سیرت خلفائے کرام

حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے مشن کو پورا کرنے والی خلافت میں جماعتی ترقیات کا لامتناہی سلسلہ

(عبد السمیع خان۔ استاذ جامعہ احمدیہ انٹرنیشنل گھانا)

خلافتِ خامسہ کے بابرکت دَور میں پوری ہونے والی عظیم الشان پیشگوئیاں

چلتا پھرتا معجزہ

خلافت کا مضمون جماعت احمدیہ کے لیے محض علمی اور تحقیقی مسئلہ نہیں، ایک زندہ اور چلتا پھرتا معجزہ ہے۔ خداتعالیٰ کی زبردست فعلی شہادت نے ہمیں فلسفیانہ دلائل سے بے نیاز کر دیا ہے۔ خالق کائنات کی پے در پے نصرتوں نے اسے صداقت کا جامہ پہنا دیا ہے جسے کوئی دشمن اتار نہیں سکتا۔ جبکہ دوسروں کے لیے خلافت ایک علمی اور متنازعہ مضمون ہے اور ہر مرحلے پر اختلاف ہے۔

خلافتِ احمدیہ کی صداقت اور اس کے منجانب اللہ ہونے کا ایک ثبوت وہ پیشگوئیاں ہیں جو کسی خلیفہ کے دور میں پوری ہوتی ہیں۔ ان غیبی خبروں کا متشکل ہو جانا اس خلیفہ کی سچائی کا بھی نشان ہے اور اس وجود کے اہل اللہ ہونے کا بھی جس کے منہ سے وہ مقدس الفاظ نکلے۔

اللہ تعالیٰ کے فضل سے خلافت خامسہ کے بابرکت عہد میں بھی صلحاء کی زبان سے نکلے ہوئے الفاظ پورے ہو کر اس بات کا ثبوت مہیا کرتے ہیں کہ وہ بھی خدا کی طرف سے تھے اور سیدنا مسرور ایدہ اللہ تعالیٰ بھی خداتعالیٰ کے مقرر کردہ نمائندے اور تائید یافتہ رہنما ہیں۔

اس حوالے سے جب ہم خلافت خامسہ میں پوری ہونے والی پیشگوئیوں کا جائزہ لیتے ہیں تو ان کے 3 حصے معلوم ہوتے ہیں۔

1۔وہ پیشگوئیاں جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے دور سے ایک تسلسل کے ساتھ ہر خلافت میںچمک دکھلا رہی ہیں اور ان کی چمکار میں اضافہ ہوتا جارہا ہے۔
2۔وہ پیشگوئیاں جو کسی وقت پوری ہوئیں۔ پھر ان کا سلسلہ کچھ دیر رک گیا اور اب دوبارہ جاری ہوگیا ہے۔
3۔وہ پیشگوئیاں جو بالکل پہلی دفعہ خلافت خامسہ میں پوری ہوئیں اور ہورہی ہیں۔

یہ امر بھی یاد رکھناچاہیے کہ پیشگوئیاں کبھی اپنے ظاہری رنگ میں پوری ہوتی ہیں اور کبھی معنوی رنگ میں۔ باپ سے مراد کبھی اس کا بیٹا یا اگلی اولاد بھی ہوتی ہے اور کبھی ناموں کے معانی بھی تعبیر میں اہم کردار رکھتے ہیں۔

اس مضمون میں کئی امور ذوقی ہیں مگر بے بنیاد نہیں۔ ان کی تائید دوسری پیشگوئیوں اور خدا تعالیٰ کی فعلی شہادت سے ہورہی ہے۔ پھر بھی کسی کو انہیں تسلیم کرنے کا پابند نہیں کیا جاسکتا۔

آیئے اس پس منظر کو ملحوظ رکھتے ہوئے پیشگوئیوں پر نظر ڈالیں۔

حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے الہامات و کشوف

ان پیشگوئیوں کا مربوط سلسلہ کئی جہتوں پر پھیلا ہوا ہے۔ ان میں ایک پہلو حضرت مسیح موعود کے ان الہامات اور رؤیا و کشوف کا ہے جن میں آپ کو حضرت مرزا شریف احمد صاحب کی دینی خدمات اور عظیم مقام کی خبر دی گئی مگر انہوں نے کامل طور پر آپ کی اولاد میں سے ایک بابرکت وجود کے ذریعہ پورا ہونا تھا جن کو الہامات میں مسرور کے نام سے یاد کیا گیا ہے۔ فرماتے ہیں:۔

