سیرت خلفائے کرام

خلفائے احمدیت کی مقبول دعائیں۔ چند ایمان افروز واقعات

(عطاء الوحید باجوہ۔ ربوہ)

قبولیت دعاکامضمون تعلق باللہ کی ایک کڑی ہے۔ خداتعالیٰ قرآن مجید میں فرماتا ہے:

وَاِذَا سَاَلَکَ عِبَادِیْ عَنِّیْ فَاِنِّیْ قَرِیْبٌ اُجِیْبُ دَعْوَۃَ الدَّاعِ اِذَا دَعَانِ فَلْیَسْتَجِیْبُوْا لِیْ وَلْیُؤْمِنُوْا بِیْ لَعَلَّھُمْ یَرْشُدُوْنَ۔

(سورۃ البقرہ آیت 187)

اور جب میرے بندے تجھ سے میرے متعلق سوال کریں تو یقینا ًمیں قریب ہوں۔ میں دعا کرنے والے کی دعا کا جواب دیتا ہوں جب وہ مجھے پکارتا ہے۔ پس چاہیے کہ وہ بھی میری بات پر لبیک کہیں اور مجھ پر ایمان لائیں تاکہ وہ ہدایت پائیں۔

(اردو ترجمہ از حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ)

اس آیت مبارکہ میں اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کے بارے میں فرما رہا ہے کہ جب وہ دعا کرتے ہیں تو میں ان کی دعا کو سنتا ہوں یعنی دوسرے الفاظ میں کہا جاسکتا ہے کہ جن کی دعا ئیں قبول ہوں وہ خدا کے بندے ہوتے ہیں اور خدا سے ان کا ایک سچا تعلق ہوتا ہے۔

حضرت مسیح موعود علیہ السلام قبولیت دعا کے متعلق فرماتے ہیں:

‘‘یاد رہے کہ خدا کے بندوں کی مقبولیت پہچاننے کے لیے دعا کا قبو ل ہونا بھی ایک بڑا نشان ہوتا ہے بلکہ استجابت دعا کی مانند اور کوئی بھی نشان نہیں کیونکہ استجابت دُعا سے ثابت ہوتا ہے کہ ایک بندہ کو جناب الٰہی میں قدر اور عزت ہے۔اگرچہ دعا کا قبول ہو جانا ہر جگہ لازمی امر نہیں کبھی کبھی خدائے عزوجل اپنی مرضی بھی اختیار کرتا ہے لیکن اس میں کچھ بھی شک نہیں کہ مقبولین حضرت عزت کے لیے یہ بھی ایک نشانی ہے کہ بہ نسبت دوسروں کے کثرت سے ان کی دعائیں قبول ہوتی ہیں اور کوئی استجابت دعا کے مرتبہ میں ان کا مقا بلہ نہیں کر سکتا۔’’

(حقیقۃ الوحی، روحانی خزائن جلد 22 صفحہ 334)

آج جماعت احمدیہ کے افراد بفضلہتعالیٰ خوش قسمت ہیں کہ انہیں خلافت جیسی نعمت عظمیٰ حاصل ہے جس کا کوئی نعم البدل نہیں اور ہر احمدی حق الیقین کے ساتھ اس بات کا گواہ ہے کہ دربار خلافت سے اٹھنے والی دعائیں عرش پر قبولیت کا درجہ رکھتی ہیں اور مندرجہ ذیل شعر کا مصداق ٹھہرتی ہیں۔

غیر ممکن کو یہ ممکن میں بدل دیتی ہے
اے میرے فلسفیو! زورِ دعا دیکھو تو

(کلام محمودؓ صفحہ 105)

حضرت خلیفۃ المسیح الاول ؓ

حضرت خلیفۃ المسیح الاول ؓنے اپنی دعاؤں کی قبولیت کی کیفیت کو بیان کرتے ہوئے فرمایا:

‘‘میری دعائیں عرش پر بھی سنی جاتی ہیں ،میرا مولیٰ میرے کام میری دعا سے بھی پہلے کردیتا ہے۔’’

(حیاتِ نور صفحہ 627)

جب دعا مانگوں تواس کوقبول کرلیاکر

حضرت خلیفۃ المسیح الاولؓ اپنی ایک جامع دعاکا تذکرہ فرماتے ہیں:۔ ‘‘میں نے کسی روایت کے ذریعہ سنا تھا کہ جب بیت اللہ نظرآئے تواس وقت کوئی ایک دعامانگ لو وہ ضرورہی قبول ہوجاتی ہے۔ میں علوم کا اس وقت ماہرتوتھاہی نہیں جوضعیف و قوی روایتوں میں امتیاز کرتا ۔میں نے یہ دعامانگی۔‘‘الٰہی میں تو ہر وقت محتاج ہوں اب میں کون سی دعامانگوں ۔ پس میں یہی دعامانگتاہوں کہ میں جب ضرورت کے وقت تجھ سے دعامانگوں تواس کو قبول کرلیاکر’’۔روایت کا حال تومحدثین نے کچھ ایسا ویسا ہی لکھاہے مگر میراتجربہ ہے کہ میری تویہ دعاقبول ہی ہوگئی۔ بڑے بڑے نیچریوں ، فلاسفروں ، دہریوں سے مباحثہ کا اتفاق ہوا اور ہمیشہ دعاکے ذریعہ مجھ کو کامیابی حاصل ہوئی اور ایمان میں بڑی ترقی ہوتی گئی۔’’

(مرقاۃ الیقین صفحہ111)

قلیل عرصہ میں مقطعات کاوسیع علم دیاگیا

حضرت خلیفۃ المسیح الاولؓ فرماتے ہیں: ‘‘دھرم پال نے جب ‘‘ترکِ اسلام’’کتاب لکھی تواس سے بہت پہلے مجھے ایک خواب نظرآیاتھا کہ اللہ تعالیٰ مولیٰ مجھ سے فرماتاہے کہ ‘‘ اگر کوئی شخص قرآن شریف کی کوئی آیت تجھ سے پوچھے اوروہ تجھ کونہ آتی ہو اورپوچھنے والا منکرقرآن ہوتوہم خود تم کواس آیت کے متعلق علم دیں گے’’۔ جب دھر م پال کی کتاب آئی اورخداتعالیٰ نے مجھ کواس کے جواب کی توفیق دی ۔حروف مقطعات کے متعلق اعتراض تک پہنچ کر ایک روز مغرب کی نماز میں دو سجدوں کے درمیان میں نے صرف اتنا ہی خیال کیاکہ مولا! یہ منکر قرآن توہے گو میرے سامنے نہیں۔ یہ مقطعات پرسوال کرتاہے۔ اسی وقت یعنی دوسجدوں کے درمیان قلیل عرصہ میں مجھ کو مقطعات کا وسیع علم دیاگیا۔جس کا ایک کرشمہ میں نے رسالہ نورالدین میں مقطعات کے جواب میں لکھاہے اور اس کو لکھ کر میں خود بھی حیران ہوگیا۔’’

(مرقاۃ الیقین صفحہ172-173)

حضور کی دعا سے مجھے تمغہ مل گیا ہے

حضرت شیخ فضل احمدصاحب بٹالوی ؓحضرت خلیفۃ المسیح الاولؓ کا واقعہ تحریرفرماتے ہیں کہ

