تاریخ احمدیت

17؍ تا 22؍اگست 1924ء: حضرت مصلح موعودؓ کا پہلا تاریخی دورۂ یورپ اٹلی میں چند روزہ قیام اور لندن میں ورودِ مسعود

برنڈزی سے لنڈن

حضورؓ مع خدام برنڈزی سے ساڑھے چھ بجے شام کی گاڑی سے سوار ہو کر17؍ اگست 1924ء کو ساڑھے نو بجے روما میں داخل ہوئے جو عیسائیت کے پوپ کا مرکز ہے۔

روما میں حضورؓ کا قیام چار روز رہا۔ اس عرصہ میں حضورؓ برابراشاعت سلسلہ کے کام میں مصروف رہے۔ اخبارات کے نمائندوں اور فوٹو گرافروں نے آپ سے انٹرویو کئے۔ حضورؓ نے اٹلی کے وزیر اعظم مسولینی سے بھی ملاقات کی اور اسے سلسلہ احمدیہ کے اغراض و مقاصد بتائے۔ مسولینی نہایت اکرام سے پیش آیا۔

حضورؓ کا ارادہ پوپ سے ملنے اور ان کو تبلیغ اسلام کرنے کا بھی تھا۔ مگر پوپ نے آپ کی آمد پر ملاقاتوں کا سلسلہ بند کر دیا۔ تاہم حضرت خلیفۃ المسیح الثانیؓ ان تک جو پیغام حق پہنچانا چاہتے تھے وہ خدا تعالیٰ نے دوسرے طریق پر پہنچا دیا۔ یعنی روما کے سب سے مشہور اور کثیر الاشاعت اخبار ’’لاٹربیونا‘‘ نے حضور کا ایک مفصل انٹرویو شائع کیا۔ حضور سے سوال کیا گیا کہ آپ پوپ کو ملتے تو کیا کہتے؟ حضور ؓنے جواب دیا:

’’میں جب پوپ سے ملتا تو سب سے بہترین تحفہ جو میرے پاس ہے میں اسے پیش کرتا اور وہ یہ ہے کہ میں اسے دعوت اسلام دیتا اور اس نور کی طرف بلاتا جو انسانوں کو خدا تک پہنچا دیتا ہے اور یہ لفظاً نہیں بلکہ خدا تعالیٰ کے قرب کے نشانات اس میں پائے جاتے ہیں….۔بڑے بڑے آدمی عیسائیوں میں پائے جاتے ہیں جن کو بڑا نیک اور متقی کہا جاتا ہے۔ مگر وہ کوئی نشان اپنی صداقت میں نہیں دکھا سکتے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ خدا کا قرب حاصل کرنے کا یہ راہ نہیں۔ اور یہ سچ ہے خدا تعالیٰ نے مسیح موعودؑ کو اسی لئے دنیا میں بھیجا ہے کہ وہ دنیا پر ثابت کر دے کہ یہ قوت اور طاقت اب اسلام میں ہے ….۔ پس میں پوپ کو اس اسلام کی بشارت دیتا اور اس کو سناتا کہ ہم کو وہ نشان دیئے گئے ہیں جو خدا کے برگزیدہ کو ملتے ہیں۔‘‘

روما میں حضور ؓنے اصحاب کہف کی غاریں بھی دیکھیں جس کی تفصیل حضور نے اپنی تفسیر کبیر جلد چہارم صفحہ 425پر درج فرمائی ہے۔

روما سے 20؍اگست 1924ء کو بوقت شام روانگی ہوئی اور گاڑی دوسرے دن صبح (21؍ اگست کو) نو بجے کے قریب پیرس فرانس پہنچی۔ پیرس سے کَے لَے (Calais)آئے اور بذریعہ جہاز رودبار انگلستان عبور کرکے ڈووَر آئے اور ڈووَر سے گاڑی لے کر22؍اگست1924ءکو چھ بجے کے قریب لنڈن کے مشہور وکٹوریہ سٹیشن پہنچے۔ جہاں مبلغ اسلام اور دوسرے اصحاب استقبال کے لئے حاضر تھے۔

حضور ؓنے پلیٹ فارم پر قدم رکھتے ہی اپنے قافلہ سمیت دعا کی۔اس نظارہ کا فوٹو لنڈن کے اخبارات میں بھی شائع ہوا۔ اسٹیشن سے حضورؓ لڈ گیٹ (باب اللد) پہنچے اور سینٹ پال کے گرجا کے دروازہ کے پاس صحن میں آپ نے اسلام کی کامیابی اور کسر صلیب کے لئے دعا کی۔ یہ نظارہ لنڈن نے کبھی نہیں دیکھا تھا اس لئے چاروں طرف خلقت کا اژدہام ہو گیا۔ حضورؓ ایک لمبی دعا کرنے کے بعد اپنے خدام سمیت اپنی قیام گاہ (واقع چیشم پلیس نمبر6) میں تشریف لے گئے اور دعا کے بعد قیام فرما ہو گئے۔

برطانوی پریس میں چرچا

حضرت خلیفۃ المسیح الثانی ؓجس دن سفر یورپ کے لئے روانہ ہوئے تھے۔ برطانوی پریس میں آپ کی آمد کی خبریں شائع ہونا شروع ہو گئی تھیں۔ مگر لندن میں ورود کے بعد تو مصور اور غیر مصور اخبارات نے اتنی کثرت سے آپ کے فوٹو اور حالات وغیرہ شائع کئے کہ ایک متعصب رومن کیتھولک اخبار کو لکھنا پڑا کہ تمام برطانوی پریس سازش کا شکار ہو گیا ہے۔ اور کئی لوگوں نے برملا اظہار کیا کہ پریس نے اتنی اہمیت اور شہرت لنڈن میں آنے والے کسی بڑے سے بڑے لارڈ کو بھی نہیں دی جتنی آپ کی تشریف آوری پر پریس کے علاوہ فلموں میں آپ کے اور آپ کے رفقاء کے مناظر دکھائے گئے اس طرح خدا نے انگلستان کے ایک سرے سے دوسرے سرے تک آپ کی شہرت کا خود ہی سامان فرما دیا۔

چند اخبارات کے نام بطور نمونہ یہ ہیں۔ ٹائمز آف لنڈن۔ ڈیلی میل لنڈن۔ ڈیلی مرر۔ ڈیلی نیوز۔ ایوننگ سٹینڈرڈ۔ ڈیلی سکیچ۔ ڈیلی گرانک۔ ڈیلی ٹیلیگراف۔ مانچسٹر گارڈین۔

(ماخوذ ازتاریخ احمدیت جلد 4صفحہ 445تا 447)

٭…٭…٭

متعلقہ مضمون

رائے کا اظہار فرمائیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button