متفرق مضامین

برصغیر پاک و ہند میں موجود مقدس مقامات جن کو مسیح الزماں حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور آپؑ کے خلفائے کرام رضوان اللّٰہ علیہم اجمعیننےبرکت بخشی

(مبارز نجیب وڑائچ)

سفرامرتسر13؍فروری1884ء

مکتوب نمبر41

بسم اللّٰہ الرحمن الرحیم

مخدومی مکرمی اخویم میر عباس علی سلمہ اللہ تعالیٰ۔ السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ

بعد ہذا آپ نےجو قول وحدت وجود کی نسبت استفسار فرمایا ہے اُس میں یہ بہتر تھا کہ اوّل آپ اُن وساوس اور اوہام کو لکھتے جن کو قائلین اس قول سقیم کے بطور دلیل آپ کے روبرو پیش کرتے ہیں کیونکہ اس عاجز نے ہر چند ایک مدت دراز تک غور کی اور کتاب اللہ اور احادیثِ نبویؐ کو بتدبّر و تفکرتمام دیکھا اور محی الدین عربی وغیرہ کی تالیفات پر بھی نظر ڈالی کہ جو اس طور کے خیالات سے بھرے ہوئے ہیں اور خود عقل خدا داد کی رُو سے بھی خوب سوچا اور فکر کیا لیکن آج تک اس دعویٰ کی بنیاد پر کوئی دلیل اور صحیح حجت ہاتھ نہیں آئی اور کسی نوع کی برہان اس کی صحت پر قائم نہیں ہوئی بلکہ اس کے ابطال پر براہین قویہ اور حجج قطعیہ قائم ہوتے ہیں کہ جو کسی طرح اُٹھ نہیں سکتیں۔ اوّل بڑی بھاری دلیل مسلمانوں کے لیے بلکہ ہر یک کے لیے کہ جو حق پر قدم مارنا چاہتا ہے قرآن شریف ہے کیونکہ قرآن شریف کی آیات محکمات میں بار بار اور تاکیدی طور پر کھول کر بیان کیا گیا ہے کہ جو کچھ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ ہے۔ وہ سب مخلوق ہے اور خدا اور انسان میں ابدی امتیاز ہے کہ جو نہ اس عالَم میں اور نہ دوسرے عالَم میں مرتفع ہوگی۔ اس جگہ بھی بندگی بیچارگی ہے اور وہاں بھی بندگی بیچارگی ہے۔ بلکہ اُس پاک کلام میں نہایت تصریح سے بیان فرمایا گیا ہے کہ انسان کی روح کے لیے عبودیت دائمی اور لازمی ہے اور اس کی پیدائش کی عبودیت ہی علّتِ غائی ہے۔ جیسا کہ فرمایا ہے۔

وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْاِنْسَ اِلَّا لِیَعْبُدُوْنِ (الذّٰرِیٰتِ:75)

یعنی میں نے جنّ اور انس کو پرستشِ دائمی کے لیے پیدا کیا ہے اور پھر انسان کامل کی روح کو اُس کے آخری وقت پر مخاطب کر کے فرمایا۔

یٰۤاَیَّتُہَا النَّفۡسُ الۡمُطۡمَئِنَّۃُ ارۡجِعِیۡۤ اِلٰی رَبِّکِ رَاضِیَۃً مَّرۡضِیَّۃً فَادۡخُلِیۡ فِیۡ عِبٰدِیۡ وَادۡخُلِیۡ جَنَّتِیۡ (الفجر:28تا31)

