الفضل ڈائجسٹ

الفضل ڈائجسٹ

(محمود احمد ملک)

اس کالم میں ان اخبارات و رسائل سے اہم ودلچسپ مضامین کا خلاصہ پیش کیا جاتا ہے جو دنیا کے کسی بھی حصہ میں جماعت احمدیہ یا ذیلی تنظیموں کے زیرانتظام شائع کیے جاتے ہیں۔

حضرت حاجی احمد جی صاحبؓ

ماہنامہ ‘‘النور’’ امریکہ اکتوبر و نومبر 2010ء میں مکرمہ صفیہ بیگم رعنا صاحبہ نے اپنے نانا حضرت حاجی احمد جی صاحبؓ آف داتہ ضلع ہزارہ کا ذکرخیر کیا ہے۔

حضرت حاجی احمد جی صاحبؓ اپنے والدین کی اکلوتی اولاد تھے۔ والد ولی ملاں موسیٰ اگرچہ ایک زمیندار تھے لیکن ولی اللہ تھے اور ہر وقت مسجد میں مصروفِ عبادت رہتے۔ ابھی حضرت حاجی صاحبؓ انیس برس کے تھے کہ والد کی وفات ہوگئی۔ آپؓ بھی اپنے والد کے نقش قدم پر چلنے والے تھے۔ پارسا اور غریب نواز تھے۔ہر فصل سے بیواؤں اور یتیموں کو حصہ دیتے۔ ہر جمعرات کو سارا دودھ غرباء میں تقسیم کردیتے۔ سنّی العقیدہ تھے۔ آپؓ کو قبروں کی پُوجا اور بدرسومات سے نفرت تھی ۔ چنانچہ جب وہابیوں سے ملے تو وہابیت قبول کرلی۔ لیکن تسکین نہ ہوئی تو یہ فرقہ بھی چھوڑ دیا اور دعاؤں میں لگ گئے کہ خدا سیدھی راہ دکھادے۔ اسی اثنا میں حج کا ارادہ کیا۔ لیکن والدہ اجازت نہ دیتی تھیں۔ آخر بڑی منّت سماجت کے بعد والدہ سے اجازت لی۔ سفر کٹھن اور لمبا تھا اس لیے والدہ نے دو ملازم بھی ساتھ روانہ کیے۔

پیدل اور گھوڑے پر لمبا سفر طے کرکے مناسکِ حج ادا کرکے ہندوستان واپس آنے تک دس ماہ کا عرصہ لگ گیا۔ واپسی کے اس سفر کے دوران پنجاب میں سے گزرتے ہوئے ایک درخت کی چھاؤں میں سستانے لگے تو کشفی حالت طاری ہوئی جس میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو دیکھا اور قادیان کا نام بھی بتایا گیا اور آواز آئی کہ اتنا سفر کیا ہے اب اس شخص سے بھی ملتے جاؤ۔ آپ ایک دم بیدار ہوگئے اور کسی راہ گیر سے راستہ پوچھ کر قادیان کی طرف چل دیے۔ حضرت اقدسؑ اس وقت چند اصحاب کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے۔ آپ نے دیکھتے ہی کہا: سبحان اللہ! یہ وہی مبارک پُرنُور چہرہ ہے جسے مَیں نے کشف میں دیکھا ہے۔ حضور علیہ السلام نے آپؓ کو مصافحے کا شرف بخشا اور فرمایا کہ مَیں نے ابھی ابھی جس کو دیکھا ہے یہ وہی شخص ہے جو میری طرف آ رہا ہے۔ پھر حاجی صاحبؓ نے سب حال خدمت اقدس میں عرض کیا تو حضورؑ نے فرمایا کہ بے شک خدا نیک روحوں کو میری طرف بھیجے گا۔

آپؓ چند ہفتے قادیان میں حضورؑ کی خدمت میں رہے۔ آپؓ کے ایک خادم فقیر محمد صاحب نے چند دن بیمار رہ کر قادیان میں ہی وفات پائی اور وہیں دفن کیے گئے۔

