خلاصہ خطبہ جمعہ

خلاصہ خطبہ جمعہ سیّدنا امیر المومنین حضرت مرزا مسرور احمد خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز

آنحضرتﷺ کے عظیم المرتبت خلیفہ ٔراشد ذوالنّورین حضرت عثمان بن عفانرضی اللہ تعالیٰ عنہ کے اوصافِ حمیدہ کا تذکرہ

حضرت عثمانؓ رسول ِخداﷺ سے تقریباً پانچ سال چھوٹے تھے۔آپؓ قدیمی اسلام لانےوالوں میں سے تھے۔

الجزائر اور پاکستان میں احمدیوں کی شدید مخالفت کے پیش نظر خصوصی دعاؤں کی مکرر تحریک

11مرحومین مکرم مولانا سلطان محمود انورؔ صاحب سابق ناظر اصلاح و ارشادمرکزیہ ،ناظر خدمتِ درویشان اور ناظر اصلاح و ارشاد رشتہ ناطہ، مکرم مولانا محمد عمرصاحب سابق ناظر اصلاح وارشاد مرکزیہ قادیان، مکرم حبیب احمد صاحب مربی سلسلہ ابن محمد اسماعیل صاحب سابق امیر و مشنری انچارج نائیجیریا، مکرم بدرالزماں صاحب کارکن وکالت مال یوکے، مکرم منصوراحمد تاثیر صاحب کارکن شعبہ احتساب نظارت امورِ عامہ ربوہ، مکرم ڈاکٹر ابراہیم موانگا صاحب تنزانیہ،مکرمہ صغریٰ بیگم صاحبہ اہلیہ دین محمد صاحب ننگلی درویش قادیان، مکرم چودھری کرامت اللہ صاحب سابق رضاکارالفضل انٹرنیشنل، مکرم چودھری منور احمد خالد صاحب، مکرمہ نصیرہ بیگم صاحبہ اہلیہ احمد صادق طاہرمحمود ریٹائرڈ مربی سلسلہ بنگلہ دیش، مکرم رفیع الدین بٹ صاحب کا ذکر خیر اور نماز جنازہ غائب

خلاصہ خطبہ جمعہ سیّدنا امیر المومنین حضرت مرزا مسرور احمدخلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ 22؍جنوری 2021ء بمطابق 22؍صلح 1340 ہجری شمسی بمقام مسجد مبارک،اسلام آباد،ٹلفورڈ(سرے)، یوکے

امیر المومنین حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ  بنصرہ العزیز نے مورخہ 22؍ جنوری 2021ء کو مسجد مبارک، اسلام آباد، ٹلفورڈ، یوکے میں خطبہ جمعہ ارشاد فرمایا جو مسلم ٹیلی وژن احمدیہ کے توسّط سے پوری دنیا میں نشرکیا گیا۔ جمعہ کی اذان دینےکی سعادت مکرم عدیل طیب صاحب کے حصے میں آئی۔

تشہد،تعوذ اور سورةالفاتحہ کی تلاوت کے بعد حضورِانورایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا:

آج مَیں حضرت عثمانؓ کاذکرشروع کروں گا جو چندہفتے جاری رہےگا۔آپؓ جنگِ بدر میں شریک نہیں ہوئے تھےتاہم اُن آٹھ صحابہ میں شامل تھے جنہیں نبی کریمﷺ نےجنگِ بدر کے مالِ غنیمت سے حصّہ دیاتھا۔آپؓ کا نام عثمان بن عفان تھا اور آپؓ کا سلسلہ نسب پانچویں پُشت میں رسول اللہﷺ کے ساتھ ملتا ہے۔حضرت عثمانؓ کی نانی حضورﷺ کےوالد کی سگی بہن تھیں۔آپؓ کی والدہ ارویٰ بنت کریز نے صلح حدیبیہ کےبعد اسلام قبول کیا اور حضرت عثمانؓ کے عہدِخلافت میں وفات پائی۔حضرت عثمانؓ کےوالد زمانۂ جاہلیت میں ہی فوت ہوگئےتھے۔مختلف وقتوں میں آنحضورﷺ کی دو صاحبزادیاں حضرت رقیہؓ اور حضرت ام کلثومؓ آپؓ کے عقد میں آئیں ،اس مناسبت سے آپؓ کو ذوالنورین کہا جانےلگا۔ بعض کے نزدیک اس لقب کی وجہ آپؓ کا راتوں کو تہجد پڑھنا اور بہت زیادہ تلاوتِ قرآن کریم کرنا بیان کی گئی ہے۔