ہم نے عالم کشف میں اسی لڑکے کے متعلق کہا تھا کہ

اب تو ہماری جگہ بیٹھ اور ہم چلتے ہیں ۔

(تذکرہ ص406)

28 مئی 1907ء کے الہامات میں ہے۔

عمّرہ اللّٰہ علیٰ خلاف التوقع

اس کو خداتعالیٰ امید سے بڑھ کر عمر دے گا۔

(تذکرہ ص609)

امّرہ اللّٰہ علیٰ خلاف التوقع

اس کو یعنی شریف کو خداتعالیٰ امید سے بڑھ کر امیر کرے گا۔

(تذکرہ ص609)

جنوری 1907ء۔ شریف احمد کو خواب میں دیکھا کہ اس نے پگڑی باندھی ہوئی ہے اور دو آدمی پاس کھڑے ہیں۔ ایک نے شریف احمد کی طرف اشارہ کرکے کہا کہ ‘‘وہ بادشاہ آیا’’ دوسرے نے کہا ابھی تو اس نے قاضی بننا ہے۔ فرمایا قاضی حَکم کو بھی کہتے ہیں۔ قاضی وہ ہے جو تائید حق کرے اور باطل کو رد کرے۔

(تذکرہ ص584)


دسمبر 1907ء کا الہام ہے۔

انی معک یامسرور

اے مسرور میں تیرے ساتھ ہوں ۔

(تذکرہ ص630)

ان معروف الہامات کے ساتھ حضرت مولانا غلام رسول صاحب راجیکی رضی اللہ عنہ کی یہ روایت ملالیں تو مزہ دوبالا ہو جاتا ہے۔ آپ بیان فرماتے ہیں کہ حضرت مسیح موعودؑ نے حضرت مرزا شریف احمد صاحب رضی اللہ عنہ کے بارہ میں فرمایا:

یہ بادشاہ ہوگا اگر یہ نہ ہوا تو اس کا بیٹا ہوگا اور وہ نہ ہوا تو اس کاپوتا ضرور بادشاہ ہوگا۔

(جماعت احمدیہ میں قیام خلافت ص485)

باوفا خادمان اعلیٰ کو
سونپ اعلیٰ کمان دیتے ہیں
وہ ہیں خورشید ماہ و عالم کے
منزلوں کے نشان دیتے ہیں
ان کو سنتی ہیں گردشیں رک کر
جب وہ اپنا بیان دیتے ہیں

صحابہ حضرت مسیح موعودؑ کے رؤیا

پیشگوئیوں کا دوسرا سلسلہ حضرت مسیح موعودؑ کے صحابہ کے ذریعہ چلتا ہے جن میں یہ خبر دی گئی کہ حضرت مصلح موعودؓ اور حضرت مرزا شریف احمد صاحبؓ کی اولاد میں سے آپ کے جانشین اور خلفاء پیدا ہوں گے۔

1۔حضرت مولوی عبدالستار صاحب ساکن خوست جو حضرت صاحبزادہ عبد اللطیف صاحبؓ کے خاص شاگردوں میں سے ہیں بیان کرتے ہیں کہ:

خواب: خلیفۃ المسیح الاول ؓکی زندگی میں دیکھا آپ فرماتے ہیں کہ میاں محمود اور شریف احمد مسیح موعود کے ولی عہد ہیں۔

(الفضل 25 مارچ 1914ء ص5)

2۔حضرت مصلح موعودؓ نے 1944ء میں پیشگوئی مصلح موعود کے مصداق ہونے کا اعلان فرمایا تو حضرت مولانا غلام رسول صاحب راجیکیؓ نے حضرت مصلح موعود ؓکی خدمت میں تین رؤیا لکھے۔ ایک کے متعلق فرماتے ہیں:۔