حضرت حاجی احمد جی صاحبؓ نے 1902ء میں بیعت کی اور آپؓ کو حضورؑ نے اپنے 313 اصحاب میں شامل فرمایا۔جب آپؓ حضورؑ سے اجازت لے کر اپنے گھر تشریف لے گئے تو وہاں چیدہ چیدہ لوگوں کو سارا حال سنایا اور اپنی احمدیت کی اطلاع دی۔ چنانچہ چند بڑے زمیندار بھی احمدی ہوگئے۔لیکن آپؓ کی مخالفت بھی شروع ہوگئی۔ لوگ آپؓ کو مسجد میں حالتِ سجدہ میں دیکھتے تو کوڑاکرکٹ پھینک دیتے۔ گاؤں کی مسجد کی تعمیر کا نصف خرچ آپؓ نے اٹھایا تھا جبکہ باقی نصف سارے گاؤں نے مل کر دیا تھا۔ لیکن آپؓ کو اتنا تنگ کیا گیا کہ آپؓ کو اپنے لیے اپنے گھر کے اوپر لکڑی کی ایک مسجد بنوانی پڑی۔ لیکن شرپسندوں نے اس کو بھی آگ لگانے کی کوشش کی۔ تاہم خدا تعالیٰ کی قدرت تھی کہ مسجد بالکل محفوظ رہی جبکہ ساتھ والا ایک گھر جل کر خاکستر ہوگیا۔الغرض خداتعالیٰ نے آپؓ کے ایمان میں ترقی کے مسلسل سامان کیے۔ تکالیف برداشت کرتے ہوئے آپ مخالفین کی مشکل وقت میں مدد بھی کرتے رہے اور انسانی ہمدردی کو ہمیشہ مقدّم رکھا۔
حضرت حاجی صاحبؓ نہایت خشوع خضوع سے نمازیں اور تہجد ادا کرتے۔ التزام سے روزے بھی رکھتے، ہر سال جلسہ سالانہ پر جاتے اور ہفتہ عشرہ وہاں قیام کرتے، اپنی آمدنی کا حساب رکھتے اور ہر قسم کے چندے ادا کرتے۔ آپؓ کو تبلیغ کا بہت شوق تھا۔ بہت بارعب، وجیہ اور مضبوط جسم کے مالک تھے۔ اپنی عادات و اطوار کی وجہ سے ہردلعزیز تھے۔ مستجاب الدعوات تھے۔نومبر 1930ء میں بیمار ہوئے اور دنیا سے رخصتی کے کچھ اشارے بھی ملے تو آپؓ نے دعا کی کہ اے اللہ! سردیوں کی لمبی راتوں میں تہجد پڑھنے کے لطف سے محروم نہ کر۔ اللہ تعالیٰ نے آپؓ کی دعا قبو ل فرمائی اور شفا عطا فرمائی۔ بعدازاں 31؍اگست 1936ء کو 80 سال کی عمر میں آپؓ نے وفات پائی۔ ضلع ہزارہ سے لوگ جوق در جوق آپؓ کی وفات کا سُن کر آئے۔ احمدیوں اور سنّی احباب نے علیحدہ علیحدہ آپؓ کی نماز جنازہ ادا کی اور پھر آپؓ کی ہی زمین میں آپؓ کو سپردخاک کردیا گیا۔ آپؓ کا احمدیت سے لگاؤ ہی تھا کہ بعدازاں لوگ آپؓ کے داتہ گاؤں کو چھوٹا ربوہ کہتے تھے۔

………٭………٭………٭………

چند شہدائے احمدیت

ماہنامہ ‘‘خالد’’ ربوہ جنوری 2012ء میں درج ذیل شہدائے احمدیت کا تذکرہ حضرت خلیفۃالمسیح الرابعؒ کے خطباتِ جمعہ کے حوالے سے شامل اشاعت ہے۔