یعنی اے نفسِ بحق آرام یافتہ!اپنے رب کی طرف واپس چلا آتو اُس سے راضی اور وہ تجھ سے راضی۔ سو میرے بندوں میں داخل ہو اور میرے بہشت میں اندر آجا۔ ان دونوں آیات جامع البرکات سے ظاہرہو رہا ہے کہ انسان کی روح کے لیے بندگی اور عبودیت دائمی اور لازمی ہے اور اسی عبودیت کی غرض سے وہ پیدا کیا گیا ہے بلکہ آیت مؤخرالذکر میں یہ بھی فرمادیا ہے کہ جو انسان اپنی سعادتِ کاملہ کو پہنچ جاتا ہے اور اپنے تمام کمالاتِ فطرتی کو پا لیتا ہے اوراپنی جمیع استعدادات کو انتہائی درجہ تک پہنچا دیتا ہے۔ اُس کو اپنی آخری حالت پر عبودیت کا ہی خطاب ملتا ہے اور فَادۡخُلِیۡ فِیۡ عِبٰدِیۡ کے خطاب سے پکارا جاتا ہے۔ سو اب دیکھئے اس آیت سے کس قدر بصراحت ثابت ہوتا ہے کہ انسان کا کمال مطلوب عبودیت ہی ہے۔ اور سالک کا انتہائی مرتبہ عبودیت تک ہی ختم ہوتا ہے۔ اگر عبودیت انسان کے لیے ایک عارضی جامہ ہوتااوراصل حقیقت اس کی الوہیت ہوتی تو چاہیے تھا کہ بعد طے کرنے تمام مراتب سلوک کے الوہیت کے نام سے پکارا جاتا۔ لیکن فَادۡخُلِیۡ فِیۡ عِبٰدِیۡ کے لفظ سے ظاہر ہے کہ عبودیت اُس جہان میں بھی دائمی ہے۔ جو ابدالآباد رہے گی۔ اور یہ آیت بآواز بلند پکار رہی ہے کہ انسان گو کیسے ہی کمالات حاصل کرے مگر وہ کسی حالت میں عبودیت سے باہر ہو ہی نہیں (سکتا)۔ اور ظاہر ہے کہ جس کیفیت سے کوئی شَے کسی حالت میں باہر نہ ہو سکے وہ کیفیت اُس کی حقیقت اور ماہیت ہوتی ہے۔ پس چونکہ از روئے بیان واضح قرآن شریف کے انسان کے نفس کے لیے عبودیت ایسی لازمی چیز ہے کہ نہ نبی بن کر اور نہ رسول بن کر اور نہ صدیق بن کر اور نہ شہید بن کر اور نہ اس جہان اور نہ اُس جہان میں الگ ہوسکے۔جو مہتر اور بہتر انبیاء تھے۔ انہوں نے عَبْدُہٗ وَ رَسُوْلُہُ ہونا اپنا فخر سمجھا۔ تو اس سے ثابت ہے کہ انسان کی اصل حقیقت و ماہیت عبودیت ہی ہے الوہیت نہیں۔ اور اگر کوئی الوہیت کا مدعی ہے تو بمقابلہ اس محکم اور بیّن آیت کے کہ جو فَادْخُلِیْ فِیْ عِبَادِیْ (الفجر:30) ہے۔کوئی دوسری آیت ایسی پیش کرے کہ جس کا مفہوم فَادْخُلِیْ فِیْ ذَاتِیْ ہو۔ اور خود قرآن شریف جابجا اپنے نزول کی علّتِ غائی بھی یہی ٹھہراتا ہے کہ تاعبودیت پر لوگوں کو قائم کرے اور خدا نے اپنی کتاب عزیز میں اُن لوگوں پر لعنت کی ہے جنہوں نے مسیح اور بعض دوسرے نبیوں کو خدا سمجھا تھا۔ پس کیونکر وہ لوگ رحمت کے مستحق ہو سکتے ہیں جنہوں نے تمام جہان کو یہاں تک کہ ناپاک اور پلید روحوں کو بھی کہ جو شرارت اور فسق اور فجور سے بھری ہیں خدا سمجھ لیا ہے۔ ہاں یہ بات سچ ہے کہ قرآن شریف کی تعلیم کی رُو سے توحید تین مرتبہ پر منقسم ہے۔

