متفرق مضامین

اسلامی معاشرہ میں مساجد کی اہمیت اور برکات (قسط اوّل)

(ڈاکٹر سر افتخار احمد ایاز)

کورونا وائرس کی خطرناک وبا نے تقریباً پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے۔اس کی وجہ سے عالمی طور پر ہم لوگوں کی زندگیوں میں کئی تبدیلیاں بھی آئی ہیں۔ان میں سے بعض تبدیلیاں انتہائی نا خوشگوار بھی ہیں جن میں سے ایک مساجد میں جانے ،وہاں اکٹھا ہونے اور نماز با جماعت ادا کرنے پر پابندی ہےیا بعض شرائط کے ساتھ مساجد میں جانے کی اجازت ہے۔اس وجہ سے ہمارے معاشرہ میں مساجد کی اہمیت کا زیادہ احساس ہو رہا ہے۔اسلام کا جو اخوت اور محبت کا معاشرہ ہے جس میں آپس میں ہر ایک کا دوسرے سے پیار محبت کا بھائیوں جیسا تعلق ہے، اس کےلیے اسلامی معاشرہ میں جو کردارمساجد ادا کرتی ہیں اس کی مثال نہ تو کسی معاشرہ میں اور نہ ہی کسی مذہب میں مل سکتی ہے۔پانچ مرتبہ مساجد میں پاک و صاف ہو کر جانا ، خدا تعالیٰ کے حضور جھکنا ، عبادات بجا لانا اسی طرح اپنے دوستوں احباب سے ملنا اور ان کی خیریت معلوم کرنا بہت ہی خوبصورت اور بے نظیر باتیں ہیں جو اسلامی معاشرہ کا ایک حسین پہلو ہیں۔

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں کہ

’’اس وقت ہماری جماعت کو مساجد کی بڑی ضرورت ہے۔ یہ خانۂ خدا ہوتا ہے۔ جس گاؤں یا شہر میں ہماری جماعت کی مسجد قائم ہو گی تو سمجھو کہ جماعت کی ترقی کی بنیاد پڑ گئی۔ اگر کوئی ایسا گاؤں ہو یا شہر، جہاں مسلمان کم ہوں یا نہ ہوں اور وہاں اسلام کی ترقی کرنی ہو تو ایک مسجد بنا دینی چاہئے پھر خدا خود مسلمانوں کوکھینچ لاوے گا۔ لیکن شرط یہ ہے کہ قیام مسجد میں نیّت بہ اخلاص ہو۔ محض لِلّٰہ اسے کیاجاوے۔ نفسانی اغراض یا کسی شر کو ہرگز دخل نہ ہو تب خدا برکت دے گا۔‘‘

(ملفوظات جلد 7 صفحہ 119 ایڈیشن 1984ء)

ایک اَور جگہ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں کہ

’’مسجدوں کی اصل زینت عمارتوں کے ساتھ نہیں ہے۔ بلکہ ان نمازیوں کے ساتھ ہے جو اخلاص کے ساتھ نماز پڑھتے ہیں۔ ورنہ یہ سب مساجد ویران پڑی ہوئی ہیں۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مسجد چھوٹی سی تھی۔ کھجور کی چھڑیوں سے اس کی چھت بنائی گئی تھی۔اور بارش کے وقت چھت میں سے پانی ٹپکتا تھا۔ مسجد کی رونق نمازیوں کے ساتھ ہے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے وقت میں دنیاد اروں نے ایک مسجد بنوائی تھی۔ وہ خدا تعالیٰ کے حکم سے گرا دی گئی۔ اس مسجد کا نام مسجد ضرار تھا۔ یعنی ضرر رساں۔ اس مسجد کی زمین خاک کے ساتھ ملا دی گئی تھی۔ مسجدوں کے واسطے حکم ہے کہ تقویٰ کے واسطے بنائی جائیں ۔‘‘

(ملفوظات جلد چہارم صفحہ 491 ایڈیشن 1988ء)

حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرماتے ہیں :

’’جماعت احمدیہ کی مساجد کا شمار اُن مساجد میں نہیں ہوتا جو وقتی جوش اور جذبے کے تحت بنا دی جاتی ہیں اور صرف مسجدوں کی ظاہری خوبصورتی کی طرف توجہ ہوتی ہے نہ کہ اس کے باطنی اور اندرونی حسن کی طرف۔ ہماری مساجد وہ نہیں ہیں بلکہ جماعت احمدیہ کی مساجد کا حُسن ان کے نمازیوں سے ہوتا ہے، اس میں عبادت کے لئے آنے والے لوگوں سے ہوتا ہے۔ ہماری مساجد کی بنیادیں تو ان دعاؤں کے ساتھ اٹھائی جاتی ہیں جو حضرت ابراہیم علیہ السلام اور حضرت اسماعیل علیہ السلام نے خدا کے گھر کی بنیادیں اٹھاتے وقت کی تھیں۔ احمدی وہ لوگ نہیں ہیں جو بظاہر ایمان کی حرارت والے کہلاتے ہیں لیکن ان کے دل برسوں میں نمازی نہیں ہوتے۔ جنہوں نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کو نہیں مانا ان کو تو ایمان کی حرارت کا اِدرَاک بھی نہیں ہے۔ پتہ ہی نہیں کہ ایمان کی حرارت کیا ہوتی ہے۔ وہ تو ایمان کو سطحی طور پر دیکھتے ہیں، سطحی طور پر لیتے ہیں۔ ان لوگوں کوکیا پتہ کہ ایمان کی حرارت کیاہوتی ہے۔پس یہ اعزاز جو آپ کو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کو مان کر ملا ہے، اس کو قائم رکھنے کے لئے اپنے ایمانوں پر نظر رکھیں اور اپنی مسجد کی تعمیر کرتے ہوئے حضرت ابراہیم علیہ السلام اور حضرت اسماعیل علیہ السلام کی دعاؤں کو پیش نظر رکھیں تب ہی آپ ان لوگوں میں شمار ہو سکتے ہیں جو گو آخرین میں ہیں لیکن پہلوں سے ملنے والے ہیں۔

حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’عنقریب ایسا زمانہ آئے گا کہ نام کے سوا اسلام کا کچھ باقی نہ رہے گا۔ الفاظ کے سوا قرآن کا کچھ باقی نہیں رہے گا۔ اس زمانے کے لوگوں کی مسجدیں بظاہر تو آباد نظر آئیں گی لیکن ہدایت سے خالی ہوں گی۔ ان کے علماء آسمان کے نیچے بسنے والی مخلوق میں سے بدترین مخلوق ہوں گے۔ ان میں سے ہی فتنے اٹھیں گے اور انہیں میں لوٹ جائیں گے۔ ‘‘

