یادِ رفتگاں

مکرمہ صادقہ کرامت صاحبہ

(حامدہ سنوری فاروقی۔ یوکے)

رسول مقبولﷺ نے فرمایا ہے

اُذکروامحاسِن موتاکم۔

آج اس فرمانِ نبوی ﷺ کے تحت اپنی بے انتہا خوبیوں کی مالک بے حد محبت کرنے والی پیاری آپا کا ذکرِ خیر کرنے لگی ہوں جو 25؍فروری 2020ءکو لندن میں بعمر 77؍سال اپنے مولیٰ کے حضور حاضر ہو گئیں

انا للہ وانا اليہ راجعون۔

ان کا تعارف اپنے پیارےمحترم مرحوم ابا جان کے حوالے سے شروع کرتی ہوں۔

آپ محترم مسعود احمد خورشید سنوری صاحب اور محترمہ ناصرہ حسن آراء صاحبہ کے ہاں ناصرآباد (سندھ) میں24؍فروری 1943ءکو پیدا ہوئیں جہاں ہمارے داداجان حضرت مولوی قدرت اللہ صاحب سنوریؓ اور دادی جان حضرت رحیمن بی بی صاحبہ ؓ مقیم تھے۔ہمارےوالدین اور دادا دادی بے حد دعائیں کرنے والی بزرگ ہستیاں تھیں۔ اپنے والد کی جانب سےپانچویں نسل میں اور والدہ کی جانب سے تیسری نسل میں احمدی تھیں۔ بفضلہ تعالیٰ ہمارے ددھیال میں سےدادا،پر دادا اور پردادا کے والد صحابہ ؓحضرت مسیح موعود علیہ السلام میں شامل تھے۔ اسی طرح دادی جان بھی صحابیہ تھیں۔

ناصر آباد میں اُس وقت ہمارے دادا جان حضرت مصلح موعود ؓ کی زرعی اراضی پر مینیجر کی حیثیت سے خدمت کی توفیق پارہے تھے۔آپا کی پیدائش کے بعد حضرت مصلح موعودؓ زمینوں کے معائنہ کے لیے تشریف لائے تو داداجان نے اپنی پوتی کو حضورؓ کی خدمت میں پیش کیا اور نام رکھنے کی درخواست کی۔ حضور ؓنے نام صادقہ تجویز فرمایا۔اباجان اس وقت ملازمت کے سلسلے میں کو ئٹہ میں مقیم تھے۔ انہوں نے اپنی اس پہلی اولاد کا نام صادقہ کے ساتھ طاہرہ رکھا۔

کوئٹہ میں آپ کا بچپن اور ابتدائی تعلیم کا زمانہ گزرا۔ ابتدا میں امی ابا نے خود پڑھنا لکھنا سکھایا۔اس لیے خود کہتیں کہ میری لکھائی اپنے امی اباجان کی رائیٹنگ کا مجموعہ ہے۔ ساتھ ہی والدین نے قاعدہ پڑھایا اور نماز سکھائی۔ رشتے کے نانا جان حضرت منشی نور محمد صاحبؓ صحابی حضرت مسیح موعود علیہ السلام (ہیڈ کلرک خزانہ صدر انجمن احمدیہ قادیان ) اور ان کی بیگم یعنی نانی جان اختر النساء صاحبہ نے قرآن کریم پڑھایا۔

1950ءمیں والدین لاہور منتقل ہوگئے۔وہاں مدرسۃ البنات اسکول میں داخل ہوئیں جہاں قرآن کریم ایک مضمون کے طور پر پڑھایا جاتا تھا۔وہیں قرآن کریم باترجمہ پڑھا اور آمین بھی ہوئی۔

