متفرق مضامین

کیف و سرور سے بھری یادیں

(لئیق احمد مشتاق ۔ مبلغ سلسلہ سرینام، جنوبی امریکہ)
جلسہ سالانہ قادیان 26؍ دسمبر 1950ء ۔اسٹیج اور لوائے احمدیت کا پہرہ

زندگی کے سفر میں بعض لمحات اور پل ایسے آتے ہیں جن کی مہک اور یادیں سرمایۂ حیات بن جاتی ہیں۔ وہ یادیں اِس طرح زندگی کا حصہ بنتی ہیں کہ انسان جب اُن پلوں کو سوچتاہے تو دماغ کے نہاں خانوں میں محفوظ مناظر آنکھوں کے سامنے چلنے لگتے ہیں۔ایسی حسین ترین یادوں میں سے ایک یاد جلسہ ہائے سالانہ میں شمولیت اور حضرت خلیفۃ المسیح الثالث رحمہ اللہ تعالیٰ سے ملاقات کی ہے۔

’’جلسہ سالانہ‘‘ ایک احمدی کی زندگی کا حصہ ہے۔ کُل عالم میں بسے احمدی ہر سال اس موقعے کا بے صبری سے انتظار کرتے ہیں۔ کیونکہ یہ تعلیمی، تربیتی اور روحانی تازگی حاصل کرنے کے ایام ہوتے ہیں۔ اور امام عالی مقام علیہ الصلوٰۃ والسلام نے اس للہی جلسےکے لیے سفر کرنے والوں کو بے شمار دعاؤں سے نوازا ہے۔ خداتعالیٰ کے فضل سے ہر جگہ اس جلسہ کی عظمت تمام احمدیوں کے دلوں میں راسخ ہے اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃوالسلام کی اس جلسہ کے شاملین کے لیے کی جانے والی دعاؤں سے حصہ پانے کی جستجو اتنی بڑھی ہوئی ہے کہ لوگ خاص اہتمام اور کوشش کے ساتھ طویل سفر کی صعوبتیں برداشت کرکے اس جلسہ میں شمولیت اختیار کرتے ہیں۔

