حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز

حسن سلوک کے اعلیٰ معیار

رحمی رشتے اور ان کی اہمیت

جلسہ سالانہ برطانیہ 2011ءمیں خواتین سے حضورِ انور نے جب خطاب فرمایا تھا تواس سے قبل تلاوت قرآن کریم میں اُنہی آیات کریمہ کا انتخاب فرمایا تھاجو اعلان نکاح کے موقع پر پڑھی جاتی ہیں۔ بعدازاں آپ نے فرمایا:

’’عائلی مسائل جو ہمارے سامنے آتے ہیں اُن میں بسا اوقات کبھی عورت کی طرف سے اور کبھی مرد کی طرف سے یہ issue بہت اُٹھایا جاتا ہے کہ ہمارے ماں باپ یا بہن بھائیوں کو کسی ایک نے بُرا کہا۔ مرد یہ الزام لگاتا ہے کہ عورتیں کہتی ہیں، عورتیں الزام لگاتی ہیں کہ مرد کہتے ہیں کہ میرے ماں باپ کی برائی کی۔ اُن کو یہ کہا، اُن کو وہ کہا۔ اُن کو گالیاں دیں۔ تو یہ چیز جو ہے یہ تقویٰ سے دور ہے۔ یہ چیز پھر گھروں میں فساد پیدا کرتی ہے۔ پھر یہی نہیں بعض دفعہ یہ بھی ہوتا ہے کہ یہاں صرف الزام کی بات نہیں ہے بلکہ ایسے بھی لوگ ہوتے ہیں اور بعض الزامات سچے بھی نکلتے ہیں کہ بچوں کو دادا دادی یا نانا نانی کے خلاف بھڑکایا جاتا ہے۔ ایک دوسرے کے قریبی رشتوں کے خلاف نازیبا الفاظ استعمال کئے جاتے ہیں۔ بچوں کو اُن سے متنفر کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ یہ تقویٰ سے بعید ہے۔ یہ تقویٰ نہیں ہے۔ تم تو پھر تقویٰ سے دور چلتے چلے جا رہے ہو۔ اس لئے اپنے رحمی رشتوں کا بھی خیال رکھو۔ ان آیات میں، پہلی آیت میں ہی اس طرف بھی توجہ دلائی ہے کہ اپنے رحمی رشتوں کا بھی خیال رکھو۔ ماں باپ صرف خود ہی خیال نہ رکھیں اپنے بچوں کو بھی ان رحمی رشتوں کا تقدس اور احترام سکھائیں۔ تب ہی ایک پاک معاشرہ قائم ہو سکتا ہے اور خود بھی اس کے تقدس کا خیال بہت زیادہ رکھیں کیونکہ ماں باپ کے نمونے جو ہیں وہ بچوں پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ ‘‘

(خطاب فرمودہ 23؍جولائی2011ء برموقع جلسہ سالانہ برطانیہ)

رشتے داروں سے حسنِ سلوک

رشتہ داروں سے حسنِ سلوک کی اہمیت کے ضمن میں احمدی خواتین سے خطاب کرتے ہوئے حضور انورایّدہ اللہ تعالیٰ نےفرمایا:

’’پھر رشتہ داروں سے حسنِ سلوک ہے۔ یہ ایک بہت اہم چیز ہے۔ ذرا ذرا سی بات پر بعض رشتوں میں دراڑیں پڑ جاتی ہیں۔ ایک نیکی جو ہے جس کا اللہ تعالیٰ ثواب دے رہا ہوتا ہے اُس سے محروم ہو جاتی ہیں۔ اگر یہ رشتے داروں سے حسنِ سلوک کی نیکی رہے تو عموماً میں نے دیکھا ہے کہ گھروں میں جو رشتے برباد ہوتے ہیں، ٹوٹتے ہیں، خاوند اور بیوی کی آپس میں جو لڑائیاں ہوتی ہیں وہ نندوں اور بھابھیوں کی لڑائیاں ہیں، ساس اور بہو کی لڑائیاں ہیں۔ اگر ایک دوسرے سے حسنِ سلوک کر رہے ہوں گے تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا کہ کسی قسم کی ایک دوسرے کے خلاف رنجشیں پیدا ہوں، برائیاں پیدا ہوں۔ پس یہ بھی نیکیوں میں آگے بڑھنے والی مومنات کا کام ہے کہ اپنے رشتوں کا بھی پاس اور خیال رکھیں۔ ‘‘

