سیرت خلفائے کراممتفرق مضامین

ہر دورِ خلافت میں جماعتِ احمدیہ ترقی کی شاہراہ پر گامزن

(مرزا طلحہ بشیر احمد۔ ربوہ)

جماعتِ احمدیہ کا ہر کام خلیفۂ وقت کی ہدایات کے تابع ہے اور سلسلہ کی ہر شاخ کی کامیابی کا مکمل انحصار محض خلیفۂ وقت کی دعاؤں اور رہ نمائی پر ہے۔ ترقیات کا یہ سلسلہ اتنا وسیع ہے کہ ممکن نہیں کہ ایک مضمون میں ہر گام کی شان پر تبصرہ کیا جاسکے

1905ء کا سال وہ تاریخی سال تھا جس کا آغاز حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کی ایک عظیم الشان پیشگوئی کے ظہورسے ہوا۔ چنانچہ اپریل 1905ء میں حضور علیہ السلام کی پیشگوئی کے مطابق ایک زبردست زلزلہ نے پنجاب اور دیگر علاقہ جات کو شیدیدنقصان پہنچایا۔ یہ زلزلہ جس کے متعلق حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام پہلے سےمتنبّہ کر تے چلے آرہے تھے ایسا تباہ کن تھا کہ جدھر دیکھوموتا ماتی کا عالم نظر آتا تھا۔ یہاں تک کہ دیکھنے والوں نے اس وقت کی منظر کشی ان الفاظ میں کی کہ باپ نے بیٹا نہیں سنبھالا، عورت نے خاوند کی پروا نہیں کی۔ گویہ گھبراہٹ کی لہریں انتہائی تیز رفتار حملوں کے ساتھ عوام الناس کے حواس پر قابو پاچکی تھیں اور لوگوں کی اس خوف کی حالت نے سکتہ کی سی کیفیت پیدا کررکھی تھی۔ یہ المناک نظارے بے شک مومنین کی جماعت کے لیے رنج اور غم کا باعث بنے کیونکہ حضور علیہ السلام اور آپ کی جماعت کی شدید خواہش تھی کہ دنیا خدا کے مسیح کی سچائی کو پہچان کر صداقت کی راہ پر گامزن ہو سکے مگر ساتھ ہی آپ علیہ السلام اور آپ کے صحابہ پُر سکون نظر آرہے تھے کیونکہ ان کے لیے خدا تعالیٰ کا واضح وعدہ تھا کہ ایسے طوفانوں سے مخلص خدام بچائے جائیں گے۔ اور ان کے علم میں تھا کہ یہ سب خدا کے فیصلہ کے مطابق ہورہا ہے۔ پس خدا تعالیٰ کے فضل سے احمدی اس زلزلہ کے اثرات سے غیر معمولی طور پر محفوظ رہے۔

مگر جیسا کہ اللہ تعالیٰ کی عادت ہے کہ جب بھی انبیاء کے ذریعہ کسی سلسلہ کا آغاز ہوتاہے تو جہاں بے شمار نشانات سے اس کی صداقت کو ظاہر کیا جاتا ہے وہاں بعض ابتلاؤں اور آزمائشوں کے ذریعہ مومنین کے ایمان کو بھی آزمایا جاتا ہے تا سچے اور جھوٹے کا فرق واضح کیا جاسکے۔ پس وہی مومنین جو 1905ء کے پہلے زلزلہ کے موقع پرپُرسکون نظر آتے تھے ان کے علم میں نہ تھا کہ اسی سال کے آخرپر ان کے لیے ایک قیامت خیز زلزلہ آنے والا ہے۔ وہ زلزلہ کیا تھا؟ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کا اللہ تعالیٰ سے خبر پاکر یہ اعلان کرنا کہ اب آپ علیہ السلام کی زندگی کے آخری ایام کا آغاز ہو چکاہے۔ یہ اعلان یقینی اور قطعی طور پر ایساتھا کہ اس نے احباب جماعت کے دلوں کو ہلا دیا۔ ایسےوقت میں صحابہ کے جذبات کی کیا کیفیت ہوگی اور بے چینی نے کس قدر ان کے ہوش و حواس پر قابو پالیا ہوگا اس کا اندازہ لگانا یا ان کو الفاظ کی شکل دینا نا ممکن ہے۔ مگر وہ عاشقانِ غلامِ احمد جو آپ کی وفات کے لمباعرصہ بعد بھی آپ کے ذکر خیر پر آبدیدہ ہو جایا کرتے تھےان کے لیے یہ غم بہت بڑا تھا۔ اور اس وقت مسیح محمدی کے صحابہ کی کیفیت کو اوّل زمانہ کے صحابہ کی اس وقت کی کیفیت سے مشابہت دینا غلط نہ ہوگا جب رسول کریمﷺ کی وفات پر صحابہ غم و اندوہ میں ڈوبے جاتے تھے۔ ان کا آقا ان سے جدا ہورہا تھا اور بے شک یہ ایک ایسی بات تھی جو ان کے پاؤں تلے سے زمین کو نکالنے والی تھی۔

مگر جیسا کہ آنحضرتﷺ کی وفات کے وقت اللہ تعالیٰ نے حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے الفاظ میں ایسی قوت عطا کی کہ ان کے ذریعہ صحابہ کے زخموں کو مرہم عطا ہوا، وہاں حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام نے اسی کتاب یعنی الوصیت میں جس میں آپؑ نے یہ دل کو دہلادینے والا اعلان فرمایا صحابہ کوقدرت ثانیہ کے ظہور کی خوش خبری دے کر دلوں کی تسکین کا سامان بھی مہیا کیا۔ چنانچہ آپ علیہ السلام تحریر فرماتے ہیں:

’’سو اے عزیزو ! جبکہ قدیم سے سنت اللہ یہی ہے کہ خدا تعالیٰ دو قدرتیں دکھلاتا ہے تا مخالفوں کی دو جھوٹی خوشیوں کو پامال کر کے دکھلا دے۔ سو اب ممکن نہیں ہے کہ خدا تعالیٰ اپنی قدیم سنت کو ترک کردیوے۔ اس لئے تم میری اس بات سے جو میں نے تمہارے پاس بیان کی ہےغمگین مت ہو اور تمہارے دل پریشان نہ ہو جائیں۔ کیونکہ تمہارے لئے دوسری قدرت کا بھی دیکھنا ضروری ہے اور اس کا آنا تمہارے لئے بہتر ہے کیونکہ وہ دائمی ہے جس کا سلسلہ قیامت تک منقطع نہیں ہوگا…میں خدا کی مجسم قدرت ہوں اور میرے بعد بعض اور وجود ہوں گے جو دوسری قدرت کا مظہر ہوں گے۔ ‘‘