دوسری رؤیا پرسوں رات کی ہے کہ دارالامان کی سب آبادی ایک جشن عظیم کی تیاری میں ہے بہت بڑا اجتماع ہے اس میں ایک میز بچھی ہے جس کے جنوب کی طرف حضور یعنی سیدنا المصلح الموعودؓ ہیں اور جانب مشرق حضرت میاں شریف احمد صاحب ہیں۔ دونوں حضرات کے چہرے عجیب شان دکھا رہے ہیں۔ اس وقت حضرت میاں شریف احمد صاحب بے تکلفی سے اور ہاتھوں کے اشارہ سے حضور کے ساتھ گفتگو فرمارہے ہیں۔ اسی اثناء میں بیدار ہوگیا۔ (حیات قدسی جلد چہارم ص132)

منصورکے ذریعہ تمکنت

یہ پیشگوئی بھی پوری ہوئی کہ امام مہدی کا جانشین بھی زمیندار ہوگا اور مہدی کے لشکر کا ایک سردار منصور نامی ہوگا۔

سیدنا حضرت علی المرتضیٰ نے آنحضرت ﷺ سے یہ روایت فرمائی کہ ماوراء النہر سے ایک شخص نکلے گا جو حارث بن حراث کہلائے گا یعنی پیشے کے اعتبار سے زمیندار ہو گا اس کے لشکر کا ایک سردار منصور نامی ہوگا اس سے آل محمدؐ کو تمکنت حاصل ہوگی اور اس کی مدد کرنا ہر مومن پر واجب ہوگا۔

(ابوداؤد کتاب المہدی نمبر3739)

خدا کی قدرت نمائی دیکھئے سیدنا حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ کے والد ماجد کا اسم گرامی صاحبزادہ مرزا منصور احمد ہے۔ اسے کوئی دہریہ ہی محض اتفاق کہہ سکتا ہے۔

حضرت مرزا منصور احمد صاحب کے حارث حراث ہونے میں بھلا کون کلام کرسکتا ہے۔ خود حضرت سیدی مرزا مسرور احمد صاحب نے 1976ء میں زرعی یونیورسٹی فیصل آباد سے ایگریکلچرل اکنامکس میں ایم ایس سی کی ڈگری حاصل کی اور زمانہ خلافت سے قبل قیام گھانا (از1977ء تا 1985ء) احمدیہ زرعی فارم ٹمالے شمالی گھانا کے مینیجر رہے اور سرزمینِ گھانا میں پہلی مرتبہ گندم اگانے کا کامیاب تجربہ کیا۔

(الفضل 3 دسمبر 2008ء)

حضرت صاحبزادہ مرزا منصور احمد صاحب نے حضرت خلیفۃ المسیح الرابع کی ہجرت کے بعد لمبا عرصہ ناظر اعلیٰ و امیر مقامی ربوہ کی حیثیت سے جماعت کو سنبھالے رکھا۔ اس کو تقویت اور تمکنت دینے کی کوششوں میں لگے رہے۔

حضرت بوزینب بیگم صاحبہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا

حضرت خلیفۃ المسیح الرابع نے خطبہ جمعہ 8مئی 1987ء میں فرمایا:

چند روز پہلے میں نے ایک عجیب خواب دیکھا۔ خواب میں دیکھا کہ حضرت بوز ینب چچی جان حضرت چھوٹے چچا جان کی بیگم صاحبہ مرحومہ جو صاحبزادہ مرزا منصور احمد صاحب کی والدہ صاحبہ تھیں وہ تشریف لائی ہیں۔ ان کو میں نے پہلے تو کبھی خواب میں نہیں دیکھا تھا شائد ایک مرتبہ دیکھا ہو۔ وہ آئی ہیں اور قد بھی بڑا ہے جس حالت میں جسم تھا۔ اس کے مقابل پر زیادہ پُرشوکت نظر آتی ہیں ۔ آپ آ کے مجھے گلے لگتی ہیں لیکن گلے لگ کر پیچھے ہٹ جاتی ہیں اور بغیر الفاظ کے مجھ تک ان کا یہ مضمون پہنچتا ہے کہ میں خود نہیںملنے آئی بلکہ ملانے آئی ہوں۔ …لیکن اس میںایک غم کے پہلو کی طرف توجہ گئی کہ زینب نام میں ایک غم کا پہلو پایا جاتا ہے لیکن اس وقت یہ خیال نہیں آیا کہ یہ الوداعی معانقہ ہے۔میرا دل اس طرف گیا کہ شاید جماعت پر کوئی اور ابتلا آنے والا ہے ایک غم کی خبر ہو گی ا س سے ۔فکر پیدا ہو گئی لیکن اس کے بعد اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے جماعت کو حفاظت میںرکھے گا۔