(مشکٰوۃ المصابیح کتاب العلم۔ الفصل الثالث روایت نمبر 276)

لیکن آپ لوگ جو ایک دفعہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو مان چکے ہیں و اپس اس غار کی طرف نہ جائیں جہاں گہرے اندھیرے ہیں۔ بلکہ نیکیوں پر قائم ہوتے ہوئے مسجدوں کو بھلائی، خیر اور روشنی کے مینار بنائیں۔

ایک حدیث میں آتا ہے، حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’جو ہماری اس مسجد میں اس نیّت سے داخل ہو گا کہ بھلائی کی بات سیکھے یا بھلائی کی بات جانے وہ اللہ تعالیٰ کی راہ میں جہاد کرنے والے کی طرح ہو گا۔اور جو مسجد میں کسی اور نیّت سے آئے تو وہ اس شخص کی طرح ہو گا جو کسی ایسی چیز کو دیکھتا ہے جو اس کو حاصل نہیں ہوسکتی۔

(مسند احمد بن حنبل جلد 2صفحہ 350۔ مطبوعہ بیروت)‘‘(خطبہ جمعہ فرمودہ 10؍ جون 2005ءمطبوعہ الفضل انٹرنیشنل 24؍جون2005ءصفحہ5تا6)

مساجد میں سیاست کی بات ہونی چاہیے یا نہیں اور کیا مساجد میں صرف عبادت اور تعلیم کا کام ہی ہونا چاہیے، اس تعلق سے رہ نمائی کےلیے اسلام کے معاشرتی کردار کے حوالے سے حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور خلفائے راشدین کا دَور ہمارے لیے آئیڈیل دَور ہے کیونکہ اسلام کے کسی بھی حکم، قانون یا کردار کے تعین کے لیے انہی ادوار سے رہ نمائی حاصل کی جاتی ہے۔ دَور نبویؐ اور دَور خلافت راشدہ کی تاریخ گواہ ہے کہ اجتماعی امور سے متعلقہ تمام معاملات ان مثالی ادوار میں مسجد میں ہی طے ہوتے تھے۔اور جناب نبی اکرمؐ اور خلفائے راشدینؓ کے خطبات جمعہ و عیدین میں اس بات کی کوئی تفریق نہیں ہوتی تھی کہ فلاں بات عبادت اور تعلیم سے تعلق رکھتی ہے اس لیے اسے مسجد میں ہونا چاہیے اور فلاں بات سیاست اور حکومت سے متعلقہ ہے اس لیے اسے مسجد سے باہر کیا جانا چاہیے۔ مسلمانوں سے متعلقہ معاملات کا تعلق عبادت سے ہو یا تعلیم سے، سیاست سے ہو یا عدالت سے، معاشرے سے ہو یا تمدن سے، صلح سے ہو یا جنگ سے، تجارت سے ہو یا زراعت سے، اور مقامی امور سے ہو یا بین الاقوامی معاملات سے، ان سب کا تذکرہ مسجد میں ہوتا تھا اور ان کے بارے میں ہر اہم فیصلہ مسجد میں کیا جاتا تھا جس کا اعلان مسجد میں ہوتا تھا اور اس کے بارے میں ہدایات بھی مسجد میں جاری کی جاتی تھیں۔ اس لیے یہ کہنا کہ مسجدیں صرف عبادت اور تعلیم کے لیے ہیں اور سیاسی معاملات کا مسجدوں میں تذکرہ نہیں ہونا چاہیے، حضرت نبی اکرمؐ کی سنت مبارکہ اور حضرات خلفائے راشدینؓ کے طرز عمل کے یکسر منافی ہے۔

تعلیم ہی کے حوالے سے دیکھ لیجیے کہ علماء تسلیم کرتے ہیں کہ مسجدیں قرآن و سنت کی تعلیم کے لیے ہیں اورقرآن کریم اور سنت رسولؐ کی تعلیم کے لیے مسجد ہی سب سے موزوں جگہ ہے۔ اب ظاہر ہے کہ قرآن کریم کی تعلیم دیتے ہوئے اس کے وہ حصے تعلیم سے خارج تو نہیں کیے جائیں گے جن میں اجتماعی امور کے بارے میں ہدایات دی گئی ہیں۔ اسی طرح حدیث نبویؐ کی تعلیم کے دوران حدیث کی کسی کتاب سے وہ ابواب مستثنیٰ نہیں کیے جا سکیں گے جن کا تعلق خلافت، تجارت، جہاد، عدلیہ اور دیگر اجتماعی امور سے ہے۔

اس لیے مسجد کے بارے میں یہ بات ذہن نشین ہونی چاہیے کہ مسجد کا بنیادی مقصد عبادت کرنا ہوتا ہے اور اسی غرض کے لیے یہاں آیا جاتا ہے ۔اگر اسلامی تعلیمات کے مطابق،معاشرے کی فلاح و بہبود کے لیے،اسلام کی تبلیغ کے لیے علمی و تربیتی پروگرام منعقد کیے جائیں تو اس میں کوئی حرج نہیں۔

اسلام میں مساجد کی بڑی اہمیت ہے، یہ اللہ کا گھر ہے، روئے زمین کا یہ سب سے افضل وبرتر اور مقدس خطہ ہے، اس جگہ رات ودن اور صبح وشام اللہ کو یاد کیا جاتا ہے، یہاں ایسے لوگ آتے ہیں جو اللہ کی اطاعت وبندگی کرنے والے ہوتے ہیں، ارشاد باری تعالیٰ ہے:

فِیۡ بُیُوۡتٍ اَذِنَ اللّٰہُ اَنۡ تُرۡفَعَ وَ یُذۡکَرَ فِیۡہَا اسۡمُہٗۙ یُسَبِّحُ لَہٗ فِیۡہَا بِالۡغُدُوِّ وَ الۡاٰصَالِ۔ رِجَالٌ ۙ لَّا تُلۡہِیۡہِمۡ تِجَارَۃٌ وَّ لَا بَیۡعٌ عَنۡ ذِکۡرِ اللّٰہِ وَ اِقَامِ الصَّلٰوۃِ وَ اِیۡتَآءِ الزَّکٰوۃِ۪ۙ یَخَافُوۡنَ یَوۡمًا تَتَقَلَّبُ فِیۡہِ الۡقُلُوۡبُ وَ الۡاَبۡصَارُ۔ (النور:37-38)

ایسے گھروں میں جن کے متعلق اللہ نے اِذن دیا ہے کہ انہیں بلند کیا جائے اور ان میں اس کے نام کا ذکر کیا جائے۔ ان میں صبح وشام اس کی تسبیح کرتے ہیں۔

