یادِ رفتگاں

میرے جیون ساتھی۔ خلیفہ صفی الدین محمود

(صالحہ صفی محمود۔ لندن)

یہ شاید 1959ء کا واقعہ ہے جبکہ میری عمر 17 سال کے لگ بھگ ہو گی۔ میں کئی بار اپنی اورسہیلی اوررضیہ شمع اورکلاس فیلو سےدرخواست کر چکی تھی کہ میں تمہارے گھر آکر تمہاری دادی صاحبہ سے ملنا چاہتی ہوں جو کہ اس وقت کےخلیفہ حضرت خلیفۃ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ کی ساس تھیں اور بعد میں میری دادی ساس بنیں یعنی آپ میرے میاں خلیفہ صفی الدین محمود کی دادی تھیں۔ آپ کا نام عمدہ بیگم تھا۔ آپ حضرت امِ ناصر رضی اللہ عنہا بیگم حضرت خلیفۃ المسیح الثانیؓ کی والدہ اور حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی پڑنانی تھیں۔

آپ حضرت خلیفہ رشید الدین رضی اللہ عنہ کی اہلیہ تھیں۔ یعنی رضیہ شمع کا گھر میرے سسرال کا گھر تھا۔

بہرحال مَیں نے رضیہ شمع سے درخواست کی تھی۔ (ہم رضیہ کو شمع کے نام سے ہی پکارتے تھے) ایک دن شاید دوپہر سے پہلے کا وقت تھا۔ رضیہ شمع نے مجھے اپنے ساتھ اپنے گھر لے جانے کا پروگرام بنا ہی لیا۔ شاید ہم دونوں سکول سے سیدھے ہی ان کے گھر روانہ ہوئے۔ صحن کا دروازہ کھلا تھا۔ رضیہ کو کھٹکھٹانا نہیں پڑا۔ بعض باتیں ہمیشہ کے لیے ذہن میں بیٹھ جاتی ہیں۔ مجھے بھی سیدھا صحن میں داخل ہونا اچھی طرح یاد ہے۔ حالانکہ اس واقعہ کو تقریباً ساٹھ سال سے زائد عرصہ گزر چکا ہے۔ جب ہم دونوں مکان کے پیچھے والے صحن میں داخل ہوئے تو دادی جان کی چارپائی کو صحن میں ہی ایک شیڈڈ حصہ میں پایا۔ شاید تازہ ہوا کی خاطر آپ کی چارپائی کو وہاں لایا گیا تھا۔ دادی جان اس وقت سوئی ہوئی تھیں۔ چارپائی پر نہایت خوبصورت سفید چادریں بچھی ہوئی تھیں۔ اور ایک چادر ان کے اوپر تھی۔ ہم دونوں کچھ عرصہ ان کی چارپائی کے قریب کھڑے رہے۔ چونکہ آپ سوئی ہوئی تھیں اس لیے باتیں کرنا تو بالکل یاد نہیں۔ میرے لیے تویہ ملاقات بہرحال خوش نصیبی ہی تھی۔ گو کہ باتیں کرنا یا سلام کہنا تو بالکل یاد نہیں۔ کچھ عرصہ کے بعد ہم دونوں واپسی کے لیے مڑے۔ میرے قدم کیا مڑنے تھے شاید وہیں جم گئے ہمیشہ کے لیے۔

1970ء میں حضرت خلیفۃ المسیح الثالث رحمہ اللہ نے جلسہ سالانہ ربوہ کے موقع پر میرا نکاح خلیفہ صفی الدین محمود کے ساتھ پڑھایا۔ رشتہ کس طرح طے پایا اس کی تفصیل روشن چاند مصنفہ صفی محمود (2015ء) صفحہ 23۔27سے ماخوذ ہے:

میرا رشتہ اس خاندان میں 1970ء میں طے ہو اتھا۔ اس کا پس منظر یہ ہے کہ میں چند دنوں کے لیے لندن سے پاکستان گئی ہوئی تھی اور میرے اباجان نے حضرت خلیفۃ المسیح الثالثؒ کی خدمت میں میرے رشتے کے بارہ میں عرض کر رکھا تھا اور وقتاً فوقتاً بذریعہ خط یاددہانی بھی کرواتے رہتے تھے اور حضورؒ کو یہ بھی معلوم تھا کہ آپ کی ممانی (بدرجہان ) اپنے بیٹے صفی الدین محمود کا رشتہ ڈھونڈ رہی ہیں۔ تو آپ رحمہ اللہ نے اپنی ممانی سے پرزور طریق پر میرے رشتے کی بات کی اور فرمایا کہ مجھے تو شرح صدر ہے اور میں نے دعا بھی کی ہے۔ آپ یہ رشتہ ضرور کر دیں۔ حضرت میاں مبارک احمد صاحب پسر حضرت خلیفۃ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ نے بھی مجھے کئی بار بتایا کہ تم یاد رکھنا میں نے بھی ممانی سے سفارش کی تھی۔ پھر مکرمہ محترمہ آپا مسعودہ صاحبہ (اہلیہ محترم بابو عبدالعزیز صاحب) جو کہ اماں کے ہمسائے تھے اور ان کے میری امی جان سے بھی قریبی تعلقات تھے اور میری تائی جان غلام فاطمہ اہلیہ مکرم مولوی محمد احمد جلیل صاحب نے بھی اماں کے گھر جاکر اس رشتے کی بابت زور دیا۔ مگر اماں اپنے سب سے چھوٹے بیٹے کو بیرون ملک نہیں بھیجنا چاہتی تھیں۔ تو آپ حضرت خلیفۃ المسیح الثالث رحمہ اللہ تعالیٰ کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور عرض کیا کہ میں صفی کو بیرون ملک نہیں بھیجنا چاہتی۔ اس لیے میں یہ رشتہ کرنے سے معذرت چاہتی ہوں۔ اسی دوران میری تائی جان نے حضرت سیدہ آپا منصورہ بیگم صاحبہ مرحومہ (اللہ تعالیٰ ان کے درجات بلند فرمائے) سے اس بابت دریافت کیا تو آپ نے مسکراتے ہوئے فرمایا کہ ابھی تک تو ممانی نہیں مانیں، مگر حضور کوشش کر رہے ہیں۔ میری تائی جی نے عرض کیا کہ اصل میں دو اور رشتے بھی ہیں۔ ہماری خواہش ہے کہ انہی دنوں میں بات پکی ہو جائے کیونکہ صالحہ دو ہفتے تک واپس لندن چلی جائے گی۔ حضرت سیدہ آپا جان نے فرمایاکہ آپ چند دن انتظار کریں۔ مجھے امید ہے کہ ممانی حضورؒ کی بات ضرور مانیں گی۔