‘‘ایک روز آپ(حضرت خلیفۃ المسیح الاولؓ)نے فرمایاکہ ایک احمدی فوجی انڈین آفیسر ہمارے پاس آئے اور کہنے لگے کہ حضور دعا فرمائیں کہ میں لڑائی میں بھی نہ جاؤں اور مجھے تمغہ بھی مل جائے۔ میں نے کہاکہ ہمیں توآپ کے قواعد کاعلم نہیں۔معلوم نہیں تمغہ کس طرح ملا کرتاہے۔ اس نے کہاکہ میڈل اسے ملتاہے جولڑائی میں جائے۔ میں نے کہاکہ پھر آپ کوبغیر لڑائی میں جانے کے کیونکر مل سکتاہے۔ وہ کہنے لگے کہ حضور دعا فرمائیں۔ ہم نے کہا کہ اچھا ہم دعاکریں گے۔ کچھ عرصہ کے بعد وہ آئے اور بتلایا کہ حضور کی دعاسے مجھے تمغہ مل گیاہے اور دریافت کرنے پربتلایا کہ میں baseمیں تھاکہ میرے نام حکم پہنچا کہ لڑائی کے میدان میں پہنچو۔ میں ڈرا مگر چل پڑا۔ ابھی تھوڑی دور ہی گیاتھا مگر وہ حد پارکرچکاتھا جس کے عبورکرنے پرایک فوجی افسر تمغہ کا حقدار متصور ہوتاہے کہ پھر حکم ملا کہ واپس چلے آؤ۔ صلح ہوگئی ہے اورلڑائی بندہے۔ اس طرح حضورکی دعا سے میں لڑائی پربھی نہیں گیا اورمجھے تمغہ بھی مل گیا۔’’

(اصحاب احمد جلد 3 صفحہ 94)

بارش بند ہونے کی دعا

محترم چودھری غلام محمد صاحب بی اے کابیان ہے کہ

‘‘1909ء کے موسم برسات میںایک دفعہ لگاتار آٹھ روز بارش ہوتی رہی جس سے قادیان کے بہت سے مکانات گر گئے۔ حضرت نواب محمد علی خان صاحب مرحوم نے قادیان سے باہر نئی کوٹھی تعمیر کی تھی وہ بھی گر گئی۔ آٹھویں یا نویں دن حضرت خلیفۃ المسیح اولؓ نے ظہر کی نماز کے بعد فرمایا کہ میں دعا کرتا ہوں آپ سب لوگ آمین کہیں۔ دعا کرنے کے بعد آپؓ نے فرمایا کہ میں نے آج وہ دعا کی ہے جو حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے ساری عمر میں صرف ایک دفعہ کی تھی۔ دعا کے وقت بارش بہت زور سے ہو رہی تھی ۔ اس کے بعد بارش بند ہو گئی اور عصر کی نماز کے وقت آسمان بالکل صاف تھا اور دھوپ نکلی ہوئی تھی۔’’

(حیات نور صفحہ 441، 440)

آج ہم دیکھتے ہیں کہ نورالدین کاخداکس طرح کھلاتا ہے

حضرت حکیم محمد صدیق صاحب کی روایت ہے کہ حضرت خلیفۃ المسیح الاولؓ فرمایا کرتے تھے کہ ‘‘ایک دفعہ تین ساتھیوں کے ساتھ ہم راستہ بھول گئے اور کہیں دور نکل گئے کوئی بستی نظر نہیں آتی تھی۔ میرے ساتھیوں کو بھوک او رپیاس نے سخت ستایا توان میں سے ایک نے کہانورالدین جو کہتاہے کہ میراخدامجھے کھلاتا پلاتا ہے آج ہم دیکھتے ہیں کہ کس طرح کھلاتاپلاتاہے۔ فرمایاکرتے تھے میں دعاکر نے لگا ۔ چنانچہ جب ہم آگے گئے توپیچھے سے زور کی آواز آئی۔ٹھہرو!ٹھہرو !جب دیکھا تو دو شتر سوار تیزی کے ساتھ آرہے تھے جب پاس آئے توانہوں نے کہاہم شکاری ہیں ۔ ہرن کا شکا رکیاتھا اورخوب پکایا گھر سے پراٹھے لائے تھے۔ ہم سیر ہوچکے ہیں او ر کھانا بھی بہت ہے آپ کھالیں چنانچہ ہم سب نے خوب سیر ہوکر کھایا۔ ساتھیوں کو یقین ہوگیاکہ نورالدین سچ کہتاتھا۔’’ فرمایاکرتے تھے کہ ‘‘اللہ تعالیٰ کا نورالدین کے ساتھ وعدہ ہے کہ میں تیری ہر ضرورت کو پور ا کروں گاکیاکوئی بادشاہ بھی یہ دعویٰ کر سکتا ہے ۔’’

(حیات نور صفحہ167)

اپنے اصل خدا کی طرف توجہ کرتے ہیں

محترم چوہدری غلام محمد صاحب حضرت خلیفۃ المسیح الاولؓ کے ایک شاگر د کی روایت بیان کرتے ہیں کہ اس نے بتایا: ‘‘ایک دفعہ حضرت مولوی صاحب‘‘ حضرت خلیفۃ المسیح الاولؓ’’کشمیرسے راولپنڈی کے راستہ سے واپس آرہے تھے کہ دوران سفر میں روپیہ ختم ہوگیا۔میں نے اس بارہ میں عرض کیا۔ آپ نے فرمایا۔ یہ گھوڑی چار پانچ صد روپیہ میں بیچ دیں گے فوراً بِک جائے گی اور خرچ کے لیے روپیہ کافی ہو جائے گا۔آپ نے وہ گھوڑی سات سور وپیہ میں خریدی تھی۔ تھوڑی دور ہی گئے کہ گھوڑی کو درد قولنج ہوا اور راولپنڈی پہنچ کر وہ مر گئی۔ ٹانگے والوں کو کرایہ دیناتھا۔ آپ ٹہل رہے تھے ۔ میں نے عرض کی۔ ٹانگہ والے کرایہ طلب کرتے ہیں۔ آپ نے نہایت رنج کے لہجہ میں فرمایاکہ نورالدین کا خدا تووہ مراپڑاہے۔ اب اپنے اصل خدا کی طرف توجہ کرتے ہیں وہی کارساز ہے۔ تھوڑی دیر کے بعدایک سکھ اپنے بوڑھے بیمار باپ کو لے کر حاضر ہوا۔ آپ نے اسے دیکھ کر نسخہ لکھا اس نے ہمیں اتنی رقم دے دی کہ جموں تک کے اخراجات کے لیے کافی ہوگئی۔ ’’

(حیات نور صفحہ168-169)

موسیٰ کا عصا

حضرت مولانا غلام رسول صاحب راجیکی تحریرفرماتے ہیں:

‘‘سیدنا حضرت خلیفۃ المسیح الاول رضی اللہ عنہ و ارضاہ کے عہد سعادت میں خاکسار ایک تبلیغی وفد میں بمعیت حضرت مفتی محمد صادق صاحب، حضرت حافظ روشن علی صاحبؓ اور خواجہ کمال الدین صاحب مرحوم بنارس وغیرہ مقامات میں گیا۔ جب وہاں سے ہماری واپسی ہونے لگی توکسی دوست نے ایک نہایت خوبصورت عصا مجھے تحفۃً دیا۔ جب ہم قادیان پہنچے توحضرت خلیفۃ المسیح الاولؓ کے حضور حاضرہوئے اس وقت وہ عصا بھی میرے ہاتھ میں تھا۔ سیدناحضرت خلیفۃ المسیح اوّلؓ نے وہ عصا اپنے ہاتھ میں لے کر فرمایا کہ یہ عصا آپ کا ہے۔ میں نے عرض کیاکہ حضوریہ آپ کاہی ہے۔حضو رنے پھر دریافت فرمایا کہ کیا یہ عصاآپ کا ہے؟ پھر میں نے عرض کیاکہ یہ حضو رکاہی ہے۔ کچھ دیر بعد حضور نے تیسری بار فرمایاکہ کیایہ عصا آپ کاہے؟میں نے جواباًپھر پہلے فقرات کو دہر ا دیا او راس خیال سے کہ حضور کو یہ عصاپسند آیاہے میں نے عرض کیاکہ خاکسار کی یہ خوش بختی ہوگی اگر حضور اس کو قبول فرماکر اپنے استعمال میں لائیں۔ حضور نے ازراہ نوازش اس کو قبول فرمایا اوران الفاظ میں خاکسار کو دعادی کہ ‘اللہ تعالیٰ آپ کو اس کے عوض میں موسیٰ کا عصاعطافرمائے’۔چنانچہ ان دعائیہ الفاظ کی برکات وفیوض کو میں نے مختلف مواقع اور مواطن میں مشاہدہ کیا۔ ’’

(حیات قدسی صفحہ192)

سب جنتی ہیں

‘‘ایک مرتبہ حضرت خلیفۃ المسیح اوّل ؓنے درس کے بعد فرمایا کہ آج کی مجلس میں جس قدر احباب حاضر ہیں مجھے بذریعہ کشف اللہ تعالیٰ نے بتایا ہے کہ سب کے سب جنتی ہیں۔’’

(حیات نور صفحہ 551)

حضرت خلیفۃ المسیح الثانی مصلح موعود رضی اللہ عنہ

حضرت خلیفۃ المسیح الثانی مصلح موعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:

‘‘اللہ تعالیٰ جس کسی کو منصب خلافت پر سرفراز کرتا ہے تو اس کی دعاؤں کی قبولیت بڑھا دیتا ہے کیونکہ اگر اس کی دعائیں قبول نہ ہوں تو پھر اس کے اپنے انتخاب کی ہتک ہوتی ہے۔ تم میرے لیے دعا کرو کہ مجھے تمہارے لیے زیادہ دعا کی توفیق ملے اور اللہ تعالیٰ ہماری ہر قسم کی سستی دور کر کے چستی پیدا کرے۔ میں جو دعا کروں گا وہ انشاء اللہ فرداً فرداً ہر شخص کی دعا سے زیادہ طاقت رکھے گی۔’’

(منصبِ خلافت ۔ انوار العلوم جلد 2 صفحہ49)

معجزانہ رنگ میں قرض اتر گیا

حضرت مولانا غلام رسول راجیکی صاحب ‘‘حیات قدسی’’ میں تحریر فرماتے ہیں:

میں نے قادیان میں اپنا ایک مکان بنوایا اور مکان بنوانے کے لیے بعض احباب سے قرض لیا تو میں پریشان تھا اور چاہتا تھا کہ یہ قرض جلد اتر جائے۔ چنانچہ میں نے رمضان المبارک کے مہینہ میں خصوصیت سے قرض کی ادائیگی کی بابت دعا شروع کی جب دعا کرتے آٹھواں دن ہوا تو اللہ تعالیٰ میرے ساتھ ہم کلام ہوا اور اس پیارے محبوب مولا نے مجھ سے ان الفاظ میں کلام فرمایا۔ اگر تو چاہتا ہے کہ تیرا قرضہ جلد اتر جائے۔تو خلیفۃ المسیح کی دعاؤں کو بھی شامل کرالے۔اس کے بعد جلد معجزانہ رنگ میں یہ قرض اتر گیا۔

(ماخوذ از حیات قدسی صفحہ268-269)

بچہ اس موذی بیماری سے تندرست ہو گیا

محترمہ سعدیہ خانم صاحبہ لکھتی ہیں:

‘‘میرا لڑکا روزِ پیدائش سے ہی بیمار اور کمزور رہنے لگا تھا۔ یہ 1955ء کی بات ہے صرف بیس دن کا تھا کہ اسے نمونیا ہوا اور پھر سال ڈیڑھ سال کے اندر چار دفعہ لگا تار اس کا حملہ ہوا۔علاج معالجہ میں کمی نہ تھی لیکن آئے دن اس کی بیماری سے سخت پریشانی رہتی تھی۔ایک دن عصر کے وقت جبکہ حضور نے نماز پڑھانے کے لیے آنا تھا میرے میاں بچے کو لے گئے۔جب حضور قصر خلافت سے باہر تشریف لائے تو میرے میاں نے آگے بڑھ کر عرض کیا۔حضور دعا فرما دیں۔اس پر حضور نے ازراہ شفقت بچے کی کمر پر ہاتھ پھیرا اور دعا فرمائی اور پھر بفضلہ تعالیٰ بچہ اس موذی بیماری سے تندرست ہو گیا اور آج تک اس کے دوبارہ حملہ سے محفوظ ہے۔فالحمدللہ۔’’

(ماہنامہ مصباح ستمبر1962ء بحوالہ الفضل 24 مئی 2010ء صفحہ 5)

میرے جیسے مردہ کی مانند مریض کو شفا یاب کر دیا

مکرم ملک حبیب اللہ صاحب ریٹائرڈ ڈپٹی انسپکٹر آف سکولز لکھتے ہیں:

‘‘شجاع آباد کے قیام کے دوران مجھے ایک ایسا مرض لاحق ہو گیا کہ جس نے مجھے بالکل نڈھال اور مردہ کی مانند کر دیا۔تھوڑے تھوڑے دنوں کے بعد پیٹ میں اتنا شدید درد اٹھتا کہ میں بے ہوش ہو جاتا۔تقریباً دو سال میں نے ہر قسم کے علاج کیے لیکن حالت خراب ہو گئی۔ آخر تنگ آکر میں نے امرتسر کے سرکاری ہسپتال میں داخلہ لے لیا۔ وہاں ٹیسٹ ہوئے اور یہ فیصلہ ہوا کہ میرے پِتّہ اور اپنڈیکس ہر دو کا آپریشن ہو گا۔ اس سے مجھے گھبراہٹ پیدا ہوئی اور میں ایک دن بلا اجازت ہسپتال سے چلا گیا اور قادیان پہنچا اور حضور‘‘ حضرت خلیفۃ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ ’’کی خدمت میں حاضر ہو کر تمام ماجرا عرض کیا حضورؓ‘‘ حضرت خلیفۃ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ ’’نے توجہ سے سن کر فرمایا کہ آپ کو اپنڈے سائٹس تو قطعاً نہیں ہاں پِتّہ میں نقص ہے آپ علاج کرائیں میں دعا کروں گا انشاء اللہ آرام آجائے گا۔ اس کے بعد مجھے یقین ہو گیا کہ میں تندرست ہو جاؤں گا۔چنانچہ میں اپنی ملازمت پر واپس چلا آیا اور ملتان کے ایک حکیم صاحب سے معمولی ادویات لے کراستعمال کرنا شروع کیں۔ تین چار ماہ کے بعد بیماری کا نام و نشان بھی نہ رہا۔ حالا نکہ اس سے قبل تقریباً دو سال یونانی اور انگریزی ادویات استعمال کر چکاتھا۔ پس یہ صر ف حضورؓ کی دعا کا معجزانہ اثر تھا جس نے میرے جیسے مردہ کی مانند مریض کو شفا یاب کر دیا۔ اس کے بعد خدا تعالیٰ کے فضل سے آج تک مجھے پیٹ کی تکلیف نہیں ہوئی۔ حالانکہ غذا کے معاملہ میں سخت بد پرہیزی کرتا رہا ہوں۔’’

