سیرت خلفائے کراممتفرق مضامین

آخر خلافتِ احمدیہ ہی عالم اسلام کی آخری امید کیوں ہے؟

(ڈاکٹر مرزا سلطان احمد)

اللہ تعالیٰ قرآن شریف میں فرماتا ہے

وَعَدَ اللّٰهُ الَّذِينَ آمَنُوا مِنْكُمْ وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ لَيَسْتَخْلِفَنَّهُمْ فِي الأَرْضِ كَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ وَلَيُمَكِّنَنَّ لَهُمْ دِيْنَهُمُ الَّذِي ارْتَضٰى لَهُمْ وَلَيُبَدِّلَنَّهُمْ مِنْ بَعْدِ خَوْفِهِمْ أَمْنًا يَعْبُدُونَنِي لَا يُشْرِكُوْنَ بِيْ شَيْئًا وَمَنْ كَفَرَ بَعْدَ ذَالِكَ فَأُولٰئِكَ هُمْ الْفَاسِقُونَ۔ (النور:56)

تم میں سے جو لوگ ایمان لائے اور نیک اعمال بجا لائے ان سے اللہ نے پختہ وعدہ کیا ہے کہ انہیں ضرور زمین میں خلیفہ بنائے گا جیسا کہ ان سے پہلے لوگوں کو خلیفہ بنایا اور اُ ن کے لئے ان کے دین کو، جو اُس نے اُن کے لئے پسند کیا، ضرور تمکنت عطا کرے گا اور اُن کی خوف کی حالت کے بعد ضرور انہیں امن کی حالت میں بدل دے گا۔ وہ میری عبادت کریں گے۔ میرے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہرائیں گے۔ اور جو اس کے بعد بھی ناشکری کرے تو یہی وہ لوگ ہیں جو نافرمان ہیں۔

اللہ تعالیٰ کے فضل سے جماعتِ احمدیہ کا عالمی نظام خلافت کے ماتحت چل رہا ہے۔ لفظ ’’خلافت‘‘ یا لفظ ’’خلیفہ ‘‘ کو سن کر دنیا بھر کے ذہنوں میں مختلف تصورات پیدا ہوتے ہیں۔ آخر ‘‘خلافت’’ ہی کیوں۔ دنیا میں اتنے اچھے جمہوری نظام چل رہے ہیں۔ ان سب کو ترک کر کے شخصی خلافت کا راستہ کیوں اختیار کیا جائے؟ خلافت کے بغیر کیوں دینی نظام نہیں چلایا جا سکتا ؟ اگر خلافت ضروری ہے تو پھر اس کا واجب الاطاعت ہونا کیوں ضروری قرار دیا جا تا ہے۔ اگر خلیفہ واجب الاطاعت ہے تو پھر کیا یہ خدشہ نہیں ہو گا کہ ایک ملک میں ریاست کے اندر ریاست پیدا ہوجائے وغیرہ۔ تاریخ میں اس قسم کے سوالات اُٹھتے رہے ہیں اور ان کے نتیجہ میں بہت سی بحثوں نے جنم لیا ہے۔ ایک مضمون میں سارے ممکنہ سوالات کا ذکر کرنا تو ممکن نہیں۔ لیکن اگر پہلے کچھ اصولی باتیں بیان کر دی جائیں تو بہت سے سوالات خود ہی ختم ہو جاتے ہیں بلکہ جنم ہی نہیں لیتے۔

خلافت کے مقاصد

سب سے پہلے یہ ذکر کرنا ضروری ہے کہ ’’خلیفہ‘‘ کسے کہتے ہیں؟ اور خلافت کیا ہوتی ہے؟ اوراس نظام کے کیا مقاصد ہوتے ہیں ؟

ہر لفظ کے لغوی اور اصطلاحی معانی ہوتے ہیں۔ مفردات امام راغب میں اَلْخِلَافَۃُ کا مطلب دوسرے کا نائب بننے کے ہیں۔ خواہ وہ نائب بننا کسی بھی وجہ سے ہو۔ اور منجد کے مطابق خلیفۃکا مطلب ’’جانشین، قائم مقام، سب سے بڑا بادشاہ‘‘ ہے۔

ظاہر ہے ان معنوں کے مطابق جب ہم اللہ تعالیٰ کے کسی نبی یا مامور من اللہ کی خلافت کی بات کرتے ہیں تو اللہ تعالیٰ کے نبی کا خلیفہ وہ شخص ہوگا جو کہ اس کی وفات کے بعد اس کا جانشین، نائب اور قائم مقام ہو۔ یہی ایک نکتہ اس مقام کو آج کی دنیا کے سیاسی اور انتظامی منصبوں سے بالکل علیحدہ کر دیتا ہے۔ اور خلافت کا منصب دنیا کے کسی ملک کے صدر یا وزیر اعظم ، بادشاہ یا سربراہ کی طرح کا منصب نظر نہیں آتا۔ چنانچہ ایک خلیفہ کے مقام کو دنیاوی عہدوں سے خلط ملط کرنا خلاف عقل ہے۔ ان منصبوں پر فائز شخصیات دنیاوی امور اور فرائض کی بجا آوری کے لیے مقرر یا منتخب کی جاتی ہیں۔ اور ان کے برعکس خلیفہ اللہ تعالیٰ کے نبی یا مامور من اللہ کے کام کو جاری رکھتا ہے اور اسے آگے بڑھاتا ہے۔

خلافت کے مقاصد کے بارے میں حضرت خلیفۃ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ کا ایک ارشاد سامنے رکھنا ضروری ہے۔ خلافت ثانیہ کے پہلے ماہ میں، 12؍اپریل 1914ء کو حضرت خلیفۃ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ نےنمائندگان جماعت سے خطاب فرمایا۔ یہ خطاب ’’منصبِ خلافت‘‘ کے نام سے شائع ہوا۔ اس کے بالکل آغاز میں حضورؓ نے فرمایا:

’’رَبَّنَآ وَابْعَثْ فِيْهِمْ رَسُوْلًا مِنْهُمْ يَتْلُوْ عَلَيْهِمْ آيَاتِكَ وَيُعَلِّمُهُم الْكِتَابَ وَالْحِكْمَةَ وَيُزَكِّيْهِمْ إِنَّكَ أَنْتَ الْعَزِيْزُ الْحَكِيْمُ۔ (البقرة:129)

یہ دعا ایک جامع دعا ہے۔ اس میں اپنی ذریت میں سے ایک نبی مبعوث ہونے کی دعا کی۔ پھر اس دعا میں ظاہر کیا کہ انبیاء علیہم السلام کے کیا کام ہوتے ہیں، ان کے آنے کی کیا غرض ہوتی ہے؟ فرمایا !الٰہی ان میں ایک رسول ہو۔ انہی میں سے ہو۔