ایسے عظیم مرد جنہیں نہ کوئی تجارت اور نہ کوئی خرید و فروخت اللہ کے ذکر سے یا نماز کے قیام سے یا زکوٰۃ کی ادائیگی سے غافل کرتی ہے۔ وہ اس دن سے ڈرتے ہیں جس میں دل (خوف سے) الٹ پلٹ ہو رہے ہوں گے اور آنکھیں بھی۔

مسجدیں مسلمانوں کے حالات کو بدلنے میں اہم کردار ادا کرتی ہیں، مسجدیں مسلمانوں کو شقاوت وبدبختی سے نکال کر سعادت وخوش بختی کی دہلیز پر پہنچا دیتی ہیں۔ تنگی واضطراب اور بے چینی سے نکال کر خوشحالی اور سکون کی فضا میں پہنچا دیتی ہیں۔مساجد کی حاضری سے مسلمانوں کے دل نرم اور صاف وشفاف ہو جاتے ہیں، ان کے دلوں پر اگر گناہوں اور معصیتوں کا زنگ چڑھا ہوتا ہے تو اسے صاف کر کے اسے مانجھ دیتی ہیں۔یہاں اللہ کی رحمتیں برستی اور یہاں موجود فرشتے ان پر اپنے پروں سے سایہ کرتے ہیں۔مسجدیں مسلمانوں کی تربیت کی بہترین جگہ ہیں، یہاں مسلمانوں کو اخوت وبھائی چارگی اور مساوات وبرابری کا درس دیا جاتا ہے۔ سارے مسلمان ایک جگہ جمع ہوتے، ایک صف میں کھڑے ہوتے اور ایک امام کے پیچھے نماز ادا کرتے ہیں۔ یہاں مالک وخادم، مالدار ونادار، غنی و فقیر، عالم وجاہل، پیرومرشد اور مرید وعام انسان ، حاکم ومحکوم اور شاہ وگدا کے درمیان کوئی فرق نہیں ہوتا بلکہ سب کے سب اللہ کے سامنے اسی طرح برابر ہوتے ہیں جس طرح قبرستان میں سب برابر ہوتے ہیں۔ ان میں کسی کو کسی کے اوپر کوئی برتری نہیں ہوتی، ہاں اسلام میں برتری کی وجہ صرف اور صرف تقویٰ وپرہیزگاری ہے۔جس کا تعلق قلب سے ہے، اور اس کا اظہار اعضاء وجوارح سے عبادات ومعاملات میں ہوتا ہے۔

یہ مسجدیں ہمیں سبق دیتی ہیں کہ ہم اپنے سماج اور اپنے ملک وشہر میں برابری کے ساتھ رہیں۔ایک دوسرے سے متحد اور جڑے رہیں۔کوئی ایک دوسرے پر زیادتی نہ کرے اور نہ ہی حسب ونسب، جاہ ومنصب اور عہدہ وعمل کی بنیاد پربرتری جتائے۔ بلا شبہ مسجد اسلام کی عظیم درسگاہ ہے، جو سماجی اصلاح اور شہری فلاح کے مقصد سے قائم کردہ تنظیموں، کمیٹیوں اور سوسائٹیوں سے ہزار ہا درجہ برتر وبہتر ہے۔ ہماری اپنی قائم کردہ تنظیموں کے بارے میں ہمارا تأثر ہوتا ہے کہ سماجی اصلاح کے لیے یہی ا دارہ سب سے بہتر ہے، اور وہی بہتر خدمات پیش کر رہا ہے، مگر واقعہ یہ ہے کہ سماج کی اصلاح اور انہیں ہر طرح کی خرابیوں سے پاک کر کے سیدھے ڈگر پر لانے والی اگر کوئی بہتر سے بہتر درس گاہ ہو سکتی ہے تو وہ مسجد ہے۔

ہم اگر معاشرہ کی اصلاح کرنا چاہتے ہیں تو سب سے پہلے مساجد کے کردار کو واپس لانا ہوگا۔ یہ مسجدیں معاشرہ کے افراد کی روحانی تربیت کرتی ہیں۔ بندوں کو اللہ سے جوڑتی اور انہیں اللہ کے رنگ میں رنگتی ہیں۔

وَمَنْ أَحْسَنُ مِنَ اللّٰہِ صِبْغَۃً(البقرہ:139)

اور اللہ کے رنگ میں رنگنے سے بہتر اور کیا ہو سکتا ہے؟

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب ہجرت کر کے مدینہ منورہ تشریف لائے تو سب سے پہلے مسجد تعمیر کرنے کی طرف توجہ دی۔ نومولود مملکت کی شیرازہ بندی اور لوگوں کو مجتمع کرنے کے لیے مسجد قائم کی گئی۔مسجد کا کردار صرف اس حد تک محدود نہیں کہ مسلمان وقت پر آئیں اور باجماعت نماز ادا کر کے یہاں سے رخصت ہو جائیں، اور مسجدیں مقفل کر دی جائیں بلکہ اس کا مقصد اس کے ساتھ ہی امت کی شیرازہ بندی کرنا ، ملک میں امن وامان کی فضا قائم کرنا، دلوں کو جوڑنا، آپس میں میل محبت اور جذبہ احترام پیدا کرنا، اخوت وبھائی چارگی کو پروان چڑھانا، ہمدردی وغمگساری اور رحمدلی وتعاون کا ولولہ پیدا کرنا اور مسلمانوں میں اسلام کی روح پھونکنا ہے، ایک مسلمان جب مسجد آتا اور ایک امام کے پیچھے دیگر مسلمان بھائیوں کے ساتھ کاندھے سے کاندھا اور قدم سے قدم ملا کر نماز پڑھتا اورخطیب کے خطبہ کو سنتا ہے تو اس سے اس کے اندر اسلام کے بلند اقدار پروان چڑھتے ،اسلام کی عظمت اور اس کی صاف ستھری تہذیب کا احساس پیدا ہوتا اور عفوودرگزر، میل ملاپ بھائی چارگی، امن وسلامتی اور خوشگوار ماحول کی فضا قائم کرنے کا رجحان اُجاگر ہوتا ہے۔ جب انسان ہشاش بشاش چہرے سے دوسروں سے ملتا، مصافحہ اورمعانقہ کرتا ہےتو فطری طور پر دلوں سے کدورتیں، رنجشیں اور فاصلے دور ہوتے ہیں اور الفت ومحبت پیدا ہوتی ہے۔ اسلامی دَور حکومت میں ہر جگہ مسجدوں کو مرکزی حیثیت حاصل رہی ہے، اسے مسلم معاشرہ کے افراد کی اصلاح و تربیت کے مرکز اوراصلاح باطن وتزکیہ نفوس کے حلقوں کے طور پر استعمال کیا جاتا رہا ہے۔ اس کی زندہ مثال خود مسجد نبوی ہے۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم یہاں آتے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حلقۂ درس میں بیٹھ کر تعلیم حاصل کرتے، تزکیہ کرتے اور روحانی ترقی کے مدارج طے کرتے تھے۔ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دین ودنیا سے متعلق جو چاہتے سوال کرتے اور اس کا جواب پاتے تھے۔ یہ مسجد ساری انسانیت کے لیے سرچشمہ نور ہدایت بنی۔ اس درس گاہ سے بڑے بڑے علماء، قد آور ہستیاں، عظیم قائدین، جرنیل اور بے مثال سپہ سالار اور ماہرین فن نے فراغت حاصل کر کے دنیا کو روشنی پہنچائی، امن وآشتی کے علمبردار نے اسلام کا جھنڈا بلند کیا۔ اس دین متین کو دنیا کے چپہ چپہ تک پہنچانے میں ناقابل فراموش رول ادا کیا۔ اس نمونے کے مطابق دنیا کی مسجدوں میں حلقۂ درس اور افادہ واستفادہ کا سلسلہ جاری ہوا۔