جب اماں نے حضورؒ کی خدمت میں بیٹے کے بیرون ملک نہ جانے کے بارے میں عرض کیا تو حضورؒ نے فوری طور پر کہا کہ اگر آپ چاہتی ہیں کہ صفی لندن نہ جائے تو آپ بالکل فکر نہ کریں میں آپ کو گارنٹی دیتا ہوں کہ صالحہ پاکستان آجائے گی۔ یہ سن کر اماں سوچ میں پڑ گئیں اور عرض کیا کہ اچھا اگر ایسا ہے تو مجھے ایک دو دن سوچنے اور دعا کے لیے مرحمت فرمائیں۔ حضورؒ نے فرمایا ٹھیک ہے آپ سوچ لیں۔ مگر مجھے تو اس رشتہ کے بارے میں شرح صدر ہے اور میں نے دعا بھی کی ہے۔

دو دن کے بعد اماں نے حضورؒ کی خدمت میں ہاں کر دی۔ تو حضورؒ نے میرے تایا جی کو پیغام بھجوایا کہ فوری طور پر نکاح کے فارمز وغیرہ پُر کر لیں۔ میں نکاح جلسے کے بعد پڑھاؤں گا(یعنی 29؍دسمبر 1970ء) جلسے میں شاید پانچ چھ دن ہی رہ گئے تھے۔ میرے تایا جی حضورؒ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ کیا میں اپنے بھائی (مولوی عبدالکریم) سے اس رشتے کے بارہ میں اجازت لے لوں۔ حضورؒ نے فرمایا۔ نہیں اس کی ضرورت نہیں۔ پھر تایا جی نے عرض کیا کہ کیا میں بذریعہ تار (ان دنوں ٹیلیفون کی سہولت برائے نام تھی) اپنے بھائی کو نکاح کے بارہ میں اطلاع دے دوں۔ حضورؒ نے فرمایا کہ اس کی بھی ضرورت نہیں۔ یہ رشتہ میں نے خود طے کیا ہے۔ میرے ماموں کا بیٹا ہے۔ میں خود نکاح پڑھاؤں گا اور بچی کی طرف سے ولی بھی میں خود ہی بنوں گا۔

تایا جی گھر تشریف لے آئے اور خوشی خوشی سب کو سارا ماجرا سنایا ( میں بھی چھپ کر سن رہی تھی ) حضورؒ نے مزید ہدایات دیں کہ نکاح کے بعد ایک چھوٹا سا فیملی فنکشن کر لیں۔ تصویریں اتاریں۔ بس وہی والدین کو بھجوا دیں۔ یہی ان کو پہلی اطلاع ہو گی۔ تایا جی نے ہمیں بتایا کہ انہیں نکاح کے فارمز بھجوانے میں کچھ تاخیر ہو گئی ہے اس لیے ان فارمز میں سے جن کے نکاح حضورؒ نے 29؍دسمبر کو پڑھانے تھے۔ ہمارے فارمز سب سے نیچے تھے۔ تایا جی کہتے ہیں کہ مجھے بڑی گھبراہٹ تھی کہ وقت کی کمی کے باعث کہیں ہماری باری ملتوی نہ کر دی جائے۔ مگر حضورؒ نے سب فارمز دیکھ کر ہمارے فارمز سب سے اوپر کر دیے۔ یوں ہمارے نکاح کا اعلان سب سے پہلے ہوا۔ تایا جی جب گھر لوٹے تو اس بات کی وجہ سے ا ن کا چہرہ خوشی سے چمک رہا تھا۔ نیز تایا جی نے ولی بننے کی درخواست کی تھی جو کہ حضورؒ نے منظور فرمائی۔

نکاح کے بعد حضورؒ کی ہدایت کے مطابق تایا جی کے جامعہ کے کوارٹرز کے صحن میں ایک چھوٹا سا فنکشن ہوا۔ جس میں حضرت سیدہ آپا ناصرہ بیگم صاحبہ (والدہ محترمہ حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز) جو کہ صفی کی سگی پھوپھی زاد بہن تھیں بھی، سسرال کی طرف سے تشریف لائیں اور مجھے نکاح کی انگوٹھی آپ نے ہی پہنائی۔ یہ میری عین خوش قسمتی تھی۔ اگلے دن میری لندن واپسی تھی۔ چند تصاویر کے پرنٹ فوری طور پر مل گئے تھے۔ میرے والدین کو یہ رشتہ طے ہونے کی پہلی اطلاع وہ تصاویر ہی تھیں۔ یوں حضرت خلیفۃ المسیح الثالثؒ کی وہ بات پوری ہوئی کہ پہلی اطلاع تصاویر ہی ہوں گی۔ حالانکہ ربوہ میں ان دنوں پرنٹ بنتے بنتے بعض اوقات کئی دن لگ جاتے تھے۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ ہی خلفاء کی کہی ہوئی بات کی لاج رکھتا ہے۔

میں نکاح کے بعد جب واپس لندن آئی تو بعض لوگوں نے مجھے ڈرانا شروع کر دیا کہ اماں بڑی سخت طبیعت کی ہیں، اور تم نے بیاہ کر پاکستان جانا ہے۔ اچھی طرح تیاری کرلو۔ میں کچھ ڈر جاتی تو میری امی جان کہا کرتی تھیں کہ جس گھر میں تین بہوئیں عیش کر رہی ہوں وہاں چوتھی کو کیا مسئلہ ہو سکتا ہے۔ تم ان باتوں کی طرف بالکل توجہ نہ دو۔ اپنے خیالات مثبت رکھو اور دعا ؤں پر زور دو۔

میرے نکاح کے پانچ چھ مہینے بعد ہمیں یہ خبر بذریعہ تایا جی تائی جی موصول ہوئی کہ اماں نے صفی کو اجازت دی ہے کہ وہ خود لندن جا کر دلہن کی رخصتی کروا لائے۔ یوں ایک مہینے یا جتنی بھی کام سے چھٹی مل سکتی ہے لندن میں گزارے۔ پھر دونوں واپس پاکستان آجائیں۔ میری اُمی جان تو اس خبر سے مزید مطمئن ہو گئیں اورلندن میں شادی کی تیاریاں شروع کر دیں۔