(خطبات طاہر جلد6 ص316 )

شاید اس رؤیا میں حضرت صاحبزادہ مرزا مسرور احمد صاحب ایّدہ اللہ کی خلافت کی طرف اشارہ ہو۔ یعنی جماعت پر حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ کی رحلت سے طاری ہونے والا خوف اور پھر سیدنا مسرور کی خلافت سے خوف کا امن میں تبدیل ہونا اور خوشی عطا ہونا۔

دلوں کی سلطنت پر کر رہا ہے حکمرانی بھی
وہ جس سے منسلک ہے بادشاہت آسمانی بھی
جمال مصطفی ؐ کی ہے جہاں میں وہ نشانی بھی
عیاں جس کی فصاحت سے ہوا یار نہانی بھی
صدائے انی معکشش جہت میں پھیل جاتی ہے
خدا کے پاک لوگوں کو خدا سے نصرت آتی ہے
جب آتی ہے تو پھر عالم کو اک عالم دکھاتی ہے

یہاں تک غیبی خبروں کا سلسلہ تو ذاتی رنگ رکھتا ہے اور خاندانی پہچان سے منسلک ہے۔ خداتعالیٰ کی فعلی شہادت نے درج بالا پیشگوئیوں کی ابھی تک جو تعبیریں ظاہر کیں وہ مندرجہ ذیل ہیں۔ آئندہ اللہ بہتر جانتا ہے۔

1۔حضرت صاحبزادہ مرزا بشیرالدین محمود احمد صاحبؓ اور حضرت صاحبزادہ مرزا شریف احمد صاحب ؓکی نسل میں خلافت کا سلسلہ جاری ہوگا۔
2۔حضرت مرزا شریف احمد صاحب ؓکے موعود بیٹے سے مراد ان کا پوتا ہے۔
3۔اس پوتے کا نام مسرور ہوگا۔
4۔مسرور کے والد کا نام منصور ہوگا اور وہ بھی مہدی کی جماعت کا ایک اہم سردار ہوگا۔
5۔مسرور کی خلافت حضرت مرزا طاہر احمد خلیفۃ المسیح الرابع کے بعد ہوگی اور خلافت کا سلسلہ حضرت صاحبزادہ مرزا شریف احمد صاحبؓ کی اولاد سے مل جائے گا۔

زمین کے کناروں تک احمدیت کا پیغام

حضرت مسیح موعود کو خداتعالیٰ نے خبردی تھی کہ میں تیری تبلیغ کو زمین کے کناروں تک پہنچاؤں گا۔

یہ الہام مختلف رنگوں میں پورا ہوتا رہا مگر خلافت خامسہ میں اس الہام نے ایک نیا جلوہ دکھایا اور 16دسمبر 2005ء کو قادیان کی بیت اقصیٰ سے معجزانہ طور پر حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ کے خطبہ جمعہ کی صورت میں مسیح موعود کی دعوت زمین کے کناروں تک پہنچنے لگی اور یہ پیغام جلسہ کے خطابات کے علاوہ 5خطبات جمعہ اور ایک خطبہ عیدالاضحی کی صورت میں گونجتا رہا۔

اس کے 3 ماہ بعد 28؍اپریل 2006ء کو زمین کے کنارے فجی سے حضور کا خطبہ جمعہ زمین کی تمام بلندیوں اور پستیوں میں نشر ہوا جسے فجی کے نیشنل ٹی وی نے بھی Live نشر کیا۔ حضور نے 2 مئی 2006ء کو جزیرہ تاویونی پر لوائے احمدیت لہرایا جہاں سے Date Lineگزرتی ہے۔

پس قادیان سے زمین کے کناروں تک اور زمین کے کناروں سے تمام دنیا تک مسیح موعود کے پیغام کا ابلاغ احمدیت کے مواصلاتی اور فضائی دور کا ایک نیا سنگ میل ہے۔

