متفرق مضامین

زمانۂ مسیح موعود میں ظاہر ہونے والی علامات اور ان کا مصداق (قسط اوّل)

(حافظ مظفر احمد)

الساعۃ یعنی قیامت سے کیا مراد ہے ؟نیز احادیث میں قرب قیامت کی علامات کی حقیقت

قرآن شریف اور احادیث نبویؐ سے جہاں رسول کریمﷺ کی صداقت کے دلائل ثابت ہوتے ہیں وہاں آپؐ کے کامل فرمانبردار اور خادم اسلام امتی مسیح و مہدی کے زمانہ ظہور اوراس کی علامات و نشانات کا بھی پتہ چلتا ہے۔ اس کےلیے کلام الٰہی کاتدبرسے مطالعہ ضروری ہے۔

قیامت، ساعت اور حشر کا مطلب

قرآن شریف میں کسی مامور من اللہ یانبی کی آمد پر برپاہونےوالےروحانی انقلاب کے لیے بھی قیامت، حشر اور الساعة وغیرہ کے محاورے استعمال کیے گئے ہیں۔ جیساکہ رسول اللہﷺ بھی روحانی مردے زندہ کرنے کےلیے تشریف لائے تھے اور آپؐ کی آواز پر لبیک کہنے والوں میں سب سے بڑا روحانی حشر برپاہواجیساکہ فرمایا:

یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوا اسۡتَجِیۡبُوۡا لِلّٰہِ وَ لِلرَّسُوۡلِ اِذَا دَعَاکُمۡ لِمَا یُحۡیِیۡکُمۡ

(الأَنْفال:25)

اے وہ لوگو جو اىمان لائے ہو! اللہ اور رسول کى آواز پر لبىک کہا کرو جب وہ تمہىں بلائے تاکہ وہ تمہىں زندہ کرے۔

پھر جب رسول کریمﷺ کی صداقت کے لیے مکی دور میں نبوت کے پانچویں سال میں شقّ قمر کا نشان ظاہر ہوا تواللہ تعالیٰ نے اسےقرب ساعت کی علامت قراردیتے ہوئےفرمایا:

اِقْتَرَبَتِ السَّاعَةُ وَانْشَقَّ الْقَمَرُ

(القمر: 2)

کہ قیامت قریب آگئی اور چاند دوٹکڑے ہوگیا۔

اب ظاہرہےاس سے مراد قرب قیامت کبریٰ نہیں کیونکہ دنیا کی آخری تباہی کی وہ گھڑی تو پندرہ سو سال گزرجانے پر بھی نہیں آئی تو پھر قرب ساعت سے کیا مراد تھی؟دراصل عربوں میں چاند کو ان کی حکومت کی علامت سمجھا جاتا تھا اور اس کے دو ٹکڑے ہوجانے کانشان ان کی حکومت کے خاتمہ کی طرف اشارہ تھا۔ چنانچہ اس آیت کے نزول کے آٹھ سال بعدسردارانِ مکہ نے رسول اللہﷺ کو اپنے شہر تک سے نکال دیااورپھر مزید آٹھ سال بعد رسول اللہﷺ اسی مکہ میں فاتحانہ شان سے داخل ہوئے۔ یہ واقعہ اہل مکہ کےلیے قیامت صغریٰ سے کم نہ تھا۔ سورۂ قمر کی یہ پیشگوئی صرف16سال بعد بڑی شان سے پوری ہوگئی اور ثابت ہوگیاکہ قرب ساعت سے مراد فتح مکہ تھی۔ یہی مضمون سورة الانبیاء میں غافل اور اعراض کرنے والے(اہل مکہ) کا یوم حساب قریب آجانے کے حوالے سے یوں بیان فرمایا:

اقْتَرَبَ لِلنَّاسِ حِسَابُهُمْ وَهُمْ فِيْ غَفْلَةٍ مُعْرِضُوْنَ

(الأنبياء:2)

یعنی ان (کافر)لوگوں کے حساب کا وقت قریب آگیا ہے۔ اور وہ غفلت میں اعراض کررہے ہیں۔