پہلے باضابطہ مدارس نہیں تھے، یہی مسجدیں درسگاہوں کے طور پر بھی استعمال ہوتی تھیں، اور اب بھی ہو رہی ہیں۔ علماء مختلف مساجد کے اندر جگہ کا انتخاب کرتے اور حلقہ درس لگایا کرتے تھے، تاریخ شاہد ہے کہ ایک زمانہ میں بغداد، قاہرہ، قیروان، قرطبہ، دمشق ، موصل اور دوسرے اسلامی ملکوں کے مختلف شہروں کی مسجدیں تعلیم وتعلّم اور علم ومعرفت کے گہوارے بنتے گئے،جہاں چوبیس گھنٹے تعلیم وتعلّم اور بحث وتحقیق کا سلسلہ جاری رہتا تھا۔ پوری اسلامی تاریخ پر نظر ڈالنے سے اندازہ ہوتا ہے کہ علم ومعرفت اور تہذیب وثقافت کو پھیلانے اور عام کرنے میں مساجد ہی کا اہم کردار رہا ہے۔ جب تک مساجد کو مرکزیت حاصل رہی اسلام کے پھیلاؤ میں اضافہ ہوا اور جب تک مسلمان مساجد سے جڑے رہے ان کا بول بالا اور دبدبہ رہا ہے۔

مساجد جس طرح علم ومعرفت اور بحث وتحقیق کی مراکز رہی ہیں۔اسی طرح یہاں حلم وبردباری ، نرمی ورواداری اور اخوت وبھائی چارگی سکھائی جاتی ہے۔ اور شدت پسندی وسختی سے محفوظ رکھا جاتا ہے۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک دیہاتی نے مسجد نبوی کے صحن کے ایک گوشہ میں پیشاب کر دیا، تو لوگ سختی کے ساتھ اسے روکنے کے لیے آگے بڑھے تو حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

دَعُوہ وَاھْرِقُوا علی بَولِہ سَجْلا من الماء فاِنَّما بُعِثْتم مُیَسِّرِیْنَ وَلم تُبْعَثُوا مُعَسِّرِیْنَ ( صحیح البخاری: 6128)

اسے چھوڑ دو اس کے پیشاب پر ایک ڈول پانی بہا دو، کہ تمہیں آسانی پیدا کرنے والا بنا کر بھیجا گیا ہے، دشواری پیدا کرنے والا بنا کر نہیں۔

مسجدیں مسلمانوں کو تقویٰ وطہارت اختیار کرنے پر آمادہ کرتی ہیں، وہ انہیں یاد دلاتی ہیں کہ وہ اپنے جسم وجان اور قلب وذہن کو پاک کر کے ہی مسجد میں داخل ہوا کریں، اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

لَا تَقُمۡ فِیۡہِ اَبَدًا ؕ لَمَسۡجِدٌ اُسِّسَ عَلَی التَّقۡوٰی مِنۡ اَوَّلِ یَوۡمٍ اَحَقُّ اَنۡ تَقُوۡمَ فِیۡہِ ؕ فِیۡہِ رِجَالٌ یُّحِبُّوۡنَ اَنۡ یَّتَطَہَّرُوۡا ؕ وَ اللّٰہُ یُحِبُّ الۡمُطَّہِّرِیۡنَ (التوبہ:108)

تُو اس میں کبھی کھڑا نہ ہو۔ یقیناً وہ مسجد جس کی بنیاد پہلے دن ہی سے تقویٰ پر رکھی گئی ہو زیادہ حقدار ہے کہ تُو اس میں (نماز کے لیے) قیام کرے۔ اس میں ایسے مرد ہیں جو خواہش رکھتے ہیں کہ وہ پاک ہو جائیں اور اللہ پاک بننے والوں سے محبت کرتا ہے۔

مسجدوں کی حاضری وپابندی اور اس کا التزام بڑا ہی بابرکت اور باعث خیر عمل ہے، اور یہ انسان کی مغفرت کا سبب بنتا ہے، اسی لیے اگر کوئی نمازوںمیںمسجد آتا اور پابندی سے باجماعت نماز ادا کرتا ہے ، ہم کسی لیت ولعل اور تردد کے بغیر اس کے ایمان کی گواہی دے سکتے ہیں؛ کیوں کہ خود اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے:

اِنَّمَا یَعۡمُرُ مَسٰجِدَ اللّٰہِ مَنۡ اٰمَنَ بِاللّٰہِ وَ الۡیَوۡمِ الۡاٰخِرِ وَ اَقَامَ الصَّلٰوۃَ وَ اٰتَی الزَّکٰوۃَ وَ لَمۡ یَخۡشَ اِلَّا اللّٰہَ فَعَسٰۤی اُولٰٓئِکَ اَنۡ یَّکُوۡنُوۡا مِنَ الۡمُہۡتَدِیۡنَ (التوبہ:18)

اللہ کی مساجد تو وہی آباد کرتا ہے جو اللہ پر ایمان لائے اور یومِ آخرت پر اور نماز قائم کرے اور زکوٰۃ دے اور اللہ کے سوا کسی سے خوف نہ کھائے۔ پس قریب ہے کہ یہ لوگ ہدایت یافتہ لوگوں میں شمار کیے جائیں۔