یہ بات بھی حیرت انگیز ہے کہ مختلف قوموں کے نزدیک زمین کے جو بھی کنارے ہیں خواہ وہ فجی ہو یا ماریشس یا آئرلینڈ یا قطب شمالی کے قریب امریکہ اور کینیڈا کے علاقے ان سب جگہوں پر حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ کو اللہ تعالیٰ نے مسیح موعود کا پیغام پہنچانے کا اعزاز بخشا ہے۔

خلافت رابعہ کے اختتام تک جماعت 175 ملکوں میں پھیل چکی تھی اور اب خلافت خامسہ میں یہ تعداد بڑھ کر 212ہوچکی ہے۔ اس طرح 37نئے ممالک احمدیت میں داخل ہوئے۔ بتائیں کون سا خطہ ہے جہاں مسیح موعود کا پیغام نہیں پہنچا۔

خلافت رابعہ کے12 آخر تک مشنز اور مراکزِ تبلیغ کی تعداد 656تھی جو 3000سے زائد ہوگئی ہے۔ تراجم قرآن 75 زبانوں میں شائع ہوچکے ہیں۔

ایم ٹی اے کے ذریعہ اشاعت حق

ایم ٹی اے کے بارے میں قدیم پیشگوئیوں کا ایک وسیع سلسلہ موجود ہے۔ جس میں آسمانی منادی کا ذکر ہے۔

قران کریم ، احادیث ، بزرگان سلف اور انجیل کی پیش خبریوں پر تفصیلی نگاہ دوڑائی جائے تو ایم ٹی اے کے متعلق پیش گوئیوں کا خلاصہ یہ بنتا ہے

٭ امام مہدی کی بعثت کے وقت آسمان سے منادی کی جائے گی
٭ یہ منادی خود امام مہدی نہیں بلکہ اس کی طرف سے نمائندہ اور جانشین کرے گا
٭یہ آواز مشرق و مغرب میں ہر جگہ پہنچے گی
٭آواز کے ساتھ ہی منادی کی تصویر بھی دکھائی دے گی اور تمام دنیا میں اسے دیکھا اور سنا جائے گا
٭ دور اور نزدیک کے لوگ یکساں طور پر اس منادی کوسنیں گے اور دیکھنے میں وہ بہت قریب معلوم ہوگا
٭یہ آواز عام ہو گی ہر ایک ا سے سن سکے گا اور کسی طبقے یا قوم کے لیے خاص نہیں ہوگی
٭ تمام لوگ اس آواز یا پیغام کو اپنی اپنی زبان میں سنیں گے
٭ مشرق اور مغرب کے لوگ اس آواز کو سن کر ایک ہاتھ پر اکٹھے ہو جائیں گے
٭ امام مہدی کے ماننے والے مشرق اور مغرب میں ایک دوسرے کو دیکھ سکیں گے

حضرت خلیفۃ المسیح الرابع نے 1994ء میں MTAکی بنیاد ڈالی اور پھر اسے مسلسل ترقیات عطا ہوتی رہیں۔

ایم ٹی اے کے ذریعہ مواصلاتی فتوحات کے تذکرہ کے دوران خلافت خامسہ میں اس کی نئی شاخوں کا ذکر بھی ضروری ہے۔

