متفرق مضامین

’شوال کے روزے رمضان المبارک پر بطور پہرہ دار ہیں‘

(ابو حمدانؔ)

رمضان المبارک کا اختتام ہے اور مومنین کے لیے درحقیقت یہ ایسا مرحلہ ہے کہ خدا تعالیٰ کی عبادت کی اس قدر کثرت اور شغف کی وجہ سے اس بابرکت مہینہ کے چلے جانے پر ایک خلا سا محسوس ہونے لگتا ہے۔ اور ایک مومن کی طبعاً ایک تمنا ہوتی ہے کہ یہی کیفیت، یہی ماحول، یہی عبادتوں کی توفیق ہمیشہ سارا سال ہی قائم دائم رہے۔ چنانچہ رسول اللہﷺ نے اسی خواہش کے پیش نظر ارشاد فرمایا کہ

’’مَنْ صَامَ رَمَضَانَ ثُمَّ أَتْبَعَهٗ سِتًّا مِن شَوال فَذَاکَ صِیَامُ الدَّهْرِ‘‘

یعنی جس نے رمضان کے روزے رکھے اورپھرشوال کے چھ روزےرکھے تویہ ہمیشہ (یعنی پورے سال)کے روزے شمارہوں گے۔

حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جس شخص نے رمضان کے روزے رکھے اور پھر اس کے بعد شوال کے چھ روزے رکھے تو گویا اس نے سارے سال کے روزے رکھے ہیں۔

(ترمذی کتاب الصوم باب ماجاء فی ستۃ ایام من شوال )

درحقیقت شوال کے روزے مومنین کے لیے ایک ایڈیشنل ماحول ہے جسے ایک طبعی کیفیت اور میلان کی وجہ سے رسولﷺ نے خود بھی عمل کر کے دکھایا اور صحابہ کرامؓ کا بھی یہی معمول تھا۔

ماہ شوال میں روزے رکھنے سے متعلق حضرت اقدس مسیح موعودؓ نے بھی اپنےنمونہ سے یہ ثابت کیا بلکہ خود باہتمام اس پر عمل کر کے دکھلایا۔چنانچہ حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحبؓ ایم اے حضرت اماں جان ؓسے حضرت مسیح موعودؑ کے روزوں کی بابت ایک روایت بیان کرتے ہیں کہ

’’والدہ صاحبہ نے کہا کہ آخر عمر میں بھی آپ روزے رکھا کر تے تھے خصوصًا شوال کے چھ روزے التزام کے ساتھ رکھتے تھے اور جب کبھی آپ کو کسی خاص کام کے متعلق دعا کرنا ہوتی تھی تو آپ روزہ رکھتے تھے۔‘‘(سیرت المہدی )

اسی التزام کی بابت حضرت مصلح موعودؓ نے فرمایا کہ

’’ایک دفعہ حضرت صاحب نے اس (شوال کے روزوں) کا اہتمام کیا تھا کہ تمام قادیان میں عید کے بعد چھ دن تک رمضان ہی کی طرح اہتمام تھا۔‘‘

(خطبات محمود جلد 1 صفحہ71)

حضرت قمر الانبیاء صاحبزادہ مرزا بشیراحمد صاحب ایم اےؓ نے فرمایا کہ

’’ روزوں کے متعلق ایک خاص بات یہ بھی یاد رکھنے کے قابل ہے کہ جس طرح نماز میں خدا نے فرض نماز کے ساتھ سنت نماز مقرر فرمائی ہے جو گویا فرض نماز کے واسطے بطور محافظ اور پہرہ دار کے ہے یا یوں سمجھنا چاہیئے کہ فرض نماز اندر کا مغز ہے اور سنتیں اس کے گرد کا چھلکا ہیں۔ جو اُسے محفوظ رکھنے کے لئے ضروری ہیں۔ اسی طرح رمضان کے فرض روزوں کے دونوں جانب یعنی رمضان سے قبل شعبان کے مہینہ میں اور رمضان کے بعد شوال کے مہینہ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے خاص طور پر نفلی روزوں کی تحریک فرمائی ہے۔ یہ ایسا ہی ہے جیسے کہ مثلاً ظہر کی نماز میں جو دن کے مصروف ترین حصہ میں آتی ہے اسلام نے اس کے آگے پیچھے سنتیں مقرر فرمادی ہیں۔ دراصل انسانی فطرت کا قاعدہ ہے کہ وہ کسی کام میں توجہ کے جمانے میں کچھ وقت لیتا ہے۔ اور جب توجہ کے اختتام کا وقت آتا ہے تو پھر بسااوقات اس کے اختتام سے قبل ہی اس کی توجہ اکھڑنی شروع ہوجاتی ہے۔ اس لئے آگے پیچھے نفلی روزے رکھ کر درمیانی فرض روزوں کو محفوظ کر دیا گیا ہے اور یہی سنت نماز کا فلسفہ ہے۔ پس دوستوں کو اس کا بھی خیال رکھنا چاہیئے۔‘‘