مکرم چودھری شوکت حیات صاحب شہید

مکرم چودھری شوکت حیات صاحب تھیم 1920ء میں حضرت چودھری محمد حیات خان صاحبؓ ریٹائرڈ انسپکٹر پولیس کے ہاں حافظ آباد میں پیدا ہوئے۔تعلیم حافظ آباد اور قادیان میں حاصل کی۔ پھر پولیس میں ملازمت اختیار کی۔ یکم جون 1974ء کو حافظ آباد شہر میں ہنگامہ زور پکڑ گیا اور اسی اثنا میں خبر ملی کہ شرپسندوں نے آپ کے بچوں کی سٹیشنری کی دکان لُوٹ لی ہے اور بقیہ سامان کو آگ لگادی گئی ہے۔ آپ بچوں سمیت جائے وقوعہ پر پہنچے تو دیکھا کہ شرپسند لُوٹ مار کرکے جا چکے ہیں اور آگ پر پولیس نے قابو پالیا ہے۔ آپ اپنی دکان کے سامنے چوبارہ پر بیٹھ گئے۔ آپ کا ایک بیٹا شفقت حیات بھی آپ کے ساتھ تھا ۔ اتنے میں ایک ہجوم گزرا جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی شان میں گستاخی کر رہا تھا۔ آپ نے جلوس کی قیادت کرنے والوں کو کہا کہ کچھ حیا کرو، جن کی تم توہین کر رہے ہو انہوں نے تمہارا کیا بگاڑا ہے۔ اس پر شرپسندوں کی آتشِ غضب اَور بھی شعلہ زن ہوئی اور قریب سے گزرنے والی ریلوے لائن سے پتھر اٹھا اٹھا کر وہ آپ کو مارنے لگے۔ آپ کا بیٹا اُن کے ہی پھینکے ہوئے پتھر جواباً انہیں مارنے لگا اور کچھ دیر ان کو مزید پیش قدمی نہ کرنے دی۔ اسی اثنا میں شرپسندوں کو کسی نے کہا کہ مکان کے پچھواڑے سے حملہ کرو۔ چنانچہ وہ پیچھے سے حملہ آور ہوئے۔ پہلے آپ کے بیٹے شفقت حیات صاحب کو پتھروں سے شدید زخمی کیا۔اُن کے جسم پر چالیس کے قریب زخم آئے اور وہ تقریباً ایک مہینہ مسلسل علاج کے بعد صحت یاب ہوئے۔ لیکن شوکت حیات صاحب کووہ ظالم گھسیٹ کر نیچے لے گئے اور پتھر مار مار کر لہولہان کردیا۔ اتنے میں پولیس بھی آگئی اور شرپسند موقع سے بھاگ گئے۔ ابھی آپ میں زندگی کی رمق باقی تھی۔ چنانچہ فوراً آپ کو ایک عزیز مکرم حق نواز صاحب نے اپنی گاڑی میں ڈال کر لاہور کا قصد کیا لیکن آپ زخموں کی تاب نہ لاسکے اور راستے میں ہی شہید ہوگئے۔ آپ نے بیوہ کے علاوہ ایک بیٹی اور تین بیٹے چھوڑے۔ آپ کی اہلیہ نے فروری 1990ء میں وفات پائی اور بہشتی مقبرہ ربوہ میں مدفون ہوئیں۔

مکرم قریشی احمد علی صاحب شہید

مکرم قریشی احمد علی صاحب 1943ء میں سنداں والی ضلع سیالکوٹ میں مکرم حکیم فضل دین صاحب کے ہاں پیدا ہوئے۔ بلوغت کے بعد گوجرانوالہ شہر میں منتقل ہوگئے۔

1974ء میں جب گوجرانوالہ میں حالات خراب ہونا شروع ہوئے تو آپ کے بیٹے ڈاکٹر ناصر احمد صاحب نے جو ناظم اطفال ضلع تھے اور جماعت کی طرف سے حالات کا جائزہ لینے کی ڈیوٹی پر تھے، گھر آکر اپنے والد محترم کو حالات کی سنگینی کا بتایا۔ جب حالات مزید خراب ہوگئے تو یکم جون کو عورتیں اور بچے مکرم قریشی مجید احمد صاحب سپرنٹنڈنٹ جیل کے گھر پہنچا دیے گئے۔ اور مردوںکوگِل روڈ میں ایک احمدی گھرانے میں اکٹھاکردیا گیا۔ یہیں جلوس نے مکرم قریشی احمد علی صاحب پر کسّی کا اتنا گہرا وار کیا کہ آپ موقع پر ہی شہید ہوگئے۔

مکرم سعید احمد خان صاحب شہید

مکرم سعید احمد خان صاحب 26؍مئی 1937ء کو مکرم محمد یوسف صاحب آف مندوخیل کے ہاں فیصل آباد میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم قادیان میں حاصل کی۔ میٹرک اور ایف اے لاہور سے کیا ۔ 1963ء میں ان کی شادی انیسہ طیبہ صاحبہ بنت چودھری منظور احمد صاحب سے ہوئی۔

مکرم سعید احمد خان صاحب پہلے فیصل آباد میں سیکرٹری مال اور قائد خدام الاحمدیہ کی حیثیت سے خدمات سرانجام دیتے رہے۔ پھر ملازمت کے سلسلہ میں کوئٹہ کے قیام کے دوران وہاں بھی قائد خدام الاحمدیہ رہے۔آپ نے نیروبی کینیا میں بھی کچھ عرصہ گزارا اور وہاں بھی قائد خدام الاحمدیہ کے طور پر خدمات سرانجام دیتے رہے۔ پھر گوجرانوالہ منتقل ہوگئے جہاں سول لائن گوجرانوالہ میں اپنا مکان بنوایا تو ساتھ ہی مسجد احمدیہ کی بنیاد رکھ دی اور احاطہ گھیر کر اس پر مسجد احمدیہ کا بورڈ لگادیا۔ اسی دن سے قریبی مسجد کے مولویوں نے آپ کی سخت مخالفت شروع کردی۔ 1974ء کے ہنگاموں سے پہلے ہی وہ مسجد احمدیہ کو شہید کرنے اور آپ کے قتل کا پروگرام بنا چکے تھے۔