(رسالہ الوصیت، روحانی خزائن جلد 20صفحہ305تا306)

الٰہی منشاء کے مطابق 26؍مئی 1908ءکو حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام اپنے مولیٰ حقیقی سے جا ملے۔ یہ وہی وقت تھا جس کی پیشگوئی آپ علیہ السلام فرماچکے تھے اور یہ بھی بتا چکے تھے کہ ایسے وقت میں سلسلہ کے مخالفین خوش ہوں گے، ہنسی ٹھٹھا کریں گے اورجشن منائیں گے کہ دیکھوجو بانی تھا وہ تو چلا گیا اور اب یہ سلسلہ ختم ہوجائے گا۔ بعض اپنے بھی گھبرائیں گے کہ اب کیا ہوگا۔ حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ آپ علیہ السلام کی وفات کا ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں:

’’انسان انسانوں پر نگاہ کرتا ہے۔ اور وہ سمجھتا ہے کہ دیکھو یہ کام کرنے والا موجود تھا یہ تو اب فوت ہوگیا ہے تو اب اس سلسلہ کا کیا بنے گا۔ ‘‘ تو انسانی فطرت میں یہ داخل ہے کہ ایسے وقت میں فکر کرتا ہے جب تک کہ اللہ تعالیٰ اس کی خوف کی حالت کو امن میں نہ بدل دے۔ پس الٰہی تصرف نے اپنا کام دکھلایا اور خدا کا وعدہ پھر پورا ہوا۔ مومنین کی جماعت کے دلوں کو کھینچ کر اللہ تعالیٰ نے ایک شخص کی طرف مائل کردیا اور جماعتِ احمدیہ نے حضرت مولوی نورالدین صاحب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کواپنا پہلا خلیفہ منتخب کیا۔ یہاں سے جماعتِ احمدیہ کے ایک نئے دور کا آغاز ہوا اور جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا تھا کہ دوسری قدرت تمہارے لیے بہتر ہے اس لیے کہ وہ دائمی ہے۔ جس کی برکات کے نتیجہ میں وہ درخت جس کی تخم ریزی کے لیے حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کو مبعوث کیا گیاوہ مزید ترقی کرتا ہوا ایک پھل دار تناور درخت بننے والا ہے۔ تاریخ نے ثابت کیا کہ وہ کیسا سچا وعدہ تھا۔ وہ جماعت جس کے بارے میں مخالفین یہ گمان کر رہے تھے کہ بس کل یا پرسوں کی بات ہے کہ یہ نیست و نابود ہوجائے گی وہ سلسلہ اور بھی زیادہ تیز رفتاری کے ساتھ دنیا میں پھیلنے لگا۔ خلافت کی برکتوں سے جماعتِ احمدیہ ہر دَور میں اپنے قدم کو آگے بڑھاتی چلی گئی اور بڑھاتی چلی جارہی ہے۔ الحمدللہ۔ وہ لوگ جو خلافت کے خلاف کھڑے ہوئے وہ کاٹے گئے اور جو لوگ خلافت کے ساتھ جڑے وہ روحانی ترقیوں کی منازل طے کرنے والے بنے۔ خدا تعالیٰ کی فعلی شہادت نےبار بار ثابت کیا کہ خلافت ہی اس دوسری قدرت کا مظہرہے جس کی پیشگوئی حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام نےفرمائی تھی۔

حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام نے اپنی تصنیف فتح اسلام میں اس الٰہی کارخانے کی جو پانچ شاخیں بیان فرمائی ہیں، خلفائے احمدیت اللہ تعالیٰ کی مدد سے انہی شاخوں کو ملحوظ رکھتے ہوئے جماعتِ احمدیہ کے قدم کو آگے بڑھاتے چلے گئے۔ پھر چاہے وہ میدان تبلیغ کا ہو، چاہے احباب جماعت کی تربیت کے منصوبہ جات ہوں یا جماعتی نظام کو مزید مستحکم کرنے کی بات ہو، خلفائے احمدیت کی قیادت میں جماعت ہر میدان میں فتح یاب ہوئی۔ بےشک راستہ میں کئی رکاوٹیں بھی پیدا کرنے کی کوشش کی گئی یہاں تک کہ مخالفین نے جماعتِ احمدیہ کو صفحہ ٔ ہستی سے مٹانےکے لیےناخنوں تک زورلگایا مگر خلافتِ احمدیہ کی اولوالعزمی کے نتیجہ میں جماعتِ احمدیہ کی کشتی نے انتہائی باوقار طریق پر ہر طوفان کا مقابلہ کیا اور ہمیشہ کی طرح پہلے سے بڑھ کر ترقی کی لہروں پر گامزن رہی۔

جماعتِ احمدیہ کا ہر کام خلیفۂ وقت کی ہدایات کے تابع ہے اور سلسلہ کی ہر شاخ کی کامیابی کا مکمل انحصار محض خلیفۂ وقت کی دعاؤں اور رہ نمائی پر ہے ۔ ترقیات کا یہ سلسلہ اتنا وسیع ہے کہ ممکن نہیں کہ ایک مضمون میں ہر گام کی شان پر تبصرہ کیا جاسکے۔ اس لیے ذیل میں صرف اس ایک وعدہ کو پرکھا گیا ہے جو اللہ تعالیٰ نے حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام سے فرمایا تھا کہ

’’میں تیری تبلیغ کو زمین کے کناروں تک پہنچاؤں گا‘‘ اور تاریخ پر نظر ڈالنے کی کوشش کی گئی ہے کہ کیسے اللہ تعالیٰ نےحضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کے حقیقی جانشینوں کوبےپناہ طاقت اور برکات سے نوازا تا وہ دنیا کے کونے کونے کو آنحضرتﷺ کے نور سے منور کرنے میں کامیاب و کامران ہوجائیں۔

حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام تحریر فرماتے ہیں کہ

’’خدا تعالیٰ چاہتا ہے کہ ان تمام روحوں کو جو زمین کی متفرق آبادیوں میں آباد ہیں کیا یورپ اور کیا ایشیا۔ ان سب کو جو نیک فطرت رکھتے ہیں توحید کی طرف کھینچے اور اپنے بندوں کو دین واحد پر جمع کرے۔ یہی خدا تعالیٰ کا مقصد ہے جس کے لئے میں دنیا میں بھیجا گیا۔ سو تم اس مقصد کی پیروی کرو‘‘

(رسالہ الوصیت، روحانی خزائن جلد 20صفحہ306تا307)

اس کام کی بنیاد تو خود حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام نے رکھی اور آپؑ کے دَور میں ہی ہندوستان بھر کے علاوہ بعض دیگر ممالک میں اسلام کی حقیقی تعلیم کو پھیلایا جارہا تھا۔ چنانچہ آپ کی زندگی میں ہی افغانستان، روس یہاں تک کہ امریکہ تک آپ کا دعویٰ پہنچا۔ افغانستان میں حضرت صاحبزادہ عبداللطیف صاحب شہیدرضی اللہ تعالیٰ عنہ اور حضرت مولوی عبد الرحمٰن صاحب شہیدرضی اللہ تعالیٰ عنہ جیسے جاں نثار صحابہ آپ کو عطا کیےگئے۔ تاہم بیرون ممالک میں تبلیغ اس وقت تک خط کتابت یا رسالہ جات وغیرہ تک محدود تھی۔

حضرت خلیفۃ المسیح الاوّل رضی اللہ تعالیٰ عنہ جب خلافتِ احمدیہ کے منصب پر فائز ہوئے تو جماعتِ احمدیہ کو اندرونی اور بیرونی ہر دوقسم کے فتنوں سے خطرہ تھا۔ ان میں خواجہ حسن نظامی صاحب جیسے مرنجان مرنج طبیعت رکھنے والے بھی تھے جو احمدیوں کو مشورے دے رہے تھے کہ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کے دعویٰ مسیحیت اور مہدویت سے ہی انکار کردیں کیونکہ آپ(علیہ السلام) کی عدم موجود گی میں جماعت اپنے خلاف اٹھنے والی مخالفت کو برداشت نہ کر پائے گی۔ (تاریخ احمدیت جلد سوم صفحہ 206)دوسری طرف ایک اور فتنہ سر اٹھا رہا تھا جو خلافت کے نظام کو ہی در ہم برہم کرنے کی کوشش میں مصروف تھا۔

چنانچہ حضرت خلیفۃ المسیح الاوّل رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے سامنے ہر دو فتنے تھے جن کا آپ نے مقابلہ کرنا تھا۔ جماعتِ احمدیہ نے اگر دنیا کو اسلام کی حقیقی تعلیم سے روشناس کرانا تھا تواوّل تو یہ ضروری تھا کہ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کے پیغام کو صحیح طریق پر دنیا والوں کے سامنے پیش کیا جائے۔ دوسری طرف حضرت خلیفۃ المسیح الاوّل رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو یہ بھی علم تھا کہ یہ کام الوصیت کی روشنی میں صرف خلافتِ احمدیہ کی قیادت تلے ہو سکتا ہے۔ لہٰذا گو کہ آپ کا دور مختصر تھا مگر اس چھ سال کے عرصہ میں حضرت خلیفۃ المسیح اوّل نے اللہ تعالیٰ کے فضلوں کو کھینچتے ہوئے انتہائی بہادری اور پر حکمت طریق سے ہر فتنے کا مقابلہ کیا۔ جس طرح آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کے پیغام کی دشمنوں کے حملوں سے حفاظت کی اور خلافت کے نظام کو مستحکم کیا، اس کے بغیر یہ سلسلہ آگے بڑھ نہیں سکتا تھا۔

ان تمام کاموں کے ساتھ ساتھ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے دور میں بیرون ہند میں تبلیغ کی غرض سے پہلی بار جماعت کی طرف سے باقاعدہ تبلیغی مشن بھی قائم کیا گیا۔ چنانچہ آپ کے عہد خلافت میں جماعتِ احمدیہ کی تبلیغی سرگرمیوں کے ایک نئے دور کا آغاز ہوا جس کے تحت یہ منصوبہ بنایا گیا کہ دنیاکے مختلف ممالک میں تبلیغی مشنز قائم کیے جائیں اور نیک فطرت لوگوں کوخدا کی توحید کی طرف بلایا جائے۔ اس سلسلہ میں جماعتِ احمدیہ کا پہلا مشن خلافت اولیٰ میں انگلستان میں قائم ہوا جس کے لیے 1913ء میں حضرت چوہدری فتح محمد سیال صاحب ؓکو تبلیغ کی غرض سے بھجوایا گیا۔

اس کے بعدیہ سلسلہ بڑھتا چلا گیا۔ ہر دور میں خلفائے احمدیت نے دنیا کے کونے کونے میں تبلیغ کی غرض سے مبلغین بھجوائے، مشن ہاؤسز قائم کیے، مساجد قائم کیں، قرآن کریم کے تراجم پہنچائے، جماعتِ احمدیہ کا لٹریچر پہنچایا۔ تبلیغی خطوط لکھے، الیکٹرونک میڈیا کے ذریعہ پیغامات پہنچائے یہاں تک کہ متعدد ممالک میں دورہ جات کے ذریعہ خلفاء بنفس نفیس تشریف لے گئے اور براہ راست لوگوں تک حق کا پیغام پہنچایا جس کے نتیجہ میں اللہ تعالیٰ نے ایسی برکتیں عطا فرمائیں کہ آج کوئی بھی شخص یہ دعویٰ نہیں کرسکتاکہ اللہ تعالیٰ کا وعدہ پورا نہ ہوا۔

حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ کے دَور میں تبلیغ کے اس کام کو مزید تقویت عطا ہوئی۔ چنانچہ خلافت ثانیہ کے دوسرے ہی سال میں اللہ تعالیٰ کے فضل سے جماعتِ احمدیہ کا دوسرا بیرونی مشن قائم ہوا۔ یہ مشن جزیرہ ماریشس میں قائم کیا گیا اور اس کام کے لیے مکرم حافظ صوفی غلام محمد صاحب بی اے کو بطور مبلغ بھجوایا گیا۔ مزید برآں مکرم صوفی غلام صاحب کو حضرت خلیفۃ المسیح الثانی رضی اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا کہ وہ تین ماہ کے لیے سیلون (موجودہ سری لنکا) بھی جائیں۔ چنانچہ انہوں سے حسب ِہدایت وہاں قیام کیا جس کے نتیجہ میں تیس افراد نے بیعت کی سعادت حاصل کی۔ اس کے بعد سے یہ سلسلہ حضرت مصلح موعودرضی اللہ تعالیٰ عنہ کی رہ نمائی میں اور زیادہ تیز رفتاری سے بڑھنے لگا۔