ایک ادنیٰ اور ایک اوسط اور ایک اعلیٰ۔ تفصیل اس کی یہ ہے کہ ادنیٰ مرتبہ توحید کا کہ جس کے بغیر ایمان متحقق ہو ہی نہیں سکتا۔ نفی شرک رکھا ہے یعنی اس شرک سے بیزار ہونا کہ جو مشرکین محض ظلم اور زیادتی کی راہ سے مخلوق چیزوں کو خدا کے کاموں میں شریک سمجھتے ہیں یعنی کسی قوم نے سورج اور چاند یاآ گ اورپانی کو دیو تے قرار دے لیا ہے اور اُن سے مُرادیں مانگتے ہیں اور کسی قوم نے بعض انسانوں کو خدائی کا مرتبہ دے رکھا ہے اور خداوندِ کریم کی طرح اُن کو قادر مطلق اور قاضی الحاجات خیال کر رکھا ہے۔ سو یہ شرک صریح اور ظلم بدیہی ہے کہ جو ہر یک عاقل کو بہ بداہت نظر آتا ہے۔ لیکن دوسری قسم شرک کی جو قرآن شریف میں بیان کی ہے جس کے چھوڑنے پر توحید کی دوسری قسم موقوف ہے وہ اس کی نسبت کچھ باریک ہے کہ عوام کالانعام اس کو سمجھ نہیں سکتے۔ یعنی اسباب کو کارخانہ قدرت حضرت احدیّت میں شریک سمجھنا اور فاعل اور مؤثر حقیقی خدا ہی کو نہ جاننا۔ مثلًا ایک دوکاندار مسلمان جب عین ہجوم خریداروں کے وقت میں بانگِ نماز جمعہ سنتا ہے تو دل میں خیال کرتا ہے کہ اگر میں اس وقت جمعہ کی نماز کے لیے اپنی دکان بند کر کے گیا تو میرا بڑا ہی حرج ہوگا۔ جمعہ کی نماز میں خطبہ سننے اور نماز پڑھنے اور پھر شاید وعظ سننے میں ضروردیر لگے گی اور اس عرصہ میں سب خریدار چلے جائیں گے اور جو آمدنی اب یہاں ٹھہرے رہنے سے متصور ہے اُس سے محروم رہوں گا۔ سو یہ شرک فی الاسباب ہے۔ کیونکہ اگر وہ دکاندار جانتا کہ میرا ایک رازق قادرو متصرف مطلق ہے جس کے ہاتھ میں تمام قبض و بسط رزق ہے اور اُس کی اطاعت کرنے میں کوئی نقصان عائد حال نہیں ہوسکتا اور اُس کے ارادہ کے برخلاف کوئی تدبیر و حیلہ رزق کو فراخ نہیں کرسکتا تو وہ اس شرک میں ہرگز مبتلا نہ ہوتااور یہ قسم دوئم شرک کی چونکہ باریک ہے اس وجہ سے ایک عالَم اس میں مبتلا ہو رہا ہے اور اکثر لوگ اسباب پرستی پر اس قدر جھک رہے ہیں کہ گویا وہ اپنے اسباب کواپنا خدا سمجھ رہے ہیں اور یہ شرک دِق کی بیماری کی طرح ہے کہ جو اکثر نظروں سے مخفی اور مُحْتَجِبْ رہتاہے۔ اور تیسری قسم شرک کی جو قرآن شریف میں بیان کی گئی ہے جس کے چھوڑنے پر تیسری قسم توحید کی موقوف ہے وہ نہایت ہی باریک ہے کہ بجز خاص بالغ نظروں کے کسی کو معلوم نہیں ہوتی اوربغیر افراد کامل کے کوئی اس سے خلاصی نہیں پاتا اور وہ یہ ہے کہ ماسوا اللہ کے یادداشت دل پر غالب رہنا اور اُن کی محبت یا عداوت میں اپنے اوقات ضائع کرنا اور اُن کی ناچیز ہستی کو کچھ چیز سمجھنا اور اس شرک کا چھوڑناجس پر توحید کامل موقوف ہے۔ تب محقق ہوتا ہے کہ جب محب صادق پر اس قدر محبت اور محبتِ الٰہی کا استیلاء ہو جائے کہ اُس کی نظر شہود میں ہر یک موجودماسوا اللہ موجود ہونے کے معدوم دکھائی دے۔ یہاں تک کہ اپنا وجود بھی فراموش ہو جائے اور محبوب حقیقی کا نور ایسا کامل طور پر چمکے۔ سو اُس کے آگے کسی چیز کی ہستی اور حقیقت باقی نہ رہے اور اس توحید کا کمال اس بات پر موقوف ہے کہ ماسوا اللہ واقعی طور پر موجود تو ہو مگر سالک کی نظر عاشقانہ میں کہ جو محبت الٰہیہ سے کامل طور پر بھڑک گئی ہے وہ وجود غیر کا کالعدم دکھائی دے اور غلبہ محبت احدیّت کی وجہ سے اس کے ماسوا کو منفی اور معدوم خیال کرے۔ کیونکہ اگر وجود ماسوا کافی الحقیقت منفی اور معدوم ہی ہو تو پھر اس توحید درجہ سوئم کی تمام خوبی برباد ہو جائے گی۔ وجہ یہ کہ ساری خوبی اس توحید درجہ سوئم میں یہ ہے کہ محبوب حقیقی کی محبت اور عظمت اس قدر دل پر استیلاء کرے کہ بوجہ غلبہ اس شہود تام کے دوسری چیزیں معدوم دکھائی دیں۔ اب اگر دوسری چیزیں فی الحقیقت معدوم ہی ہیں تو پھر اس استیلاء محبت اور غلبہ شہود عظمت کی تاثیر کیا ہوئی اور کون کمال اس توحید میں ثابت ہوا کیونکہ جو چیز فی الواقعہ معدوم ہے اس کو معدوم ہی خیال کرنا یہ ایسا امر نہیں ہے کہ جو استیلاء محبت پر موقوف ہو بلکہ محبت اور شہود عظمت تامہ کی کمالیت اسی حالت میں ثابت ہوگی کہ جب عاشق دلدادہ محض استیلاء عشق کی وجہ سے نہ کسی اور وجہ سے اپنے معدوم( نقل مطابق اصل۔ اگلی عبارت سے معلوم ہوتا ہے کہ یہاں معدوم کا لفظ سہو کتابت ہے۔ صحیح لفظ ‘‘محبوب’’ہے۔) کے ماسوا کو معدوم سمجھے اور اپنے معشوق کے غیر کو کالعدم خیال کرے گو عقل شرع اُس کو سمجھاتی ہوں کہ وہ چیزیں حقیقت میں معدوم نہیں ہیں۔ جیسے ظاہر ہے کہ جب دن چڑھتا ہے اور لوگوں کی آنکھوں پر نورِ آفتاب کا استیلاء کرتا ہے تو باوجود اس کے کہ لوگ جانتے ہیں کہ ستارے اس وقت معدوم نہیں مگر پھر بھی بوجہ استیلاء اُس نور کے کہ ستاروں کو دیکھ نہیں سکتے۔ ایسا ہی استیلاء محبت اورعظمت اللہ کا محب صادق کی نظر میں ایسا ظاہر کرتا ہے کہ گویا تمام عالم بجز اس کے محبوب کے معدوم ہے اور اگرچہ عشق حقیقی میں یہ تمام انوار کامل اور اَتم طور پر ظاہر ہوتے ہیں لیکن کبھی کبھی عشق مجازی کا مبتلا بھی اس غایت درجہ عشق پر پہنچ جاتا ہے کہ اپنے معشوق کے غیر کو یہاں تک کہ خود اپنے نفس کو کالعدم سمجھنے لگتا ہے۔ چنانچہ منقول ہے کہ مجنوں جس کا نام قیس ہے اپنے عشق کی آخری حالت میں ایسا دیوانہ ہو گیا کہ یہ کہنے لگا کہ میں آپ ہی لیلیٰ ہوں۔ سو یہ بات تو نہیں کہ فی الحقیقت وہ لیلیٰ ہی ہو گیا تھا بلکہ اس کا یہ باعث تھا کہ چونکہ وہ مدت تک تصوّرِ لیلیٰ میں غرق رہا۔ اس لیے آہستہ آہستہ اس میں خود فراموشی کا اثر ہونے لگا۔ ہوتے ہوتے اس کا استغراق بہت ہی کمال کو پہنچ گیا اور محویّت کی اس حد تک جا پہنچا جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ وہ جنون عشق سے اَنَا اللّیْلٰی کا دعویٰ کرنے لگا اور یہ خیال دل میں بندھ گیا کہ فی الحقیقت میں ہی لیلیٰ ہوں۔ غرض غیر کو معدوم سمجھنا لوازم کمال عشق میں سے ہے اور اگر غیر فی الحقیقت معدوم ہی ہے تو پھر وہ ایسا امر نہیں ہے کہ جس کو استیلاء محبت اور جنون عشق سے کچھ بھی تعلق ہو اور غلبہ عشق کی حالت میں محویّت کے آثار پیدا ہو جانا کوئی ایسی بات نہیں ہے جس کو انسان مشکل سے سمجھ سکے۔ شیخ مصلح الدین شیرازی نے خوب کہا ہے۔