ان دنوں شادی کی تیاریاں نہایت معمولی ہوتی تھیں۔ آج کی شادیوں سے کوئی مقابلہ نہیں۔ یہاں تک کہ میری شادی کا جوڑا بھی گھر میں ہی سیا گیا۔ اور مختلف لوگوں نے مل کر دوپٹے اور جوڑے پر ادھر ادھر چند ستارے لگا دیے۔ صفی 10؍ستمبر 1971ء کو لندن پہنچے۔ قانتہ مرحومہ (اہلیہ محترم بشیر احمد صاحب آرچرڈ مرحوم) سکاٹ لینڈ سے تشریف لے آئیں۔ یوں 12؍ستمبر کو رخصتانہ کی تقریب ہوئی۔ قانتہ آپا نے رخصتانہ کے بعد میرے ٹھہرنے کا انتظام مشن ہاؤس کے اوپر والے ایک کمرے میں کیا ہوا تھا۔ اس کے ساتھ والے کمرے میں مکرم محترم مسعود احمد جہلمی صاحب مع اپنی فیملیز ٹھہرے ہوئے تھے۔ دعوتِ ولیمہ کا اہتمام اماں کے دونوں بھائیوں (مکرم احمد علی خان صاحب مرحوم اور مکرم حمایت علی خان صاحب) نے ساؤتھ آل میں کیا۔ اس سے شاید اگلے دن قانتہ آپا ہمیں لے کر سکاٹ لینڈ (گلاسگو) بذریعہ ٹرین روانہ ہوئیں۔ رخصتی کے بعد قانتہ آپا کے ساتھ گزارے ہوئے وہ چند دن بھلائے نہیں بھولتے۔ ان کی اپنے بھائی بھابھی کو بیاہ کر اپنے گھر لے جانے کی خوشی اور ان کی خاطر تواضع بھلائی نہیں جا سکتی۔ بشیر بھائی (آرچرڈ) اس وقت سکاٹ لینڈ کے مبلغ تھے اور انہیں جماعت کی طرف سے چار بیڈ رومز کا ایک بہت بڑا فلیٹ ملا ہوا تھا۔ اس میں سے ایک کمرہ انہوں نے ہمیں دے دیا۔ قانتہ آپا کی خوشی کا یہ حال تھا کہ گو ہماری دعوت ولیمہ ہو چکی تھی انہوں نے دوبارہ اپنے سب ملنے والوں کو اپنے گھر میں دعوت دی۔ میرے لیے انہوں نے اپنے ہاتھ سے سیا ہوا غرارہ سوٹ تیار کر رکھا تھا۔ اس پر گوٹا کناری اپنے ہاتھ سے کی تھی۔ مجھے وہ پہنا کر پھولے نہ سماتی تھیں۔ میں حیران تھی کہ نندیں ایسی بھی ہوتی ہیں۔ ہم دونوں نے گویا ایک دوسرے کے دل جیت لیے۔ جب ہم لندن واپس آئے تو میں نے یہ سب ماجرا اپنی اُمی جان کو سنایا تو انہوں نے کہا ’’الحمد للہ میری بیٹی نے اپنے سسرال میں جگہ بنا لی۔ ‘‘

تو ہم بات کر رہے تھے کہ جب صفی کو اماں کی طرف سے لندن ایک دومہینے کے لیے آنے کی اجازت مل گئی تو حالات بدل گئے اور میں پاکستان جانے کی بجائے قانتہ آپا کے ہم راہ سکاٹ لینڈ رخصت ہوگئی۔ ابھی دو مہینے پورے ہونے ہی والے تھے کہ اماں کی طرف سے اجازت موصول ہوئی کہ صفی اگر چاہے تو لندن سیٹل ہو جائے، مگر مجھے ملنے پاکستان جلدی جلدی آیا کرے۔ اس اجازت کی بنا پر صفی نے ہوم آفس میں یہاں رہنے کے بارے میں عرضی لکھ دی جو کہ منظور ہو گئی اور اس طرح اللہ تعالیٰ کو ہمارا لندن میں بسنا منظور ہو گیا۔ صفی نے واقعی اپنی ماں کے ساتھ کیا ہوا وعدہ نبھایا۔ شروع میں ہر سال ہی پاکستان کا چکر لگایا کرتے تھے۔

واقعات کے تسلسل کو قائم رکھتے ہوئے میں نے خلیفہ صفی الدین مرحوم کے ساتھ اپنے نکاح اور شادی کے واقعات پہلے بیان کر دیے۔ اب دوبارہ اصل مضمون کی طرف آتے ہیں جو کہ میرے میاں خلیفہ صفی الدین محمود کے حالاتِ زندگی پر مشتمل ہو گا۔

آباؤاجداد

آپ کے ابا جان کا نام خلیفہ علیم الدین تھا۔ جبکہ آپ کےدادا حضرت ڈاکٹر خلیفہ رشید الدین صاحبؓ جو کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے 313 صحابہ میں شامل تھے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے سمدھی بھی تھے۔ یعنی آپ کی بیٹی حضرت سیدہ محمود ہ بیگم (حضرت ام ناصر) حضرت خلیفۃ المسیح الثانیؓ سے بیاہی ہوئی تھیں۔ شادی سے قبل آپ کا نام رشیدہ بیگم تھا۔ شادی کے بعد حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور حضرت اماں جانؓ نے آپ کا نام بدل کر محمودہ بیگم رکھ دیا۔ آپ خلیفہ صفی الدین مرحوم کی پھوپھی تھیں۔ یوں حضرت خلیفۃ المسیح الثانیؓ آپ کے پھوپھا لگتے تھے۔ آپ کے دادا کے ابا جان کا نام خلیفہ حمید الدین تھا۔

اب ہم خلیفہ صفی الدین (مرحوم) کی والدہ کی طرف سے آبا ؤ اجداد کا ذکر کرتے ہیں۔ آپ کی والدہ کا نام بدر جہان صاحبہ تھا۔ اور بدر جہان صاحبہ کے والد صاحب کا نام محترم خان قاسم علی خان تھا۔ آپ رامپور کے مشہور علماء میں سے گردانے جاتے تھے۔ بدر جہاں صاحبہ کی پیدائش 1906ء یا شاید 1907ء میں ہوئی۔ آپ کی عمر تقریباً چھ سال کی ہی ہو گی جبکہ آپ کی والدہ صاحبہ کا انتقال جوانی میں ہی ہو گیا۔ آپ اپنے والدین کی اکلوتی لاڈلی بیٹی تھیں۔ (آپ کی شادی کے بعد آپ کے ابا جان نے اپنی شادی کی۔ آپ کے بارہ میں مجھے بتایا گیا کہ آپ کا نکاح 12؍سال کی عمر میں جبکہ شادی 15؍ سال کی عمر میں ہوئی۔ آپ نکاح کے بعد ہی اپنی نند حضرت ام ناصر کے گھر آگئیں۔)

میرے میاں خلیفہ صفی الدین صاحب کا بچپن رامپور اور قادیان میں ہی گزرا گو کہ آپ کی پیدائش رامپور میں 4؍ مارچ 1940ء ہوئی تھی۔ ہجرت کے وقت اگست 1947ء میں آپ حضرت خلیفۃ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ کے ایک بچے کے ساتھ گھر کے سامنے کھیل میں مصروف تھے جبکہ حضورؓ کی گاڑی ان کے قریب سے گزری۔ حضورؓ نے گاڑی روک کر دوسری گاڑی کے ڈرائیور کو اشارہ کیا کہ ان کو بھی ساتھ بٹھا لیں۔ ڈرائیور نے گاڑی روک کر دونوں بچوں کو بٹھا لیا۔ یوں میرے میاں خلیفہ صفی الدین مرحوم کو بھی حضورؓ کے ساتھ قادیان سے لاہور ہجرت کرنے کا موقع ملا۔ بعد میں حضورؓ کے حکم کےمطابق صفی کے گھر والوں کو بھی اطلاع کر دی گئی۔ آپ ہمیشہ اس واقعہ کو خوش قسمتی گردانتے تھے۔