مکی دور کی اس آیت سےبھی ظاہری قیامت ثابت نہیں ہوتی لیکن فتح مکہ پر یہ پیشگوئی بھی بڑی شان سےپوری ہوئی۔ اسی طرح آخری مکی زمانہ میں اترنے والی سورة الحجر میں فرمایا:

وَإِنَّ السَّاعَةَ لَآتِيَةٌ

(الحجر:86)

کہ ساعت آیا ہی چاہتی ہے اورسورہ ٔنحل کے شروع میں فرمایا:

أَتٰٓى أَمْرُ اللّٰهِ فَلَا تَسْتَعْجِلُوْهُ

(النحل :2)

یعنی اللہ کا حکم(وہ موعود وقت)آہی گیا ہے۔ پس تم اس کے متعلق جلدی نہ کرو۔

ان دونوں جگہ ساعت اور امر سے مراد بھی فتح مکہ ہے جو ہجرت کے آٹھ سال کے قلیل عرصہ میں حاصل ہوگئی۔

رسول اللہؐ کا ظہور اور ’’ساعتِ‘‘ روحانی

اسی بنا پر رسول کریمﷺ نے اپنی انگشت شہادت کے ساتھ دوسری انگلی کو ملاکر فرمایاتھا:

أَنَا وَالسَّاعَةَ كَهَاتَيْنِ

(بخاری کتاب الرقاق بَابُ قَوْلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:بُعِثْتُ أَنَا وَالسَّاعَةَ كَهَاتَيْنِ)

کہ میں اور قیامت ان دو انگلیوں کی طرح ملے ہوئے ہیں۔ جس کا ایک مطلب یہ تھا کہ فتح مکہ کی قیامت صغریٰ آنحضرتﷺ کے زمانہ سے وابستہ ہے اورآپ کی زندگی میں ظاہرہوکررہے گی۔ ترمذی کی روایت میں مزید وضاحت ہے کہ

عَنِ الْمُسْتَوْرِدِ بْنِ شَدَّادٍ الفِهْرِيِّ، رَوَى عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: بُعِثْتُ فِي نَفَسِ السَّاعَةِ فَسَبَقْتُهَا كَمَا سَبَقَتْ هَذِهِ هَذِهِ لِأُصْبُعَيْهِ السَّبَّابَةِ وَالوُسْطَى۔ (ترمذی ابواب الفتن باب ماجاء فی قول النبیؐ انا والساعة کھاتین)

مَیں نفس قیامت میں ہی بھیجاگیا ہوں۔ پھر میں اس سے اتنا آگے بڑھ گیا جتنافرق ان درمیانی انگلی کی لمبائی اور انگشت شہادت میں ہے۔

اوریہ فرق بالعموم ہرانسان میں درمیانی انگلی کا آٹھواں حصہ ہوتا ہے۔ مطلب یہ کہ اگر اس انگلی کو رسول اللہﷺ کی عمر63سال شمار کیا جائے تو اس کے آٹھویں حصہ یعنی قریباً آٹھ سال بعد ہجرت نبوی مکہ فتح ہوا اور یہ پیشگوئی پوری ہوئی جو بوقت ہجرت اشاراتی زبان میں کی گئی تھی۔

دوسری صورت میں اگر اس حدیث سے مراد قیامت کبریٰ لی جائے تو مطلب یہ ہوگا کہ آخری زمانہ اور خاتم الانبیاء حضرت محمدﷺ کا دَور شروع ہوچکا۔ جس کے بعد قیامت کبریٰ کا ظہورہوناہے۔ آپؐ کی آمد سے حشر اجساد کی اس بڑی قیامت سے پہلے رسول اللہﷺ نے کئی اور علامات و نشانات کا ذکر بطور ’’اشراط الساعة‘‘ فرمایا ہے جن کا آغاز آپؐ کے دم قدم سے ہوگیا۔ جس کا اعلان بھی سورة محمدؐ میں یہ فرمادیا کہ

فَہَلۡ یَنۡظُرُوۡنَ اِلَّا السَّاعَۃَ اَنۡ تَاۡتِیَہُمۡ بَغۡتَۃً ۚ فَقَدۡ جَآءَ اَشۡرَاطُہَا ۚ فَاَنّٰی لَہُمۡ اِذَا جَآءَتۡہُمۡ ذِکۡرٰٮہُمۡ