خاکسار نے جب ہوش سنبھالاتو اپنے والد محترم اور دیگر اعزا کو ہمیشہ بڑی باقاعدگی سے جلسہ سالانہ کی تیاری اور اس میں شمولیت کا سفر کرتے دیکھا۔ دسمبر کے آغاز میں گرم کپڑوں کا اہتمام،بستروں کی تیاری۔ آخری عشرے میں سوہن حلوہ اور پنجیری کی تیاری اور روانگی سے پہلے انڈے ابال کر ساتھ رکھنایہ ان سفروں سے خاص تھا۔ ہماری جماعت میں چندمغل برادران تھے جن کی ٹرانسپورٹ سروس تھی۔ عام طور پر وہ اپنی ایک بس پر دنیاپور اور گردو نواح کی جماعتوں کے شاملین کو ربوہ لے جایا کرتے تھے۔ اور دوسرا ذریعہ ٹرین کا سفر تھا۔ بچپن میں ان دونوں ذرائع سے سفر کرکے ہم ربوہ پہنچتےاور جلسہ سالانہ میں شامل ہوتے رہے ہیں۔1978ءسے 1982ء تک وطن عزیز میں ہونے والے ان جلسہ ہائے سالانہ میں شمولیت صغر سنی کی یادوں کا سرمایہ ہے۔دسمبر کے سرد موسم میں خاندان کے ساتھ سرشام اسٹیشن پرپہنچنا اور ٹرین کا انتظار کرنا،پھر نصف شب کے بعد فیصل آباد کے اسٹیشن سے تانگے پر بیٹھ کرجنرل بس سٹینڈ پہنچنا اور بس پرربوہ جانا خوب یاد ہے۔پسر موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے بسائے ہوئے اس شہر میں پہنچ کر ضلع ملتان کے مہمانوں کے لیے مخصوص بیرک تلاش کرنا،پرالی کے فرش پر بستروں کوترتیب سے رکھنا آب خورے اور سالن کے لیے پلیٹیں لے کر رکھنابچپن کے پختہ نقوش ہیں۔ صغر سنی کے ان ایّام میں ہم افریقی مہمانوں کو سیدنابلال حبشی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے وطن کی نسبت سے ’’حبشی مہمان‘‘ کہا کرتے تھے،اور جہاں کہیں ان کی ٹولی دیکھتے قریب جاکر انہیں سلام کرتے اور ان کے جوابی طرز تکلّم سے لطف اندوز ہوتے۔نمودو نمائش سے عاری رنگ برنگے اونی سوئیٹروں میں ملبوس مختلف رنگوں کی گرم چادروں کی بُکل مارے سادے اور سچے عاشقان ِمسیح سلام کی صدائیں بلند کرتے اورا یک دوسرے سے بغل گیر ہوتے ہرسو نظر آتے۔ دسمبر کی خنکی میں کھلے آسمان تلے جلسہ گاہ میں بیٹھے احمدیوں کے ایمان علمائے احمدیت اور خلیفۃ المسیح کی تقاریر سے گرما جاتے تھے۔ زندگی کی متعدد خوش نصیبیوں میں ایک یہ بھی ہے کہ صرف نو سال کی عمر میں نافلہ موعود حضرت مرزاناصر احمد صاحب خلیفۃ المسیح الثالث رحمہ اللہ تعالیٰ سے پہلی ملاقات کی توفیق اور ان گداز ہاتھوں کے لمس کو محسوس کرنے کی سعادت ملی۔ والد محترم کا ہمیشہ یہ طریق رہا کہ جلسہ سالانہ کا سفر اختیار کرنے سے پہلے چھوٹی الائچی لازمی ساتھ رکھتے۔ اور ربوہ قیام کے دوران اور خلیفۃ المسیح سے ملاقات سے قبل چبا لیتے۔ اُس شا م ہم بھی الائچی منہ میں ڈالے قصر خلافت کے احاطے میں ایک طویل قطار کا حصہ تھے جو کشاں کشاں دیدارِ یار کے لیے رواں تھی۔ پھر کچھ دیر بعد ہم بھی اُس پُرنور، وجیہ اور معطّر شخصیت کے قریب پہنچے جو ایک تخت پر تشریف فرماتھا۔موسم کی شدت سے بچنے کےلیے ایک طرف ہیڑ لگا ہوا تھا، آس پاس نذرانوں کا ڈھیر تھا مگر وہ اِن سے بے نیاز عشاق میں محبتیں اور مسکراہتیں بانٹنے میں مصروف تھا۔ پھر اس عالی وقار وجود نے اِس بچے کی گال کو بھی تھپتھپایا اور دعا سے نوازا۔ گیارہ سال کی عمر میں یہ سعادت دوبارہ نصیب ہوئی۔ جلسہ سالانہ کی ان دل رُبا یادوں کے ساتھ ساتھ جن بزرگان کی شخصیت اور شفقت بطور خاص یاد ہے ان میں مولانا عبد المالک خان صاحب کی بارعب آواز سننا پھر ان سے ملنا اور دعائیں لینا اور محترم قاضی محمد نذیر صاحب فاضل سے ملاقات ان سے سر پہ ہاتھ پھروانا اور دعائیں لینا ہے۔