1953ء کا دَورابتلاء

لاہور میں 1953ء میں جماعت کے خلاف فسادات کے دوران ہمارے والد کی اکبری منڈی میں واقع املاک کو نذر آتش کر دیا گیا۔ جو حالات انہوں نے اُس وقت مشاہدہ کیے۔ دس سال کی عمر میں اپنے خاندان کی اس قربانی اور صبر و حوصلہ نے انہیں آئندہ تمام زندگی کے لیے ایمان میں مضبوطی اور جماعت کے لیے قربانی کا گہرا سبق سکھا دیا۔ 1956ء میں ہماری فیملی کراچی منتقل ہوگئی۔ جہاں آپ نے حسینی اسکول کراچی سے میٹرک پاس کیا۔گورنمنٹ کالج برائے خواتین کراچی سے فرسٹ کلاس کے ساتھ اسلامک سٹڈیز اور عربی میں بی اے کی ڈگری حاصل کی۔ کالج کی طرف سے قاہرہ میں مزید تعلیم کے لیے وظیفہ کی پیشکش ہوئی مگر والدین نے بچی کو اکیلے بھیجنا مناسب نہ سمجھا۔ اردو ادب سے بھی گہرا لگائو تھااور انگریزی بھی اچھی معیاری تھی۔

لجنہ اماء اللہ میں خدمات

1959ء سےلجنہ اماء اللہ کی تنظیم میں شامل ہوتے ہی حلقہ ناظم آباد کراچی میں جنرل سیکرٹری کی خدمت سپرد ہوئی جس کے ساتھ سیکرٹری ناصرات کے طور پر بھی خدمت کرنے لگیں۔ بچپن سے والدہ کو لجنہ اماء اللہ کے کاموں میں مصروف دیکھا تھا۔ امی بچیوں کو بھی کچھ نہ کچھ لجنہ کے کام کرنے کو دیتی تھیں۔ والدین کو اللہ تعالیٰ نے گیارہ بچے عطا فرمائے، جن میں سے یہ سب سے بڑی ہونے کی وجہ سے امی کا ہاتھ بٹاتیں اورسب بہن بھائیوں کے کام بہت خوبی اور ذمہ داری سے کرتیں۔

لجنہ کے کاموں کی تربیت اپنی امی سے گھر میں حاصل ہو گئی۔ لجنہ کے کام شروع سے سیکھے جیسے گھر میں اجلاس ہوتے تھے، ان کی تیاری اور پروگرام لکھنا،رپورٹوں کو صفائی سے دوبارہ لکھ کر دینا۔نوجوان لجنہ کو کچھ وقت کے لیے تربیتی اجلاس کرنے کی اجازت ملی تو ان کے اجلاس بھی کرواتیں۔بفضلہ تعالیٰ اٹھارہ سال کی عمر میں اباجان کے کہنے پر نظامِ وصیت میں شامل ہوئیں، اور ساری عمر جیسے بھی حالات کا سامنا ہوا،اس عہد کوخدا تعالیٰ پر بھروسہ کرتے ہوئے نبھایا۔

شادی اور سسرال

10؍مئی 1964ءکو آپ کی شادی چوہدری کرامت اللہ صاحب کے بیٹے حمید کرامت صاحب سے ہوئی۔ان کے سسر چوہدری کرامت اللہ صاحب کو حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے (مؤاخات مدینہ کی سنت کے طریق پر) حضرت صاحبزادہ مرزا ناصر احمد صاحبؒ کا بھائی بنایا تھا۔یہ خاندان بھی جماعتی خدمات میں پیش پیش تھا۔اُن کی ساس محترمہ آمنہ کرامت صاحبہ لجنہ کراچی کی سیکرٹری دستکاری اور نمائش تھیں۔کچھ وقت آپا صادقہ کرامت صاحبہ نے بھی ان کے ساتھ اس شعبہ میں کام کیا۔اور پھر اس شعبہ کی مستقل سیکرٹری کی خدمات سپرد ہوئیں۔

اپنے ساس سسر کی خدمت کو انہوں نے اپنا فرضِ اولین سمجھ کر انتھک محنت سے نبھایا۔سسرال کے تمام افراد کے ساتھ بےحد محبت اور خدمت کا تعلق ہر لمحہ قائم رکھا۔بلکہ کئی سال اپنی نانی ساس کرم النسا بیگم صاحبہؓ صحابیہ جن کو سارا گھر ماں جی کہہ کر پکارتا تھا، اور جو ضعیف العمری کے ساتھ نا بینا ہو چکی تھیں اور چلنے پھرنے سے معذ ور تھیں، ان کی دیکھ بھال کھلانا پلانااور خدمت نہایت توجہ سے کرتی رہیں۔میاں کے کاروباری حالات میں نشیب و فراز آتے رہے جس میں حوصلہ کے ساتھ ہر ممکن قربانی دےکر امن کا ساتھ نبھایا اور بچوں کی تعلیم پر اثر نہ ہونے دیا۔

