم میں پہنچانے کے لئے، پھیلانے کے لئے رشتہ جوڑ رہے ہیں۔اس لئے یہ تعلق اس اقرار کے ساتھ کامیاب اور پائیدار ہو سکتا ہے جب معروف باتوں میں اطاعت کا عہد بھی کرو اور پھر اس عہد کو مرتے دم تک نبھاؤ۔ اور پھر یہ خیال بھی رکھو کہ یہ تعلق یہیں ٹھہر نہ جائے بلکہ اس میں ہر روز پہلے سے بڑھ کر مضبوطی آنی چاہئے اور اس میں اس قدر مضبوطی ہو اور اس کے معیار اتنے اعلیٰ ہوں کہ اس کے مقابل پر تمام دنیاوی رشتے،تعلق، دوستیاں ہیچ ثابت ہوں۔ ایسا بے مثال اور مضبوط تعلق ہو کہ اس کے مقابل پر تمام تعلق اور رشتے بے مقصد نظر آئیں…رشتہ داریوں میں کبھی کچھ لو اور کچھ دو، کبھی مانواور کبھی منواؤ کا اصول بھی چل جاتا ہے۔ تو یہاں یہ واضح ہو کہ تمہارا یہ تعلق غلامانہ اور خادمانہ تعلق بھی ہے بلکہ اس سے بڑھ کر ہونا چاہئے۔ تم نے یہ اطاعت بغیر چون چرا کئے کرنی ہے‘‘

(شرائط بیعت اور احمدی کی ذمہ داریاں، صفحہ 168،ایڈیشن2007ء)

خلافت کا وعدہ اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں بیان فرمایا۔ آنحضورﷺ نے بھی آخری دَور میں خلافت علیٰ منہاج النبوّۃ قائم ہونے کی پیشگوئی فرمائی۔مسلمان صدیوں سے اس خلافت کے قیام کا انتظار کر رہے تھے۔کیایہ انتظار اس لیے تھاکہ خلافت قائم ہو اور ہم خلیفہ وقت کے فیصلوں پر قاضی بن جائیں کہ ان کا کون سا فیصلہ معرف اور کون سا غیر معروف ہے؟ خلافت کے قیام کے بعد ہم خلیفہ ٔوقت کے حَکمہوں گے یا خلیفہ ٔ وقت ہمارا حَکمہو گا؟ وہ ہمارا فیصلہ کرے گا یا ہم اس کا فیصلہ کریں گے؟ کیا کوئی تصوّر بھی کر سکتا ہے کہ فیصلہ نعوذ باللہ ہم کریں گے؟

خلیفہ نبی کا جانشین ہے اور اس کا کام بھی وہی ہے جو نبی کا کام ہوتا ہے۔ اگر نبی حَکم ہے تو خلیفہ بھی لازما ًحَکم ہو گا۔ آنحضورﷺ نے تو آنے والے مسیح موعود علیہ السلام کو حَکم قرار دیا تھا،کسی اور کو نہیں۔ فرمایا کہ

يُوشِكُ مَنْ عَاشَ مِنْكُمْ أَنْ يَلْقَى عِيسَى ابْنَ مَرْيَمَ إِمَامًا مَهْدِيًّا وَحَكَمًا عَدْلًا

کہ قریب ہے کہ تم میں سے جو زندہ رہے وہ مسیح ابن مریم سے ایسی حالت میں ملے کہ وہ (مسیح)مہدی اور حَکم و عدل ہو گا۔

(مسند احمد بن حنبل)

اس حدیث میں آنحضورﷺ نے جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو حکم و عدل قرار دیا ہے تو پھر اس مسیح موعودؑ کے ذریعے قائم ہونے والی خلافت میں بھی حکم و عدل اس کا جانشین ہی ہو گا۔ اس کے علاوہ کوئی حَکمنہیں ہو سکتا کہ اس کے مقابل پر کوئی فیصلہ کرے اور نہ ہی خدا تعالیٰ کے حضور اس جانشین کے مقابل پر کسی اور کے فیصلے کی کوئی حیثیت ہے۔

