متفرق مضامین

توہین رسالت کی سزا ۔قرآن و سنت کی روشنی میں

(حافظ مظفر احمد)

اللہ تعالیٰ نے جس طرح اپنی توہین کی سزاکا اختیار کئی مصالح کے باعث اس دنیا میں کسی انسان کو نہیں دیا
اسی طرح اپنے رسول کی توہین کی سزا کا معاملہ بھی اپنے ہاتھ میں رکھا ہے

تعزیرات پاکستان کے مطابق نبی کریم ؐکی شان میں گستاخی اور توہین رسالت کی سزا عمر قید یا موت ہوسکتی تھی۔ 1992ء میں شرعی عدالت کے اس فیصلہ کی بنا پر کہ توہینِ رسالت کی سزا صرف موت ہی ہوسکتی ہے عمر قید کے الفاظ دفعہ 295Cسے حذف کر دیے گئے اور موجودہ ملکی قانون کے مطابق توہین رسالت کی سزا صرف موت ہے۔

دیگر قوانین کی طرح اس قانون کا مقصد بھی مفاد عامہ اور قیام امن ہی بتایا گیا تھا مگرگذشتہ سالوں کے تلخ تجربات کے بعد ہمیں افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ نہ صرف یہ کہ اس قانون سے مطلوبہ مقاصد حاصل نہیں ہوئے بلکہ الٹا اس قانون کو فتنہ ، فساد اورظلم کا ذریعہ بنایا گیاہے۔ بالخصوص کمزور اور اقلیتی گروہ اس کی زد میں آئے اور ذاتی عناد کی بنا پر توہین رسالت کے نام پر جھوٹے مقدمات درج کروانے کا ایسا سلسلہ شروع ہوا کہ حکومت بھی یہ سوچنے پر مجبور ہوگئی کہ یہ رجحان روکنے کے لیے ایک اَور قانون متعارف کروانے کی ضرورت ہے جس کے مطابق ہر غلط مقدمہ درج کروانے والے پر بھی گرفت کی جاسکے ۔ یہ تو اندرونی ملکی صورتِ حال ہے۔

علاوہ ازیں اس قانون کے ناروا استعمال کے نتیجہ میں پاکستان کو دنیا بھر کے انسانی حقوق کے اداروں کے سامنے سخت مشکل کا سامنا ہے اور بین الاقوامی سطح پر کشمیریوں کے حقوق کی حمایت میں پاکستان کی آواز کو اس قانون کے حوالے سے بھارت کے اس جوابی حملہ سے دبا دیا جاتا ہے کہ پہلے اپنے گھر کی تو خبر لوجہاں معصوم شہریوں کو توہین رسالت کے نام پر صرف دو گواہیوں پر موت کی سزا دے دی جاتی ہے۔ اس صورتِ حال میں ہوش مند اور صاحب بصیرت مسلمان کا فرض ہے کہ تمام مقدس ہستیوں اور بالخصوص رسالت مآ بؐ کی توہین اور اس کی سزا کی شرعی حیثیت کے بارہ میں قرآن و سنّت کی تعلیم سے آگاہی حاصل کرے۔

اس مضمون کے بارے میں پہلی اصولی بات یہ یاد رکھنی ضرور ی ہے کہ توہین رسالت اتنا بڑا جرم ہے کہ توہین خدا کے بعد اس سے بڑا جرم کوئی نہیں ہوسکتا ۔کیونکہ اللہ تعالیٰ کے سفیر کی توہین بھی دراصل اس کی ہی توہین ہے جیساکہ اللہ تعالیٰ قرآن شریف میں فرماتا ہے:

قَدۡ نَعۡلَمُ اِنَّہٗ لَیَحۡزُنُکَ الَّذِیۡ یَقُوۡلُوۡنَ فَاِنَّہُمۡ لَا یُکَذِّبُوۡنَکَ وَ لٰکِنَّ الظّٰلِمِیۡنَ بِاٰیٰتِ اللّٰہِ یَجۡحَدُوۡنَ

(الانعام :34)

ىقىناً ہم جانتے ہىں کہ تجھے ضرور غم مىں مبتلا کرتا ہے جو وہ کہتے ہىں پس ىقىناً وہ(کافر)تجھے ہى نہىں جھٹلاتے بلکہ ظالم اللہ کى آىات کا ہى انکار کرتے ہىں ۔

پس توہین رسالت کا جرم بغیر سزاکے کیسے چھوڑا جاسکتا ہے۔ مگر اللہ تعالیٰ نے جس طرح اپنی توہین کی سزاکا اختیار کئی مصالح کے باعث اس دنیا میں کسی انسان کو نہیں دیا ۔اسی طرح اپنے رسول کی توہین کی سزا کا معاملہ بھی اپنے ہاتھ میں رکھا ہے۔ چنانچہ اس کابیان قرآن و سنت سے اس مضمون میں پیش کیاجارہا ہے۔

توہین رسالت کے اس اہم مضمون کا مطالعہ مندرجہ ذیل پہلوؤں کی رو سے ضروری ہے۔

٭…کیا دعویٔ رسالت کے بعد نبی کریم ؐ کے ساتھ مخالفین اسلام کی طرف سے اہانت آمیز سلوک ہوا؟ نیز اہانت کا یہ ارتکاب کرنے والوں کے حق میں قرآن و سنت نے کیا فیصلہ دیا؟

٭…‘‘توہین’’کی وہ کون سی کم سے کم یازیادہ سے زیادہ تعریف معین ہو سکتی ہے جس کی بنا پر اہانت کے مرتکب کو سزائے موت دی جاسکے؟

٭…اگر اللہ تعالیٰ نے توہین رسالت کی سزا کا اختیار انسانوں کو نہیں دیا بلکہ اپنے ہاتھ میں رکھا ہے تو پھر مقدس ہستیوں کے تحفظ ناموس کے لیے قرآن شریف کیا اصول پیش فرماتا ہے؟