آپ نے بنیادی تعلیم تو رامپور اور قادیان میں ہی پائی۔ یعنی آپ کی عمر سات سال تھی جبکہ ہجرت ہوئی۔ آپ نے بقیہ تعلیم ربوہ، لاہور اور کراچی میں حاصل کی۔ ربوہ میں آپ تعلیم الاسلام کالج جاتے تھے۔ جبکہ آپ نے B.A فائنل کی ڈگری کراچی میں حاصل کی اور وہیں کام کرنا شروع کیا۔ آپ ایک فرم میں اکاؤنٹس کا کام کرتے تھے۔

آپ کے والدین شروع ہی سے ربوہ میں قیام پذیر تھے۔ آپ کے 10 بہن بھائی تھے۔ چار بھائی اور چھ بہنیں۔ بھائیوں کے نام: 1۔ خلیفہ سلیم الدین۔ 2۔ خلیفہ وسیم الدین۔ 3۔ خلیفہ رضی الدین۔ 4۔ خلیفہ صفی الدین (میرے میاں)

بہنوں کے نام : 1۔ امۃ الرحمٰن اہلیہ مرزا شفیع احمد۔ 2۔ فصیحہ اہلیہ شیخ لطف الرحمٰن۔ 3۔ قانتہ آرچرڈ۔ 4۔ انیسہ اہلیہ شیخ منیر الدین 5۔ رضیہ کرامت۔ 6۔ نیلوفر چانن

لندن آنا تو آسان ہوتا ہے مگر یہاں آکر سیٹل ہونا تو بہرحال بہت مشکل ہوتا ہے۔ مگر میرے میاں کی خوش قسمتی دیکھیے کہ ان کو تین ماہ کے اندر اندر نوکری مل گئی۔ آپ چونکہ پڑھے لکھے تھے اور اکاؤنٹس کے کام کا تجربہ تھا اس لیے یہاں کے ایک بہت بڑے سٹور Barkers میں اکاؤنٹس کا کام مل گیا۔ یہ سٹور Kensington کے ایریا میں تھا۔ اور اس قسم کا کام اتنی جلدی مل جانا محض اللہ تعالیٰ کا فضل تھا۔ اس کے چند ماہ بعد ان کے بڑے ماموں (احمد علی خان۔ مرحوم) نے مشورہ دیا کہ اب تم PIA میں اپلائی کر کے دیکھو۔ تمہیں ضرور اکاؤنٹس ڈیپارٹمنٹ میں کام مل جائے گا۔ یوں چند مہینوں کے اندر اندر ہی آپ کو PIAکے اکاؤنٹس ڈیپارٹمنٹ میں کام مل گیا۔

آپ انٹرویو دینے کے بہت ماہر تھے۔ اس لیے ہر کام بہت جلد حاصل کر لیتے تھے۔ یہاں کام کرنے کا سب سے بڑا فائدہ یہ تھا کہ ہمیں پاکستان کے فری ٹکٹ مل جاتے تھے۔ بلکہ ایک مرتبہ امریکہ بھی ہو آئے۔ پی آئی اے میں شاید تین چار سال ہی کام کرنے کا موقع ملا۔ اس کے بعد پی آئی اے والوں نے احمدیت کی مخالفت کی وجہ سے بہانہ بنا کر نکال دیا۔ اب ان کو چونکہ پاکستان کے فری ٹکٹ کی عادت پڑ گئی تھی اس لیے آپ نے ٹریول ایجنسیوں میں اکاؤنٹنٹ کا کام ڈھونڈنا شروع کر دیا۔ اب تک آپ اکاؤنٹس میں خوب ماہر ہو چکے تھے۔ اس لیے جلد ہی آپ کو ایک ٹریول ایجنسی میں کام مل گیا۔ اچھی تنخواہ کے علاوہ انہوں نے یہ بھی وعدہ کیا کہ سال کے آخر میں فری ٹکٹ بھی مہیا کریں گے۔ کچھ سال اسی ٹریو ل ایجنسی میں کام کرنے کے بعد اپنی ٹریول ایجنسی کھولنے کا پروگرام بنایا۔ آپ جو پروگرام بناتے خداتعالیٰ اس میں اپنا فضل شامل حال کرتا۔ آپ نے بڑی محنت سے جگہ ڈھونڈنی شروع کر دی۔ جس میں آپ کو کامیابی حاصل ہوئی۔ آپ کو ایک مناسب جگہ Leaseپر مل گئی۔ مگر اصل کام تو اس ٹریول ایجنسی کو چلانا تھا۔ اکاؤنٹس کا کام تو یہ خود جانتے تھے۔ ٹکٹ وغیرہ بنانے کے کام میں ابھی مہارت نہ تھی۔ آپ نے ایک دو ملازم رکھے نہ صرف ان کو کام سکھایا بلکہ خود بھی دن رات محنت کی۔ یوں وہ ٹریول ایجنسی جس کا نام آپ نے Paddington Travel رکھا تھا خوب چل پڑی۔ اور آپ نے چند سال اپنی محنت کے سبب اس سے خوب کمایا۔ مگر اب آپ کی عمر کا وہ حصہ آ پہنچا تھا جس کے سبب آپ بہت زیادہ محنت نہ کر سکتے تھے۔ مگر اس کے باوجود چونکہ محنت کے عادی تھے اس لیے اسے جاری رکھا۔ ایک دن آپ کو ہارٹ اٹیک ہو گیا۔ آپ کو فوری طور پر ہسپتال پہنچایا گیا اور گھر میں بذریعہ ٹیلی فون اطلاع کر دی گئی۔

آپ کا اپنی ٹریول ایجنسی چلانا مشکل ہو گیا۔ آ پ نے کچھ دیر گھر میں آرام کیا اور ملازمین نے ٹریول ایجنسی چلائی۔ اس میں سب سے زیادہ مدد مکر م محترم میجر خلیل صاحب نے کی۔ آخر کار ٹریول ایجنسی بیچنی پڑی۔

میں نے فوری یہ مشورہ دیا کہ آپ حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ کو خط لکھ کر اپنی زندگی کچھ سالوں کے لیے وقف کر دیں۔ آپ نے میری بات مانتے ہوئے فوری طور پر حضورؒ کو بذریعہ خط اپنے آپ کو جماعتی خدمت کے لیے پیش کر دیا۔ خداتعالیٰ کا از حد شکر ہے کہ حضورؒ نے آپ کی پیشکش قبول فرمائی اور آپ کو غالباً پانچ سال تک جماعتی خدمات بجالانے کا موقع ملا۔