یکم جون 1974ء کی صبح سول لائن گوجرانوالہ میں پولیس کی معیت میں جلوس آیا۔ مکرم سعید احمد خان صاحب تھانیدار کے پاس گئے کہ جلوس کو روکو مگر کچھ نتیجہ نہ نکلا۔ جب آپ واپس آنے لگے تو اس تھانیدار کے اشارہ کرنے پر جلوس مکرم سعید احمد خان صاحب پر ٹوٹ پڑا اور پتھروں اور ڈنڈوں سے آپ کو بڑی بے دردی سے موقع پر ہی شہید کردیا۔ شہید مرحوم نے پسماندگان میں ایک بیٹا اور چار بیٹیاں چھوڑیں۔

مکرم بشیر احمد صاحب شہید اور مکرم منیر احمد صاحب شہید

مکرم بشیر احمد صاحب قادیان کے ایک قریبی گاؤں ٹوڈرمل میں 1943ء میں پیدا ہوئے۔ میٹرک کے بعد محکمہ صحت میں ملازمت اختیار کرلی۔ان کے چھوٹے بھائی مکرم منیر احمد صاحب دسمبر 1956ء میں گوجرانوالہ میں پیدا ہوئے۔ وہ بوقت شہادت غیرشادی شدہ تھے اور پنکھوں کے کارخانہ میں کام کرتے تھے۔ یکم جون 1974ء کو ڈیوٹی سے گھر آئے تو اپنی والدہ سے کہنے لگے ‘‘اماں جلوس آرہا ہے’’۔ والدہ نے کہا اچھا بیٹا بتاؤ کیا پسند ہے، مَیں وہی پکاتی ہوں۔ والدہ نے حسب منشاء چاول پکائے مگر انہوں نے جی بھر کر نہ کھائے۔ اس کے بعد آپ والدین کو اپنے دوست کے گھر چھوڑ آئے اور ان کی حفاظت کی تاکید کی۔ پھر دونوں بھائی بشیر احمد اور منیر احمد رات بھر مکان کی چھت پر پہرہ دیتے ہوئے جاگتے رہے۔ جلوس کا جس طرف سے آنا متوقع تھا اس طرف ناکہ بندی کا انتظام تھا مگر جلوس اس قدر بڑا تھا کہ نہ رُک سکا اور ان کے مکان کے پاس آگیا۔ آپ نے اپنے ساتھی سے کہا کہ ہم نے بھاگنا نہیں، حضور کا حکم ہے کہ اپنا گھر چھوڑ کر بھاگنا نہیں خواہ ہم مارے جائیں۔ چنانچہ جلوس نے ہلّہ بولا اور دونوں حقیقی بھائیوں کو موقع پر ہی نہایت اذیّت دے کر شہید کردیا گیا۔

………٭………٭………٭………

ماہنامہ ‘‘خالد’’ ربوہ فروری 2012ء میں شامل اشاعت درج ذیل شہدائے احمدیت کا تذکرہ حضرت خلیفۃالمسیح الرابعؒ کے خطباتِ جمعہ کے حوالے سے مکرم بشارت احمد صاحب نے قلم بند کیا ہے۔

مکرم محمد رمضان صاحب شہید اور مکرم محمد اقبال صاحب شہید

مکرم محمد رمضان صاحب اور مکرم محمد اقبال صاحب دونوں محترم علی محمد صاحب کے ہاں ویرووال ضلع امرتسر میں پیدا ہوئے۔ 1947ء میں ہجرت کرکے یہ خاندان فیصل آباد میں آبسا۔ پھر کچھ عرصہ بعد کوہلووال ضلع گوجرانوالہ میں منتقل ہوگئے۔ 2؍ جون1974ء کو مخالفینِ احمدیت دونوں بھائیوں کو دھوکے سے گھر سے بلاکر لے گئے اور قریبی نہر کے کنارے لے جاکر گولیاں مار کر شہید کردیا گیا۔ پھر نعشیں نہر میں پھینک دیں۔ محمد رمضان شہید کی نعش تو برآمد ہوگئی مگر محمد اقبال شہید کی نعش کوشش کے باوجود دستیاب نہ ہوسکی۔

