متفرق مضامین

بنیادی مسائل کے جوابات (نمبر 10)

(ظہیر احمد خان۔ مربی سلسلہ، انچارج شعبہ ریکارڈ دفتر پی ایس لندن)

(امیر المومنین حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز سے پوچھےجانے والے بنیادی مسائل پر مبنی سوالات کے بصیرت افروز جوابات)

٭… عورتوں کے اپنے چہرہ پر پلکنگ اور تھریڈنگ وغیرہ کرنے نیز جسم پر تصاویر گندھوانے کے بارے میں اسلامی تعلیم کیا ہے؟

٭…کیا ایک سفر میں ایک سے زیادہ عمرے کرنے بہتر ہیں یا ایک عمرہ کرنے کے بعد باقی وقت دیگر عبادات میں گزارا جائے؟

٭…بیوہ کے عدت کے دوران لجنہ کے پروگراموں میں شامل ہونے، نماز باجماعت کےلیے مسجد میں آنے اور عزیزوں کے گھروں میں جانے کے بارے کیا رہ نمائی ہےنیز کیابڑی عمر کی عورتوں کےلیے عدت کی پابندی نہیں ہونی چاہیے؟

٭…حدیث میں جنگ کے دوران، عام لوگوں کے جھگڑوں اور میاں بیوی کے ما بین صلح کرانے کے لیے جھوٹ بولنے کی اجازت سے کیا مراد ہے؟

٭…ایام حیض میں عورتوں کا مسجد میں آ کر بیٹھنے نیز ان ایام میں تلاوت قرآن کریم کے بارے حضور انور کی رہ نمائی

٭…بعض تربیتی امور کے متعلق لجنہ اماء اللہ کو حضور انور کی ہدایات اور رہ نمائی

سوال: عورتوں کے اپنے چہرہ پر پلکنگ اور تھریڈنگ وغیرہ کرنے نیز جسم پر تصاویر گندھوانے کے بارے میں سوال پیش ہونے پر حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے اپنے مکتوب مورخہ 02؍فروری 2019ءمیں درج ذیل جواب عطا فرمایا۔ حضور انور نے فرمایا:

جواب: احادیث میں مومن عورتوں کو اپنے جسموں پر مختلف تصاویر گندھوانے، چہرے کے بال نوچنے، خوبصورتی اور جوان نظر آنے کےلیے سامنے کے دانتوں میں خلا پیدا کرنے، مصنوعی بالوں کے لگانے، اللہ کی تخلیق میں تبدیلی کرنے وغیرہ امور سے منع فرمایا گیا ہے، اس کی مختلف وجوہات ہیں۔

اگر ان باتوں سے انسان کے جسمانی وضع قطع میں اس طرح کی مصنوعی تبدیلی واقع ہو جائے کہ مرد و عورت کی تمیز جو خدا تعالیٰ نے انسانوں میں رکھی ہے وہ ختم ہو جائے۔ یا اس قسم کے فعل سے شرک جو سب سے بڑا گناہ ہے اس کی طرف میلان پیدا ہونے کا اندیشہ ہو تو اس سے منع فرمایا گیا۔ پھر احادیث میں جہاں ان امور سے منع کیا گیا وہاں حضورﷺ نے یہ بھی انذار فرمایا کہ بنی اسرائیل اس وقت ہلاک ہوئے جب ان کی عورتوں نے اس قسم کے کام شروع کیے۔ پس اس سے استدلال ہو سکتا ہے کہ یہود جن کے ہاں زنا کاری پھیل چکی تھی اور فحاشی کے اڈے قائم ہو گئے تھے، اس کام میں ملوث خواتین، مردوں کو اپنی طرف مائل کرنے کی خاطر اس قسم کے ہتھکنڈے استعمال کرتی ہوں، اس لیے رسول خداﷺ نے ان کاموں کی شناعت بیان فرما کر مومن عورتوں کو اس سے منع فرمایا۔

