خطبہ جمعہ

خطبہ جمعہ سیّدنا امیر المومنین حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ 12؍فروری2021ء

انتہائی وفاداری کے ساتھ انہوں نے تمام حق ادا کیے۔ اللہ تعالیٰ ان کے درجات بلند فرمائے اور خلافت کو ان جیسے سلطان نصیر ملتے رہیں

لمبے عرصہ سے افسر جلسہ سالانہ پاکستان چلے آنے والے، غیر معمولی صلاحیتوں کے حامل، درویش صفت اور انتہائی محنتی دیرینہ خادمِ سلسلہ محترم چودھری حمید اللہ صاحب وکیل اعلیٰ و صدر مجلس تحریک جدید انجمن احمدیہ کا ذکرِ خیر

میں نے ایک مخلص بچے کو جس کا حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے جسمانی تعلق تو نہ تھا لیکن روحانی تعلق بہت پختہ تھا خدام الاحمدیہ کی صدارت سونپی۔ اللہ تعالیٰ نے اسے کام کرنے کی توفیق عطا فرمائی اور اس کی کوششوں میں برکت ڈالی اور ہماری دعاؤں کو قبول فرمایا۔ (حضرت خلیفۃ المسیح الثالثؒ)

میں نے بھی بعض واقفین کو ان کے سپرد کیا کہ ان کی تربیت کریں اور انہوں نے بڑی اچھی طرح ان کی تربیت کی

اپریل 2003ء میں حضرت خلیفة المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ کی وفات کے موقع پر انتخاب خلافت کے اجلاس کی صدارت کا اعزاز بھی انہیں نصیب ہوا

آپ ہمیشہ دو باتوں پر زور دیتے تھے کہ نمازیں اور خلیفۂ وقت کا خطبہ کسی صورت میں miss نہیں کرنا چاہیے اور خلیفۂ وقت نے جو بھی ارشاد فرمائے ہیں ان پر بھرپور عمل کرنا چاہیے۔

آپ کا اٹھنا بیٹھنا، کھڑے ہونا، چلنا بولنا اور خاموش رہنا خلیفہ وقت کے ماتحت تھا

خلیفۂ وقت کی ہر آواز کو اور ہر حکم کو بڑی سنجیدگی سے لیا اور لفظاً نہیں بلکہ حرفاً حرفاً اس پر عمل کیا۔ کبھی کوئی تاویلیں نہیں دیں کہ اس کی یہ تاویل ہوتی ہے یا یہ تاویل ہوتی ہے

پاکستان میں احمدیوں کی شدید مخالفت کے پیش نظر خصوصی دعاؤں کی مکرر تحریک۔ عالمی وبا کورونا وائرس سے بچاؤ کے لیے مکمل حفاظتی تدابیر اختیار کرنے کی تلقین

خطبہ جمعہ سیّدنا امیر المومنین حضرت مرزا مسرور احمد خلیفۃ المسیح الخامس ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ 12؍فروری2021ء بمطابق 12؍تبلیغ 1400 ہجری شمسی بمقام مسجد مبارک،اسلام آباد، ٹلفورڈ(سرے)، یوکے

أَشْھَدُ أَنْ لَّا إِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہٗ لَا شَرِيْکَ لَہٗ وَأَشْھَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہٗ وَ رَسُوْلُہٗ۔
أَمَّا بَعْدُ فَأَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيْمِ۔ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ﴿۱﴾
اَلۡحَمۡدُلِلّٰہِ رَبِّ الۡعٰلَمِیۡنَ ۙ﴿۲﴾ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ ۙ﴿۳﴾ مٰلِکِ یَوۡمِ الدِّیۡنِ ؕ﴿۴﴾إِیَّاکَ نَعۡبُدُ وَ إِیَّاکَ نَسۡتَعِیۡنُ ؕ﴿۵﴾
اِہۡدِنَا الصِّرَاطَ الۡمُسۡتَقِیۡمَ ۙ﴿۶﴾ صِرَاطَ الَّذِیۡنَ أَنۡعَمۡتَ عَلَیۡہِمۡ ۬ۙ غَیۡرِ الۡمَغۡضُوۡبِ عَلَیۡہِمۡ وَ لَا الضَّآلِّیۡنَ﴿۷﴾

آج میں جماعت کے ایک دیرینہ خادم مکرم چودھری حمید اللہ صاحب کا ذکر کرنا چاہتا ہوں جن کی گزشتہ دنوں میں وفات ہوئی۔ آپ تحریک جدید پاکستان کے وکیل اعلیٰ تھے۔ صدر مجلس تحریک جدید انجمن احمدیہ تھے اور ایک لمبے عرصے سے افسر جلسہ سالانہ کی خدمت پر بھی مامور تھے۔ 7؍فروری کو طاہر ہارٹ انسٹی ٹیوٹ میں 87 سال کی عمر میں ان کی وفات ہوئی۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّآ اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔

مکرم چودھری صاحب کے والد کا نام بابو محمد بخش صاحب اور والدہ کا نام عائشہ بی بی صاحبہ تھا۔ یہ لوگ بھیرہ کے نواحی علاقے کے رہنے والے تھے۔ چودھری صاحب 1934ء میں قادیان میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد نے ان کی پیدائش سے کوئی پانچ سال پہلے احمدیت قبول کی تھی۔ وہ اپنی قبول احمدیت کا واقعہ یوں بیان کرتے ہیں۔ کہتے ہیں کہ مَیں خدا تعالیٰ کی قسم کھا کر ایک خواب تحریر کر رہا ہوں ۔اور اس خواب کے بارے میں جو تفصیل بیان کرتے ہیں وہ یہ ہے کہ یہ محکمہ نہر میں کام کرتے تھے تو بنگلہ میں یہ رہتے تھے۔ یا دورے پہ یہ پھرتے رہتے تھے تو اس دوران انہوں نے وہاں رات بسر کی۔کہتے ہیں کہ بنگلہ بکھووالا سرگودھا میں ماہ اکتوبر 1929ء بوقت قریباً دو بجے رات کو یہ نظارہ دیکھا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف فرما ہیں، کہتے ہیں کہ میں نے خواب میں نظارہ دیکھا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک مصلیٰ پر تشریف فرما ہیں اور رانوں پر دونوں ہاتھ رکھ کر بیٹھے ہوئے ہیں جس طرح انگلیوں پر ذکر اللہ کر رہے ہیں۔ رُخِ مبارک مشرق کی طرف ہے۔ مجھے فرمایا کہ جس کرسی پر تم بیٹھے ہو اس کی چُولیں ڈھیلی ہو چکی ہیں۔ کہتے ہیں اس پر مَیں فوراً اٹھا اور دیکھا تو ایک چُول ڈھیلی تھی۔ میں نے شکریہ ادا کیا اور کہا کہ آپؐ نے غلام کی جان بچا لی ہے۔ آگے یا پیچھے گرتا تو سر پھوٹ جاتا۔ تھوڑی دیر بعد رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ مبارک میں ایک نئی دفتری کرسی ہے جس کے Arms آگے بڑھے ہوئے ہیں۔ فرمایا اس کرسی پر بیٹھ جاؤ۔ یہ احمدیت کی کرسی ہے یعنی بادلائل اور حقیقی اسلام ہے۔ اس کے بعد بندہ بیدار ہو گیا۔ یہ ان کے والد کے احمدیت قبول کرنے کا واقعہ ہے۔

(ماخوذ از بشارات رحمانیہ صفحہ 157)

چودھری صاحب نے ابتدائی تعلیم قادیان میں حاصل کی۔ آٹھویں جماعت کے طالبعلم تھے جب 1946ء میں حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے وقف کی تحریک کی۔ جو تحریک کی ہوئی تھی اس پر لبیک کہتے ہوئے آپ کی والدہ آپ کو حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی خدمت میں لے گئیں اور حضور سے عرض کیا کہ یہ میرا بچہ ہے میں اس کو خدمت دین کے لیے وقف کرتی ہوں۔ اس کے بعد حضرت مصلح موعود نے کچھ ہدایات دیں کہ اس کو آئندہ سکول میں پڑھاتے رہیں۔ 1949ء میں انہوں نے میٹرک کا امتحان پاس کیا۔ پھر وکالت دیوان ربوہ کی ہدایت پر انٹرویو کے لیے ربوہ تشریف لائے۔ تحریری امتحان کے بعد حضرت خلیفة المسیح الثانی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے خود ان کا انٹرویو لیا۔ اس وقت انجمن احمدیہ کے ناظران کی میٹنگ ہو رہی تھی حضرت خلیفة المسیح الثانیؓ میٹنگ میں بیٹھے تھے۔ جو بھی اُس وقت تین چار لڑکے تھے آپ نے وہیں ان کو بلا لیا۔ چودھری حمید اللہ صاحب تھے، مصلح الدین صاحب تھے، سمیع اللہ صاحب تھے۔ تو بہرحال خلیفة المسیح الثانیؓ نے انٹرویو لیا اور حضرت خلیفة المسیح الثانی ؓکی ہدایت پر ان کی تعلیم کا سلسلہ چلتا رہا اور سکول اور یونیورسٹی کی تعلیم حاصل کی۔ حضرت خلیفةالمسیح الثانیؓ کے ارشاد پر انہوں نے بی ایس سی کیا۔ بی ایس سی میں صوبہ بھر میں د وسری پوزیشن حاصل کی۔ پھر پنجاب یونیورسٹی لاہور سے فرسٹ ڈویژن میں ایم اے ریاضی کیا۔ 1955ء میں تعلیم الاسلام کالج میں استاد مقرر ہوئے اور پھر صدر شعبہ ریاضی بھی مقرر ہوئے۔

( ماخوذ از تاریخ احمدیت جلد 10 صفحہ 104، 120)