مکرم غلام قادر صاحب شہید اور مکرم چودھری عنایت اللہ صاحب شہید

مکرم غلام قادر صاحب کے والد روشن دین صاحب ضلع گوجرانوالہ میں آباد تھے اور اپنے چار بھائیوں میں سے اکیلے احمدی تھے۔ غلام قادر صاحب کی شادی ترگڑی ضلع گوجرانوالہ میں ہوئی۔ آپ کی بیوی ایک جان لیوا بیماری کے باعث آپ کی زندگی میںہی فوت ہوگئی تھیں۔ آپ کنگنی والا ضلع گوجرانوالہ میں مقیم تھے۔
آپ کے بیٹے خالد محمود کا بیان ہے کہ ایک دن جلوس آیا مگر والد صاحب گھر پر موجود نہ تھے اور جلوس کو لوگوں نے واپس لوٹادیا۔ جب آپ کو اس واقعہ کی اطلاع ہوئی تو آپ تھانہ گئے اور پولیس کو مطلع کیا۔ چنانچہ آپ کے ساتھ تھانیدار آیا۔ اس نے گاؤں میں ایک قصاب کو ڈانٹا جو کہ بدمعاش اور مخالفِ احمدیت تھا اور یقین دلا کر چلا گیا کہ آپ کو اب کوئی کچھ نہیں کہے گا اور ایک حوالدار کی ڈیوٹی لگائی کہ ان کے گھروں کی حفاظت کرنا۔ اس نے بھی اپنی طرف سے تسلّی دی اور کہا کہ آپ گھبرائیں نہیں رات کوپولیس کے آدمی سول کپڑوں میں آ جائیں گے اور آپ کی حفاظت کریں گے مگر رات بھر کوئی نہ آیا۔اسی رات خریدے گئے پیشہ ور قاتلوں کا ایک گروہ دو احمدیوں کو کسی اَور جگہ شہید کرکے پہلے چودھری عنایت اللہ صاحب کے پاس آیا اور ان کو پکڑ کر ساتھ لے گیا اور انہیں پوچھا کہ وہ جو تھانے روز جاتا ہے اس کا گھر کون سا ہے؟ چنانچہ وہ ساتھ ہولیے اور غلام قادر شہید کے دروازے کی نشاندہی کی اور قاتلوں کے کہنے پر ان کا دروازہ کھٹکھٹایا۔ یہ سحری کا وقت تھا۔ غلام قادر صاحب نے پوچھا کون ہے۔ تو انہوں نے بتایا کہ میں عنایت اللہ ہوں۔ چنانچہ آپ نے بلاتردّد دروازہ کھول دیا۔ جونہی آپ باہر آئے تو قاتلوں نے آپ کو گھیر لیا اور مجبور کرکے دونوں یعنی غلام قادر صاحب اور عنایت اللہ صاحب کو گاؤں سے باہر لے گئے اور باہر کھیتوں میں دونوں کو شہید کر ڈالا۔ یہ دردناک واقعہ 2؍جون 1974ء کو پیش آیا۔ غلام قادر صاحب شہیدنے پسماندگان میں تین بیٹے اور تین بیٹیاں چھوڑیں۔

مکرم عنایت اللہ صاحب شہید قادیان کے نزدیکی گاؤں کھارا کے رہنے والے تھے۔ ان کے والد فضل دین صاحب اور والدہ محترمہ سراج بی بی صاحبہ بہت نیک اور مخلص احمدی تھے۔انہوں نے پسماندگان میں بیوہ حنیفاں بی بی صاحبہ ، ایک بیٹا اوردو بیٹیاں چھوڑیں۔