وہ رسول جو مبعوث ہواس کا کیا کام ہو؟ يَتْلُوْ عَلَيْهِمْ آيَاتِكَ اس کا پہلا کام یہ ہو کہ وہ تیری آیات ان پر پڑھے۔ دوسرا کام يُعَلِّمُهُمْ الْكِتَابَ وَالْحِكْمَةَ اُن کو کتاب سکھائے اور تیسرا کام یہ ہو کہ حکمت سکھائے۔ چوتھا کام يُزَكِّيْهِمْ ان کو پاک کرے۔

حضرت ابراہیم علیہم السلام نے اپنی اولاد میں مبعوث ہونے والے ایک رسول کے لیے دعا کی اور اس دعا میں ہی ان اغراض کو عرض کیا جو انبیاء کی بعثت کی ہوتی ہیں اور یہ چار کام ہیں۔ میں نے غور کر کے دیکھا ہے کوئی کام اصلاح عالم کا نہیں جو اس سے باہر رہ جاتا ہو۔ پس آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اصلاح دنیا کی تمام اصلاحوں کو اپنے اندر رکھتی ہے۔

انبیاء علیہم السلام کے اغراض بعثت پر غور کر لینے کے بعد یہ سمجھ لینا بہت آسان ہے کہ خلفاء کا بھی یہی کام ہوتا ہے کیونکہ خلیفہ جو آتا ہے اس کی غرض یہ ہوتی ہے کہ اپنے پیشرو کے کام کو جاری کرے۔ پس جو کام نبی کا ہوگا۔ وہی خلیفہ کا ہوگا۔ اب اگر آپ غور و تدبر سے اس آیت کو دیکھیں توایک طرف نبی کا کام دوسری طرف خلیفہ کا کام کھل جائے گا۔ ‘‘

(منصب خلافت، انوار العلوم جلد2 صفحہ23تا24)

اگر کوئی شخص خدا پر یا اسلام پر ایمان نہیں لاتا تو ظاہر ہے کہ اس سے خلافت کی ضرورت پر تبادلۂ خیالات نہیں ہو گا بلکہ اسے ہستی باری تعالیٰ کے بارے میں دلائل دیئے جائیں گے یا اسلام کی صداقت کے بارے میں بحث ہو گی۔ لیکن یہاں یہ جائزہ لیا جائے گا کہ خلافت کے بارے میں مسلمانوں میں کیا نظریات پائے جاتے ہیں۔

نبی کا کام جاری رکھنے کے لیے کیا خلافت ضروری ہے؟

ایک سوال عموماََ یہ اُٹھایا جاتا ہے کہ خدا تعالیٰ کا نبی آیا اور اُس نے خدا کا پیغام اچھی طرح دنیا تک کھول کر پہنچا دیا۔ جس نے قبول کرنا تھا اس نے قبول کر لیا اور اس پیغام پر عمل کرنا شروع کر دیا۔ اب اس بات کی کیا ضرورت ہے کہ ایک واجب الاطاعت خلیفہ کی پیروی کی جائے۔ یہ سوال مختلف رنگوں میں اسلام کی ابتدائی صدیوں سے اب تک اُٹھایا جاتا رہا ہے۔ پہلی بات یہ ہے کہ یہ دیکھنا ضروری ہے کہ اس سلسلہ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا کیا ارشاد ہے۔

جامع ترمذی، سنن ابو دائود اور ابن ماجہ میں درج ایک حدیث کے مطابق آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فتنوں اور مسلمانوں کے باہمی اختلافات کے آنے والے دور کا ذکر فرمایا۔ یہاں تک کہ صحابہ کہتے ہیں کہ ہم رونے اور کانپنے لگے۔ اور عرض کی کہ اس صورت میں ہم کیا کریں گے۔ آپؐ نے ارشاد فرمایا:

فَمَنْ أَدْرَکَ ذٰلِکَ مِنْکُمْ فَعَلَیْہِ بِسُنَّتِی وَسُنَّۃِ الْخُلَفَاء الرَّاشِدِینَ الْمَہْدِیِّینَ عَضُّوْا عَلَیْہَا بالنَّوَاجِذِ

ترجمہ : تم میں سے جو اسے پائے اس پر میری اور میرے ہدایت یافتہ خلفائے راشدین کی سنت کی پیروی لازم ہے۔ اسے دانتوں سے پکڑ کر رکھو۔

( جامع ترمذی کتاب العلم باب ما جاء فی اخذ السنۃ والا جتناب البدع، ابو دائود کتاب السنۃ باب فی لزوم السنۃ، ابن ماجہ المقدمہ، باب اتباع السنۃ الخلفاء الراشدین)

اس حدیث نبوی صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے بعد اپنے خلفائے راشدین کے طریق کی پیروی کو لازم قرار دیا تھا۔ چنانچہ یہ کافی نہیں کہ ہر شخص کے لیے یہ کافی ہے کہ اس نے ایک نبی کا پیغام سن لیا اور اس پر ایمان لے آیا اور اب کسی اور کی اطاعت کی ضرورت نہیں ہے۔ اور اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ جب فتنوں اور باہمی اختلافات کا دَور ہو تو اس سے نکلنے کا راستہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور خلافت کی اطاعت سے ہی مل سکتا ہے۔

اسی طرح ایک اور حدیث ہے کہ

’’جو اس حالت میں مرا کہ اس نے کسی کی بیعت نہ کی ہو وہ جاہلیت کی موت مرا۔ ‘‘

(صحیح مسلم کتاب الامارات۔ باب ملازمۃ الجماعتہ المسلمین عند ظہور الفتن و فی کل حال )

آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کےبعد

خلافت پر اتفاق

آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم کی وفات کے بعد پورے عرب میں ارتداد کا فتنہ اُٹھ کھڑا ہوا۔ لیکن کم از کم آپؐ کی وفات کے بعد جو لوگ اسلام پر قائم تھے ان میں ایک دو استثناء کے علاوہ فوری طور پر ایسا کوئی بڑا گروہ پیدا نہیں ہوا جو کہ سرے سے خلافت کی ضرورت سے انکار کرتا ہو یا حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کو خلیفہ راشد تسلیم نہ کرتا ہو۔ ایسے باغی گروہ کچھ سالوں کے بعد پیدا ہوئے۔ اسی طرح حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی وفات کے فوری بعد احمدیوں میں ایسا کوئی گروہ پیدا نہیں ہوا جو کہ خلافت کی ضرورت کا انکار کرتا ہو یا حضرت خلیفۃ المسیح الاولؓ کی خلافت سے انکار کرتا ہو۔ یہ گروہ چند سال کے بعد پیدا ہوا۔ سوال یہ اُٹھتا ہے کہ کیا یہ محض اتفاق ہے؟ لیکن چودہ سو سال کے وقفے سے ایک جیسے واقعات اتفاق کیسے ہو سکتے ہیں؟

