متفرق مضامین

پیشگوئی مصلح موعودؓ پر ہونے والے اعتراضات و جوابات اور ایک ایمان افروز نتیجہ

(عین۔ الف۔ ورک)

حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے جب 1885ء میں اسلام کی حقانیت اور آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کی صداقت کو ثابت کرنے کے لیے نشان نمائی کی دعوت دی تو آپ علیہ السلام نے 1886ء میں اس نشان نمائی کے لیے چالیس دن ہوشیار پور میں چلہ کشی کی۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو بہت سی غیب کی خبروں سے نوازا جن میں خصوصی نشان ایک عظیم الشان بیٹے کی پیدائش کا نشان تھا جس کی متعدد خوبیاں بیان کی گئیں۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ اس پیش گوئی پر غیر تو غیر بعض مسلمانوں نے بھی اعتراضات کیے حالانکہ یہ پیشگوئی اسلام اورحضور صلی اللہ علیہ وسلم کی صداقت کے لیے تھی۔ الغرض حضورؑ نے 20؍فروری1886ءکو ایک اشتہاردیا کہ خدا تعالیٰ نے مجھےنشان نمائی کے طور پر ایک عظیم الشان بیٹے کی پیدائش کی خوشخبری دی ہے جو متعدد خوبیوں کا حامل ہوگا۔ اس پر سب سے پہلا اعتراض قادیان کے دو مسلمانوں حافظ سلطان کشمیری اور صابر علی نے کیا کہ ہماری دانست میں ڈیڑھ ماہ سے مرزا صاحب کے گھر لڑکا پیدا ہو چکا ہے۔ اس کے جواب میں حضورؑ نے 22؍مارچ 1886ءکو’’واجب الاظہار‘‘ کے نام سےاشتہار شائع کیا اور فرمایا یہ بالکل جھوٹ ہے اس وقت ہمارے صرف دو ہی بیٹے یعنی مرزا سلطان احمد اور مرزا فضل احمد ہیں جن کی عمریں 22 اور 20 سال ہیں اور میرے گھر والے آج کل اپنے والدین کے پاس چھاؤنی انبالہ میں مقیم ہیں۔ آپ علیہ السلام نے ان کے ہمسایوں کے بھی نام تحریر کیے کہ جاکر ہمسایوں سے تصدیق کروا لیں۔

دوسرا اعتراض ایک آریہ نے یہ کیا کہ یہ کوئی نشان نہیں کہ لڑکا ہوگا کہ لڑکی یہ بات تو دائیاں بھی معلوم کرسکتی ہیں نیز یہ اعتراض محمد رمضان نامی شخص نے بھی 20؍ مارچ 1886ء کو پنجابی اخبار میں چھپوایا کہ یہ بشارت منجانب اللہ کا ثبوت نہیں جس نے ارسطو کا ورکس دیکھا ہوگا تو حاملہ عورت کا قارورہ دیکھ کر لڑکا یا لڑکی پیدا ہونا ٹھیک ٹھیک بتلا سکتا ہے۔ حضورؑ نے اسی 22؍مارچ کے اشتہار میں اس کا بھی جواب دیا۔ فرمایا:

’’ایسا اعتراض کرنا معترض صاحب کی سراسر حیلہ سازی و حق پوشی ہے کیونکہ اوّل تو کوئی دائی ایسا دعویٰ نہیں کرسکتی بلکہ ایک حاذق طبیب بھی ایسا دعویٰ ہرگز نہیں کرسکتا کہ اس امر میں میری رائے قطعی اور یقینی ہے جس میں تخلف کا امکان نہیں صرف ایک اٹکل ہوتی ہے جو بارہا خطا جاتی ہے‘‘

(مجموعہ اشتہارات جلد اوّل صفحہ 114)

آپؑ نے مزید انکشاف کیا کہ مجھے خدا تعالیٰ نے بتایا ہے کہ وہ موعود لڑکا 9 سال کی میعاد کے اندر پیدا ہوگا۔ اس پر منشی اندرمن آبادی نے اعتراض کیا کہ ’’یہ بڑی گنجائش کی جگہ ہے ایسی لمبی میعاد تک تو کوئی نہ کوئی لڑکا پیدا ہوسکتا ہے‘‘ حضورؑ نے فوراً اس کے جواب میں 8؍اپریل 1886ء کو ’’اشتہار صداقت آثار‘‘ شائع کیا جس میں فرمایا:

’’اس کے جواب میں یہ واضح ہو کہ جن صفات خاصہ کے ساتھ لڑکے کی بشارت دی گئی ہے کسی لمبی میعاد گو نو برس سے بھی دوچند ہوتی اس کی عظمت اور شان میں کچھ فرق نہیں آسکتا بلکہ صریح دلی انصاف ہر یک انسان کا شہادت دیتا ہے کہ ایسے عالی درجہ کی خبر جو ایسے نامی اور اخص آدمی کے تولد پر مشتمل ہو انسانی طاقتوں سے بالاتر ہے اور دعا کی قبولیت ہوکر ایسی خبر کا ملنا بیشک یہ بڑا بھاری نشان ہے نہ یہ کہ صرف پیشگوئی‘‘

(مجموعہ اشتہارات جلد اوّل صفحہ116تا117)

نیز آپؑ نے 8؍اپریل والے اشتہار میں ایک لڑکے کی پیدائش کی خبر دی جو بہت جلد پیداہونے والا ہے فرمایا :

’’ماسوا اس کے اب بعد اشاعت اشتہار مندرجہ بالا دوبارہ اس امر کے انکشاف کے لئے جناب الٰہی میں توجہ کی گئی تو آج آٹھ اپریل 1886ء میں اللہ جل شانہ کی طرف سے اس عاجز پر اس قدر کھل گیا کہ ایک لڑکا بہت ہی قریب ہونے والا ہے جو ایک مدت حمل سے تجاوز نہیں کر سکتا اس سے ظاہر ہے کہ غالبا ًایک لڑکا ابھی ہونے والا ہے یا بالضروراس کے قریب حمل میں ۔لیکن یہ ظاہر نہیں کیا گیا کہ جواَب پیدا ہوگا یہ وہی لڑکا ہے یا وہ کسی اور وقت میں نو برس کے عرصہ میں پیدا ہوگا‘‘

(مجموعہ اشتہارات جلد اوّل صفحہ117)

جن دنوں میں یہ اشتہار شائع ہوا تھا تب حضرت اماں جانؓ حاملہ تھیں چنانچہ اس حمل سے 15؍اپریل 1886ء کو لڑکی پیدا ہوئی تو پھر اعتراضات کا طوفان بد تمیزی اٹھا۔ مختلف اخباروں اشتہاروں نے خوب شور مچایا کہ پیشگوئی لڑکے کی تھی پیدا لڑکی ہوئی۔ اس پر حضورؑ نے یکم ستمبر 1886ء کو ’’اشتہار محک اخیارواشرار‘‘ شائع فرمایااور تمام وساوس کا جواب اس طرح دیا:

’’نہیں دیکھتے کہ اشتہار 22؍مارچ 1886ء میں صاف صاف تولد فرزند موصوف کےلئے نو برس کی میعاد لکھی گئی ہے اور اشتہار 8؍اپریل 1886ء میں کسی برس یا مہینے کا ذکر نہیں اور نہ اس میں یہ ذکر ہے کہ جو نو برس کی میعاد رکھی گئی تھی اب وہ منسوخ ہوگئی ہے۔ ہاں اس اشتہار میں ایک یہ فقرہ ذوالوجوہ درج ہے کہ مدت حمل سے تجاوز نہیں کرسکتا۔ مگر کیا اسی قدر فقرہ سے یہ ثابت ہوگیا کہ مدت حمل سے ایام باقی ماندہ حمل موجودہ مراد ہیں۔ کوئی اور مدت مراد نہیں اگر اس فقرہ کے سر پر اس کا لفظ ہوتا تو بھی اعتراض کرنے کےلئے کچھ گنجائش نکل سکتی…سو فقرہ مذکورہ بالا یعنی یہ کہ مدت حمل سے تجاوز نہیں کرسکتا۔ ایک ذوالوجوہ فقرہ ہے جس کی ٹھیک ٹھیک وہی تشریح ہے جو میر عباس علی شاہ صاحب لدھیانوی نے اپنے اشتہار آٹھ جون 1886ء میں کی ہے یعنی یہ کہ مدت موعودہ حمل سے( جو نو برس ہے ) یا مدت معہودہ حمل سے( جو طبیبوں کے نزدیک اڑھائی برس یا کچھ زیادہ ہے)تجاوز نہیں کرسکتا‘‘