پس جس ہستی کو رسول کریمﷺ کی پیشگوئی کے مطابق اللہ تعالیٰ خلافت کے منصب پہ فائز فرماتا ہے، اس کا ہر فیصلہ یقیناً اللہ تعالیٰ اور رسول کریمﷺ کی مرضی و منشا کے مطابق ہو تا ہے۔لہٰذا خلیفہ وقت کا ہر فیصلہ معروف فیصلہ ہے۔ایسے معترضین جن کا کہنا ہے کہ صرف معروف فیصلے کو ماننے کا حکم ہے، وہ ذرا غور کریں کہ ایک واجب الاطاعت سربراہ کے بغیر تو گھر کا نظام نہیں چل سکتا۔ کیا کسی دنیوی حکومت میں کوئی ایک شعبہ بھی ایسا ہے جہاں افسر کی نافرمانی کی جا سکتی ہے؟ بلکہ فوج میں تو سختی سے اس بات پر عمل ہوتا ہے کہ افسر کا حکم غلط بھی ہو تو اطاعت ضروری ہے۔ تو دین کا نظام کسی واجب الاطاعت امام کے بغیر کیسے چل سکتا ہے؟

جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ خلیفہ اپنے فیصلوں میں غلطی بھی تو کر سکتا ہے، ان کو یاد رکھنا چاہیے کہ یہ توآنحضورﷺ نے بھی اپنے متعلق فرمایا ہے کہ میں بھی کوئی فیصلہ کرنے میں غلطی کر سکتا ہوں۔ آپؐ فرماتے ہیں کہ

’’میں ایک انسان ہو ں۔ تم میرے پاس اپنے جھگڑے لاتے ہو۔ممکن ہے کہ تم میں سےکوئی اپنے مقدمہ کو پیش کرنے میں فریق ثانی کی نسبت چرب زبان ہو اور میں تمہاری بات سن کر فیصلہ کر دوں۔جس شخص کے لیے میں اس کے بھائی ( فریق ثانی) کا کوئی حق دلا دوں تو چاہیے کہ وہ اسے نہ لے کیونکہ یہ آگ کا ایک ٹکرا ہے جو میں اسے دیتا ہوں‘‘

(بخاری، کتابُ الاَحکام، باب مَوعِظَۃ الامامِ للِخصومِ)

تو کیا ایسی صورت میں آنحضورﷺ کے فیصلے ماننے سے بھی یہ اعتراض کر کے انکارکردو گے کہ آپﷺبھی نعوذ باللہ فیصلے میں غلطی کر سکتے ہیں؟

اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں آنحضورﷺ کو مخاطب کرتے ہوئے فرماتا ہے کہ اے نبی! جب مومن عورتیں تیرے پاس بیعت کے لئے آئیں اور اس بات پہ بیعت کریں کہ وہ اللہ کے ساتھ شریک نہیں ٹھہرائیں گی اور نہ چوری کریں گی اور نہ زنا کریں گی اور نہ اپنی اولاد کو قتل کریں گی اور نہ کوئی بہتان تراشی کریں گی

وَلَا يَعْصِيْنَكَ فِي مَعْرُوْفٍ ۙ فَبَايِعْهُنَّ( الممتحنہ : 13)

اور نہ ہی معروف باتوں میں تیری نافرمانی کریں گی تو ان کی بیعت لے لے۔

کیا معترض یہاں بھی یہی اعتراض کرے گا کہ (نعوذ باللہ من ذالک) یہا ں اللہ تعالیٰ نے آنحضورﷺ کے صرف معروف احکام کی نافرمانی سے روکا ہے۔ غیر معروف احکام کی نافرمانی سے نہیں روکا ؟ کیا آنحضورﷺ بھی نعوذ با اللہ غیرمعروف حکم دے سکتے ہیں ؟ اسی طرح قرآن کریم میں حضرت شعیب علیہ السلام نے کافروں سے مخاطب ہو کر فرمایا کہ