اپریل 1984ء کے بدنام زمانہ آرڈینینس کے بعد مطلق العنان حکمران کی طرف جماعت احمدیہ کے اس للہی جلسے پر قدغن لگا دی گئی، یوں ہم تعلیم و تربیت اور مودّت و اخوت کے اس بہترین نظام سے محروم ہو گئے۔مگر خدا تعالیٰ کے فضل و احسان کے ساتھ 1993ء میں مادر علمی جامعہ احمدیہ ربوہ کی طرف سے جلسہ سالانہ قادیان میں شمولیت کاموقع میسر آیا۔ اگست کے شروع میں زندگی میں پہلی بار پاسپورٹ کے لیے درخواست جمع کروانے ملتان گیا۔ گلگشت کالونی میں پاسپورٹ آفس کے باہر بیٹھے ایک شخص سے فارم پر کروایامگر وہ درخواست دہندہ کے دستخط کروانا بھول گیا، اور ہم درخواست جمع کرواکے واپس آگئے۔ 31؍اگست کو پاسپورٹ لینے گیا تو کاؤنٹر پہ بیٹھا شخص بولا:’’صوفی فارم پہ دستخط نہیں کیے‘‘۔ اس کی بات سن کر ہاتھ پاؤں پھول گئے۔فوراً اپنی غلطی قبول کی اوردستخط کرنے کے لیے ہاتھ آگے بڑھایا۔ کلرک بولا:’’ آج دستخط کر دو پھر ڈائریکٹر کے پاس جائے گا، اس لیےکل آکر لے جانا۔خاکسار نے اس سے درخواست کی کہ ابھی کروادو۔ اس بھلے انسان نے تعاون کیا اور کچھ دیر بعدپاسپورٹ لاکر ہاتھ میں پکڑا دیا۔یوں ستمبر کے پہلے ہفتے میں پاسپورٹ جامعہ احمدیہ کے دفتر میں جمع کروایا، اور شب و روز انتظار میں لگ گئے۔ پھر وہ دن آیا جب ہم 20؍دسمبر1993ءکو علی الصبح ربوہ سے لاہور کے لیے روانہ ہوئے،اور مسجددارالذکرلاہور پہنچے۔