(مجموعہ اشتہارات جلد اوّل صفحہ 125تا127)

نیز آپؑ نے فرمایا :

’’خدا تعالیٰ کی طرف سے یہ ایک بڑی حکمت اور مصلحت ہے کہ اس نے اب کی دفعہ لڑکا عطا نہیں کیا کیونکہ اگر وہ اب کی دفعہ ہی پیدا ہوتا تو ایسے لوگوں پرکیا اثر پڑ سکتا جو پہلے ہی سے یہ کہتے تھے کہ قواعد طبی کی رو سے حمل موجودہ کی علامات سے ایک حکیم آدمی بتلا سکتا ہے کہ کیا پیدا ہوگا‘‘

(مجموعہ اشتہارات جلد اوّل صفحہ 128تا130)

چنانچہ ایک بہت جلد پیدا ہونے والے لڑکے والی پیشگوئی بالکل سچی نکلی اور ٹھیک اگلے حمل میں 7؍اگست 1887ء کو لڑکا پیدا ہوا جس کا نام بشیر رکھا گیا۔ لیکن یہ لڑکا سولہ ماہ زندہ رہنے کے بعد 4؍نومبر 1888ءکو فوت ہوگیا۔ اس کی وفات پر آپؑ نے حضرت خلیفہ اولؓ کو خط لکھا:

’’اس واقعہ سے(وفات بشیر اوّل۔ خاکسار) جس قدر مخالفین کی زبانیں دراز ہوں گی اور موافقین کے دلوں میں شبہات پیدا ہوں گے اس کا اندازہ نہیں ہوسکتا‘‘

اس صورت حال کا ذکر سیرت المہدی روایت نمبر 116میں یوں بیان ہے:

’’قدرت خدا کی ایک سال کے بعد یہ لڑکا اچانک فوت ہوگیا۔ بس پھر کیا تھا ملک میں ایک طوفان عظیم برپا ہوا اور سخت زلزلہ آیا حتّٰی کہ میاں عبد اللہ صاحب سنوریؓ کا خیال ہے کہ ایسا زلزلہ عامۃالناس کے لیے نہ اس سے قبل کبھی آیاتھا نہ اس کے بعد آیا گویا وہ دعویٰ مسیحیت پر جو زلزلہ آیا تھا اسے بھی عامۃ الناس کے لئے اس سے کم قرار دیتے ہیں …اس واقعہ پر ملک میں ایک سخت شور اٹھا اور کئی خوش اعتقادوں کو ایسا دھچکا لگا کہ وہ پھر نہ سنبھل سکے مگر تعجب ہے کہ مولوی محمد حسین بٹالوی اس واقعے کے بعد بھی خوش اعتقاد رہا۔ حضرت صاحبؑ نے لوگوں کو سنبھالنے کے لئے اشتہاروں اور خطوط کی بھرمار کردی اور لوگوں کو سمجھایا کہ میں نے کبھی یقین ظاہر نہیں کیا تھا کہ یہی وہ لڑکا ہے‘‘

(سیرت المہدی جلد اوّل صفحہ95)

حضورؑ نے ان سب اعتراضات کے جواب کےلیے یکم دسمبر 1888ء کو ایک مفصل اشتہار’’حقانی تقریر بر واقعہ وفات بشیر‘‘ شائع کیا۔ یہ اشتہار چونکہ سبز صفحات پر شائع ہوا اس لیے یہ سبز اشتہار کے نام سے مشہور ہوگیا۔ حضورؑ نے فرمایا کہ ہم نے کہیں بھی قطعی طور پر نہیں لکھا کہ یہ وہی موعود لڑکا ہے اوراس حوالے سے استفسار کرنے والوں کو یہی جواب دیا کہ اس بارے میں صفائی سے اب تک کوئی الہام نہیں ہوا۔

