خلاصہ خطبہ جمعہ

خلاصہ خطبہ جمعہ سیّدنا امیر المومنین حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ 03؍ جولائی 2020ء

آنحضرتﷺ کے عظیم المرتبت صحابی حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کے اوصافِ حمیدہ کا تذکرہ

واقعہ افک کےموقعے پر بھی سعد بن معاذ ؓ نے بےلوث فدائیت کا اظہارفرمایا تھا ۔اسی طرح غزوۂ خندق میں بنو قریظہ کے سردار کعب بن اسد سے مذاکرات کے لیے جن بااثر صحابہ کو بھجوایا گیا آپؓ اُن میں بھی شامل تھے۔ غزوۂ خندق کے بعد بنو قریظہ کو غداری کی سزا دینے میں بھی سعدؓ نے کردار ادا کیا۔

امیر المومنین حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ  بنصرہ العزیزنےمورخہ 03؍ جولائی 2020ء کو مسجد مبارک، اسلام آباد، ٹلفورڈ، یوکے میں خطبہ جمعہ ارشاد فرمایا جو مسلم ٹیلی وژن احمدیہ کے توسّط سے پوری دنیا میں نشرکیا گیا۔ جمعہ کی اذان دینے کی سعادت مکرم رانا عطا الرحیم صاحب کے حصے میں آئی۔تشہد، تعوذ اور سورة الفاتحہ کی تلاوت کے بعد حضورِانورایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا:

گذشتہ خطبات سے حضرت سعد بن معاذؓ کاذکر چل رہا تھا۔جنگِ بدر میں پیش آنے والے عہدِوفاکے اظہار پرمبنی واقعے کوحضرت مصلح موعودؓ نےاپنے انداز سے یوں بیان فرمایا ہے کہ یہ قدرتی بات ہے کہ جہاں عشق ہوتا ہے وہاں کوئی شخص نہیں چاہتا کہ میرے محبوب کو کوئی تکلیف پہنچے یا محبوب لڑائی میں جائے۔ اسی طرح صحابہ بھی نہیں چاہتے تھے کہ آپﷺ لڑائی پر جائیں۔ جب رسول کریمﷺبدر کے قریب پہنچے تو آپؐ نے صحابہ سے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے خبر دی ہے کہ ہمارا مقابلہ قافلے سے نہیں بلکہ فوج سے ہوگا۔ پھر آپؐ نے صحابہ سے مشورہ طلب فرمایاجس پر اکابر مہاجر صحابہ نے بڑی جاںنثارانہ تقریریں کیں لیکن آنحضرتﷺ ہر تقریر کے بعد یہی فرماتے رہے کہ مجھے مشورہ دو۔ جس پر حضرت سعد بن معاذؓ رئیس اوس نے رسول اللہﷺکا منشاسمجھا اور انصار کی طرف سے اخلاص و وفا سے پُر تقریر میں فرمایا کہ آپؐ جہاں چلیں ہم آپؐ کے ساتھ ہیں۔ خدا کی قسم !اگر آپ ہمیں سمندر میں کود جانے کا حکم دیں تو ہم کود جائیں گے اورہم میں سے ایک فرد بھی پیچھے نہیں رہے گا۔ ہم آپ کے آگے بھی لڑیں گے اور پیچھے بھی، دائیں بھی لڑیں گے اور بائیں بھی اور دشمن آپ تک نہیں پہنچ سکتا جب تک وہ ہماری لاشوں کو روندتا ہوا نہ گزرے۔ ایک صحابی جو رسول اللہﷺ کی معیت میں تیرہ جنگوں میں شریک ہوئے کہتے ہیں کہ کاش مَیں بجائے ان لڑائیوں میں حصّہ لینے کے اس فقرے کا کہنے والا ہوتا جو سعد بن معاذؓ کے منہ سے نکلا۔

سورہ رعد آیت 12،

لَہٗ مُعَقِّبٰتٌ مِّنۡۢ بَیۡنِ یَدَیۡہِ وَ مِنۡ خَلۡفِہٖ …الخ

یعنی اُس کے لیے اُس کے آگے اور پیچھے چلنے والے محافظ مقرر ہیں کی تفسیر کرتے ہوئے حضرت مصلح موعودؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہﷺ کا تمام زمانہ نبوت اس حفاظت کا ثبوت ہے چنانچہ مکّہ معظمہ میں آپؐ کی حفاظت فرشتے ہی کیا کرتے تھے ورنہ اس قدر دشمنوں میں گِھرے ہوئے رہ کر آپؐ کی جان کس طرح محفوظ رہ سکتی تھی۔ ہاں مدینے میں آسمانی فرشتوں اور زمینی فرشتوں یعنی صحابہ کی، دونوں قسم کی حفاظت آپؐ کو حاصل ہوئی۔پھر حضرت مصلح موعودؓ نے جنگِ بدرمیں پیش آنے والے اخلاص ووفا کے اظہار کے اس نادر واقعے کو بیان کرنے کے بعد فرمایایہ مخلصین بھی اُن معقّبٰت یعنی محافظوں میں سےتھے جو خداتعالیٰ نے حضورﷺ کی حفاظت کے لیے مقرر فرمادیے تھے۔