کراچی میں جماعتی خدمات

کراچی میں جماعتی خدمات کا موقع ملا جس میں حلقہ کی سطح پر جنرل سیکرٹری، سیکرٹری ناصرات، سیکرٹری نمائش اور صدر حلقہ کی خدمات کے علاوہ نائب نگران قیادت نمبر 4کے طور پر خدمت کی توفیق بھی ملی۔ پھر لجنہ ا ماء اللہ کراچی کے ضلعی دفتر کے زیرِانتظام انڈسٹریل ہوم کا کام سپرد ہوا تو انتھک محنت سے اسے سنبھالا،غریب ضرورت مند لڑکیوں کو کام سکھاتیں۔ ہر جمعہ کو لڑکیاں آکر کام لے جاتیں اور گھر سے کر کے لے آتیں اور دستکاری کا سٹال لگایا جاتا۔ ہاتھوں ہاتھ وہ چیزیں بِک جایا کرتیں۔ شعبہ خدمتِ خلق، لجنہ بک سٹال، علمی کلاسز اور دفتری امورکے انتظام اور رشتہ ناطہ میں بھی معاونت کرتی رہیں۔ 1982-83ء میں جلسہ سالانہ ربوہ کے موقع پر ڈسپلن کی ڈیوٹی کراچی لجنہ کے سپرد ہوئی تو ڈاکٹر زبیدہ طاہر صاحبہ کے ساتھ بطور نائب ناظمہ ڈیوٹی انجام دینے کی توفیق پائی۔

کئی مواقع پر وقفِ عارضی بھی کرتی رہیں۔ حضرت خلیفۃ المسیح الثالث ؒکے کراچی کے دورہ جات کے وقت اورحضرت خلیفۃ المسیح الرابع ؒ کے دورہ کے وقت بھی خواتین میں حفاظت کی ڈیوٹی سر انجام دیتی رہیں۔

برطانیہ ہجرت کے بعد جماعتی خدمات

1995ء میں انگلستان منتقل ہوگئی تھیں۔ صحت خراب تھی اس کے باوجود چند دن بعد ہی جماعتی خدمت کے لیے خواہش کا اظہار کیا۔ ڈاکٹروں نےصحت حد درجہ بگڑجانے پر کوئین میری ہسپتال لندن میں داخل کروایا۔ حالت بہت خراب تھی۔ ابھی چاروں بچوں میں سے کسی کی شادی نہیں ہوئی تھی۔ رو رو کر خدا تعالیٰ کے حضور دعا کرتیں کہ اتنی مہلت عطا فرمادے کہ بچوں کو ان کے قدموں پر دیکھ لوں۔بتاتی تھیں کہ ہسپتال میں ایک وقت ایسا آیا گویا آخری وقت تھا،انہوں نے خواب کی کیفیت میں دیکھا کہ دو فرشتے آئے ہیں اور انگریزی میں کہتے ہیں کہ اُٹھ کھڑی ہوں ہم آپ کو لینے آئے ہیں۔ اس پر انہوں نے بلند آواز میں انگریزی میں جواب دیا

My God has accepted my prayer and granted me 15 years I am not going.

آپا کو اس رؤیا کے پیغام پر مکمل یقین تھا۔ ان پندرہ سالوں میں بفضلِہ تعالیٰ چاروں بچوں کی شادیاں ہوگئیں۔ وہ اپنے گھروں اور بچوں والے ہوگئے۔اس دور کے مکمل ہونے پر بتاتی تھیں کہ میں نے حضرت خلیفۃالمسیح الخامس اید ہ اللہ تعالیٰ کی خدمت میں لکھا کہ میں نے اللہ تعالیٰ سے جو وقت مانگا تھا وہ پورا ہو گیا ہے۔ دن رات سلسلہ کی خدمت میں لگی رہتی تھیں۔اس پر حضور انور نے تحریر فرمایا آپ خاموشی سے کام کرتی رہیں۔ اللہ تعالیٰ نے مزید دس سال عمر میں برکت عطا فرمائی۔خاکسار انہیں چھیڑا کرتی تھی کہ واہ آپا انگریزی میں فرشتوں کو خوب جواب دیا۔