وَمَا يَكُونُ لَنَا أَنْ نَعُوْدَ فِيْهَا إِلَّا أَنْ يَشَاءَ اللّٰهُ ( الاعراف : 90)

کہ ہمارے لئے ممکن نہیں ہم اس (کفر ) میں واپس لوٹیں سوائے اس کےکہ اللہ ایسا چاہے۔ اب کیا کوئی اس سے یہ نتیجہ نکال سکتا ہے کہ اللہ بھی نعوذ با للہ کفر کو پسند کر سکتا ہے؟ ہر گز نہیں۔ پس ایسے الفا ظ محض ادب کے پیش نظر استعمال کیے جاتے ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ جس طرح اللہ اپنے احکام کا کفر پسند نہیں کرتا اسی طرح میں بھی آپ کے کفریہ دین میں جانا کبھی پسند نہیں کرسکتا۔ یہی مطلب معروف کا بھی ہے۔معروف کا لفظ بھی دراصل نبی (اور نبی کی غیر موجودگی میں ) اس کے خلیفہ کے لیے بطور ادب استعمال ہوا ہے۔یعنی جس طرح اللہ تعالیٰ صرف معروف بات کو ہی پسند کرتا ہے اسی طرح اللہ کا رسول اور خلیفہ بھی صرف معروف بات اور کام کو پسندکرتے ہیں۔لہٰذا ان کا ہر فیصلہ معروف ہوتا ہے۔

پھر فرمایا:

وَلْتَكُنْ مِنْكُمْ أُمَّةٌ يَّدْعُوْنَ إِلَى الْخَيْرِ وَيَأْمُرُوْنَ بِالْمَعْرُوفِ وَيَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ …( آل عمران : 105)

کہ تم میں ایک جماعت ہو نی چاہئے جو بھلائی کی طرف بلائے اور معروف باتوں کا حکم دے اور ناپسندیدہ باتوں سے روکے۔

اس آیت کے مطابق اللہ تعالیٰ عام مومن سے بھی یہی توقع رکھتا ہے کہ اس کی بات معروف بات ہونی چاہیے، کجا یہ کہ انسان خلیفہ وقت یا نبی کے بارے میں ایسی سوچ رکھے۔ پس ایسا سوچنا خدا خوفی کا مقام ہے۔ قرآن کریم کے مطابق یہ منافقت کی علامات میں سے ہے جو انسان کو ایمان سے محروم کر دیتی ہیں۔ اللہ تعالیٰ ایسے منافق طبع لوگوں کے بارے میں ہی فرماتا ہے کہ

قُلۡ اَتُعَلِّمُوۡنَ اللّٰہَ بِدِیۡنِکُمۡ ؕ وَ اللّٰہُ یَعۡلَمُ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الۡاَرۡضِ ؕ وَ اللّٰہُ بِکُلِّ شَیۡءٍ عَلِیۡمٌ۔یَمُنُّوۡنَ عَلَیۡکَ اَنۡ اَسۡلَمُوۡا ؕ قُلۡ لَّا تَمُنُّوۡا عَلَیَّ اِسۡلَامَکُمۡ ۚ بَلِ اللّٰہُ یَمُنُّ عَلَیۡکُمۡ اَنۡ ہَدٰٮکُمۡ لِلۡاِیۡمَانِ اِنۡ کُنۡتُمۡ صٰدِقِیۡنَ۔ (الحجرات:17تا18)