حقیقت یہ ہے کہ نبی کی وفات ایک بہت بڑا زلزلہ ہوتی ہے۔ اُس وقت دنیاوی اعتبار سے اس بات کا کوئی امکان نظر نہیں آ رہا ہوتا کہ خدائی جماعت قائم رہے گی۔ اس خوف کی حالت میں سب کی عقل سلیم یہ گواہی دیتی ہے کہ صرف خلافت راشدہ ہی خدائی جماعت کی حفاظت کر سکتی ہے اور اس کی وجہ یہ ہوتی ہے کہ اس کام کے لیے خلیفہ ٔراشد کو خدا نے کھڑا کیا ہوتا ہے۔ جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام رسالہ الوصیت میں تحریر فرماتے ہیں:

’’دوسرے ایسے وقت میں جب نبی کی وفات کے بعد مشکلات کا سامنا پیدا ہو جاتا ہے اور دشمن زور میں آجاتے ہیں اور خیال کرتے ہیں کہ اب کام بگڑ گیا۔ اور یقین کر لیتے ہیں کہ اب یہ جماعت نابود ہو جائے گی اور خود جماعت کے لوگ بھی تردد میں پڑ جاتے ہیں اور ان کی کمریں ٹوٹ جاتی ہیں اور کئی بد قسمت مرتد ہونے کی راہیں اختیار کر لیتے ہیں تب خدا تعالیٰ دوسری مرتبہ اپنی زبردست قدرت ظاہر کرتا ہے اور گرتی ہوئی جماعت کو سنبھال لیتا ہے۔ پس وہ جو اخیر تک صبر کرتا ہے خدا تعالیٰ کے اس معجزے کو دیکھتا ہے۔ جیسا کہ حضرت ابو بکر صدیقؓ کے وقت میں ہوا جبکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی موت ایک بےوقت موت سمجھی گئی۔ اور بہت سے بادیہ نشین نادان مرتد ہو گئے اور صحابہ بھی مارے غم کے دیوانہ کی طرح ہو گئے۔ تب خدا تعالیٰ نے ابو بکر صدیق کو کھڑا کر کے دوبارہ اپنی قدرت کا نمونہ دکھایا اور اسلام کو نابود ہوتے ہوتے تھام لیا اور اس وعدہ کو پورا کیا جو فرمایا تھا

وَلَيُمَكِّنَنَّ لَهُمْ دِيْنَهُمُ الَّذِي ارْتَضٰى لَهُمْ وَلَيُبَدِّلَنَّهُمْ مِنْ بَعْدِ خَوْفِهِمْ أَمْنًا

یعنی خوف کے بعد ہم پھر ان کے پیر جمادیں گے۔ ‘‘

(الوصیت، روحانی خزائن جلد 20صفحہ304تا 305)

اسی طرح بائبل کے مطابق جب حضرت موسیٰ علیہ السلام کی وفات ہوئی تو مارے غم کے بنی اسرائیل تیس دن تک روتے رہے۔ اس وقت خوف کے عالم میں حضرت موسیٰ علیہ السلام کے پہلے خلیفہ حضرت یوشع بن نون اللہ تعالیٰ کے حکم کے تحت کھڑے ہوئے۔ با وجود اس کے کہ اس سے قبل بنی اسرائیل کی تاریخ سرکشیوں اور نا فرمانیوں سے بھری ہوئی تھی لیکن اس خوف کی حالت میں ساری سرکشی کافور ہو گئی اور انہوں نے حضرت یوشع بن نون کو کہا:

’’…جس جس بات کا تو نے ہم کو حکم دیا ہے ہم وہ سب کریں گے اور جہاں جہاں تو ہم کو بھیجے وہاں ہم جائیں گے۔ جیسے ہم سب امور میں موسیٰ کی بات سنتے تھے ویسے ہی تیری سنیں گے۔‘‘ (یشوع باب 1)

جیسا کہ پہلے ذکر کیا گیا ہے کہ نبی کی وفات پر ایک قیامت برپا ہو جاتی ہےلیکن جب خلافت راشدہ کےذریعہ یہ بحران ختم کر دیا جاتا ہے اور امن کی حالت پیدا ہو جاتی ہے، تب مختلف گروہ پیدا ہوتے ہیں جو کہ یا خلافت کا انکار کرتے ہیں یا خلیفہ راشد کی ذات کو اپنے اعتراضات کا نشانہ بناتے ہیں۔

خلافت راشدہ سے رو گردانی کے کیا نتائج نکلے تھے؟

اب جب کہ اسلام کی تاریخ پر چودہ سو سال سے زائد عرصہ گزر چکا ہے۔ خلافت کی ضرورت اور اہمیت ایسا سوال نہیں جو کہ محض ایک فلسفیانہ اور نظریاتی سوال ہو۔ ہمارے پاس نتائج اخذ کرنے کے لیے تاریخی واقعات کا ایک طویل سلسلہ موجود ہے۔ مسلمانوں میں خلافت قائم ہوئی اور پھر ختم ہو گئی۔ یہ دیکھنا ضروری ہے کہ خلافت راشدہ کے اختتام کے بعد عالم اسلام پر کیا اثرات مرتب ہوئے؟ اگر قرآنی آیات کے مطابق خلافت دین کی تمکنت اور امن کی حالت پیدا کرنے کا ذریعہ تھی تو لازمی طور پر خلافت راشدہ کے خاتمہ کے بعد مسلمانوں میں خوف اور بد امنی کی حالت پیدا ہوئی ہو گی۔ اس کے برعکس اگر نعوذُ باللہ خلافت محض آمریت اور استحصال کی صورت تھی تو پھر یقینی طور پر اس کے خاتمہ پر اسلام کو زیادہ وقار حاصل ہوا ہوگا اور اس استحصال کے خاتمہ کے بعد کم از کم مسلمان تو امن اور چین کی حالت میں آ گئے ہوں گے۔

دینی پہلو کے بارے میں پہلے عرض کیا جا چکا ہے۔ لیکن تاریخی اعتبار سے بھی تجزیہ کرنا ضروری ہے۔ جب آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم کی وفات کے بعد خلافت پر سب کا اتفاق ہو چکا تھا تو پھر خلافت سے بغاوت اور روگردانی کس طرح شروع ہوئی ؟ یہ آواز اُٹھانے والا طبقہ کون تھا؟ اور اس کا نتیجہ کیا نکلا ؟ کیونکہ اگر زیر بحث موضوع یہ ہے کہ کیا واجب الاطاعت خلافت ضروری ہے کہ نہیں ؟ تو پھر تاریخی طور پر یہ دیکھنا ضروری ہے کہ جب تاریخ اسلام کے اوّ لین دَور میں خلافت راشدہ کے خلاف ایک گروہ کھڑا ہوا اور آخر حضرت علی رضی اللہ عنہ کی شہادت کے بعد خلافت ِراشدہ ختم ہو گئی تو اس سارے عمل کے کیا نتائج برآمد ہوئے۔

حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے دَور میں اسلامی سلطنت مسلسل پھیل رہی تھی اور ترقی کر رہی تھی۔ مشرق میں آذر بائیجان اور آرمینیا اس میں شامل ہو چکے تھے۔ مشرق میں افریقہ کے علاقے اس میں شامل ہو رہے تھے۔ اور قبرص بھی اس کا خراج گزار بن چکا تھا۔ تاریخی طور پر یہ ثابت ہے کہ عام لوگوں کے وظائف میں اضافہ کر دیا گیا تھا۔ اس کی وجہ سے خوش حالی بڑھی تھی۔ تاریخی طور پر ثابت ہے کہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے دور میں معترضین تو ایک طرف رہے جو کہ ایسے افعال کے بھی مرتکب ہوتے تھے جنہیں دنیا میں مسلمہ طور پر بغاوت اور غداری گردانا جاتا ہے، ان سے بھی غیر معمولی درگزر اور شفقت کا معاملہ کیا جاتا تھا۔ اس پس منظر میں حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے خلاف فتنہ شروع کیا جاتا ہے۔ اس فتنہ کی تفصیلی تاریخ ایک علیحدہ موضوع ہے اور جماعتِ احمدیہ کے لٹریچر میں بارہا ان واقعات کا تفصیلی تجزیہ پیش کیا جا چکا ہے۔ ایک بار یہ فتنہ پرور اپنے اعتراضات سمیت مدینہ پہنچ گئے۔ اور یہ ارادے ظاہر کیے کہ وہ یا تو حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کو معزول کر دیں گے اور اگر انہوں نے اس سے انکار کیا تو انہیں قتل کردیں گے۔ یہ واضح طور پر اعلان بغاوت تھا اور آج تک دنیا کے ہر قانون میں اس کی سخت ترین سزا مقرر ہے۔ جب ان کی نیت واضح ہوئی تو حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے نہ صرف مدینہ بلکہ باہر کے مسلمانوں کو جمع کیا اور ان کے حالات ان کو سنائے۔ اس اجتماع کی متفقہ رائے یہی تھی کہ یہ لوگ اسی قابل ہیں کہ انہیں قتل کر دیا جائے۔ لیکن حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے شفقت کر کےان کے اس جرم کو معاف کرنے کا اعلان کیا اور فرمایا کہ میں کسی سے عداوت نہیں کرتا۔ اور ان کے اعتراضات اور ان کے بارے میں حقائق سارے مجمع میں سنائے گئے۔ پہلا اعتراض یہ تھا کہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے اپنے لیے چراگاہوں کے علاقے محفوظ کر لیے ہیں۔ اس پر آپؓ نے فرمایا کہ میں نے تو اپنے لیے کوئی چراگاہ محفوظ کی ہی نہیں۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے زمانے سے صدقات کے اونٹوں کے لیے چراگاہ مقرر تھی۔ اب چونکہ صدقات کے اونٹوں کی تعداد پہلے سے بڑھ گئی تھی تو صدقات کے اونٹوں کے لیے مقرر چراگاہ کے علاقے میں اضافہ کیا گیا تھا۔ اور اہل مدینہ سے دریافت فرمایا کہ کیا یہ سچ نہیں ہے؟ سب اہل مدینہ نے اس کے سچ ہونے کی گواہی دی۔ دوسرا اعتراض اموال کے ناجائز حصول کا تھا۔ اس پر آپؓ نے فرمایا کہ جب میں خلیفہ بنا تو پورے عرب میں سب سے زیادہ اونٹ، بھیڑیں اور بکریا ں میرے پاس تھیں۔ اور اب میرے پاس صرف دو اونٹ ہیں جو کہ میں نے حج پر جانے کے لیے رکھے ہوئے ہیں۔ پھر اہل مدینہ سے دریافت کیا کہ کیا یہ سچ نہیں ہے؟ سب نے گواہی دی کہ یہ سچ ہے۔ تیسرا اعتراض اور بھی خوب تھا۔ اور اس سے باغیوں کی ذہنی اور دینی حالت کا بھی بخوبی اندازہ ہو جاتا ہے۔ اور وہ یہ اعتراض تھا کہ قرآن مجید تو کئی کتابوں پرمشتمل تھا اور حضرت عثمان ؓنے اسے ایک کتاب میں کر دیا ہے۔ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ قرآن پہلے بھی ایک ہی کتاب کی صورت میں تھا۔ یہ سوچ ہی غلط ہے کہ قرآن ایک سے زیادہ کتب کی صورت میں تھا۔ تمام اہل مدینہ نے گواہی دی کہ ایسا ہی تھا۔ اسی طرح مال غنیمت میں ناجائز تصرف کا الزام تھا۔ اس کے جواب میں حضرت عثمانؓ نے فرمایا کہ حضرت ابو بکرؓ اور حضرت عمر ؓکے دَور میں مال غنیمت کا پانچواں حصہ خلفاء کے پاس آتا تھا۔ اور اس کو وہ انعام کے طور پر تقسیم کیا کرتے تھے۔ لیکن میرے دَور میں جب فوجیوں نے اسے نا پسند کیا تو میں نے وہ حصہ بھی واپس عام فوجیوں میں تقسیم کرنا شروع کر دیا۔ اور سب اہل مدینہ نے اس بات کے سچا ہونے کی گواہی دی۔ ان مثالوں سے ان باغیوں کی عقلی ، دینی اور اخلاقی حالت بخوبی واضح ہوجاتی ہے۔

لیکن تمام تفصیلات کا ذکر ترک کرتے ہوئے اب براہ راست حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی المناک شہادت کے واقعہ کی طرف آتے ہیں۔ جب تمام اوباشانہ حرکات کے بعد حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کو شہید کر دیا گیا۔ اور اب مدینہ اس حالت میں تھا کہ وہاں خلیفہ وقت کا وجود نہیں تھا تو ان بد بختوں نے نہ صرف حضرت عثمانؓ کے گھر میں دوسرے لوگوں کوقتل کیا اور لوٹ مار شروع کر دی یہاں تک کہ عورتوں کی چادریں تک چھین لیں۔ صرف یہی نہیں اس کے بعد ان کا پہلا فعل یہ تھا کہ انہوں نے بیت المال کو لوٹ لیا اور یہ تاریخ اسلام میں پہلی مرتبہ تھا کہ بیت المال کو لوٹا گیا تھا۔ یہ حقیقت قابل غور ہے کہ ان لوگوں نے بغاوت اس بہانے سے شروع کی تھی کہ اموال کی تقسیم انصاف کے مطابق نہیں ہو رہی اور حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کو شہید کر نے کے بعد ان کا پہلا فعل یہ تھا کہ بیت المال کو لوٹ کر چلتے بنے۔