علاوہ ازیں یہ بھی ممکن ہے کہ حضورﷺ کا یہ ارشاد اس وقت کے حالات کے پیش نظر وقتی ہو، بالکل اسی طرح جس طرح حضورﷺ نےایک علاقہ کے اسلام قبول کرنے والے لوگوں کو اس علاقہ میں شراب بنانے کےلیے استعمال ہونے والے برتنوں کے عام استعمال سے منع فرما دیا تھا۔ لیکن جب ان لوگوں میں اسلامی تعلیم اچھی طرح رچ بس گئی توپھر حضورﷺ نےانہیں ان برتنوں کے عام استعمال کی اجازت دےدی۔

اسلام نے اعمال کا دارو مدارنیتوں پر رکھا ہے۔ پس اس زمانہ میں بھی اگر ان افعال کے نتیجہ میں کسی برائی کی طرف میلان پیدا ہو یا اسلام کے کسی واضح حکم کی نافرمانی ہوتی ہو تو یہ کام حضورﷺ کے اس انذار کے تحت ہی شمار ہو گا۔ جیسا کہ اس زمانہ میں بھی خواتین اپنی صفائی یا ویکسنگ وغیرہ کرواتے وقت اگر پردہ کا التزام نہ کریں اوردوسری خواتین کے سامنے ان کے ستر کی بے پردگی ہوتی ہو تویہ بے حیائی ہے جس کی اجازت نہیں ہے اور شاید یہ خواتین اسی انذار کے نیچے آتی ہوں۔ لیکن پردہ کے اسلامی حکم کی پابندی کے ساتھ اگر کوئی عورت ان چیزوں سے فائدہ اٹھاتی ہے تو اس میں کوئی حرج نہیں۔

سوال:ایک دوست نے حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی خدمت اقدس میں استفسار کیا کہ کیا ایک سفر میں ایک سے زیادہ عمرے کرنے بہتر ہیں یا ایک عمرہ کرنے کے بعد باقی وقت دیگر عبادات میں گزارا جائے؟ حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے اپنے مکتوب مورخہ 02؍فروری2019ء میں اس سوال کا درج ذیل جواب عطا فرمایا:

جواب:آنحضورﷺ کی سنت سے ثابت ہے کہ حضورﷺ نے ایک سفر میں ایک ہی عمرہ فرمایا۔ لیکن حضورﷺ نے کہیں اس کی ممانعت نہیں فرمائی کہ ایک سفر میں ایک سے زائد عمرے نہیں ہو سکتے۔ اس لیے اگر کوئی شخص حضورﷺ کی سنت کے مطابق ایک سفر میں صرف ایک ہی عمرہ کرے اور باقی وقت دیگر عبادات میں گزارے تو یہ بھی ٹھیک ہے اور اگر وہ ایک سے زیادہ عمرے کرنا چاہے تو چونکہ عمرے میں بھی اللہ تعالیٰ کے گھر کا طواف، صفاء اور مروہ کے چکر، ذکر و اذکار اور نوافل ہوتے ہیں، اس لیے اس میں بھی کوئی حرج کی بات نہیں۔

سوال:ایک خاتون نے بیوہ کے عدت کے دوران لجنہ کے پروگراموں میں شامل ہونے، نماز باجماعت کےلیے مسجد میں آنے اور عزیزوں کے گھروں میں جانے کے بارے میں مسائل دریافت کیے۔ نیز لکھا ہے کہ بڑی عمر کی عورتوں کےلیے عدت کی پابندی نہیں ہونی چاہیے۔ حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے اپنے مکتوب مورخہ 02؍فروری 2019ء میں ان امور کے بارے میں درج ذیل رہ نمائی فرمائی۔ حضور انورنے فرمایا:

جواب: بیوہ کی عدت کے احکامات میں تبدیلی کے حق میں آپ نے اپنے خط میں جو طلاق کے بعد نکاح والی دلیل (کہ قرآن کریم کے مطابق طلاق کے بعد عدت پوری ہونے پر پہلے شوہر سے نکاح صرف اسی صورت میں ہو سکتا ہے جب کسی دوسرے مرد سے شادی ہو اور پھر وہ طلاق دے ۔ لیکن اب دوسرے مرد سے شادی کے بغیربھی پہلے خاوند سے نکاح ہو جاتا ہے۔ پس جس طرح اس حکم میں نظر ثانی کی گئی ہے، اسی طرح خاوند کی وفات کے بعد کی عدت میں بھی عورت کی عمر کے لحاظ سےنظرثانی ہونی چاہیے) دی ہےوہ غلط ہے۔ نہ پہلے ایسا کوئی حکم تھا اور نہ ہی اس میں کوئی تبدیلی ہوئی ہے۔ آپ نے اپنی کم علمی کی وجہ سے طلاق کے بارے میں دو الگ الگ احکامات کو خلط ملط کر دیا ہے۔

اسی طرح بیوہ کی عدت کے بارے میں بھی آپ اسلامی تعلیمات سے پوری طرح آگاہ نہیں ہیں۔ اسلام نے عورت کواپنے خاوند کی وفات پر چار ماہ دس دن تک سوگ کرنے کا حکم دیا ہے اور اس میں کسی قسم کا کوئی استثناء نہیں رکھا اور نہ ہی اس حکم میں عمر کی کوئی رعایت رکھی ہے۔ پس بیوہ کےلیے ضروری ہے کہ وہ عدت کا یہ عرصہ حتی الوسع اپنے گھر میں گزارے، اس دوران اسے بناؤ سنگھار کرنے، سوشل پروگراموں میں حصہ لینے اور بغیر ضرورت گھر سے نکلنے کی اجازت نہیں۔

عدت کے عرصہ کے دوران بیوہ اپنے خاوند کی قبر پر دعا کےلیے جا سکتی ہے بشرطیکہ وہ قبر اسی شہر میں ہو جس شہر میں بیوہ کی رہائش ہے۔ نیز اگر اسے ڈاکٹر کے پاس جانا پڑتا ہے تو یہ بھی مجبوری کے تحت آتا ہے۔ اسی طرح اگر کسی بیوہ کے خاندان کا گزارا اس کی نوکری پر ہےیا بچوں کو سکول لانے، لے جانے اور خریداری کےلیے اس کا کوئی اور انتظام نہیں تو یہ سب امور مجبوری کے تحت آئیں گے۔ ایسی صورت میں اس کےلیے ضروری ہے کہ وہ سیدھی کام پر جائے اور کام مکمل کر کے واپس گھر آ کر بیٹھے۔ مجبوری اور ضرورت کے تحت گھر سے نکلنے کی بس اتنی ہی حد ہے۔ کسی قسم کی سوشل مجالس یا پروگراموں میں شرکت کی اسے اجازت نہیں۔ پس شریعت میں نئی نئی چیزیں داخل کرنے اور نئی نئی بدعتیں پیدا کرنے کی کسی کو اجازت نہیں دی گئی۔

سوال:ایک دوست نے ان احادیث کے بارے میں حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی خدمت اقدس میں رہ نمائی کی درخواست کی جن احادیث میں جنگ کے دوران، عام لوگوں کے جھگڑوں اور میاں بیوی کے مابین صلح کرانے کےلیے جھوٹ بولنے کی اجازت دی گئی ہے۔ حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے اپنے مکتوب مورخہ 28؍جنوری 2019ء میں درج ذیل رہ نمائی فرمائی۔ حضور انور نے فرمایا:

جواب:قرآن کریم اورمستند احادیث میں جھوٹ کو أَكْبَرُ الْكَبَائِرِ(یعنی بڑے بڑے گناہوں میں سے بڑا گناہ)قرار دیا گیا ہے۔ اور آنحضورﷺ نے اس سے اجتناب کی بار بار نصیحت فرمائی ہے۔

