خلاصہ خطبہ جمعہ

آنحضرتﷺ کے عظیم المرتبت (بدری) صحابی حضرت طلحہ بن عبیداللہ رضی اللہ عنہ کے اوصافِ حمیدہ کا ایمان افروز تذکرہ

جنگ جمل کی وجوہات اور حالات و واقعات کا بیان

جنگِ جمل میں حضرت طلحہؓ نے حالتِ نزع میں حضرت علیؓ کے لشکر میں سے ایک فردکے ہاتھ پر حضرت علیؓ کی بیعت کرلی تھی

جنگِ جمل میں حضرت طلحہؓ نے حالتِ نزع میں حضرت علیؓ کے لشکر میں سے ایک فردکے ہاتھ پر حضرت علیؓ کی بیعت کرلی تھی

خلاصہ خطبہ جمعہ سیّدنا امیر المومنین حضرت مرزا مسرور احمدخلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ 03؍اپریل 2020ءبمقام مسجد مبارک،اسلام آباد،ٹلفورڈ(سرے)، یوکے

امیر المومنین حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیزنے 03؍اپریل 2020ء کو مسجد مبارک، اسلام آباد، ٹلفورڈ، یوکے میں خطبہ جمعہ ارشاد فرمایا جو مسلم ٹیلی وژن احمدیہ کے توسّط سے پوری دنیا میں نشرکیا گیا ۔ جمعہ کی اذان دینے کی سعادت مکرم سفیر احمد صاحب کے حصے میں آئی۔

تشہد،تعوذ اور سورة الفاتحہ کی تلاوت کےبعد حضورِ انور ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا:

آج کل کے حالات اور یہاں کی حکومت کے بنائے ہوئےقانون کے مطابق باقاعدہ لوگوں کو سامنے بٹھا کر خطبہ نہیں دیا جاسکتا۔قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے جس حد تک اجازت ہے اُس کے مطابق یہاں انتظام کیا گیا ہے کہ مَیں مسجد سے خطبہ دوں کیونکہ دنیا بھر میں اس وقت خطبہ سننے والے ہزاروں لاکھوں لوگ ہیں۔ یہ وحدت قائم رکھنے کی ہمیں ہمیشہ کوشش کرنی چاہیے اور دعا بھی کرتے رہنا چاہیے۔

اب مَیں خطبے کا جو موضوع ہے اس کو شروع کرتا ہوں۔ حضر ت طلحہ بن عبیداللہؓ کا ذکر دو جمعے پہلے کے خطبے میں بیان ہوا تھا۔ اُن کی شہادت جنگِ جمل میں ہوئی تھی آج اس بارے میں بتاؤں گا۔

حضرت عمرؓ نے اپنی وفات کے وقت چھ جیّد صحابۂ کرام یعنی حضرت عثمانؓ، حضرت علیؓ،حضرت زبیرؓ،حضرت طلحہؓ،حضرت سعدؓ اور حضرت عبدالرحمٰن بن عوفؓ کی ایک کمیٹی بنائی اور فرمایا کہ مَیں خلافت کا حق دار اِن چند لوگوں سے بڑھ کر اور کسی کو نہیں پاتا۔ رسول اللہﷺ ایسی حالت میں فوت ہوئے کہ آپؐ اِن سے راضی تھے۔اس کے بعد حضرت عمرؓ نے آئندہ منتخب ہونے والے خلیفة الرسولﷺ کو مہاجرین، انصار اور جمیع مسلمانوں کی نسبت بعض وصایا فرمائیں۔