(محمد :19)

پس کىا وہ محض ساعت کا انتظار کر رہے ہىں کہ وہ اچانک ان کے پاس آجائے پس اس کى علامات تو آچکى ہىں پھر جب وہ بھى ان کے پاس آجائے گى تو اس وقت اُن کا نصىحت پکڑنا اُن کے کس کام آئے گا۔

قرب ساعت اور اس کی نشانیاں

چنانچہ شیخ علی اصغر بروجردی(متوفی:1934ء)اپنی کتاب میں اس آیت کی تفسیر میں یہ روایت لائے ہیں کہ

’’آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فَقَدْ جَاءَ أَشْرَاطُهَا(محمد: 19)کی تفسیر میں اپنے صحابہ کرام سے ذکر فرمایا کہ قیامت کی جو علامات مَیں تمہیں بتاتا ہوں ممکن ہے کہ اس سے مراد قیامت صغریٰ یعنی امام مہدی کے ظہور اور اس کے بعد کا زمانہ ہو چنانچہ بعض ائمہ اہل بیت کی روایات میں مذکور ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ’’قیامت‘‘ اور’’ ساعت‘‘ کے بارے میں جو علامات بیان فرمائی ہیں اس سے مرا دقیامت صغریٰ ہے جو آل محمد یعنی حضرت امام مہدی کی تشریف آوری یعنی اس کا زمانہ ظہور اور اس کی ابتداکے حالات ہیں۔

اس پر حضرت سلمان فارسیؓ نے عرض کیا یا رسول اللہؐ وہ علامات بیان فرمایے تو حضورؐ نے فرمایا کہ اس زمانہ کی علامت نماز کو ضائع کرنا، شہوات کی پیروی، مال کی زیادہ تعظیم اور دین کو دنیا کے عوض بیچ ڈالناہوںگی۔ ‘‘

(نورالانوار صفحہ13، ترجمہ از فارسی)

اس روایت میں بیان کردہ علامات کی تائید دیگر متعدد روایات حدیث سے بھی ہوتی ہے جن کا آگے ذکرہوگا۔

چنانچہ حضرت جبرئیلؑ نے رسول کریمﷺ کو ’’الساعة‘‘ کی اشراط یعنی علامات بھی بتائیں۔ مکمل روایت حسب ذیل ہے:

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَارِزًا يَوْمًا لِلنَّاسِ، فَأَتَاهُ جِبْرِيْلُ فَقَالَ: مَا الْإِيْمَانُ؟ قَالَ:’’الْإِيْمَانُ أَنْ تُؤْمِنَ بِاللّٰهِ وَمَلاَئِكَتِهِ، وَكُتُبِهِ، وَبِلِقَائِهِ، وَرُسُلِهِ وَتُؤْمِنَ بِالْبَعْثِ‘‘. قَالَ: مَا الْإِسْلاَمُ؟ قَالَ: “اَلْإِسْلاَمُ: أَنْ تَعْبُدَ اللّٰهَ، وَلاَ تُشْرِكَ بِهِ شَيْئًا، وَتُقِيمَ الصَّلوٰةَ، وَتُؤَدِّيَ الزَّكَاةَ المَفْرُوضَةَ، وَتَصُوْمَ رَمَضَانَ‘‘. قَالَ: مَا الْإِحْسَانُ؟ قَالَ:’’أَنْ تَعْبُدَ اللّٰهَ كَأَنَّكَ تَرَاهُ، فَإِنْ لَمْ تَكُنْ تَرَاهُ فَإِنَّهُ يَرَاكَ‘‘، قَالَ: مَتَى السَّاعَةُ؟ قَالَ: “ مَا المَسْئُولُ عَنْهَا بِأَعْلَمَ مِنَ السَّائِلِ، وَسَأُخْبِرُكَ عَنْ أَشْرَاطِهَا: إِذَا وَلَدَتِ الْأَمَةُ رَبَّهَا، وَإِذَا تَطَاوَلَ رُعَاةُ الإِبِلِ البُهْمُ فِي البُنْيَانِ، فِي خَمْسٍ لاَ يَعْلَمُهُنَّ إِلَّا اللّٰهُ “ ثُمَّ تَلَا النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ’’إِنَّ اللّٰهَ عِنْدَهُ عِلْمُ السَّاعَةِ‘‘ (لقمان: 34) الآيَةَ، ثُمَّ أَدْبَرَ فَقَالَ: ’’رُدُّوْهُ‘‘ فَلَمْ يَرَوْا شَيْئًا، فَقَالَ: ’’هَذَا جِبْرِيْلُ جَاءَ يُعَلِّمُ النَّاسَ دِيْنَهُمْ‘‘ قَالَ أَبُو عَبْدِ اللّٰهِ: جَعَلَ ذٰلِكَ كُلَّهُ مِنَ الْإِيْمَانِ