مکرم محمد الیاس عارف صاحب شہید

آپ10؍ اکتوبر 1945ء کو مکرم ماسٹر محمد ابراہیم شاد صاحب کے ہاں ‘مومن’ ضلع شیخوپورہ میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم چک چہور سے اور پھر .B.A تک تعلیم اسلامیہ کالج خانیوال سے حاصل کی۔ 1974ء میں آپ واہ کینٹ میں تھے۔ جب ٹیکسلا میں معاندین نے کرائے کے غنڈوں اور قاتلوں میں اسلحہ تقسیم کردیا اور احمدیوں کے مکانوں پر نشان لگادیے تو 4؍جون کو آپ نے اپنے چھوٹے بھائی کے ہمراہ اپنی بیوی بچوں کو گاؤں بھجوادیا۔ اُسی روز آپ کو ٹیکسلا میں اپنے گھر سے ڈیڑھ فرلانگ کے فاصلہ پر گھات لگائے ہوئے تین مولویوں اور ایک کِرائے کے قاتل نے گھیر لیا اور رائفل سے فائر کیا۔ گولی شہید مرحوم کے سینے میں لگی اور آپ موقع پر جام شہادت نوش کرگئے۔ آپ کی تدفین اولاً چک چہور میں اور ایک سال بعد ربوہ کے مقبرہ شہداء میں ہوئی۔ شہید مرحوم نے اپنے پیچھے ایک بیٹی ،ایک بیٹا اور بیوہ ثریا بیگم صاحبہ چھوڑیں۔
شہید مرحوم کی اہلیہ کو بعد میں بتایا گیا کہ شہادت کے کچھ عرصہ بعد قاتل کو ایک پاگل کتے نے کاٹا جس سے وہ ذہنی توازن کھو بیٹھا اورکُتّے کی طرح بھونکنے لگا۔ ایک ماہ بعد اس کے گھر والوںنے اسے زنجیر سے باندھ دیا۔ تین چار دن بعد وہ غضب الٰہی کا مورد ٹھہر کر اسی حالت میں مر گیا۔

مکرم نقاب شاہ مہمند صاحب شہید

مکرم نقاب شاہ مہمند صاحب بازید خیل کے رہنے والے تھے۔ آپ کے والد کا نام محمد شاہ تھا جو احمدی نہیں تھے مگر آپ کے دادا گل فراز صاحب غیرمبائع احمدی تھے۔ نقاب شاہ مہمند صاحب 8؍ جون 1974ء کی دوپہر پشاور میں اُس وقت شہید کردیے گئے جب آپ سائیکل پر کہیں جارہے تھے۔ عمر 37 سال تھی۔ شہید کرنے والا بظاہر ان کا دوست تھا ۔ جب کسی نے پکڑنے کی کوشش کی تو اس نے آواز دی کہ قادیانی تھا مار دیا میرا پیچھا کرنے کی کوشش نہ کرو۔

مکرم نقاب شاہ مہمند صاحب ٹیچر تھے اور ٹیچرز ایسوسی ایشن کے صدر تھے۔ آپ مکرم الطاف خان صاحب کے داماد تھے۔ ان کی کوئی اولاد نہیں تھی۔

………٭………٭………٭………

ماہنامہ ‘‘خالد’’ ربوہ مارچ 2012ء میں درج ذیل شہدائے احمدیت کا تذکرہ حضرت خلیفۃالمسیح الرابعؒ کے خطباتِ جمعہ کے حوالے سے شامل اشاعت ہے۔

مکرم صوبیدار غلام سرور صاحب شہید

اور مکرم اسرار احمد خاں صاحب شہید

محترم صوبیدار غلام سرور خان صاحب پاک فوج کے محکمہ انٹیلی جنس میں ایریا افسر تھے۔آپ کا آبائی گاؤں مَیۡنِی ہے جو ضلع مردان میں قصبہ ٹوپی سے دس کلومیٹر کے فاصلہ پر واقع ہے۔ ٹوپی میں جب حالات خراب ہو رہے تھے تو ایک غیراحمدی شخص نے آپ کو بتایا کہ لوگ آپ کو قتل کرنے کا پروگرام بناچکے ہیں اس لیے آپ کہیں اور چلے جائیں۔ آپ نے جواب دیا کہ اگر مجھے اسلام کی خاطر شہادت نصیب ہو جائے تو اس سے بڑھ کر اور کونسی خوش بختی اور سعادت ہوگی۔