ان کی شادی 1960ء میں رضیہ خانم صاحبہ سے ہوئی جو عبدالجبار خان صاحب سرگودھا کی بیٹی تھیں۔ 1974ء تک ٹی آئی کالج ربوہ میں خدمات سرانجام دیتے رہے۔ کالج کے قومیائے جانے کے بعد حضرت خلیفةالمسیح الثالث رحمہ اللہ تعالیٰ کی ہدایت پر آپ نے کالج سے استعفیٰ دے دیا کیونکہ وقف زندگی تھے اور کالج اب نیشنلائزڈ (nationalized)ہو گئے تھے اس لیے کوئی جواز نہیں تھا کہ حکومت کے ادارے میں پڑھائیں تو جو واقفِ زندگی تھے ان میں سے بعض کو، ساروں کو نہیں، حضرت خلیفة المسیح الثالثؒ نے یہی ہدایت دی تھی کہ وہیں کالج میں کام جاری رکھیں وہاں بھی ضرورت ہے اور بعض کو یہی مشورہ دیا، یہی ہدایت کی کہ وہ جماعت کی خدمت میں آ جائیں۔ بہرحال انہوں نے جب وہاں سے استعفیٰ دیا تو ان کو حضرت خلیفة المسیح الثالثؒ نے ناظر ضیافت مقر ر کیا۔ 1982ء میں حضرت خلیفة المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو وکیل اعلیٰ تحریک جدید مقرر فرمایا۔ اس کے ساتھ ہی کچھ عرصہ تک آپ ایڈیشنل صدر مجلس تحریک جدید بھی رہے۔ پھر 1989ء (eighty-nine) میں جو جوبلی سال تھا اس میں آپ صدر مجلس تحریک جدید مقرر ہوئے اور وفات تک یہ خدمات بجا لاتے رہے۔ اس کے علاوہ آپ 1986ء تا وفات ایڈیشنل ناظر اعلیٰ کے طور پر سندھ وغیرہ کے ہنگامی حالات کے بھی نگران رہے۔

حضرت خلیفۃ المسیح الثالث رحمہ اللہ کے زمانے میں آپ کو ربوہ میں امیر مقامی بننے کا بھی اعزاز حاصل ہوا۔

(ماخوذ از تاریخ احمدیت جلد 28 صفحہ 112، 335)

مجلس خدام الاحمدیہ مقامی ربوہ اور مجلس خدام الاحمدیہ مرکزیہ میں مختلف حیثیتوں سے خدمات بجا لاتے رہے اور اس کے بعد 1969ء سے 1973ء تک بطور صدر مجلس خدام الاحمدیہ مرکزیہ مقرر ہوئے۔ اس زمانے میں ساری دنیا میں ایک ہی مرکزی خدام الاحمدیہ تھی اور مرکز سے اس کا کنٹرول ہوتا تھا۔ ہر ملک میں علیحدہ علیحدہ صدر نہیں مقرر ہوتا تھا۔

1969ء میں جب حضرت خلیفة المسیح الثالث نے ان کو صدر مجلس خدام الاحمدیہ مرکزیہ مقرر فرمایا تو اس موقع پر حضور نے جو باتیں کی ہیں یہ بڑی ضروری باتیں ہیں۔ گو یہ اقتباس لمبا ہے جو میں حضرت خلیفة المسیح الثالثؒ کی تقریر سے لوں گا لیکن یہ بڑا ضروری ہے کیونکہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی جسمانی اولاد کے لیے بھی اور روحانی اولاد کے لیے بھی، جماعت کا کام کرنے والوں کے لیے بھی یہ ہدایات اور یہ باتیں ایسی ہیں جو ان کو پلّے باندھنی چاہئیں اور ان پر عمل کرنے کی کوشش کرنی چاہیے اور فکر کرنی چاہیے کہ آیا ہم وہ حق ادا کر رہے ہیں کہ نہیں۔ حضرت خلیفة المسیح الثالثؒ نے فرمایا کہ ’’صدر بننے والے نوجوان کے لیے بھی دعا کرنی چاہیے اور اس عہدے سے سبکدوش ہونے والے مخلص نوجوان کے لیے بھی دعا کرنی چاہیے ۔ اللہ تعالیٰ ان کی کوششوں کو قبول کرے اور آنے والے کو یہ توفیق دے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی مدد سے پہلوں سے زیادہ کام کر کے دکھائیں۔‘‘ فرمایا کہ ’’ہم کسی جگہ پر ٹھہر نہیں سکتے۔ ہمارا ہر فرد جس پر نئے سرے سے ذمہ داری عائد کی جاتی ہے ان کو پہلوں سے آگے نکلنے کی کوشش کرنی چاہیے کیونکہ جماعت میں اللہ تعالیٰ کے فضل سے پھیلاؤ اور وسعت آ رہی ہے۔ جماعت کے کام بھی بڑھ رہے ہیں۔ اس کی ذمہ داریاں بھی بڑھ رہی ہیں۔ غرض میں بتا رہا تھا کہ جنہوں نے مجلس کی صدارت کا چارج لیا ہے وہ حضرت مسیح موعو د علیہ الصلوٰة والسلام کے خونی رشتہ کے لحاظ سے خاندان کے فرد نہیں ہیں‘‘ (چودھری صاحب سے پہلے غالباً مرزا طاہر احمد صاحب خلیفة المسیح الرابعؒ صدر تھےاور ان کا خونی رشتہ تھا تو بہرحال آپ نے فرمایا کہ خونی رشتہ تو نہیں ہے، یہ خاندان کے فرد نہیں ہیں) ’’لیکن روحانی رشتہ کے لحاظ سے ہر شخص اپنی ہمت اور کوشش اور اپنی دعا اور عاجزی کے نتیجہ میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی روحانی اولاد بننے کے قابل ہے اور سچا اور حقیقی روحانی بیٹا اسے بننا چاہیے۔ اور بہت سے لوگ ہیں جو جسمانی اولاد سے بھی زیادہ آگے نکل جاتے ہیں حالانکہ وہ محض روحانی اولاد ہوتے ہیں۔ جسمانی تعلق تو ایک دنیاوی تعلق ہے۔ مذہب یا روحانیت سے اس کا کوئی تعلق نہیں ہے۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃوالسلام کا اپنی اولاد سے اصل تعلق روحانی تعلق ہی ہے‘‘ اور یہ بات حضرت مسیح موعو د علیہ السلام کے جو جسمانی تعلق رکھنے والے ہیں، یا خونی تعلق رکھنے والے رشتہ دار ہیں ان کو یاد رکھنی چاہیے کہ حضرت مسیح موعو د علیہ الصلوٰة و السلام کا اپنی اولاد سے اصل تعلق روحانی تعلق ہی ہے۔ ’’اسی واسطے کہا گیا ہے کہ انبیاء کسی کے وارث ہوتے ہیں نہ آگے ورثہ میں کسی کو کچھ دیتے ہیں۔ (نہ ہی انبیاء کسی کے وارث ہوتے ہیں اور نہ آگے ورثہ میں کچھ دیتے ہیں) کیونکہ ورثہ کا تعلق جسمانی قرابت سے ہے اس کی نفی کر دی گئی ہے لیکن جہاں تک روحانی فیوض و برکات کا تعلق ہے وہی حقیقت، وہی صداقت اور وہی حکمت ہے۔ وہی دراصل صحیح معنی میں کسی شخص کی روحانی اولاد ہے جس نے اللہ تعالیٰ کے حکم کو اس کی منشا اور فرمان کے مطابق قائم کیا اور ہر شخص اپنے اخلاص اور ایثار کے مطابق اپنا اجر پاتا ہے۔ پس اصل میں یہی روحانی اولاد ایک روحانی وجود کی اولاد ہے۔ اس کی جسمانی اولاد کوئی نہیں ہوتی۔

اصل میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰة والسلام کی روحانی اولاد ہی حقیقی اولاد ہے اسی واسطے آپ نے اپنی جسمانی اولاد کے متعلق فرمایا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے میری دعا کو قبول کیا اور ان کو روحانی وجود بنا دیا۔ اگر محض جسمانی اولاد ہونے میں کوئی خوبی ہوتی تو آپ کو نہ ان دعاؤں کے کرنے کی ضرورت تھی نہ ان کی قبولیت کی حاجت ہوتی۔ پس اصل چیز یہ ہے کہ روحانی رشتہ مضبوط ہو خواہ جسمانی تعلق نہ بھی ہو۔ اس واسطے وہ لوگ بھی غلطی پر ہیں جو یہ سمجھتے ہیں کہ محض جسمانی اولاد ہونا کوئی بڑائی ہے۔ بعض لوگ اسلام میں ایسے بھی ہوئے جنہوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اولاد سے محض اس لیے دشمنی کی کہ وہ آپ کی جسمانی اولاد تھے۔ لیکن یہ بھی غلط ہے کہ چونکہ جسمانی اولاد تھے اس لیے ان کو عزت حاصل ہو گئی لیکن اس رشتہ کے نتیجہ میں کوئی انہیں بزرگی دیتا ہے تو وہ جاہل مطلق ہے۔‘‘ (یہ باتیں دونوں اس میں آ گئیں کہ جو اس لیے دشمنی کرتے ہیں کہ جسمانی اولاد ہے وہ بھی غلط کرتے ہیں اور اگر کوئی عزت دیتے ہیں اور بزرگی دیتے ہیں تو وہ بھی غلط کرتے ہیں۔) فرمایا کہ ’’اس کے اندر کوئی روحانیت نہیں ہے۔ کوئی عقل نہیں ہے‘‘ (جو یہ سمجھتا ہے۔) ’’اصل تعلق روحانیت کا ہے۔ جسمانی اولاد میں اگر یہ تعلق پختگی کے ساتھ قائم ہو جائے، ان میں ایثار اور قربانی اور بے نفسی پیدا ہو جائے تو اللہ تعالیٰ ان کو بھی جزا دیتا ہے اور اپنے قرب اور رضا سے نوازتا ہے۔‘‘ (جسمانی اولاد میں یہ تعلق اور پختگی اگر قائم ہو گئی ہے، نبی کا جو روحانی فیض ہے وہ حاصل کر لیا ہے تو پھر اللہ تعالیٰ جزا بھی دیتا ہے اور اپنے قرب اور رضا سے نوازتا ہے) ’’اور جس نے جسمانی اولاد نہ ہونے کے باوجود روحانی اثر کو قبول کر کے اپنے آپ کو دنیا کی نگاہ میں حقیقی اولاد جیسا بنا دیا اس کے متعلق یہ کہنا کہ صرف اس وجہ سے کہ چونکہ جسمانی تعلق نہیں ہے اس لیے وہ خدا تعالیٰ کی نگاہ میں عزت اور مرتبہ نہیں پا سکتا یہ بھی غلط ہے۔‘‘ (پس جسمانی تعلق نہ بھی ہو تو روحانی اولاد بن کے اگر اس کا حق ادا کر دیا ہے تو وہ مرتبہ پا گیا اور اس کے متعلق یہ کہنا کہ عزت اور مرتبہ نہیں پاتا وہ غلط کہتا ہے۔)