23 جون 2003ء سے ایم ٹی اے کی نشریات Asia Sat 3 پر شروع ہوگئیں اور دنیا کے آخری جزیرہ تاویونی میں بھی واضح سگنل موصول ہونے لگے۔
22؍اپریل 2004ء سے ایم ٹی اے کے دوسرے چینل MTA الثانیہ کا اجراء ہوا۔
23 مارچ 2006ء کو ایم ٹی اے کے نئے آٹومیٹڈ براڈ کاسٹ سسٹم کا افتتاح ہوا۔
10 جولائی 2006ء کو انٹرنیٹ پر ایم ٹی اے کی نشریات شروع ہوگئیں۔
(الفضل 28مئی 2008ء)
23 مارچ 2007ء وہ تاریخی دن تھا جب دنیائے عرب کے لیے عربی زبان میں فل ٹائم چینل ‘‘ایم ٹی اے الثالثہ العربیہ’’ کی سروس کا انعقاد ہوا جو نائل سیٹ سیٹلائٹ پر شروع کیا گیا۔
15 جون 2007ء کو ایم ٹی اے 3 العربیۃ کی نشریات کو بھی انٹرنیٹ پر باقاعدہ ٹی وی چینل کے طور پر شروع کر دیا گیا۔
20 جولائی 2009ء کو انٹرنیٹ پر ایم ٹی اے کے دوسرے آڈیو چینل کی سروس کا آغاز ہوا جس پر ناظرین تمام پروگرام انگریزی زبان میں بھی ملاحظہ کرسکتے ہیں۔
10 دسمبر 2007ء کو بیت الفتوح لندن میں حضور نے خصوصی طور پر تعمیر شدہ ایم ٹی اے کے نئے کمپلکس کنٹرول روم اور سٹوڈیوز کا افتتاح فرمایا جو حضورِ انور ہی کی زیرنگرانی اور زیرہدایت تیار کیا گیا تھا اور جو جدید ترین ٹیکنالوجی سے لیس ہر قسم کے براڈکاسٹ کے سامان پر مشتمل ہے۔
8 جنوری 2008ء کو ایم ٹی اے 3 العربیہ کی نشریات نائل سیٹ سے بدل کر مقبول تر سیٹلائٹ عرب سیٹ پر ڈال دی گئیں۔
29 فروری 2008 ء کو امریکہ اور کینیڈا کے لیے بھی ایم ٹی اے 3 العربیۃ کی سروس AMC3 سیٹلائٹ پر شروع کر دی گئی۔
29 فروری 2008ء کو ہی امریکہ کے ویسٹ کوسٹ کے لیے ایم ٹی اے اولیٰ کے پروگراموں کو 3گھنٹے تاخیر سے نشر کرنے کے لیے ایم ٹی اے اولیٰ پلس 3کا آغاز کر دیا گیا۔ نیز شمالی امریکہ کے لیے ایم ٹی اے انفوکاسٹ چینل کا اجراء کیا گیا۔
4 مارچ 2008ء کو ایم ٹی اے 3 العربیۃ کی نشریات کا SESAT سیٹلائٹ پر آغاز ہوا۔
8 مارچ 2008ء کو ایم ٹی اے 3 العربیۃ کی نشریات کو عرب دنیا کے لیے وسیع تر کرنے کے لیے ہاٹ برڈ سیٹلائٹ پر بھی متوازی سروس کے طور پر شروع کر دیا گیا۔
27 مئی 2008ء کو وہ تاریخی دن تھا جب خلافتِ احمدیہ صدسالہ جشن تشکر کے موقع پر حضرت خلیفۃ المسیح الخامس نے ایکسل سنٹر لندن سے تمام عالم کو صدسالہ خلافت جوبلی کا خطاب ارشاد فرمایا تو ربوہ اور قادیان میں منعقد ہونے والے اجتماعات کو بھی براہ راست نشریات میں شامل کیا گیا اور یوں تین مقامات سے بیک وقت نعرہ ہائے تکبیر اور غلام احمد کی جے کے فلک بوس اور پُرشگاف نعروں کی گونج تمام عالم میں سنائی دی گئی۔ خداتعالیٰ کے بے انتہاء فضل اور حضورِ انور کی دعاؤں سے بیک وقت سہ طرفہ لائیونشریات کا یہ پہلا تجربہ نہایت کامیاب رہا۔
20 فروری 2009ء کو حضورِ انور کی رہنمائی میں حسب معمول میڈیا کی دنیا میں سبقت لیتے ہوئے۔ ایم ٹی اے کو Youtubeکا پارٹنر چینل بنانے کا سفر شروع کیا گیا اور خدا کے فضل سے چند ہفتوں میں ہی mtaonline1 کے ہزاروں ممبر ہوگئے اور youtubeکی طرف سے mtaکو یہ سہولت دے دی گئی کہ youtube پر جماعت کے خلاف دشمنان احمدیت کا جھوٹا اور غلیظ پراپیگنڈا ہم خود نکال سکتے ہیں۔ نیز اب حضورِ انور کا تازہ خطبہ جمعہ فوراً youtube پر ڈال دیا جاتا ہے۔
23 مارچ 2014ء ایم ٹی اے پر عربی میں Live خطاب فرمایا۔
7 فروری 2016ء برطانیہ کے پہلے DAB ڈیجیٹل ریڈیو سٹیشن VOI کا اجراء ہو۔ جس کی نشریات لندن اور اس کے گردونواح کے علاوہ ویب سائٹ کے ذریعہ پوری دنیا میں سنی جاسکتی ہیں۔
یکم اگست 2016ء حضورِ انور نے ایم ٹی اے افریقہ کا افتتاح فرمایا۔ یہ چینل براعظم افریقہ کے احباب کے لیے روحانی مائدے کا سامان مہیا کررہا ہے۔