حضرت مصلح موعودؓ نے مختلف تاریخوں کے حوالے سے انتخابِ خلافت حضرت عثمانؓ کی تفصیل بیان فرمائی ہے۔ حضرت عمرؓ نے اِس کمیٹی کو ہدایت کی تھی کہ وہ تین دن کے اندر فیصلہ کرے۔ اِس انتخاب کے وقت حضرت طلحہؓ مدینے میں موجود نہ تھے۔ جب کمیٹی کے حاضر پانچوں افرادلمبی بحث کے باوجود کسی نتیجے پر نہ پہنچ سکے تو حضرت عبدالرحمٰن بن عوفؓ سے کہا گیا کہ وہ فیصلہ کریں اوراس امر میں کوئی رعایت نہ برتیں۔ آپؓ تین دِن تک مدینے میں گھر گھر گئے اور لوگوں کی رائے معلوم کرتے رہےاور بالآخرحضرت عثمانؓ کے حق میں اپنا فیصلہ دےدیا۔

فتح الباری شرح بخاری میں حضرت طلحہؓ کی عدم حاضری کی مختلف وجوہ بیان کی گئی ہیں مثلاً یہ کہ آپؓ اُس وقت موجود نہ تھے جب حضرت عمرؓ نے یہ وصیت فرمائی تھی۔

جب حضرت عثمانؓ شہید ہوئے تو لوگ بیعت کرنے کےلیےحضرت علیؓ کے پاس دوڑے ہوئے آئےآپؓ نے فرمایا کہ یہ تمہارا کام نہیں بلکہ یہ اصحابِ بدر کا کام ہے جس پر وہ راضی ہوں، وہی خلیفہ ہوگا۔ اس پراصحابِ بدر حضرت علیؓ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور یوں سب نے آپؓ کی بیعت کرلی۔

حضرت مصلح موعودؓ نے اپنی ایک تقریر میں خواجہ کمال الدین صاحب کے بعض اعتراضوں کے جواب میں فرمایا کہ طلحہ، زبیر اور حضرت عائشہؓ کے حضرت علیؓ کی بیعت نہ کرنے سے آپ حجت نہ پکڑیں، ان کو انکارِ خلافت نہ تھا بلکہ حضرت عثمانؓ کے قاتلوں کا سوال تھا۔ پھر مَیں آپ کو بتاؤں جس نے آپ سے کہاہے کہ انہوں نے حضرت علیؓ کی بیعت نہیں کی وہ غلط کہتا ہے۔ حضرت عائشہؓ اپنی غلطی کا اقرار کرکے مدینے جا بیٹھیں اور طلحہؓ اور زبیرؓ نہیں فوت ہوئے جب تک بیعت نہ کرلی۔ آپؓ نے اس سلسلے میں خصائصِ کبریٰ جلد ثانی کا حوالہ پیش کیا جس کے مطابق جنگِ جمل میں حضرت طلحہؓ نے حالتِ نزع میں حضرت علیؓ کے لشکر میں سے ایک فردکے ہاتھ پر حضرت علیؓ کی بیعت کرلی تھی ۔ جب یہ بات حضرت علیؓ کو بتائی گئی تو آپؓ نے اللہ اکبر کہا اور فرمایا اللہ تعالیٰ نے یہی چاہا کہ طلحہؓ میری بیعت کیے بغیر جنت میں نہ جائے۔ ایک موقعے پر حضرت عائشہؓ نے بھی جمل کے روز خروج کرنے پر تأسف کا اظہار فرمایا تھا۔ اسی طرح طلحہؓ اور زبیرؓ عشرہ مبشرہ میں سے تھے آپ دونوں کے متعلق آنحضورﷺ کی فرمائی ہوئی جنت کی بشارت کا سچا ہونا یقینی تھا۔ ان دونوں نے خروج سے رجوع اور توبہ کرلی تھی۔