9؍جون1974ء کو قصبہ ٹوپی کے محلہ خوشحال آباد میں شرپسندوں نے قتل و غارت، لُوٹ مار اور آتشزدگی کا بازار گرم کیے رکھا۔ اُس دن آٹھ احمدیوں کو شہید کیا گیا اور ستّر سے زائد مکانات، ڈیوڑھیاں، حجرے، بنگلے اور دکانیں تباہ کی گئیں۔ محترم صوبیدار صاحب اور آپ کا بھتیجا اسرار احمد گھر پر ہی موجود تھے کہ آپ کے مکانوں کی پچھلی طرف واقع قبرستان سے شرپسند حملہ آور ہوئے۔ اگرچہ آپ نے ہوائی فائر کرکے اُن کو ڈرایا مگر وہ تعداد میں بہت زیادہ تھے۔ ان میں سے ایک شرپسند نے آپ کو گولی مار دی جس سے آپ موقع پر ہی شہید ہوگئے۔ پھر آپ کے بے جان جسم پر بدبختوں نے گولیوں کی بوچھاڑ کردی اور نعش کو گھسیٹ کر گلی کے چوراہے میں لے آئے اور پتھر مار مار کر بُری طرح مسخ کردیا۔ شہید مرحوم کی عمر 52 سال تھی اور آپ موصی تھے لیکن حالات کی سنگینی کے پیش نظر آپ کو وہیں دفن کردیا گیا ۔ حضرت خلیفۃالمسیح الثالثؒ نے اس حوالے سے فرمایا کہ شہید جہاں دفن ہوتا ہے وہی جگہ اس کے لیے جنت ہوتی ہے۔ ایک وقت آئے گا جب ان شہداء کی قربانی رنگ لائے گی اور لوگ کہیں گے کہ یہ خوش قسمت لوگ ہیں جن کو احمدیت کی خاطر اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرنے کی توفیق ملی۔ البتہ حضورؒ کی اجازت سے بہشتی مقبرہ میں آپ کا یادگاری کتبہ لگادیا گیا۔ شہید مرحوم نے اہلیہ کے علاوہ تین بیٹے اور تین بیٹیاں یادگار چھوڑیں۔ جس شخص نے آپ کو شہید کیا تھا، اس پر جولائی 1974ء میں آسمانی بجلی گری اور وہ جھلس کر مرگیا۔

محترم صوبیدار صاحب کے سگے بھتیجے مکرم اسرار احمد خان صاحب کو بھی آپ کے ساتھ ہی شہید کیا گیاتھا۔ وہ الحاج سلطان سرور خانصاحب کے صاحبزادے تھے۔ شہادت سے کچھ عرصہ پہلے اپنے والد محترم کے ہمراہ حج بیت اللہ کی سعادت حاصل کرچکے تھے۔ شہادت کے وقت عمر سولہ سترہ سال تھی اور غیرشادی شدہ تھے۔ آپ کی شہادت کنپٹی پر پستول کے فائر سے ہوئی ۔ پھر شہادت کے بعد آپ پرپتھرائو کیا گیا ،خنجروں سے وار کیے گئے اور آخر ہجوم نے ان کی دونوں ٹانگوں کو مخالف سمتوں میں کھینچتے ہوئے ان کی لاش کو دونیم کردیا۔ ایک عورت یہ لرزہ براندام کرنے والاخونی کھیل نہ دیکھ سکی اور زور زور سے چیخنے لگی اور بلند آواز سے بددعائیں دینے لگی ۔ اس پر قاتلوںکی رائفلوں کارخ اس کی طرف پھر گیا مگر کچھ لوگ آڑے آگئے کہ یہ قادیانی نہیں ہے۔ غیر احمدی عینی شاہدین کے مطابق جس شخص نے اسرار احمد خان سے بربریت کا سلوک کیا وہ اُسی رات پاگل ہوگیا اور بعدازاں پاگل خانہ میں بند کردیا گیا۔ اس کی بیوی بھی ذہنی توازن کھوبیٹھی اور گھر میں ہر وقت رسّیوں سے بندھی رہتی۔

اسرار شہید کے پسماندگان میں والد اور والدہ کے علاوہ دو بھائی اور پانچ بہنیں شامل تھیں۔ ایک تیسرا بھائی اپنے بھائی کی شہادت کے بعد پیدا ہوا تو والدین نے اس کا نام شہید بیٹے کے نام پر اسرار احمد خان وقار رکھا۔

………٭………٭………٭………

میرا قبولِ اسلام

انگریزی ماہنامہ ‘‘احمدیہ گزٹ’’ امریکہ اکتوبر و نومبر 2010ء میں مکرمہ لیلیٰ اسحاق (Laila Isack) صاحبہ اپنی قبول احمدیت کی داستان بیان کرتے ہوئے رقمطراز ہیں کہ مَیں ایک مسلمان گھرانے میں پیدا ہوئی لیکن مَیں نے تبدیلی مذہب کے بارے میں بارہا غور کیا۔ شاید اس لیے کہ میری والدہ نے اسلام خود قبول کیا تھا۔ وہ ایک کیتھولک گھرانے میں پروان چڑھیں اور سالہاسال تک صداقت کی تلاش میں سرگرداں رہنے کے بعد وہ مسلمان ہوگئیں۔ یہ میری پیدائش سے پہلے کی بات ہے۔ مَیں بچپن سے ہی سُنّیوں کی مسجد میں جاتی اور نماز کے نتیجے میں اپنے اندر پیدا ہونے والی تسکین کو محسوس کرتی۔ میرے بچپن میں ہی میری والدہ نے احمدیت یعنی حقیقی اسلام قبول کرنے کی سعادت حاصل کرلی۔ چنانچہ مَیں بھی اپنی والدہ کے نقشِ قدم پر چلتی رہی۔