پھر فرماتے ہیں کہ دونوں باتیں غلط ہیں۔ اصل صراط مستقیم ہے کہ جو شخص اللہ تعالیٰ کی نگاہ میں عزت اور احترام کو حاصل کر لیتا ہے وہی کامیاب ہوتا ہے۔ وہ اپنی اپنی استعداد کے مطابق خدا تعالیٰ کے دین کے کام کرنے کی توفیق پاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ اس کی کوششوں کو قبول کرتا ہے خواہ اس کا مامور زمانہ سے جسمانی تعلق ہو یا نہ ہو۔ پس وہ لوگ جو یہ کہتے ہیں کہ چونکہ ان کا جسمانی تعلق ہے اس لیے ان کو بڑا کہنا چاہیے وہ بھی غیر معقول بات کرتے ہیں اور وہ لوگ جو یہ سمجھتے ہیں کہ چونکہ جسمانی تعلق ہے اس لیے اچھے ہو گئے ہیں اور انہوں نے ورثہ میں عزت و احترام کو پا لیا ہے یہ بھی غلط ہے۔ اس طرح پر تو ورثہ میں کسی کو عزت اور احترام نہیں ملا کرتا۔ پس جو شخص یہ سمجھتا ہے کہ چونکہ جسمانی رشتہ نہیں ہے اس لیے اکرام اور بزرگی نہیں مل سکتی یہ غلط ہے۔ غرض جو شخص یہ سمجھتا ہے کہ جسمانی تعلق ہے اس لیے ضرور بزرگی مل جائے گی یہ بھی غلط ہے۔ اصل میں روحانی تعلق نام ہے تقویٰ اختیار کرنے کا۔ اللہ تعالیٰ سے ذاتی محبت پیدا کرنے کا۔ اللہ تعالیٰ کے لیے ایثار اور قربانی کرنے کا۔ اپنے نفس پر ایک موت وارد کرنے کا۔ اپنے آپ کو کچھ بھی نہ سمجھنے کا۔ اپنی فنا کے بعد اللہ تعالیٰ سے ایک نئی اور پاک زندگی حاصل کرنے کا۔ یہ اصل تعلق ہے، اس کے بغیر تو کوئی تعلق تعلق ہی نہیں۔)

فرمایا غرض اللہ تعالیٰ کے فضل سے پچھلے تین سال میں خدام الاحمدیہ نے خاصی ترقی کی ہے لیکن پہاڑوں کی بلند چوٹیوں کی طرح خدام الاحمدیہ کے لیے کوئی ایک چوٹی مقرر نہیں کہ جہاں جا کر وہ یہ سمجھیں کہ بس اب ہم آخری بلندی پر پہنچ گئے۔ ہمارا کام ختم ہو گیا۔ یہ تو ایسے پہاڑ کی چڑھائی ہے کہ جس کی چوٹی کوئی ہے ہی نہیں کیونکہ یہ وہ پہاڑ ہے جس کے اوپر ارضِ رَبّ ِکریم ہے اور انسان اور اللہ تعالیٰ کے درمیان جو فاصلہ ہے وہ غیر محدود ہے اور ہمیں یہ کوشش کرنی چاہیے اور اسی میں ہماری زندگی اور حیات ہے کہ ہم کسی جگہ پر تھک کر بیٹھ نہ جائیں یا کسی جگہ ٹھہر کر یہ نہ سمجھ لیں کہ ہم نے جو حاصل کرنا تھا کر لیا۔ نہیں، ہمارے لیے غیر محدود ترقیات اور رفعتیں مقدر کی گئی ہیں اور اگر ہم کوشش کریں اور واقعہ میں اللہ تعالیٰ ہمارے دل میں اخلاص اور ایثار اور محبت ذاتی اپنے لیے محسوس کرے تو وہ ہم پر فضل نازل کرتا چلا جائے گا اور کرتا چلا جاتا ہے جس کے نتیجہ میں انسان خدا تعالیٰ سے اَور زیادہ پیار حاصل کرتا ہے اور اپنے نفس سے وہ اَور زیادہ دور اور بیگانہ ہو جاتا ہے۔

(ماخوذ از مشعل راہ جلد 2صفحہ212تا 214 )

پس یہ الفاظ جو آپؒ نے چودھری صاحب کو نصیحت فرمائے اور چودھری صاحب کی وجہ سے آج ہم میں بھی یہ الفاظ پہنچے یہ بھی جب ہر واقف زندگی اور ہر کام کرنے والا اور جو خاندان کا تعلق رکھنے والا ہر فرد ہے وہ بھی ان باتوں پہ غور کرے تو چودھری صاحب کے درجات کی بلندی کے لیے بھی دعا کرے کہ ان کی وجہ سے یہ سنہری الفاظ ہمیں سننے کو اور سمجھنے کو ملے۔

حضرت خلیفة المسیح الثالث رحمہ اللہ تعالیٰ نے آپ کے بارے میں 1970ء کے اجتماع خدام الاحمدیہ مرکزیہ سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا:

میں نے ایک مخلص بچے کو جس کا حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے جسمانی تعلق تو نہ تھا لیکن روحانی تعلق بہت پختہ تھا خدام الاحمدیہ کی صدارت سونپی۔ اللہ تعالیٰ نے اسے کام کرنے کی توفیق عطا فرمائی اور اس کی کوششوں میں برکت ڈالی اور ہماری دعاؤں کو قبول فرمایا۔

(ماخوذ از تاریخ احمدیت جلد 26صفحہ 214)

جب ان کو اپنی ٹرم پوری کر کے خدام الاحمدیہ کی خدمت صدر سے فراغت ہوئی تو اس وقت وداعی تقریب میں جو سپاس نامہ ان کو پیش کیا گیا تھا اس میں یہ لکھا گیا اور ان کے بارے میں جو بھی لکھا گیا اس میں یقیناً کوئی مبالغہ نہیں۔ آج کی یہ خصوصی تقریب چودھری صاحب کے لیے مقرر کی گئی ہے۔ چودھری حمیداللہ صاحب کا چار سالہ دور صدارت تاریخ خدام الاحمدیہ میں ایک زَرّیں باب کا اضافہ ہے۔ اس میں خدام الاحمدیہ عالمگیر نے اپنی کیفیت اور کمیت کے اعتبار سے حضور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی خصوصی رہنمائی میں (خلافت ثالثہ کے دور کی بات ہے) ہر شعبہ میں نمایاں کام کیا۔ چودھری حمید اللہ صاحب نے انتہائی خاکساری، بے نفسی اور مسلسل محنت کے ساتھ نوجوان نسل میں اطاعت اور وفا کیشی اور خلافت سے وابستگی جیسی دلکش صفات کو اجاگر کیا جو ان کے مستقبل کے لیے نشان راہ ثابت ہوں گی۔ ان شاء اللہ العزیز۔ آپ کے دورِ صدارت میں سیدنا حضرت امیر المومنین خلیفة المسیح الثالث ایدہ اللہ کی خواہش کے مطابق خدام الاحمدیہ کے ہر شعبہ نے نمایاں ترقی کی۔ آپ کے دورِ صدارت میں حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے زریں ارشادات کو کتابی شکل میں مشعل راہ کے نام سے شائع کیا گیا۔ اطفالِ احمدیت کے لیے کتابچہ ’’یاد رکھنے کی باتیں‘‘ شائع ہوا۔ مجلس مرکزیہ کا عمومی اور خصوصی مالی نظام مستحکم ہوا۔ آپ ہمیشہ اس طریق کار پر محبت اور فدائیت کے ساتھ سختی سے کاربند رہے کہ حضرت خلیفة المسیح کے ہر حکم اور اشارے کی دل و جان سے اطاعت کی جائے اور حضور کے جملہ ارشادات کی لفظاً و معناً تعمیل میں ہر ممکن وسیلے کو بروئے کار لایا جائے۔ صدارت کی عظیم ذمہ داری سے قبل مختلف وقتوں میں آپ کو مرکزی مجلس عاملہ کے رکن کے طور پر خدمت بجا لانے کی توفیق ملی۔

(ماخوذ از رسالہ خالد دسمبر1973ء ربوہ صفحہ 3-4)

اس الوداعی تقریب میں حضرت خلیفة المسیح الثالث رحمہ اللہ تعالیٰ بھی شریک ہوئے تھے۔ آپ نے بھی مختصر خطاب فرمایا۔ اس کا بھی مختصر حصہ میں یہاں پیش کرتا ہوں۔

حضرت خلیفة المسیح الثالث نے فرمایا۔جانے والے کے متعلق تو دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ احسن جزا دے اور آنے والے کے متعلق یہ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ بہترین اور مقبول خدمت کی توفیق عطا کرے۔ مجلس خدام الاحمدیہ مختلف ادوار میں سے گزر کر اس مقام تک پہنچی ہے جہاں دنیا اسے آج دیکھ رہی ہے۔ ابتدا اس کی ایک چھوٹے سے بیج کی مانند تھی اور اس وقت ایک صحت مند بھرپور جوانی والے خوبصورت درخت کی شکل یہ بیج اختیار کر گیا ہے۔ ہر صدارت نے اپنی صدارت کے زمانے میں دو کام کیے۔ کسی نے بہت ہی اچھے طریقے پر اور کسی نے درمیانے طریقے پر اور کسی نے اپنا وقت گزارا بعض پہلوؤں کے لحاظ سے۔ بہرحال دو کام کیے ہر صدارت نے۔ ایک جو روایات بن چکی تھیں ان کو قائم رکھنے کی سعی کی، کوشش کی اور دوسرے جو ضروریات پیدا ہو چکی تھیں ان سے نمٹنے کے لیے کوشش کی۔ نئی نئی باتیں ڈویلپ ہوتی ہیں، نئی ضروریات پیدا ہوتی ہیں ان سے نمٹنے کے لیے کوشش کی۔ ایک زندہ وجود کو یہی دو کام کرنے پڑتے ہیں۔ پھر فرمایا مجلس خدام الاحمدیہ کی زندگی قیامت تک کے لیے ممتد ہے کیونکہ اس تنظیم کا تعلق نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس مہدی کی جماعت کے ساتھ ہے جس کے متعلق یہ بشارت دی گئی ہے کہ قیامت تک وہ ذمہ داریاں جن کا تعلق اصولاً بھی اور تفصیلاً بھی امت محمدیہ سے اور اسلام سے ہو گا اس کی جماعت پر ڈالی جائیں گی۔ چونکہ جماعت احمدیہ کی زندگی قیامت تک ممتد ہے اس لیے جماعت احمدیہ کی تمام ذیلی تنظیموں کی زندگی بھی قیامت تک ممتد ہے اور ہر دور جس میں سے بنیادی تنظیم، اصلی تنظیم یعنی جماعتی تنظیم یا اس کی ذیلی تنظیمیں جس میں سے گزریں ہر دور میں پہلی خوبصورتی اور حسن اور جمال کو محفوظ رکھنا اور اس میں زیادتی کرتے چلے جانا یہ فرض بن جاتا ہے ان لوگوں کا جن کے ہاتھ میں اس کی قیادت دی جاتی ہے۔