سیّدنا حضرت مصلح موعودؓ حضرت عثمانؓ کی شہادت، حضرت علیؓ کی بیعت اور جنگِ جمل کا تذکرہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ قاتلوں کے گروہ مختلف جہات میں پھیل گئے تھے۔ جب اِن قاتلوں کو علیؓ کی بیعت کا عِلْم ہوا تو انہیں آپؓ پر الزام لگانے کا موقع مل گیا ۔ اِن شرپسندوں میں سے جو مکّے کی طرف گئے تھے وہ عائشہؓ سے ملے اور انہیں اِس بات پر آمادہ کیا کہ وہ حضرت عثمانؓ کے خون کا بدلہ لینے کےلیے جہاد کا اعلان کریں۔ دوسری جانب طلحہؓ اور زبیرؓ نے علیؓ کی بیعت اس شرط پر کی تھی کہ وہ عثمانؓ کے قاتلوں سے جلد از جلد بدلہ لیں گے۔ اُن ناگفتہ بہ حالات میں ایک جانب قاتلوں کے تعین میں اختلاف تھاتو دوسری جانب جلد بازی سے اسلام میں تفرقے کا اندیشہ۔ ایسے میں طلحہؓ اور زبیرؓ کا خیال تھا کہ ہم نے علیؓ کی بیعت جس شرط پر کی تھی وہ پوری نہیں ہورہی چنانچہ وہ شرعاً اپنے آپ کو بیعت سے آزاد خیال کرتے تھے۔ ایسے میں جب اِن دونوں بزرگ صحابہ تک عائشہؓ کا اعلان پہنچا تووہ اُن کے ساتھ جاملے ۔جلد ہی اِن صحابہ کےنقطۂ نظر کی ترویج ہوگئی اور ایک بڑی جماعت اُن کی ہم آواز بن گئی۔ حضرت علیؓ کو جب اِن باتوں کی خبر ہوئی تو آپؓ نے بھی ایک لشکر تیار کیا۔ پھر ایک شخص کو حضرت عائشہؓ اور طلحؓہ و زبیرؓ کے پاس بھجوایا اور اِن سب کو سمجھایا کہ اس وقت قاتلوں سے بدلہ لینا ملک میں مزید فساد کو پروان چڑھائے گا۔اس کے بعد طرفین کے قائم مقام ایک دوسرے سے ملے اور سب کا اِس پر اتفاق ہوگیا کہ جنگ کرنا درست نہیں اور صلح ہونی چاہیے۔

جب یہ خبر عبداللہ بن سبا کے ساتھیوں اور قاتلینِ عثمانؓ تک پہنچی تو انہیں مسلمانوں میں صلح کے خیال سے سخت گھبراہٹ ہوئی اور اِس میں اپنی شامت دکھائی دی۔ اِن مفسدوں نے خفیہ مشورہ کیا۔ دوسری جانب حضرت علیؓ کی حضرت زبیرؓ اور طلحہؓ سے ملاقات ہوئی اور آپؓ نےدونوں اصحاب کو سمجھایا۔ حضرت طلحہؓ نے علیؓ سے کہا کہ آپ نے لوگوں کو عثمانؓ کے قتل پر اکسایا ہے۔ حضرت علیؓ نے فرمایا کہ مَیں عثمانؓ کے قاتلوں پر لعنت بھیجتا ہوں۔ حضرت علیؓ نے زبیرؓ کو رسول اللہﷺکا فرمان یاد کرایا۔ آپؐ نے زبیرؓ سے فرمایا تھا کہ تُو علی سے جنگ کرے گا اور تُو ظالم ہوگا۔ یہ سن کر حضرت زبیرؓ نے قسم کھائی کہ وہ علیؓ سے ہرگز جنگ نہیں کریں گے۔جنگ کا خدشہ ایک بار پھر ٹلنے پر جہاں عامة المسلمین مطمئن ہوئے وہیں مفسدوں کو ایک بار پھر تشویش ہوئی اور انہوں نے رات کو یہ سازش کی کہ اُن مفسدوں میں سے جو حضرت علیؓ کے ساتھ تھے انہوں نے عائشہؓ اورطلحہؓ و زبیرؓ کے لشکر پر شب خون ماردیا اور دوسری جانب موجود مفسدین نے حضرت علیؓ کے لشکر پر حملہ کردیا۔ یوں ایک شور برپا ہوگیا۔ ہر فریق سمجھتا تھا کہ دوسرے نے دھوکا کیا حالانکہ اصل میں یہ سب سبائیوں کا منصوبہ تھا۔ حضرت عائشہؓ لوگوں کو صلح کا پیغام دیتی رہیں لیکن مفسد کسی کی بات سننے پر آمادہ نہ تھے۔حضرت زبیر جنگ سے الگ ہوکر ایک جانب چلے گئے تھے لیکن ایک شقی نے آپؓ کو عین حالتِ نماز میں شہید کردیا۔ جنگ کے دوران حضرت طلحہؓ عین میدانِ جنگ میں مفسدوں کے ہاتھوں مارے گئے۔