شعور کی منازل طے کرتے ہوئے مَیں نے سوچنا شروع کیا کہ کیا میری والدہ کا احمدیت قبول کرنے کا فیصلہ درست تھا یا پھر امریکہ کی مادیت اور دہریت سے بھری دنیا کی چکاچوند زیادہ بہتر ہے۔ مَیں جوں جوں بڑی ہوتی گئی تو میرا ایمان مضبوط تر ہوتا گیا اور مَیں نے فیصلہ کیا کہ اسلام ہی میرے ایمان کی بنیاد ہوگا۔ اگرچہ مجھے بچپن سے اسلام کے بارے میں ہی بتایا گیا تھا لیکن مَیں نے شعور کے ساتھ ساتھ مطالعہ کیا اور غور کیا اور خود احمدیت یعنی حقیقی اسلام کو قبول کرنے کی توفیق پائی۔ میرے خیال میں اسلام کو قبول کرنا (Conversion to Islam) ایسا ہی ہے جیسے ایک مثبت اور ایک منفی خصوصیات رکھنے والے عناصر کو اکٹھا کیا جائے تو وہ ایک نئی چیز میں convert ہوجاتے ہیں مثلاً ہائیڈروجن گیس کو آکسیجن سے ملایا جائے تو وہ مصفّا پانی میں convert ہوجاتی ہیں۔ اسی طرح اسلام کی مثبت تعلیمات کو جب کسی انسان کی منفی حالت کے ساتھ ملایا جائے تو اُس انسان کی روح مصفّا پانی کی طرح پاکیزہ ہونے لگتی ہے۔ بالفاظِ دیگر یہ تبدیلی دراصل کردار کی تبدیلی ہے جس کے نتیجے میں مجرمانہ ذہنیت کا ایک شخص بھی ایماندار بن جاتا ہے۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ سورۃ الاحزاب کی آیت 34 میں فرماتا ہے کہ یقینا ًاللہ چاہتا ہے کہ تم سے ہر قسم کی آلائش دُور کردے اور تمہیں اچھی طرح پاک کردے۔

………٭………٭………٭………

ماہنامہ ‘‘النور’’ امریکہ اکتوبر و نومبر 2010ء میں مکرم لطف الرحمٰن محمود صاحب کی شہیدانِ لاہور کے حوالے سے ایک نظم شامل اشاعت ہے۔ اس نظم میں سے انتخاب ملاحظہ فرمائیں:

تمہارا اُسوۂ حسنہ تھے کربلا کے قتیل
اُنہی کی رسمِ عبادت سلام کہتی ہے
کہیں لبوں پہ تشہد ، کہیں درود و سلام
دمِ وداع وہ سعادت سلام کہتی ہے
مرے شہید کہ زندہ ہیں ازروئے قرآں
اُنہیں تو بڑھ کے شہادت سلام کہتی ہے
تمہارے خوں کے چراغوں کی لَو نہ ہو مدھم
ضیائے شمعِ خلافت سلام کہتی ہے

ماہنامہ ‘‘خالد’’ ربوہ نومبر 2011ء میں مکرم افضال ربانی صاحب کی شہدائے لاہور کے حوالے سے کہی جانے والی نظم شائع ہوئی ہے۔ اس نظم میں سے انتخاب پیش ہے:

خطۂ لاہور تیرے جان نثاروں کو سلام
غازیوں کو عابدوں کو میرے پیاروں کو سلام
خون کی بہتی ہوئی ان آبشاروں کو سلام
احمد مختار تیرے فوج داروں کو سلام
باغِ احمدؑ سے قضا جو پھول چُن کر لے گئی
ان منیروں ، ان بصیروں ، چاند تاروں کو سلام
اشک اپنے بہ رہے ہیں ہونٹ اپنے سی لیے
ضبط کے بندھن ہیں بھاری غم گساروں کو سلام
خون میں لت پت بدن ہیں ، لب پہ ہے صلّے علیٰ
ان وفاؤں ، ان اداؤں ، ان نظاروں کو سلام
سو رہے ہیں چاند تارے سرخ مٹی اوڑھ کر
ان زمینوں ، ان فضاؤں ، کوہساروں کو سلام

متعلقہ مضمون

رائے کا اظہار فرمائیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button