جماعتی خدمات کی عادت تو تھی ہی مگر اس بار آپ کو زندگی وقف کرنے کا موقع میسر آیا۔ جب میں نے یہ الفاظ لکھے کہ ’’میری بات مانتے ہوئے‘‘ حضورؒ کی خدمت میں لکھ دیا۔ تو مجھے 1982ء کا وہ خطبہ جمعہ یاد آگیا جبکہ میرے میاں نے حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ کو بذریعہ پرائیویٹ سیکرٹری میرا نام پیش کر دیا تھا۔ ہوا یوں کہ جب حضرت خلیفۃ المسیح الرابعؒ 1982ء میں مسند خلافت پر متمکن ہونے کے بعد پہلی مرتبہ لندن تشریف لائے تو اکتوبر کا مہینہ تھا اور جمعہ کا دن۔ حضورؒ نے خطبہ جمعہ میں مستشرقین کے اسلام کے خلاف اعتراضات کے حوالہ جات کو تلاش کرنے کے بارے تحریک فرمائی۔ میرے میاں (خلیفہ صفی الدین محمود) کو خطبہ جمعہ سنتے ہوئے فوری طور پر یہ خیال آیا کہ میری بیوی (صالحہ صفی) یہ کام بہت اچھی طر ح کر سکتی ہے خطبہ جمعہ سننے کے دوران ہی ان کو خیال آیا کہ آج گھر جانے سے قبل میں کیوں نہ حضورؒ کی خدمت میں اس کا نام پیش کرتا جاؤں حالانکہ وہ جانتے تھے کہ میں Full Time ایک کالج میں کام کر رہی تھی اور میرے تینوں بچے ابھی چھوٹے ہی تھے۔ گو کہ میں نے لجنہ اماء اللہ کے تحت تھوڑا بہت کام تو کیا ہوا تھا۔ مگر حضرت خلیفۃ المسیح کے تحت یوں کام کرنے کے بارے میں تو میں نے کبھی سوچا بھی نہ تھا۔ بہرحال وہ گھر آنے سےپہلے ہی میرا نام پیش کر آئے۔ مجھے حضورؒ نے اگلے دن ہی بلا لیا۔ پھر اس کام کا سلسلہ ایسا چلا کہ مجھے خود بھی یقین نہ آتا تھا کہ میں حضورؒ کا کام اتنی جلدی کس طرح کر لیتی ہوں۔ شروع میں زیادہ تر حوالہ جات میں ہی حضورؒ کی خدمت میں پیش کیا کرتی۔ پہلے دو سال تو حوالہ جات پاکستان بھجوانے کا کام جماعتی طور پر کیا جاتا۔ ایک مرتبہ میں نے کام اپنی امی جان کے ہاتھ پاکستان بھجوایا تو حضورؒ نے فرمایاکہ اس وقت آپ کی بیٹی صالحہ صفی دس مردوں کے برابر کام کر رہی ہے۔ حضورؒ کے یہ الفاظ نہ صرف میری امی جان کی Depressionکی بیماری کا حل بنے۔ بلکہ ان کے سارے مسائل انہی الفاظ سے حل ہو گئے۔ الحمد للہ علیٰ ذالک ۔یہ سب کچھ جس ہستی کے باعث ہوا وہ تھے میرے میاں مرحوم خلیفہ صفی الدین محمود۔

ہم بات کر رہے تھے ان کے جماعتی کاموں میں دلچسپی کی۔ آپ کی آخری جماعتی خدمت ’’الفضل انٹرنیشنل‘‘ کے سلسلے میں تھی جسے آپ اپنی بیماری کے باعث شروع ہی نہ کر پائے۔

اب ہم آپ کی جلسہ سالانہ یوکے کی ڈیوٹیوں کی طرف آتے ہیں جو کہ آپ نے خدا تعالیٰ کے فضل سے سالہا سال نبھائیں۔ آپ کے شعبہ کے ناظم ڈاکٹر فرید صاحب ہوا کرتے تھے۔ جبکہ آپ نائب ناظم تھے۔ آپ کے شعبہ کا کام مہمانانِ خصوصی کا خیال رکھنا تھا۔ اس وقت ایسے مہمان مسجد فضل کے اردگرد ٹھہرا کرتے تھے جس میں گیسٹ ہاؤس نمبر 41 میں خاص مہمان ٹھہرا کرتے تھے۔

آپ کی زیادہ ترڈیوٹی گیسٹ ہاؤس نمبر 41 میں ہوتی۔ آپ سارا سارا دن مہمانوں کی مہمان نوازی کرتے۔ رات کو بھی آدھی رات سے پہلے گھر نہ آتے۔ جلسہ کے درمیانے دن رات کے وقت مہمانان خصوصی کی دعوت ہوتی۔ وہ رات آپ کے لیے خصوصی خوشی والی ہوتی۔ آپ رات جب واپس گھر تشریف لاتے تو بہت سے دلچسپ واقعات سنایا کرتے۔

ہم صفی الدین محمود کی زندگی کے بعض اہم واقعات کا ذکر کریں گے۔ یہاں آنے کے تقریباً ڈیڑھ سال بعد کا ایک واقعہ ہے جسے میں قارئین کے ساتھ شیئر کرنا چاہوں گی۔ حضرت خلیفۃ المسیح الثالث رحمہ اللہ لندن تشریف لائے تو ہم ملاقات کے لیے حاضر ہوئے۔ اس وقت ہماری بڑی بیٹی (عزیزہ صوفی) شاید چند ماہ کی ہی تھی اس کو صفی نے گود میں اٹھایا ہوا تھا۔ جونہی ہم اندر داخل ہوئے سلام وغیرہ کرنے کے بعد حضور رحمہ اللہ نے مجھے مخاطب کرتے ہوئے فرمایا کہ یہ رشتہ میں نے کیا تھا۔ اگر میرا کزن تم سے کوئی زیادتی کرے تو فوراً مجھے بتانا۔ میں اس سے نمٹ لوں گا۔ میں نے فوری عرض کیا کہ ان کی زیادتی کرنے کی عادت ہی نہیں۔ میرا یہ جواب سن کر حضورؒ بہت خوش ہوئے کہ ان کا کروایا ہوا رشتہ کامیاب ہوا۔ نیز مسکراتے ہوئے حضورؒ نے یہ بھی فرمایا کہ اگر صفی تم سے تمہاری تنخواہ کے بارے میں سوال کرے تو کبھی نہ بتانا کہ تم کتنا کماتی ہو۔ میں نے ہنستے ہوئے جواباً عرض کیا کہ انہوں نے آج تک مجھ سے یہ سوال کیا ہی نہیں۔ اس بات پر بھی حضورؒ بہت خوش ہوئے۔