پھر فرمایا ہم کہیں ٹھہر نہیں سکتے کیونکہ ٹھہرنا موت کے مترادف ہے۔ یہ ایک بنیادی اصول ہے زندگی کا۔ پس اس بات کو ہماری ہر سطح پر ہر تنظیم کو اور نظام جماعت کے بھی ہر عہدیدار کو ہمیشہ یاد رکھنا چاہیے کہ ہم کہیں ٹھہر نہیں سکتے کیونکہ ٹھہرنا موت کے مترادف ہے۔ یہ ایک بنیادی اصول ہے زندگی کا۔ فرمایا کہ ہر نئے آنے والے صدر پر پہلے سے زیادہ ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں کیونکہ اس سے پہلے کے صدر نے دو سال پہلے سے قبل کی حالت کو قائم رکھ کے آگے بڑھنا ہے۔ پہلا صدر جو کام کر کے دے گیاہے اس کو آگے بڑھانا ہے۔ فرمایا کہ کام میں وسعت پیدا ہوتی ہے۔ نئی ہدایات مرکزِ ہدایت یعنی خلافت سے جاری ہوتی ہیں۔ خلیفہ وقت سے نئی ہدایات ملتی ہیں۔ نئی ذمہ داریاں نئے حالات کے مطابق ڈالی جاتی ہیں۔ پرانی روایات کو قائم بھی رکھنا ہوتا ہے اور نئی ضرورتوں کے حصول کے لیے اور نئے مسائل کے سمجھنے کے لیے نئی کوشش نئے عزم کے ساتھ بھی کی جاتی ہے۔

پھر فرمایا کہ اللہ تعالیٰ عزیز بھائی اور بچے حمید اللہ صاحب کو جو انہوں نے جماعت کے لیے کیا جس رنگ میں ذمہ داریوں کو نباہا اس پر انہیں احسن جزا دے اور انہیں بھی توفیق دے کہ دین کی مزید جو ذمہ داریاں دوسرے شعبوں کی، جس رنگ میں بھی ان کے کندھوں پر پڑیں آخر وقت تک انہیں وہ اسی طرح خوش اسلوبی سے نبھاتے چلے جائیں اور ادا کرتے چلے جائیں۔

(ماخوذ از مشعل راہ جلد02صفحہ 414-415 خطاب فرمودہ یکم دسمبر1973ء)

1974ء کے ہنگامی حالات میں بھی چودھری صاحب نے حضرت خلیفة المسیح الثالثؒ کی ہدایت کے مطابق جو ہنگامی سیل قائم ہوا تھا اس میں اہم خدمات سرانجام دیں۔

(سلسلہ احمدیہ جلد 03 صفحہ 281)

حضرت خلیفة المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ کے لندن ہجرت کے بعد حضور کے ارشاد پر یہاں آئے اور ایک سال سے زائد عرصہ یہاں رہے اور یہاں بھی جو جماعتی مرکزی نظام تھا اس کو قائم کرنے اور اس کو سیٹ کرنے میں انہوں نے کافی کردار ادا کیا۔ 1982ء سے 1999ء تک بطور صدر مجلس انصاراللہ کے خدمت کی توفیق پائی۔ اس وقت عرصہ کی شرط نہیں ہوتی تھی۔ یہ تقریباً سترہ سال صدر انصار اللہ رہے۔ پھر انصار اللہ میں جب صدر تھے تو انصار اللہ کے متعلق حضرت خلیفة المسیح الثانیؓ کے ارشادات پر مشتمل ’سبیل الرشاد‘ کی پہلی جلد مرتب کر کے شائع کی گئی۔ گیسٹ ہاؤس میں توسیع اور تعمیر کا قابل قدر کام ہوا۔

( انصار اللہ ربوہ جنوری 2000ء صفحہ 15، 17)

جماعت احمدیہ کی 1989ء کی جو صدسالہ جوبلی منصوبہ بندی کمیٹی تھی اس کے صدر کی حیثیت سے بھی خدمت سرانجام دی۔ اس سے قبل آپ کو سیکرٹری صدسالہ احمدیہ جوبلی منصوبہ بندی کمیٹی کے طور پر خدمات بجا لانے کی توفیق ملی۔ 2005ء میں مرکزی کمیٹی خلافت احمدیہ صدسالہ جوبلی 2008ء کے صدر کے طور پر بھی خدمات بجا لاتے رہے۔2005ء میں صدر خلافت احمدیہ جوبلی کمیٹی مقرر ہوئے تھے، جو خلافت احمدیہ صد سالہ جوبلی کی مرکزی کمیٹی تھی اور اس کا چونکہ کام مستقل تھا تو اب تک یہ اس کی صدارت کرتے رہے۔ ابھی بھی بعض چیزیں اس کی شائع ہو رہی ہیں۔

اپریل 2003ء میں حضرت خلیفة المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ کی وفات کے موقع پر انتخاب خلافت کے اجلاس کی صدارت کا اعزاز بھی انہیں نصیب ہوا۔ بطور وکیل اعلیٰ آپ نے افریقہ اور یورپ سمیت متعدد ممالک کے دورے بھی کیے۔

1973ء میں محترم سید میر داؤد احمد صاحب کی وفات پر حضرت خلیفة المسیح الثالث رحمہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو افسر جلسہ سالانہ مقرر کر دیا۔ 1973ء تا وفات آپ بطور افسر جلسہ سالانہ خدمات سرانجام دیتے رہے۔ گو پاکستان میں 1983ء کے بعد جلسے تو نہیں ہوئے لیکن باقاعدہ نظام وہاں قائم تھا اور اس کو یہ نہیں کہ انہوں نے چھوڑ دیا۔ باقاعدہ حالات کے مطابق اپ ڈیٹ کرتے رہے کہ جب بھی اللہ تعالیٰ توفیق دے جب بھی حالات بہتر ہوں اور جلسہ ہو تو زیادہ سے زیادہ تعداد کو ہم کس طرح سنبھال سکتے ہیں اور ان میں یہ بڑی انتظامی صلاحیت تھی اس کے مطابق انہوں نے کام کیا۔ افسر جلسہ سالانہ بننے سے پہلے آپ مختلف حیثیتوں سے جلسہ سالانہ کے نظام میں بھی کام کرتے رہے۔ جلسہ سالانہ قادیان جو 1991ء میں ہوا ۔حضرت خلیفة المسیح الرابع وہاں گئے تھے۔ ان کو حضور نے افسر جلسہ سالانہ مقرر فرمایا اور پھر ان کی تعریف کرتے ہوئے خطبہ میں فرمایا کہ ’’پاکستان سے چودھری حمید اللہ صاحب اور میاں غلام احمد صاحب نے بڑے لمبے عرصہ تک بہت محنت کی ہے اور قادیان جا کر وہاں کے مسائل کو سمجھا اور میری ہدایات کے مطابق ہر قسم کی تیاری میں بہت ہی عمدہ خدمات سرانجام دی ہیں ورنہ قادیان کی احمدی آبادی اتنی چھوٹی ہے کہ ان کے بس میں نہیں تھا کہ اتنے بڑے انتظام کو سنبھال سکتے۔‘‘

(دورہ قادیان1991ء صفحہ 171)

1977ء میں ان کو افسر جلسہ سالانہ ربوہ کے علاوہ ناظر ضیافت بھی مقرر کیا گیا۔ 1977ء تا 1987ء تک بطور ناظر ضیافت خدمات سرانجام دیتے رہے۔

آپ کے پسماندگان میں آپ کی اہلیہ رضیہ خانم کے علاوہ ایک بیٹا اور دو بیٹیاں شامل ہیں ۔ بیٹا رشیداللہ صاحب تو کینیڈا میں مقیم ہیں اور ایک بیٹی یہاں لندن میں ہیں اور ظہیر حیات صاحب کی اہلیہ ہیں اور دوسری بیٹی رضوانہ حمید کمال یوسف صاحب کی بہو، نثار احمد صاحب کی اہلیہ ہیں یہ سویڈن میں ہیں ۔

ان کی اہلیہ بیان کرتی ہیں کہ ہماری شادی 1960ء میں ہوئی۔ شادی کے بعد میں نے دیکھا کہ آپ کو جو بھی الاؤنس ملتا تھا تو سب سے پہلے اس میں سے چندہ نکالتے اور مجھے بھی ہمیشہ یہ تلقین کرتے کہ پہلے چندے دو۔ بعد میں باقی اخراجات پورے کرو اور مجھے وصیت کی تلقین بھی کی۔ شادی کے وقت چودھری صاحب کی تنخواہ 80 روپے تھی۔ آجکل کوئی تصور بھی نہیں کر سکتا، سستا زمانہ بھی تھا لیکن اس کے باوجود بھی 80 روپے بہت معمولی رقم تھی۔ ان کی تنخواہ 80روپے تھی اس پر میں بہت پریشان تھی کہ اس آمدن میں چندہ نکالنے کے بعد گزارا کیسے ہو گا لیکن چندے کی برکت سے اللہ تعالیٰ کا فضل رہتا اور بڑے آرام سے دن گزرتے۔ اور میرا خیال ہے کالج میں کیونکہ لگے تھے تو اس وقت کالج کے لوگوں کی جو تنخواہ، الاؤنس تھا وہ زیادہ ہوتا تھا۔ باقی جو کارکنان تھے ان کا، مربیان کا یا واقفین زندگی کا تو اس سے بھی کم ہوتا تھا۔