جہاں تک آپ کے خط میں مذکور روایت کا تعلق ہے تو ایسی ایک روایت صحیح بخاری اور صحیح مسلم میں حضرت ام کلثوم بنت عقبہؓ سے مروی ہے اور اس روایت کے الفاظ محتاط اور قابل تاویل ہیں۔ چنانچہ اس روایت کے الفاظ یہ ہیں :

لَيْسَ الْكَذَّابُ الَّذِي يُصْلِحُ بَيْنَ النَّاسِ وَيَقُولُ خَيْرًا وَيَنْمِي خَيْرًا۔

یعنی جو شخص لوگوں میں صلح کروانے کےلیے نیک بات کرے اور اچھی بات آگے پہنچائے وہ جھوٹا نہیں ہے۔

اس کی مثال ایسے ہے کہ صلح کروانے والا شخص ایک فریق کی دوسرے فریق کے بارے میں کہی ہوئی باتوں میں سے اچھی اور نیک باتیں دوسرے فریق تک پہنچا دے اور اس فریق کے خلاف کہی جانے والی باتوں کے بارے میں خاموشی اختیار کرےتو ایسا صلح کروانے والا جھوٹا نہیں کہلا سکتاہے۔

سنن ترمذی نے حضرت اسماء بنت یزیدؓ سےاس روایت کو ان الفاظ میں بیان کیا ہے

لَا يَحِلُّ الْكَذِبُ إِلَّا فِي ثَلَاثٍ يُحَدِّثُ الرَّجُلُ امْرَأَتَهُ لِيُرْضِيَهَا وَالْكَذِبُ فِي الْحَرْبِ وَالْكَذِبُ لِيُصْلِحَ بَيْنَ النَّاسِ۔

یعنی تین باتوں کے سوا جھوٹ بولنا جائز نہیں۔ خاوند اپنی بیوی کو راضی کرنے کےلیے کوئی بات کہے۔ لڑائی کے موقع پر جھوٹ بولنا اور لوگوں کے درمیان صلح کروانے پر جھوٹ بولنا۔

پہلی بات یہ ہے کہ سنن ترمذی میں بیان یہ روایت قرآن کریم کے واضح حکم اوراحادیث صحیحہ میں مروی دیگر روایات کے خلاف ہونے کی بنا پر قابل قبول نہیں۔ اور دوسری بات یہ کہ اسلام نے جھوٹ کو کسی موقعہ پر بھی جائز قرار نہیں دیا۔ بلکہ اس کے برعکس یہ تعلیم دی کہ جان بھی جاتی ہو تو جانے دو لیکن سچ کو ہاتھ سے مت جانے دو۔

سیدنا حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے بھی اس بارے میں ہماری رہ نمائی فرمائی ہے۔ چنانچہ حضور علیہ السلام اپنی تصنیف لطیف ’’نور القرآن نمبر 2‘‘میں ایک عیسائی کے اسی اعتراض کا جواب دیتے ہوئے فرماتے ہیں :

