ادبیات

ملفوظات حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام اور فارسی ادب (قسط نمبر 8)

(محمود احمد طلحہ ۔ استاد جامعہ احمدیہ یو کے)

صوفیاء کے دو مکتبہ ہائے فکر وجودی و شہودی ‘‘……وجودی اور شہودی میں سے اوّل الذکر تو وہی ہیں ، جو خلق الاشیاء ھوعین کہتے اور مانتے ہیں اور ثانی الذکر وُہ ہیں جو فناء نظری کےقائل ہیں اور کہتے ہیں کہ محبت میں انسان اس قدر استغراق کرسکتاہے کہ وہ فنافی اللہ ہوسکتا ہے اور پھر اس کے لیے یہ کہنا سزاوار ہوتا ہے ؎

من تن شُدم ، توُ جاں شدی، من تُوشُدم تو من شُدی
تاکس نگوید بعدازیں من دیگرم تُو دیگری

بایں ہمہ تصرفاتِ الہٰیہ کا قائل اُن کو بھی ہونا پڑتا ہے۔ خواہ وجُودی ہوں یا شہودی ہوں۔ اُن کے بعض بزرگ اور اہل کمال بایزید بسطامی ؒ سے لے کر شبلی ؒ ، ذُوالنون ؒ اور محُی الدین ابن عربی ؒ تک کے کلمات علی العموم ایسے ہیں کہ بعض ظاہر طور پر اور بعض مخفی طور پر اسی طرف گئے ہیں۔مَیں یہ بات کھول کر کہنی چاہتا ہوں کہ ہمار ایہ حق نہیں کہ ہم اُن کو استہزاء کی نظر سے دیکھیں۔ نہیں نہیں۔ وُہ اہلِ عقل تھے۔ بات یوں ہے کہ معرف کا یہ ایک باریک اور عمیق راز تھا۔ اُس کا رشتہ ہاتھ سے نکل گیاتھا۔ یہی بات تھی اور کچھ نہیں۔ خداتعالیٰ کے اعلیٰ تصرفات پر انسان ایسا معلوم ہوتا ہے جیساکہ ہالک الذات۔ اُنہوں نے انسان کو ایسادیکھا اوراُن کے مُنہ سے ایسی باتیں نکلیں اور ذہن اُدھرمنتقل ہوگیا۔ پس یہ امربحضورِ دل یادرکھو۔کہ باوصفیکہ کہ انسان صفائی باطن سے ایسے درجہ پر پہنچتا ہے(جیسا کہ ہمارے نبی کریم علیہ الصلیوۃ والتسلیم اس مرتبہ اعلیٰ پر پہنچے) کہ جہاں اُسے اقتداری طاقت ملتی ہے ، لیکن خالق اور مخلوق میں ایک فرق ہے اور نمایاں فرق ہے۔ اس کو کبھی دل سے دُور کرنا نہ چاہیے۔’’

(ملفوظات جلد اول صفحہ 116-117)

*۔ اس میں حضرت مسیح موعود علیہ ا لسلام نے امیر خسرودہلوی کایہ شعر استعمال کیا ہے ۔

مَنْ تُوْشُدَمْ تُومَنْ شُدِیْ،مَنْ تَنْ شُدَمْ تُوجَاں شُدِیْ
تَاکَسْ نَہ گُوْیَدْ بَعْد اَزِیْں مَنْ دِیْگَرَمْ تُودِیْگَرِیْ

ترجمہ:۔ میں تو بن گیا ہوں تو میں بن گیاہے میں تن ہوں اور تو جان ہے پس اس کے بعد کوئی نہیں کہہ سکتا کہ میں اور ہوں اورتو کوئی اور۔

٭…٭…٭

متعلقہ مضمون

رائے کا اظہار فرمائیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button