(صحیح بخاری کتاب الایمان بَابُ سُؤَالِ جِبْرِيلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الإِيمَانِ، وَالإِسْلاَمِ، وَالإِحْسَانِ، وَعِلْمِ السَّاعَةِ)

اس روایت میں قیامت کی یہ علامات بیان کی گئی ہیں :

اول یہ کہ جب لونڈی اپنے آقا کو جنے۔ دوسرے جب سیاہ اونٹوں کے چَرانے والے بڑی بڑی بلند عمارتیں بنانے لگیں۔ وہ قیامت کبریٰ ان پانچ باتوں میں ہے جن کو اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ پھرجبرئیلؑ نے یہ آیت پڑھی:

إِنَّ اللّٰهَ عِنْدَهُ عِلْمُ السَّاعَةِ (لقمان :35)

یقیناً اللہ ہى ہے جس کے پاس قىامت کا علم ہے۔

رسول اللہﷺ کی بیان فرمودہ اس پیشگوئی کے مطابق قیامت کبریٰ کی علامات کا سلسلہ جوآپﷺ کے ظہورسے شروع ہوا۔ قرون وسطیٰ میں بھی آگے بڑھا اور لونڈی کے آقا کو جنم دینے کی یہ علامت1206ء (مطابق602ھ)میں اس وقت پوری ہوئی جب ہندوستان میں باقاعدہ ایک خاندان غلاماں کی حکومت کاآغاز ہوا جو1290ء تک قائم رہی۔

قرب قیامت کی دوسری علامت اونٹوں کے چرواہوں کے بلندوبالا عمارتوں میں مقابلہ کا سلسلہ ہمارے زمانہ میں گذشتہ صدی سےسعودی عرب اور عرب ریاستوں میں تیل کی دریافت کے بعدسےتاحال جاری ہے۔

تیرہویں صدی ہجری میں ظہور مسیح کا زمانہ

قیامت کبریٰ سے قبل نشانات مسیح و مہدی کے ظہور کے متعلق رسول اللہﷺ نے مزیدیہ بھی فرمایاکہ

’’الْآيَاتُ بَعْدَ الْمِائَتَيْنِ‘‘

(ابن ماجہ کتاب الفتن باب الآیات)

یعنی خاص نشانات کے ظہور کا سلسلہ دوسوسال بعد ہوگا۔

حضرت ملا علی قاری حنفی(متوفی:1014ھ)نے المأتین کے لفظ میں ’’ال‘‘ عہدی قراردیتے ہوئے اس کی تخصیص سے مراد ہزار سال کےبعد دوسوسال لیےیعنی بارہ سو سال بعد خاص نشانات کا ظہور ہوگا۔ اور یہ لکھا کہ یہی وقت زمانۂ ظہور مسیح و مہدی اور دجال کے نشانات کا ہے۔