(الفضل17؍ستمبر1944ء)

اس شوال کے مہینہ کی بابت حضرت خلیفة المسیح الاولؓ فرمایا کرتے تھے کہ

’’پس وقت کی قدر کرو اور ہر ایک چاند جو تمہاری روح کے لئے ایک وقت اور فرصت لاتا ہے اس سے نصیحت سیکھو۔ جو چاند تم نے کل دیکھا ہے وہ گویا نبوت کے اوّل سال کا چاند ہے۔ کیونکہ قرآن شریف کا نزول اسی ماہ شوال کے ماقبل رمضان میں شروع ہوا۔ اس لئے یہ چاند اور اس کے پہلے کا چاند ہر ایک مومن کے لئے خیر و برکت کا موجب ہے۔ حدیث شریف میں دعا آتی ہے کہ انسان چاند دیکھے تو کہے۔

اَللّٰھُمَّ اَھِلَّہٗ عَلَیْنَا بِالْاَمْنِ وَ الْاِیْمَانِ وَ السَّلَامَۃِ وَ الْاِسْلَامِ رَبِّیْ وَ رَبُّکَ اللّٰہُ ھِلَالُ رُشْدٍ وَ خَیْرٍ

(ترمذی کتاب الدعوات)

پس چاہئے کہ روحانی پرورش کے لئے ہم سچا تعلق مزکی کے ساتھ پیدا کریں۔ وہ اب موجود ہے جس کی انتظار تیرہ سو برس سے ہو رہی تھی۔ ‘‘

( بدر جلد3 نمبر1 / یکم جنوری 1904ء صفحہ2تا6)

شوال کے یہ روزے کب رکھنے چاہئیں، اس بابت جماعت کو تاکیداً مخاطب کرتے ہوئے حضرت خلیفة المسیح الثانیؓ نے فرمایا:

’’جن لوگوں کو علم نہ ہو وہ سن لیں اور جوغفلت میں ہو وہ بیدار ہوجائیں کہ سوائے ان کے جو بیمار اورکمزور ہونے کی وجہ سے معذور ہیں چھ روزے رکھیں، اگر مسلسل نہ رکھ سکیں تو وقفہ ڈال کر بھی رکھ سکتے ہیں ‘‘

(خطبات محمود جلد 1 صفحہ71)

حضرت خلیفة المسیح الرابعؒ نے مجلس سوال و جواب میں ایک مرتبہ فرمایا:

’’ان کے دن مقرر ہیں۔ رسول اللہ ﷺ عید کے بعد وہ روزے شروع کردیتے تھے اور چھ روزے رکھا کرتے تھے۔ اس لئے وہی دن ٹھیک ہیں جو رسول اللہ ﷺ نے مقرر فرمائے ہوئے ہیں۔ ‘‘

(اطفال سے ملاقات۔ الفضل 21؍اپریل 2000ء)

ہمارے پیارے امام حضرت خلیفة المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے بھی افراد جماعت کو اس کی ترغیب دلائی کہ اگر کسی شخص کے رمضان کے چند روزے رہ گئے ہوں تو عیدالفطر کے بعد وہ ماہ شوال کے پہلے ہفتہ کے چھ نفلی روزوں کی تعداد پوری کرنے کے لیے اگلے رمضان تک کی مہلت موجود ہے۔ شریعت میں ایسی کوئی پابندی نہیں ہے کہ پہلے فرض روزے پورے کیے جائیں اورپھر نفلی روزے رکھے جائیں۔