لجنہ اردو ڈاک ٹیم میں خدمت

1995ء میں ہی محترمہ سارہ رحمان بٹ صاحبہ انچارج خط و کتابت (لجنہ) دفتر پرائیویٹ سیکرٹری سے تعارف ہوا۔ انہوں نے لکھائی کا ٹیسٹ لیا اور منظوری کے بعد ڈاک ٹیم میں شامل کرلیا۔ خدا تعالیٰ کے فضل سے نہایت جانفشانی سے اور انتھک محنت سے قریباََ 25سال تا دم واپسیں اس خدمت کی انجام دہی کی توفیق پائی۔الحمد للہ۔اس قدر محنت سے خدمت میں دن رات مصروف رہتیں کہ ایک خط پر (خط بتاریخ 8.7.1996)جو انہوں نے قیمتی خزانہ کی طرح سنبھال کر رکھا ہوا تھا حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ نے اپنے دستِ مبارک سےتحریر فرمایا:

’’ماشاء اللہ بہت اچھا کام کر رہی ہیں ایسے لگتا ہے جیسے ساری ڈاک کا بوجھ آپ اکیلی نے ہی اٹھا رکھا ہے۔‘‘

خوشی سے بتاتی تھیں کہ اکثرملاقات کے دوران حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے بھی ان کے کام پر خوشنودی کا اظہار فرمایا۔محترمہ نعیمہ کھوکھر صاحبہ جن کے ساتھ اس شعبہ میں پچیس سال خدمت کی توفیق پائی کہتی ہیں:

’’صادقہ انتہائی محنتی خلوص اور لگن سے کام کرنے والی،ہر ایک کے دُکھ کو اپنا دُکھ سمجھنے والی ہمدرد خاتون تھیں۔اپنےبلند پایہ اخلاق اور بہترین خصائل کے باعث وہ ہمیشہ ہمارے دلوں میں زندہ رہیں گی۔‘‘

اس شعبہ میں ساتھ کام کرنے والی تمام بہنوں سے اس قدر محبت کرتی تھیں کہ مجھے لگتا اُنہیں اپنی سگی بہنیں سمجھتی ہیں۔ ان میں سے محترمہ فرحت واکر صاحبہ کہتی ہیں کہ باجی صادقہ بہت محبت کرنے والی،بہت دعا گو اور صائب الرائے خاتون تھیں۔ڈاک کے کام سے تو اُنہیں گویا عشق تھا۔کبھی تھکتی ہی نہ تھیں اپنی طبیعت کی خرابی کے باوجود کبھی کام کی رفتار میں فرق نہ آتا تھا۔ہم سب حیران ہو جاتے کہ کیسےاتنی تیزی سے اتنا کام کر لیتی ہیں۔

شعبہ رشتہ ناطہ برطانیہ

اس شعبہ میں لمبا عرصہ دل جان ڈال کر انچارج کی حیثیت سے خدمات کی توفیق پائی۔ صاحبزادی فائزہ احمد صاحبہ نے اور محترمہ شاکرہ حیات صاحبہ نے بھی آپا کی انتھک محنت اور لگن کا ذکرکیا کہ ڈاک کے شعبہ میں اور رشتہ ناطہ کے سلسلہ میں دن رات کوشاں رہیں۔

جلسہ سالانہ کے لیے بیجز اور خواتین کی رجسٹریشن

ایک اَور خدمت جو سالہا سال تک کرتی رہیں وہ جلسہ سالانہ کے لیے ڈیوٹی بیجز کی تیاری تھی۔ کئی ہزار Badges کاٹتیں اور پلاسٹک کی تہ اوپر لگا کر sealکرتیں۔ لِسٹ کے مطابق چیک کرتیں اور لفافوں میں ڈالتیں۔ کپڑا کاٹ کاٹ کر ہاتھ کا انگوٹھا شل ہوجاتا۔ اس پر پٹی باندھ لیتیں، کپڑے کو کاٹتے رہنے سے جو دھانس سی اٹھتی اس سے سانس کی تکلیف بھی بڑھ جاتی مگر کام جاری رکھتیں۔ کئی سال بعد کچھ دوسری بہنوں سے مدد لینی شروع کی وہ بھی یہ کہہ کر کہ دوسری بہنوں کو اس کام کی نزاکت کے تمام پہلو سمجھا کر سکھانا چاہتی ہوں۔جلسہ سالانہ کے شعبہ رجسٹریشن میں بھی بہت سال خدمت کی توفیق پائی۔