پھر لکھتی ہیں کہ آپ تہجد گزار تھے۔ پانچ وقت کی نمازیں باجماعت مسجد یا دفتر میں ادا کرتے۔ بیماری کی صورت میں گھر میں ادا کرتے۔ نماز کا خاص اہتمام ہوتا تھا۔ آخری دم تک نمازیں پوری اور وقت پر پڑھتے۔ انہیں دیکھ کر مجھے بھی نماز تہجد کی عادت ہو گئی تھی۔ میں نے سب کچھ ان سے سیکھا ہے۔

پھر کہتی ہیں کہ میرے ساتھ ان کا بہت زیادہ حسن سلوک تھا۔ گھر میں جو بھی چیز آتی وہ پہلے مجھے دیتے اور پھر بچوں کو تقسیم کرتے۔ اکثر کام سے دیر سے گھر آتے، بہت رات گئے تک دفتر میں رہتے دفتروں میںکام کرتے تھے۔ میں نے بھی دیکھا ہے۔ تو کہتی ہیں کہ مجھے تنگ نہیں کرتے تھے۔ بیرونی دروازے کی چابیوں سے خود ہی کھول کے اندر آ جاتے۔ کتنے بھی لیٹ ہوں کبھی گھنٹی نہیں بجائی۔ کبھی نہیں اٹھایا اور کہتی ہیں کھانا اگر کھانا ہوتا تو جتنی ان کی ضرورت ہوتی تھی، جتنا کھانا چودھری صاحب کھاتے تھے وہ میں دیگچی میں ڈال کے رکھ دیتی تھی اور روٹیاں لپیٹ کے پاس رکھ دیتی تھی اور میں سو جاتی تھی۔ آپ باہر سے آتے تھے خود ہی کھانا گرم کر کے کھا لیتے تھے۔ کبھی کوئی مطالبہ نہیں کیا چاہے کھانے کا ہو یا پہننے کا۔ جو کھانے کے لیے ملتا خوشی سے کھا لیتے اور جو کپڑا لاتی خوشی سے پہن لیتے۔ کبھی کوئی اعتراض نہیں کیا۔ اور یہ گھروں میں امن اور سکون رکھنے کا بڑا بنیادی اصول ہے۔اگر اس پہ عمل کریں تو آدھے گھر کیا اسّی فیصد گھروں کے مسائل کبھی پیدا ہی نہ ہوں۔ شہداء، عہدے داران، نامور شخصیات، کارکنان، کارکنان کے لواحقین اور دیگر جاننے والے احباب کے جنازوں میں ضرور شامل ہوتے تھے اور تدفین تک ساتھ رہتے تھے ۔ کسی کے بارے میں دل میں غصہ نہیں رکھتے تھے۔ بہت ستاری والی طبیعت تھی۔ ایک شفیق خاوند تھے۔ بچوں کے لیے شفیق باپ تھے۔ کسی رشتہ دار سے ناراض نہ ہوتے تھے۔ صلح میں پہل کرتے تھے اور کہتے تھے کہ اَلْعِزَّةُ لِلّٰہِ جَمِیْعًا سب عزتیں اللہ تعالیٰ کے لیے ہوتی ہیں۔ اپنے بہن بھائیوں اور دیگر رشتہ داروں کا بہت خیال رکھتے تھے۔ ہر جمعرات کو ربوہ میں مقیم اپنی بہن کے گھر جاتے۔ چودھری صاحب نے والدین کا بھی بہت خیال رکھا۔ کہتی ہیں میرا آپریشن ہوا میں دس دن ہسپتال میں رہی۔ سونے کے لیے وہاں جگہ کوئی نہیں تھی تو میرے کمرے میں فرش پر ہی لیٹ جاتے تھے۔ کبھی شکوہ نہیں کیا کہ میں نیچے نہیں سو سکتا اور بڑے شفیق خاوند تھے ۔کہتی ہیں جب میں بیمار ہو کر طاہر ہارٹ میں داخل ہوتی تو وہاں بھی میرے ساتھ رہتے اور ہر لحاظ سے خیال رکھتے۔

پھر ان کی بیٹی یہ کہتی ہیں کہ کبھی ہماری امی سے اونچی آواز میں بات نہیں کی۔ ابو صرف ہمارے ابو نہیں تھے بلکہ ہمارے دوست بھی تھے۔ ہم ان سے ہر بات شیئر کر سکتے تھے۔ پھر کہتی ہیں کہ عام طور پر چھوٹے ہوتے میرے کمرے میں ہی نماز تہجد پڑھتے تھے۔ اس دوران مجھے ان کی یہ دعا اب تک یاد ہے جو وہ بار بار پڑھتے تھے کہ ؎

اے قادر و توانا! آفات سے بچانا

بچپن میں سونے سے پہلے ہمیں کہانیاں سناتے۔ جب سویڈن آتے تو میرے بچے چھوٹے تھے ان کو بھی کہانیاں سناتے اور ہمارے ابو ہمارے لیے دعاؤں کا خزانہ تھے۔

پھر ان کی ایک بیٹی کہتی ہیں کہ ان کی ساری عمر یہ روٹین (routine)تھی کہ صبح ناشتے کے بعد دفتر جاتے اور دوپہر دیر سے گھر آتے۔ عصر کے بعد دوبارہ دفتر جاتے اور عشاء کے بعد دیر سے گھر آتے۔ بچپن میں جب ہمیں کبھی Mathsمیں مدد کی ضرورت ہوتی تو ان کے پاس بچوں کو پڑھانے کا صرف فجر کے بعد ایک گھنٹہ ہوا کرتا تھا۔

ایک دفعہ جلسہ سالانہ کے معائنہ کی تقریب کے دوران حضرت خلیفة المسیح الثالثؒ نے ان کے بارے میں فرمایا ، اس وقت خلیفة المسیح الثالثؒ کارکنان کے ساتھ کھانا کھایا کرتے تھے تو جب بیٹھے ہوئے تھے تو اس وقت حضرت خلیفة المسیح الثالثؒ نے ان کو کہا کہ آپ میرے ہی پیالے میں میرے ساتھ کھانا کھا لیں۔ مٹی کے پیالوں میں سالن دیا کرتے تھے۔ تو جو پیالہ حضرت خلیفة المسیح الثالثؒ کے سامنے رکھا انہوں نے چودھری صاحب کو کہا آپ میرے ساتھ اسی پیالے میں کھائیں۔

آپ حقیقی معنوں میں وقف زندگی کا حق ادا کرنے والے تھے۔ کھانے پینے اور سونے کے علاوہ آپ نے صرف جماعتی کام کیا کوئی وقت ضائع نہیں کیا۔ پھر یہ بیٹی کہتی ہیں کہ جب میں چھوٹی تھی تو ایک بات انہوں نے مجھے سکھائی کہ اوپر والا ہاتھ نیچے والے ہاتھ سے بہتر ہے۔ میں پہلے ہتھیلی کھول کر یعنی ہاتھ پھیلا کر کسی سے کچھ لیتی تھی تو کہتے تھے ایسے نہیں لینا اشارے سے سمجھاتے تھے کہ اوپر سے پکڑنا ہے۔ ایسے انداز میں لینا چاہیے خواہ پیسے ہوں یا کچھ اور ہو۔ یہ بھی تربیت کا ایک اچھا طریقہ ہے۔ دنیاوی چیزوں سے ان کو بالکل محبت نہیں تھی۔ کہتی ہیں میں نے کبھی کسی اور شخص میں یہ خوبی نہیں دیکھی ۔کوئی جتنا بھی بڑا تحفہ ان کو دے دیتا ان کی آنکھوں میں کوئی چمک نہ ہوتی تھی۔ ان کی آنکھوں کی چمک اور دلچسپی صرف جماعتی کاموں میں ہوتی تھی۔ فون بیڈ کے پاس رکھا ہوتا تھا۔ چوبیس گھنٹے وہ ہر ایک کو فون پر available ہوتے تھے۔

پھر ان کی بڑی بیٹی لکھتی ہیں کہ اپنے بچوں پر ان کی گہری نظر ہوتی تھی۔ ان کے جذبات اور احساسات کا بہت خیال رکھتے تھے۔ کبھی ہم پر اپنی ذات سے متعلق کوئی بوجھ نہیں ڈالا یعنی یہ نہیں کہا کہ یہ کر دو وہ کر دو۔ اپنے کام خود ہی کر لیا کرتے تھے۔ ہر وقت ہماری مدد کرنے کی کوشش کرتے۔ میرے بچوں کو بھی پاس بٹھا کر سلسلہ کی باتیں سناتے۔ وقف کی برکات اور خلفاء کے ساتھ اپنے ایمان افروز واقعات سناتے۔ ان کی ہر بات بامقصد ہوتی اور اس کا ہم پر ایک مثبت اثر ہوتا۔

ان کے بیٹے نے بھی یہی لکھا ہے کہ آپ ہمیشہ دو باتوں پر زور دیتے تھے کہ نمازیں اور خلیفہ وقت کا خطبہ کسی صورت میں missنہیں کرنا چاہیے اور خلیفہ وقت نے جو بھی ارشاد فرمائے ہیں ان پر بھرپور عمل کرنا چاہیے۔ پھر یہ کہتے ہیں کہ مجھے یہ کہا کرتے تھے تبلیغ کا ذریعہ اگر کوئی پیدا کرنا ہے تو کینیڈینز (Canadians)پر یہ اثر ڈالو کہ ان کو یہ احساس ہو کہ یہ شخص ہماری عزت بھی کرتا ہے اور ہم سے محبت بھی کرتا ہے۔

