حضرت مصلح موعود ؓ

احمدیت دنیا میں اسلامی تعلیم و تمدن کا صحیح نمونہ پیش کرنے کے لیے قائم کی گئی ہے (قسط اوّل)

حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد خلیفۃ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ

حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے یہ خطاب مجلس خدام الاحمدیہ کے تیسرے سالانہ اجتماع کے موقعے پر 6؍ فروری 1941ء کو مسجد اقصیٰ قادیان میں فرمایا۔ یہ خطاب جو تربیتی نوعیت کا ہے جو کئی قسم کی زرّیں ہدایات پر مشتمل ہے اور احبابِ جماعت کے لیے مشعلِ راہ کی حیثیت رکھتا ہے قارئین الفضل کے استفادے کے لیے پیش ہے۔ (ادارہ)

تشہد،تعوذاور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:

میرا دل تو آج چاہتا تھا کہ میں بہت سی باتیں اِس اجتماع میںکہوں لیکن اللہ تعالیٰ کی مشیت کے ماتحت پرسوں سے میری آواز بیٹھتی چلی جا رہی ہے اور آج تو ایسی بیٹھی ہوئی ہے اور گلا ایسا مائوف ہے کہ اگر میں زیادہ دیرتک تقریر کروں تو ممکن ہے گلے کو کوئی مستقل نقصان پہنچ جائے اور مجھے اِس بات کا ذاتی تجربہ بھی ہے میری آواز پہلے بہت بلند ہؤا کرتی تھی ایسی بلند کہ بعض دوستوں نے بتایاکہ چھوٹی مسجد میںہم نے آپ کی قراءت سن کر اور سمجھ کر مدرسہ احمدیہ میں نماز پڑھی ہے۔ یہ حضرت خلیفہ اول کے زمانہ کی بات ہے۔ مگر ایک دفعہ میرا اسی طرح گلا بیٹھا ہؤا تھا کہ میں اپنے ایک عزیز کے ہاں گیا۔ اُس نے کہا کہ آپ قرآن بہت اچھا پڑھتے ہیں میں گراموفون میںریکارڈ بھروانا چاہتا ہوں آپ کسی سورۃ کی تلاوت کر دیں۔ میں نے معذرت کی کہ مجھے نزلہ وزکام ہے اور گلا بیٹھا ہؤا ہے مگر انہوں نے اصرار کیا اور کہا کہ میں تو آج اِس غرض کے لئے تیار ہو کر بیٹھا ہوں۔چنانچہ میں نے سورۂ فاتحہ یا کوئی اور سورۃ (مجھے اِس وقت صحیح طور پر یاد نہیں رہا) ریکارڈ میں بھروا دی۔ اس کے بعد میری آواز جو بیٹھی ہوئی تھی وہ تو درست ہو گئی مگر آواز کی بلندی میںقریباً 25فیصد کی ہمیشہ کے لئے کمی آگئی۔ تو ایسی حالت میںزیادہ بولنا بہت دفعہ مُضِرّ ہوتا ہے۔ کھانسی کی حالت میں تو میںکافی تقریرکر لیا کرتا اور اس کی میںچنداں پرواہ نہیں کیا کرتا مگر گلے کی خراش اس سے مختلف چیز ہے۔