1920ء میں امریکہ میں احمدیہ مشن جاری کیا گیا۔ جیسا کہ پہلے ذکر آچکا ہے کہ امریکہ میں حضرت اقدس مسیح موعود علیہ اسلام کی زندگی میں آپ کا پیغام پہنچ چکا تھا مگر باقاعدہ مشن خلافت ثانیہ میں قائم ہوا جس کے لیے حضرت مفتی محمد صادق صاحب تشریف لے گئے۔ 1921ء میں حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ نے مغربی افریقہ کی طرف توجہ فرمائی اور وہاں حضرت مولوی عبد الرحیم صاحب نیر کو بھجوایا گیا جنہوں نے سیرالیون، گھانا اور نائجیریا میں تبلیغ کےکام کی بنیاد رکھی۔

1924ء میں حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے یورپ کا یادگار دورہ فرمایا۔ انگلستان جاتے ہوئے آپ نے مصر، شام اور فلسطین میں بھی چند روز قیام فرمایا اوران علاقہ جات میں حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کے مشن کی آواز کو براہ راست پہنچانے کی توفیق پائی۔ ان ممالک میں آپ کے آنے کا کافی چرچا ہوا مگر ساتھ ہی بعض لوگوں نے مخالفت بھی کی۔ اسی دورہ کے دوران دمشق کے ایک مشہور ادیب نے آپ سے بیان کیا کہ ہم آپ کی عزت کرتے ہیں کیونکہ آپ ایک جماعت کے معزز امام ہیں مگر آپ یہ امید نہ رکھیں کہ ان علاقوں میں کوئی شخص آپ کے خیالات سے متاثر ہوگا کیونکہ ہم لوگ عرب نسل کے ہیں اور عربی ہماری مادری زبان ہے اور کوئی ہندی خواہ وہ کیسا ہی عالم ہو ہم سے زیادہ قرآن اور حدیث کے معنی سمجھنے کی اہلیت نہیں رکھتا۔ خدا کے اس پیارے خلیفہ نے ان کی یہ بات سن کر مسکرا کرصرف اتنا کہا کہ مبلغ تو ہم نے آہستہ آہستہ ساری دنیا میں ہی بھیجنے ہیں مگر اب ہندوستان واپس جانے پر میرا پہلا کام یہ ہوگا کہ آپ کے ملک میں مبلغ روانہ کروں اور دیکھوں کہ خدائی جھنڈے کے علمبرداروں کے سامنے آپ کا کیا دم خم ہے۔ (سلسلہ احمدیہ جلد اوّل، صفحہ 368)چنانچہ آپ نے واپس آتے ہی دمشق میں تبلیغی مشن قائم فرمایا جس کے بعد اس علاقہ میں اللہ تعالیٰ کے فضل سے احمدیت کا پیغام پھیلنے لگا اور بہت سے لوگوں نے صداقت کو پہچانا۔ اس کے بعد آپ اٹلی اور فرانس کے راستے برطانیہ تشریف لے گئے اوران تمام ممالک میں براہ راست مسیح محمدی کی آواز کو پہنچا کر ایک کامیاب دورہ کے بعد آپ واپس ہندوستان تشریف لے آئے۔

1924ء میں ہی آپ نے ایران اور روس کی طرف تبلیغ کی غرض سے مبلغین کو روانہ کیا۔ 1925ء میں سماٹرا اور جاوا (انڈونیشیا)میں تبلیغ کی غرض سےحضرت مولوی رحمت علی صاحب کو بھجوایا جنہوں نے انتہائی محنت اور کامیابی کے ساتھ ان علاقہ جات میں احمدیت کی روشنی سے لوگوں کو منور کیا۔

اس وقت تک ملک عراق میں جماعت کا باقاعدہ مشن تو قائم نہ تھا مگر بعض احمدی موجود تھے جو ذاتی حیثیت میں تبلیغی سرگرمیوں میں مصروف عمل تھے۔ مگر حکومت کی طرف سے ان پر سختی کی جانے لگی اور نہ صرف ان کو تبلیغ کرنے سے روک دیا گیا بلکہ ہر قسم کے اجتماع پر ہی پابندی لگا دی گئی۔ اس غرض کے لیے حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے سید زین العابدین ولی اللہ شاہ صاحب کو عراق بھجوایا تا حکومت عراق کے اعلیٰ افسران سےمل کر کوشش کریں کہ یہ پابندیاں اٹھا دی جائیں اور اللہ تعالیٰ نے اس فیصلہ میں ایسی برکت عطا کی کہ حکومت عراق نے ان پابندیوں کو اٹھا دینا منظور کر لیا۔ اس کے بعد بھی مختلف ممالک میں باقاعدہ مشنز یا وہاں ان ملکوں میں رہنے والے احمدیوں کے ذریعہ تبلیغ کا کام جاری رہا۔

1934ءمیں جماعت کے خلاف مخالفت کی ایک نئی لہر اٹھی جس میں مجلس احرار پیش پیش تھی۔ انہوں نے مرکز قادیان میں آکر جماعت کے خلاف خطر ناک آگ بھڑکانے کا سلسلہ شروع کیا اور حکومت وقت کو بھی جماعت کے خلاف اکسانے میں مصروف ہوگئے۔ ان کے بلند بانگ دعوے کہ ہم قادیان کی اینٹ سے اینٹ بجادیں گے ہر طرف گونجنے لگے۔ ان خطرناک حالات کی منظر کشی کرتے ہوئے حضرت مرزا بشیر احمدصاحب رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ

’’ایسے وقت میں ظاہری آنکھوں سے دیکھنے والوں کو یوں نظر آتا تھا کہ گویا احمدیت ایک چھوٹی کمزور سی کشتی ہے جو چاروں طرف سے ہیبت ناک طوفان میں گھری ہوئی ہے اور اس کے بچنے کی کوئی امید نہیں۔ ‘‘

