متفرق مضامین

آنکھوں دیکھا نشان

امتہ الرحمٰن صاحبہ بنت قا ضی ضیا ء الد ین صا حب مر حو م نے بذ ر یعہ تحر یر مجھ سے بیا ن کیا کہ ایک دفعہ ہم سب با غ میں گئے ۔یہ خا د مہ بھی ہر وقت ا بو ہر یرہ ؓ کی طر ح حضو ر علیہ السلام کے اردگرد پر وانہ کی طر ح تھی۔کئی عو رتیں سا تھ تھیں ۔اس وقت حضرت مسیح مو عو دعلیہ الصلوٰ ۃ والسلام اور حضر ت اُم المو منین صا حبہ اور حضر ت مبا رک احمد تینوں جا ر ہے تھے۔صا حبزادہ مبا رک احمد نے بے قرا ری سے کہا ۔ابا ! سنگترہ لینا۔ سنگترہ لینااور خا دمہ ان کے پیچھے پیچھے تھی۔حضور علیہ السلام ایک در خت کے پا س گئے اورہا تھ اوپر کیا اور ایک سنگترہ مبا رک احمد کے ہا تھ میں دے دیا۔بیو ی صاحبہ ہنستی ہو ئی آگے چلی گئیں ۔میرے ساتھ ایک لڑ کی جو بابا حسن محمدکی ر شتہ دار تھی اور اس کا نام جیون تھا درخت پر چڑھ گئی۔اس نے خیا ل کیا کہ شا ید اوپر سنگترے ہیں۔ہم سب نے اس کا پتا پتا د یکھا لیکن کو ئی سنگترہ نہ ملا۔وہ سنگترے کا درخت بہشتی مقبرہ کی طرف تھا۔جب یہ عا جز با غ میں جا یا کر تی تو وہ با ت یا د آ جا تی تھی۔ایک د فعہ د یکھا کہ و ہا ں وہ در خت نہ تھا مجھ کو بڑا افسوس ہوا اور رونا بھی آیا ۔دل میں کہا ہائے!اگر میں پاس ہو تی تو جن لو گو ں نے وہ درخت کا ٹا ہے ہر گز کا ٹنے نہ د یتی ۔یہ نشا ن میں نے اپنی آ نکھوں سے د یکھاہے۔

(سیرت المہدی جلد دوم ،مر تبہ حضرت مرزا بشیر احمد صاحبؓ ،صفحہ 272،روایت1490،شا ئع کر دہ نظا رت نشر و اشا عت قا دیان)

٭…٭…٭

متعلقہ مضمون

رائے کا اظہار فرمائیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button