(تاریخ طبری جلد سوئم، اردو ترجمہ از دارالاشاعت کراچی 2003ء صفحہ 350تا 410)

سوال یہ ہے کہ اگر نعوذُ باللہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی خلافت میں حکومت کے اموال پر ناجائز تصرف ہو رہا تھا تو آپ کی شہادت کے بعد یہ اموال محفوظ ہونے چاہیے تھے نہ کہ چند گھنٹوں میں ہی ان قاتلوں نے بیت المال کو لوٹ لیا۔ اور اگر نعوذُ باللہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی ذات مظالم کر رہی تھی اور یہ مظالم رخنہ کا باعث بن رہے تھے تو آپ کی شہادت کے بعد تمام مسلمانوں میں بھائی چارابڑھنا چاہیے تھا۔ لیکن عملاََ یہ ہوا کہ آپ کی شہادت کے بعد اب تک چودہ سو سال میں پھر مسلمان ایک نہیں ہو سکے۔ اور فساد اور قتل و غارت کا ایک نہ ختم ہونے والا سلسلہ شروع ہو گیا اور سب سے زیادہ قتل و غارت میں سرگرم وہ گروہ تھے جنہوں نے خلفائے راشدین کے خلاف علم بغاوت بلند کیا تھا۔ اور ایک متحدہ خلافت کے تحت اس وقت جتنی تیزی سے ترقی ہو رہی تھی اس کو بہت بڑا دھچکا پہنچا۔ گو کہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے اسلام بعد میں بھی ترقی کرتا رہا لیکن ترقی کی رفتار بہت کم ہو گئی۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ آیت استخلاف میں فرماتا ہے کہ اللہ تعالیٰ جب خلافت عطا کرتا ہے تو دین کو تمکنت عطا ہوتی ہے۔ جب عالم اسلام کے ایک طبقہ نے اس مشروط انعام سے روگردانی کی تو وقار میں فرق آنا شروع ہو گیا۔

حضرت علی ؓکی خلافت کے المناک واقعات

تاریخ کا یہ مرحلہ اتنا اہم ہے کہ ہمیں یہ دیکھنا ہوگا کہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی شہادت کے معاََ بعد کیا واقعات رونما ہوئے۔ ایک تو یہ کہ عالم اسلام موٹے طور پر دو گروہوں میں تقسیم ہو گیا۔ ایک گروہ نے خلیفہ راشد حضرت علی رضی اللہ عنہ کی بیعت کی اور شام کے علاقے میں ایک گروہ نے حضرت معاویہ کی بیعت کر لی۔ لیکن صرف ایک یہی تقسیم نہیں تھی۔ خلافت کی ناقدری کی وجہ سے عالم اسلام میں فوری طور پر تقسیم در تقسیم باہمی جنگ و جدل کا ایک نہ ختم ہونے والا سلسلہ شروع ہو گیا۔ جب جنگ صفین کے موقع پر حضرت علی اور حضرت معاویہ کی فوجوں کی جنگ ہوئی تو ایک گروہ ثالثی پر تیار ہو گیا۔ اس سے ناراض ہو کر خوارج کا گروہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کی افواج سے علیحدہ ہو گیااور کوفہ کے مضافات میں حروراء کے مقام پر جمع ہونا شروع ہوا۔ اسی نسبت سے ان کے لیے حروریہ کی اصطلاح بھی استعمال کی جاتی تھی۔ اس وقت ان کی تعداد چھ سے بارہ ہزار بیان کی جاتی ہے۔

ان کے اصل نظریات کیا تھے ؟ شاید شتر بے مہار ہونے کی وجہ سے اس بات کا انہیں خود بھی علم نہیں تھا۔ لیکن انہیں اپنے نام نہاد نیکی اور عبادت گزاری کا چرچا کرنے کا بہت شوق تھا۔ اور یہ اپنے قائدین کو ایسے القابات سے بھی یاد کرتے تھے مثلاََ ’’ذو الثفنات‘‘ یعنی وہ شخص جس کے گھٹنے عبادت کی وجہ سے اونٹ کے گھٹنوں کی طرح ہو گئے ہوں۔ لیکن ذرا ذہنیت ملاحظہ ہو کہ ان میں سے ایک گروہ کے نزدیک نعوذُ باللہ حضرت علی، حضرت عائشہ، حضرت طلحہ، حضرت زبیر اور حضرت معاویہ سب کافر ہو گئے تھے۔ اور حضرت علی رضی اللہ عنہ کی وفات کے بعد ان میں سے بعض حضرت حسن رضی اللہ عنہ کی فوج میں شامل ہو گئے اور آخر ان پر بھی حملہ کیا اور ان کا مال لوٹ لیا اور انہیں کافر قرار دے دیا۔

قابل غور بات یہ ہے کہ ان کا نظریہ یہ تھا کہ وہ ایک شخص کی بیعت تو کر لیتے تھے لیکن کہتے تھے اگر ہم نے جس کی بیعت کی ہے اگر ہم یہ محسوس کریں کہ وہ حق سے ہٹ گیا ہے تو ہمارے لیے اسے معزول اور قتل کرنا واجب ہوگا۔ اور یہ فیصلہ کون کرے گا؟ تو ایسے معاملات میں وہ اپنے آپ کو ہی منصف اور حرف آخر سمجھتے تھے۔ ان میں سے ایک طبقے نے خلافت یا امامت کی ضرورت سے ہی انکار کر دیا۔ اور شروع میں انہوں نے اپنی خلافت قائم کی اور ان کا پہلا خلیفہ عبد اللہ بن وہب راسبی تھا۔ اس کے بعد ان کا دوسرا خلیفہ مستورد بن حلفہ تھا۔ ایسا بھی ہوتا کہ یہ ایک شخص کو اپنا خلیفہ منتخب کرتے اور پھر اس کے منع کرنے کے باوجود جنگ شروع کر دیتے۔ یہ یہودیوں اور عیسائیوں کو تو کچھ نہ کہتے مگر مسلمانوں کو کافر قرار دے کر ان کو قتل کرنا شروع کردیتے۔ چند دہائیوں میں ہی ان کی کوکھ سے ایک کے بعد دوسرا فرقہ ظہور پذیر ہوتا رہا۔ مثال کے طور پر ازارقہ، اباضیہ، صفریہ، الحفیہ، الحارثیہ، الیزیدیہ، اصحاب اطاعت، نجدات بیہسیہ وغیرہ۔

