کلام امام الزمان علیہ الصلاۃ والسلام

قربانی کا نام عربی میں نسیکۃ ہے اور نُسُک کا لفظ عربی زبان میں فرمانبرداری اور بندگی کے معنوں میں آتا ہے

اے خدا کے بندو ! اپنے اس دن میں کہ جو بقر عید کا دن ہے غور کرو اور سوچوکیونکہ اِن قربانیوں میں عقلمندوں کے لئے بھید پوشیدہ رکھے گئے ہیں۔ اور آپ لوگوںکومعلوم ہے کہ اس دن بہت سے جانور ذبح کئے جاتے ہیں اور کئی گلے اونٹوں کے اور کئی گلے گائیوں کے ذبح کرتے ہیں۔ اور کئی ریوڑ بکریوں کے قربانی کرتے ہیں اور یہ سب کچھ خدا تعالیٰ کی رضا جوئی کے لئے کیا جاتا ہے۔ اور اسی طرح زمانۂ اسلام کے ابتدا سے ان دنوں تک کیا جاتا ہے۔ اور میرا گمان ہے کہ یہ قربانیاں جو ہماری اس روشن شریعت میں ہوتی ہیں احاطہ شمار سے باہر ہیں۔ اور ان کو اُن قربانیوں پر سبقت ہے کہ جو نبیوں کی پہلی امتوں کے لوگ کیاکرتے تھے اورقربانیوں کی کثرت اس حد تک پہنچ گئی ہے کہ ان کے خونوں سے زمین کا منہ چھپ گیا ہے۔ یہاں تک کہ اگر اُن کے خون جمع کئے جائیں اور اُن کے جاری کرنے کا ارادہ کیا جائے تو البتہ ان سے نہریں جاری ہو جائیں اور دریا بہ نکلیں اور زمین کے تمام نشیبوں اور وادیوں میں خون رواں ہونے لگے۔ اور یہ کام ہمارے دین میں ان کاموں میں سے شمار کیا گیا ہے کہ جو اللہ تعالیٰ کے قرب کا موجب ہوتے ہیں اور اُس سواری کی طرح یہ سمجھے گئے ہیں کہ جو اپنی سیر میں بجلی سے مشابہ ہو جس کو بجلی کی چمک سے مماثلت حاصل ہو اور اِسی وجہ سے ان ذبح ہونیوالے جانوروں کا نام قربانی رکھا گیا کیونکہ حدیثوں میں آیا ہے کہ یہ قربانیاں خدا تعالیٰ کے قرب اور ملاقات کا موجب ہیں اس شخص کے لئے کہ جو قربانی کو اخلاص اور خدا پرستی اور ایمان داری سے ادا کرتا ہے اور یہ قربانیاں شریعت کی بزرگ تر عبادتوں میں سے ہیں اور اسی لئے قربانی کا نام عربی میں نسیکۃ ہے اور نُسُک کا لفظ عربی زبان میں فرمانبرداری اور بندگی کے معنوں میں آتا ہے۔ اور ایسا ہی یہ لفظ یعنی نُسُک اُن جانوروں کے ذبح کرنے پر بھی زبان مذکور میں استعمال پاتا ہے جن کا ذبح کرنا مشروع ہے۔ پس یہ اشتراک کہ جو نُسُک کے معنوں میں پایا جاتا ہے قطعی طور پر اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ حقیقی پرستاراور سچا عابد وہی شخص ہے جس نے اپنے نفس کو مع اس کی تمام قوتوں اور مع اس کے اُن محبوبوں کے جن کی طرف اُس کا دِل کھینچا گیا ہے اپنے رب کی رضا جوئی کیلئے ذبح کر ڈالا ہے۔ اور خواہش نفسانی کو دفع کیا یہاں تک کہ تمام خواہشیں پارہ پارہ ہو کر گِر پڑیں اور نابود ہوگئیں اور وہ خود بھی گداز ہوگیا اور اس کے وجود کا کچھ نمود نہ رہا اور چھپ گیا اور فنا کی تُند ہوائیں اس پر چلیں اوراس کے وجود کے ذرّات کو اس ہوا کے سخت دھکّے اُڑا کر لے گئے۔ اور جس شخص نے ان دونوں مفہوموں میں کہ جو باہم نُسُک کے لفظ میںمشارکت رکھتے ہیں غور کی ہوگی اور اس مقام کو تدبّر کی نگاہ سے دیکھا ہوگا اور اپنے دل کی بیداری اور دونوں آنکھوں کے کھولنے سے پیش وپس کو زیر نظر رکھا ہوگا پس اُس پر پوشیدہ نہیں رہے گا اور اس امر میں کسی قسم کی نزاع اس کے دامن کو نہیں پکڑے گی کہ یہ دو معنوں کا اشتراک کہ جو نُسُک کے لفظ میں پایا جاتاہے اس بھید کی طرف اشارہ ہے کہ وہ عبادت جو آخرت کے خسارہ سے نجات دیتی ہے وہ اس نفس امارہ کا ذبح کرنا ہے کہ جو بُرے کاموں کیلئے زیادہ سے زیادہ جوش رکھتا ہے اور ایسا حاکم ہے کہ ہر وقت بدی کا حکم دیتا رہتا ہے پس نجات اس میں ہے کہ اس بُرا حکم دینے والے کو انقطاع الی اللہ کے کاردوں سے ذبح کر دیا جائے اور خلقت سے قطع تعلق کر کے خدا تعالیٰ کو اپنا مونس اور آرام جاں قرار دیا جائے اور اس کے ساتھ انواع اقسام کی تلخیوں کی برداشت بھی کی جائے تا نفس غفلت کی موت سے نجات پاوے اور یہی اسلام کے معنے ہیں اور یہی کامل اطاعت کی حقیقت ہے اور مسلمان وہ ہے جس نے اپنا منہ ذبح ہونے کے لئے خدا تعالیٰ کے آگے رکھ دیا ہو۔اوراپنے نفس کی اونٹنی کو اس کے لئے قربان کر دیا ہو اور ذبح کے لئے پیشانی کے بل اس کو گرا دیا ہو اور موت سے ایک دم غافل نہ ہو۔پس حاصل کلام یہ ہے کہ ذبیحہ اور قربانیاں جو اسلام میں مروّج ہیں وہ سب اسی مقصود کے لئے جو بذل نفس ہے بطور یاددہانی ہیں اور اس مقام کے حاصل کرنے کے لئے ایک ترغیب ہے اور اُس حقیقت کے لئے جو سلوک تام کے بعد حاصل ہوتی ہے ایک ارہاص ہے ۔ پس ہر ایک مرد مومن اور عورت مومنہ پر جو خدائے ودود کی رضا کی طالب ہے واجب ہے کہ اس حقیقت کو سمجھے اور اس کو اپنے مقصود کا عین قرار دے اور اس حقیقت کواپنے نفس کے اندر داخل کرے یہاںتک کہ وہ حقیقت ہر ذرّہ وجودمیں داخل ہو جائے۔ اور راحت اور آرام اختیار نہ کرے جب تک کہ اس قربانی کو اپنے ربّ معبود کے لئے ادا نہ کرلے۔ اور جاہلوں اور نادانوں کی طرح صرف نمونہ اور پوست بے مغز پر قناعت نہ کر بیٹھے۔بلکہ چاہیے کہ اپنی قربانی کی حقیقت کو بجالاوے اور اپنی ساری عقل کے ساتھ اور اپنی پرہیزگاری کی رُوح سے قربانی کی رُوح کو ادا کرے۔ یہ وہ درجہ ہے جس پر سالکوں کا سلوک انتہا پذیر ہوتاہے اور عارفوں کا مقصد اپنی غایت کو پہنچتا ہے۔اور اس پرتمام درجے پرہیزگاروں کے ختم ہو جاتے ہیں اور سب منزلیں راستبازوں اور برگزیدوں کی پوری ہو جاتی ہیں۔ اور یہاں تک پہنچ کر سَیر اولیاء کا اپنے انتہائی نقطہ تک جا پہنچتا ہے۔

(خطبہ الہامیہ(اردو ترجمہ )شائع کردہ نظارت اشاعت صدر انجمن احمدیہ۔صفحہ 37تا47)

٭٭٭

متعلقہ مضمون

رائے کا اظہار فرمائیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button