(تحریک جدید کے پانچ ہزاری مجاہدین صفحہ 1)

مگران کا مقابلہ مسیح محمدی کے پہلوان سے تھا جس کے ساتھ زمین و آسمان کا مولیٰ کھڑا تھا۔ پس خدا کا وہ خلیفہ ہمیشہ کی طرح ہر مشکل میں خدا کے حضور جھکا۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کی دعاؤں کو سنتے ہوئے آپ رضی اللہ تعالیٰ کے ذہن میں ایک ایسی سکیم کو القاء کیا جس کے نتیجہ میں جماعت نے نہ صرف مخالفین کا مقابلہ کرنے میں کامیابی حاصل کی بلکہ دنیا میں جماعت کی تبلیغی سرگرمیوں کوغیرمعمولی ترقی اور برکتیں عطا ہونا شروع ہوگئیں۔ یہ تحریک ‘تحریک جدید’کے نام سے جانی جاتی ہے اور اس کا مقصد پوری دنیا میں جماعتِ احمدیہ کے پیغام کو پہنچا نا ہے۔

جیسا کہ پہلے بھی ذکر آچکا ہے کہ بیرون ہند میں تبلیغ کا کام تو پہلے سے جاری تھا مگر اب ایک باقاعدہ منظم سکیم کے ذریعہ احباب جماعت کو قربانیوں کی تحریک کی جانے لگی اور انتہائی تیز رفتاری کے ساتھ اب یہ کام آگے بڑھنے لگا۔ چنانچہ ایسے وقت میں جب مجلس احرار اپنی طاقت کے عروج پر تھی اور دنیا والوں کی نظر میں جماعت کے بچنے کی امید نظر نہ آرہی تھی حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے تحریک جدید کو جاری کرتے ہوئے اعلان فرمایا کہ

’’میں احرار کے پاؤں کے نیچے سے زمین نکلتی دیکھتا ہوں‘‘

(پانچ ہزاری مجاہدین صفحہ نمبر 2)

پس تحریک جدید کےاجرا کے بعد جماعتِ احمدیہ تبلیغ کے ایک نئے دَور میں داخل ہو گئی۔ 1934ء سے لے کر 1937ء تک ہی مزید10؍ممالک میں جماعت کے مشنز کا قیام ہوا۔ ان ممالک میں سنگا پور، ہانگ کانگ (چین)، جاپان، سپین، ہنگری، البانیا، یوگوسلاویا، ارجنٹائن، اٹلی اور پولینڈ شامل تھے۔ اسی طرح 1938ء میں حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ نے مکرم مولانا احمد خان نسیم صاحب کو برما میں تبلیغ کی غرض سے بھجوایا۔ اس کےبعد کچھ ہی عرصہ میں متعدد ممالک میں جماعت کے مشنز قائم ہونا شروع ہوئے جن میں فرانس، بورنیو، سپین، سوئٹزر لینڈ، ہالینڈ، جرمنی، سکاٹ لینڈ، اردن (Jordan)، عمان، Trinidad and Tobago، اور عدن شامل تھے۔

تقسیم ہند کے بعد جبکہ جماعتِ احمدیہ کے امام اور احمدیوں کی بڑی تعداد کو ہجرت کر کے پاکستان منتقل ہونا پڑااورپاکستان میں آکر از سر نو جماعتی مرکز کو قائم کرنا پڑا، تب بھی جماعت کی تبلیغی سرگرمیوں میں کوئی رخنہ نہ پیدا ہوا۔ اس نئے ملک میں جماعت کے خلاف مخالفت عروج پر تھی مگر حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی قیادت کے سایہ میں دنیا میں تبلیغ کا کام اسی جوش سے جاری و ساری رہا۔

10؍مارچ 1954ء کو حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ پر مسجد مبارک میں نماز عصر پر حملہ کیا گیا۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو غیر معمولی طور پر حفاظت میں رکھا، تاہم لمبا عرصہ آپ کا علاج چلتا رہا۔ اسی غرض سے اپریل 1954ء میں حضور نے یورپ کا دورہ فرمایا جس میں سوئٹزرلینڈ، ہالینڈ، اٹلی، آسٹریا، جرمنی اور انگلستان کے ممالک شامل تھے۔ دوران دورہ باوجود طبیعت کی ناسازی کے آپ نے ہر مقام پر خطابات اور ملاقاتوں کے ذریعہ احمدیت کے پیغام کو پہنچایا۔ 1954ءکے آخر میں آپ واپس پاکستان تشریف لائے۔

1955ء میں حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے لائبیریا میں جماعت کا مشن قائم کرنے کی ہدایت فرمائی۔ 1956ء میں حضور نے Scandinavia کے ممالک میں تبلیغ کی غرض سے مبلغین بھجوائے اور اس طرح سویڈن، ڈنمارک اور ناروے میں احمدیت کا پیغام باقاعدہ نظام کے تحت پہنچایاگیا۔ کچھ ہی عرصہ بعد گیمبیا، فجی، آئیوری کوسٹ اور ٹوگو میں بھی جماعتِ احمدیہ کے مشن قائم ہوئے۔ فرنچ گنی میں مشن کھولنے کی کوشش کی گئی مگر حکومت نے اجازت نہ دی تاہم چند افراد نے احمدیت کو قبول کیا۔ اس کے ساتھ ساتھ آپ کے دور میں مغربی، جنوبی اور مشرقی افریقہ میں تبلیغ کی کوشش ہوتی رہی۔ بعض ممالک میں مخالفت کا بھی سامنا کرنا پڑا مگر بالآخر خلیفۂ وقت کی دعاؤں اور رہ نمائی کے نتیجہ میں جماعت کو کامیابی حاصل ہوئی۔ مزید برآں خلافت ثانیہ کے دور میں ملائیشیا، مصر، بیلجیم، Brunei، کینیڈا، ایتھوپیا، کویت، لبنان، فلپائن، سوڈان، ترکی، اور سرینام میں بھی جماعتِ احمدیہ کی تبلیغی سرگرمیوں کا کام ہوتا رہا۔