خدام الاحمدیہ کا یہ اجلاس اس لحاظ سے پہلا اجلاس ہے کہ اس میں باہر سے بھی دوست تشریف لائے ہیں گو میں نہیں کہہ سکتا کہ میں ان کے آنے کی وجہ سے پورے طور پر خوش ہوں کیونکہ جہاں تک مجھے علم ہے بہت کم دوست باہر سے آئے ہیں اور خدام الاحمدیہ کی تعداد کو مدنظر رکھتے ہوئے بھی آنے والوں کی تعداد بہت کم ہے۔ شاید کُل تعداد کا چھٹا یا ساتواں یا آٹھواں یا نواں بلکہ دسواں حصہ آیا ہے۔ جہاں تک میں سمجھتا ہوں اِس مجلس میں بیٹھنے والے اکثر دوست گورداسپور کے ضلع کے ہیں اور ان میںسے بھی اکثر زمیندار ہیں جن کے لئے پیدل سفر کرنا کوئی مشکل نہیں ہوتا۔ ان کا اس جگہ آنا زمینداروں کی تعلیم کو مدنظر رکھتے ہوئے اور ان کی مشکلات کو مدنظر رکھتے ہوئے بے شک ایک قابلِ قدر قربانی ہے مگر ان کے آنے کی وجہ سے اس مجلس کے افراد کی تعداد کا بڑھ جانا دوسرے شہروں کے خدام الاحمدیہ کے لئے کوئی خوشکن امر نہیں ہو سکتا۔ جہاں تک میں سمجھتا ہوں اور اُن رپورٹوں سے جو میرے پاس پہنچتی رہی ہیں اندازہ لگا سکا ہوں گورداسپور کو چھوڑ کر بیرو نجات سے دو اڑھائی سَو آدمی آیا ہے اور یہ تعداد خدام الاحمدیہ کی تعداد کو مدنظر رکھتے ہوئے بہت کم ہے۔ اِس میں کوئی شبہ نہیں کہ ابھی قریب میںہی جلسہ سالانہ گزرا ہے لیکن نوجوانوں کی ہمت اور ان کا ولولہ اور جوش ان باتوں کو نہیں دیکھا کرتا۔ یہ جلسہ تو ایک مہینہ کے بعدہؤا ہے۔ میں جانتا ہوں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے زمانہ میں کئی نوجوان ایسے تھے جو لاہور سے ہر اتوار کو باقاعدہ قادیان پہنچ جایا کرتے تھے۔ مثلاً چوہدری فتح محمد صاحب اُن دنوں کالج میں پڑھتے تھے مگر ان کا آنا جانا اتنا باقاعدہ تھا کہ ایک اتوار کو وہ کسی وجہ سے نہ آ سکے تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے مجھ سے پوچھا۔ محمود! فتح محمد اِس دفعہ نہیں آیا؟ گویا ان کا آنا جانا اتنا باقاعدہ تھا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کو ان کے ایک اتوار کے دن نہ آنے پر تعجب ہؤا اور مجھ سے دریافت فرمایا کہ وہ کیوں نہیں آئے؟ وہ بھی کالج کے طالب علم تھے، کالج میں پڑھتے تھے اور ان کے لئے بھی کئی قسم کے کام تھے پھر وہ فیل بھی نہیں ہوتے تھے کہ کوئی شخص کہہ دے کہ وہ پڑھتے نہیں ہوں گے۔پھر وہ کوئی ایسے مالدار بھی نہیںتھے کہ ان کے متعلق یہ خیال کیا جا سکے کہ انہیںاُڑانے کے لئے کافی روپیہ ملتا ہو گا۔ میں سمجھتا ہوں لاہور کے کالجوں کے جو سٹوڈنٹس یہاں آئے ہوئے ہیں یا نہیں آئے ان میں سے نوے فیصدی وہ ہوتے ہیں جن کو اس سے زیادہ گزارہ ملتا ہے جتنا چوہدری فتح محمد صاحب کو ملا کرتا تھا مگر وہ باقاعدہ ہر اتوار کو قادیان آیا کرتے تھے۔ اسی طرح اور بھی کئی طالب علم تھے جو قادیان آیا کرتے تھے گو اتنی باقاعدگی سے نہیں آتے تھے مگر بہرحال کثرت سے آتے تھے۔اُس وقت لاہور میں احمدی طالب علم دس بارہ تھے اور میں سمجھتا ہوں کہ ایک دو کو مستثنیٰ کرتے ہوئے باقی دس میںسے دو تین تو ایسے تھے کہ وہ ہفتہ وار یا قریباً ہفتہ وار قادیان آیا کرتے تھے اور نصف تعداد ایسے طالب علموں کی تھی جو مہینے میںایک دفعہ یادو دفعہ قادیان آتے تھے اور باقی سال میںچار پانچ دفعہ قادیان آ جاتے تھے اور بعض دفعہ کوئی ایسا بھی نکل آتا جو صرف جلسہ سالانہ پر آ جاتا تھا۔ مگر اب صرف بیس پچیس فیصدی طالب علم ایسے ہوتے ہیں جو قادیان میںسال بھر میں ایک دفعہ آتے ہیں ۔ یاایک دفعہ بھی نہیں آتے۔ آخر یہ فرق اور امتیاز کیوں ہے؟ میں نے کہا ہے اگر ہماری مالی حالت ان لڑکوں سے کمزور ہوتی جو اُس وقت کالج میںپڑھتے تھے تو میں سمجھتا کہ یہ مالی حالت کا نتیجہ ہے۔ اور اگر یہ بات ہوتی کہ اب تمہیں دین کے سیکھنے کی ضرورت نہیں رہی تمہارے لئے اس قدرا علیٰ درجہ کے روحانی سامان لاہور اور امرتسر اور دوسرے شہروں میں موجود ہیں کہ تمہیں قادیان آنے کی ضرورت نہیں تو پھر بھی میں سمجھتا کہ یہ بات کسی حد تک معقول ہے لیکن اگر نہ تو یہ بات ہے کہ تمہاری مالی حالت ان سے خراب ہے اور نہ یہ بات درست ہے کہ باہر ایسے سامان موجود ہیں جن کی موجودگی میں تمہیں قادیان آنے کی ضرورت نہیں اور پھر اس بات کو دیکھتے ہوئے کہ اب قادیان کا سفر بالکل آسان ہے یہ بات میری سمجھ سے بالکل بالا ہے کہ کیوں ہماری جماعت کے نوجوانوں میںاِس قسم کی غفلت پائی جاتی ہے ۔ پہلے شام کی گاڑی سے ہمارے طالب علم بٹالہ میں اُترتے اور گاڑی سے اُتر کر راتوں رات پیدل چل کر قادیان پہنچ جاتے یا آٹھ نو بجے صبح اُترتے تو بارہ ایک بجے دوپہر کو قادیان پہنچ جاتے تھے۔ طالب علم ہونے کی وجہ سے بِالعموم ان کے پاس اتنے کرائے نہیں ہوتے تھے کہ یکّہ یا تانگہ لے سکیں۔ ایسے بھی ہوتے تھے جویکّوں میں آ جایا کرتے تھے۔ مگر ایسے طالب علم بھی تھے جو پیدل آتے اور پیدل جاتے تھے مگر اب ریل کی وجہ سے بہت کچھ سہولت ہو گئی ہے۔ ریل وقت بچا لیتی ہے، ریل کوفت سے بچا لیتی ہے، اور ریل کا جو کرایہ آجکل بٹالہ سے قادیان کا ہے وہ اس کے کرایہ کے نصف کے قریب ہے جو اُن دنوںیکہ والے وصول کیا کرتے تھے۔ اُس زمانہ میں ڈیڑھ دو روپیہ میںیکہ آیا کرتا تھا اور ایک یکہ میں تین سواریاں ہؤا کرتی تھیں گویا کم سے کم آٹھ آنے ایک آدمی کا صرف ایک طرف کا کرایہ ہوتا تھا مگر آجکل چھ سات آنے میں بٹالہ کا آنا جانا ہو جاتا ہے تو جو دقتیں مالی لحاظ سے پیش آ سکتی تھیں یا وقت کے لحاظ سے پیش آ سکتی تھیں وہ کم ہو گئی ہیں اور جو ضرورتیں قادیان آنے کے متعلق تھیں وہ ویسی ہی قائم ہیں۔