(الخوارج مصنفہ جولیس ولہائوزن، اردو ترجمہ از علی محسن صدیقی، ناشر قرطاس ستمبر 2009ءصفحہ 1تا 91)(خوارج ایک مطالعہ از ڈاکٹر نگار سجاد ظہیر، ناشر قرطاس اپریل 2012ء صفحہ1تا 214)

خوارج کی سرگرمیوں کی تاریخ ایک المناک تاریخ ہے۔ جب ہزاروں مسلمانوں کا خون بہ چکا تھا اور عالم اسلام تقسیم کا شکار تھا۔ تو اس طبقہ نے اپنے زعم میں ایک آخری وار کرنے کا منصوبہ بنایا۔ تین خوارج جمع ہوئے انہوں نے منصوبہ بنایا کہ ایک ہی وقت میں حضرت علی رضی اللہ عنہ، حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ اور حضرت عمرو بن العاصؓ کو قتل کر دیا جائے۔ ظاہر ہے کہ منصوبہ یہ تھا کہ ایک ہی ساتھ عالم اسلام کی قیادت کو ختم کر دیا جائے۔ ان میں سے صرف عبد الرحمٰن بن ملجم جو کہ مصر کا باشندہ تھا اپنے مقصد میں کامیاب ہوا اور اس نے زہر میں بجھی ہوئی تلوار سے 21؍رمضان کوحضرت علی رضی اللہ عنہ کو شہید کر دیا۔ اور اس طرح آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشگوئی کے مطابق آپ کے وصال کے بعد قائم ہونے والی خلافت ِراشدہ ختم ہو گئی۔

یہاں شیعہ احباب کے ایک عقیدے کا ذکر ضروری ہے۔ اثنا عشری شیعہ احباب کے مطابق ان کے آخری امام حضرت محمد بن حسن المہدی کسی غار میں پوشیدہ ہو گئے ہیں۔ اور آخری زمانے میں اس غار سے ظہور فرما کر اسلام کو فتح دلوائیں گے اور مومنین کو تمام مشکلات سے نجات دلائیں گے۔ اس عقیدے میں بھی یہی نظریہ پایا جاتا ہے کہ اسلام کی مشکلات کا حل اللہ تعالیٰ کی طرف سے قائم کردہ امامت میں ہے۔ اور اسماعیلی اور بوہرہ فرقہ کے مطابق ہر وقت حاضر امام کی موجودگی ضروری ہے۔

آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک عظیم پیشگوئی

جیسا کہ حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ کی روایت ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

’’تمہارے اندر نبوت موجود رہے گی جب تک خدا چاہے گا۔ پھر خلافت علیٰ منہاج النبوۃ ہوگی جب تک خدا چاہے گا۔ پھر اللہ اسے بھی اُٹھا لے گا۔ پھر طاقتور مضبوط بادشاہت کا دور آئے گا جب تک اللہ چاہے گا۔ پھر اللہ اسے بھی اُٹھا لے گا۔ اور ظالم اور جابر حکومت کا زمانہ آئے گا۔ پھر اللہ جب چاہے گا اسے بھی اُٹھا لے گا۔ پھر خلافت علیٰ منہاج النبوۃ قائم ہو گی۔ ‘‘

(مسند احمد بن حنبل جلد 4صفحہ273)

اس حدیث سے ظاہر ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم کی خلافت راشدہ کے ختم ہونے کے بعد مسلمانوں پر ایک ایسا ظالمانہ دور آئے گا جس میں ان کی حالت پست سے پست تر ہوتی جائے گی۔ لیکن یہ کیفیت ہمیشہ نہیں رہے گی بلکہ اللہ تعالیٰ اس سے نجات بخشے گا اور اس تنزل کی حالت سے نکلنے کا طریقہ یہی ہو گا کہ اللہ تعالیٰ مسلمانوں میں دوبارہ خلافت کا نظام جاری رکھے گا۔ اس پیشگوئی میں مذکور تین امور کے بارے میں سب متفق ہیں کہ وہ پورے ہو گئے ہیں۔ تو چوتھے امر کے پورا ہونے کے بارے میں شک کی کیا گنجائش ہو سکتی ہے۔

عالم اسلام کے کانشنس کی گواہی

یہ انسا ن کی فطرت ہے کہ وہ برے نام سے منسوب ہونا پسند نہیں کرتا اور اچھے نام سے منسوب ہونا پسند کرتا ہے۔ یہی نفسیاتی کیفیت مختلف گروہوں میں ظاہر ہوتی ہے۔ ہر نظام اور ہر گروہ اچھے نام کا انتخاب کرتا ہے۔ مثال کے طور پر اس دَور میں مطلق العنان بادشاہت کو اچھا نہیں سمجھا جاتا۔ سوائے اس کے کہ کہیں پر برطانیہ کی طرح محض علامتی بادشاہت ہو اور اصل میں اختیار پارلیمنٹ کے پاس ہو۔ آج امریکہ یا کسی اَور مغربی ملک کے سربراہ حکومت کو بادشاہ کے نام سے منسوب کریں تو شور مچ جائے گا۔ وہ خود سب سے زیادہ بڑھ کر اس کی تردید کرے گا۔ لیکن اسی شخصیت کو جمہوری لیڈر کہیں تو وہ اسے تعریف سمجھے گا۔ کیونکہ معاشرے میں مطلق العنان بادشاہت کو برا سمجھا جاتا ہے۔ اگر نعوذُ باللہ اُس دَور میں خلافت ایک جابرانہ نظام تھا تو پھر کسی کو یہ نام نہیں اپنانا چاہیے تھا۔ لیکن عملاََ یہ ہوا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم کی خلافت راشدہ کے ختم ہونے کے بعد تقریباََ ہر بڑی بادشاہت نے اپنے لیے ’’خلافت‘‘ کا لقب اختیار کرنا پسند کیا۔ کیونکہ مسلمانوں کا کانشنس اس نظام کی طرف واپس جانا چاہتا تھا جسے وہ اپنی نا قدری کی وجہ سے کھو بیٹھے تھے۔ اور یہ چیز صرف اموی اور عباسی سلطنت تک محدود نہیں تھی۔ اندلس کے بادشاہوں نے بھی خلافت کا لقب اختیار کیا، مصر کے بادشاہوں نے فاطموی خلافت کی بنیاد ڈالی اور بعد میں ترکی میں عثمانی بادشاہوں نے بھی اپنے لیے خلافت کا لقب اختیار کیا۔ ظاہر ہے کہ یہ بادشاہ خلیفہ راشد نہیں تھے۔ لیکن دنیاوی لحاظ سے دنیا کے عظیم ترین بادشاہ تھے لیکن وہ جانتے تھے کہ مسلمانوں کا کانشنس فطرتی طور پر دوبارہ خلافت راشدہ کے دور کی طرف جانا چاہتا ہے۔ اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشگوئی کے نتیجہ میں مسلمانوں کے لاشعور میں یہ بات نقش ہے کہ ان کے مسائل کا حل خلافت کے نظام سے ہو گا۔