(روزنامہ الفضل20مارچ1966ء صفحہ 5)

نئی زندگی حاصل ہوگئی

مکر سیٹھ عبد اللہ بھائی اللہ دین صاحب لکھتے ہیں:

‘‘1918ء میں میں نے اپنے لڑکے علی محمد صاحب اور سیٹھ اللہ دین ابراہیم بھائی نے اپنے لڑکے فاضل بھائی کو تعلیم کے لیے قادیان روانہ کیا۔ علی محمد نے1920ء میں میٹرک پاس کرلیا ان کو لندن جانا تھا۔ دونوں لڑکے مکان میں واپس آنے کی تیاری کر رہے تھے کہ یکایک فاضل بھائی کوTYPHOIDبخار ہو گیا ۔ نور ہاسپٹل کے معزز ڈاکٹر جناب حشمت اللہ صاحب اور حضرت خلیفہ رشید الدین صاحب رضی اللہ عنہ نے جو کچھ ان سے ہو سکا سب کچھ کیا طبیعت درست بھی ہو گئی مگر بدپرہیزی کے سبب پھر ایسی بگڑی کہ زندگی کی کوئی امید نہ رہی۔ جب یہ خبر حضرت امیر المومنین‘‘ حضرت خلیفۃ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ ’’کو پہنچی تو حضور‘‘ حضرت خلیفۃ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ ’’خود بورڈنگ میں تشریف لائے اور بہت دیر تک دعا فرمائی۔ اس کے بعد طبیعت معجزانہ طور پر سدھر نے لگی اور خدا تعالیٰ کے فضل و کرم سے فاضل بھائی کو نئی زندگی حاصل ہو گئی۔ یقیناً حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ جو فرمایاکہ موت نہیں ٹلتی مگر دعا سے ۔یہ حقیقت ہم نے صاف طور پر اپنی نظر سے دیکھ لی۔الحمدللہ’’

(الحکم دسمبر1939ء جوبلی نمبر صفحہ 37)

حضرت خلیفۃ المسیح الثالث رحمہ اللہ تعالیٰ

اپنڈیکس کی تکلیف ہرگز نہ ہو گی

مکرم مولانا سلطان محمود انور صاحب لکھتے ہیں:

‘‘1965ء میں جبکہ حضور‘حضرت خلیفۃ المسیح الثالث ’رحمہ اللہ تعالیٰ مسند خلافت پہ متمکن ہوچکے تھے۔ خاکسار ان ایام میں منڈی بہاؤ الدین میں بطور مربی متعین تھا۔ مجھے ایک مرتبہ پیٹ میں دائیں جانب درد سی رہنے لگی۔ ایک ڈاکٹر کے پاس مشورہ کے لیے گیا تو ڈاکٹر صاحب نے پوری طرح معائنہ کے بعد دوبارہ آنے کے لیے کہا جب دوبارہ حاضر ہوا تو وہاں ایک اور ڈاکٹر بھی میرے معائنہ کے لیے موجود تھے۔ چنانچہ اس مرتبہ دونوں ڈاکٹروں نے مل کر معائنہ کے بعد یہ رائے قائم کی کہ اپنڈیکس بڑھنے کا قوی امکان ہے اور اس صورت میں آپریشن کی ضرورت ہو گی۔ خاکسار کو یہ سن کر تشویش ہوئی اور اگلے ہی روز خاکسار نے ربوہ پہنچ کر حضور‘حضرت خلیفۃ المسیح الثالث’رحمہ اللہ تعالیٰ کی خدمت میں حاضری دی، ساری کیفیت بیان کر کے اور ڈاکٹروں کی رائے بتا کر دعا کی عاجزانہ درخواست کی۔حضور‘‘حضرت خلیفۃ المسیح الثالث رحمہ اللہ تعالیٰ ’’نے نہایت توجہ سے ساری باتیں سن کر خاکسار کو تسلی دی کہ انشاء اللہ میں دعا کروں گا اور ڈاکٹروں کی رائے کے مطابق اپنڈیکس کی تکلیف ہرگز نہ ہو گی آپ فکر نہ کریں۔ چنانچہ نہ صرف خاکسار کی ساری فکر جاتی رہی بلکہ اگر کوئی تکلیف پردۂ غیب میں مقدر بھی تھی تو میرے پیارے آقا‘حضرت خلیفۃ المسیح الثالث رحمہ اللہ تعالیٰ’کی دعاؤں کے طفیل اللہ تعالیٰ نے فضل فرمایا اور ڈاکٹروں کی رائے نے واقعاتی رنگ اختیار نہیں کیا۔ فالحمدللہ علیٰ ذلک۔’’

(ماہنامہ خالد سیدنا ناصر نمبر۔صفحہ238.237۔اپریل۔مئی1983ء)

جونہی دعا ختم کی ہوش آ گئی

مکرم سعید احمد سعید صاحب چاہ بوہڑ والا ملتان لکھتے ہیں:

‘‘خاکسار1957ء تا1959ء تعلیم الاسلام کالج ربوہ میں زیرِتعلیم رہا ہے ان دنوں خاکسار کو اعصابی دورے پڑتے تھے۔ بعض لوگ اس کو مرگی کا دورہ بھی کہتے تھے۔ مہینہ میں کئی بار دورہ پڑتا تھا اور اکثر اوقات کئی کئی گھنٹے بے ہوشی رہتی تھا۔ حضورؒ‘‘حضرت خلیفۃ المسیح الثالث رحمہ اللہ تعالیٰ ’’اس وقت کالج کے پرنسپل تھے۔ ایک دن خاکسار کو بہت ہی سخت قسم کا دورہ پڑا۔ کافی دیر تک ہوش نہیں آرہا تھا۔ سارا فضل عمر ہوسٹل پریشان تھا آخر کار حضور‘‘حضرت خلیفۃ المسیح الثالث رحمہ اللہ تعالیٰ ’’کو کوٹھی پر اطلاع دی گئی کہ سعید احمد سعید ہوسٹل میں دورہ پڑنے سے بے ہوش ہو گیا ہے۔حضور‘‘حضرت خلیفۃ المسیح الثالث رحمہ اللہ تعالیٰ ’’اسی وقت ہوسٹل میں تشریف لائے اور میری چارپائی پر تشریف فرما ہوئے پھر کھڑے ہو کر اجتماعی لمبی دعا کی۔ جونہی حضورؒ‘‘حضرت خلیفۃ المسیح الثالث رحمہ اللہ تعالیٰ’’نے دعا ختم کی خاکسار کو ہو ش آگیا۔ آنکھیں کھولیں تو عجیب نظارہ دیکھا کہ حضور محبت اور شفقت سے میرے پاؤں اور ٹانگیں دبا رہے تھے۔ میں نے حضورؒ‘‘حضرت خلیفۃ المسیح الثالث رحمہ اللہ تعالیٰ’’سے درخواست کی کہ حضور مجھے شرمندہ نہ کریں، آپ آرام فرمائیں اورگھر تشریف لے جائیں۔ حضور فوری طور پر مسکرائے اور فرمایا: ‘میں نہیں جاتا’آج تم سگریٹ پی لو اجازت ہے۔ تم نے سگریٹ پینی ہو گی۔ خاکسار بہت شرمندہ ہوا اور حضورؒ‘‘ حضرت خلیفۃ المسیح الثالث رحمہ اللہ تعالیٰ ’’کی دعاؤں کے طفیل سگریٹ نوشی ترک کر دی اور اب اللہ کے فضل سے وہ بیماری ختم ہو گئی ہے۔’’