اب ہم ترتیب وار ان پہلوؤں کا تفصیلی جائزہ لیتے ہیں۔

٭…ہمارے آقا و مولیٰ سید البشرحضرت محمدمصطفیٰ ﷺ کی شان تمام بنی نوع انسان بلکہ تمام انبیاء سے بھی بڑھ کر ہےکہ آپ سید الانبیاء اور خاتم النبیین ہیں۔ مگر آپؐ کے دعویٔ رسالت کے بعد دیگر انبیاء سے کہیں بڑھ کر مخالفین اسلام نے آپ کی تکذیب کی اور ہنسی ٹھٹھہ اور تمسخر کا نہایت اہانت آمیز سلوک آپؐ سے روا رکھا گیا۔ کبھی آپ کو کذّاب اور جادوگر، کبھی سحر زدہ اور ایجنٹ کہا تو کبھی شاعر ، کاہن اور مجنون کا الزام دیا گیا۔قرآن شریف نے ان لغو، بیہودہ اور جھوٹے الزامات کا تذکرہ کر کے نبی کریم ؐ کی براءت تو ثابت کی مگر اہانت کا ارتکاب کرنےوالوں کے لیے کسی سزا کااختیار آپؐ کو نہیں دیابلکہ فرمایا کہ ہمیں ان کی ہرزہ سرائیوں کا علم ہے۔

فَذَکِّرۡ ۟ؕ اِنَّمَاۤ اَنۡتَ مُذَکِّرٌ ۔لَسۡتَ عَلَیۡہِمۡ بِمُصَۜیۡطِرٍ

(الغاشية :23-22)

مگر اے رسولؐ!تیرے ذمہ صرف نصیحت کرناہے تو ان پر نگران یا داروغہ بنا کر نہیں بھیجا گیا۔

فَاصۡبِرۡ کَمَا صَبَرَ اُولُوا الۡعَزۡمِ مِنَ الرُّسُلِ وَ لَا تَسۡتَعۡجِلۡ لَّہُمۡ ؕ کَاَنَّہُمۡ یَوۡمَ یَرَوۡنَ مَا یُوۡعَدُوۡنَ ۙ لَمۡ یَلۡبَثُوۡۤا اِلَّا سَاعَۃً مِّنۡ نَّہَارٍ ؕ بَلٰغٌ ۚ فَہَلۡ یُہۡلَکُ اِلَّا الۡقَوۡمُ الۡفٰسِقُوۡنَ

(الأَحقاف :36)

پس صبر کر جىسے اُولوالعزم رسولوں نے صبر کىا اور ان کے بارہ مىں جلد بازى سے کام نہ لے جس دن وہ اُسے دىکھىں گے جس سے اُنہىں ڈراىا جاتا ہے تو ىوں لگے گا جىسے دن کى اىک گھڑى سے زىادہ وہ (انتظار مىں)نہىں رہے۔ پىغام پہنچاىا جا چکا ہے۔ پس کىا بدکرداروں کے سوا بھى کوئى قوم ہلاک کى جاتى ہے ؟
نیز فرمایا:

وَ لَقَدۡ کُذِّبَتۡ رُسُلٌ مِّنۡ قَبۡلِکَ فَصَبَرُوۡا عَلٰی مَا کُذِّبُوۡا وَ اُوۡذُوۡا حَتّٰۤی اَتٰہُمۡ نَصۡرُنَا ۚ وَ لَا مُبَدِّلَ لِکَلِمٰتِ اللّٰہِ ۚ وَ لَقَدۡ جَآءَکَ مِنۡ نَّبَاِی الۡمُرۡسَلِیۡنَ

(الأَنعام :35)

اور ىقىناً تجھ سے پہلے بھى رسول جھٹلائے گئے تھے اور انہوں نے اس پر کہ وہ جھٹلائے گئے اور بہت ستائے گئے صبر کىا ىہاں تک کہ ان تک ہمارى مدد آپہنچى۔ اور اللہ کے کلمات کو کوئى تبدىل کرنے والا نہىں اور ىقىناً تىرے پاس مرسَلىن کى خبرىں آچکى ہىں ۔

اسی طرح مسلمانوں کو بھی دشمنوں کی ایسی بد زبانیوں پر صبر کی تلقین کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

لَتُبۡلَوُنَّ فِیۡۤ اَمۡوَالِکُمۡ وَ اَنۡفُسِکُمۡ وَ لَتَسۡمَعُنَّ مِنَ الَّذِیۡنَ اُوۡتُوا الۡکِتٰبَ مِنۡ قَبۡلِکُمۡ وَ مِنَ الَّذِیۡنَ اَشۡرَکُوۡۤا اَذًی کَثِیۡرًا ؕ وَ اِنۡ تَصۡبِرُوۡا وَ تَتَّقُوۡا فَاِنَّ ذٰلِکَ مِنۡ عَزۡمِ الۡاُمُوۡرِ

(آل عمران :187)

اور تم ضرور ان لوگوں سے جنہىں تم سے پہلے کتاب دى گئى اور ان سے جنہوں نے شرک کىا، بہت تکلىف دِہ باتىں سنو گے اور اگر تم صبر کرو اور تقوىٰ اختىار کرو تو ىقىناً ىہ اىک بڑا باہمت کام ہے۔

چنانچہ نبی کریم ؐ اور مسلمانوں نے ان تمام اذیتوں کو نہایت صبر سے برداشت کیا جن کا مختصر تذکرہ قرآن شریف میں ان الفاظ میں موجود ہے۔

(1) وَ قَالُوۡا یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡ نُزِّلَ عَلَیۡہِ الذِّکۡرُ اِنَّکَ لَمَجۡنُوۡنٌ (الحجر:7)

اور کافر کہتے ہیں کہ اے شخص جس پر یہ ذکر (قرآن)نازل کیا گیا ہے تو یقینا ًمجنون (اور دیوانہ)ہے۔

(2)وَ قَالَ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡۤا اِنۡ ہٰذَاۤ اِلَّاۤ اِفۡکٌ افۡتَرٰٮہُ وَ اَعَانَہٗ عَلَیۡہِ قَوۡمٌ اٰخَرُوۡنَ ۚۛ فَقَدۡ جَآءُوۡ ظُلۡمًا وَّ زُوۡرًا (الفرقان :5)

اور جن لوگوں نے کفر کىا انہوں نے کہا کہ ىہ جھوٹ کے سوا کچھ نہىں جو اُس نے گھڑ لىا ہے اور اس بارہ مىں اس کى دوسرے لوگوں نے مدد کى ہے۔ پس ىقىناً وہ سراسر ظلم اور جھوٹ بنا لائے ہىں۔