اس لیے یہ نظریہ قبول نہیں کیا جا سکتا کہ مسلمانوں میں خلافت راشدہ صرف شروع کے تیس سال قائم رہی اور پھر ہمیشہ کے لیے اس کا خاتمہ ہو گیا۔ جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام تحریر فرماتے ہیں:

’’ان آیات کو اگر کوئی شخص تامل اور غور کی نظر سے دیکھے تو میں کیونکر کہوں کہ وہ اس بات کو سمجھ نہ جائے کہ خدا تعالیٰ اس امت کے لئے خلافت دائمی کا صاف وعدہ فرماتا ہے۔ اگر خلافت دائمی نہیں تھی تو شریعت موسوی کے خلیفوں سے تشبیہ دینا کیا معنی رکھتا تھا۔ اور اگر خلافت راشدہ صرف تیس برس تک رہ کر پھر ہمیشہ کے لئے اُس کا دور ختم ہو گیا تھا تو اس سے لازم آتا ہے کہ خدا تعالیٰ کا ہر گز یہ ارادہ نہ تھا کہ اس امت پر ہمیشہ کے لئے ابواب سعادت مفتوح رکھے کیونکہ روحانی سلسلہ کی موت سے دین کی موت لازم آ تی ہے اور ایسا مذہب ہر گز زندہ نہیں کہلا سکتا جس کے قبول کرنے والے خود اپنی زبان سے ہی یہ اقرار کریں کہ تیرہ سو برس سے یہ مذہب مرا ہوا ہے اور خدا تعالیٰ نے اس مذہب کے لئے ہر گز یہ ارادہ نہیں کیا کہ حقیقی زندگی کا وہ نور جو نبی کریم کے سینہ میں تھا وہ توارث کے طور پر دوسروں میں چلا آوے۔

افسوس کے ایسے خیال پر جمنے والے خلیفہ کے لفظ کو بھی جو استخلاف سے مفہوم ہوتا ہے تدبر سے نہیں سوچتے کیونکہ خلیفہ جانشین کو کہتے ہیں۔ اور رسول کا جانشین حقیقی معنوں کے لحاظ سے وہی ہو سکتا ہے جو ظلی طور پر رسول کے کمالات اپنے اندر رکھتا ہو۔ اس واسطے رسول کریم نے نہ چاہا کہ ظالم بادشاہوں پر خلیفہ کا لفظ اطلاق ہو…‘‘ (شہادۃ القرآن، روحانی خزائن جلد 6صفحہ353)

حضرت مسیح موعود ؑکی وفات کے بعد سب دل خلافت کی طرف جھک گئے

اب ہم حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے وصال کا ذکر کرتے ہیں۔ جیسا کہ پہلے ذکر کیا جا چکا ہے کہ نبی کی وفات اتنا بڑا زلزلہ ہوتی ہے کہ اس وقت سب کے دل بیٹھے جا رہے ہوتے ہیں۔ جیسا کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کی وفات کے وقت ہوا اور پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم کی وفات کے وقت ہوا، اس وقت کوئی گروہ یہ سوال نہیں اُٹھا رہا تھا کہ خلافت کی ضرورت نہیں ہے۔ اس قسم کے خیالات بالعموم بعد میں پیدا ہوتے ہیں۔ جب خلافت قائم ہونے کے بعد خوف کی حالت دُور ہو چکی ہوتی ہے اور امن قائم ہوجاتا ہے۔

حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی وفات 26؍مئی 1908ء کو ہوئی۔ آپ کو بار بار اپنے وصال کے الہامات ہو رہے تھے۔ یہ اتنا بڑا زلزلہ تھا کہ اس وقت کسی شخص نےیہ نہیں کہا کہ جماعتِ احمدیہ کو خلافت کی ضرورت نہیں ہے۔ صرف انجمن کافی ہے یا کسی اور انتظامی ڈھانچے سے جماعتی امور چلائے جائیں گے اور خلیفہ کا کام صرف نمازیں پڑھانا ہو۔

چنانچہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے جنازے اور حضرت خلیفۃ المسیح الاول رضی اللہ عنہ کی بیعت سے قبل قادیان میں جو احباب اس وقت موجود تھے ان میں سے کئی عمائدین نے جن میں ان احباب کی بھی بڑی تعداد شامل تھی جنہوں نے بعد میں خلافت کی ضرورت سے انکار کیا ایک تحریر تیار کی اور وہ اس مجمع میں پڑھ کر سنائی گئی۔ اس تحریر میں جو حضرت خلیفہ اول کی خدمت میں یہ درخواست کرنے کے لیے پیش کی گئی تھی کہ حضور اپنی خلافت کی بیعت لیں۔ اس تحریر میں واضح لکھا ہوا تھا:

’’حضرت مولوی صاحب موصوف کا فرمان ہمارے واسطے آئندہ ایسا ہی ہو جیسا کہ حضرت اقدس مسیح موعود و مہدی معہود علیہ الصلوۃ و السلام کا تھا۔ ‘‘ (البدر 2؍جون 1908ء صفحہ 6)

اور حضرت خلیفۃ المسیح الاول ؓنے اس کے جواب میں جو تقریر فرمائی اس میں واضح فرما دیا:

’’اب تمہاری طبیعتوں کے رخ خواہ کسی طرف ہوں۔ تمہیں میرے احکام کی تعمیل کرنی ہو گی۔ اگر تمہیں یہ بات منظور ہو تو میں طوعاََ و کرہاََ یہ بوجھ اُٹھاتا ہوں۔ ‘‘

(البدر 2؍جون 1908ء صفحہ8)

ان حوالوں سے ظاہر ہے کہ جماعتِ احمدیہ میں ایک واجب الاطاعت خلیفہ کے ہاتھ پر بیعت کی گئی تھی۔ خلیفہ اوّل نے اس شرط پر بیعت لی تھی کہ خواہ طبائع کا رخ کسی طرف ہو، اب ان کی اطاعت کرنی ہو گی۔ اور بیعت کرنے والوں نے اس بات کا اعلان کیا تھا کہ اب جس کی بیعت کی جا رہی ہے اس کے حکم کی اطاعت اسی طرح کی جائے گی جس طرح حضرت مسیح موعودؑ کے حکم کی اطاعت کی جاتی تھی۔