حضرت عثمانؓ رسول ِخداﷺ سے تقریباً پانچ سال چھوٹے تھے۔آپؓ قدیمی اسلام لانےوالوں میں سے تھےچنانچہ آپؓ نےآنحضورﷺ کے دارارقم میں داخل ہونے سے قبل حضرت طلحہ بن عبیداللہؓ کے ہم راہ ایک ہی وقت میں اسلام قبول کیاتھا۔ قبولِ اسلام کےبعدآپؓ کو اپنے چچا کی طرف سے سختیوں کا سامنا بھی کرنا پڑا۔

دعویٰ نبوت سے پہلےآنحضورﷺ کی صاحبزادی حضرت رقیہؓ کا نکاح ابولہب کے بیٹے سے ہواتھا۔جس نے سورۂ لہب کے نزول پر قبل از رخصتانہ حضرت رقیہ کو طلاق دےدی چنانچہ ان کی شادی حضرت عثمانؓ سے ہوگئی۔ ایک موقعے پرآنحضورﷺنے حضرت رقیہؓ کو حضرت عثمانؓ سے حسنِ سلوک کی نصیحت کرتے ہوئے فرمایاکہ عثمان میرے صحابہ میں اخلاق کے لحاظ سےمجھ سے سب سے زیادہ مشابہ ہیں۔ماہِ رجب 5؍ نبوی میں رسول اللہﷺ کے ارشادپرجن گیارہ مردوں اور چار عورتوں نے حبشہ کی جانب ہجرت کی اُن میں حضرت عثمانؓ اور حضرت رقیہؓ بھی شامل تھے۔ حضورﷺ نےاس موقعے پر فرمایا کہ حضرت لوطؑ کےبعد عثمان وہ پہلا شخص ہے جس نے اپنے اہل کےساتھ اللہ کی راہ میں ہجرت کی۔

حضرت صاحبزادہ مرزا بشیراحمدصاحبؓ فرماتے ہیں کہ حبشہ سے عرب کے تجارتی تعلقات تھے۔ اس دور میں حبشہ کا دارالسلطنت اکسوم تھا۔ جہاں ایک عادل،بیدارمغز بادشاہ اصحمہ نجاشی کی حکومت تھی۔حبشہ کی جانب ہجرت کرنے والے یہ ابتدائی مہاجرین طاقت ور قبائل سے متعلق تھے جو قریش کےمظالم سے محفوظ نہ تھے۔ کم زور مسلمان تو ایسی بےبسی کی حالت میں تھے کہ ہجرت کی بھی طاقت نہ رکھتےتھے۔

حبشہ پہنچ کراِن مسلمانوں کو نہایت امن کی زندگی نصیب ہوئی مگر ابھی زیادہ عرصہ نہ گزراتھا کہ تمام قریش کے قبولِ اسلام کی اڑتی اڑتی افواہ پہنچی ۔ اس خبر پر یقین کرکے یہ مہاجرین واپس آگئے۔ مکّے کے پاس پہنچ کر عِلْم ہواکہ یہ جھوٹی افواہ تھی جس پر بعض تو واپس لوٹ گئے اور کچھ چھپ چھپاکر یا کسی ذی اثر شخص کی حمایت میں مکّے میں داخل ہوئے۔

حضرت مرزا بشیراحمدصاحبؓ فرماتے ہیں کہ اگر زیادہ غورسےدیکھاجاوےتویہ افواہ اور مہاجرین کی واپسی کا قصّہ بےبنیاد نظرآتاہے۔ لیکن اگر اسے صحیح سمجھا جاوے تو اس کی تہ میں وہ واقعہ ہوسکتا ہے جو بعض حدیثوں میں بیان ہوا ہے۔ جیسا کہ بخاری میں بھی آتا ہے کہ ایک دفعہ آنحضرتﷺ نے صحنِ کعبہ میں سورۂ نجم کی آیات تلاوت فرمائیں۔ سورت ختم کرکےجب حضورﷺ نےسجدہ کیاتوآپؐ کی نہایت پُراثر آواز اورفصیح وبلیغ کلام اللہ کے رعب و جلال کی وجہ سے مسلمانوں کے ساتھ کافربھی سجدے میں گِرگئے۔ یہ کوئی تعجب کی بات نہیں کیونکہ بسا اوقات ایسے مواقع پر انسان کا قلب مرعوب ہوجاتا ہے اور وہ بےاختیار ایسی حرکت کربیٹھتاہےجو دراصل اس کے اصول ومذہب کےخلاف ہوتی ہے۔