(ماہنامہ خالد سید نا ناصر نمبر اپریل ،مئی1983ء۔صفحہ292)

قدرتِ ثانیہ کے تیسرے مظہر حضرت حافظ مرزا ناصر احمد خلیفۃ المسیح الثالث رحمہ اللہ تعالیٰ

بارہ سال کے بعد نرینہ اولاد کا ملنا

میاں محمد اسلم صاحب پتو کی لکھتے ہیں:

‘‘خاکسار11؍نومبر1963ءکواحمدی ہوا اور 9 ؍اپریل1965ء کو خاکسار کی شادی ہوئی۔ بارہ سال تک خاکسار کے ہاں کوئی اولاد نہ ہوئی تمام رشتہ دار غیر احمدی تھے اور مخالفت کرتے تھے۔ وہ تمام اور گاؤں والے بھی یہی کہتے کہ چونکہ یہ قادیانی ہو گیا ہے لہٰذایہ ابتر رہے گا (نعوذبا للہ)۔ خاکسار نے اس تمام عرصہ میں ہر قسم کا علاج کروایا لیکن اولاد نہ ہوئی۔ دوسری طرف میری بیوی بھی رشتہ داروں کے طعنے سن کر میری دوسری شادی کرنے پر رضا مند ہو گئی۔

اس اثنا میں خاکسار نے حضرت خلیفۃ المسیح الثالثؒ کی خدمت میں تمام حالات لکھ کر درخواست دعا کی کہ خدا تعالیٰ اولاد سے نوازے۔ حضورنے خط کے جواب میں فرمایا کہ اللہ تعالیٰ آپ کو کبھی ضائع نہیں کرے گا اور ضرور نرینہ اولاد سے نوازے گا۔ حضور کی اس دعا کی برکت سے اب میرے چار لڑکے ہیں۔ تمام لوگ حیران ہیں کہ یہ اولاد کس طرح ہو گئی حالانکہ لیڈی ڈاکٹروں نے کہا تھا کہ اس عورت سے اولاد ہونے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ خاکسار اس کے جواب میں اپنے غیراحمدی رشتہ داروں کو یہی کہتا ہے کہ یہ حضرت مسیح موعودؑ کی صداقت کا زندہ نشان ہے جو کہ اللہ تعالیٰ نے خلیفۃ المسیح الثالثؒ کی دعا کی برکت سے دیا۔’’

( ماہنامہ خالد سید نا ناصر نمبر اپریل ،مئی1983ء۔صفحہ293,292)

وہ ٹھیک ہو جائے گی

چودھری محمد سعید کلیم دارالعلوم غربی ربوہ لکھتے ہیں:

‘‘میری بہو جو آج کل جرمنی میں ہے اس کو پیٹ میں درد ہوتا تھا چنانچہ وہاں کے ڈاکٹروں نے مشورہ دیا کہ آپریشن کراؤ۔ میں نے یہ خط حضور‘‘حضرت خلیفۃ المسیح الثالث رحمہ اللہ تعالیٰ’’کو پیش کیا اور عرض کی کہ حضوردعا فرماویں کہ میری بہو بغیر آپریشن کے ٹھیک ہو جائے تو آپ ؒ نے فرمایا: ‘‘اس کو لکھ دو کہ آپریشن نہ کرائے میں دعا کروں گا وہ ٹھیک ہو جائے گی۔’’ چنانچہ میں نے حضورؒ کے الفاظ اس کو لکھ دیے اور وہ بغیر آپریشن کے ٹھیک ہو گئی اور اب تک ٹھیک ہے۔الحمدللہ۔’’

(ماہنامہ خالد سید نا ناصر نمبر اپریل ،مئی1983ء۔صفحہ291)

حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ

حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :

‘‘جب بھی کوئی مشکل درپیش ہو تو آپ خدا کے حضور دعا میں لگ جائیں اگر آپ دعا کرنے کو اپنی عادت بنا لیں تو ہر مشکل کے وقت آپ کو حیران کن طورپرخدا کی مدد ملے گی اور یہ وہ بات ہے جو میری ساری عمر کا تجربہ ہے اب جبکہ میں بڑھاپے کی عمر کو پہنچ گیا ہوں تو میں یہ بتاتا ہوں کہ جب بھی ضرورت پڑی اور میں نے خدا کے حضور دعا کی تو میں کبھی ناکام نہیں ہوا۔ہمیشہ اللہ تعالیٰ نے میری دعا قبول کی۔’’
(الفضل 5اگست1999ء بحوالہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور خلفائے کرام کے تعلق باللہ کے واقعات صفحہ 93)

آنکھوں کا نو ر واپس آگیا

حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ نے خطبہ جمعہ فرمودہ 25جولائی1986ءکو قبولیت دعا کے نتیجے میں ایک دوست کی آنکھوں کی معجزانہ شفا یابی کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا:

‘‘ڈھاکہ کے ایک احمدی دوست اپنے ایک زیر ِتبلیغ دوست کے متعلق جو احمدی نہیں یہ لکھتے ہیں کہ میں ان کو سلسلے کا لٹریچر بھی دیتا رہا اور کیسٹس بھی سناتا رہا جس سے رفتہ رفتہ ان کا دل بدلنے لگا۔ اور جماعت کے لٹریچر سے ان کو وابستگی پیدا ہو گئی اور وہ شوق سے مانگ کر پڑھنے لگے۔ اس دوران ان کی آنکھوں کو ایک ایسی بیماری لاحق ہو گئی کہ ڈاکٹروں نے یہ کہہ دیا کہ تمہاری آنکھوں کا نور جاتا رہے گا اور جہاں تک دنیاوی علم کا تعلق ہے کوئی ذریعہ ہم نہیں پاتے کہ تمہاری آنکھوں کی بصارت کو بچا سکیں۔ اس کا حال جب ان کے غیر احمدی دوستوں کو معلوم ہوا تو انہوں نے طعن وتشنیع شروع کر دی اور یہ کہنے لگے اور پڑھو احمدیت کی کتابیں۔یہ احمدیت کی کتابیں پڑھ کر تمہاری آنکھوں میں جو جہنم داخل ہو رہی ہے اس نے تمہارے نور کو خاکستر کر دیا ہے۔ یہ اسی کی سزا ہے جوتمہیں مل رہی ہے۔ انہوں نے اس کا ذکر بڑی بے قراری سے اپنے دوست سے کیا۔ انہوں نے کہا تم بالکل مطمئن رہو تم بھی دعائیں کرو میں بھی دعائیں کرتا ہوں اور اپنے امام کو بھی میں دعا کے لیے لکھتا ہوں اور پھر دیکھو کہ اللہ تعالیٰ کس طرح تم پر فضل نازل فرماتا ہے۔چنانچہ کہتے ہیں کہ اس واقعہ کے بعد چند دن کے اندر اندر ان کی آنکھوں کی کایا پلٹنی شروع ہوئی اور دیکھتے دیکھتے سب نور واپس آگیا۔جب دوسری مرتبہ وہ ڈاکٹر کو دکھانے گئے تو انہوں نے کہا اس خطرناک بیماری کا کوئی بھی نشان میں باقی نہیں دیکھتا۔’’