تاریک راتوں ، ناہموار راستوں اور گوناگوں ظاہری دشواریوں کے باوجود اگر کوئی ان مشقتوں کو برداشت کرتے ہوئے نماز کے لیے مسجد پہنچتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے ثواب میں گوناگوں اضافہ کرتا ہے، اسے دنیا میں بھی اجردیتا ہے، اور قیامت کے دن اس کے لیے ایسی روشنی کا انتظام کر دیتا ہے جس روشنی میں وہ چلے گا، اور یہ روشنی اس کی راہوں کو روشن کیے رہے گی، اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے:

بشر المشائین في الظلم الی المساجد بالنور التام یوم القیامۃ (سنن ترمذی:223)

تاریک راتوں میں مساجد کی طرف قدم بڑھانے اور پیدل چل کر آنے والوں کے لیے قیامت کے دن مکمل نور کی خوشخبری ہے۔

مسلمان جب تک مساجد سے جڑے رہے خیرو بھلائی پر رہے۔ ہمارے اکابر واسلاف مساجد کو آباد کرنے پر خاص توجہ دیتے تھے۔ ہر نماز میںمسجد کی حاضری کو ضروری سمجھتے تھے۔ ان کے دل مسجدوں میں معلق ہوتے تھے یہاں نماز کے علاوہ دروس اور وعظ ونصیحت کی محفلیں سجی ہوتی تھیں۔ ایک رونق ہوتی تھی جو دلوں کو تازگی پہنچانے والی تھی۔ منبروں سے چوٹی کے علماء وفضلاء وفقہاء ومحدثین کے بیانات کی صدائیں گونجتی تھیں، جس سے مسلمان اور دیگر برادران وطن مستفید ہوتے تھے۔

آج ضرورت اس بات کی ہے کہ مسجد کے کردار کو زندہ کیا جائے۔ امت کی اصلاح کے لیے اسے وہی مرکزیت دی جائے جو دور صحابہ، تابعین تبع تابعین سلف صالحین مسلم حکمرانوں اور شاہ ولی اللہ وشاہ عبدالعزیز اور سید احمد شہید کے زمانہ میں حاصل رہی ہے۔ہمیں چاہیے کہ ہم اس کے ذریعہ مسلمانوں بالخصوص نوجوانوں کی طاقت وتوانائی کو یکجا کریں، اور اسے امت مسلمہ کی اصلاح وسربلندی ، ملک وملت کی بھلائی، اور وطن عزیز کی خیر خواہی اور امن وامان کی فضاء قائم کرنے میں استعمال کریں۔

آج مسلمانوں کی ہی نہیں بلکہ عام انسانوں کو ایسی جگہوں کی تلاش ہے، جہاں ان کے دل کو اطمینا ن وسکون مل سکے، ان کے نفس کو راحت پہنچے، اسی مقصد سے اور انہیں چیزوں کو حاصل کرنے کے لیے لوگ پارکوں، تفریح گاہوں، ہوٹلوں، سنیما گھروں اور کلبوں کا رخ کرتے ہیں تاکہ وہ شب وروز کی محنت اور کاروباری زندگی کےمشغلوں کی تکان کو دُور کر سکیں، بے فکری سے چند روز اور کچھ وقت گزار کر کچھ راحت وسکون حاصل کر سکیں، اپنی روح اور ضمیر کو فرحت وانبساط سے بہرہ ور کر سکیں، یہی چیز حاصل کرنے کے لیے کچھ لوگ ڈاکٹروں کا رُخ کرتے ہیں، دل کا علاج کرانے اور ٹینشن و ڈپریشن کا مداوا کرنے کی سعی کرتے ہیں، اور لوگ اس کے علاوہ بھی طرح طرح کی تدبیریں اختیار کرتے ہیں۔ مگر انہیں مایوسی ہوتی ہے، انہیں وہ چین وسکون کہیں حاصل نہیں ہوتا، اور اگر ہوتا بھی ہے تو عارضی وچند روزہ، پائیدار نہیں، یہ راحت وسکون، اور اطمینان قلبی انسان کو ادھر ادھر نہیں بلکہ مسجد میں اور اللہ کا ذکر کر کے حاصل ہو سکتا ہے، اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

اَلَا بِذِکۡرِ اللّٰہِ تَطۡمَئِنُّ الۡقُلُوۡبُ (رعد:29)

اور اللہ کے ذکر سے ہی دل اطمینان پکڑتے ہیں۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں نادار وغریب مسلمان مسجد نبوی ہی میں رات گزارا کرتے تھے، انہیں اصحاب صفہ کے نام سے ہم جانتے ہیں۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ اسلام میںمساجد کی حیثیت کیا ہے؟ یہ صرف پنچ وقتہ نماز ہی کے لیے نہیں بلکہ یہ درس گاہ بھی ہے اور دعوت وتبلیغ کا مرکز بھی۔ یہ مسلمانوں کی ا صلاح وفلاح اور امور سیاست کی انجام دہی کا مرکز بھی ہے اور معاشرتی تعاون کی کونسل بھی۔ یہ مسلمانوں کے درمیان الفت ومحبت پیدا کرنے کا ادارہ بھی ہے اور ان کی ضروریات کا انتظام کرنے کا سینٹر بھی۔ زکوٰۃ وصدقات جمع کر کے اسے فقراء ومساکین کے درمیان تقسیم کرنے کی جگہ بھی ہے اور مسلمانوں کی معاشی ، سیاسی اور سماجی ترقی کی رصدگاہ بھی۔ اسی لیے اسلام نے مسجد یں تعمیر کرنے اور انہیں آباد کرنے پر بہت زور دیا ہے، انہیں ذکر واذکار نماز اورتلاوت قرآن کے ذریعہ بھی آباد کیا جا سکتا ہے۔اور حلقۂ درس اور دعوت وتبلیغ کے ذریعہ بھی۔ اسلام نے مسلمانوں کی زندگی میں مساجد کے رول کو اجاگر کیا اور مساجد کے رول کی ادائیگی میں رکاوٹ پیدا کرنے کو تخریب کاری سے تعبیر کیا ہے، اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

وَمَنۡ اَظۡلَمُ مِمَّنۡ مَّنَعَ مَسٰجِدَ اللّٰہِ اَنۡ یُّذۡکَرَ فِیۡہَا اسۡمُہٗ وَ سَعٰی فِیۡ خَرَابِہَا ؕ اُولٰٓئِکَ مَا کَانَ لَہُمۡ اَنۡ یَّدۡخُلُوۡہَاۤ اِلَّا خَآئِفِیۡنَ ۬ؕ لَہُمۡ فِی الدُّنۡیَا خِزۡیٌ وَّ لَہُمۡ فِی الۡاٰخِرَۃِ عَذَابٌ عَظِیۡمٌ (البقرہ:115)