( ماخوذاز الفضل انٹرنیشنل 11؍ نومبر 2005ء)

پس مومنین کےلیے اللہ تعالیٰ کی رحمت نے بے انتہا ایسے ذرائع مہیا کیے ہیں جن سے اس پر جنت واجب ہوجاتی ہے۔ ان میں سے فرائض کے بعد نوافل کا درجہ ہے۔ جیسا کہ رسولﷺ نے بھی فرمایا کہ

قیامت والے دن بندے سے سب سے پہلے نماز کے متعلق سوال ہوگا، اللہ تعالیٰ فرشتوں سے فرمائےگا کہ میرے بندے کی نمازوں کو دیکھو کہ اس نے پوری کی ہیں کہ اس میں نقص ہے، اگر تو مکمل ہوں گی تومکمل لکھی جائیں گی، اوراگر اس میں کچھ کمی ہوئی تواللہ تعالی فرمائے گا کہ اس کے نوافل دیکھو اگر تواس کے نوافل ہوں گے تو اللہ تعالیٰ فرمائے گا میرے بندے کے فرائض اس کے نوافل سے پورے کرو، پھر باقی اعمال بھی اسی طرح لیے جائيں گے۔(ابوداؤدحديث 733)

پس ہم پر یہ خدا تعالیٰ کا بے حد احسان ہے کہ اس نے ہمیں رسولﷺ کی اتباع میں مسیح محمدی کو ماننے کی توفیق بخشی جس نے ہماری ہر ایک امر میں انتہائی رہ نمائی فرمائی۔ نہ صرف فرائض بلکہ نفلی عبادتوں کی بابت بھی از بس تلقین کی۔ چنانچہ ایک موقع پر حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام نوافل کی حقیقت بیان کرتے ہوئے اور ان کی افادیت کی بابت فرماتے ہیں:

’’نادان انسان بعض اوقات وقت عدم قبول دعا سے مرتد ہو جاتا ہے۔ صحیح بخاری میں حدیث موجود ہے کہ نوافل سے مومن میرا مقرب ہوجاتا ہے۔

ایک فرائض ہوتے ہیں دوسرے نوافل۔ یعنی ایک تو وہ احکام ہیں جو بطور حق واجب کے ہیں اور نوافل وہ ہیں جو زائد از فرائض ہیں اور وہ اس لئے ہیں کہ تا فرائض میں اگر کوئی کمی رہ گئی ہو،تو نوافل سے پوری ہو جائے۔

لوگوں نے نوافل صرف نماز ہی کے نوافل سمجھے ہوئے ہیں۔ نہیں یہ بات نہیں ہے۔ ہر فعل کے ساتھ نوافل ہوتے ہیں۔

انسان زکوٰۃ دیتا ہے تو کبھی زکوٰۃ کے سوا بھی دے۔ رمضان میں روزے رکھتا ہے کبھی اس کے سوا بھی رکھے۔ قرض لے تو ساتھ کچھ زائد بھی دے۔ کیونکہ اس نے مروت کی ہے۔

نوافل متمم فرائض ہوتے ہیں۔ نفل کے وقت دل میں ایک خشوع اور خوف ہوتا ہے کہ فرائض میں جو قصور ہوا ہے وہ اب پورا ہو جائے۔ یہی وہ راز ہے جو نوافل کو قرب الٰہی کے ساتھ بہت بڑا تعلق ہے گویا خشوع اور تذلل اور انقطاع کی حالت اس میں پیدا ہوتی ہے اور اسی لئے تقرب کی وجہ میں ایام بیض کے روزے۔ شوال کے چھ روزے یہ سب نوافل ہیں۔

پس یاد رکھو کہ خدا سے محبت تام نفل ہی کے ذریعہ سے ہوتی ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ فرماتا ہے کہ میں پھر ایسے مقرب اور مومن بندوں کی نظر ہو جاتا ہوں، یعنی جہاں میرا منشاء ہوتا ہے،وہیں اس کی نظر پڑتی ہے۔‘‘

(ملفوظات جلد 1 صفحہ 437،ایڈیشن1988ء)

٭…٭…٭

متعلقہ مضمون

رائے کا اظہار فرمائیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button