جنگِ بدر کے موقعے پر حضرت سعد بن معاذؓ کے اخلاص کا ذکر کرتے ہوئے ’سیرت خاتم النبیینؐ‘ میں حضرت مرزا بشیر احمد صاحبؓ تحریرفرماتے ہیں۔سعد بن معاذؓ نے میدانِ جنگ کے ایک حصّے میں آنحضرتﷺ کے واسطے سائبان سا تیار کرکےاس کےساتھ ہی اچھی قسم کے ایک اونٹ کو باندھ دیا۔ پھر رسول اللہﷺکی خدمت میں عرض کیا کہ یارسول اللہﷺ! آپ اس سائبان میں تشریف رکھیں اور ہم اللہ کا نام لے کر دشمن کا مقابلہ کرتے ہیں۔ اگر خدا نے ہمیں فتح دی تو الحمدللہ۔ لیکن خدانخواستہ معاملہ دگرگوں ہوا تو آپؐ اپنی سواری پر جس طرح بھی ہو مدینہ پہنچ جائیں۔ وہاں ہمارے ایسے بھائی بند موجود ہیں جو محبت و اخلاص میں ہم سے کم نہیں۔ وہ آپؐ کی حفاظت میں جان تک لڑادینے سے دریغ نہیں کریں گے۔

غزوۂ احد کی شب حضرت سعد بن معاذؓ، حضرت اسید بن حضیرؓ اور حضرت سعد بن عبادہؓ مسجد نبویؐ میں ہتھیار پہنے رسول اللہﷺ کے دروازے پر پہرہ دیتے رہے۔ جب رسول اللہﷺ گھوڑے پر سوار، کندھے پر کمان اور نیزہ ہاتھ میں لے کرمدینے سے روانہ ہوئے تو سعد بن معاذؓ اور سعد بن عبادہؓ آپؐ کی سواری کے سامنے آہستہ آہستہ دوڑتے جاتے تھے۔

حضرت سعد بن معاذؓ کی والدہ کو آنحضرتﷺ سے کس قدر محبت تھی اس کا ذکر کرتے ہوئے حضرت مصلح موعودؓ فرماتے ہیں۔

جنگِ احد سے واپسی پر حضرت سعد بن معاذؓرسول کریمﷺ کی سواری کی باگ پکڑے ہوئے فخر سے چل رہے تھے۔ آپؓ کاایک بھائی جنگ میں مارا گیا تھا۔ مدینے میں آنحضرت ﷺ کی شہادت کی خبر مشہور ہوگئی تھی۔ یہ خبر سُن کر سعدؓ کی بوڑھی والدہ جن کی آنکھوں کا نُورجاچکا تھا لڑکھڑاتی ہوئی مدینے سے باہر نکلی جارہی تھیں۔ جب حضوراکرمﷺ اس بوڑھی عورت کے قریب پہنچے تو اُس بڑھیا نے اپنے بیٹوں کی نسبت نہیں بلکہ رسول اللہﷺ کے متعلق پوچھاکہ وہ کہاں ہیں؟سعد نے جواب دیا آپ کے سامنے ہیں۔ اس بوڑھی عورت کی کم زور نگاہیں آپؐ کے چہرے پر پھیل کر رہ گئیں۔ رسول اللہﷺ نے فرمایا بی بی! مجھے افسوس ہے تمہارا جوان بیٹا جنگ میں شہید ہوگیا۔ اس بڑھیا نے کیسا محبت بھرا جواب دیا کہ یارسول اللہﷺ! آپؐ کیسی باتیں کر رہے ہیں۔ مجھے تو آپؐ کی خیریت کی فکر تھی۔

حضرت مصلح موعودؓ احمدی خواتین کو فریضۂ تبلیغ کی طرف توجہ دلاتے ہوئے فرماتے ہیں کہ یہی وہ عورتیں تھیں جو اسلام کی اشاعت اور تبلیغ میں مردوں کے دوش بدوش چلتی تھیں۔ تمہارا بھی یہ دعویٰ ہے کہ تم حضرت مسیح موعودؑ پر ایمان لائی ہو اور حضرت مسیح موعودؑ رسول کریمﷺ کے بُروز ہیں گویا دوسرے لفظوں میں تم صحابیات کی بُروز ہو۔ لیکن تم صحیح طور پر بتاؤ کہ کیا تمہارے اندر دین کا وہی جذبہ موجزن ہے جو صحابیات میں تھا۔ اگر تم غور کروگی تو اپنے آپ کو صحابیات سے بہت پیچھے پاؤ گی۔

حضورِانور نے فرمایا کہ چونکہ حضرت مصلح موعودؓ یہاں عورتوں سے مخاطب تھے اس لیے اُن کا ذکر ہے ورنہ بے شمار جگہ پر خلفاء یہ کہتے آئے ہیں،مَیں بھی بےشمار دفعہ کہہ چکا ہوں کہ ہمارے مردوں کو بھی صحابہ کے نمونے دکھانے ہوں گے تب ہی ہم جو اسلام کو دنیا میں پھیلانے کادعویٰ کرتے ہیں اس پر عمل کرنے والے ہوں گے۔