عَنْ أَبِي قَتَادَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ – صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ’’الْآيَاتُ‘‘) أَيْ: آيَاتُ السَّاعَةِ وَعَلَامَاتُ الْقِيَامَةِ، تَظْهَرُ بِاعْتِبَارِ ابْتِدَائِهَا ظُهُورًا كَامِلًا (’’بَعْدَ الْمِائَتَيْنِ‘‘) أَيْ: مِنَ الْهِجْرَةِ، أَوْ مِنْ دَوْلَةِ الْإِسْلَامِ، أَوْ مِنْ وَفَاتِهِ – عَلَيْهِ الصَّلَوٰةُ وَالسَّلَامُ – وَيُحْتَمَلُ أَنْ يَكُوْنَ اللَّامُ فِي الْمِائَتَيْنِ لِلْعَهْدِ، أَيْ: بَعْدَ الْمِائَتَيْنِ بَعْدَ الْأَلْفِ، وَهُوَ وَقْتُ ظُهُورِ الْمَهْدِيِّ، وَخُرُوجِ الدَّجَّالِ، وَنُزُولِ عِيسَى- عَلَيْهِ الصَّلَوٰةُ وَالسَّلَامُ-وَتَتَابُعِ الْآيَاتِ، مِنْ طُلُوْعِ الشَّمْسِ مِنْ مَغْرِبِهَا، وَخُرُوجِ دَابَّةِ الْأَرْضِ، وَظُهُوْرِ يَأْجُوجَ وَمَأْجُوجَ وَأَمْثَالِهَا۔

(مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح جزء8صفحہ3446)

اور عملاًایسا ہی ہوا۔

اہل تشیع کا بھی اسی تشریح سے اتفاق ہے۔ چنانچہ علامہ حافظ غلام حلیم شاہ عبد العزیزصاحب نے بھی یہی بات لکھی ہے کہ بارہ سو سال بعد قیامت کی علامات اور بڑے نشانات کا ظہور ہوگا۔

(تحفہ اثنا عشری از حافظ غلام حلیم شاہ عبد العزیز دہلوی صفحہ 275)

حضرت بانیٔ جماعت احمدیہ پر اس حدیث ’’دوسوسال بعد خاص نشانات‘‘کا مفہوم توجہ کے نتیجہ میں کھولا گیا۔ آپؑ فرماتے ہیں:

’’اس حدیث کا جو الاٰیات بعد المأتینہے ایک یہ بھی منشاء ہے کہ تیرہویں صدی کے اواخر میں مسیح موعود کا ظہور ہو گا اور کیا اس حدیث کے مفہوم میں بھی یہ عاجز داخل ہے تو مجھے کشفی طور پر اس مندرجہ ذیل نام کے اعدادحروف کی طرف توجہ دلائی گئی کہ دیکھ یہی مسیح ہے کہ جو تیرہویں صدی کے پورے ہونے پر ظاہر ہونے والاتھا پہلے سے یہی تاریخ ہم نے نام میں مقرر کر رکھی تھی اور وہ یہ نام ہے غلام احمد قادیانی اس نام کے عدد پورے تیرہ سو1300ہیں اور اس قصبہ قادیان میں بجز اس عاجز کے اور کسی شخص کا غلام احمد نا م نہیں بلکہ میرے دل میں ڈالا گیا ہے کہ اِسوقت بجز اس عاجز کے تمام دنیا میں غلام احمد قادیانی کسی کا بھی نام نہیں۔ ‘‘

(ازالہ اوہام حصہ اول، روحانی خزائن جلد3 صفحہ 189-190)

ضرورت زمانہ اور مسیحؑ کی آمد

رسول اللہﷺ سےاشراط الساعة یعنی قرب قیامت کے نشانات و علامات کا مضمون جسے صحابۂ رسولؐ نے زمانہ کے بگاڑ کے حوالے سے تفصیلی روایات میں بیان کیا ہے۔

چنانچہ حضرت انس بن مالکؓ کی روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا:

إِنَّ مِنْ أَشْرَاطِ السَّاعَةِ: أَنْ يُرْفَعَ العِلْمُ، وَيَظْهَرَ الجَهْلُ، وَيَفْشُوَ الزِّنَا، وَتُشْرَبَ الخَمْرُ، وَيَكْثُرَ النِّسَاءُ، وَيَقِلَّ الرِّجَالُ حَتَّى يَكُوْنَ لِخَمْسِينَ امْرَأَةٍ قَيِّمٌ وَاحِدٌ