نیز آپؑ نے فرمایا کہ اگر ہم اس پسرمتوفی کی بزرگیوں کے متعلق ہونے والے بعض الہامات(مبشر، بشیر، نوراللہ، صیب، چراغ دین وغیرہ)سے یہ اجتہاد بھی کرتے کہ یہ وہی موعود لڑکا ہے تو بھی اعتراض کی جا نہ تھی کیونکہ الہامات، پیشگوئیوں کے متعلق اجتہادی غلطیاں انبیاء سے ہوجاتی ہیں اورحضورؑ نے بنی اسرائیل کے انبیاء کی اجتہادی غلطیوں کی متعدد مثالیں بھی پیش فرمائیں۔ فرمایا لیکن ہم سے تو یہ اجتہادی غلطی بھی نہیں ہوئی کہ ہم نے کہا ہو کہ یہ وہی لڑکا ہے۔

نیز آپؑ نے فرمایا:

’’بشیر اول کی موت سے پہلے 10؍جولائی 1888ء کے اشتہار میں اس کے بارے میں پیشگوئی کی گئی ہے اور خدا تعالیٰ نے اس عاجز پر ظاہر کیا کہ ایک دوسرا بشیر تمہیں دیا جائے گا جس کا نام محمود بھی ہے…خدا تعالیٰ نے مجھ پر یہ ظاہر کیا کہ 20؍فروری 1886ء کی پیشگوئی حقیقت میں دو سعید لڑکوں کے پیدا ہونے پر مشتمل تھی اور اس عبارت تک کہ مبارک وہ جو آسمان سے آتا ہے پہلے بشیر کی نسبت ہے …اور اس کے بعد کی عبارت دوسرے بشیر کی نسبت ہے…‘‘

(مجموعہ اشتہارات جلد اوّل صفحہ 179حاشیہ)

حضورؑ نے فرمایا کہ مصلح موعود کے حق میں جو پیشگوئی ہے وہ اس عبارت سے شروع ہوتی ہے کہ اس کے ساتھ فضل ہے جو اس کے آنے کے ساتھ آئےگا۔

نیز آپؑ نے فرمایا کہ 20؍فروری کے اشتہار میں ہی یہ خبر مضمر تھی کہ ایک بیٹے نے پہلے پیدا ہوکر فوت ہوجانا ہے کیونکہ اس کے متعلق یہ بیان ہوا تھا ’’خوبصورت پاک لڑکا تمہارا مہمان آتا ہے‘‘ مہمان وہ ہوتا ہے جس نے آکر جلدی چلے جانا ہو یہ جلد وفات پر دلالت کرتا ہے نیز اس کے متعلق یہ بھی آیا ’’میں تیری ذریت کو بہت بڑھاؤں گا اور برکت دوں گا مگر بعض ان میں سے کم عمری میں فوت ہوں گے‘‘ یہ جملہ بھی کسی کے پیدا ہوکر جلد فوت ہونے پر دلالت کرتا ہے۔ پھر اس کے متعلق آیا ’’وہ رجس سے (یعنی گناہ سے) بکلی پاک ہے یہ بھی اس کی صغر سنی کی وفات پر دلالت کرتی ہے‘‘ نیز آپؑ نے فرمایا کہ بشیر اوّل کی پیدائش کے دن جو الہامات ہوئے وہ بھی اس کی جلد وفات پر دلالت کرتے ہیں۔ مثلاً الہام ہوا انا ارسلناہ شاھدا و مبشرا و نذیرا کصیب من السماء فیہ ظلمات ورعد وبرق کل شئ تحت قدمیہ۔ ظلمات سے مراد ابتلائیں ہیں اور تحت قدمیہ اس کے قدموں کے اٹھ جانے کے بعد یعنی وفات کے بعد۔