(خطاب فرمودہ 17؍ستمبر2011ء برموقع سالانہ اجتماع لجنہ اماء اللہ جرمنی)

مختلف رشتہ داروں کا خیال رکھنے کے اسلامی حکم پر تفصیل سے روشنی ڈالتے ہوئے نیز اس کی پاسداری نہ کرنے کے نتیجہ میں پیدا ہونے والے مسائل میں سے عائلی مسائل کا تذکرہ کرتے ہوئے حضور انور ارشاد فرماتے ہیں:

’’اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ تم اپنے قریبی رشتہ داروں کا بھی خیال رکھو، ان سے بھی احسان کا سلوک کرو۔ یہ حسن سلوک ہے جس سے تمہارے معاشرے میں صلح اور سلامتی کا قیام ہو گا۔ قریبی رشتہ داروں میں تمام رحمی رشتہ دار ہیں، تمہارے والد کی طرف سے بھی اور تمہاری والدہ کی طرف سے بھی۔ پھر بیوی کے رحمی رشتہ دار ہیں۔ پھر خاوند کے رحمی رشتہ دارہیں۔ دونوں پر یہ ذمہ داری عائد ہو گئی کہ ایک دوسرے کے رحمی رشتہ داروں کے حقوق ادا کرو، ان کی عزت کرو، ان کا احترام کرو، ان کے لئے نیک جذبات اپنے دل میں پیدا کرو۔ غرض کہ وہ تمام حقوق جو تم اپنے قریبی رشتہ داروں کے لئے پسند کرتے ہو، ان قریبی رشتہ داروں کے لئے پسند کرتے ہو جن سے تمہارے اچھے تعلقات ہیں، کیونکہ قریبی رشتہ داروں میں بھی تعلقات میں کمی بیشی ہوتی ہے بعض دفعہ قریبی رشتہ داروں میں بھی دراڑیں پڑ جاتی ہیں۔ اس لئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ اپنے قریبی رشتہ داروں سے بھی حسن سلوک کرو۔ صرف ان سے نہیں جن سے اچھے تعلقات ہیں، جنہیں تم پسند کرتے ہوبلکہ جنہیں تم نہیں پسند کرتے، جن سے مزاج نہیں بھی ملتے ان سے بھی اچھا سلوک کرو۔ پس یہ حسن سلوک ہر قریبی رشتہ دارسے کرناہے جیسا کہ میں نے کہا کہ صرف ان سے نہیں جن سے مزاج ملتے ہیں بلکہ ہر ایک سے۔ بلکہ حکم یہ ہے کہ نہ صرف اپنے قریبی رشتہ داروں سے بلکہ مرد کے لئے اپنی بیوی اور عورت کے لئے اپنے خاوند کے قریبی رشتہ داروں کے لئے بھی حسن سلوک کرنے کا حکم ہے۔ یہ سلوک ہے جو اللہ کی سلامتی کے پیغام کے ساتھ سلامتی پھیلانے والا ہو گا۔ ‘‘

(خطبہ جمعہ فرمودہ یکم جون 2007ء بمقام بیت الفتوح لندن)

(ماخوذ از عائلی مسائل اور ان کا حل صفحہ 66تا69)

٭…٭…٭

مزید دیکھیں

متعلقہ مضمون

رائے کا اظہار فرمائیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

For security, use of Google's reCAPTCHA service is required which is subject to the Google Privacy Policy and Terms of Use.

I agree to these terms.

Back to top button
Close