’’قرآن شریف نے دروغ گوئی کو بت پرستی کے برابر ٹھہرایا ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے فَاجْتَنِبُوا الرِّجْسَ مِنَ الْأَوْثَانِ وَاجْتَنِبُوا قَوْلَ الزُّورِ…اصل بات یہی ہے کہ کسی حدیث میں جھوٹ بولنے کی ہر گز اجازت نہیں بلکہ حدیث میں تو یہ لفظ ہیں کہ ان قتلت و احرقت …پھر اگر فرض کے طور پر کوئی حدیث قرآن اور احادیث صحیحہ کی مخالف ہو تو وہ قابل سماعت نہیں ہو گی کیونکہ ہم لوگ اسی حدیث کو قبول کرتے ہیں جو احادیث صحیحہ اور قرآن کریم کے مخالف نہ ہو۔ ہاں بعض احادیث میں توریہ کے جواز کی طرف اشارہ پایا جاتا ہے۔ اور اُسی کو نفرت دلانے کی غرض سے کذب کے نام سے موسوم کیا گیا ہے اور ایک جاہل اور احمق جب ایسا لفظ کسی حدیث میں بطور تسامح کے لکھا ہوا پاوے تو شاید اس کو حقیقی کذب ہی سمجھ لے کیونکہ وہ اس قطعی فیصلہ سے بے خبر ہے کہ حقیقی کذب اسلام میں پلید اور حرام اور شرک کے برابر ہے مگر توریہ جو درحقیقت کذب نہیں گو کذب کے رنگ میں ہے اضطرار کے وقت عوام کے واسطے اس کا جواز حدیث میں پایا جاتا ہے مگر پھر بھی لکھا ہے کہ افضل وہی لوگ ہیں جو توریہ سے بھی پرہیز کریں …مگر باوصف اس کے بہت سی حدیثیں دوسری بھی ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ توریہ اعلیٰ درجہ کے تقویٰ کے برخلاف ہے اور بہر حال کھلی کھلی سچائی بہتر ہے اگرچہ اس کی وجہ سے قتل کیا جائے اور جلایا جائے۔ ‘‘

(نورالقرآن نمبر2، روحانی خزائن جلد 9 صفحہ 403 تا 405)

پس یہ بات کسی طرح بھی ماننے کے لائق نہیں کہ کسی حدیث میں جھوٹ بولنے کی اجازت دی گئی ہے۔ اس لیے اگر ان احادیث کی کوئی تطبیق ہو سکتی ہو جو قرآن و سنت کے مطابق ٹھہرے تو اس تطبیق کے ساتھ ہم ان احادیث کو قبول کریں گے، ورنہ قرآن کریم اور رسول اللہﷺ کی واضح تعلیم کے خلاف ہونے کی وجہ سے ہم ان احادیث کوقابل قبول نہیں ٹھہراتے۔

سوال: عورتوں کے ایام حیض میں مسجد میں آ کر بیٹھنے نیز ان ایام میں تلاوت قرآن کریم کرنے کے بارے میں ایک خاتون کی ایک تجویز پر حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے اپنے مکتوب مورخہ 13؍ مارچ 2019ء میں درج ذیل ارشادات فرمائے۔ حضور انور نے فرمایا:

جواب: مذکورہ بالا دونوں امور کے بارےمیں علماء و فقہاء کی آراء مختلف رہی ہیں اور بزرگان دین نے بھی اپنی قرآن فہمی اور حدیث فہمی کے مطابق اس بارے میں مختلف جوابات دیے ہیں۔ اسی طرح جماعتی لٹریچر میں بھی خلفائے احمدیت کے حوالے سے نیز جماعتی علماء کی طرف سے مختلف جوابات موجود ہیں۔

قرآن کریم، احادیث نبویہﷺ اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ارشادات کی روشنی میں، خواتین کے ایام حیض میں قرآن کریم پڑھنے کے متعلق میرا موقف ہے کہ ایام حیض میں عورت کوقرآن کریم کا جو حصہ زبانی یاد ہو، وہ اسےایام حیض میں ذکر و اذکار کے طور پر دل میں دہرا سکتی ہے۔ نیز بوقت ضرورت کسی صاف کپڑے میں قرآن کریم کو پکڑ بھی سکتی ہے اور کسی کو حوالہ وغیرہ بتانے کےلیے یا بچوں کو قرآن کریم پڑھانے کےلیے قرآن کریم کا کوئی حصہ پڑھ بھی سکتی ہے لیکن باقاعدہ تلاوت نہیں کر سکتی۔

اسی طرح ان ایام میں عورت کوکمپیوٹر وغیرہ پر جس میں اسے بظاہر قرآن کریم پکڑنا نہیں پڑتا باقاعدہ تلاوت کی تو اجازت نہیں لیکن کسی ضرورت مثلاً حوالہ تلاش کرنے کےلیے یا کسی کو کوئی حوالہ دکھانے کےلیے کمپیوٹر وغیرہ پر قرآن کریم سے استفادہ کر سکتی ہے۔ اس میں کوئی حرج نہیں۔