(خطباتِ طاہر جلد 5 صفحہ 524 خطبہ جمعہ 25 جولائی 1986ء)

قدرتِ ثانیہ کے چوتھے مظہر حضرت مرزا طاہر احمد خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ

لاعلاج مریض روبہ صحت ہو نے لگا

حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ نے خطبہ جمعہ فرمودہ 25جولائی1986ء میں فرمایا:

‘‘ایران سے ڈاکٹر فاطمہ زہرہ لکھتی ہیں کہ میرا اکلوتا بیٹا دائیں ٹانگ کی کمزوری کی وجہ سے بیما ر ہوا اور دن بدن حالت بگڑنے لگی یہاں تک کہ وہ لنگڑا کے چلنے لگا اور ماہر امراض کو دکھایا گیا لیکن کوئی تشخیص نہ ہو سکی اور انہوں نے ا س کی صحت کے متعلق مایوسی کا اظہار کیا۔ وہ کہتی ہیں کہ مجھے اچانک دعا کا خیال آیا اور اس خیال کے ساتھ میں نے خود بھی دعا کی اور آپ کو بھی دعا کے لیے خط لکھا اور اللہ تعالیٰ کی شان ہے کہ وہ مریض جسے ڈاکٹروں نے لاعلاج قرار دے دیا تھا اسی دن سے رُوبصحت ہونے لگا اور باوجود اس کے کہ ڈاکٹروں کو اس کی بیماری کی کچھ سمجھ نہیں آرہی تھی اس لیے علاج سے بھی معذور تھے بغیر علاج کے اس دن سے دیکھتے دیکھتے اس کی حالت بدلنے لگی اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے اب بوقت تحریر وہ بالکل صحیح ہے۔’’

(خطباتِ طاہر جلد 5 صفحہ 526 خطبہ جمعہ 25 جولائی 1986ء)

فصلوں میں غیر معمولی برکت

مکرم منصور احمد صاحب لطیف آباد حیدر آباد سے تحریر کرتے ہیں کہ

‘‘مکرم میجرعبدالحمید شرما صاحب سابق نائب ناظم وقف جدید میرے بہنوئی مکرم چودھری محمود احمد صاحب آف نو کوٹ کے پاس تشریف لائے اور کہا کہ وقف جدید کی دو گھوڑیاں (جو بہت کمزور تھیں)آپ نے اپنے پاس رکھ لیں۔ برادرم چوہدری صاحب نے نہ صرف گھوڑیاں رکھنے کی حامی بھری بلکہ ملازمین کو ہدایت کی کہ ان کو کھلا فصلوں میں چھوڑ دیا جائے اس پر مزارعین نے اعتراض کیاکہ آپ اپنے حصے کی تو قربانی دے رہے ہیں ہمارا جو نقصان ہوگااس کا کون ذمہ دار ہے۔آپ نے جواباً کہا کہ جن فصلوں میں گھوڑیاں نہیں چھوڑی گئیں میں ان کی پیداوار کے لحاظ سے آپ کا حصہ دوں گا۔اللہ تعالیٰ کا کرنا ایسا ہوا کہ جن زمینوں میں گھوڑیاں چھوڑی گئیں ان کی فی ایکڑ پیداوار50من رہی اور جن میں نہیں چھوڑی گئیں ان کی اوسط پیداوار45من فی ایکڑ رہی۔اس دوران گھوڑیاں بہت صحت مند ہو گئیں۔میجر عبدالحمید شرما صاحب دوبارہ تشریف لائے اور گھوڑیاں دیکھ کر بہت خوش ہوئے انہوں نے یہ خوش کن اطلاع حضور پر نور کی خدمت میں بھجوائی تو حضورِ انور کی طرف سے جواب موصول ہوا کہ جن کھیتوں سے ان گھوڑیوں نے گھاس کھائی ہے اللہ کرے وہ کھیت سونا اگلیں۔برادرم چوہدری صاحب بتاتے ہیں کہ اس کے بعد میری فصلوں میں غیر معمولی برکت عطا ہوئی اور اب تک یہ سلسلہ جاری ہے۔’’

(روزنامہ الفضل سیدنا طاہر نمبر27 دسمبر2003ء صفحہ 53)

یہ قبولیت کا نشان تھا

‘‘ڈاکٹر سید برکات احمد صاحب انڈین فارن سروس میں رہے، کئی کتب لکھیں، حضورِ انور‘‘حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ ’’کی کتا ب ‘مذہب کے نام پر خون’کا انگریزی ترجمہ کیا۔ آپ مثانہ کے کینسر سے بیمار تھے جس کا امریکا میں آٹھ گھنٹے کا ناکام آپریشن ہوا اور ڈاکٹروں نے چار سے چھ ہفتے کی زندگی بتائی۔ حضورِ انور کی خدمت میں دعا کی درخواست کی تو جواب آیا: ‘‘دعا کی تحریک پر مشتمل آپ کے پر سوز و گداز خط نے خوب ہی اثر دکھایا اور آپ کے لیے نہایت عاجزانہ فقیرانہ دعا کی توفیق ملی اور ایک وقت اس دعا کے دوران ایسا آیا کہ میرے جسم پر لرزہ طاری ہو گیا،میں رحمت باری سے امید لگائے بیٹھا ہوں کہ یہ قبولیت کا نشان تھا’’۔ چنانچہ حضور کی دعا کی قبولیت کے نتیجہ میں خدا کے فضل سے انہوں نے چار سال تک فعال علمی اور تحقیقی زندگی گزاری۔ ڈاکٹر ان کی زندگی اور فعال علمی و تحقیقی زندگی پر حیرت زدہ تھے۔اور برکات صاحب بتاتے کہ ہمارے روحانی پیشوا کی دعا خدا تعالیٰ نے سنی تو ڈاکٹر سر ہلا کر کہتے ہاں معجزہ ہے، معجزہ ہے۔’’

(الفضل 9 دسمبر2000ء بحوالہ روز نامہ الفضل سیدنا طاہر نمبر 27 دسمبر 2003ء صفحہ 53)

کبھی آنکھیں خراب نہ ہوئیں

مکرمہ امۃ القدوس شوکت صاحبہ بنت عبدالستار خان صاحب تحریر کرتی ہیں کہ ‘‘پاکستان میں گرمی کی وجہ سے میری آنکھیں ہر وقت خراب رہتی تھیں۔ حضور کو دعا کے لیے خط لکھا آپ نے دعا کی اور فرمایا انشاء اللہ ٹھیک ہو جائیں گی۔اس وقت کے بعد کبھی میری آنکھیں خراب نہ ہوئیں۔’’

(روزنامہ الفضل 31 مئی 2003ء صفحہ 3)