وفات شدہ خواتین کو غسل

یہ ثواب کا ایک ایسا کام تھا جو نہایت ہمدردی سے اپنی والدہ کو کرتے دیکھا تھا اور کراچی کے قیام میں عمر چھوٹی ہونے کے باوجود یہ خدمت شروع کی۔انگلستان آکر بھی احمدی خواتین کی یہ خدمت سر انجام دیتی رہیں۔ نہایت خوش دلی سے اور پوری ہمدردی سے دعائیں کرتے ہوئے یہ خدمت بھی زندگی کے تقریباََ 30سال ان گنت مواقع پر انجام دینے کی توفیق پائی۔

خدا تعالیٰ کے فضل سے مسجد فضل لندن میں کئی سال رمضان المبارک میں اعتکاف کی توفیق ملی۔

آپا کی دیرینہ خواہش تھی کہ حج بیت اللہ کی سعادت حاصل ہو۔ 2007ء میں خداوند تعالیٰ نے اس کے سامان پیدا کردیے اور عمرہ کی سعادت نصیب ہوئی۔ا للہ تعالیٰ قبول فرمائے۔

اخلاق

خدا تعالیٰ کے فضل سے نماز،روزہ،تہجد،ذکر الٰہی،تلاوت قرآن کریم،درود شریف کا وردنہایت باقاعدگی سے کرنے والی نیک صالح خاتون تھیں۔پردہ کا بےحد اہتمام کرتیں۔ لباس اچھا اور خوبصورت پہننے کا شوق اور ذوق رکھتی تھیں مگر لباس کے حیا دار ہونے کی شدت سے قائل اور اس پر عمل کرنے والی تھیں۔اس قدرفیاض تھیں کہ کوئی اشارہ بھی کر دیتا تو فوراً چیز حاضر کر دیتیں۔ وسیع القلب اور بے نفس خدمت گزار مہمان نواز خدمت خلق کرنے والی۔سب سے محبت اور حسن سلوک کرنے کے اوصاف کی حامل تھیں۔کراچی میں رہتے ہوئے تو ارد گرد غریب ضرورت مند عورتوں کی پردہ پوشی کےساتھ بے انداز خدمت کی توفیق پائی۔ بہنوں، بھابیوں کی بیماری اور تکلیف کے وقت اور بچوں کی ولادت پر ساتھ جاتیں اور دعائوں کے ساتھ ساتھ دن رات خدمت کرتیں۔ آپا کی دیورانی ثمینہ کرامت صاحبہ نے ذکر کیا کہ ان کے ایک بچے کی پیدائش کے وقت ساتھ تھیں اور ہر طرح سے خدمت کرتی رہیں، اُن کے ساتھ ہی ان کی ایک غیر از جماعت ہمسائی کے ہاں بھی بچے کی ولادت ہوئی اور کچھ پریشانی کی صورت حال انہیں در پیش ہوئی۔ اس پر آپا نے ان کے ساتھ بےحد دوڑدھوپ کر کے صورت حال کو سنبھالا، اور ہر طرح مدد کی،وہ اس قدر مشکور ہوئے اور آپا کے خدمت کے جذبہ پر اس قدر متأثر ہوئے کہ بچے کے والد نے کہا کہ میں اپنی اس بچی کا نام صادقہ رکھنا چاہتا ہوں۔اپنی ذات پر دوسروں کو ہمیشہ ترجیح دینا ان کا خا صّہ تھا۔اور خدمت کی توفیق پانا ہی ان کے دل کو حقیقی خوشی دیتا۔

مشین سےکڑھائی اور گوٹا کناری سے جوڑوں کو سجا دینا بڑی خوبی سےکرتی تھیں۔اس ہنر سے بھی پاکستان رہتے ہوئے عیدوں پر اور شادیوں پرلڑکیوں کو اور ان گنت دلہنوں کو کپڑے سجا سنوار کر دیتی رہتی تھیں۔ اونی سویٹر بُننا بھی ان کے لیے بائیں ہاتھ کا کھیل لگتا تھا۔ اُٹھتے بیٹھتے ہی سویٹر بنا لیا کرتی تھیں۔