پس میںان خدام کے توجہ نہ کرنے کی وجہ سے جو اس اجتماع میں نہیں آئے افسوس اور تعجب کا اظہار کرنا چاہتا ہوں اور انہیں بتانا چاہتا ہوں کہ خدام الاحمدیہ کی غرض ان میں یہ احساس پیدا کرنا ہے کہ وہ احمدیت کے خادم ہیں اور خادم وہی ہوتا ہے جو آقا کے قریب رہے۔ جو خادم اپنے آقا کے قریب نہیں رہتا وقت کے لحاظ سے یا کام کے لحاظ سے وہ خادم نہیں کہلا سکتا مگر جیسا کہ میں نے بتایا ہے باہر سے آنے والوں کی تعداد بہت کم ہے۔ اور اگر گورداسپور کے دیہات کے افراد نہ آجاتے اور قادیان کے لوگ بھی اس جلسہ میں شامل نہ ہو جاتے تو یہ جلسہ اپنی ذات میں ایک نہایت ہی چھوٹا ساجلسہ ہوتا اور ایساہی ہوتا جیسے مدرسہ احمدیہ یا ہائی سکول میں طالب علموں کے جلسے ہوتے ہیں بلکہ ان سے بھی چھوٹا ۔

(جاری ہے)

٭…٭…٭

متعلقہ مضمون

رائے کا اظہار فرمائیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button