یہ جرمن نوجوان ضرور جیتے گا

جرمنی میں ایک سوال و جواب کی مجلس کے دوران حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
‘‘میں لنڈن ٹی وی پر جرمن کھلاڑی کو کھیلتے ہوئے دیکھ رہا تھا وہ کھیل رہا تھا تو میں نے دعا کی کہ اے خدا اسے جیت عطا فرما۔ میں نے اسی وقت اپنے گھر والوں کو کہہ دیا کہ یہ جرمن نوجوان ضرور جیتے گا کیونکہ مجھے قبولیت دعا کا یقین ہو گیا تھا۔ چنانچہ خدا کے فضل سے یہ جرمن کھلاڑی جیت گیا۔آپ لوگ شاید دعا کی حقیقت کو پوری طرح نہ سمجھ سکیں لیکن یہ حقیقت ہے کہ یہ قبولیت دعا کا معجزہ تھا۔اور اس سے میری جرمن قوم کے ساتھ دلی وابستگی کا پتہ چلتا ہے کیونکہ یہ وہ قوم ہے جس نے ہمارے نوجوانوں کے ساتھ احسان کا سلوک کیا ہے۔’’

(ضمیمہ ماہنامہ انصار اللہ ربوہ دسمبر1985ء بحوالہ روزنامہ الفضل سیدنا طاہرنمبر27دسمبر 2003ء صفحہ 55)

حضرت خلیفۃ المسیح الخامس اید ہ اللہ بنصرہ العزیز

ہمیشہ اس کے آستانہ پر پڑے رہیں

حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز احباب جماعت کو دعا کی تلقین کرتے ہوئے فرماتے ہیں:

‘‘یاد رکھیں کہ وہ سچے وعدوں والا خدا ہے۔ وہ آج بھی اپنے پیارے مسیح کی اس پیاری جماعت پر ہاتھ رکھے ہوئے ہے۔ وہ ہمیں کبھی نہیں چھوڑے گا اور کبھی نہیں چھوڑے گا اور کبھی نہیں چھوڑے گا۔

وہ آج بھی اپنے مسیح سے کیے ہوئے وعدوں کو اسی طرح پورا کر رہا ہے جس طرح وہ پہلی خلافتوں میں کرتا رہا ہے۔وہ آج بھی اسی طرح اپنی رحمتوں اور فضلوں سے نواز رہا ہے۔ جس طرح پہلے وہ نوازتا رہا ہے اور انشاء اللہ نوازتا رہے گا …… پس دعا ئیں کرتے ہوئے اور اس کی طرف جھکتے ہوئے اور اس کا فضل مانگتے ہوئے ہمیشہ اس کے آستانہ پر پڑے رہیں اور اس مضبوط کڑے کو ہاتھ ڈالے رکھیں تو پھر کوئی بھی آپ کا بال بھی بیکا نہیں کرسکتا۔ اللہ تعالیٰ سب کو اس کی توفیق عطا فرمائے۔ ’’

(خطبات مسرور جلد 2 صفحہ 354)

قدرتِ ثانیہ کے پانچویں مظہر حضرت مرزا مسرور احمد خلیفۃ المسیح الخامس ایّدہ اللہ تعالیٰ الودود بروح القدس

فکر نہ کریں اللہ تعالیٰ فضل فرمائے گا

‘‘4مئی 2008ء جمعرات کا دن تھا۔ حضورِ انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز اپنے فارایسٹ ممالک کے دوران ناندی فجی میں تھے۔ رات قریباً اڑھائی بجے کا وقت تھا کہ ربوہ ،لندن اور دنیا کے مختلف ممالک سے فون آنے شروع ہوگئے کہ اس وقت ٹی وی پر جو خبریں آرہی ہیں ان کے مطابق ایک بہت بڑا سونامی طوفان فجی کے ساتھ والے جزائر TONGAمیں آیا ہے اور یہ طوفان طاقت کے لحاظ سے انڈونیشیا والے سونامی سے بڑاہے جس نے لاکھوںلوگوں کو غرق کردیا تھا۔ اور دنیا کے کئی ممالک میں تباہی مچائی تھی ۔جب TVآن کیا تو یہ خبریں آ رہی تھیں کہ یہ سونامی مسلسل اپنی شدت اور طاقت میں بڑھ رہاہے اور صبح کے وقت ناندی فجی کا سارا علاقہ غرق کردے گا۔ صبح ساڑھے چار بجے جب حضورِ انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نماز فجر کی ادائیگی کے لیے تشریف لائے تو حضورِ انور کی خدمت میں اس طوفان کے بارے میں رپورٹ پیش ہوئی اور جو پیغامات خیریت دریافت کرنے کے لیے فون پر موصول ہورہے تھے ان کے متعلق بتایا گیا ۔ حضورِ انور نے نماز فجر پڑھائی اور بڑے لمبے سجدے کیے۔ اور خدا کے حضور مناجات کیں۔ نماز سے فارغ ہوکر مسیح کے خلیفہ نے احباب جماعت کو مخاطب ہوکر فرمایا کہ فکر نہ کریں اللہ تعالیٰ فضل فرمائے گا کچھ نہیں ہوگا۔

اس کے بعد حضورِ انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز واپس تشریف لے آئے۔ واپس آکر جب ہم نے TVآن کیا توTVپر یہ خبریں آنا شروع ہوگئیں کہ اس سونامی کا زور ٹوٹ رہا ہے اور آہستہ آہستہ اس کی شدت ختم ہورہی ہے۔ پھر قریباً دو اڑھائی گھنٹے کے بعد یہ خبریں آگئیں کہ اس طوفان کا وجود ہی مٹ گیا ہے۔پس اس دنیا نے عجیب نظارہ دیکھا کہ وہ سونامی جس نے اگلے چند گھنٹوں میں لاکھوں لوگوں کو غرق کرتے ہوئے سارے علاقہ کو صفحہ ہستی سے مٹا دینا تھا خلیفۂ وقت کی دعا سے چند گھنٹوں میں خود اس کا وجود مٹ گیا۔ اس روز فجی کے اخبارات نے یہ خبریں لگائیں کہ سونامی کا ٹل جانا کسی معجزے سے کم نہیں۔’’

(حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور خلفاء کے تعلق باللہ کے واقعات صفحہ111-110)

اعجازی رنگ میں بارش رکنے کا واقعہ

‘‘2004ء میں افریقہ کے دورہ کے دوران جب حضرت خلیفۃ المسیح الخامس اید ہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیزنائیجیریا سے بینن پہنچے اورمشن ہاؤس آمد ہوئی تو عصر کا وقت تھا ۔ شدید موسلا دھار بارش ہو رہی تھی۔ نماز کے لیے صحن میں مارکی لگائی گئی تھی جو چاروں طرف سے کھلی تھی اور بارش کی وجہ سے وہاں نماز پڑھنا محال تھا۔ بلکہ کھڑا ہونا بھی مشکل تھا۔ حضور باہر تشریف لائے اور نماز کے بارہ میں دریافت فرمایا ۔ امیر صاحب نے عرض کیا کہ اس وقت تو شدید بارش ہے اور نماز کے لیے باہر مارکی لگائی ہوئی ہے لیکن بارش کی وجہ سے مشکل ہورہی ہے۔