اور اس سے زیادہ ظالم کون ہے جس نے منع کیا کہ اللہ کی مسجدوں میں اس کا نام بلند کیا جائے اور انہیں ویران کرنے کی کوشش کی۔ (حالانکہ) ان کے لیے اس کے سوا کچھ جائز نہ تھا کہ وہ ان (مسجدوں) میں ڈرتے ہوئے داخل ہوتے۔ ان کے لئے دنیا میں ذلت اور آخرت میں بہت بڑا عذاب (مقدر) ہے۔

اسلام نے مساجد تعمیر کرنے اور ان کی ضروریات کی تکمیل کرنے اور طاعت وبندگی کے ذریعہ انہیں آباد کرنے والوں کی تعریف کی اور بڑے ثواب کی خوشخبری دی ہے۔

مسجدوں کو آباد کرنا کہ مسجدیں نمازیوں سے بھری ہوں

مسجد کے ارد گرد کے سارے لوگ جب گھروں میں ہوں اپنی نماز یں مسجد ہی میں ادا کریں۔ یہ کیسی بدقسمتی کی بات ہے کہ مسجد تو 50 لاکھ خرچ کر کے بنا دی اور اس میں نمازیوں کی تعداد دس بیس سے زیادہ نہ ہو، اور فجر میں پانچ دس سے ان کی تعداد متجاوز نہ ہوتی ہو۔ جب کہ محلہ میں مسلمانوں کی تعداد ہزاروں میں ہو۔ ایسی مسجدوں کی تعمیر درودیوار کے اعتبار سے تو ہو گئی، مگر عبادت کے طور پر نہیں ہو سکی۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

مَا کَانَ لِلۡمُشۡرِکِیۡنَ اَنۡ یَّعۡمُرُوۡا مَسٰجِدَ اللّٰہِ شٰہِدِیۡنَ عَلٰۤی اَنۡفُسِہِمۡ بِالۡکُفۡرِ ؕ اُولٰٓئِکَ حَبِطَتۡ اَعۡمَالُہُمۡۚۖ وَ فِی النَّارِ ہُمۡ خٰلِدُوۡنَ۔ (التوبۃ:17)

مشرکین کا کام نہیں کہ وہ اللہ کی مسجدیں آباد کریں جبکہ وہ خود اپنے نفسوں کے خلاف کفر کے گواہ ہیں۔ یہی ہیں وہ جن کے اعمال ضائع ہو گئے اور وہ آگ میں بہت لمبے عرصے تک رہنے والے ہیں۔

یہی وجہ ہے کہ تعمیر مسجد کو مسلمانوں کی خصوصیات میں سے شمار کیا گیا ہے۔ ایک صاحبِ ایمان مسجد میں اس طرح ہوتا ہے جیسے پانی میں مچھلی، جس کے بغیر اس کی حیات ایمانی ممکن نہیں، مسلمان مسجدوں میں راحت وسکون پاتا ہے۔ اس کے دل کو اطمینان وقرار حاصل ہوتا ہے اور اضطراب وبے چینی سے خود کو دور کرتا ہے۔جیسا کہ پہلےذکر آ چکا ہے کہ مسجد کی تعمیر میں اس کی عمارت کھڑی کرنا، اس کی مرمت کرانا۔ اس کی صفائی کرانا، اس کی ضروریات کا سامان مہیا کرنااور نمازیوں کو سہولیات فراہم کرنا بھی ہے اور نماز کے لیے آنا ،عبادت کرنا، ذکرواذکار کرنا، تعلیم وتعلم کے حلقے قائم کرنا۔ وعظ ونصیحت کی محفلیں سجانا اور بھلائی کا حکم دینا اور برائی سے روکنا بھی شامل ہے۔ اس کی تعمیر وآباد کرنے میں یہ بھی شامل ہے کہ ان تمام باتوں سے اس کی حفاظت کی جائے جو خلاف شرع ہوں۔اس کی تعظیم واحترام کو برقرار رکھنا مثلاََ یہ درست نہیں کہ مسجد میں خریدوفروخت کی جائےیا دنیوی امور ومعاملات میں مشغول ہوا جائے۔ اس لیے حدیث میں آیا ہے کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے روئے زمین میں سب سے بہترین جگہ مسجدوں کو اور سب سے بدترین جگہ بازاروں کو قرار دیا ہے۔ قابلِ مبارک باد اور لائق تحسین ہیں وہ لوگ جو مسجدوں کی مادی و معنوی تعمیر میں حصہ لیتے ہیںاور انہیں آباد رکھتے ہیں۔

فرد اور معاشرہ باہم لازم و ملزوم ہیں۔جس طرح فرد معاشرے سے الگ ہو کر ایک بے حقیقت اکائی کی حیثیت اختیار کر لیتا ہےاسی طرح معاشرہ افراد کے بغیر وجود میں نہیں آسکتا۔ دوسرے لفظوں میں افراد کی مجموعی حیثیت کا نام معاشرہ ہے۔ اس لحاظ سے فرد کی اصلاح معاشرہ کی اصلاح پر منتج ہو گی اور فرد کا بگاڑ پور ےمعاشرہ کے بگاڑ کا باعث بنے گا۔ اسی لیے اسلام نے فرد اور معاشرے دونوں کی اصلاح کا اہتمام کیا ہے۔ چنانچہ حلقۂ اسلام میں داخل ہونے کے بعد فرد پر جو سب سے پہلی ذمہ داری عائد ہوتی ہے وہ نماز ہے تاکہ نماز اس کی جسمانی، اخلاقی اور روحانی بیماریوں کی اصلاح کر سکے۔ ذیل کی حدیث نماز کے اس فائدۂ عظمیٰ کی شاہد ہے:

حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے صحابۂ کرامؓ سے فرمایا کہ اگر کسی شخص کے گھر کے سامنے سے ایک نہر گزرتی ہو اور وہ اس میں روزانہ پانچ مرتبہ غسل کرتا ہو تو کیا اس کے جسم پر کوئی میل کچیل باقی رہ جاتا ہے؟ صحابہ کرامؓ نے عرض کیا:نہیں یا رسول اللہﷺ!اس پر آپ ﷺ نے فرمایا، بالکل اسی طرح جو آدمی روزانہ پانچ مرتبہ (مسجد میں حاضر ہو کر)نماز ادا کرتا ہے وہ گناہوں سے اسی طرح پاک ہو جاتا ہے گویا اس نے گناہ کیا ہی نہیں۔

(صحیح بخاری – کتاب الصلوٰۃ)

