یورپ (رپورٹس)

چھ روزہ تبلیغی دورہ سویڈن

(رضوان احمد افضل۔ نمائندہ الفضل انٹرنیشنل)

اللہ تعالیٰ کے فضل سے جماعت احمدیہ سویڈن کو سویڈن کے وسطی علاقوں کا ایک چھ روزہ تبلیغی دورہ مؤرخہ 2تا 7؍اپریل ترتیب دینے کی توفیق ملی۔ اس تبلیغی دورہ میں مکرم کاشف ورک صاحب مبلغ سلسلہ سٹاک ہالم اور خاکسار (مبلغ سلسلہ مالمو) شامل ہوئے۔ دورے کے آغا زسے قبل کئی ایک میٹنگز کی گئیں اور دورے کے سلسلہ میں سارے انتظامات کو ترتیب دیا گیا۔

مورخہ 2؍اپریل کی صبح تبلیغی دورے کا سفر گاتھن برگ سے شروع ہوا اور مکرم آغا یحیٰ خان صاحب مبلغ انچارج سویڈن نے دعا کروائی۔ کُل 2500کلومیٹر سے زائد کا فاصلہ اس دورے کے دوران طے کیا گیا۔ گاڑی کے پیچھے جماعتی کاروان نصب کیا گیاجس پر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی بڑی تصویر، ’مسیح آگیا‘ کی سویڈش میں تحریر نیز جماعتی ویب سائٹ اور ماٹو ’محبت سب کے لیے نفرت کسی سے نہیں ‘ نمایاں طور پر لکھا گیا تھا۔ لوکل پولیس کی اجازت سے اس کاروان کو 5 مختلف شہروں کی مرکزی شاہراہوں پر 5۔5گھنٹوں کے لیے کھڑا کیا گیا اور زائرین کو موقع دیا گیا کہ وہ ہم سے اسلام کے بارے میں سوالات کریں۔ جس پر اللہ کے فضل سے ایک بڑی تعداد میں لوگوں نے اسلام کے بارے اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی آمد سے متعلق سوالات کیے۔ ان شہروں کے نام Örebro، Karlskoga، Karlstad، Borlänge اور Gävle ہیں۔ ہماری آمد سے متعلق اطلاع لوکل سیاستدانوں اور عیسائی چرچوں کو بھی دی گئی۔ اس سفر کی تواریخ Easter کے دنوں کے مطابق رکھی گئی تھیں تاکہ اس حوالہ سے مسیح موعود علیہ السلام کی آمد کو highlight کیا جاسکے۔

اللہ تعالیٰ کے فضل سے لوکل میڈیا میں اس دورہ کی خوب تشہیر ہوئی۔ کُل 6اخبارات، دو ریڈیو سٹیشنز اور ایک ٹی وی چینل نے ہمارے اس دورے کی تفصیلی خبر شائع کی۔ اسی طرح ان میڈیا ہاؤسز نےان خبروں کو اپنی ویب اخبارات اور سوشل میڈیا پر بھی شائع کیا۔ ان اخباروں نے لکھا کہ جماعت احمدیہ کا ماٹو ہے Love for all Hatred for none۔ دورہ کا مقصد تفصیل سے لکھا کہ Messiah has come اور Ask a Muslim اس کا theme ہے۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کا دعویٰ مع تفصیل اور تصویر شائع ہوا۔ اسلام کی آزادئ رائے سے متعلق تعلیم، عورتوں کے حقوق، ملک سے وفا داری، جماعت احمدیہ کی مذہبی اور سماجی ہم آہنگی کے قیام سے متعلق کاوشیں وغیرہ امور ان مضامین میں بیان ہوئے۔ جماعتی طور پر سوشل میڈیا یعنی Facebook، Twitter اورInstagram کے ذریعہ بھی ساتھ ساتھ ان خبروں کی تشہیر کی گئی۔ جس پر سوشل میڈیا پر پوچھے جانے والے سوالات کے بھی ساتھ کے ساتھ جوابات دیے جاتے رہے۔ ان تمام وسائل کے ذریعہ اس دورہ کی خبر اور جماعت کا تعارف لاکھوں افراد تک پہنچا۔ الحمد للہ

اسی طرح ان دور دراز علاقوں میں مقیم احباب جماعت سے بھی ملاقات کی گئی۔ ان تمام احباب نے اس سفر کو کامیاب بنانے میں اپنا خوب کردار ادا کیا۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ انہیں بہترین جزا عطا فرمائے۔ آمین

قارئین الفضل کی خدمت میں دعا کی درخواست ہے کہ اللہ تعالیٰ محض اپنے فضل سے اس سفر کے دور رس نتائج پیدا فرمائے مزید اور اس قسم کے پروگرام مرتب کرنے کی توفیق ملتی رہے۔ آمین

(رپورٹ: رضوان احمد افضل۔ نمائندہ الفضل انٹرنیشنل)

متعلقہ مضمون

رائے کا اظہار فرمائیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close