(3)وَ قَالَ الظّٰلِمُوۡنَ اِنۡ تَتَّبِعُوۡنَ اِلَّا رَجُلًا مَّسۡحُوۡرًا (الفرقان :9)

اور ظالم کہتے ہیں کہ تم تو ایک ایسے آدمی کے پیچھے چل رہے ہو جو سحر زدہ ہے۔


(4)وَّ مَا ہُوَ بِقَوۡلِ شَاعِرٍ ؕ قَلِیۡلًا مَّا تُؤۡمِنُوۡنَ۔ وَ لَا بِقَوۡلِ کَاہِنٍ ؕ قَلِیۡلًا مَّا تَذَکَّرُوۡنَ۔ تَنۡزِیۡلٌ مِّنۡ رَّبِّ الۡعٰلَمِیۡنَ(الحاقة:44-42)

اور ىہ کسى شاعر کى بات نہىں بہت کم ہے جو تم اىمان لاتے ہو۔ اور نہ (ىہ)کسى کاہن کا قول ہے بہت کم ہے جو تم نصىحت پکڑتے ہو ۔ اىک تنزىل ہے تمام جہانوں کے ربّ کى طرف سے۔

(5)وَ عَجِبُوۡۤا اَنۡ جَآءَہُمۡ مُّنۡذِرٌ مِّنۡہُمۡ ۫ وَ قَالَ الۡکٰفِرُوۡنَ ہٰذَا سٰحِرٌ کَذَّابٌ (ص:5)

اور انہوں نے تعجب کىا کہ ان کے پاس انہى مىں سے کوئى ڈرانے والا آىا اور کافروں نے کہا ىہ سخت جھوٹا جادوگر ہے۔

قرآن شریف میں کفار کی ان تمام ہرزہ سرائیوں دیوانہ، مجنون،جھوٹا،سحرزدہ،جادوگر،ساحر و کذّاب اور اہانت آمیز بدسلوکیوں کا ذکر کرنے کے باوجود کہیں بھی اس کی سزا کا اختیار انسان کے ہاتھ میں دینے کا ذکر نہیں ہے۔ مگر اس کاہرگز یہ مطلب نہیں کہ توہین رسالت کی کوئی سزا ہے ہی نہیں۔ یقینا ًہے اور خدا کے مقدس رسول کی اہانت کرنےوالے کبھی بھی خدائے قہار اور ذو الانتقام کے قہر و غضب اور سزا سے بچ نہیں سکتے اور ضرور بالضرور اپنے جرم کی سزا پاتے ہیں۔ اس دنیا میں بھی ذلت و رسوائی ان کا مقدر بنتی ہے اور دوسرے جہان میں بھی ان کے لیے عذاب مقدر ہے۔ چنانچہ ایسے نافرمانوں اور تکذیب کرنےوالوں کا ذکر کرتے ہوئے ان کی سزا اللہ تعالیٰ یہ بیان فرماتا ہے:

وَ اَمَّا الَّذِیۡنَ فَسَقُوۡا فَمَاۡوٰٮہُمُ النَّارُ ؕ کُلَّمَاۤ اَرَادُوۡۤا اَنۡ یَّخۡرُجُوۡا مِنۡہَاۤ اُعِیۡدُوۡا فِیۡہَا وَ قِیۡلَ لَہُمۡ ذُوۡقُوۡا عَذَابَ النَّارِ الَّذِیۡ کُنۡتُمۡ بِہٖ تُکَذِّبُوۡنَ۔ وَ لَنُذِیۡقَنَّہُمۡ مِّنَ الۡعَذَابِ الۡاَدۡنٰی دُوۡنَ الۡعَذَابِ الۡاَکۡبَرِ لَعَلَّہُمۡ یَرۡجِعُوۡنَ۔ وَ مَنۡ اَظۡلَمُ مِمَّنۡ ذُکِّرَ بِاٰیٰتِ رَبِّہٖ ثُمَّ اَعۡرَضَ عَنۡہَا ؕ اِنَّا مِنَ الۡمُجۡرِمِیۡنَ مُنۡتَقِمُوۡنَ۔(السجدة:23-21)

اور جہاں تک ان لوگوں کا تعلق ہے جنہوں نے نافرمانى کى تو ان کا ٹھکانا آگ ہے جب کبھى وہ ارادہ کرىں گے کہ اُس سے نکل جائىں تو اُسى مىں لوٹا دیے جائىں گے اور ان سے کہا جائے گا کہ اس آگ کا عذاب چکھو جسے تم جھٹلاىا کرتے تھے۔اور ہم ىقىناً انہىں بڑے عذاب سے وَرے چھوٹے عذاب مىں سے کچھ چکھائىں گے تاکہ ہوسکے تو وہ (ہداىت کى طرف) لوٹ آئىں۔اور کون اس سے زىادہ ظالم ہو سکتا ہے جو اپنے ربّ کى آىات کے ذرىعہ اچھى طرح نصىحت کىا جائے پھر بھى اُن سے منہ موڑلے ىقىناً ہم مجرموں سے انتقام لىنے والے ہىں۔

الغرض نبی کریم ؐکو کفار کے استہزاء یا اہانت کا بدلہ لینے یا انہیں کوئی سزا دینے کے بجائے ان کی تکذیب اور طرح طرح کے بیہودہ اعتراضوں پر صبر کی ہی تعلیم دی گئی۔ چنانچہ سورۂ مزمل میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :

وَ اصۡبِرۡ عَلٰی مَا یَقُوۡلُوۡنَ وَ اہۡجُرۡہُمۡ ہَجۡرًا جَمِیۡلًا۔ وَذَرۡنِیۡ وَ الۡمُکَذِّبِیۡنَ اُولِی النَّعۡمَۃِ وَ مَہِّلۡہُمۡ قَلِیۡلًا۔ اِنَّ لَدَیۡنَاۤ اَنۡکَالًا وَّ جَحِیۡمًا۔ وَّ طَعَامًا ذَا غُصَّۃٍ وَّ عَذَابًا اَلِیۡمًا۔ (المزمل:14-11)