فرد کی اصلاح کے بعد معاشرتی اصلاح کا نمبر آتا ہے۔ چنانچہ جب بہت سے افراد مل کر ایک معاشرہ کی شکل اختیار کر لیتے ہیں تو ان کی اصلاح و تطہیر کے لیے اسلام نے نماز با جماعت کو لازمی قرار دیا ہے ۔ جس کے لیے مسجد کا قیام ناگزیر ہے اور یہی وجہ ہے کہ اسلام نے جب اوّلین معاشرہ تشکیل دیا تو اس کے ساتھ ہی مساجد کی آبادی شروع ہو گئی۔ حضرت آدمؑ کی اولاد نے جب ایک معاشرہ کی شکل اختیار کر لی تو آپ کا سب سے پہلا کام بیت اللہ کی تعمیر تھا۔ پھر جب آپ کی اولاد اقطارِ دنیا میں پھیلی تو آپ ہی کے ایک صاحبزادے نے (بیت اللہ کی تعمیر کے چالیس برس بعد ) بیت المقدس کی بنیاد رکھی۔ اس کے بعد ملّتِ اسلامیہ کے بانی حضرت ابراہیم اور ان کے صاحبزادے حضرت اسماعیل علیہما السلام کے ہاتھوں بیت اللہ کی از سرِ نو تعمیر تو قرآن مجید سے بھی ثابت ہے۔ اسی طرح حضرت رسول اکرمﷺ نے جب دعوت اسلام کا بیڑا اُٹھایا تو آپ ﷺ نے اپنا مرکز خانہ کعبہ یا مسجد الحرام کو بنایا اور جب کفار کی طرف سے اعلانیہ مخالفت ہوئی تو آپ ﷺ نے بامرِ مجبوری دارِ ارقم کو اس کام کے لیے منتخب فرمایا۔ لیکن حضرت عمرؓ کے اسلام لاتے ہی پھر سے خانہ کعبہ اور مسجد الحرام کی دیواریں تکبیر کے نعروں اور توحید کے کلمات سے گونجنے لگیں۔ پھر جب کفار کی مخالفت انتہا کو پہنچ گئی اور آپ ﷺ ہجرت کر کے مدینہ شریف تشریف لے گئے تو یہاں کی فضا کو مسلم معاشرہ کے لیے سازگار سمجھتے ہوئے آپ ﷺ نے سب سے پہلا کام جو کیا وہ مسجدِ نبوی کی تعمیر تھی۔ اس کے بعد جوں جوں مسلمانوں کی تعداد میں اضافہ ہوتا گیا۔ہر قبیلہ اور ہر محلہ میں الگ الگ مسجدیں تعمیر ہوتی چلی گئیں۔اگرچہ عام غربت اور سادگی کی وجہ سے اس دور میں جو عام مساجد تعمیر ہوئیں وہ زیادہ دیر تک قائم نہ رہ سکیں اور مرورِ زمانہ کے ساتھ ساتھ بہت سوں کا نام و نشان بھی مٹ گیا تاہم تاریخ ہمیں بتلاتی ہے کہ اسلام کی روشنی نے جب عرب کے گوشے گوشے کو منور کر دیا تو عرب کا کوئی گاؤں، شہر اور محلہ مساجد سے خالی نہ تھا۔

پھر اسلام نے سر زمینِ عرب سے قدم باہر نکال کر جب اپنی اعلیٰ ترین تعلیم سے دنیا کو نوازنا شروع کیا تو جہاں جہاں اسلام کی روشنی پہنچی اور مسلم معاشرہ کا قیام عمل میں آیا، مساجد تعمیر ہوتی چلی گئیں۔ جن میں سے بعض آج بھی اپنی روایتی شان و شوکت کے ساتھ موجود ہیں۔ موجودہ دَور کے غیر مسلم ممالک بھی جہاں کچھ بھی مسلمان موجود ہیںوہاں مساجد موجود ہیں اور مسلمان ممالک کا تو ذکر ہی کیا، ہر گاؤں، ہر محلہ اور ہر شہر میں مساجد کے شاندار مینار اپنی عظمت و رفعت کی گواہی دیتے نظر آتے ہیں۔

مذکورہ بالا تاریخی حقائق مسلم معاشرہ کے قیام میں مسجد کی اہمیت و ضرورت کی واضح ترجمانی کرتے ہیں۔ علاوہ ازیں یہ بھی ایک تاریخی حقیقت ہے کہ نبی اکرم ﷺ کے دَور کا وہ معاشرہ جو استحکام، پائیداری اور عظمت و رفعت کی بہترین مثال تھا۔ مساجد ہی کا مرہونِ منت تھا اور ہمیں یہ کہنے میں باک نہیں کہ جب تک مساجد پُر رونق رہیں اور مسلم معاشرہ میں ان کی ضرورت و افادیت کو محسوس کیا جاتا رہا۔ اسلام بھی سربلند رہا۔ لیکن جونہی مساجد کی مرکزی حیثیت متزلزل ہوئی اور قرآن و حدیث کو چھوڑ کر دوسری تعلیمات کا دور دورہ ہوا لوگ مساجد سے دور ہونے لگے اور معاشرہ میں مساجد کو وہ مقام حاصل نہ رہا جو قرونِ اولیٰ میں تھا تو مسلمان بھی اپنی شان و شوکت کھو کر تنزل و تسفل کا شکار ہوتے چلے گئے اور بالآخر اسلام کو غربت سے ہم کنار ہونا پڑا۔

لہٰذا یہ کہنا بے جا نہ ہو گا کہ اسلامی معاشرہ کی تشکیل و تعمیر کا تمام تر دارو مدار ہی مساجد پر ہے۔