دورانِ جنگ ایک صحابی نے حضرت طلحہؓ کورسول اللہﷺ کا یہ فرمان یاد کرایا کہ آپؐ نے فرمایا تھا کہ طلحہ ایک وقت ایسا آئے گا کہ تم اور علی الگ الگ لشکر میں ہوگے اور علی حق پر ہوگا۔ طلحہؓ کو یہ بات یاد آئی تو آپؓ جنگ سے الگ ہوگئے لیکن ایک مفسد شخص نے آپؓ کوپھر بھی شہید کردیا۔ جب وہ قاتل علیؓ کے پاس انعام کے حصول کے لیے حاضر ہوا تو علیؓ سخت برہم ہوئے اور اسے رسول اللہﷺ کا فرمان سنایا کہ جو طلحہ کو قتل کرے گا خدا اُسے جہنم میں ڈالے گا۔ دورانِ جنگ کسی نے طلحہؓ کو ایک ہاتھ سے معذور ہونے پر ٹُنڈا کہہ کر طعن کیا تو آپؓ نے اُسے احد کی تمام تفصیل بتائی۔اسی نوع کی ایک روایت حضرت مصلح موعودؓ نے بیان فرمائی ہے کہ جنگ جمل کے موقعےپرایک صحابی کے سامنے کسی نے طلحہؓ کو ٹُنڈا کہا تو اُن صحابی نے احد میں طلحہؓ کےقابلِ رشک کارنامے کا ذکرکرکےفرمایا کہ اُس کا ٹُنڈا ہونا ایسی نعمت ہے کہ ہم میں سے ہر شخص اس برکت کےلیے ترس رہا ہے۔

ایک روایت کے مطابق حضرت علیؓ نے شہادت کے بعد طلحہؓ کے چہرے سے مٹی پونچھی اور اُن کے لیے دعائے رحمت کی فرمایا کہ کاش مَیں اس دن سے بیس سال پہلے مرگیا ہوتا۔

خطبے کے آخر میں موجودہ حالات کے تناظر میں حضورِ انور نے سیّدنا حضرت اقدس مسیح موعودؑ کے ارشادات پیش فرمائے۔ آپؑ نے طاعون کے دنوں میں فرمایا کہ مکانوں کو روشن رکھیں اور آج کل گھروں میں خوب صفائی رکھنی چاہیے۔ کپڑوں کو بھی ستھرا رکھنا چاہیے۔ صفائی رکھنا سنّت ہے اور قرآن شریف میں بھی یہی لکھا ہے ۔ اپنے شہروں سے دوسری جگہ نہ جائیں۔ سچّی توبہ کریں۔ پاک تبدیلی کرکے خدا تعالیٰ سے صلح کریں۔ راتوں کو اُٹھ اٹھ کر تہجد میں دعائیں مانگیں۔

حضورِ انور نے نصیحت فرمائی کہ حکومت کی ہدایات پر عمل کریں۔ گھروں کو صاف رکھیں۔ دھونی بھی دینی چاہیے، ڈیٹول وغیرہ کے سپرے بھی کرتے رہیں۔ اللہ تعالیٰ ہر احمدی کو توفیق دے کہ وہ اِن دنوں میں خاص طور پر دعاؤں پر زور دے۔ اللہ تعالیٰ سب پر فضل فرمائے اور رحم فرمائے۔ آمین

٭…٭…٭

متعلقہ مضمون

رائے کا اظہار فرمائیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button