اور صبر کر اُس پر جو وہ کہتے ہىں اور اُن سے اچھے رنگ مىں جدا ہو جا ۔ اور مجھے اور ناز و نعم مىں پلنے والے مکذبىن کو (الگ) چھوڑ دے اور اُنہىں تھوڑى سى مہلت دے ۔ ىقىناً ہمارے پاس عبرت کے کئى سامان ہىں اور جہنّم بھى ہے ۔ اور گلے مىں پھنس جانے والا اىک کھانا ہے اور دردناک عذاب بھى۔

قرآن شریف کی اس عظیم الشان پُرامن تعلیم کے بعد جب ہم سنت رسولؐ پر غور کرتے ہیں تو رسول اللہؐ کی پاکیزہ سیرت ہمیں واقعی ان قرآنی احکام کی شاندار تصویر نظر آتی ہے۔ہم دیکھتے ہیں کہ کفار مکہ نے آنحضرت ؐکی ذات پر رکیک حملے کرنے میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھی اور آپ کو جسمانی اذیتیں بھی پہنچائیں اور زبان سے بھی تذلیل اور توہین کی حد کر دی۔قرآن شریف میں کفار کی ان ظالمانہ کارروائیوں کو ہمیشہ کے لیے محفوظ کیا گیا۔ چنانچہ سورۃ العلق میں اللہ تعالیٰ رسول اللہؐ کو نماز سے زبردستی روکنے کی سزا اپنے ذمہ لیتے ہوئے فرماتا ہے:

اَرَءَیۡتَ الَّذِیۡ یَنۡہٰی۔ عَبۡدًا اِذَا صَلّٰی۔ اَرَءَیۡتَ اِنۡ کَانَ عَلَی الۡہُدٰۤی۔ اَوۡ اَمَرَ بِالتَّقۡوٰی۔ اَرَءَیۡتَ اِنۡ کَذَّبَ وَ تَوَلّٰی۔ اَلَمۡ یَعۡلَمۡ بِاَنَّ اللّٰہَ یَرٰی۔ کَلَّا لَئِنۡ لَّمۡ یَنۡتَہِ ۬ۙ لَنَسۡفَعًۢا بِالنَّاصِیَۃِ۔ نَاصِیَۃٍ کَاذِبَۃٍ خَاطِئَۃٍ۔ فَلۡیَدۡعُ نَادِیَہٗ۔ سَنَدۡعُ الزَّبَانِیَۃَ۔(العلق :19-10)

کىا تُو نے اُس شخص پر غور کىا جو روکتا ہے ۔ اىک عظىم بندے کو جب وہ نماز پڑھتا ہے۔کىا تُو نے غور کىا کہ اگر وہ (عظىم بندہ) ہداىت پرہو۔ىا تقوىٰ کى تلقىن کرتا ہو۔ کىا تُو نے غور کىا کہ اگر اس (نماز سے روکنے والے)نے (پھر بھى)جھٹلا دىا اور پىٹھ پھىرلى۔(تو)کىا وہ نہىں جانتا کہ ىقىناً اللہ دىکھ رہا ہے۔خبردار! اگر وہ باز نہ آىا تو ہم ىقىناً اُسے پىشانى کے بالوں سے پکڑ کر کھىنچىں گے۔جھوٹى خطاکار پىشانى کے بالوں سے۔پس چاہیے کہ وہ اپنى مجلس والوں کو بُلا دىکھے۔ہم ضرور دوزخ کے فرشتے بلائىں گے۔

اب دیکھیے اس جگہ کفار کی زیادتیوں اور اہانت آمیز سلوک کا بدلہ لینے کی ذمہ داری خدا تعالیٰ خود لیتا ہے کہ اس سے بڑھ کر اس کے سفیر اور رسول کی غیرت اَور کسے ہوسکتی ہے؟

عبادت کرتے ہوئے نبی کریم ؐکو اذیت پہنچانے کے ایسےواقعات بارہا ہوئے ۔کبھی گلے میں پٹکا ڈال کر آپؐ کا سانس گھونٹ دیا گیا اور حضرت ابوبکر ؓنے آکر آپ کو ظالم عقبہ بن ابی معیط سے چھڑایا (بخاری کتاب التفسیر سورۃ مومن)تو کبھی نماز پڑھتے ہوئے حالت سجدہ میں آپ پر گند ڈال دیا گیا۔ حضرت عبداللہ ؓبن مسعود ایسا ایک واقعہ بیان کرتے ہیں جس میں کفار قریش نےاپنی طرف سےتوہین کی حد ہی کر دی۔آنحضورؐ خانہ کعبہ کے صحن میں نماز پڑھ رہے تھے اور کفارقریش کی مجلس پاس ہی لگی ہوئی تھی ایک بدبخت نے آنحضرت ؐکی طرف اشارہ کر کے کہا اس ریا کار کو دیکھتے ہو؟ تم میں سے کون ہے جو فلاں اونٹنی(جو ذبح ہوئی ہے)کی بچہ دانی لاکر سجدہ کی حالت میں اس پر پھینکے ۔ چنانچہ ان میں سے بدبخت ترین انسان عقبہ اٹھا اور اونٹنی کی بھاری بھرکم خون اور گند 1سے بھری ہوئی بچہ دانی لاکر سجدہ کی حالت میں حضور ؐکی پشت مبارک پر ڈال دی۔ ادھرحضورؐ اس بوجھ کے نیچے سجدہ میں دب کر رہ گئےتھے اور ادھر یہ ظالم حضور کی توہین و تذلیل پر خوشی سے لوٹ پوٹ ہورہے تھے کہ اتنے میں حضرت فاطمہ ؓکو خبر ہوئی ۔وہ بھاگی آئیں اور حضورؐ سے یہ گند اور بوجھ ہٹایا تب آپؐ سجدے سے سر اٹھانے کے قابل ہوئے اور نماز مکمل کی۔ اس روز اس انتہائی بدسلوکی او رتوہین کو دیکھ کر نبی اکرمؐ نے ان ظالم کفار پر گرفت کرنے کے لیے خدا کے حضور التجا کی کہ اے اللہ!ان ظالموں سے تو خود نپٹ اوران پر گرفت کر۔