مساجد کی تعلیمی اہمیت

مسلم معاشرہ کے قیام کے لیے اشاعتِ علم کی اہمیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا اور بلاشبہ مسلمانوں کی تاریخ میں یہ کردار مساجد نے نہایت بہتر طریقہ سے ادا کیا۔ دورِ نبوی کی پہلی مسجد، مسجدِ نبوی تھی اور یہی مسجد ملّتِ اسلامیہ کا اوّلین مرکز قرار پائی۔ دیگر گوناگوں خصائص کے علاوہ اس مسجد کو اعلیٰ ترین درس گاہ بلکہ اس دَور کی یونیورسٹی ہونے کا فخر بھی حاصل تھا۔ جہاں شب و روز صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین معلّمِ انسانیت سے تعلیم و تربیت حاصل کرتے، خصوصاً اصحابِ صفہ تو مسجد نبوی میں رہ کر اسی کام کے لیے کمر بستہ رہتے۔ اسی مسجد میں حلقہ ہائے درس یہاں منعقد ہوتے اور تشنگانِ علم دور دراز سے آکر ان علمی سر چشموں سے اپنی پیاس بجھاتے۔ بنو امیہ اور بنو عباس کے دورِ اقتدار تک مسجد اسی اہمیت کی حامل رہی۔ اس زمانے میں حکمران کی وابستگی بھی مساجد سے حد درجہ قائم رہی اور وہ ان کی سرپرستی کرتے رہے۔ مساجد میں امامت کے فرائض انجام دیتے، جمعہ کے روز منبر کی زینت بنتے اور علمی مسائل حل کر کے لوگوں کو مستفید فرماتے۔ عباسی دَور میں مامون و ہارون اس رعب و داب کے حکمران تھے کہ قیصرِ روم ان کا نام سن کر لرزہ براندام ہو جاتا تھا، جب نماز کا وقت آتا تو تاج و تخت سے الگ ہو کر مسجد میں آتے اور فرائضِ امامت ادا کرتے۔ الغرض تاریخِ اسلام کے مختلف ادوار میں مساجد کو امتیازی حیثیت حاصل رہی اور یہ خانہ خدا ہونے کے علاوہ بہترین درسگاہیں اور یونیورسٹیاں تصور کی جاتی تھیں۔

موجودہ زمانے میں بھی کچھ عرصہ قبل تک مسجد کو مکتب کی حیثیت حاصل رہی لیکن بالآخر لوگوں نے اس دینی مشغلہ کو کاروبار بنا لیا۔چند نفس پرستوں اور ہوس کے بندوں نے مخلص لوگوں کو بھی بدنام کر کے رکھ دیا۔ اور نتیجۃً آج لوگ مساجد میں قائم مدارس کے نام سے بھی دُور بھاگنے لگے ہیں۔ لیکن اس میں مسجد کا کوئی قصور نہیں بلکہ یہ ہماری اپنی ذہنیتوں کا قصور ہے اور اس سے مساجد کی علیمی اہمیت و حیثیت پر کوئی زد نہیں پڑتی۔ خلوص نیتی سے اگر کام کیا جائے تو آج بھی قرونِ اولیٰ کے مسلمانوں کی یاد تازہ ہو سکتی ہے اور ان علمی سر چشموں سے اپنی پیاس بجھا کر اپنی عظمتِ رفتہ کو بحال کیا جا سکتا ہے۔

مسجد کی معاشرتی اہمیت

ایک کامیاب معاشرہ کی خصوصیت یہ بھی ہے کہ اس کے افراد ایک دوسرے کے ہمدرد و غمگسار ہوں۔ ایک کا دکھ سب کا دکھ اور ایک کی خوشی سب کی خوشی ہو۔ رسول اکرم ﷺ نے مسلمانوں کی مثال بیان کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ

تمام مسلمان ایک جسم کی مانند ہیں۔ اگر جسم کے ایک حصہ کو تکلیف پہنچے تو پورا جسم اس کی وجہ سے بے چین و بے قرار رہتا ہے۔

علاوہ ازیں قرآن مجید نے بھی قریبیوں، پڑوسیوں اور اہلِ محلہ وغیرہ سے حسن سلوک کا حکم اکثر مقامات پر دیا ہے۔ لیکن اس حکم پر عمل پیرا ہونے کے لیے یہ ضروری ہے کہ اہلِ محلہ ایک دوسرے کے حالات سے واقف ہوں اور معاشرہ میں یہ کردار بھی جس خوبی اور جس شاندار طریقے سے مسجد ادا کرتی ہے وہ اپنی مثال آپ ہے۔ ایک محلہ یا ایک گاؤں کے مسلمان دن میں پانچ مرتبہ مسجد میں جمع ہوتے ہیں۔ پھر ہر جمعہ کے روز بڑے پیمانہ پر ایک اجتماع عام ہوتا ہے۔ جس کے باعث لوگوں کو ایک دوسرے کے قریب ہونے اور ایک دوسرے کے حالات جاننے کا موقع ملتا ہے اور بالآخر یہ چیز ایک دوسرے کی ہمدردی ایک دوسرے کا دکھ درد بانٹنے اور باہمی مسائل کے حل کے لیے ممد و معاون ثابت ہوتی ہے اور اس طرح معاشرہ ترویج و ترقی کی راہ پر گامزن ہو جاتا ہے۔ تاریخ ہمیں یہ بتاتی ہے کہ دورِ نبوی اور اس کے بعد خلافتِ راشدہ کے ادوار میں مسلمان صرف نماز کے لیے ہی مساجد میں اکٹھے نہیں ہوتے تھے بلکہ ان کے تمام اجتماعی مسائل کے حل کے لیے صلاح و مشورے اور فیصلے وغیرہ بھی مساجد ہی میں ہوتے تھے۔

آج مسلمان مساجد سے دُور ہونے کی بنا پر اپنے اہل محلہ، قریبیوں اور ہمسایوں سے بھی کٹ کر رہ گئے ہیں اور ہمدردی وغیرہ کے جذبات سے یکسر عاری ہو چکے ہیں۔ ہمسایہ کی خیر خیریت پوچھنا، بیماری میں اس کی تیمار داری کرنا اس کے دکھ سکھ میں شریک ہونا اور مصیبت میں اس کے کام آنا تو کجا اکثر لوگوں کو اپنے ہمسایہ کے نام اور کام کے متعلق بھی خبر نہیں ہوتی۔ بلکہ لا تعلقی اور بے حسی تو اس انتہا کو پہنچ چکی ہے کہ رات کو پڑوس میں کسی شخص کے ہاں چوری ہو جاتی ہے یا کوئی قتل ہو جاتا ہے اور قریبی مکان والے کو اس کی خبر تک نہیں ہوتی۔ اگر وہ حالات سے آگاہ ہو بھی جائے تو بھی اتنی زحمت گوارا نہیں کرتا کہ ہمدردی و تشفی کے چند بول ہی کہہ دے۔ مساجد میں روزانہ پانچ مرتبہ جمع ہو کر نماز پڑھنے والے افرادِ معاشرہ ان بدترین مثالوں کا تصور بھی نہیں کر سکتے۔

نا انصافی ہو گی اگر ہم مسجد کی سماجی اہمیت کے ضمن میں ان فوائد کثیرہ کا ذکر نہ کریں جو ایک معاشرے کو مسجد کے قیام سے صرف حاصل ہی نہیں ہوتے بلکہ ان کے بغیر ایک صحیح معاشرہ پروان ہی نہیں چڑھ سکتا اور ترویج و ترقی کی راہوں پر گامزن ہونے میں ناکام رہ جاتا ہے۔

(جاری ہے)

٭…٭…٭

متعلقہ مضمون

رائے کا اظہار فرمائیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button