حضرت مرزا بشیراحمد صاحبؓ کے ایک تجزیے سے یہ افواہ اور مہاجرین کی واپسی والی ساری بات مشتبہ ہوجاتی ہے۔آپؓ فرماتے ہیں کہ حبشہ کی جانب ہجرت کی تاریخ رجب پانچ نبوی بیان ہوئی ہے اور سجدے کی تاریخ رمضان پانچ نبوی ہے۔ روایات میں مہاجرینِ حبشہ کی واپسی کی تاریخ شوال پانچ نبوی بیان کی جاتی ہے۔اب اس زمانے کے حالات کے لحاظ سے یہ قطعی غیرممکن بات ہے کہ اِس قلیل عرصے میں مسلمان حبشہ پہنچیں۔اس کے بعد کوئی شخص قریش کےقبولِ اسلام کی خبر لےکر حبشہ آئے۔ پھر مسلمان حبشہ سے روانہ ہوکر مکّہ آجائیں۔ اس زمانے کے آہستہ سفروں کے لحاظ سے اس قسم کا ایک سفر بھی ڈیڑھ سے دوماہ سے کم عرصے میں ہرگز مکمل نہیں ہوسکتا تھا۔

بہرحال قریشِ مکّہ کے ظلم وستم کےباعث ہجرتِ حبشہ کا یہ سلسلہ جاری رہا چنانچہ مہاجرینِ حبشہ کی کُل تعداد ایک سَو ایک تک پہنچ گئی جن میں اٹھارہ عورتیں بھی شامل تھیں۔

ہجرتِ مدینہ کےبعد آنحضرتﷺ نے حضرت عثمانؓ کی مؤاخات حضرت عبدالرحمٰن بن عوفؓ یا حضرت اوس بن ثابتؓ کے ساتھ قائم فرمائی تھی۔ ایک روایت کے مطابق آنحضرتﷺ نے حضرت عثمانؓ کی مؤاخات اپنے ساتھ قائم فرمائی۔

جب رسول اللہﷺ غزوۂ بدر کے لیے روانہ ہوئے تو حضرت عثمانؓ کو حضرت رقیہؓ کی تیمارداری کےلیے اُن کے پاس چھوڑا۔ حضرت رقیہؓ نے اسی روز وفات پائی جس روز حضرت زید بن حارثہؓ فتح کی خوش خبری لےکر مدینے میں داخل ہوئے۔ آنحضرتﷺ حضرت عثمانؓ سے مسجد کےدروازے پر ملے اور فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے امِ کلثوم کا نکاح رقیہ جتنے حق مہر اورحسنِ سلوک پر تمہارے ساتھ کردیا ہے۔ آپؐ نے امِ ایمن سےارشاد فرمایاکہ امِ کلثوم کو تیار کرکے حضرت عثمانؓ کے گھر پہنچا آئیں۔ حضرت ام کلثومؓ نَو ہجری تک حضرت عثمانؓ کےہاں رہیں اس کےبعد وہ بیمار ہوکر وفات پاگئیں۔ آپؓ کی وفات پر آنحضرتﷺ نے فرمایا کہ اگر میری کوئی تیسری بیٹی ہوتی تومَیں اس کی شادی بھی عثمان سے کروادیتا۔ایک موقعے پر حضرت عثمانؓ نے نہایت مغموم حالت میں حضورﷺ سے عرض کیا کہ میرا آپؐ سے دامادی کا تعلق ختم ہوگیا تو آپؐ نے فرمایا کہ اگرمیری سَو بیٹیاں ہوتیں اور ایک ایک کرکے فوت ہوجاتیں تو مَیں ایک کےبعد دوسری کو تجھ سے بیاہ دیتا۔

حضورِانورایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے حضرت عثمانؓ کا ذکر آئندہ جاری رہنے کا ارشاد فرمانے کےبعدپاکستان اور الجزائر کےمتعلق دعا کی تحریک کرتے ہوئے فرمایا کہ جیسا کہ مَیں ہرجمعے میں تحریک کررہا ہوں پاکستان کے احمدیوں کےلیے دعائیں کرتے رہیں۔ مخالفین اپنے زعم میں دائرہ تنگ کر رہے ہیں لیکن ان کو نہیں پتہ کہ ایک بالا ہستی،خداتعالیٰ بھی ہے۔ جس کی تقدیر چل رہی ہے اور اس کا دائرہ ان کےاوپر تنگ ہورہا ہے۔ اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو عقل دے اور ہرجگہ ہر احمدی کو ہر لحاظ سے محفوظ رکھے۔ آمین

خطبےکے دوسرے حصےمیں حضورِانورایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیزنے درج ذیل مرحومین کاذکرِخیر اور نمازِ جنازہ غائب پڑھانے کا اعلان فرمایا:

1۔ مکرم مولانا سلطان محمود انورؔ صاحب سابق ناظر اصلاح و ارشادمرکزیہ ،ناظر خدمتِ درویشان اور ناظر اصلاح و ارشاد رشتہ ناطہ۔ آپ 11؍جنوری کوتقریباً88سال کی عمر میں وفات پاگئے۔