پھر کیا رسول خدا ؐکی توہین کا ارتکاب کرنےوالے یہ ظالم کافرالٰہی سزا سے بچ گئے؟ہر گز نہیں!بلکہ قہر خداوندی کی ہیبت ناک تلوار ان پر چلی اور وہ اپنے بدانجام کو پہنچے۔ حضرت عبداللہ بن مسعودؓ ہی بیان کرتے ہیںان تمام سردارانِ قریش کو(جواس روز آنحضور ؐ کی اہانت کے مرتکب ہوئے اور جن کے نام لےکر حضور نے خدا کی گرفت کی دعا کی)بدر کے دن میں نے دیکھا۔ بلا استثنا وہ سب کے سب ہلاک ہوئے، ان کی لاشوں کو کھینچ کر بدر کے کنویں میں پھینکا گیااور سورج کی گرمی سے ان کے چہرے مسخ ہوچکے تھے اور حلیےبگڑ گئے تھے۔

(بخاری کتاب المغازی و کتاب الصلوٰۃ )

کفار کی طرف سے رسول خدا کی ان جسمانی اذیتوں پر ہی معاملہ ختم نہیں ہوا بلکہ انہوں نے زبان درازی او ر طعن و تشنیع کے ذریعہ بھی بانیٔ اسلام کی تذلیل و تحقیر کی انتہا کر دی ۔چنانچہ کفار آپؐ کو طنزاً اوراز راہ تحقیر ابن ابی کبشہ کہہ کر پکارتے تھے۔ (بخاری بدء الوحی)(ابن ابی کبشہ ستارہ پرست تھا اور نئے دین کا موجد ہونے کے حوالہ سے معروف تھا)

اسی طرح کفار نبی کریم کو صابی کہہ کر آپ پر ستارہ پرست ہونے اور دین ابراہیمی سے برگشتہ ہونے کا الزام بھی دیتے تھے۔ اور آپؐ کے مقدس نام‘‘محمد’’کو بگاڑ کر(نعوذباللہ)‘‘مذمم’’یعنی قابل مذمت قرار دیتے تھے۔جس سے بڑھ کر اہانت کا تصور نہیں ہوسکتا۔

آنحضرتؐ اس کے جواب میں کوئی سزا مقرر کرنے کی بجائےیہی فرمایاکرتے کہ اللہ نے میرا نام محمد رکھا ہے جس کے معنی ہیں ‘‘تعریف کیا گیا’’پس ان کے مذمم کہنے سے مجھے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ اور ایسی توہین اور تمسخر کرنے والوں کا معاملہ آپ نے خدائے ذوالانتقام پر چھوڑ دیا کہ جس سے بڑھ کر اپنے محبوب محمد ؐکی غیرت رکھنے والا اور کوئی نہیں۔

چنانچہ نبی کریم ؐ پر زبان طعن دراز کرنےوالوں کو خدائے جبروت نے پکڑا۔ عاص بن وائل جو نرینہ اولاد نہ ہونے کے باعث آنحضرتؐ کو ابتر ہونے کا طعنہ دیتا تھا خدائی تقدیر نے یہ فیصلہ کیا کہ ہمیشہ کے لیے اس کی نسل کا نام و نشان مٹا دیا جائے اور جیسا کہ سورۃ الکوثر میں پیشگوئی تھی إِنَّ شَانِئَكَ هُوَ الْأَبْتَرُ(الكوثر:4) یعنی آپ کے دشمن بے اولاد رہیں گے۔ ان میں سر فہرست عاص بن وائل حسرت و یاس کے ساتھ بے اولاد دنیا سے رخصت ہوا اور بانی اسلام کی توہین کرنے والا یہ دشمنِ رسول آپؐ کی عزت و عظمت کا نشان بن گیا۔
اسی طرح نبی کریم ؐ کے چچا ابولہب نے کوہ صفا پر آپؐ کی دعوت سن کر گستاخی اور بے ادبی سے کہا تو تباہ و برباد ہوگیا تو نے اس لیے ہمیں اکٹھا کیا تھا۔ خدائے قادر و توانا نے اس کی اس توہین آمیز حرکت کے جواب میں فرمایا:تَبَّتۡ یَدَاۤ اَبِیۡ لَہَبٍ وَّ تَبَّ (اللھب:2)کہ دشمن رسول ابولہب کے ہاتھ شل ہوگئے اور وہ خود تباہ ہوا۔ اس میں پیشگوئی تھی کہ اس ظالم کے ساتھ بھی یہی سلوک ہوگا۔ چنانچہ الٰہی گرفت نے اسے حیرت انگیز رنگ میں پکڑا اورغزوۂ بدر کے سات دن بعد وہ طاعون کی قسم کی بیماری سے ذلّت ناک موت سے ہلاک ہوا۔تین دن تک اس کی نعش سے بوآتی رہی بالآخر رشتہ داروں نے گڑھے میں پھینک کر دفن کیا۔اس کے بیٹے عتیبہ نے بھی رسول اللہؐ کے ساتھ اہانت آمیز سلوک کرتے ہوئے آپ کی بیٹی امّ کلثوم کو اعلانیہ طلاق دی اور ایک سفر میں بھیڑیوں نے اسے پھاڑ کھایا اور ٹکڑے ٹکڑے کر دیا۔یوں یہ دونوں باپ بیٹا توہین رسالت کے ارتکاب میں خدائی آفت سے پکڑےگئے۔(روح المعانی جلد 3صفحہ262)

پس خدائے غیور کی اپنے رسول کے حق میں غیرت کے یہ نظارے اور توہین کا ارتکاب کرنے والوں کا خوف ناک اور عبرت ناک انجام دیکھ کر بھی توہین رسالت کے مزید کسی قانون کی گنجائش اور ضرورت باقی رہ جاتی ہے؟

