نماز جنازہ حاضر و غائب

نمازِ جنازہ حاضر و غائب

مکرم منیر احمد جاوید صاحب پرائیویٹ سیکرٹری اطلاع دیتے ہیں کہ 26؍جون 2019ءکونماز ظہر سے قبل حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے مسجد مبارک(اسلام آباد۔ٹلفورڈ)کے باہر تشریف لا کر مکرم ڈاکٹر غلام حسین چوہان صاحب(والسال۔یوکے)کی نماز جنازہ حاضر اور کچھ مرحومین کی نماز جنازہ غائب پڑھائی۔

نمازِ جنازہ حاضر

مکرم ڈاکٹر غلام حسین چوہان صاحب(والسال۔یوکے)

19جون 2019ءکو93سال کی عمر میں وفات پا گئے۔ اِنَّالِلّٰہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔ آپ کا تعلق مڑھ بلوچاں کی ایک مخلص احمدی فیملی سے تھا۔یوکے آنے سے قبل لمبا عرصہ ربوہ میں رہے ۔ مرحوم نمازوں کے پابند، ہمدرد ، ملنسار ایک نیک اور فدائی احمدی تھے۔ آپ کو دومرتبہ اسیر راہ مولیٰ ہونے کا اعزاز حاصل ہوا۔ ایک مرتبہ مسجد میں اذان دینے پر گرفتار ہوئے اور دوسری مرتبہ جنرل ضیاء الحق کو تبلیغی خط لکھنے پر گرفتار کیا گیا۔ پسماندگان میں ایک بیٹی اور دو بیٹے یادگار چھوڑے ہیں ۔

نماز جناز ہ غائب

1مکرمہ امۃ القیوم صاحبہ( Dallas, Texas۔یوایس اے)

10دسمبر2018ءکو73سال کی عمر میںبقضائےالٰہی وفات پاگئیں۔ اِنَّالِلّٰہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔آپ مکرم عبدالرحیم ملکانہ صاحب درویشن قادیان کی بیٹی تھیں جنہیں بطور انسپکٹر بیت المال خدمت کی توفیق ملی۔آپ مکرم ملک صلاح الدین صاحب(مصنف اصحاب احمد)کی بھاوج تھیں۔آپ بہت مہمان نواز، ہردلعزیز، ہمدرد ، ایک نیک اور دعاگو خاتون تھیں۔ جوانی میں ہی بیوہ ہوجانے کے بعد مرحومہ نے تمام مشکلات کا بڑی ہمت سے سامنا کرکے اپنے دو بچوں کو پالا۔ 2006ء میں آپ اپنے بیٹے ناصر ملک صاحب کے پاس Dallasمنتقل ہوگئیں۔آپ کی ایک بیٹی محمودہ محمود صاحبہ سوئٹزرلینڈ میں مقیم ہیں اور مکرم عارف محمود صاحب (صدر مجلس انصاراللہ سوئٹزرلینڈ)کی اہلیہ ہیں۔

-2مکرم نذیر احمد بھوئیاں صاحب (سابق استاد جامعہ احمدیہ۔ بنگلہ دیش)

26مئی 2019ءکو بقضائے الٰہی وفات پاگئے۔ اِنَّالِلّٰہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔بہت مہمان نواز، خوش اخلاق ،ہرد لعزیز اور خوش مزاج انسان تھے ۔ جامعہ کے طلباءکو بہت پیار اور شفقت سے پڑھاتے اور وقت کے پابند تھے ۔جامعہ میں بطور انگریزی استاد پڑھاتے رہے اور قرآن مجید کی بنگلہ ترجمہ کمیٹی کے رکن بھی تھے۔

-3مکر مہ مسرت ماجد صاحبہ اہلیہ مکرم شیخ عبد الماجد صاحب (سابق ہیڈ کاتب روزنامہ الفضل ربوہ)

21مئی 2019ءکو 64سال کی عمر میں بقضائے الٰہی وفات پاگئیں۔ اِنَّالِلّٰہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔آپ ایک شفیق ماں، اطاعت شعار بیوی اور خلافت کی سچی عاشق اور فرمانبردار خاتون تھیں۔قرآن سے محبت اور وقت پر نماز کی ادائیگی آپ کے خاص شعار تھے ۔خطبات نہایت عقیدت اور انہماک سے سنتی تھیں۔ حضرت میر محمد اسحاق صاحب کے ترجمہ قرآن کی مکمل Pastingکے کام میں اپنے میاں کی مدد کرنے کی توفیق پائی۔ کتابت کے سلسلہ میں گھر پہ آنے والے بزرگان سلسلہ اور خاندان حضرت مسیح موعود ؑکے افراد کی بڑے اخلاص کے ساتھ مہمان نوازی اور خدمت کیا کرتی تھیں۔ لمبا عرصہ ا پنے محلہ میں بطور سیکرٹری وقف جدید خدمت کی توفیق پائی ۔ اپنے بچوں کی تربیت بھی بہت عمدہ رنگ میں کی ۔ مرحومہ موصیہ تھیں۔آپ مکرم محمد احمد نعیم صدیقی صاحب (مربی سلسلہ نظارت اصلاح وارشاد مقامی ربوہ )کی ساس تھیں۔