پوچھ کہ کیا تم اللہ کو اپنا دین سکھاتے ہو؟ جبکہ اللہ جانتا ہے جو آسمانوں میں ہے اور جو زمین میں ہے اور اللہ ہر چیز کا خوب علم رکھتا ہے۔ وہ تجھ پر احسان جتلاتے ہیں کہ وہ مسلمان ہوگئے ہیں۔ تُو کہہ دے مجھ پر اپنے اسلام کا احسان نہ جتایا کرو بلکہ اللہ تم پر احسان کرتا ہے کہ اس نے تمہیں ایمان کی طرف ہدایت دی۔ اگر تم سچے ہو (تو اس کا اعتراف کرو)۔

پس اسی آیت کے مطابق آج اگر کوئی خلافت کی بیعت کرتا ہے تو وہ خلیفۂ وقت پر کوئی احسان نہیں کرتا بلکہ یہ اللہ کا اس پر احسان ہے کہ اللہ نے اسے بیعت کی توفیق عطا فرمائی۔

جیسا کہ عرض کیا گیا ہے کہ خلیفہ نبی کا جانشین ہوتا ہے۔ اسی کے کاموں کو آگے بڑھاتا ہے۔لہٰذا جو احکام نبی کے متعلق ہیں وہی نبی کے بعد خلیفۂ وقت کے متعلق ہیں۔چنانچہ نبی (اور نبی کی غیر موجودگی میں اس کے خلیفہ) کے فیصلوں کے متعلق مومنوں کے ردّعمل کا ذکر کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ

اِنَّمَا کَانَ قَوۡلَ الۡمُؤۡمِنِیۡنَ اِذَا دُعُوۡۤا اِلَی اللّٰہِ وَ رَسُوۡلِہٖ لِیَحۡکُمَ بَیۡنَہُمۡ اَنۡ یَّقُوۡلُوۡا سَمِعۡنَا وَ اَطَعۡنَا ؕ وَ اُولٰٓئِکَ ہُمُ الۡمُفۡلِحُوۡن۔َ

کہ مومنوں کا قول جب انہیں اللہ اور اس کے رسول کی طرف بلایا جاتا ہے تا کہ وہ ان کے درمیان فیصلہ کرے محض یہ ہوتا ہے کہ ہم نے سنا اور اطاعت کی۔ اور یہی ہیں جو مراد پاجانے والے ہیں۔ (النور :52)

یہ نہیں فرمایا کہ مومن سوچ لیا کریں کہ بات معروف ہے یا نہیں بلکہ جو کہا گیا اسے سنتے ہی فوراً اطاعت کریں۔ البتّہ منافقوں کے متعلق فرمایا کہ

یُرِیۡدُوۡنَ اَنۡ یَّتَحَاکَمُوۡۤا اِلَی الطَّاغُوۡتِ وَ قَدۡ اُمِرُوۡۤا اَنۡ یَّکۡفُرُوۡا بِہٖ ؕ وَ یُرِیۡدُ الشَّیۡطٰنُ اَنۡ یُّضِلَّہُمۡ ضَلٰلًۢا بَعِیۡدًا۔(النسا:61)

وہ چاہتے ہیں کہ فیصلے شیطان سے کروائیں جبکہ انہیں حکم دیا گیا تھا کہ وہ اس کا انکار کریں۔ اور شیطان یہ چاہتا ہے کہ وہ اُنہیں دُور کی گمراہی میں بہکا دے۔

اس آیت میں اللہ نے ایسے لوگوں کی باتوں کو جو خود حَکم بننا چاہتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہم فیصلہ کریں گے کہ خلیفہ وقت کی بات معروف ہے یا نہیں،شیطان کی پیروی کرنا اور گمراہی کے رستے پہ چلنا قرار دیا ہے۔

پھر آیت استخلاف سے چند آیات قبل فرمایا کہ

وَ یَقُوۡلُوۡنَ اٰمَنَّا بِاللّٰہِ وَ بِالرَّسُوۡلِ وَ اَطَعۡنَا ثُمَّ یَتَوَلّٰی فَرِیۡقٌ مِّنۡہُمۡ مِّنۡۢ بَعۡدِ ذٰلِکَ ؕ وَ مَاۤ اُولٰٓئِکَ بِالۡمُؤۡمِنِیۡنَ۔