خلافت کے متعلق غلط نظریات

اب یہ جائزہ لیتے ہیں کہ گذشتہ دوصدیوں میں مسلمانوں میں خلافت کے بارے میں کیا خیالات رائج رہے۔ ان دو صدیوں میں بلکہ اب تک بد قسمتی سے مسلمانوں میں یہ خیال رائج رہا ہے کہ خلافت کے لیے دنیاوی حکومت کا مالک ہونا ضروری ہے۔ اس نظریہ کی وجہ سے ان کی توجہ کا مرکز اسلام کی دینی ترقی اور تبلیغ کی بجائے محض دنیاوی شان و شوکت کا حصول بن گیا۔

حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے دور میں بہت سے سنّی مسلمان ترکی کے عثمانی بادشاہ کو خلیفہ سمجھتے تھے اور اس کی کوئی مذہبی وجہ نہیں تھی بلکہ صرف یہی وجہ تھی کہ ترکی کا بادشاہ مسلمان بادشاہوں میں سے سب سے زیادہ علاقے پر حکمران تھا۔ اور اس بل بوتے پر اس نے اپنے آپ کو ’’خلیفہ‘‘ کا لقب دے رکھا تھا۔ جب پہلی جنگ عظیم کے خاتمہ کے بعد عثمانی خلافت کو خطرہ ہوا تو ہندوستان میں اس خلافت کو بچانے کے لیے زبردست تحریک چلائی گئی۔ اس تحریک کا مطالبہ تھا کہ ترکی کے عثمانی بادشاہ مسلمانوں کے خلیفہ ہیں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے جانشین ہیں ایک خلیفہ کے لیے ضروری ہے کہ ایک وسیع علاقہ اس کے ماتحت ہو۔ اس لیے ترکی کے بادشاہ کی سابقہ سلطنت کے علاقے ان ہی کے ماتحت رہنے ضروری ہیں۔ حضرت مصلح موعودؓ نے انتباہ فرمایا تھا کہ اس طرز پر تحریک چلانا تباہ کن ہو گا۔ اس محض دنیاوی سوچ کا نتیجہ یہ ہوا کہ جب سلطان عبد الوحید معزول ہو گئے اور ان کی جگہ سلطان عبد المجید بادشاہ مقرر ہوئے تو ہندوستان میں تحریک خلافت چلانے والوں نے یہ اظہار شروع کر دیا کہ خلیفہ معزول تو ہو سکتا ہے لیکن یہ جائز نہیں کہ وہ وسیع علاقوں کی سلطنت سے محروم ہو۔ اور جس شخص کو یہ لوگ کل تک خلیفہ کہہ رہے تھے، اب انہوں نے اسی شخص کو بد دیانت، شیطان، مردود اور مقہور کے لقب سے نوازنا شروع کر دیا۔ اس سے زیادہ شرم ناک صورت حال کیا ہو سکتی تھی۔ بہر حال آخر دسمبر 1923ء میں اس نام نہاد خلافت کو خود ترکوں نے ہی ختم کر دیا۔ حقیقت یہ ہے کہ آیت استخلاف سے واضح ہوتا ہے کہ خلافت کا قیام اللہ تعالیٰ کے ہاتھوں ہوتا ہے۔ ورنہ بڑی سے بڑی سلطنت بھی خلافت کو قائم نہیں رکھ سکتی۔ (تحریک خلافت مصنفہ میم او کمال ترجمہ ڈاکٹر نثار احمد اسرار سنگ میل 1991ءصفحہ 175تا 200)

اسی طرح سوڈان میں ایک شخص محمد احمد نے مہدی ہونے کادعویٰ کیا تھا اور سوڈان کے ایک بڑے حصے پر قبضہ بھی کیا۔ اور چند سال کے بعد 1885ء میں ہی اس کا ٹائفس سے انتقال ہو گیا۔ اس کی موت کے بعد ایک مرید عبد اللہ کو خلیفہ بنایا گیا لیکن پھر 1898ء میں جنگ میں انگریزوں سے شکست کے بعد یہ خلافت بھی ختم ہو گئی۔ دنیاوی بادشاہت کے نظریات نے مسلمانوں کو نہ صرف خلافت کی حقیقت بلکہ اسلام کے مغز سے بھی دور کر دیا۔ انہیں غلط خیالات کی کوکھ سے گذشتہ سالوں میں داعش کی خلافت نے جنم لیا۔ اور اس خلافت نے خوف کی حالت کو امن میں کیا تبدیل کرنا تھا۔ خود ہی خوارج کی طرح مسلمانوں میں خوف اور قتل و غارت کی فضا پیدا کرنے کا سب سے بڑا سبب بن گئے۔ اور دیکھتے دیکھتے اس خلافت نے بھی دم توڑ دیا۔ ان دو صدیوں میں جماعتِ احمدیہ کی خلافت کے علاوہ جو گروہ بھی خلافت کا نام لے کر اُٹھا، اس کے مقاصد اور کاوشوں میں اسلام کی تبلیغ کا نام و نشان تک نہیں پایا جاتا تھا۔ سارا زور دنیاوی اقتدار حاصل کرنے میں خرچ ہو رہا تھا، ان میں سے کوئی اس بات کا ذکر تک نہیں کرتا تھا کہ دلائل و براہین سے دنیا کو اسلام کی صداقت کا قائل کرنا ہے۔ اس طرز کے ساتھ یہ نام نہاد خلافتیں اسلام کی کیا خدمت کر سکتی تھیں۔

گذشتہ صدی کے وسط تک اکثر مسلمان ممالک آزاد نہیں تھے۔ اور یہ خیال کیا جا سکتا تھا کہ ان کی دنیاوی اور دینی طور پر خراب حالت اور یہ انتشار کی کیفیت اس محکومیت کی وجہ سے ہے۔ لیکن پھر تمام مسلمان ممالک آزاد ہو گئے۔ بلکہ کئی مسلمان ممالک کو بے نظیر مالی وسائل بھی حاصل ہو گئے۔ لیکن اس کے باوجود ان کی پسی ہوئی دینی اور دنیاوی حالت اسی طرح قائم ہے بلکہ بعض لحاظ سے بد تر ہوتی جا رہی ہے۔ اسی طرح ان کی زیادہ تر قوت آپس کے لڑائی جھگڑوں اور خون خرابے میں ہی صرف ہو رہی ہے۔ ایسا ہونا مقدر تھا کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشگوئی کے مطابق مسلمانوں کی زوال اور خوف کی حالت صرف اللہ تعالیٰ کی طرف سے قائم کردہ خلافت سے وابستہ ہو کر ہی امن کی حالت میں بدل سکتی تھی۔ یہ محض ایک خوش اعتقادی کی بات نہیں ہے بلکہ چودہ سو سال کی تاریخ کی گواہی اس پیشگوئی کی تائید کر رہی ہے۔

٭…٭…٭

مزید دیکھیں

متعلقہ مضمون

رائے کا اظہار فرمائیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close