ہر طرف گہما گہمی تھی۔مقامی افراد جماعت خدمت کے جذبے سے سرشار مستعدی کے ساتھ مہمانوں کی خدمت میں مصروف تھے۔مسیح کا لنگر جاری تھا۔مہمان اپنا اپنا نام درج کرواکے پاسپورٹ جمع کروارہے تھے تاکہ امیگریشن والوں سے روانگی کی مہر لگوائی جا سکے۔ ہم بھی اس مرحلے سے گزر کر اگلی صبح کا انتظار کرنے لگے۔ مہمانوں کی کثرت کی وجہ سے انہیں افراد جماعت کے گھروں میں رات گزارنے کے لیے بھجوایا جارہا تھا، ہم نے گلبرگ میں شاہ تاج شوگر مل کے ہیڈ آفس میں رات گزاری۔ 21؍دسمبرکی صبح ناشتے کے بعد ہمیں لاہور ریلوے سٹیشن پہنچایا گیا۔ ہم نے اپنا سامان ٹرین میں رکھا اور پلیٹ فارم پر ٹہلنے لگے۔ اس دوران جامعہ احمدیہ کے چند اساتذہ کرام نے خاکسار اور برادرم نوید احمد عادل حال امیر ومشنری انچارج لائبیریا کو کچھ رقم دی اور کہا کہ قریبی بازار سے جاکر انڈین کرنسی میں تبدیل کروالائیں۔ ہم دونوں بازار کی طرف چل دیے اور انڈین روپے لے کر اسٹیشن واپس پہنچے تو پلیٹ فارم خالی تھااور ٹرین جاچکی تھی۔ہم حیران وپریشان ایک دوسرے کا منہ دیکھتے رہےاور بوجھل قدموں کے ساتھ یہ سوچتے ہوئے مسجد دارالذکر کا رخ کیا کہ ہمارا سامان ہم سے پہلے قادیان پہنچ جائے گا۔ اُسی شام دوبارہ اپنا نام لکھوانے کے لیے قطار میں لگ گئے۔ڈیوٹی پر موجود خادم نے جب ہمارا پاسپورٹ دیکھاتو ہمیں محترم امیر صاحب جماعت لاہور کے دفتر میں لے گیا اور بتایا کہ ان کے پاسپورٹ پر Exitکی مہر لگی ہوئی ہے اور یہ یہاں موجود ہیں۔ ہمیں صورت حال کی سنگینی کا احساس ہی نہیں تھا،مگر جب امیر صاحب نے صورتِ حال واضح کی اور بتایا کہ قانونی طور پر آپ اس وقت ملک میں موجود نہیں،اور آپ کا یہاں ہونا بڑی قانونی مشکلات پیدا کر سکتا ہے تو ہم نے اپنی غلطی پر ندامت ظاہر کی اور درخواست کی کہ اس مہر کو کینسل کرواکے کل کی تاریخ کی لگوا دیں۔ ڈیوٹی پر مامور خادم نے بتایا کہ اب ہمارا جلسے میں شامل ہونا مشکل ہے لیکن کوشش کریں گے کہ مسئلہ حل ہو جائے۔ وہ رات سخت بے چینی اور بےقراری میں گزری،اور یہی خیال ذہن پر سوار رہا کہ اتنے قریب آکر اس سعادت سے محروم رہ گئے تو اس سے بڑی بدقسمتی اور کیا ہوگی۔ لیکن درمولاسے امید تھی کہ ہمیں یہ موقع ملے گا، اور اِسی امید کے ساتھ اگلی صبح ہم اپنا پاسپورٹ لینے دفتر پہنچے۔ جماعت لاہور کے اُس خادم کے لیے (مولاکریم اُسے خوش و خرم اور شاد آباد رکھے)شکر گزاری اور ا حترم کے جذبات آج بھی قائم ہیں جس نے مہمانوں کی بھیڑ میں مجھے دیکھ کر اپنی جیب سے میرا پاسپورٹ نکالا اور کہا لیں آپ کا مسئلہ حل کروا دیا ہے۔ یوں 23؍دسمبر 1993ء بروز جمعرات دیارِ مسیح کے دیدار کا جوش لیے ہم واہگہ بارڈر کراس کرکے اٹاری سٹیشن پہنچے۔سکھ عملے نے بہت احترام کے ساتھ استقبال کیا اور پاسپورٹس پر مہریں ثبت کیں۔ اٹاری سٹیشن پر قادیان کی جماعت کی طرف سے ملنے والے پہلے کھانے کا لطف آج بھی یاد ہے۔ صرف آنے والے مہمان ہی نہیں، مقامی لوگ بھی وہ کھانا لے کر کھا رہے تھے۔ اٹاری سےبسوں پر اس مقدس بستی کی طرف روانہ ہوئے جہاں وہ گل رعنا کھلا جس کی دلنشیں خوشبو آج ایک عالم کو معطّر کر رہی ہے۔جیسے جیسے وہ بستی قریب آئی جذبات میں تلاطم آیا، غروبِ آفتاب کے بعد ہم اس سرزمین پر پہنچے جس کی مٹی نے مسیح وقت کے قدم چومے تھے۔ وہ مسیحا صدیاں جس کی آمد کی منتظر تھیں، محمد عربی ﷺ کا وہ عاشق صادق جو اُس کی روحانی میراث کا حقیقی وارث اور دینِ حق کے کامل غلبے کی داغ بیل ڈالنے آیا تھا، جو دنیا کی نمود و نمائش سے لاتعلق سادگی کا کامل نمونہ رہا ہم اُس کی سادہ سی بستی میں وارد ہوئے تھے۔ وہ رات قیام گاہ جانے کی بجائے مسجد مبارک، مسجد اقصیٰ اور بہشتی مقبرے کے چکر لگا کر گزاری۔پھر قادیان کی اُجلی دھوپ میں جلسہ سالانہ کے تینوں ایام دیکھے اور مختلف خِطوں سے آئے ہوئے مہمانوں سے ملنے اور گفتگو کرنے کی توفیق ملی۔ اُس وقت قادیان کے روح وروواں محترم صاحبزادہ مرزاوسیم احمد صاحب تھے، اُس محترم ہستی سے متعدد بار ملنے اور کچھ پل ساتھ گزارنے کا موقع ملا۔ خدا تعالیٰ نے اپنے فضل سے تمام مقامات مقدسہ اور قادیان کے دَرو دیوار کو بار بار دیکھنے کی توفیق دی۔