جمیل الرحمٰن رفیق صاحب وکیل التصنیف تحریک جدید لکھتے ہیں کہ چودھری صاحب سے ایک دیرینہ تعلق تھا۔ چودھری صاحب کے والد صاحب محمد بخش صاحب بڑے دین دار آدمی تھے، نیک خصلت تھے۔ یہی صفات چودھری صاحب میں منتقل ہوئیں اور پروان چڑھیں۔ ان کے والد محمد بخش صاحب چودھری فضل احمد صاحب کو دعوت الی اللہ کیا کرتے تھے۔ یہ ساٹھ ستر سال پہلے کی بات ہے اور ان کے والد کی وجہ سے چودھری فضل احمد صاحب نے احمدیت قبول کر لی اور پھر جمیل الرحمٰن صاحب کا جو مزید تعلق بنا تو کہتے ہیں کہ وہ اس وجہ سے تھا کہ چودھری فضل احمد صاحب پھر خاکسار کے خسر بنے اور اس تعلق کو پھر انہوں نے خوب نبھایا۔ اس کے علاوہ کہتے ہیں خاکسار کے استاد بھی تھے۔ جب خاکسار بی ایس سی میں تھا تو اس وقت mathematics میں ایم اے کر کے یہ آئے تھے۔ کچھ عرصہ انہوں نے ہمیں پڑھایا۔ بڑی دلجمعی سے پڑھایا کرتے تھے جس سے ہم لوگ بڑے متاثر ہوتے تھے۔ اصول کے بڑے پکے تھے لیکن شفقت کرنے والے تھے اور قابل امداد کارکنان کی درپردہ امداد کیا کرتے تھے۔ خدا کے فضل سے محنتی بہت تھے۔ طبیعت علمی تھی۔ خاص طور پر تاریخ اور جغرافیہ سے خوب واقف تھے اور اس کی تلقین بھی کیا کرتے تھے۔ خدا کے فضل سے جماعتی اموال نہایت احتیاط سے خرچ کیا کرتے تھے اور فرمایا کرتے تھے کہ چند الفاظ کی ایک چٹھی کے لیے پورے سائز کے بجائے نصف کاغذ استعمال کیاکریں۔ ہر معاملے کی تہ تک پہنچتے۔ کوئی معاملہ درپیش ہوتا تو اس کی جزئیات تک کا جائزہ لیتے اور پھر کوئی فیصلہ کرتے۔ یہ خوبی خدا کے فضل سے ان میں بہت نمایاں تھی۔

لئیق ناصر صاحب وکیل الدیوان کہتے ہیں کہ چودھری صاحب نے مجھے بیان کیا کہ خلیفة المسیح الثالث رحمہ اللہ تعالیٰ جب صدر خدام الاحمدیہ تھے تو چودھری صاحب کی بطور معاون اجتماع پر ڈیوٹی تھی۔ حضرت خلیفة المسیح الثالث رحمہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو کہا ذرا لنگر خانہ کی صورتحال دیکھ کر آئیں۔ (لنگر اجتماع پر بھی چلا کرتا تھا) دیکھ کے آؤ کھانا کس طرح پک رہا ہے۔ چودھری صاحب کہتے ہیں کہ میں چلنے لگا تو حضرت صاحب نے واپس بلا لیا کہ لنگر کے جو انچارج ہیں وہ تو بہت سخت طبیعت کے ہیں۔ وہ تو تمہیں اندر نہیں گھسنے دیں گے۔ تم بغیر کسی اتھارٹی کے جا رہے ہو اور بڑی عمر کے بھی ہیں۔تو کہتے ہیں میں ان کا معاون تھا حضرت صاحب نے اپنا صدر خدام الاحمدیہ کا بَیج اتار کر مجھے لگا دیاکہ اب یہ اتھارٹی تمہارے پاس ہے کہ صدر خدام الاحمدیہ نے بھیجا ہے اور یہ اپنا بَیج لگا کر بھیجا ہے اور پھر جاؤ اور جا کے رپورٹ لے کر آؤ۔

جب میں نے تمام ناظران، وکلاء کو ایک دفعہ یہ کہا تھا ، بعد میں بھی دو تین دفعہ کہا ہے ،کہ باہر جماعتوں میں جائیں اور لوگوں کو ملیں اور میرا سلام پہنچائیں تو چودھری صاحب بھی دو دفعہ گئے۔ لکھنے والے کہتے ہیں کہ دو دفعہ میں ان کے ساتھ دورے پر سرگودھا گیا۔ ضلع سرگودھا ان کے سپرد تھا اور کوئی گھر انہوں نے نہیں چھوڑا، ہر گھر تک پہنچے اور جو شخص گھر میں نہیں ملتا تھا، پتہ لگتا تھا کہ وہ ڈیرے پر ہے یا کہیں کام پر گیا ہوا ہے تو آپ وہیں چلے جاتے اور ملاقات کرتے۔ بعض ایسی جگہیں بھی تھیں جہاں گاڑی نہیں جا سکتی تھی تو بےشمار دفعہ کئی کئی کلو میٹر پیدل چل کر ان لوگوں تک سلام پہنچانے کے لیے پہنچے۔ پھر یہ بھی خاص عادت تھی ان کی کہ اطاعت اور تعمیل پوری کرنی ہے۔ جو پیغام میں نے دیا ہوا تھا وہ کئی دفعہ پڑھتے تھے اور کہتے یہ بھی مجھے ہدایت تھی کہ جب پیغام میں دینے لگوں لوگوں کو تو اگر کہیں میں غلطی میں الفاظ آگے پیچھے کر دوں تو مجھے ٹوک دیا کرو اور بتا دیا کرو کہ یہ الفاظ اس طرح ہیں۔ اس حد تک وہ particular تھے۔ پھر یہ کہا کرتے تھے کہ دفتری معاملات میں بھی ان کی ایک مستقل ہدایت تھی کہ جو بھی معاملہ ہو چھوٹا ہو یا بڑا ہو ،غلطی بھی ہو گئی ہو تو خلیفة المسیح کو باخبر رکھنا ہے اور لازمی طور پر بات ان کے علم میں لائیں۔ اس سے دعا بھی ہو جاتی ہے اور اصلاح بھی ہو جاتی ہے۔ سادگی انتہا کی تھی دورے کے دوران بھی جماعت کو ہدایت تھی کہ کوئی پروٹوکول نہ ہو۔ جب کھانے کا وقت ہوا جہاں موقع ملا کھا لیا۔ بعض دفعہ گاڑی میں بیٹھ کے کھانا کھا لیا۔ بعض دفعہ گاؤں میں پھرتے ہوئےفصل میں کہیں کنارے پہ بیٹھ کے کھانا کھا لیا۔ پھر بعض دفعہ اس دورے کے دوران بعض جماعتیں کہتیںکہ آج ہمارے سے کوئی خطاب کر دیں تو انکار کر دیا کرتے تھے کہ جس بات کا مجھے حکم ملا ہے فی الحال میں صرف وہی کروں گا۔

حضرت مصلح موعود ؓکا یہ ارشاد تھا قادیان والوں کو بھی، ربوہ والوں کو بھی کہ اپنے محلے کی مسجدوں میں نماز ادا کیا کریں۔ آخر وقت تک اس پر بھی کاربند رہنے کی کوشش کرتے رہے۔ اگر مسجد مبارک میں، مرکزی مسجد میں آتے بھی تھے تو کم از کم کوئی نہ کوئی نماز ضرور(محلہ کی مسجد میں) ادا کرتے تھے۔ رات کو بھی دفتر آتے تھے۔ کئی دفعہ ایسا بھی ہوا کہ آپ شام کو دفتر آئے اور کوئی دفتر کھولنے والا نہیں ہوتا تھا تو آپ خود آ کر دفتر کھولتے اور کام کرتے رہتے۔ یہ عادت آپ کو کالج کے دَور سے ہی تھی۔ ایک دلچسپ واقعہ کالج کے دَور کا ہے لکھتے ہیں کہ ایک دفعہ آپ تعلیم الاسلام کالج کے سٹاف روم میں شام کے وقت بیٹھے کام کر رہے تھے تو مددگار آیا اور ڈبہ دیا جس میں کھانے کی چیز تھی۔ کھولا تو اس میں بریانی تھی یا پلاؤ تھا۔ انہوں نے کہا یہ پرنسپل صاحب نے بھجوایا ہے۔ اس وقت حضرت خلیفة المسیح الثالثؒ، حضرت مرزا ناصر احمد صاحب پرنسپل تھے۔ انہیں معلوم نہیں تھا کہ آپ وہاں بیٹھے ہوئے ہیں۔ حضرت خلیفة المسیح الثالث رحمہ اللہ نے بعد میں ان کو فرمایا کہ مجھے پتہ تھا کہ آپ اس وقت بیٹھے ہوں گے، اس لیے مددگار کو کہا کہ جاؤ وہاں جو کوئی بھی بیٹھا ہو اس کو دے آؤ ۔

جب بھی آپ کے گھر کوئی جاتا خود مہمان نوازی کرتے۔اپنے کارکنوں کو اپنے ماتحتوں کو بغیر تکلّف کے جو کچھ ہوتا پیش کر دیتے۔ لئیق عابد صاحب نے لکھا کہ چھوٹے چھوٹے معاملات میں بہت زیادہ احتیاط سے کام کیا کرتے تھے۔ کوئی بھی ڈرافٹ بل یا خط مکمل پڑھے بغیر سائن نہیں کیا کرتے تھے اور یہ بڑی ضروری چیز ہے افسروں کے لیے کہ بغیر دیکھے سائن نہ کیا کریں ۔ وقت کی پابندی کرتے اور ہر کام وقت پر کرنے کی عادت اس قدر پختہ تھی کہ گویا وقت پر سوار ہوں اور جس طرف چاہیں اس کو موڑ لیں۔ اس قدر وقت کی پابندی کے باوجود ادب کے تقاضوں کا بہت لحاظ کرنے والے تھے۔ مسجد میں نماز کے لیے جاتے تو ذکر الٰہی میں مشغول ہو جاتے اور گھڑی کی طرف نہیں دیکھتے تھے جیسا کہ عموماً لوگوں کا طریق ہوتا ہے کہ نماز کا وقت ہو گیا ہے تو نماز شروع کیوں نہیں ہوئی،گھڑیاں دیکھنے لگ جاتے ہیں۔ جب بھی امام آیا اس وقت نماز پڑھ لی۔ باہر سے آنے والے جو مبلغین تھے ان کو نصائح کرتے۔ عموماً یہ نصائح کیا کرتے تھے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتب پڑھیں اور حضرت مسیح موعودؑ کی کتب میں بیان ہونے والی تعلیمات پر عمل کریں، اسی طرح ہم ساری دنیا میں احمدیت کی ایک جیسی شکل بنا سکتے ہیں۔

سمیع اللہ سیال صاحب کہتے ہیں ہم نے اکٹھے میٹرک کیا۔ تعلیم مکمل کرنے کے بعد حضرت خلیفة المسیح الثانیؓ کی خدمت میں پیش ہوئے، وقف کی درخواست کی اور حضور نے وقف ازراہ شفقت قبول فرمایا۔ آخر وقت تک تقریباً اکہتر سال تک مختلف حیثیتوں سے خاکسار ان کے ساتھ رہا۔اپنے اوصاف کے لحاظ سے وہ ایک عظیم انسان تھے۔ ایک ہمدرد، باہمت، ہمہ وقت دین کی خدمت کرنے والے اور خلافت سے بے پناہ عشق رکھنے والے وجود تھے۔ یہ بھی ان کی خصوصیت تھی کہ نئے آنے والے واقفین کی نہایت عمدگی سے تربیت کیا کرتے تھے (اور یہ بہت بڑی خوبی تھی اس لیے میں نے بھی بعض واقفین کو ان کے سپرد کیا کہ ان کی تربیت کریں اور انہوں نے بڑی اچھی طرح ان کی تربیت کی۔)