حضرت مصلح موعودؓ صحابیات کی قربانیوں کا ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ عیسائی دنیا مریم مگدلینی اور اس کی ساتھی عورتوں کی اس بہادری پر خوش ہے کہ وہ مسیح کی قبر پر دشمن سے چھپ کر پہنچی تھیں۔ مَیں ان سے کہتا ہوں کہ آؤ اور ذرا میرے محبوب کے مخلصوں اور فدائیوں کو دیکھو کہ کن حالات میں انہوں نے اس کا ساتھ دیا اور توحیدکے جھنڈے کو بلند کیا۔

جب آنحضرت ﷺ مدینے تشریف لائے تو دیگر یہودی سرداروں کے ساتھ کعب بن اشرف بھی امن و امان اور مشترکہ دفاع کے معاہدے میں شامل ہوا۔ لیکن درپردہ یہ شخص اسلام مخالف سرگرمیوں میں پیش پیش رہا۔ کعب یہودی علماء کو بہت سی خیرات بھی دیا کرتا تھا۔جنگِ بدر میں مسلمانوں کی غیرمعمولی فتح پر کعب بڑا سیخ پا ہوا۔ اُس نے سمجھ لیا کہ اب یہ نیا دین ازخود مٹتا نظر نہیں آتااوراسلام کو مٹانے کا تہیہ کرلیا۔ چنانچہ وہ مکّہ گیاجہاں اپنی چرب زبانی اور شعرگوئی سے قریش کے دلوں میں سلگتی ہوئی آگ کو شعلہ بار کرکے سردارانِ قریش سے کعبے کے پردے کو تھما کر اسلام اور بانیٔ اسلام ؐکو صفحۂ ہستی سے نابود کردینے کی قسمیں لیں۔ کعب نے اسی پر بس نہ کی بلکہ وہ دیگر عرب قبائل کو بھی اسلام کے خلاف اکساتا رہا۔ مدینے میں اس نے اسلام مخالف نیز مسلم خواتین پر فحش اشعارکہے حتیٰ کہ آنحضرتﷺ کے قتل کی سازش تیار کی۔جب نوبت یہاں تک پہنچ گئی تو رسول اللہﷺ نے مدینےکی جمہوری سلطنت کے صدر اور حاکمِ اعلیٰ کے طور پر عہدشکنی، بغاوت،تحریکِ جنگ،فتنہ پردازی، فحش گوئی اور سازشِ قتل کے سبب کعب بن اشرف کو حکمت کے ساتھ قتل کردینے کا حکم صادر فرمایا۔اس مقصد کے لیے آپؐ نے محمد بن مسلمہؓ کا انتخاب فرمایا اور انہیں تاکید فرمائی کہ کعب کے قتل کے لیے جوبھی طریق اختیار کروقبیلہ اوس کے سردار حضرت سعد بن معاذؓ سے ضرور مشورہ کرنا۔چنانچہ مشورے کے مطابق محمد بن مسلمہ نے ابو نائلہ اور دو تین دیگر صحابہ کے ہم راہ کعب کے قتل کی سزا کو عملی جامہ پہنایا۔

جب قبیلہ بنو نضیر سے حاصل ہونے والے اموالِ فے کے متعلق آنحضرتﷺ نے انصار کے سامنے یہ آرا پیش فرمائیں کہ یا تو اموال انصار و مہاجرین میں برابر تقسیم کردیے جائیں یاسب مال مہاجرین کو دے دیا جائے تاکہ وہ اپنے پیروں پر کھڑے ہوکر انصار کےگھروں سے نکل جائیں۔ اس پر سعد بن عبادہؓ اور سعد بن معاذؓنے آپس میں مشورہ کرکے آنحضرتﷺ سے عرض کیا کہ یارسول اللہﷺ آپ یہ اموال مہاجرین میں تقسیم فرمادیں اور وہ حسبِ سابق ہمارے گھروں میں رہیں۔ ہم یہ نہیں کہتے کہ وہ ہمارے گھروں سے نکل جائیں۔ یہ سن کر آنحضرتﷺ بہت خوش ہوئے اور دعا کی کہ اے اللہ! انصار پر اور انصار کے بیٹوں پر رحم فرما۔

واقعہ افک کےموقعے پر بھی سعد بن معاذ ؓ نے بےلوث فدائیت کا اظہارفرمایا تھا۔اسی طرح غزوۂ خندق میں بنو قریظہ کے سردار کعب بن اسد سے مذاکرات کے لیے جن بااثر صحابہ کو بھجوایا گیا آپؓ اُن میں بھی شامل تھے۔ غزوۂ خندق کے بعد بنو قریظہ کو غداری کی سزا دینے میں بھی سعدؓ نے کردار ادا کیا۔

خطبے کے اختتام پر حضورِ انور نے فرمایا کہ اس جنگ کی تفصیل کچھ لمبی ہے اس لیے ان شاء اللہ آئندہ بیان کروں گا۔

٭…٭…٭

متعلقہ مضمون

رائے کا اظہار فرمائیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button