یعنی اور وہ کہتے ہیں کہ ہم اللہ پر اور رسول پر ایمان لائے اور ہم نے اطاعت کی۔ پھر بھی ان میں سے ایک فریق اُس کے بعد پیٹھ پھیر کر چلا جاتا ہے اور یہ لوگ ہرگز مومن نہیں ہیں۔ ( النور: 48)

پس جو لوگ ایمان اور اطاعت کا دعویٰ کر کے پھر اس اطاعت سے پیچھے ہٹنے کے لیے معروف و غیر معروف کے بہانے گھڑنے لگیں۔ ان کے متعلق اللہ نے واضح فرما دیا کہ ان کا کوئی ایمان نہیں۔ پھر فرمایا کہ

فَلَا وَ رَبِّکَ لَا یُؤۡمِنُوۡنَ حَتّٰی یُحَکِّمُوۡکَ فِیۡمَا شَجَرَ بَیۡنَہُمۡ ثُمَّ لَا یَجِدُوۡا فِیۡۤ اَنۡفُسِہِمۡ حَرَجًا مِّمَّا قَضَیۡتَ وَ یُسَلِّمُوۡا تَسۡلِیۡمًا۔(النساء:66)

نہیں! تیرے ربّ کی قَسم! وہ کبھی ایمان نہیں لا سکتے جب تک وہ تجھے ان امور میں منصف نہ بنا لیں جن میں ان کے درمیان جھگڑا ہوا ہے۔ پھر تُو جو بھی فیصلہ کرے اس کے متعلق وہ اپنے دلوں میں کوئی تنگی نہ پائیں اور کامل فرمانبرداری اختیار کریں۔

پھر ایک اور مقام پہ فرمایا کہ

یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا لَا تَرۡفَعُوۡۤا اَصۡوَاتَکُمۡ فَوۡقَ صَوۡتِ النَّبِیِّ وَ لَا تَجۡہَرُوۡا لَہٗ بِالۡقَوۡلِ کَجَہۡرِ بَعۡضِکُمۡ لِبَعۡضٍ اَنۡ تَحۡبَطَ اَعۡمَالُکُمۡ وَ اَنۡتُمۡ لَا تَشۡعُرُوۡنَ۔

کہ اے لوگو جو ایمان لائے ہو! نبی کی آواز سے اپنی آوازیں بلند نہ کیا کرو اور جس طرح تم میں سے بعض لوگ بعض دوسرے لوگوں سے اونچی آواز میں باتیں کرتے ہیں اس کے سامنے اونچی بات نہ کیا کرو ایسا نہ ہو کہ تمہارے اعمال ضائع ہوجائیں اور تمہیں پتہ تک نہ چلے۔ (الحجرات:3)

قرآن کریم کے اسی حکم کے مطابق خلیفۂ وقت کے سامنے بھی یہی طریق اپنانا ہو گا۔ یعنی خلیفہ ٔ وقت کی آواز کے سامنے سب آوازیں ہیچ ہیں اور اس کے فیصلے کے سامنے سب فیصلے بے کار ہیں۔ اس کے مقابل پرکسی فیصلے کی کوئی حیثیت واہمیت نہیں ہے۔ایسا کرنا لاعلمی میں اپنے سب اعمال ضائع کردینے کا باعث ہو گا۔

ذرا غور فرمائیے کہ اللہ تعالیٰ کتنی وضاحت کے ساتھ اپنے رسول ( اور خلیفہ )کی اطاعت کا حکم دے رہا ہے۔ کیا خدا تعالیٰ نے ایک ذرّ ہ بھی اس امر کی کوئی گنجائش باقی چھوڑی ہے کہ کوئی خلیفہ ٔوقت کے فیصلوں کے بارے میں معروف اور غیر معروف کی بحث اُٹھائے۔ سوائے اس کے جس کے دل میں ایمان کی چنگاری بجھ گئی ہو۔اور جب دل میں ایمان کی چنگاری بجھ جائے تو وہ دل مردہ ہے۔اس میں روحانی زندگی کی رمق باقی نہیں رہتی۔ایسے لوگو ں کے لیے زندگی کی واحد اُمید صرف اور صرف الٰہی نظام کی اطاعت میں ہے۔اسی لیے اللہ فرماتا ہے

یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوا اسۡتَجِیۡبُوۡا لِلّٰہِ وَ لِلرَّسُوۡلِ اِذَا دَعَاکُمۡ لِمَا یُحۡیِیۡکُمۡ

یعنی اے ایمان والو! اللہ اور رسول کی آواز پر لبیک کہا کرو جب وہ تمہیں بلائے تاکہ تمہیں زندہ کرے۔ ( الانفال : 25)

پس اللہ کا خلیفہ تو انہیں زندگی کی طرف بلاتا ہے لیکن وہ اپنے دلی مردہ پن کی وجہ سے کہتے ہیں پہلے سوچیں گے کہ یہ بات معروف ہے یا نہیں۔ تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی انبیاءمبعوث ہوئے تو وہ اکیلے تھے لیکن جب مومنین کی جماعت بن گئی اور انہوں نے نبی کے بعد خلافت کی اطاعت کی تو وہ کامیابیوں کے جھنڈے گاڑتے چلے گئے۔جبکہ اطاعت سے انکار نے قوموں کو برباد کردیا۔آج مسلمان کیوں کمزور ہیں ؟ حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ اس طرف توجہ دلاتے ہوئے فرماتے ہیں کہ ’’کیونکہ رسول کی اطاعت کی اصل غرض یہ ہوتی ہے کہ سب کو وحدت کے ایک رشتہ میں پرو دیا جائے۔یوں تو صحابہؓ بھی نمازیں پڑھتے تھے اور آجکل کے مسلمان بھی نمازیں پڑھتے ہیں۔صحابہ ؓبھی حج کرتے تھے اور آجکل کے مسلمان بھی حج کرتے ہیں۔پھر صحابہؓ اور آجکل کے مسلمانوں میں فرق کیا ہے؟ یہی ہے کہ صحابہ ؓمیں ایک نظام کا تابع ہونے کی وجہ سے اطاعت کی روح حدّ کمال کو پہنچی ہوئی تھی۔چنانچہ رسول کریمﷺ انہیں جب بھی کوئی حکم دیتے صحابہ ؓاسی وقت اس پر عمل کرنے کے لئے کھڑے ہو جاتے تھے۔ لیکن اطاعت کی یہ روح آجکل کے مسلمانوں میں نہیں …کیونکہ اطاعت کا مادہ نظام کے بغیر پیدا نہیں ہو سکتا۔ پس جب بھی خلافت ہو گی، اطاعت رسول بھی ہو گی‘‘

(تفسیر کبیر جلد 6صفحہ 369)