خلافت ثالثہ کا آغاز ہوا تو حضرت خلیفۃ المسیح الثالث رحمہ اللہ تعالیٰ نے پہلے سال ہی جلسہ سالانہ کے موقع پر تبلیغ پر زور دیتے ہوئے فرمایا کہ جماعت کی ذمہ داری ہے کہ تمام مشن ہاؤسز جو حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے دور میں جاری ہوئے تھے مگر ملکی حالات یا دیگر وجوہات کی بنا پر بند کر دیے گئے، ان کو دوبارہ جاری کیا جائے۔ آپ نے یہ بھی فرمایا کہ اس کا مطلب یہ نہیں کہ ان ممالک میں احمدی موجود نہیں بلکہ احمدی تو موجود ہیں لیکن باقاعدہ تبلیغی مراکز وہاں موجود نہیں ان کو قائم کرنے کی ضرورت ہے۔ اس کے بعد آپ نے اعلان فرمایا کہ فوری طور پرضرورت ہے کہ جماعت7؍ممالک میں تبلیغی مراکز قائم کرے۔ ان ممالک میں جاپان، فلپائن، آسٹریلیا، جنوبی افریقہ، کانگو، وسطی افریقہ اور ٹوگو لینڈشامل تھے۔

غرض یہ کہ حضرت خلیفۃ المسیح الثالث رحمہ اللہ تعالیٰ کی نظر نہ صرف ان ممالک پر تھی جہاں پر حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ کے دورِ خلافت میں کام کا آغاز ہوا بلکہ آپ کی شدید خواہش تھی کہ دیگر ممالک میں بھی جماعت کے مشنز قائم کیے جائیں۔ اس طرح جماعتِ احمدیہ کا قدم ہمیشہ کی طرح خلافت ثالثہ کے دور میں بھی آگے بڑھتا رہا۔

1970ء میں حضرت خلیفۃ المسیح الثالث رحمہ اللہ تعالیٰ نے مغربی افریقہ کے دورہ پر جانے کا فیصلہ فرمایا۔ اس پروگرام میں نائجیریا، غانا، آئیوری کوسٹ، لائبیریا، گیمبیا، اور سیرالیون کے ممالک شامل تھے۔ اس دورہ کے دوران حضور ؒکو براہ راست حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کے پیغام کو پہنچانے کی توفیق ملی۔ افریقہ سے واپسی پر حضورؒ نے یورپ کے بعض ممالک کا بھی دورہ فرمایا جن میں سپین اور انگلستان شامل تھے۔

الغرض حضرت خلیفۃ المسیح الثالث رحمہ اللہ تعالیٰ نے اپنے دور میں دورہ جات کے ذریعہ بعض مقامات پر براہ راست خودسلسلہ کے پیغام کو پہنچایا اور بعض جگہ جماعتی مبلغین بھجوا کر حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کے مشن کو مزید پھیلانے کی کامیاب کوشش فرمائی۔ آپ رحمہ اللہ تعالیٰ کے دور میں جن ممالک میں تبلیغ کا کام ہوا ان میں مڈ غاسکر، زیمبیا، کینیڈا، کینیا، بینن، برکینافاسو، تنزانیہ، روانڈا، یوگینڈا، کوموروس کے ممالک بھی شامل ہیں۔

1973ء میں حضرت خلیفۃ المسیح الثالث رحمہ اللہ تعالیٰ یورپ تشریف لے گئے جس کے دوران انگلستان، ہالینڈ، جرمنی، سوئٹزرلینڈ، اٹلی، سویڈن اور ڈنمارک کا دورہ فرمایا۔ 1975ء میں حضور ؒدوبارہ یورپ تشریف لے گئے۔ 1976ء میں آپ نے امریکہ اور کینیڈا کا دورہ فرمایا جس سے واپسی پر آپ انگلستان، سویڈن، ناروے، ڈنمارک، مغربی جرمنی، سوئٹزرلینڈاور ہالینڈ بھی تشریف لے گئے۔ 1980ء میں حضرت خلیفۃ المسیح الثالث نے وہ تاریخی دورہ فرمایا جو کہ تین بر اعظم اور 13؍ممالک پر محیط تھا۔ ان ممالک میںمغربی جرمنی، سوئٹزرلینڈ، آسٹریا، ڈنمارک، سویڈن، ناروے، ہالینڈ، سپین، نائجیریا، غانا، کینیڈا، امریکہ اور انگلستان شامل تھے۔ اسی دورہ کے دوران آپ رحمہ اللہ تعالیٰ نے 9؍اکتوبر 1980ء کو سپین میں مسجد بشارت کی بنیاد رکھی۔ غرض کہ اپنے دور میں آپ نے انتھک محنت کرتے ہوئے خود بھی اور جماعتی مبلغین کے ذریعہ بھی دنیا کے کونے کونے تک احمدیت کو پھیلانے کے لیے جد و جہد فرمائی۔

حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ نےجب جماعتِ احمدیہ کی کمان سنبھالی تواحمدیوں کے خلاف ملک بھر میں ایک خطرناک آگ بھڑکائی جارہی تھی۔ چنانچہ آپ کے دور کے ابھی دو سال مکمل نہ ہوئے تھے کہ سن 1984ء میں ضیا ءالحق نے جماعت کے خلاف آرڈینینس جاری کرکےاحمدیوں پر ہر قسم کی پابندیاں عائد کردیں۔ اس آرڈینینس کے مطابق احمدیوں سے سلام کرنے تک کا حق چھین لیا گیا۔ ان حالات میں بظاہر جماعتِ احمدیہ کے امام کے لیے اپنی ذمہ داریوں کو نبھانا مشکل نظر آرہا تھا۔ دراصل ضیا ء الحق کی خواہش بھی یہی تھی کہ امام جماعتِ احمدیہ کی طرف سے کسی قسم کا کوئی بیان آئے اور اس نئے آرڈینینس کی آڑ میں خلیفۃ المسیح کو قید کر کے، اس تیزی سے پھیلتی ہوئی جماعت کو جڑ سے اکھاڑ دیا جائے۔ تو دشمن کے ارادے تو بہت سخت تھے مگر اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے :

وَ مَکَرُوۡا وَ مَکَرَ اللّٰہُ ؕوَ اللّٰہُ خَیۡرُ الۡمٰکِرِیۡنَ

(آل عمران:55)

اور انہوں نے بھی تدبیر کی اور اللہ نے بھی تدبیر کی اور اللہ تدبیر کرنے والوں میں بہترین ہے۔