حضورِ انور نے آسمان کی طرف نظر اٹھا ئی اور فرمایا ‘دس منٹ بعد نماز پڑھیں گے’۔ اس کے بعد حضورِ انور اندر تشریف لے گئے۔ ابھی دو تین منٹ ہی گزرے تھے کہ یکدم بارش تھم گئی۔ آسمان صاف ہوگیا۔ دیکھتے ہی دیکھتے دھوپ نکل آئی اور اسی مارکی کے نیچے نماز کا انتظام ہوگیا۔ مقامی احباب اس نشان پر بہت حیران ہوئے کہ یہاں بارش شروع ہوجائے تو کئی کئی گھٹنے جاری رہتی ہے۔ حضور نے دس منٹ کہا تو یہ تین منٹ میں ہی ختم ہوگئی اور نہ صرف ختم ہوئی بلکہ بادل بھی غائب ہوگئے۔’’

(الفضل انٹرنیشنل 25ستمبر 2015تا 1اکتوبر 2015ء صفحہ 14)

اس کو خدا پر چھوڑ دیں اللہ فضل فرمائے گا

‘‘کینیڈا کے دورہ کے دوران جب کیلگری مسجد کا سنگ بنیاد رکھا جانا تھا تو ایک روز قبل امیر صاحب کینیڈا نے حضورِ انور کی خدمت میں عرض کیا کہ موسمی پیشگوئی کے مطابق کل یہاں کا موسم شدید خراب ہے۔بڑی شدید بارش ہے اور طوفانی ہوائیں ہیں۔ اور کل صبح مسجد کا سنگ بنیاد ہے۔ مہمان بھی آرہے ہیں۔ امیر صاحب نے دعا کی درخواست کی۔

اس پر حضورِ انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے کچھ دیر توقف فرمایا اور پھر فرمایا ‘‘جس مسجد کا سنگِ بنیاد ہم رکھنے جارہے ہیں وہ بھی خدا کا ہی گھر ہے اور موسم بھی خدا کے ہاتھ میں ہے۔ اس لیے اس کو خدا پر چھوڑ دیں ۔ اللہ فضل فرمائے گا۔’’

چنانچہ اگلے روز صبح بارش کا کوئی نام و نشان نہیں تھا۔ بڑا خوشگوار موسم تھا۔ سنگ بنیاد کی تقریب ہوئی۔قریباً دو گھنٹے کا پروگرام تھا۔ تقریب سے فارغ ہوکر حضورِ انور واپسی کے لیے جب اپنی کار میں بیٹھے تو کار کا دروازہ بند ہوتے ہی اچانک شدید بارش شروع ہوگئی اور ساتھ تندو تیز ہوائیں چلنے لگیں جو پھر مسلسل تین چار گھنٹے جاری رہیں۔

یہ ایک نشان تھا جو حضورِ انور کی دعا سے وہاں ظاہر ہوا اور ہر شخص کا دل اس نشان کو دیکھ کر اللہ تعالیٰ کے حضور سجدہ ریز تھا۔’’

(الفضل انٹرنیشنل 25ستمبر 2015تا 1اکتوبر 2015ء صفحہ 14)

اگر بیٹا ہوا تو احمدی ہوجاؤں گی

جلسہ سالانہ جرمنی 2015ء میں بلغاریہ کے ایک مخلص نو احمدی دوستEtemصاحب اپنی فیملی کے ہمراہ شامل ہوئے۔ موصو ف نے چند سال قبل عیسائیت سے اسلام قبول کیا تھا۔ لیکن ان کی بیوی نے بیعت نہیں کی تھی۔

ان کی اہلیہ کا کہنا تھا کہ میری تین بیٹیاں ہیں۔ اگر مجھے بیٹا مل جائے تو میں بھی احمدی ہوجاؤں گی۔ موصوفہ نے حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی خدمت میں دعا کے لیے لکھا۔ اگلے سال جب وہ دوبارہ جلسہ میں آئیں تو سات ماہ کی حاملہ تھیں۔ ملاقات کے دوران انہوں نے بچے کے لیے نام رکھنے کی درخواست کی تو حضورِ انور نے صرف لڑکے کا نام ‘جاہد’ تجویز فرمایا۔

جلسہ سے واپس جاکر موصوفہ نے مبلغ سے کہا کہ ڈاکٹرز نے بتایا ہے کہ لڑکی ہے اس لیے حضورِ انور کی خدمت میں دوبارہ درخواست کریں کہ لڑکی کا نام تجویز فرمائیں۔ اس پر مبلغ نے کہا کہ آپ نے تو کہا تھا کہ اگر بیٹا ہوا تو احمدی ہوجاؤں گی۔ اور حضورِ انور نے بھی صرف بیٹے کا نام تجویز فرمایا ہے۔ اس لیے انشاء اللہ بیٹا ہی ہوگا۔ڈاکٹر جو چاہیں کہیں، ان کی مشینیں جو چاہیں ظاہر کریں لیکن اب آپ کا بیٹا ہی ہوگا کیونکہ خلیفۃ المسیح نے بیٹے کا نام رکھا ہے۔ یہ سن کر کہنے لگیں کہ میں تو پہلے ہی احمدی ہوچکی ہوں۔ چنانچہ جب بچہ کی پیدائش ہوئی تو اللہ تعالیٰ نے انہیں بیٹے سے ہی نوازا۔ وہ جلسہ کے موقع پر اس بیٹے کو ساتھ لے کر آئی تھیں اور لوگوں کو بتارہی تھیں کہ دیکھو! یہ خلیفہ وقت کی دعاؤں کی قبولیت کا نشان ہے۔’’

(الفضل انٹرنیشنل 25ستمبر 2015تا 1اکتوبر 2015ء صفحہ15، 17)

حضرت مسیح موعود علیہ السلام قبولیت دعا کے متعلق فرماتے ہیں:

‘‘دعا کی ماہیت یہ ہے کہ ایک سعید بندہ اوراس کے رب میں ایک تعلق جاذبہ ہے یعنی پہلے خدا تعالیٰ کی رحمانیت بندہ کو اپنی طرف کھینچتی ہے پھر بندہ کے صدق کی کششوں سے خداتعالیٰ اس سے نزدیک ہو جاتا ہے اور دعا کی حالت میں وہ تعلق ایک خاص مقام پر پہنچ کر اپنے خواص عجیبہ پیدا کرتا ہے۔ سو جس وقت بندہ کسی سخت مشکل میں مبتلا ہو کر خدا تعالیٰ کی طرف کامل یقین اور کامل امید اور کامل محبت اور کامل وفا داری اور کامل ہمت کے ساتھ جھکتا ہے اور نہایت درجہ کا بیدار ہو کر غفلت کے پردوں کو چیرتا ہوا فنا کے میدانوں میں آگے سے آگے نکل جاتا ہے پھر آگے کیا دیکھتا ہے کہ بارگاہِ اُلوہیت ہے اور اس کے ساتھ کوئی شریک نہیں ۔ تب اس کی روح اس آستانہ پر سر رکھ دیتی ہے اور قوتِ جذب جو اس کے اندر رکھی گئی ہے وہ خدا تعالیٰ کی عنایات کو اپنی طرف کھینچتی ہے تب اللہ جل شانہٗ اس کام کے پورا کرنے کی طرف متوجہ ہو تا ہے اور اس دعا کا اثر ان تمام مبادی اسباب پر ڈالتا ہے جن سے ایسے اسباب پیدا ہوتے ہیں جو اس مطلب کے حاصل ہونے کے لیے ضروری ہیں۔’’

(برکات الدعاء، روحانی خزائن جلد6۔صفحہ9تا10)

٭…٭…٭

مزید دیکھیں

متعلقہ مضمون

رائے کا اظہار فرمائیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button