(ترمذی ابواب الفتن باب ماجاء فی اشراط الساعة)

یعنی ’’قرب قیامت کی علامتوں میں سے یہ ہے کہ علم اٹھ جائےگا اور جہالت غالب آجائے گی اور زنا پھیلے گا اور شراب پی جائے گی اور عورتوں کی کثرت ہوگی اور مرد کم ہوںگے۔ یہاں تک کہ پچاس عورتوں پر ایک نگران ہوگا۔ ‘‘

اورحضرت علیؓ اور حضرت ابوہریرہؓ کی روایات میں امت کے پندرہ ایسے بدخصائل کا ذکر ہے کہ جب وہ ظاہرہوںگی تو اس زمانہ کے لوگوں پرآزمائش آئےگی۔ یعنی وقت کےامام پر ایمان یا انکار اور اس کے نتیجہ میں نازل ہونے والی بلا۔ آپؐ نے فرمایا کہ

إِذَا فَعَلَتْ أُمَّتِي خَمْسَ عَشْرَةَ خَصْلَةً حَلَّ بِهَا البَلَاءُ۔ فَقِيْلَ: وَمَا هُنَّ يَا رَسُولَ اللّٰهِ؟ قَالَ:إِذَا كَانَ المَغْنَمُ دُوَلًا، وَالْأَمَانَةُ مَغْنَمًا، وَالزَّكَاةُ مَغْرَمًا، وَأَطَاعَ الرَّجُلُ زَوْجَتَهُ، وَعَقَّ أُمَّهُ، وَبَرَّ صَدِيْقَهُ، وَجَفَا أَبَاهُ، وَارْتَفَعَتِ الأَصْوَاتُ فِي المَسَاجِدِ، وَكَانَ زَعِيْمُ القَوْمِ أَرْذَلَهُمْ، وَأُكْرِمَ الرَّجُلُ مَخَافَةَ شَرِّهِ، وَشُرِبَتِ الخُمُوْرُ، وَلُبِسَ الحَرِيْرُ، وَاتُّخِذَتِ القَيْنَاتُ وَالمَعَازِفُ، وَلَعَنَ آخِرُ هَذِهِ الأُمَّةِ أَوَّلَهَا، فَلْيَرْتَقِبُوْا عِنْدَ ذٰلِكَ رِيْحًا حَمْرَاءَ أَوْ خَسْفًا وَمَسْخًا

(ترمذی ابواب الفتن بَابُ مَا جَاءَ فِي عَلاَمَةِ حُلُولِ الْمَسْخِ وَالخَسْفِ)

آپؐ نے حسب ذیل پندرہ علامات بیان فرمائیں:

٭…جب مال غنیمت کو دولت کا ذریعہ بنایاجائےگا

٭…امانت کومال غنیمت سمجھاجائےگا

٭… زکوٰة کو چٹی

٭… مرد عورت کی اطاعت کرے گا اور اپنی ماں سے بدسلوکی

٭… دوستوں سے حسن سلوک اور والد سے زیادتی

٭… مساجد میں آوازیں(شور) بلندہوگا

٭… کمینے لوگ قوم کے سردار ہوںگے

٭… ایک آدمی کی عزت اس کے شرّ سے بچنے کےلیے ہوگی

٭… شراب پی جائے گی

٭… ریشم پہناجائے گا

٭… گانے والی لونڈیاں اور باجے رکھے جائیںگے

٭… لعنت کریں گے امت کے آخری لوگ پہلوں کو

٭…تو اس وقت انتظارکرنا سرخ ہوا کا

٭…خسف یعنی گرہن کا

٭…مسخ یعنی زلازل کا۔

نشانات کی متواتر بارش

حضرت ابوہریرةؓ کی روایت میں احوال زمانہ کی مذکورہ بالا نشانیوں کے ساتھ مزیدیہ بھی ذکر ہے کہ

…وَآيَاتٍ تَتَابَعُ كَنِظَامٍ بَالٍ قُطِعَ سِلْكُهُ فَتَتَابَعَ۔

(ترمذی ابواب الفتن بَابُ مَا جَاءَ فِي عَلاَمَةِ حُلُولِ الْمَسْخِ وَالخَسْفِ)