کیا وہ خدا جو کل اپنے رسول کے لیے غیرت دکھاتا رہا آج وہ اس کی اہانت پر خامو ش بیٹھ رہے گا اور اس کے قہر کی تلوار حرکت میں نہیں آئے گی؟ اور کیا توہین رسالت کی سزا کا اختیار انسانوں کو دے کر یہ نتیجہ نہیں نکلتا کہ ہم انسان ہوکر رسول خدا کی عزت کے لیے خدا سے بھی زیادہ غیرت مند ہونے کے مدعی ہیں؟
ظاہر ہے کہ ایسا خیال بذات خود رسول کی توہین سے بڑھ کر خدا کی توہین تک جاپہنچتا ہے۔ مذکورہ بالا واقعات کا تعلق چونکہ مکّی دَور سے ہے اس لیے کوئی اعتراض کر سکتاہے کہ مکہ میں آنحضرت ؐکمزوری اور مظلومیت کی حالت میں توہین رسالت کی کوئی سزا جاری کرنے کی پوزیشن میں نہیں تھے۔لیکن یہ اعتراض باطل ہوجاتا ہے جب ہم دیکھتے ہیں کہ مدینہ میں تشریف لانے اور اقتدار ملنے کے بعد بھی جبکہ مدینہ کی سب قومیں یہودیوں سمیت آپ کو اپنا حاکم تسلیم کر چکی تھیں۔ آپ نے اہانت کے مرتکب دشمنانِ اسلام سے ہمیشہ عفو کا ہی معاملہ کیا اور ان کی نہایت ذلیل طعن و تشنیع کا معاملہ اپنے خدا کے سپرد کیا اور امن و امان کی خاطر اور اپنے خدا کی رضا کی خاطر آپ نے بظاہر بے عزتی قبول کر لی۔

٭…ایک دفعہ ایک یہودی نے ایک مسلمان کے سامنے اسے چڑانے کے لیے یوں قسم کھائی کہ اس ذات کی قسم جس نے موسیٰ کو تمام جہانوں پر فضیلت دی اور اس طرح حضرت موسیٰ کوآنحضرت ؐسے افضل ٹھہراکر وہ آپ کی اہانت کا مرتکب ہوا۔ مسلمان نے اشتعال میں آکر یہودی کو تھپڑ رسید کر دیا ۔ یہودی نے نبی کریم ؐکو شکایت کر دی۔ آپ نبیوں کے سردار تھے۔ مگر آپ نے کس عاجزی اور انکساری سے یہ فیصلہ فرمایا کہ مجھے موسیٰ پر فضیلت مت دیا کرو (تاکہ مذہبی جھگڑے پیدا نہ ہوں)۔(بخاری کتاب التفسیر سورۃ الاعراف)
یہ صرف ایک واقعہ نہیں یہود کی طرف سے تو حسد اور بغض و عداوت کی بنا پر آئے دن ایسے واقعات مدینہ میں ہوتے تھے۔ جن سے ان کا مقصود اہانتِ رسول ہوتا تھا۔ مگر نہ صرف ان کو کوئی سزا نہیں دی گئی بلکہ ہمیشہ رحم و کرم کا سلوک روا رکھا گیا۔

٭…یہ لوگ آپؐ کی خدمت میں حاضر ہوتے تو اپنی طرف متوجہ کرنے کے لیے ‘‘رَاعِنَا ’’کا لفظ اس رنگ میں استعمال کرتے جس کے معنے بےوقوف کے ہوتے ہیں۔

(بخاری کتاب التفسیر سورۃ البقرۃ )

قرآن شریف میں بھی اس کا ذکر موجود ہے کہ یہودی دین میں طعنہ زنی کی خاطر زبانوں کو موڑتے ہوئے ‘‘رَاعِنَا’’ کا لفظ استعمال کرتے ہیں…اللہ نے ان کے کفر کی وجہ سے ان پر لعنت کی ہے۔

مِنَ الَّذِیۡنَ ہَادُوۡا یُحَرِّفُوۡنَ الۡکَلِمَ عَنۡ مَّوَاضِعِہٖ وَ یَقُوۡلُوۡنَ سَمِعۡنَا وَ عَصَیۡنَا وَ اسۡمَعۡ غَیۡرَ مُسۡمَعٍ وَّ رَاعِنَا لَـیًّۢا بِاَلۡسِنَتِہِمۡ وَ طَعۡنًا فِی الدِّیۡنِ ؕ وَ لَوۡ اَنَّہُمۡ قَالُوۡا سَمِعۡنَا وَ اَطَعۡنَا وَ اسۡمَعۡ وَ انۡظُرۡنَا لَکَانَ خَیۡرًا لَّہُمۡ وَ اَقۡوَمَ ۙ وَ لٰکِنۡ لَّعَنَہُمُ اللّٰہُ بِکُفۡرِہِمۡ فَلَا یُؤۡمِنُوۡنَ اِلَّا قَلِیۡلًا (النساء :47)

٭…اسی طرح رسول اللہ ؐ کے پاس آکر سلام کرنے کے بجائے یہ لوگ ‘‘سام’’ کا لفظ استعمال کرتے جس کے معنے لعنت اور ہلاکت کے ہیں۔ ایک دفعہ حضرت عائشہ ؓنے یہود کی یہ بد دعا سن کر جواباً ان کو کہا۔ اے یہودیو!تم پر خداکی لعنت اور مار ہو۔نبی کریم ؐنے فرمایا ۔ اے عائشہ! نرمی چاہیے کہ اللہ نرمی کو پسند کرتا ہے۔ حضرت عائشہ ؓ نے عرض کیا۔ حضور!کیا آپ نے سنا نہیں انہوں نے آپ کوسلام نہیں، سام کہا یعنی ہلاکت ہو۔ آپؐ نے فرمایا تو میں نے بھی تو علیکم کہہ دیا تھا اور یہ یاد رکھیں کہ ان کی بددعا میرے حق میں قبول نہ ہو گی مگر میری دعا ان کے حق میں ضرور قبول ہوگی۔(بخاری کتاب الادب)

یہود کی طرف سے توہین رسالت کے ارادہ سے لعنت و ہلاکت کی اس بددعا کے واقعات سے اہانت رسول کی سزا پر حضرت عبداللہ بن عمروؓ کی اس اہم روایت سے خوب روشنی پڑتی ہے جس کی تائیدو توثیق سورۂ مجادلہ کی آیت 9سے بھی ہوتی ہے۔وہ بیان کرتے ہیں کہ یہودی نبی کریم ؐ کے پاس آتے اور آپ کو سلام کے بجائے السام علیک کہہ کر لعنت و ہلاکت کی بددعا دیتے اور دل میں کہتے ہیں (یااپنے لوگوں میں جاکر یہ باتیں کرتے ہیں کہ) اگر ہم غلطی پر ہیں تو اللہ تعالیٰ ہمیں ہماری اس گستاخی کی سزاکیوں نہیں دیتا۔اس پر سورۃ مجادلہ کی وہ آیت اتری :