حلیم قریشی صاحب کہتے ہیں کہ انتظامی معاملات اور مالی معاملات پر بڑی سخت گرفت تھی۔ کبھی بدانتظامی برداشت نہ کرتے۔ مالی معاملات پر گہری نظر رکھتے اور قیمتوں کے بارے میں اَپ ڈیٹ لیتے رہتے۔ اگر کوئی بل آتا اور اس میں دس روپے بھی زائد ہوتے تو پوچھ گچھ کرتے کہ فلاں دکان پر اس چیز کی قیمت سو روپے ہے اور آپ نے ایک سو دس روپے خرچ کیے ہیں۔

امیر محمد قیصرانی صاحب انجینئر ہیں روٹی پلانٹ جلسہ سالانہ میں۔ کہتے ہیں کہ چودھری صاحب مشورے کو بےحد اہمیت دیتے تھے۔ کوئی بھی فیصلہ کرنے سے قبل متعلقہ عہدے دار یا اس کام کے expertسے مشورہ ضرور کرتے تھے۔ ہر نیا قدم اٹھانے سے پہلے اس کا تفصیلی جائزہ لیتے تھے اور وسیع پیمانے پر مشورہ کرنے کے بعد ہی کسی نتیجہ پر پہنچتے تھے۔ جمعة المبارک کو جب عموماً دفاتر بند ہوتے ہیں تو اس وقت روٹی پلانٹ کے ٹرائل کیا کرتے تھے۔ اسی طرح آخری ہفتہ میں تعطیل پر بھی اکثر دفتر جایا کرتے تھے۔ اس بارے میں اپنے ساتھ کام کرنے والوں کو سمجھاتے تھے کہ حضرت خلیفة المسیح الثالثؒ سے ہم نے یہ سیکھا ہے کہ جب کبھی بھی ذاتی زندگی میں کسی قسم کی پریشانی یا مشکل ہو تو جماعتی کاموں میں زیادہ وقت دیا کرو۔ اللہ تعالیٰ خود ہی وہ پریشانی دور کر دے گا۔ راہ چلتے لوگوں سے بہت عزت اور پیار سے ملتے۔ ہر شخص سے اس کی دلچسپی کے موضوع پر بات کرتے۔ انجینئر صاحب کہتے ہیں کہ وفات سے قبل ایک میٹنگ میں تعمیراتی کام میں کچھ تاخیر ہونے پر خاکسار اور دیگر انجینئرزسے کچھ برہمی کا اظہار کیا تاہم اسی روز چھٹی کے بعد خاکسار کو فون کیا اور ہمیشہ کی طرح مسکراتے ہوئے بولے کہ آج میں نے شاید کچھ سخت الفاظ استعمال کر لیے تھے اس کی معذرت کرنے کے لیے فون کیا ہے اور خاکسار کا حال بھی دریافت کیا۔

حافظ مظفر احمد صاحب لکھتے ہیں کہ خاکسار کی درخواست پر حضرت خلیفة المسیح الرابع نے ریسرچ سیل کی تعمیر کی اصولی منظوری عطا فرمائی۔ چودھری صاحب سے ملنے کی ہدایت عطا فرمائی اور اس وقت موصوف نے تعمیل ارشاد میں دو مجوزہ مقامات میں سے جامعہ میں یہ دفتر تعمیر کروا کے دیا۔ دوران مشاورت فرمایا کہ آپ لوگوں نے آگے بھی جماعتی کام کرنے ہیں۔ ایک تو ہمیشہ سلسلہ کی آئندہ ضروریات مدّ نظر رکھنی چاہئیں۔ دوسرے قناعت اور کفایت کا اصول بھی پیش نظر رکھنا چاہیے اور شوقیہ بڑی آفس ٹیبل یا آرام دہ کرسی کے بجائے حسب ضرورت مناسب فرنیچر تیار کروانے پر توجہ دلائی۔

ماجد طاہر صاحب وکیل التبشیر لندن لکھتے ہیں کہ آپ کے وقت کا ہر لمحہ خدمت دین میں گزرا۔ مختلف دفتری معاملات کی کارروائی میں جو بھی خلیفہ وقت کی طرف سے ارشادات ہوتے چودھری صاحب کو پہنچائے جاتے تو فوری طور پر بلا تاخیر ان پر کارروائی فرماتے۔ کئی دفعہ رات کے وقت ارشاد ملتا اور چودھری صاحب اس ارشاد کی تعمیل کے لیے دفتر آ جاتے اور پھر تعمیل کر کے گھر جاتے۔ یقیناً آپ کا اٹھنا ،بیٹھنا ،کھڑے ہونا، چلنا، بولنا اور خاموش رہنا خلیفہ وقت کے ماتحت تھا۔ جو لوگ قواعد کو خلیفہ وقت کے کہنے سے بھی زیادہ اوپر سمجھتے ہیں اور لکھتے ہیں جی جماعت کے قواعد لکھے گئے انہی پر عمل ہونا چاہیے، ان کو ہمیشہ یہ کہا کرتے تھے کہ جو خلیفہ وقت ہدایات دیتے ہیں اور جو ارشادات فرماتے ہیں ان پر عمل کریں یہی آپ کے لیے قواعد ہیں۔ اور ویسے بھی قواعد میں ایک اوور رولنگ کلاز (over ruling clause)یہ موجود ہے۔

مبشر ایاز صاحب پرنسپل جامعہ ربوہ لکھتے ہیں کہ جماعتی روایات اور تاریخ کا ایک انسائیکلو پیڈیا تھے۔ اور یہ بالکل صحیح ہے۔ جتنا بھی موقع ملا ایک چیز جو محسوس ہوئی وہ ان کی گرفت اور احاطہ تھا جو ان کے متعلقہ کاموں میں ہوتا تھا۔ کہتے ہیں میں اپنے بعض ساتھیوں کو کہا کرتا ہوں کہ چودھری صاحب جامعہ کے حوالے سے میٹنگ کریں تو وہ ہمیں یہ بھی بتا دیں گے کہ تمہارے جامعہ میں اتنی سیڑھیاں ہیں، اتنے پودے ہیں اور فلاں فلاں جگہ پر یہ کمی ہے یا یہ پودا لگا ہوا ہے۔ بڑی گہرائی سے ہر چیز کو دیکھا کرتے تھے۔ وہ جس معاملے پر میٹنگ لے رہے ہوتے تھے اس کی تمام تر تفصیلات کو اس کی جزئیات سمیت جانتے ہوتے تھے اور اپنے ساتھیوں سے بھی ایسی ہی توقعات رکھتے تھے۔ پھر لکھتے ہیں کہ ربوہ کی ساری تاریخ تو گویا ان کی آنکھوں اور قلب و ذہن پر نقش تھی۔ چند ماہ قبل مجھے چودھری صاحب سے ملاقات کا موقع ملا۔ میں نے عرض کیا کہ ربوہ کے بعض تاریخی مقامات کے بارے میں بعض پرانے بزرگوں کی بتائی ہوئی باتوں میں کبھی اختلاف سامنے آتا ہے آپ اس کی نشاندہی کروا دیں جس پر انہوں نے کئی باتیں خاکسار کو بتائیں اور تفصیل سے بتایا کہ فلاں فلاں شخص بتا سکتا ہے لیکن اب فلاں کی یادداشت میں کچھ کمزوری ہے، ایسا کرو کہ فہرست بنا کر مجھے بھیج دو پھر تمہارے ساتھ جا کر جتنا مجھے یاد ہو گا بتا دوں گا۔ کہتے ہیں ان کی عاجزی اور انکساری کا یہ عالم تھا کہ خود چائے بنا کر ہمیشہ مجھے دیا کرتے تھے۔ عاجزی اور انکساری کا ایک اَور واقعہ کہتے ہیں کہ چند سال پہلے قادیان جلسہ پر گئے وہاں لنگر خانے کے نائب نگران محفوظ الرحمٰن صاحب تھے۔ ہم کھڑے باتیں کر رہے تھے تو چودھری صاحب کا وہاں سے گزر ہوا۔ سلام علیک ہوئی۔ کہتے ہیں اس کے بعد محفوظ صاحب ایک بڑی خاص قلبی کیفیت میں مجھے بتانے لگے کہ چودھری صاحب عجیب سادہ مزاج آدمی ہیں۔ کہتے ہیں ابھی تھوڑی دیر پہلے میرے پاس آئے کہ محفوظ صاحب کچھ کھانا ہے؟ جلدی سے کھانا لگا دیں میں ایک میٹنگ سے آیا ہوں اور کوئی پندرہ بیس منٹ تک دوبارہ ایک میٹنگ میں جانا ہے۔ کہتے ہیں کھانے کا وقت ختم ہو چکا تھا۔ میں نے کہا اچھا فرج میں پڑا ہوا کھانا ہے وہ میں گرم کر کے لاتا ہوں تو آپ اتنی دیر میں جا کر تیار ہو کر آ جائیں۔ فریش ہو کے آ جائیں۔ تو خیر کہتے ہیں میں کھانا گرم کرنے لگا۔ کھانا گرم کر کے جب میں لے کے آیا تو وقت کافی ہو گیا تھا۔ دیکھا کہ چودھری صاحب کیونکہ وقت کے پابند تھے، وقت پہ میٹنگ پہ جانا تھا اور لگ رہا تھا کہ آپ کھانا کھائیں گے تو لیٹ ہو جائیں گے تو اس سے پہلے ہی ان کو دیکھا کہ ڈائننگ ٹیبل پر جو روٹی کے بچے کھچے ٹکڑے تھے وہ اکٹھے کر کے اور بچی ہوئی دال یا جو بھی سالن تھا اس کے ساتھ کھانا تقریباً ختم کر چکے تھے اور پورے وقت پر میٹنگ کے لیے چلے گئے اور چہرے پر کسی قسم کی ناگواری کے کوئی آثار نہیں تھے کہ تم بڑا لیٹ کھانا کیوں لائے ہو؟ کیا وجہ ہے؟ وہی روٹی کے ٹکڑے کھا لیے اور دال جو بچی ہوئی تھی وہ کھا لی یا جو بھی ڈش میں یا پلیٹوں میں تھی اور چلے گئے۔