برکت دہندہ اور برکت یافتہ ’’مسجد مبارک ‘‘ جس کا داخلی دروازہ آج بھی ہر آنے والے کو :’’مَنْ دَخَلَهُ کَانَ اٰمِنًا‘‘ کی نوید سناتا ہے، اُس سادہ سے خانۂ خدا میں باقاعدگی کے ساتھ نمازوں کی ادائیگی کی توفیق ملتی رہی۔ یہ وہی بابرکت مسجد ہے جس کے بارے میں مسیح الزمان کوپانچ مرتبہ الہام ہوا۔ اور اس مسجد کی پیشانی پر لکھا الہام :’’لَارَآدَّ لِفَضْلِهٖ‘‘ آج اکناف عالم میں بننے والی جماعت احمدیہ کی تقریباً ہر مسجد کے محراب کی زینت بنتا ہےکہ کون ہے جو خدا کے فضلوں کو روک سکتا ہے۔ بیت الدعا میں وقت گذارنے کی سعادت نصیب ہوئی،جہاں اس زمانے کا مُصلح اپنے آسمانی آقاسے مخلوق کی اصلاح اور دین اسلام کی سربلندی کی دعا کے لیے سربسجود ہوتا تھا۔

اے میرے پیارے فِدا ہو تجھ پہ ہر ذرّہ میرا

پھیر دے میری طرف اے سارباں جگ کی مہار

اے خدا تیرے لیے ہر ذرّہ ہو میرا فدا

مجھ کو دکھلا دے بہاردیں کہ میں ہوں اشکبار

بہشتی مقبرہ میں جاتے وقت عجیب کیفیت ہوتی تھی۔ وہ مقبرہ جس کے متعلق عرش كے خدا نے يہ خبر دی:’’ اُنْزِل فیْھَاكُلُّ رَحْمَةٍ ‘‘موعود اقوام عالم کا جسم وہاں چاندی کی مٹی میں آسودہ خاک ہے، مگر اس کا یہ کلام کانوں میں رس گھولتا ہے کہ’’یقیناً یاد رکھو اور کان کھول کر سنو!کہ میری روح ہلاک ہونےوالی روح نہیں، اور میری سرشت میں ناکامی کا خمیر نہیں‘‘۔ کئی بار مینارۃ المسیح کی سیڑھیاں چڑھ کر آخری مقام تک گیا، اور وہاں کچھ پل بتا کر تاحد نظر پھیلی مسیح کی بستی کو دیکھا۔اور اُس کی پیشانی پر کندہ کلام :’’ بخرام کہ وقتِ تو نزدیک رسید،وپائے محمدیاں بر مینار بلند تر محکم افتاد ‘‘ کو ٹکٹکی باندھ کر دیکھنے اور ان الفاظ پر غور کرنے کا موقع ملا کہ یہ جلدترآنے والے انقلاب کی نوید سنا رہے ہیں۔اِس مینارۃ البیضاء کے سنگِ مرمر سے بنے چبوترے پر بیٹھ کر کئی بار سوچا کہ نبیِ کامل ﷺ کے اُس عاشقِ صادق اور ظلِ کامل نے کس طرح عملی اور اعتقادی رنگ میں اپنے آقا کی مطہر زبان سے نکلی ہربات کو پورا کیا، اور یہ مینار بھی اسلام کی نشأۃ ثانیہ کے ظہور کے نشان کے طور ایستادہ ہے۔بہشتی مقبرہ سے ملحقہ باغ میں خالی زمین پر سنگ مرمر کےایک سادہ سے کتبے پر لکھے’’مقام قدرت ِظہور ثانیہ‘‘ کے الفاظ یہ کہانی سنا رہے تھے کہ بطحا کی وادی میں طلوع ہونے والا آفتاب ِنبوّت جب رفیق اعلیٰ کے حضور حاضر ہوا، تو اُس کے جانثاروں نے کس سادگی کے ساتھ یارِ غار کو اُس کا جانشین اور خلیفہ چنا۔اُسی طرح چودہ سو سال بعد اُس زندہ نبی کے ظلِ کامل کے وصال کے بعدعشاق نے اُس کے خاک بسر رفیق کو خلافت علیٰ منہاج نبوت کا پہلا مظہر چنا۔ احکم الحاکمین کی یہ سنّت مستمرہ ہے کہ اُس کے انبیاء اور مرسل بشیر و نذیر بنا کر بھیجے جاتے ہیں۔ ’’الدار‘‘ کے باسی قادیان کے گلی کوچوں میں گھومنے والے مرزاغلام احمد، باغ میں بنے ایک سادہ سے کمرے میں سنگ و خشت کے سہارے سے بنی ایک سادہ سی کرسی پر دربار ِشام میں حکمت کے موتی بکھیرنے والے وجود کی زندگی اِسی ’’سُنّتِ مستمرہ‘‘ کا کامل نمونہ تھی۔وہ مالک کُل کےدربار میں اِن الفاظ کے ساتھ حاضری دیتا ہے:

یہ سراسر فضل و احساں ہے کہ میں آیا پسند

ورنہ درگہ میں تری کچھ کم نہ تھے خدمت گذار

کس طرح تیرا کروں اے ذوالمنن شکرو سپاس

وہ زباں لاؤں کہاں سے جس سے ہو یہ کاروبار

اور مخلوق خدا کو بڑی تحدی کے ساتھ یہ دعوت دیتا ہے:

آؤلوگو کہ یہیں نور خدا پاؤ گے

لو تمہیں طور تسلی کا بتایا ہم نے

صدق سے میری طرف آؤاسی میں خیر ہے

ہیں درندےہر طرف میں عافیت کا ہوں حِصار

اور مخالفین کو ان الفاظ میں انذار کرتا ہے:

ہے سر راہ پر میرے وُہ خود کھڑا مولیٰ کریم

پس نہ بیٹھو میری راہ میں اے شریرانِ دیار

انبیاء سے بغض بھی اے غافلو اچھا نہیں

دورتر ہٹ جاؤ اس سے ہے یہ شیروں کی کچھار

قادیان دار الامان کا ایک سفر ہر عقل سلیم رکھنے والے احمدی کوامام الزمان علیہ الصلوٰۃ والسلام کے بیان فرمودہ اِن حقائق و معارف کو سمجھنے اور اپنے ایمان و ایقان کو مضبوط کرنے کا بہترین موقع فراہم کرتا ہے۔

ان ایام میں ہمیں خدا تعالیٰ نے یہ موقع بھی دیا کہ نئے سال کا طلوع ہم نےاُسی ’’دار السلام‘‘ میں دیکھا۔

خداکے رسول کی تخت گاہ میں دس روز گزارنے کے بعد اتوار 2؍جنوری 1994ء کو انتہائی بوجھل دل کے ساتھ ہم نے واپسی کاسفرکیا اور آج 27سال گزرنے کے بعد بھی اس سُچی بستی میں گزرے شب و روز کی یادیں تازہ ہیں۔ اور یہی دعا لبوں پہ رہتی ہے،

’’اے قادیاں دارالاماں اونچا رہے تیرا نشاں‘‘

٭…٭…٭

مزید دیکھیں

متعلقہ مضمون

رائے کا اظہار فرمائیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

For security, use of Google's reCAPTCHA service is required which is subject to the Google Privacy Policy and Terms of Use.

I agree to these terms.

Back to top button
Close