مطالعہ کا بھی بےحد شوق تھا۔ آخری وقت بھی سیر روحانی پاس رکھی تھی جس کا مطالعہ کر رہی تھیں۔ آپا امورِ خانہ داری میں بھی یدِ طولیٰ رکھتی تھیں۔کھانا نہایت محنت اور توجہ سے بناتیں۔ دعوتیں نہایت شاندار کرتیں۔ سلیقہ سےکھانے کی میز سجاتیں اور ڈشز کو اس قدر مزیّن کرتیں کہ مہمان عش عش کر اُٹھتے۔ کراچی میں میری شادی کے بعد دعوت کی اور باغیچہ میں جو بھی حاصل ہو سکیں،قمقموں کی لڑیاں آویزاں کر دیں۔ اس قدر خوشی کا اظہار تھا کہ بیان سے باہر تھا۔

باغبانی کا شوق بھی حد سے سِوا تھا۔پھولوں کی اقسام اور ان کی پرورش میں بھی اگر میں کہوں کہ دل جان ڈالتی تھیں تو ہرگز اس میں کوئی مبالغہ نہ ہوگا۔جہاں سے بھی میسر ہوتیں قلمیں لگاتیں اور پودے کے پھوٹ پڑنے پر ان کی مسرت دیدنی ہوتی۔

میں ان سے عمر میں کافی چھوٹی تھی اس لیے اپنی شادی کے موقع پر برطانیہ آنے سے پہلے میں نے پوچھا کہ آپا مجھے کوئی نصیحت کریں کہ زندگی کیسے گزارنی چاہیے تو کچھ توقف کے ساتھ کہنے لگیں میرا تو جو اصول رہا ہے وہ بتا دیتی ہوں؎

مِٹا دے اپنی ہستی کو اگر کچھ مرتبہ چاہے

دعا ہےکہ مولیٰ کریم اپنے حضور اس خادمہ کو مراتب ِ عالیہ عطا فرمائے۔

جان توڑ محنت کرکے بھی کام مکمل کرتی تھیں۔ اُن کی اس خوبی کے ذکر میں محترمہ صاحبزادی امۃالنور صاحبہ صدر لجنہ اماءاللہ کراچی نے آپا کی وفات پر ایک نہایت قیمتی جملہ تحریرکیا۔ لکھتی ہیں’’یہ تو اُس دور میں کام کرنے والے سب ہی نے دیکھا کہ باجی صادقہ نے ہر ذمہ داری جو اُن کے سپرد کی گئی اسے احسن رنگ میں نبھایا۔ الحمد للہ‘‘۔

اسی طرح محترمہ امۃالباری ناصر صاحبہ جن کے ساتھ کراچی میں خدمات کی توفیق ملتی رہی، انہوں نے آپا کی وفات پر خاکسار کو لکھاکہ ’’ وہ تو پیدا ہی دوسروں کی خدمت کے لیے ہوئی تھیں۔مسکراتے چہرے کے ساتھ انتھک خدمت۔حسنِ سلوک میں اپنے والدین کا رنگ اور انداز لیا تھا۔ جماعت سے محبت ان کی روح کی غذا تھی۔ کراچی لجنہ کی تا دیر خدمت کی توفیق پائی۔کراچی کے مجلہ المحراب صد سالہ نمبر میں خدمت گزاروں کی ایک فہرست محسنات کے نام سے درج کی گئی ہےجس میں صادقہ (طاہرہ ) کرامت صاحبہ کا نام بھی شامل ہے۔ خدمت کرنے کے ساتھ کام لینے کا سلیقہ بھی جانتی تھیں۔‘‘

جنازہ اور تدفین اورپیارے آقا کی شفقت

25؍فروری 2020ء کو اس جہانِ فانی سے رُخصت ہو کر مولیٰ حقیقی کے حضور حاضر ہو گئیں۔ جماعت کے احباب و خواتین اس قدر کثیر تعداد میں تعزیت کے لیے تشریف لائے کہ جماعت کی آپس میں محبت کی نہایت اعلیٰ مثال دیکھنے میں آئی۔ ہسپتال کی کاغذی کارروائی میں کچھ وقت لگ جانے کی وجہ سے میّت منگل کے روز تین مارچ کو اسلام آباد ٹلفورڈ پہنچی۔ پیارے آقا حضرت خلیفۃالمسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیزنے نمازِ جنازہ پڑھائی۔کافی بڑی تعداد میں افراد جماعت نے شرکت کی۔