چودھری صاحب کا حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کی کتب کا مطالعہ بھی بڑا وسیع تھا۔ یوں لگتا تھا کہ مستقل طور پر ان کتب کو اپنے زیر مطالعہ رکھتے ہیں اور صرف مطالعہ کی حد تک نہیں بلکہ اگر یہ کہا جائے کہ حسابی طور پر ایک خاص نظر تھی اس نظر سے بھی کتابوں کو دیکھتے تھے تو غلط نہیں ہو گا۔ ایک ایک بات کا تجزیہ کیا ہوتا تھا اور جو جو سوال اس پر ہوتے تھے ان کو حل کیا ہوتا تھا یا حل کرنے کی کوشش کی ہوتی تھی اور یہ نصیحت دوسروں کو بھی کرتے تھے کہ جب بھی کتاب پڑھو تو ایک ایک فقرے پر نظر رکھو اور جہاں کوئی سوال پیدا ہو اس کو حل کرنے کی کوشش کرو۔

مبارک صدیقی صاحب کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ جب لندن تشریف لائے تو میں (حضور) نے ان کو اجازت دی کہ ٹی آئی کالج اولڈ سٹوڈنٹس والوں کے ساتھ میٹنگ کر لیں، ایک نشست رکھ لیں۔ کہتے ہیں میں نے جا کے چودھری صاحب کو عرض کیا کہ یوں خلیفة المسیح نے کہا ہے۔ خیر وہ آئے تو میں نے وہاں ان سے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو بڑا لمبا عرصہ خدمات کی توفیق دی ہے۔ بڑے اعزازات سے نوازا ہے، ہمیں اس کامیابی کا راز بتائیں ،کوئی نصیحت فرمائیں۔ اس پر انہوں نے کہا کہ ایک ہی راز ہے اور وہ یہ ہے کہ اپنے علم اور اپنی عقل کو کچھ نہ سمجھیں اور آنکھیں بند کر کے خلیفہ وقت کی اطاعت کریں۔ ایسی اطاعت ہو کہ آپ کا دل گواہی دے کہ میں نے اطاعت کا حق ادا کرنے کی بھرپور کوشش کی ہے۔

مرزا جواد صاحب لکھتے ہیں کہ خلیفة المسیح الثالثؒ کی ایک روایت سناتے تھے کہ ایک دفعہ خلیفة المسیح الثالثؒ نے چودھری صاحب کو بتایا کہ پارٹیشن سے قبل جلسہ کے موقع پر جو باقاعدہ ایک ہفتہ کی ڈیوٹیز لگتی تھیں اس پورے عرصہ میں تمام ڈیوٹی دینے والوں کو صرف ایک بار ایک چائے کی پیالی بطور ریفریشمنٹ ملتی تھی۔ چنانچہ ایک خادم کارکن خوشی خوشی چائے لے کر اپنی رہائش گاہ پر آیا۔ (باقی تو کھانا جو لنگر میں پکتا تھا وہی ہوتا تھا۔ چائے صرف ایک دفعہ کارکن کو مل رہی ہے۔)تو ایک کارکن چائے لے کر اپنی رہائش گاہ میں آیا تو ساتھ بستر میں موجود مہمان سمجھا کہ شاید میرے لیے چائے لے کے آیا ہے۔ کارکن جب اندر کمرے میںداخل ہوا وہاں مہمان لیٹا ہوا تھا وہ سمجھا کہ شاید میرے لیے چائے لے کر آیا ہے۔ مہمان نے خادم سے سوال کے رنگ میں پوچھ لیا کہ کیا میرے لیے چائے لائے ہو؟ تو خادم نے بغیر کوئی احساس دلائے وہ چائے مہمان کو دے دی اور چودھری صاحب کہتے تھے کہ حضرت خلیفہ ثالثؒ یہ واقعہ بیان کر کے ڈیوٹی دینے والوں کے ایثار کا ذکر فرماتے تھے کہ کیسے ڈیوٹی والے ہر حالت میں قربانی کر کے مہمانوں کا خیال رکھتے تھے۔ چودھری صاحب کہتے کہ دیکھو ایک وہ دَور تھا کہ ہفتے بھر کی ڈیوٹی میں یہ ایک ریفریشمنٹ ہوتی تھی کہ چائے کا کپ ملے گا اور وہ بھی ڈیوٹی کے دوران قربان کرنا پڑتا تھا اور ایک آج کا دور ہے کہ خدا تعالیٰ نے جماعت کو مالی لحاظ سے اس قدر نوازا ہے کہ ہر چھوٹی میٹنگ میں بھی چائے پیش ہونا ایک عام سی بات ہو گئی ہے چنانچہ خدا کے ان فضلوں کا ادراک ہونا چاہیے اور ہمیشہ جماعتی اموال کو احتیاط کے ساتھ فضول خرچی سے بچتے ہوئے خرچ کرنا چاہیے۔

بہرحال باتیں تو بےشمار اَور بھی ہیں یہ چند ایک مَیں نے لی تھیں۔ اور تو لمبا ہو جائے گا ۔ یہیں مَیں ختم کرتا ہوں اور جو بھی باتیں بیان ہوئی ہیں ان کے بارے میں جو خصوصیات بیان ہوئی ہیں ان میں کوئی مبالغہ نہیں ہے۔ بےشمار باتیں جو لوگوں نے لکھی ہیں بعض اتنی زیادہ تھیں کہ میں بیچ میں سے لے بھی نہیں سکا اور بلکہ بعضوں کو پڑھ بھی نہیں سکا۔ غیر معمولی صلاحیتیں رکھنے والی شخصیت تھے۔ درویش صفت تھے اور انتہائی محنت کرنے والے تھے۔ ان کے ساتھ میں نے بھی کام کیا ہے اور بڑے نرم انداز میں یہ کام سکھایا بھی کرتے تھے۔ پھر جب ناظر اعلیٰ بنا ہوں تو اس وقت بھی یا امیر مقامی تو اس وقت بالکل ان کا اَور رویہ ہو گیا۔ نہایت اطاعت کے ساتھ انہوں نے وہ وقت بھی گزارا اور خلافت کے ساتھ تو پھر انتہائی وفاداری کے ساتھ ایک احمدی کی حیثیت سے ایک کارکن کی حیثیت سے بیعت کا حق ادا کرنے والے کی حیثیت سے اپنے تمام حق ادا کیے۔ خلیفۂ وقت کی ہر آواز کو اور ہر حکم کو بڑی سنجیدگی سے لیا اور لفظاً نہیں بلکہ حرفاً حرفاً اس پر عمل کیا۔ کبھی کوئی تاویلیں نہیں دیں کہ اس کی یہ تاویل ہوتی ہے یا یہ تاویل ہوتی ہے۔

جامعہ جونیئر سیکشن ایک زمانے میں علیحدہ ایک عمارت تھی۔ مَیں نے ان کو کہا کہ میرا خیال ہے کہ زائد خرچ ہے، ضرورت بھی نہیں ہے اس کو اب بڑے جامعہ میں ،سینئر سیکشن میں مدغم کر دیا جائے تو اس وقت ان کی کچھ reservationsتھیں، کچھ اَور بزرگوں کی بھی تھیں۔ میں نے رائے مانگی تھی تو انہوں نے اپنی رائے دی کہ نہیں ہونا چاہیے لیکن بعد میں جب مَیں نے فیصلہ کر دیا تو بغیر کسی چون وچرا کے فوری طور پر اسی وقت عمل درآمد کروا کے، میرا خیال تھا کہ چند دن لگیں گے، چوبیس گھنٹے کے اندر اندر اس پر عمل درآمد کروا کے مجھے رپورٹ بھی دے دی کہ یہ سب کچھ ہو گیا ہے۔

اللہ تعالیٰ ان کے درجات بلند فرمائے اور خلافت کو ان جیسے سلطان نصیر ملتے رہیں۔

حالات کے متعلق بھی دعا کرتے رہیں۔ پاکستان کے حالات اللہ تعالیٰ جلد بدلے اور وہاں احمدیوں کو آزادی سے اپنی زندگیاں گزارنے کی توفیق عطا ہو۔

دوسری اہم بات یہ بھی میں کہنا چاہتا ہوں کہ دنیا میں کورونا کی جو وبا پھیلی ہوئی ہے اس میں احمدی بھی احتیاط کا جو حق ہے وہ نہیں ادا کر رہے۔ نہ یوکے میں نہ امریکہ میں نہ پاکستان میں نہ کسی اَور ملک میں۔ پوری طرح احتیاط کرنی چاہیے۔ ماسک وغیرہ پہننا چاہیے۔ ماسک پہنا ہوتا ہے تو ناک ننگاہوتا ہے حالانکہ ناک ڈھکا ہونا چاہیے۔ یا گردن کے اوپر ماسک رکھا ہوتا ہے تو اس ماسک پہننے کا فائدہ کیا؟ پھر آپس میں قریب ہو کے ملنا، سوشل ڈسٹینسنگ(social distancing) نہیں رکھتے اور جو قواعد گورنمنٹ نے مقرر کیے ہوئے ہیں حکومت نے باتیں بتائی ہوئی ہیں ان پر عمل نہیں کرتے ۔تو ان ساری باتوں پہ ہمیں عمل کرنا چاہیے۔ نہیں تو یہ وبا اسی طرح پھر ایک دوسرے سے پھیلتی چلی جائے گی ۔اور یہ بھی کوشش کرنی چاہیے کہ آج کل کم سے کم سفر کریں۔ بلا وجہ غیر ضروری سفر کو avoid کریں۔ یورپ سے پاکستان جانے والے بھی احتیاط کریں ، آج کل نہ ہی جائیں تو زیادہ بہتر ہے۔ بہرحال اللہ تعالیٰ اس وبا کو جلد دور کرے اور جو احمدی بیمار ہیں ان کو بھی اور جو احمدی نہیں ہیں دوسرے لوگ بھی جو بیمار ہیں ان کو بھی شفا عطا فرمائے ۔

نمازوں کے بعد مَیں ان شاء اللہ چودھری صاحب کا جنازہ غائب بھی پڑھاؤں گا۔

٭…٭…٭

(الفضل انٹرنیشنل 5؍مارچ2021ءصفحہ5تا10)

متعلقہ مضمون

رائے کا اظہار فرمائیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button