پس اللہ تعالیٰ جو جماعتِ احمدیہ کا والی و وارث ہے اس کا فیصلہ خلیفۃ المسیح کی حفاظت کاتھا اور اس کا ارادہ تھا کہ وہ نہ صرف خلیفۃ المسیح کو دشمن کے وار سے بچائے بلکہ ہجرت کی صورت میں جماعتِ احمدیہ کو ایک نیا مرکز عطا کر کے اس کی ترقی کے پہلے سے بھی بڑھ کر راستے کھول دے۔ لہٰذا جیسا کہ آنحضرتﷺ کی مدینہ ہجرت سے اسلام کی تبلیغ کے ایک نئے دور کا آغاز ہوا تھا ویسے ہی امام جماعتِ احمدیہ کی لندن ہجرت کے بعد جماعتِ احمدیہ کی مدنی زندگی کی ابتدا ہوئی۔ جماعت اب آزادی کے ساتھ پہلے سے کئی گنا زیادہ تیز رفتاری سے دنیا میں تبلیغ کرنے لگی۔

ہجرت سے قبل جماعت دنیا کے91؍ممالک میں قائم ہو چکی تھی جبکہ ہجرت کے صرف پانچ سال کے بعد کے جائزہ کے مطابق جماعتِ احمدیہ کل 117؍ممالک میں آنحضرتﷺ کا جھنڈا گاڑ چکی تھی۔ جلسہ سالانہ 1988ء کے موقع پر حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ نے احباب جماعت کو بتایا کہ کچھ عرصہ پہلے جشن صد سالہ جوبلی کے لیے ایک منصوبہ بندی کمیٹی قائم کی گئی تھی جس نے تجویز دی تھی کہ جماعت کے 100سال مکمل ہونے سے قبل جماعت کم از کم 100ممالک میں احمدیت کو قائم کرنے کی کوشش کرے۔ لیکن اللہ تعالیٰ کے فضل سے 1988ء میں جبکہ ابھی جماعت کے 100سال مکمل ہونے میں ایک سال باقی تھا جماعت 117؍ممالک میں پھیل چکی تھی اور صرف اس سال(یعنی 1988ء)میں پانچ ممالک جن میں ٹونگا، ساؤتھ کوریا، جزائر مالدیپ، گیبون اورسولومن آئی لینڈزشامل ہیں، کے رہنے والوں نے احمدیت کو قبول کرنے کی توفیق پائی۔

(خطاب جلسہ سالانہ یوکے1988ء دوسرے رو زبعد دوپہر)

1989ء جماعتِ احمدیہ کی صد سالہ جوبلی کا تاریخی سال تھا۔ مومنین کی جماعت اللہ تعالیٰ کی حمد سے لبریز تھی کہ خلافتِ احمدیہ کی قیادت میں اس نے کس طرح جماعتِ احمدیہ کو غیر معمولی ترقیات سے نوازا۔ چنانچہ جلسہ سالانہ کے افتتاحی خطاب میں حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:

’’جماعتِ احمدیہ کی تاریخ میں یہ سال ایک غیر معمولی اہمیت کا سال ہے اور اس سال دنیا کے 120ممالک میں جماعتِ احمدیہ صد سالہ جشن تشکر منا رہی ہے۔ اس موقع پر جماعتِ احمدیہ کواللہ تعالیٰ نے غیر معمولی شہرت عطا فرمائی اور حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ السلام کا پیغام جس طرح دنیا کے کونے کونے تک پہنچا اس کا ذکر انسان کو سرتاپاحمد سے بھر دیتا ہے۔ ‘‘

(خطابات طاہر جلد دوم صفحہ 157)

جماعتِ احمدیہ خدا تعالیٰ کے فضل سے اب اپنی دوسری صدی میں داخل ہوچکی تھی۔ جہاں پہلے 100سال میں اللہ تعالیٰ نے جماعت کو 120؍ممالک میں اپنا پودا لگانے کی توفیق دی تو دوسری صدی میں اپنے خاص فضل سے اس کی رفتار کو اور بھی بڑھادیا۔1990ء کے جلسہ سالانہ پر ہی حضور ؒنے فرمایا کہ جماعت مزید چار ممالک میں جڑ پکڑ چکی ہے۔ ان چار ممالک میں مارشل آئی لینڈ، مائکرونیشیا، Tokelau اور میکسیکو شامل تھے۔ اس کے بعد رفتہ رفتہ ہر سال ہی نئے ممالک جماعتِ احمدیہ میں داخل ہوتے رہے۔ ان میں سے بعض ایسے ممالک بھی تھے جن میں احمدیت کا پودا خلافت ثانیہ اور خلافت ثالثہ میں لگ چکاتھا مگر بعض وجوہات کی بنا پر وہاں سے احمدی کسی اور ملک میں ہجرت کرگئے تھے یا بعض احمدیت سے دور ہو چکے تھے۔ حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ ان ممالک میں بھی دوبارہ احمدیت کو قائم کرنے کا درد رکھتے تھے اورآپ کی یہ بھی خواہش اور کوشش تھی کہ جماعت نئے ممالک تک بھی حق کی آواز جلد سے جلد پہنچائے۔ خدا کے فضل سے آپ کے دور میں یہ کام بہت تیزی سے ہوا۔

وہ ممالک جو خلافت رابعہ کے دوران احمدیت کی صداقت کے قائل ہوئے ان میں کولمبیا، ازبکستان، یوکرین، تاتارستان، رومانیا، بلغاریا، قازقستان، کمبوڈیا، ویتنام، لاؤس، جمیکا، میسی ڈونیا، سلووینیا، بوسنیا، قرغستان، Croatia، چیک ریپبلک، مایوٹ آئی لینڈ، سیشلز، سوازی لینڈ، ویسٹرن صحارا، جبوتی، کوسوو، وینزویلا، سائپرس، مالٹا، آذربائیجا ن اور دیگر کئی ممالک شامل تھے۔

سن 2002ء کے جلسہ سالانہ کے موقع پر آپ رحمہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

’’خدا تعالی کے فضل سے اس وقت دنیا کے 175ممالک میں احمدیت کا پودا لگ چکا ہے۔ ہجرت کے18سالوں میں جبکہ مخالفین نے پورا زور لگایا اور ہر حربہ استعمال کیا اللہ تعالیٰ نے 84نئے ملک احمدیت کو عطا فرمائے۔ ‘‘