-4مکرم استاذ Hamidou Mbaye صاحب (گیمبیا)

6فروری 2019ءکو بقضائے الٰہی وفات پاگئے۔ اِنَّالِلّٰہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔1960ء میں بیعت کی توفیق پائی اور پھر جلد ہی اپنی زندگی وقف کردی ۔ 1966ء میں آپ کو سینیگال میں جماعت کا پہلا معلم مقرر کیا گیا۔بعدازاں لمبا عرصہ گیمبیا میں مبلغ رہے اور پھر مشنری انچارج کے طور بھی خدمت کی توفیق پائی۔اس دوران آپ نے گیمبیا کے طول وعرض میں بڑے لمبے لمبے سفر کیے۔ آپ کی تبلیغ کے نتیجہ میں بہت سے لوگوں کو احمدیت قبول کرنے کی توفیق ملی ۔ نمازوں کے پابند ، تہجد گزار ، بہت مخلص ،محنتی اور خدمت کا جذبہ رکھنے والے ایک باوفا انسان تھے ۔ان کی دیانت ، تقویٰ اور اخلاص کے احمدی اور غیر احمدی سب مداح تھے ۔ موریطانیہ میں تبلیغ کرتے ہوئے ایک دفعہ آپ کو گرفتار کرلیا گیااور اس طرح کچھ دن اسیر راہ مولیٰ ہونے کی سعاد ت بھی ملی۔ آپ نے اپنی زندگی کا ہر لمحہ اسلام کی خاطر قربانیاں کرتے ہوئے گزارا۔ آپ نے سینیگال ،گیمبیا، گنی بساؤ اور ماریطانیہ میں لوگوں کے دل جیتے ۔ان ملکوں میں ان کو یاد کرنے والے اب بھی موجود ہیں۔

-5مکر مہ عنبرین خلیل صاحبہ( نیا آڑہ کھاریاں ۔ضلع گجرات)

23 اپریل 2019ءکو52سال کی عمر میں وفات پاگئیں۔ اِنَّالِلّٰہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔آپ 31سال شعبہ تدریس سے وابستہ رہیں۔ نظام جماعت اور خلافت احمدیہ سے انتہائی پیار کرنے والی خاتون تھیں۔ انتہائی غریب پرور اور انسانی ہمدردی کےجذبہ سے سرشار تھیں۔ محلہ کے بعض خاندانوں کو گزشتہ کئی سالوں سے ماہانہ بنیادوں پر راشن مہیا کرتی تھیں ۔ کئی ماہ سے جہلم سے تعلق رکھنے والی کینسر کی ایک مریضہ کی نہ صرف مالی مدد کرتی رہیں بلکہ اس کے گھر جاکر اس کا حوصلہ بھی بڑھاتی تھیں۔

-6مکر م رانا عبد الحکیم خان صاحب کاٹھگڑھی (سابق امیر حلقہ وصدر جماعت گڑھ موڑ ضلع جھنگ )

7جون2019ءکو89سال کی عمر میں وفات پاگئے۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔آپ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے صحابی حضرت حاجی چوہدری عبد الحمید خانصاحب کاٹھگڑھی کے بیٹے،مکرم رانا مبین کاشف خان صاحب(کارکن دارالقضاء۔ ربوہ)کے والداور مکرم بشارت احمدصاحب(کارکن جامعہ احمدیہ یوکے)کے سمدھی تھے ۔ آپ ایک دعا گو، عبادت گزار نیک و مخلص اور باوفا بزرگ انسان تھے ۔ مرحوم موصی تھے ۔

-7مکر مہ زبیدہ زین بروجا صاحبہ(الجیریا)

2جون 2019ءکو 84سال کی عمر میں وفات پاگئیں۔ اِنَّالِلّٰہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔ مرحومہ نے 2001ء میں بیعت کی تھی اور 2013ء میں حضورانور سے ملاقات کا شرف حاصل کیا تھا۔ آپ مکرم کمال زین بروجا صاحب (کارکن جماعت احمدیہ یوکے)کی والدہ تھیں۔ حضورانور کے ساتھ اپنی تصویر بڑی کرواکے کمرے میں لگائی ہوئی تھی اور ہرآنے والے کو بتایا کرتی تھیں کہ یہ ہمارے خلیفہ ہیں۔ بیعت کے بعد اپنی زندگی میں آنے والی خوشگوار تبدیلیوں اورکامیابیوں کا لوگوں میں بکثرت ذکر کیا کرتی تھیں۔ الجیریا میں احمدی احباب کی مشکلات اور اسیران راہ مولیٰ کی رہائی کے لیے بہت دعائیں کیا کرتی تھیں۔ مرحومہ بہت نیک ،دعاگو اور خلافت سے انتہائی محبت او ر عقیدت کا تعلق رکھنے والی خاتون تھیں۔

اللہ تعالیٰ تمام مرحومین سے مغفرت کا سلوک فرمائے اورانہیںاپنےپیاروںکےقرب میںجگہ دے۔اللہ تعالیٰ ان کے لواحقین کو صبر جمیل عطا فرمائے اور ان کی خوبیوں کو زندہ رکھنے کی توفیق دے۔آمین۔

٭…٭…٭

متعلقہ مضمون

رائے کا اظہار فرمائیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button