وَ اِذَا جَآءُوۡکَ حَیَّوۡکَ بِمَا لَمۡ یُحَیِّکَ بِہِ اللّٰہُ ۙ وَ یَقُوۡلُوۡنَ فِیۡۤ اَنۡفُسِہِمۡ لَوۡ لَا یُعَذِّبُنَا اللّٰہُ بِمَا نَقُوۡلُ ؕ حَسۡبُہُمۡ جَہَنَّمُ ۚ یَصۡلَوۡنَہَا ۚ فَبِئۡسَ الۡمَصِیۡرُ (المجادلة :9)

اور جب وہ تىرے پاس آتے ہىں تو وہ اس طرىق پر تجھ سے خىرسگالى کا اظہار کرتے ہىں جس طرىق پر اللہ نے تجھ پر سلام نہىں بھىجا اور وہ اپنے دلوں مىں کہتے ہىں کہ اللہ ہمىں اس پر عذاب کىوں نہىں دىتا جو ہم کہتے ہىں، ان (سے نپٹنے)کو جہنّم کافى ہوگى وہ اس مىں داخل ہوں گے پس کىا ہى بُرا ٹھکانا ہے۔

(مسند احمد بن حنبل جلد 2صفحہ 221)

توہین رسالت کی سزا کے حوالہ سے یہ آیت قرآنی کتنی بیّن اور قطعی ہے جس میں یہود کی طرف سے اہانت رسول کا مرتکب ہونے کے بعد سزا کا مطالبہ کیا جاتا ہے اورجواب میں ان کو کسی دنیوی سزا کے بجائے جہنم کی وعید سنائی جاتی ہے۔گویا یہ اعلان کیا جاتا ہے کہ توہین رسالت کی سزا خدائے غیور نے اپنے اختیار میں رکھی ہے اوراس کی کوئی سزا دین و دنیاوی قانون میں انسانوں کے ذریعہ مقررنہیں۔

اس جگہ کوئی کعب بن اشرف اور ابو رافع جیسے یہودی سرداروں کے قتل کے واقعہ کو توہین رسالت کی سزا کی تائید میں استعمال کرنا چاہے تو یہ اس لیے درست نہیں کہ ان سرداران یہود کے جرائم سبّ و شتم سے کہیں بڑھ کر بغاوت، بد عہدی اور محاربت تھے۔ جس کی سزا کے طور پر وہ قتل کیے گئے۔

الغرض سنت رسول سے کسی ایک مستند واقعہ کا بھی ثبوت نہیں ملتا کہ محض اہانتِ رسول کی سزا کے طور پر کسی شخص کو قتل کیا گیا ہو۔ ہاں ایسے واقعات ضرور ملتے ہیں کہ توہین رسول کے مرتکب کے لیے صحابہ قتل کی اجازت طلب کرتے ہیں مگر نبی کریم ؐ یہ اجازت عطا نہیں فرماتے اوربڑی سختی سے روک دیتے ہیں۔

ایک دفعہ ایک شخص نے نبی کریم ؐ کے مال کی تقسیم میں آپ کی دیانت داری پر اعلانیہ اعتراض کیا کہ اس میں عدل سے کام نہیں لیا گیااور رسول اللہؐ سے کہا کہ خدا کا خوف کریں۔ حضرت خالد ؓبن ولید نے اس کو قتل کرنے کی اجازت رسول اللہؐ سے چاہی تو آپؐ نے فرمایا کہ نہیں شاید وہ نماز پڑھتا ہو۔ حضرت خالدؓ نے عرض کیا یا رسول اللہؐ !کتنے ہی نماز پڑھنے والے ہیں جن کے دل میں کچھ اَور ہے اور ظاہر کچھ کرتے ہیں۔ آپؐ نے فرمایا۔ میں لوگوں کے دلوں میں نقب لگانے اور ان کے پیٹ پھاڑنے نہیں آیا ہوں (گویاہمیں ہر حال میں ان کے ظاہر کو قبول کرنا ہوگا)

(بخاری کتاب المغازی و کتاب الجہاد)

ملاحظہ ہو اس واضح اہانت رسول کو دیکھ کر اور یہ جانتے ہوئے کہ یہ شخص خود ظالم اور باطل پر ہے آنحضوؐر نے اس کے قتل کی اجازت نہیں دی حالانکہ خود فرمایا کہ اس شخص کی نسل سے ایسے لوگ پیدا ہوں گے جو دین سے نکل جائیں گے۔ مگر اس کے باوجود اسے توہین رسالت کی سزا نہیں دی گئی۔
قرآن شریف میں بیان فرمودہ ایک واقعہ آنحضرت ؐ کی شان میں گستاخی اور آپ کی اہانت کا ایسا ہے جو اس امر کا ناقابل تردید ثبوت ہے کہ قرآن شریف اورآنحضرت ؐنے توہین رسالت کی کوئی سزا مقرر نہیں فرمائی۔
مدینہ میں عبداللہ بن ابی بن سلول منافقوں کا سرغنہ تھاجس نے ایک غزوہ میں انصار و مہاجرین کے ایک جھگڑے سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اہل مدینہ کو بھڑکایا اور یہ گستاخانہ کلمات اس کے منہ سے نبی اکرم ؐ کے بارہ میں نکلے جوقرآن شریف میں سورۂ منافقون میں مذکور ہیں کہ لَئِنْ رَجَعْنَا إِلَى الْمَدِينَةِ لَيُخْرِجَنَّ الْأَعَزُّ مِنْهَا الْأَذَلَّ(المنافقون :9)اگر ہم مدینہ لوٹ کر گئے تو مدینہ کا سب سے معزز آدمی (بزعم خود عبداللہ بن ابی)مدینہ کے سب سے ذلیل آدمی(معاذاللہ نبی اکرم ؐکو)اس سے نکال دے گا۔ ایک مسلمان ہونے کے دعوے دار کے ان واضح اہانت آمیز کلمات کو سن کر حضرت عمر ؓ برداشت نہ کر سکے اور عرض کیا کہ اے اللہ کے رسولؐ!اس خبیث شخص کے قتل کی مجھے اجازت دیں۔ آنحضور ؐ نے سختی سے روک دیا اور فرمایا: عمر! لوگ کیا کہیں گے کہ محمد ؐ اپنے ساتھیوں کو قتل کرتا ہے۔