’’اس وقت نشانات پے درپے ظاہر ہوں گے جیسے موتیوں کی لڑی کاپرانا دھاگہ ٹوٹ گیا اوردانے گرنے لگے۔ ایسا ہی تیزی سےآثار و علامات قیامت کا ظہور ہوگا۔ ‘‘

ان تمام نشانات کو رسول کریمﷺ نے شروعات قیامت یا اس کے قرب کی علامات قرار دیا۔ چنانچہ حضرت حذیفہ بن اسیدؓ بیان کرتے ہیں کہ

اطَّلَعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَيْنَا وَنَحْنُ نَتَذَاكَرُ، فَقَالَ: ’’مَا تَذَاكَرُونَ؟‘‘ قَالُوا: نَذْكُرُ السَّاعَةَ، قَالَ: ’’إِنَّهَا لَنْ تَقُومَ حَتَّى تَرَوْنَ قَبْلَهَا عَشْرَ آيَاتٍ – فَذَكَرَ – الدُّخَانَ، وَالدَّجَّالَ، وَالدَّابَّةَ، وَطُلُوعَ الشَّمْسِ مِنْ مَغْرِبِهَا، وَنُزُولَ عِيسَى ابْنِ مَرْيَمَ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَيَأَجُوجَ وَمَأْجُوجَ، وَثَلَاثَةَ خُسُوفٍ: خَسْفٌ بِالْمَشْرِقِ، وَخَسْفٌ بِالْمَغْرِبِ، وَخَسْفٌ بِجَزِيرَةِ الْعَرَبِ، وَآخِرُ ذَلِكَ نَارٌ تَخْرُجُ مِنَ الْيَمَنِ، تَطْرُدُ النَّاسَ إِلَى مَحْشَرِهِمْ ‘‘

(مسلم کتاب الفتن باب فی الآیات التی تکون قبل الساعة)

یعنی ’’ہم قیامت کا ذکر کررہے تھے تو رسول اللہﷺ تشریف لائے اور آپؐ نے فرمایا کہ قیامت قائم نہیں ہوگی یہاں تک کہ اس سے پہلے دس نشان ظاہر نہ ہوں پھر آپؐ نے دخان، دجال، مغرب سے سورج کے طلوع ہونے اور عیسیٰ بن مریم کے ظہور، یاجوج ماجوج کی آمد اور تین قسم کے خسوف یعنی زلازل مشرق، مغرب اور جزیرة العرب میں اور دسویں ایک آگ کا ذکر کیا جو یمن سے نکلے گی اور لوگوں کو ان کے محشر ہونے کی جگہ کی طرف ہانکے گی۔ ‘‘

حضرت بانیٔ جماعت احمدیہ علیہ السلام بیان فرماتے ہیں:

’’…احادیثِ صحیحہ میں لکھا ہے کہ جب علامات کا ظہور شروع ہو گا تو تسبیح کے دانوں کی طرح جبکہ اُن کا دھاگہ توڑ دیا جائے وہ ایک دوسرے کے بعد ظاہر ہوتی جائیں گی۔ اس صورت میں ظاہر ہے کہ غلبۂ صلیب کی علامت کے ساتھ اور تمام علامتیں بلاتوقف ظاہر ہونی چاہئیں۔ اور جو علامتیں اب بھی ظاہر نہ ہوں اُن کی نسبت قطعی طورپرسمجھنا چاہئے کہ وہ علامتیں آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم نے بیان نہیں فرمائیں یا بیان فرمائیں مگر ان سے ان کے ظاہری معنے مراد نہ تھے کیونکہ جب علامات کا تسبیح کے دانوں کی طرح ایک کے بعد دوسرے کا ظاہر ہونا ضروری ہے، تو جو علامت اِس نظام سے باہر رہ جائے اور ظاہر نہ ہو اس کا باطل ہونا ثابت ہو گا۔ ‘‘

(ایام الصلح، روحانی خزائن جلد 14صفحہ313تا314)

(باقی آئندہ)

٭…٭…٭

متعلقہ مضمون

رائے کا اظہار فرمائیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button