ہماری شادی کو تین چار سال کا عرصہ ہی گزرا تھا کہ آپ کو اکیلے پاکستان جانے کا پروگرام بنانا پڑا۔ مجھے کالج سے چھٹی نہ مل سکی۔ وہاں ان کو بخار ہو گیا۔ جب واپس آئے تو اس وقت بھی طبیعت مکمل طور پر بہتر نہ ہوئی تھی۔ ڈاکٹر کے پاس گئے تو اس نے فوری طور پر ہسپتال میں X-rayکروانے کے لیے کہا۔ جب آپ نے X-rayکروایا تو رزلٹ میں آیا کہ خطرناک طور پر Lung Cancer کی بیماری نے آن پکڑا ہے۔ X-rayکو اچھی طرح دیکھ کر ڈاکٹر نے مجھے بتایاکہ بیماری پھیل چکی ہے۔ مگر وہ چند دن میں دوبارہ X-ray کریں گے۔ ان چند دنوں میں مریض کو سارا وقت لیٹنے کو کہا گیا۔ اشارتاً ڈاکٹر نے یہ بھی کہہ دیا کہ اب زندگی کی امید رکھنا بے فائدہ ہے۔ میں ڈاکٹر سے یہ بات سن کر بہت گھبرائی۔ اس نے بار بار X-ray رپورٹ کو دیکھ کر وہی بات دہرائی۔ تو میرا جوشِ دعا زور پکڑتا گیا اور میں اپنی کرسی اپنے میاں کے بیڈ کے ساتھ جوڑ کر دن رات درود شریف پڑھ کر پھونکتی رہی۔ یوں چند دن کے بعد جب دوبارہ X-ray ہوا تو کینسر کا نام و نشان نہ تھا۔ تمام ڈاکٹرز X-ray رپورٹس کو دیکھ کر حیران ہو جاتے۔ ایک ڈاکٹرنے تو یہاں تک مان لیا کہ یہ سب بیوی کی دعاؤں کا نتیجہ ہے۔

چند سالوں کے بعد اماں (صفی الدین محمود کی والدہ صاحبہ) نے پاکستان کو الوداع کہا اور جہاں جہاں ان کے بچے رہتے تھے وہیں رہائش اختیار کی۔ سب سے پہلے اپنی چھوٹی بیٹی کے پاس سوئٹزرلینڈ تشریف لے گئیں۔ اس کے بعد لندن اور پھر امریکہ بھی رہائش اختیار کی۔

ان کی لندن میں رہائش کے واقعات کا کچھ ذکر کرتی ہوں جس میں ان کے مرحوم بیٹے صفی الدین محمود کے اوصاف کا بھی ذکر آجائے گا۔ آپ اپنی والدہ صاحبہ کا بے حد خیال رکھتے تھے۔ ایک مرتبہ آپ شاید دو سال لندن رہیں تو اماں نے یہ فیصلہ کر لیا کہ باقی زندگی یہیں گزاروں گی۔ آپ ہر جمعہ پڑھنے مسجد جایا کرتیں اور صفی نہایت احتیاط کے ساتھ آپ کو گاڑی میں مسجد لے جاتے۔ اس بارے میں مجھے بھی یاددہانی کرواتے کہ اماں ٹھوکر کھا کر بڑی جلدی گر جاتی ہیں اور یہ کہ میں خاص طور پر ان کا خیال رکھوں۔ آپ کے کھانے کے بارے میں بھی صفی آپ کا بہت خیال رکھتے تھے۔ ان کی پسند کی چیزیں بازار سے لے کر آتے۔ ایک مرتبہ آپ بیمار ہو گئیں تو ساری ساری رات کرسی ان کے بیڈ کے پاس رکھ کر جاگتے رہتے۔ ایک مرتبہ تو انہوں نے فرمایا کہ اگر تم اس کرسی سے اٹھو گے بھی تو میری وفات ہو جائے گی۔ یوں آپ نے ساری رات بیڈ کے پاس رکھی کرسی پر گزاری۔

امی سے میری آخری ملاقات بنکاک میں ان کی وفات سے چند ماہ قبل اپریل 1998ء میں ہوئی جبکہ آپ اپنی چھوٹی بیٹی نیلوفر کے پاس قیام پذیر تھیں۔ نیلوفر اپنے میاں کے ساتھ چھٹیوں پر گئی ہوئی تھی اور یوں مجھے اور میری سب سے چھوٹی بیٹی شاہانہ کو ان کی خدمت کا موقع ملا۔ اس وقت ان کی عمر 95 سال تھی۔ ہم دونوں کو بار بار پاس بٹھا کر باتیں کرتیں۔ جس دن ہم دونوں نے واپس لندن آنا تھا بے حد اداس تھیں کہ خدا جانے اب ملاقات ہو یا نہ ہو۔ یہ میری ان سے آخری ملاقات تھی۔ ان کی وفات جولائی 1998ء میں بنکاک میں ہوئی۔ اناللّٰہ وانا الیہ راجعون۔

انہوں نے چند سال قبل مجھ سے لندن میں وعدہ لیا تھا کہ میری وفات جس ملک میں بھی ہو تمہاری ذمہ داری ہے کہ تم میری میت کو ربوہ پہنچانے کا انتظام کرو گی۔ اللہ تعالیٰ نے مجھے یہ وعدہ پورا کرنے کی توفیق عطا فرمائی۔ اماں کی وفات پر میرے میاں بھی دل کی تکلیف سے بیمار تھے اور بظاہر ایسا معلوم ہوتا تھا کہ وہ ان حالات میں اتنا لمبا سفر کرنے کے قابل نہیں ہو سکتے۔ خاص طور پر جبکہ ماں کی میت بھی ہم راہ ہو۔مگرجب میں نے اپنے میاں سے کہا کہ اگر آپ کو اپنی صحت کی وجہ سے مجبوری ہے تو میں یہ بابرکت کام ان شاء اللہ خود ہی کر لوں گی۔ میں نے اپنے میاں سے مزید کہا کہ اگر آپ جانے کا فیصلہ کرتے ہیں تو میں پورے یقین کے ساتھ کہہ سکتی ہوں کہ یہ سفر آپ کے لیے برکت کا موجب ہو گا۔ اور آپ کو کوئی پریشانی نہیں آئے گی ان شاء اللہ۔ آپ اس اعزاز سے محروم نہ ہوں اور سب کچھ اللہ پر چھوڑ دیں۔ یو ں میرے میاں نے اللہ کا نام لے کر سفر شروع کیا اور اپنی بے حد پیار کرنے والی، ہردم قربانیاں دینے والی والدہ کی میت کو بنکاک سے ربوہ لے کر جانے کی خدمت سرانجام دی۔

آپ کی نماز جنازہ حضرت صاحبزادہ مرزا مسرور احمدصاحب نے پڑھائی۔ اور اس طرح اماں کی دلی خواہش پوری ہوئی کہ میری نمازِ جنازہ خلیفۃ المسیح پڑھائیں کہ مستقبل میں بننے والے خلیفۃ المسیح نے ان کی نماز جنازہ پڑھائی۔ اماں موصیہ تھیں اورتدفین بہشتی مقبرہ ربوہ میں ہوئی۔