(بخاری کتاب التفسیرسورۃ المنافقون)

اور آنحضور ؐ نے نہ صرف اس دشمن رسول کو قتل کرنے کی اجازت نہ دی بلکہ جب وہ فوت ہوا تواپنی چادر اس کے کفن کے لیے عطا فرمائی اور حضرت عمر ؓ کے باصرار روکنے کے باوجود اس کی نماز جنازہ خود پڑھائی۔

الغرض عبداللہ بن ابی کا واقعہ اس امر کا اٹل ، واضح اور بین ثبوت ہے کہ قرآن و سنت میں توہین رسالت کی ایسی کوئی سزا مقرر نہیں جس کا بندوں کو اختیار دیا گیا ہو۔ بلکہ اس شنیع جرم کی سزا اللہ تعالیٰ نے اپنے اختیار میں رکھی ہے جو دلوں کے بھید اور نیتوں کو جاننے والا ہے اور اپنے علم کامل کے مطابق ہر بد نیت گستاخ رسول کے بارہ میں اپنی عدالت سے فیصلہ جاری فرماتا ہے اور اس فیصلہ کا اختیار اس نے اپنے حبیب رسول کو بھی نہیں دیا پھر یہ کیسے جائز ہے کہ کوئی حکومت مذہب کے نام پر یا رسول خدا کے نام پر توہین رسالت کی سزاکا اختیار اپنے ہاتھ میں لے کراس کی انتہائی سزا موت مقرر کرنے کے ظلم کی مرتکب ہو اور خد ا کے اس حق پر ہاتھ ڈالے جو اس نے بندوں کو تفویض ہی نہیں کیا۔ ایسا فعل یقیناً بذات خود اللہ اور اس کے رسول کے احکام کی توہین ہے۔

بعض دفعہ یہ کہہ دیاجاتا ہے کہ رسول اللہؐ کا عبداللہ بن ابی ّاور دیگر اہانت کا ارتکاب کرنے والے یہود و مشرکین کو معاف کرنا رحمۃ للعالمین ہونے کے ناطے ایک ذاتی حق کو معاف کرنا تھاجب کہ امت کو اہانت رسول کے اس جرم کی معافی کا حق حاصل نہیں ۔ یہ بات یقیناًقابل قبول ہوسکتی تھی اگر قرآن و سنت و احادیث صحیحہ سے توہین رسالت کی کوئی واضح معیّن حدّ ثابت ہوتی۔ شریعت قرآنی کی تکمیل اور اسلامی حدود و شرائع کے واضح نفاذ رسول اللہؐ کے اس فرمان کے بعد کہ حلال اور حرام کے احکام بیّن اور واضح کردیےگئے ہیں ۔پھر توہین رسالت کے بارہ میں کسی سزا کامقررنہ ہونا صاف بتاتا ہے کہ شرع میں یہ اختیار خدائے حَکَم نے صرف اپنے پاس رکھا ہے ۔انسانوں کو منتقل نہیں کیا۔ دوسرے اگر اہانت رسول ؐکی کوئی سزا حکم الٰہی سے مقرر ہوتی یاکوئی حد قائم ہوتی تو رسول اللہ ؐ اللہ کے احکام کے لیے سب سے زیادہ غیرت رکھنے والے تھے۔آپ کبھی بھی اس حد کے قائم کرنے میں تأمّل نہ فرماتے۔ آپؐ نے تو یہود کی کتاب کے مطابق ان پر بھی حدّر جم قائم کرکے دکھائی اور فتح مکہ پر جب حضرت اسامہؓ نے ایک قریشی عورت کے چوری کرنے پر ہاتھ کاٹنے کی حد کے بارہ میں معافی چاہی تو رسول اللہؐ نے نہایت ناراضگی سے فرمایا کہ کیا تم اللہ کی حدود میں سے ایک حد کے بارہ میں سفارش کرنے کی جرأ ت کرتے ہو۔ خدا کی قسم ! اگر محمد کی بیٹی فاطمہ بھی چوری کرتی تو میں (حد قائم کرنے کی خاطر) اس کا ہاتھ بھی کاٹ دیتا۔

(بخاری کتاب الانبیاء باب ام حسبت ان اصحاب الکھف )

آنحضرت ؐالٰہی احکام کی بجاآوری میں نہایت مستعد اور اللہ تعالیٰ سے ہمیشہ خائف رہتے تھے۔جب بعض صحابہ نے رسول اللہؐ کی سنت سے بڑھ کر دن رات عبادت کرنے کی خواہش کا اظہار کیا اور رسول اللہؐ کے استغفا ر پر عرض کیا کہ آپ تو اللہ کے رسول ہیں تو حضورؐ نے نہایت جلال سے فرمایا تھا کہ میں تم میں سب سے زیادہ اللہ کا خوف رکھنے والا اور اللہ سے ڈرنے والا ہوں ۔پس میری سنت پر تمہیں کار بند ہونا ہوگا۔ یہی ہدایت قرآن شریف میں ہے کہ اگر تم اللہ سے محبت کرتے ہوتو رسول کی پیروی کرو کہ وہی تمہارے لیے بہترین نمونہ ہیں:

قُلۡ اِنۡ کُنۡتُمۡ تُحِبُّوۡنَ اللّٰہَ فَاتَّبِعُوۡنِیۡ یُحۡبِبۡکُمُ اللّٰہُ وَ یَغۡفِرۡ لَکُمۡ ذُنُوۡبَکُمۡ ؕ وَ اللّٰہُ غَفُوۡرٌ رَّحِیۡمٌ (آل عمران :32)

لَقَدۡ کَانَ لَکُمۡ فِیۡ رَسُوۡلِ اللّٰہِ اُسۡوَۃٌ حَسَنَۃٌ لِّمَنۡ کَانَ یَرۡجُوا اللّٰہَ وَ الۡیَوۡمَ الۡاٰخِرَ وَ ذَکَرَ اللّٰہَ کَثِیۡرًا (الأحزاب:22)

(جاری ہے)

٭…٭…٭

متعلقہ مضمون

رائے کا اظہار فرمائیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button