نہ از چینم حکایت کن نہ از روم

کہ دارم دلستانے اندریں بوم

چو روئے خوب او آید بیادم

فراموشم شود موجود و معدوم

اور پھر ایک اور جگہ فرماتے ہیں:

باتو مشغول و باتو ہم اہم

و از تو بخشایش تو میخواہم

تا مرا از تو آگہی دادند

بوجودت گر از خود آگاہم

اور خود وہ محویت کا ہی اثر تھا جس سے زلیخا کی سہیلیوں نے اپنی انگلیاں کاٹ لیں۔

اب خلاصہ کلام یہ ہے کہ قرآن شریف میں کمال توحید کا یہی درجہ بیان کیا گیا ہے کہ محب صادق بوجہ استیلاء محبت اور شہود عظمت محبوب حقیقی کی غیر کے وجود کو کالعدم خیال کرے نہ کہ فی الواقعہ غیرمعدوم ہی ہو۔ کیونکہ معدوم کو معدوم خیال کرنا ترقیات عشق اور محبت سے کچھ تعلق نہیں رکھتا۔ سوعاشق صادق کے لیے توحید ضروری اور لابدی ہے کہ جو اُس کے کمال عشق کی علامت ہے۔ یہی توحید ہے کہ جو اُس کا شہود بجز ایک کے نہ ہو۔ نہ یہ کہ عقلی طور پر بھی فی الواقعہ ہی موجود سمجھتا ہو کیونکہ وہ اپنے عقل میں ہو کر ایسی باتیں ہرگز منہ پر نہیں لاتا اور حق الیقین کے مرتبہ کے لحاظ سے جب دیکھتا ہے تو حقائق اشیاء سے انکار نہیں کر سکتا بلکہ جیسا کہ اشیاء فی الواقعہ موجود ہیں ایسا ہی اُن کی موجودیّت کا اقرار رکھتا ہے اور چونکہ یہ توحید شہودی فنا کے لیے لازمی اور ضروری ہے اس لیے خداتعالیٰ نے اس کا ذکر اپنے پاک کلام میں بسط سے فرمایا ہے اور نادان جب اُن بعض آیات کو دیکھتا ہے تو اس دھوکہ میں پڑ جاتا ہے کہ گویا وہ آیات توحید وجودی کی طرف اشارہ ہے اور اس بات کونہیں سمجھتا کہ خداوند کے کلام میں تناقض نہیں ہو سکتا۔ جس حالت میں اُس نے صدہا آیات بیّنات اور نصوصِ صریحہ میں اپنے وجود اور مخلوق کے وجود میں امتیاز کلی ظاہر کر دیا ہے اور اپنے مصنوعات کو موجود واقعی قرار دے کر اپنی صانعیت اُس سے ثابت کی ہے۔ اور اپنے غیر کو شقی اور سعید کی قسموں میں تقسیم کیا ہے اور بعض کیلیے خلودِ جنت اور بعض کے لیے خلودِ جہنم قرار دیا ہے اور اپنے تمام نبیوں اور مرسلوں اور صدیقوں کو بندہ کے لفظ سے یاد کیا ہے۔ اور آخرت میں اُن کی عبودیت دائمی غیر منقطع کا ذکر فرمایا ہے تو پھر ایسے صاف صاف اور کھلے کھلے بیان کے مقابلہ پر کہ جو بالکل عقلی طریق سے بھی مطابق ہے بعض آیات کی کسی اور طرح پر معنی کرنا صرف اُن لوگوں کا کام ہے کہ جو راہِ راست کے طالب نہیں۔ بلکہ آرام پسند اور آزاد طبع ہو کر صرف الحاد اور زندقہ میں اپنی عمر بسر کرنا چاہتے ہیں۔ ورنہ ظاہر ہے کہ اگر انسان صرف عقل کی رُو سے بھی نظر کرے تو وہ فی الفور معلوم کرے گا کہ مشتِ خاک کو حضرت پاک سے کچھ بھی نسبت نہیں۔ انسان دنیا میں آ کر بہت سے مکروہات اپنی مرضی کے برخلاف دیکھتا ہے اور بہت سے مطالب باوجود دعا اور تضرع کے بھی حاصل نہیں ہوتی۔ پس اگر انسان فی الحقیقت خدا ہی ہے تو کیوں صرف کُنْ فَیَکُوْنُکے اشارہ سے اپنے تمام مقاصد حاصل نہیں کر لیتا اور کیوں صفات الوہیت اس میں محقق نہیں ہوتیں کیا کوئی حقیقت اپنے لوازم ذاتی سے معرا ہو سکتی ہے۔ پس اگر انسان کی حقیقت الوہیت ہے تو کیوں آثار الوہیت اس سے ظاہر نہیں ہوتے۔ حضرت یعقوب علیہ السلام چالیس برس تک روتے رہے مگر اپنے فرزند عزیز کا کچھ پتہ نہ ملا مگر اسی وقت کہ جب خدا نے چاہا۔ پس جب کہ صفات الوہیت نبیوں میں ظاہر نہیں ہوئے تو اور کون ہے جس میں ظاہر ہوں گے اور جب کہ اب تک کوئی ایسا مرد پیدا نہیں ہوا کہ جس نے میدان میں آکر تمام مخالفوں اور موافقوں کے سامنے الوہیت کی طاقتیں دکھلائی ہوں تو پھر آئندہ کیونکر امید رکھیں۔ ماسوا اس کے یہ بھی دیکھنا چاہیے کہ انسان سے کیسے کیسے بُرے اور ناپاک کام صادر ہوتے ہیں۔ پس کیا عقل کسی عاقل کی تجویز کر سکتی ہے کہ یہ سب ناپاکیاں خدا کی روح کر سکتی ہے۔ پھر علاوہ اس کے مخلوق کے وجود سے انکار کرنا دوسرے لفظوں میں اس بات کا دعویٰ ہے کہ خدا تعالیٰ قادرِ مطلق نہیں۔ کیونکہ اگر اس کو قادر مطلق مان لیا ہے تو پھر اُس کی قدرت تامّہ کا اسی بات پر ثبوت موقوف ہے کہ جو چاہے پیدا کرے نہ کہ ہندوؤں کے اوتاروں کی طرح ہر جگہ بُرے بھلے کام کرنے کے لیے آپ ہی جنم لیتا رہے۔ سو خدا کی ذات سے سلب قدرت کرنا اور اُس کو طرح طرح کے گناہوں اور پاپوں اور بے ایمانیوں کا مورد ٹھہرانا اور انواع اقسام کی جہالتوں کو اُس پر روا رکھنا اسی توحید وجودی کا نتیجہ ہے جس کو وجودی لوگ نہیں سمجھتے۔ عقلمند انسان کا یہ کام ہوتا ہے کہ وہ ایسا دعویٰ ہرگزنہیں کرتا جس دعویٰ کا ثبوت اس کے پاس موجود نہیں ہوتا۔ پس اگر یہ لوگ عاقل ہوتے تو ایسا دعویٰ کرنے سے متہاشی ہوتے۔ زیادہ تر خرابی ان میں یہ ہے کہ اُن کی زبان اُن کے فعل اور عمل پر غالب ہو رہی ہے۔ ذرا خیال نہیں کرتے کہ ہم کو نفس امّارہ نے کہاں تک پہنچا رکھا ہے اور کس قسم کی ظلمت ہمارے دلوں پر طاری ہو رہی ہے اور کیونکر ہم دن رات جیفہ دنیا میں غرق ہو رہے ہیں۔ اگر یہ لوگ ایسا خیال کرتے اور انسانی ترقیات کو حال کے ذریعہ سے دیکھتے نہ صرف قال کے ذریعہ سے، تو یہ تمام اوہام اُن کے خود بخود اُٹھ جاتے۔ مثلاً ایک عاقل سیاح کے پاس یہ بیان کیا گیا ہے کہ جب کوئی سیاح فلاں جزیرہ میں پہنچتا ہے تو بجائے دو آنکھ کے اُس کی چار آنکھیں ہو جاتی ہیں اور منہ سے سنتا ہے اور کانوں کے ساتھ دیکھ سکتا ہے۔ تو ایسی خلاف قیاس خبر پر صرف اسی حالت میں عقلمند یقین کرے گا کہ جب بیان کنندہ اس خبر کا خود اس جزیرہ میں ہو کر آیا ہو اور یہ چار آنکھیں اور ایسا منہ اور ایسے کان اس نے دکھلائے ہوں یا کوئی اور انسان پیش کر دیا ہو جس میں یہ صفتیں موجود ہوں اور اگر ایسا نہیں کیا تو ہرگز وہ عاقل اس بات کو تسلیم نہیں کرے گا اور غایت کار اُس احمق کو یہ جواب دے گا کہ بھائی میں بھی تو اُسی جزیرہ کی طرف چلا جاتا ہوں۔ سو اگر ایسی ہی اس جزیرہ میں خاصیت ہے تو میری بھی وہاں جا کر چار آنکھیں ہو جائیں گی اور میں بھی منہ سے سنوں گا اور کانوں سے دیکھوں گا۔ تب خود میں تیرے اس بیان کو قبول کر لوں گا۔ اب میں بلا ثبوت کیوں کر قبول کر سکتا ہوں۔ سوسمجھنا چاہیے کہ جو انسان اپنے نفس کو دھوکہ نہیں دیتا اور اپنے خیال کو گمراہی میں ڈالنا نہیں چاہتا وہ باتیں چھوڑ دیتا ہے اور کام کی طرف متوجہ ہوتا ہے اور سرگرمی سے منزل مقصود کی طرف قدم رکھتا ہے۔ پھر اُس راہ کے تمام عجائبات بالضرورت اُس کو دیکھنے پڑتے ہیں اور بڑی آسانی سے حق الامر اُس پر کھل جاتا ہے مگر جو کوئی صرف باتوں میں مقید رہتا ہے اور محض سنے سنائے قصوں پر کہ جو عقل اور شرع سے بکلّی منافی ہیں جم جاتا ہے وہ اپنے نفس کو آپ ہلاکت میں ڈالتا ہے۔ حقیقت میں ایسے لوگ خدا تعالیٰ سے بالکل بے غرض ہیں اور وسیع مشربی کے پردہ میں اپنے نفسِ امّارہ کی خواہشوں کو پورا کرنا چاہتے ہیں اگر اُن کی سرشت میں کچھ بُو صدق کی ہے تو پہلے انسان بن کر ہی دکھلا دیں۔ پیچھے سے الوہیت کا دعویٰ کریں کیونکہ انسان بننے کے ہی ایسے لوازم ہیں جن کی ابھی تک بُو اُن میں نہیں آئی۔ نہ اُس کے حصول کی کچھ پرواہ رکھتے ہیں۔ خدا تعالیٰ اُمّتِ محمدیہ کی آپ اصلاح کرے۔ عجب خرابیاں پیدا ہو رہی ہیں اور یہ عاجز بباعث اپنی علالت طبع کے اس مضمون کو تفصیل اور بسط سے نہیں لکھ سکا لیکن میں امید رکھتا ہوں کہ طالب حق کے لیے اسی قدر کافی ہے مگر جس شخص کا مقصد خدا نہیں اس کو کوئی دقیقہ معرفت اور کوئی نشان مفید نہیں۔وَ مَا تُغۡنِی الۡاٰیٰتُ وَ النُّذُرُ عَنۡ قَوۡمٍ لَّا یُؤۡمِنُوۡنَ (یونس:102)اور یہ عاجز دو دن کے رفع انتظار کی غرض سے یہ خط لکھا گیا اور اب میں توکلاً علی اللّٰہ امرتسر کی طرف روانہ ہوتا ہوں۔ والسلام

13/ فروری 1884ء مطابق 14/ ربیع الثانی 1301ھ

(مکتوبات احمد جلد اول صفحہ 590تا597)

٭…٭…٭

متعلقہ مضمون

رائے کا اظہار فرمائیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button