اِنَّالِلّٰہِ وَاِنَّآ اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔

مرحوم اعلیٰ پائے کے مقرر اور مبلغ تھے۔ خلافت سے وفا اور اطاعت کا تعلق ہر حال میں بڑی عمدگی سے نبھایا۔اسی طرح مرحوم کو بعض علمی کاموں کی بھی توفیق ملی۔ پسماندگان میں حسان محمود واقفِ زندگی (تحریکِ جدیدربوہ) سمیت چاربیٹے اور دوبیٹیاں شامل ہیں۔

2۔ مکرم مولانا محمد عمرصاحب سابق ناظر اصلاح و ارشاد مرکزیہ قادیان۔ آپ 21؍جنوری کو 87 برس کی عمر میں وفات پاگئے۔

اِنَّالِلّٰہِ وَاِنَّآ اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔

آپ بڑے کامیاب مبلغ اورمناظر تھے۔حضرت خلیفة المسیح الرابعؒ نے خطباتِ جمعہ کےترجمے کے حوالے سے آپ کے کام کو سراہتے ہوئے اس کا ذکر اپنے ایک خطبہ جمعہ میں بھی فرمایا تھا۔ آپ کے پسماندگان میں چار بیٹیاں،داماد اور نواسے نواسیاں شامل ہیں۔

3۔ مکرم حبیب احمد صاحب مربی سلسلہ ابن محمد اسماعیل صاحب سابق امیر و مشنری انچارج نائیجیریا۔ آپ 25؍دسمبر کو64برس کی عمرمیں وفات پاگئے۔

اِنَّالِلّٰہِ وَاِنَّآ اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔

پسماندگان میں اہلیہ کے علاوہ تین بیٹیاں اور دو بیٹے شامل ہیں۔

4۔ مکرم بدرالزماں صاحب کارکن وکالت مال یوکے جو 3؍جنوری کو بقضائے الٰہی وفات پاگئے۔

اِنَّالِلّٰہِ وَاِنَّآ اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔

آپ کو ایک جماعتی مقدمے میں اسیرِ راہِ مولیٰ رہنے کی بھی توفیق ملی۔

5۔ مکرم منصوراحمد تاثیر صاحب کارکن شعبہ احتساب نظارت امورِ عامہ ربوہ۔ مرحوم 30؍ دسمبر کو 70سال کی عمر میں وفات پاگئےتھے

اِنَّالِلّٰہِ وَاِنَّآ اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔

حضورِانورنے فرمایابچپن سے مَیں ان کو جانتا ہوں یہ میرے ساتھ پڑھاکرتے تھے۔ ہنسنا اور مذاق کر نا، بڑی شریفانہ طبیعت تھی۔پسماندگان میں اہلیہ کے علاوہ دوبیٹے اور بیٹیاں شامل ہیں۔

6۔ مکرم ڈاکٹر عیدی ابراہیم موانگا صاحب تنزانیہ جو 9؍ دسمبر کو 73سال کی عمر میں وفات پاگئے۔

اِنَّالِلّٰہِ وَاِنَّآ اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔

7۔مکرمہ صغریٰ بیگم صاحبہ اہلیہ دین محمد صاحب ننگلی درویش قادیان۔ یہ 6؍ جنوری کو 85سال کی عمر میں وفات پاگئیں۔

اِنَّالِلّٰہِ وَاِنَّآ اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔

8۔ مکرم چودھری کرامت اللہ صاحب سابق رضاکارالفضل انٹرنیشنل لندن۔ مرحوم 26؍دسمبر کو 95سال کی عمر میں وفات پاگئے۔

اِنَّالِلّٰہِ وَاِنَّآ اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔

9۔ مکرم چودھری منور احمد خالد صاحب۔ مرحوم 20؍ اگست 2020ء کو 85سال کی عمر میں وفات پاگئے۔

اِنَّالِلّٰہِ وَاِنَّآ اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔

10۔ مکرمہ نصیرہ بیگم صاحبہ اہلیہ احمد صادق طاہر محمود ریٹائرڈ مربی سلسلہ بنگلہ دیش ۔مرحومہ 28،27؍ نومبر 2020ءکو بقضائے الٰہی وفات پاگئی تھیں۔

اِنَّالِلّٰہِ وَاِنَّآ اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔

11۔ مکرم رفیع الدین بٹ صاحب۔ آپ 6؍ نومبر کو 92 سال کی عمر میں وفات پاگئے۔

اِنَّالِلّٰہِ وَاِنَّآ اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔

حضورِانور نے تمام مرحومین کی مغفرت اور بلندی درجات کی دعا کی۔

٭…٭…٭

متعلقہ مضمون

رائے کا اظہار فرمائیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close