یہ وہ تمام ممالک تھے جن میں خلافت احمدیت کے زیر سایہ احمدیت کا پیغام پہنچا۔ اسی طرح حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ نے اپنے دور میں خود بھی متعدد دورہ جات کے ذریعہ دنیا والوں کو براہ راست اسلام کی حقیقی تعلیم سےروشناس کرنے کی سعی فرمائی۔ ان ممالک میں ناروے، سویڈن، ڈنمارک، جرمنی، آسٹریا، سوئٹزرلینڈ، فرانس، لکسمبرگ، ہالینڈ، سپین، کینیڈا، بیلجیم، امریکہ، آئرلینڈ، گیمبیا، سیرالیون، لائبیریا، آئیوری کوسٹ، غانا، نائیجیریا، سنگاپور، فجی، آسٹریلیا، سری لنکا، کینیا، یوگینڈا، تنزانیہ، ماریشس، گوئٹے مالا، جاپان، نیوزی لینڈ، سرینام، پرتگال، بھارت اور انڈونیشیا شامل ہیں۔ ان میں سے بعض ممالک ایسے بھی تھے جن میں پہلی بار مسیح محمدی کے خلیفہ نےقدم رکھا۔

اپریل 2003ء میں حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ خدا تعالیٰ کی تائید و نصرت سے بھر پور زندگی گزار نے کےبعد اللہ تعالیٰ کے حضور حاضر ہوگئےاور خدا تعالیٰ نے قدرت ثانیہ کا ایک اور مظہر جماعتِ احمدیہ کو عطا فرمایا۔

سیدنا حضرت مرزا مسرور احمد خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے ہاتھ پر جماعت کو اکٹھا کر کے اللہ تعالیٰ نے مخالفین کی جھوٹی خوشیوں کو ایک بار پھر پامال کردیا۔ اور دنیا نے دیکھا کہ یہ الٰہی سلسلہ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کے وعدہ کے مطابق دائمی ہے جس کے قدم کبھی لڑکھڑاتے نہیں بلکہ یہ کارواں تو راستے کی تمام چٹانوں کو چیرتا ہوا ہمیشہ اپنی منزل مقصود کی طرف رواں دواں رہتا ہے۔

اللہ تعالیٰ کے فضل سے جماعتِ احمدیہ حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصر ہ العزیز کی قیادت تلے ترقی کی راہوں پر گامزن ہے۔ آپ کی خلافت کے پہلے17سال میں جماعتِ احمدیہ کو مزید 38؍ممالک میں پھل عطا ہوئے۔ خلافت خامسہ کے پہلے سال میں کیوبانے احمدیت قبول فرمائی۔ 2004ء میںSaint Kitts اور Martinique میں احمدیت پہنچی۔ 2005ء میں مزید تین ممالک جن میں جبرالٹر، باہاماز اور Saint Vincentشامل ہیں نے احمدیت کی صداقت کو پہنچانا۔ 2006ء میں بولیویا، ایسٹونیا، اینٹیگوا اور برمودا۔ 2007ءمیں Guadelope, Saint Martin, French Guiana اور ہیٹی شامل ہوئے۔ 2008ء جو خلافتِ احمدیہ کی صد سالہ جوبلی کا سال تھا۔ اس میں الحمدللہ مزید چار ممالک جن میں تاجکستان، Palau، لیٹویااور آئیس لینڈ شامل تھے نے احمدیت کو قبول کیا۔ 2009ء میں سربیا اور Lithuania کے ممالک کوخلیفۂ وقت کی بیعت کرنے کی سعادت حاصل ہوئی۔ 2010ء میں ترکمانستان، Dominica اور Faroe Islands۔ 2011ء میں چلی اور باربیڈوس۔ 2012ء میں پانامہ اور American Samoa۔ 2013ء میں کوسٹا ریکا اور مانٹی نیگرو۔ 2014ء میں بیلیز اور Uruguay۔ 2015ء میں Puerto Rico میں جماعت قائم ہوئی۔ 2016ء میں Paraguayاور Cayman Islands۔ 2017ء میں Honduras اور 2018ء میں Georgia اور East Timorنے احمدیت قبول کی۔ الحمدللہ۔

جلسہ سالانہ 2019ء کے موقع پر حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصر ہ العزیز نے فرمایا:

’’خدا تعالیٰ کے فضل سے اس وقت تک دنیا کے 213ممالک میں احمدیت کا پودا لگ چکا ہے۔ اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے گزشتہ 35سالوں میں 122نئےممالک اللہ تعالیٰ نے جماعت کو عطا فرمائے ہیں…اس سال ایک نیا ملک آرمینیامیں جماعت کا پودا لگا ہے۔ ‘‘

اس طرح آرمینیا کے باشندوں نے احمدیت قبول کرکے اس ملک کو دنیا کا 213واں ملک بنا دیا جہاں حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام اور خلافتِ احمدیہ پر ایمان رکھنے والےلوگ پائے جاتے ہیں۔

اسلام کی حقیقی تعلیم کو دنیا کے کونے کونے پر قائم کرنے کی خاطر حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ نے خود بھی براہ راست 100سے زائد دورہ جات کے ذریعہ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کے پیغام کو پہنچایا ہے۔ ان دورہ جات میں جرمنی، فرانس، امریکہ، کینیڈا، Guatemala، آسٹریلیا، جاپان، نیو زی لینڈ، سنگاپور، آئر لینڈ، ہالینڈ، بھارت، بیلجیم، ڈنمارک، سویڈن، ناروے، نائجیریا، غانا، کینیا، بینن، برکینافاسو، سپین اور دیگر ممالک شامل ہیں۔

پس اللہ تعالیٰ کے فضل سے جماعت کا قافلہ ترقی کے سفر پر رواں دواں ہیں۔ ہر دَور خلافت میں جماعتِ احمدیہ ترقی کی شاہراہ پر گامزن رہی ہے اور اب وہ دن انشاء اللہ دور نہیں جب حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کے حقیقی جانشین کی قیادت میں جماعت دنیا کے ہر ملک کو، ہر شہر کو، ہر گلی کو، ہر کوچہ کو آنحضرتﷺ کے نور سے منور کرنے میں کامیاب ہوجائےگی۔ اے اللہ تو جلد ہمیں وہ دن دکھلا۔ آمین

مزید دیکھیں

متعلقہ مضمون

رائے کا اظہار فرمائیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close