پس صحابہ ؓغریب تھے، کمزور تھے لیکن قیصر و کسریٰ جیسی سلطنتیں ان کے قدموں میں آ گریں۔آج کے مسلمان دولتمند ہیں لیکن ایک منتشر ہجوم ہیں۔ صحابہؓ نبی اور خلافت کی آواز پہ لبیک کہنے والے تھے، یہ نبی اور خلافت کا انکار کرنے والے ہیں۔وہ زندگی کے چشمے کو پہچان گئے تھے اور یہ زندگی کے چشمے سے دور بھاگ رہے ہیں۔وہ اسی چشمےکی برکت سے بڑھتے اور ترقی کرتے گئے، یہ ترقیات سے محروم ہوتے چلے جاتے ہیں۔ جماعت احمدیہ میں خلافت کی اطاعت کا نتیجہ آج دنیا کے سامنے ہے کہ اللہ کی تائید و نصرت کیسے ہمارے ساتھ ہے۔ ایک طرف سارا عالم مل کر جماعت کو مٹانا چاہتا ہے لیکن جماعت اللہ کے فضل سے ترقی کی راہ پر گامزن ہے۔ جبکہ دوسری طرف عالم اسلام مل کر اپنے آپ کو بچانا چاہتا ہے لیکن دن بدن گرتا چلا جاتا ہے۔آج اِس آخری زمانے میں دین و دنیا کی ترقیات آنحضورﷺ کی پیشگوئی کے مطابق خدا کی قائم کردہ خلافت سے وابستہ ہیں۔جو اس سے منہ موڑتا ہے، وہ خدا سے منہ موڑتا ہے اور خود اپنی رُوحانی موت کا سامان پیداکرتا ہے۔اور جو اس چشمے سے اپنے آپ کو سیراب کرےگا وہ سرسبز و شاداب رہے گا اور جو اس سے دُور بھاگے گا وہ روحانی ویرانی کے سوا کچھ حاصل نہیں کر سکے گا۔

حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرماتے ہیں:’’پس فکر کرنی چاہئے تو ان لوگوں کو جو خلافت کے انعام کی اہمیت کو نہیں سمجھتے، یہ خلیفہ نہیں ہے جو خلافت کے مقام سے گرایا جائے گا بلکہ یہ وہ لوگ ہیں جو خلافت کے مقام کو نہ سمجھنے کی وجہ سے فاسقوں میں شمار ہوں گے۔ تباہ وہ لوگ ہوں گے جوخلیفہ یا خلافت کے مقام کو نہیں سمجھتے، ہنسی ٹھٹھا کرنے والے ہیں۔ پس یہ وارننگ ہے، تنبیہ ہے ان کو جو اپنے آپ کو مسلمان کہتے ہیں یا وارننگ ہے ان کمزور احمدیوں کو جو خلافت کے قیام و استحکام کے حق میں دعائیں کرنے کی بجائے اس تلاش میں رہتے ہیں کہ کہاں سے کوئی اعتراض تلاش کیا جائے‘‘

(خطبہ جمعہ فرمودہ 27؍مئی 2005ء مطبوعہ الفضل انٹرنیشنل10؍جون2005ءصفحہ6)

پھر حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:

’’یاد رکھیں وہ سچے وعدوں والا خدا ہے۔ وہ آج بھی اپنے پیارے مسیح کی اس پیاری جماعت پر ہاتھ رکھے ہوئے ہے۔وہ ہمیں کبھی نہیں چھوڑے گا اور کبھی نہیں چھوڑے گا اور کبھی نہیں چھوڑے گا…پس ضرورت ہے تو اس بات کی کہ کہیں کوئی شخص اللہ تعالیٰ کے احکامات پر عمل نہ کر کے خود ٹھوکر نہ کھا جائے۔ اپنی عاقبت خراب نہ کرلے۔ پس دعائیں کرتے ہوئے اور اس کی طرف جھکتے ہوئے اور اس کا فضل مانگتے ہوئے ہمیشہ اس کے آستانہ پر پڑے رہیں‘‘

( خطبہ جمعہ فرمودہ21؍مئی 2004ء مطبوعہ الفضل انٹرنیشنل4؍جون2004ءصفحہ9)

اللہ تعالیٰ ہمیں ہمیشہ خلافت کے قدموں سے چمٹے رہنے کی توفیق عطا فرمائے اور خلیفہ وقت کے تمام فیصلوں کواس طرح سمجھنے اور ان پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے جس طرح خدا ہم سے چاہتا ہے۔آمین اللّٰھم آمین۔

٭…٭…٭

متعلقہ مضمون

رائے کا اظہار فرمائیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

For security, use of Google's reCAPTCHA service is required which is subject to the Google Privacy Policy and Terms of Use.

I agree to these terms.

Back to top button
Close