حضورِ انورنے مسجد مبارک کے احاطہ میں نمازِ ظہر سے پہلے نمازِ جنازہ پڑھائی اور نمازِ جنازہ سے پہلے پیارے آقا نے ہم افرادِ خاندان کو شرفِ ملاقات بخشا اور دورانِ ملاقات فرمایا

’وہ ہمارے ساتھ لمبا عرصہ کام کرتی رہیں،لمبی خدمت کی توفیق پائی۔بہت محنت سے کام کرتی تھیں، ابھی میں نے اُن کا جو آخری کام آیا ہے وہ دیکھا ہے۔اللہ تعالیٰ آپ سب کو اُن کی نیکیاں جاری رکھنے کی توفیق عطا فرمائے۔‘

آخری خط جو انہوں نے ہسپتال میں وفات سے ایک دو روز قبل حضور انور کی خدمت میں لکھا تھا مکمل نہیں کر سکی تھیں وہ اُن کے بیٹے خالد نے حضور انور کی خدمت میں پیش کیا۔اور دعا کی درخواست کے ساتھ عرض کیا کہ جب گھر پر آخری بیماری کا حملہ ہوا، سانس اُکھڑ رہا تھا اس وقت بھی فکر انہیں یہ ہی تھی کہ خط صحیح لکھا نہیں جا رہا۔ آخری دم تک خدمت کرتے ہوئے جان جانِ آفریں کے سپرد کردی۔

نمازِ جنازہ اور نمازِ ظہر کے بعد قبرستان روانگی ہوئی۔قبرستان دور ہونے کی وجہ سے کاروں میں فیملی کی خواتین دور ہٹ کر گاڑیوں کے پاس کھڑی رہیں۔ محترمہ قانتہ شاہدہ راشد صاحبہ خواتین کے ساتھ موجود رہیں اور تسلی کے لیے ایمان افروز واقعات سناتی رہیں۔ تدفین بروک ووڈ کے قبرستان میں ہوئی، آپ بفضلِ تعالیٰ موصیہ تھیں۔ قبر تیار ہونے پر محترم عطاء المجیب راشد صاحب امام مسجد فضل لندن نے دعا کروائی۔

اولاد

اللہ تعالیٰ نے آپا کو تین بیٹوں اور ایک بیٹی سے نوازا۔ سب بچے اللہ کے فضل سے دین کی خدمت میں مصروف رہے ہیں۔ بیٹی طیبہ بلال امریکہ میں ہیں۔بڑے بیٹےندیم کرامت صاحب ایک لمبے عرصہ سے ایم ٹی اے میں خدمت کی توفیق پارہے ہیں۔ دوسرے بیٹے مظفر کرامت سوئٹزر لینڈ میں صدر خدام الاحمدیہ اورریجنل امیر کی حیثیت سے خدمت بجا لاتے رہے ہیں، اور چھوٹے بیٹےخالد کرامت ایم ٹی اے میں طوعی خدمات کی توفیق پا رہے ہیں۔الحمد للہ۔ اگلی نسل میں پانچ پوتے، پانچ پوتیاں،ایک نواسی اور دو نواسے ہیں۔

درخواستِ دعا

سیدنا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی جماعت کی یہ عاشق روح ہم سے جُدا ہو کراپنے مولیٰ کے حضور حاضر ہو گئی ہیں۔ دعاہے کہ مولیٰ کریم اُن کی بے حساب مغفرت فرمائے، اپنا قُرب عطا فرمائے۔ اپنی رضا کی جنتوں میں عالی مرتبت دائمی گھر عطا فرمائے۔اُن کی دعائوں کے پھل مسیح پاک علیہ السلام کی پیاری جماعت کو اور اُن کے سب پیاروں کوہمیشہ ملتےچلے جائیں۔ آمین اللّٰھم آمین

اے خدابر تُربت او ابرِ رحمت ہا ببار

داخلش کُن از کمالِ فضل در بیت النعیم

٭…٭…٭

متعلقہ مضمون

رائے کا اظہار فرمائیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button