ایمان افروز نتیجہ

جب شبہات عروج پر تھے پہلے پیشگوئی کی حیثیت پر اعتراض کرکے اس کو مشکوک کرنے کی کوشش کی گئی پھر الزام لگا کہ لڑکا پہلے ہی پیدا ہوچکا ہے پھر پیشگوئی کہ ایک لڑکا بہت جلد پیدا ہونے والا ہے اور پیدا بیٹی ہوگئی تو اعتراضات۔ پھر جب لڑکا پیدا ہوا تو سولہ ماہ زندہ رہنے کے بعد فوت ہوگیا تو پھر اعتراضات۔ اور موعود لڑکا ابھی پیدا نہیں ہوا تھا کہ کچھ تسلی ہوتو اس وقت آپؑ نے فرمایا کہ اب میں بیعت لینے کا اعلان کرتا ہوں کیونکہ اب میرے ساتھ صرف وہی آئے گا جو واقعتاً سعید فطرت ہوگا اور مجھے سچا سمجھتا ہوگا۔ آپؑ نے اسی سبز اشتہار کے آخر پر تبلیغ کے نام سے عنوان باندھ کر لکھا:

’’میں اس جگہ ایک اور پیغام بھی خلق اللہ کو عموماً اور اپنے بھائی مسلمانوں کو خصوصی پہنچاتا ہوں کہ مجھے حکم دیا گیا ہے کہ جو لوگ حق کے طالب ہیں وہ سچا ایمان اورسچی ایمانی پاکیزگی اور محبت مولیٰ کا راہ سیکھنے کے لیے اور گندی زیست اور کاہلانہ اورغدارانہ زندگی کے چھوڑنے کے لئے مجھ سے بیعت کریں۔‘‘

(مجموعہ اشتہارات جلد اوّل صفحہ188)

اس کے بعد 12؍جنوری 1889ء کو آپؑ نے تکمیل تبلیغ کے نام سے اشتہار دیا اور اس میں دس شرائط بیعت درج کیں اور فرمایا

’’یہ وہ شرائط ہیں جو بیعت کرنے والوں کے لئے ضروری ہیں جن کی تفصیل یکم دسمبر1888ءکے اشتہار میں نہیں لکھی گئی اور واضح رہے کہ اس دعوت بیعت کا حکم تخمینا ًمدت دس ماہ سے خدا تعالیٰ کی طرف سے ہو چکا ہے لیکن اس کی تاخیر اشاعت کی یہ وجہ ہوئی کے اس عاجز کی طبیعت اس بات سے کراہت کرتی رہی کہ ہر قسم کے رطب و یابس لوگ اس سلسلہ بیعت میں داخل ہوجائیں اور دل یہ چاہتا رہا کہ اس مبارک سلسلہ میں وہی مبارک لوگ داخل ہوں جن کی فطرت میں وفاداری کا مادہ ہے اور جو کچی اور سریع التغیر اور مغلوب شک نہیں ہیں اسی وجہ سے ایک ایسی تقریب کی انتظار رہی کہ جو سچوں اور کچوں اور مخلصوں اور منافقوں میں فرق کر کے دکھلا دے سو اللہ جل شانہٗ نے اپنی کمال حکمت سے وہ تقریب بشیر احمد کی موت کو قرار دے دیااور خام خیالوں اور کچوں اور بد ظنوں کو الگ کرکے دکھلادیا اور وہی ہمارے ساتھ رہ گئے جن کی فطرتیں ہمارے ساتھ رہنے کے لائق تھیں اور جو فطرتاً قوی الایمان نہیں تھے اور تھکے اور ماندے تھے وہ سب الگ ہوگئے اور شکوک وشبہات میں پڑ گئے پس اسی وجہ سے ایسے موقع پر دعوت بیعت کا مضمون شائع کرنا نہایت چسپاں معلوم ہوا تا خس کم جہاں پاک کا فائدہ ہم کو حاصل ہواور مغشوشین کے بد انجام کی تلخی اٹھانی نہ پڑے۔‘‘

(مجموعہ اشتہارات جلد اوّل صفحہ 190تا191)

اس میں سب احمدیوں کےلیے ایک سبق ہے کہ کیا ہمارا ایمان اور روحانی حالت ایسی کمال کی ہے جیسی حضرت مسیح موعودؑ چاہتے تھے۔

نیز اسی اشتہار میں حضرت مصلح موعودؑ کی پیدائش کا ذکر بھی کیا ہے کیونکہ وہ اسی دن پیدا ہوئے تھے جس دن یہ اشتہار شائع ہوا تھا۔

٭…٭…٭

متعلقہ مضمون

رائے کا اظہار فرمائیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button