ان ایام میں عورت مسجد سے کوئی چیز لانے کےلیے یا مسجد میں کوئی چیز رکھنے کےلیے تو مسجد میں جا سکتی ہے لیکن وہاں جا کر بیٹھ نہیں سکتی۔ اگر اس کی اجازت ہوتی تو حضورﷺ عید میں شامل ہونے والی ایسی خواتین کےلیے کیوں یہ ہدایت فرماتے کہ وہ نماز کی جگہ سے الگ رہیں۔ پس اس حالت میں عورتوں کو مسجد میں بیٹھنے کی اجازت نہیں۔

اگر کوئی خاتون اس حالت میں مسجد میں آتی ہےیا کوئی بچی ایسی حالت میں اپنی والدہ کے ساتھ مسجد آئی ہے یا اچانک کسی کی یہ حالت شروع ہو گئی ہے تو ان تمام صورتوں میں ایسی خواتین اور بچیاں مسجد کی نماز پڑھنے والی جگہوں میں نہیں بیٹھ سکتیں۔ بلکہ کسی نماز نہ پڑھنے والی جگہ پر ان کے بیٹھنے کا انتظام کیا جائے۔

سوال:حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے ساتھ نیشنل عاملہ لجنہ اماء اللہ کینیڈا کی Virtual ملاقات مورخہ 16؍اگست 2020ء میں تربیت کے مختلف پہلوؤں کے حوالے سے حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے ممبران عاملہ کو توجہ دلاتے ہوئے درج ذیل ہدایات فرمائیں۔ حضور انور نےفرمایا:

جواب:ماؤں کے ذریعہ تربیت کریں کہ جو آجکل کی یہاں بچیاں پڑھ رہی ہیں ان کے ساتھ ان کے تعلقات دوستانہ ہونے چاہئیں۔ اور ان کا یہاں جو باہرنکل کے، یونیورسٹیز میں جا کے، کالجز میں جا کے Exposure ہے اس کے ساتھ اگر مائیں پوری طرح تعلیم یافتہ نہیں ہیں تو پھر وہ آپ لوگوں سے مدد لیں۔ لیکن اس کے باوجود لڑکیوں کے ساتھ تعلق رکھیں۔ اور لڑکیوں کی تربیت یہ کریں کہ وہ جیسی مرضی تعلیم حاصل کریں لیکن جو دین کو دنیا پہ مقدم رکھنے کا عہد ہے، اس کو سامنے رکھیں کہ وہ کیا ہے؟صرف دنیا میں ہی نہ پڑ جائیں۔ یہاں ان کو یہ بھی Realizeکروانا چاہیے کہ یہاں آ کے اللہ تعالیٰ نے جو دنیاوی لحاظ سے فضل کیے ہیں ان دنیاوی فضلوں پر اللہ تعالیٰ کے شکرانے کا صحیح اظہار یہ ہے کہ زیادہ سے زیادہ دین سے Attachہوا جائے۔ یہ اکثر لڑکوں میں بھی ہوتا ہے اس لیے پھر ماؤں کی تربیت اس لحاظ سے بھی کرنے کی ضرورت ہے کہ پندرہ سال تک یا کم از کم تیرہ چودہ سال تک لڑکے بھی ماؤں ہی کے زیر اثر ہوتے ہیں (اس لیے مائیں لڑکوں کی بھی اس حوالے سے تربیت کریں )۔ پھر ماؤں کی تربیت کی اس لیے بھی ضرورت ہے کہ یہ جو مردوں کی تربیت کی ذمہ داری ہے یہ بھی آپ لوگوں نے ہی کرنی ہے۔ مردوں میں بھی تربیت میں کمی ہے۔ میں یہ نہیں کہتا کہ وہ جیسا مرضی کام کرتے رہیں اور عورتیں اپنی ذمہ داریاں سنبھالیں۔ ان کی بھی ذمہ داری ہے۔ لیکن آپ لوگوں نے تربیت کے لحاظ سے اس چیلنج کو بھی لینا ہے کہ لڑکوں میں، چھوٹی عمر کے اطفال جو ہیں ان کی بھی تربیت ایسے کریں کہ جب وہ خدام میں شامل ہوں تو وہ جماعت سے Attach ہوں۔ اسی طرح بچیاں جب ناصرات سے لجنہ میں آئیں تو وہ جماعت سے Attach ہوں۔ یہاں کے ماحول کا جو اثر ہے، کیونکہ کھلی تعلیم دی جاتی ہےاور بعض کھلے سوال کیے جاتے ہیں۔ اس پر آپ لوگوں نے ان کو کھل کے جواب دینے ہیں۔ اس کا طریقہ یہی ہے کہ آپ ایک Survey کریں اور ایک سوالنامہ بنا کر بھیجیں۔ ہر مجلس میں جائے۔ اور لڑکیوں کو کہیں کہ بیشک اپنا نام نہ لکھو اور تمہارے ذہن میں کسی بھی قسم کے جو سوال دین کے بارے میں ہیں یا دنیا کے بارے میں ہیں اور دین اور دنیا کے فرق کے بارے میں ہیں یا کچھ شبہات ہیں، وہ بیشک ظاہر کر دو۔ پھر لجنہ کےLevel پر مختلف Forums پر ان کے جواب دینے کی کوشش کریں۔ ا ور یہاں مجھے بھیجیں۔ یہاں بھی ہم کوئی پروگرام بنا سکتے ہیں۔ ایم ٹی اے میں بھی اس کے جواب دے سکتے ہیں۔ پھر آپ کے وہاں ایم ٹی اے سٹوڈیو بن چکا ہے، وہاں آپ لوگ ایم ٹی اے کے ساتھ Coordinateکر کے ایک پروگرام بنا سکتے ہیں۔ اور لجنہ ایک پروگرام بنائے اور بغیر نام لیے ان سوالوں کے جواب دے کہ آجکل یہ یہ Issue اٹھتے ہیں یا یہ یہ سوالات دنیا میں پیدا ہو رہے ہیں۔ اس کی وجہ سے ہماری بعض بچیوں کے ذہن بھی Pollute ہو رہے ہیں۔ ان کے ذہنوں کو ہم نے کس طرح صاف کرنا ہے۔ تو اس طرح کے بعض سوال ہیں کہ آپ کھل کے ایم ٹی اے پر Discussکر سکتے ہیں اور بعض ہیں جو نہیں کر سکتے، ان کو Personal Level پر جا کے ان کے جواب دینے پڑیں گے۔ پھر بعض بغیر ناموں کے سوال آئیں گے تو ان کو انٹر نیٹ پر اس طرح رکھیں، کوئی ایسا Forum بنائیں جہاں تربیت کےلیے ایسے سوالوں کے جواب دیے جا سکیں۔ تو آجکل اس زمانہ میں یہ بہت بڑے چیلنجز ہیں جو میڈیا نے، لوگوں نے شبہات پیدا کرنے کےلیے ڈال دیے ہوئے ہیں۔ پھرSo- calledتعلیم کے نام پر اپنے آپ کو زیادہ ہی پڑھی لکھی سمجھ کے سمجھتی ہیں کہ شاید اسلام کی تعلیم بڑی Backwardsتعلیم ہے۔ حالانکہ اسلام کی تعلیم سے زیادہ اس زمانہ میں کسی بھی مذہب کی کو ئی تعلیم ایسی نہیں ہےجو ماڈرن ہو اور جو زمانہ کے حساب سے اپنے آپ کو Adjustکرنے والی ہو۔

متعلقہ مضمون

رائے کا اظہار فرمائیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close