آسماں تیری لحد پر شبنم افشانی کرے

مندرجہ بالا واقعہ سے شاید قارئین یہ خیال کریں کہ میرے میاں (خلیفہ صفی الدین محمود) سفروں سے گھبراتے تھے ایسا ہرگز بھی نہ تھا۔ آپ نے تو ساری زندگی ہی سفروں میں گزاری۔ شروع میں آپ ہر سال فیملی سمیت پاکستان جایا کرتے تھے بعد میں امریکہ بھی جانا شروع ہو گئے۔ خاص طور پر جب ہماری درمیان والی بیٹی (عطیہ ہما) کی شادی ان کے بھتیجے سے ہو گئی(وسیم بھائی کا بیٹا نعیم الدین طاہر)اور ان کے سب سے بڑے بھائی (خلیفہ سلیم الدین مرحوم) کا بیٹا کلیم الدین ککو اور بیٹی نازی اہلیہ ڈاکٹر خالد صاحب امریکہ جابسے تو ان کا وہاں آناجانا مزید بڑھ گیا۔ ملاقات کے علاوہ آپ Fishingکا ذکر بڑے شوق سے کرتے۔ جب کلیم الدین ککو سویڈن رہتاتھا اس وقت بھی دو ہفتے سویڈن Fishing کرنے ضرور جاتے۔ میں اس مضمون میں شاید پہلے بھی ذکر کر چکی ہوں کہ صفی (مرحوم) کو اپنے بہن بھائیوں اور ان کے بچوں سے بے حد پیار تھا۔ ان کا پہلی مرتبہ امریکہ (نیوجرسی) جانا مجھے اب تک یاد ہے۔ میں نے بھی ان کے ساتھ ہی پہلی مرتبہ امریکہ دیکھا تھا۔ اس بار ہم لوگ ان کی بہن رضیہ کرامت کو ملنے گئے۔ صفی اس کی کمزوریٔ صحت کو دیکھ کر از حد پریشان ہوئے۔ واپس لندن پہنچتے ہی اس کے علاج کے بارے میں دریافت کیا کہ اگر علاج امریکہ میں زیادہ مہنگا ہوتا ہے تو لندن چلی آؤ۔ میں خود علاج کا ذمہ دارہوں گا۔ یوں رضیہ علاج کی خاطر لندن چلی آئی۔ یہاں پر صفی نے علاج کے علاوہ اس کا آپریشن بھی کروایا۔ مکمل صحت یاب ہونے کے بعد اسے امریکہ واپس بھیجا۔

دن اور سال یوں گزرتے ہیں کہ احساس تک نہیں ہوتا۔ 2014ء کا سال آیا جبکہ میرے میاں کی عمر 74سال تھی۔ میں نے ان کی خدمت میں عرض کیا کہ اگر آپ پاکستان کا مزید ایک چکر لگانا چاہتے ہیں تو ہم میرے بہنوئی ڈاکٹر مبشر احمد سلیم (آف برمنگھم) اور میری بہن آمنہ کے ساتھ جا سکتے ہیں۔ راستے میں سفر کے دوران وہی انچارج ہوں گے اور ہر کام انہی کے سپرد ہو گا۔ آپ نے چونکہ ساری زندگی ایسے ہی گزاری تھی کہ مسافر جتنے بھی ہوں وہی انچارج ہوتے تھے۔ مگر اس مرتبہ مان گئے کہ سفر کے دوران ہر کام کی ذمہ داری ان دونوں ہی کی ہو گی۔ یوں ہم نے نومبر 2014ء کا پروگرام بنایا۔ اور تیار یاں شروع کر دیں۔ یہ سفر اور چھٹیاں ہر لحاظ سے کامیاب ٹھہریں۔ ہم چاروں نے ہر لحاظ سے خوب لطف اٹھایا۔ ڈاکٹر مبشر نے ہم دونوں کا ہر طرح سے خوب خیال رکھا۔ الحمد للہ

میں پہلے کہہ چکی ہوں کہ دن اور سال یوں گزرتے ہیں کہ اگر خوشی کی زندگی ہو تو احساس تک نہیں ہوتا۔ یوں شادی کے 45سالوں بعد صفی الدین محمود کا آخری سال یعنی 2017ء بھی آن پہنچا۔ میں تو اسی خوش فہمی میں تھی کہ جس طرح 41سال قبل درود شریف پڑھنے کی برکت سے اللہ تعالیٰ نے ان کو مزید زندگی بخشی تھی۔ اب بھی ویسے ہی ہو گا۔ اپریل 2017ء میں آپ نے امریکہ جانے کا پروگرام پکا کر لیا۔ وہاں خوب لطف اٹھایا اور بیٹی اور داماد نے خوب سیریں کروائیں اور اپنے ایک بھتیجے مانی نصیر کے ساتھ Fishing بھی کی۔ جب لندن واپسی ہوئی تو اس وقت بھی فریش ہی لگتے تھے۔ میرے خیال میں تو کینسر کی بیماری تھی ہی نہیں کچھ ہفتے تو نارمل طریق پر گزر گئے مگر جولائی اگست 2017ء میں بیماری عود کر آئی اور طبیعت زیادہ خراب رہنے لگی۔

10؍اکتوبر کی رات کو جبکہ سحری کا وقت تھا مجھے ان کی حالت دیکھ کر ایمبولینس کو بلانا پڑا۔ وہ فوری طو ر پر انہیں ہسپتال لے گئے۔ جب صبح ہوئی تو مجھے ڈاکٹروں نے بتا دیا کہ کینسر اس حد تک پھیل چکا ہے کہ میرے میاں شاید چند گھنٹوں کے اندر وفات پا جائیں۔ مگر مجھے ان کی بات پر یقین نہ آیا۔ کیونکہ صبح کو میرے میاں بالکل نارمل باتیں کر رہے تھے مجھے اب بھی خداتعالیٰ سے امید تھی کہ وہ ضرور انہیں کسی صورت بچا لے گا۔ میں چونکہ اپنی سب سے چھوٹی بیٹی شاہانہ کے ساتھ ہسپتال گئی تھی اوراس نے ڈاکٹروں کی باتوں پر یقین کیا۔ چند منٹ کے بعد جب میں نےاپنے میاں سے دریافت کیا کہ آپ کس کو ہسپتال میں ملنا چاہتے ہیں تو انہوں نے صرف اپنے سب سے بڑے بھائی کے بیٹے بِلّو (نسیم الدین) کا ہی نام لیا۔ میں نے فون پر اس کی بیوی عطیہ کو اطلاع دی کہ بلو کے چچا اس سے ملنا چاہتے ہیں۔ میری آواز کی لرزش سے وہ جان گئی کہ معاملہ سیریس ہی ہے۔ اس لیے اس نے فوراً بلّو کو اطلاع کر دی۔ بِلّو ہمیشہ ہی اپنے چچا کے کام فوری کیا کرتا تھا۔ یوں ان کی بلو سے ملنے کی خواہش پوری ہو گئی۔

ہموں (عطیہ ہما) بھی امریکہ سے اپنے باپ کی وفات سے چند گھنٹے قبل پہنچ گئی جس سے میرے میاں بہت خوش ہوئے۔ میرے بہنوئی ڈاکٹر مبشر احمد اور میری بہن آمنہ بھی برمنگھم سے ہسپتال چند گھنٹے قبل ہی پہنچ گئے۔ مگر ان کی بہن نیلوفر ان کی وفات سے آدھا گھنٹہ بعد پہنچی۔

وفات سے چند لمحے قبل ایسا محسوس ہوتا تھا کہ گویا آپ نماز ادا کر رہے ہیں۔ بار بار ہاتھ اٹھا کر کانوں تک لے جاتے۔ میرے میاں (صفی الدین محمود) نے 11؍اکتوبر شام ساڑھے چھ بجے کے قریب وفات پائی۔ غروبِ آفتاب کا وقت تھا یوں میرا سورج بھی ہمیشہ کے لیے غروب ہو گیا۔ انا للّٰہ وانا الیہ راجعون۔

سیدنا حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے آپ کی نماز جنازہ 14؍اکتوبر 2017ء بروز ہفتہ پڑھائی۔ آپ کی تدفین بروک وڈ سیمٹری میں ہوئی۔

بعد میں کئی ہفتوں تک افسوس کرنے والوں کا سلسلہ جاری رہا۔ اس وقت بھی بِلّو نے ہمارا بہت ساتھ دیا۔ میرے میاں (مرحوم) کے چچا زاد بھائی خلیفہ فلاح الدین صاحب(فلّی) نے دو ہفتے تک روزانہ ناشتہ، دوپہراور شام کا کھانا مہیا کرنے کی ذمہ داری اٹھائی۔ بقیہ کام تو میری بیٹیوں کی ذمہ داری ہی تھی۔ جسے عزیزہ صفیہ حمیرا، عزیزہ عطیہ ہما اورعزیزہ شاہانہ نے ادا کیا۔ اللہ تعالیٰ سب کو جزائے خیر عطا فرمائے۔ آمین

مضمون کے آخر تک پہنچنے کے بعد لکھنے والے کو ہمیشہ یہی محسوس ہوتا ہے کہ اصل بات تو شامل ہی نہ ہوئی۔ میرے خیال میں ان کی سب سے بڑی خوبی اپنی بیٹیوں کے ساتھ از حد محبت کرنا تھا۔ ان کی خوشی کی خاطر اپنی جان تک قربان کرنے کے لیے تیار ہو جاتے۔ اس بارے میں جب میں نے اپنی تینوں بیٹیوں سے سوال کیا تو ہر ایک نے جواباً یہی کہا کہ ایسے باپ دنیا میں بہت کم لوگوں کو نصیب ہوتے ہیں۔ مگر بہرحال جو کچھ بھی انہوں نے انگریزی زبان میں کہا میں اس کا اردو ترجمہ کر دیتی ہوں۔

سب سے بڑی بیٹی عزیزہ صفیہ حمیرا (صوفی) نے کہا کہ میرے والد نہ صرف مثالی باپ تھے آپ مثالی نانا، مثالی خاوند، مثالی بھائی اور مثالی سسر بھی تھے۔ آپ ہر انسان سے اعلیٰ سلوک روا رکھتے۔ آپ رحمی رشتوں کے بارے میں بےحد حساس تھے۔ آپ نہ صرف خلافت سے بے پناہ محبت رکھتے تھے بلکہ دین کی خاطر اگر جان بھی قربان کرنی پڑتی تو فوری تیار ہو جاتے۔ آپ نہ صرف میرے باپ تھے بلکہ میرے وفاشعار دوست بھی تھے۔ ان کے دنیا سے رخصت ہونے کے بعد میری زندگی میں ایک بہت بڑا خلاآگیاہے۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ آپ کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے۔ آمین۔ (صوفی)

میری درمیان والی بیٹی عزیزہ عطیہ ہما (امریکہ) نے کہا کہ میرے والد مرحوم کی سب سے بڑی خوشی ان کی اپنی فیملی کے ساتھ محبت ہی تھی۔ اگر چہ وہ (امریکہ میں ) میل ہا میل دور رہتی تھی مگر انہیں یہ فاصلہ ایک قدم اٹھانے کے برابر لگتا۔ آپ نے مجھے فون کر کے میری خیریت معلوم کرنے میں کبھی ایک یا دو دن کا وقفہ بھی نہ ڈالا۔ آپ کو میری، میرے میاں اور میرے بیٹے کی خیریت معلوم کیے بغیر چین ہی نہ آتا۔ ایسے لگتا کہ ہماری خوشی ہی ان کی خوشی ہے اور ہمارا غم ان کا غم۔ بلکہ اس سے بھی دس گنا زیادہ۔ آپ جیسا وفا شعار باپ واقعی ایک نایاب تحفہ لگتا ہے۔ خداتعالیٰ کا ہمارا باپ بیٹی کا رشتہ جوڑنا بھی میری خوش قسمتی پر دلالت کرتا ہے۔ آپ میری یادوں اور دعاؤں میں ہر لمحہ موجود ہوتے ہیں۔ (ہموں )

میری سب سے چھوٹی بیٹی شاہانہ نے کہا کہ میرے والد مرحوم کی محبت اپنے بچوں اور نواسوں، نواسیوں کے لیے غیرمحدود تھی۔ آپ کی محبت سے بھرپور ہنسی، سخت دلوں کے دل بھی نرم کر دیتی۔ بطور باپ شاید ہی کوئی دن طلوع ہوا ہو جبکہ آپ کی محبت ظاہر نہ ہوئی ہو۔ نہ صرف محبت بلکہ آپ اپنی فیملی کی نگہداشت بھی فرماتے۔ میں اللہ تعالیٰ کا جتنا بھی شکر ادا کروں کم ہو گا۔ جس نے مجھے ایسا باپ عطا فرمایا۔ میری دعا ہے کہ دنیا کا ہر باپ یہی روش اختیار کرنے کی توفیق پائے۔ آمین۔ (شاہانہ)

اپنی زندگی کے آخری چند سالوں میں میرے میاں (صفی الدین مرحوم) کی سب سےبڑی خوشی اپنی بیٹیوں کو ان کی ازدواجی زندگی میں خوش اور مطمئن دیکھنا تھا۔ آپ اپنے تینوں دامادوں (نعیم الدین طاہر، شعیب ناصر اور تنویر احمد) کے ساتھ نہایت محبت بھرا سلوک فرماتے۔ انہیں ہمیشہ اپنی دعاؤں میں یاد رکھتے۔ آپ ہمیشہ اس بات پر توجہ فرماتے کہ ان کی بیٹیوں کی اصل خوشی ان کی زندگیوں کے ساتھیوں کے ساتھ ہی وابستہ ہے۔ آپ ہمیشہ اللہ تعالیٰ کا شکر بجا لاتے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کی بیٹیوں کو نرم دل ساتھی عطا فرمائے جن کا جماعت کے ساتھ مضبوط تعلق تھا۔

آخر میں میری دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ میرے میاں مرحوم (خلیفہ صفی الدین محمود) کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے۔ آمین

٭…٭…٭

متعلقہ مضمون

رائے کا اظہار فرمائیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button