سلسلہ سوال و جواب

سیدنا حضرت مصلح موعودؓ کی ایک رؤیا میں ایم ٹی اے پر ٹیلی فون کالوں اور اعتراضوں کا جواب دینے کا ذکر بھی موجود ہے۔ فرماتے ہیں:

اس رؤیا کے شروع میں میں نے دیکھا کہ کسی سرکاری افسر نے کوئی تقریر ایسی کی ہے جس میں احمدیت پر کچھ اعتراضات ہیں اس کو سن کر حضرت مسیح موعود ایک پبلک فون کی جگہ پر چلے گئے ہیں اور فون پر اس کی تردید شروع کی ہے مگر بجائے آپ کی آواز فون میں جانے کے ساری دنیا میں پھیل رہی ہے اس فون میں آپ نے سب اعتراضوں کو رد کیا ہے جو اس افسر کی طرف سے کیے گئے ہیں۔

(الفضل 5؍اکتوبر 1954ء ص3)

خلافت خامسہ میں ایم ٹی اے پر Liveسوال و جواب کے پروگرام کئی زبانوں میں نشر ہورہے ہیں۔ جو دشمنوں کے ہر اعتراض کو رد کر رہے ہیں۔ ٹیلی فون پر وہ سوال آتا ہے اور پھر ساری دنیا میں وہ آواز پھیل جاتی ہے۔

آدھا نام عربی آدھا انگریزی میں

حضرت مسیح موعود کا قریباً 1880ء کا کشف ہے فرماتے ہیں:

ایک دفعہ میں نے خواب میں دیکھا تھا کہ ایک شخص میرا نام لکھ رہا ہے تو آدھا نام اس نے عربی میں لکھا ہے اور آدھا انگریزی میں لکھا ہے۔ انبیاء کے ساتھ ہجرت بھی ہے۔ لیکن بعض رویا نبی کے اپنے زمانہ میں پورے ہوتے ہیں اور بعض اولاد یا کسی متبع کے ذریعہ سے پورے ہوتے ہیں۔

(الحکم 10 ستمبر 1905ء)

حضرت خلیفۃ المسیح الرابع ؒنے ہجرت بھی کی اور پھر ایم ٹی اے پر لقاء مع العرب پروگرام میں انگریزی اور عربی گفتگو کے ذریعہ تبلیغ کی توفیق پائی۔ نیز عربی رسالہ التقویٰ اور انگریزی رسالہ Review of Religions لندن سے باقاعدگی سے جاری ہوئے۔

خلافت خامسہ میں اس مضمون میں نئے رنگ بھرے گئے۔

جماعت احمدیہ کے 125ویں یوم تاسیس کے بابرکت موقع پر 21تا23 مارچ 2014ء کو قادیان سے ایم ٹی اے انٹرنیشنل پر خصوصی عربی پروگرام اسمعوا صوت السماء … کی براہ راست نشریات جاری رہیں جس کے آخر پر حضورِ انور کا عربی زبان میں ایک بصیرت افروز خطاب نشر کیا گیا۔

(الفضل انٹرنیشنل 16 مئی 2014ء)

مکرم منیر عودہ صاحب بیان کرتے ہیں کہ حضرت خلیفۃ المسیح الرابع نے ایک دفعہ عربوں کے لیے عربی زبان میں خطاب ریکارڈ کروانے کا بھی ارادہ فرمایا۔ لیکن پھر ارشاد فرمایا کہ میرا خیال ہے کہ ابھی اس کا وقت نہیں آیا۔

دوسری طرف جب حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کو اللہ تعالیٰ نے خلعت خلافت سے سرفراز فرمایا تو حضورِ انور نے فرمایا کہ میرے عہد میں عربوں میں تبلیغ کے لیے راہ کھلے گی اور عربوں میں احمدیت کا نفوذ ہوگا۔

(الفضل 24 مئی 2012ء)

اس کے متعلق پہلے بھی پیشگوئیاں موجود ہیں۔

بلاد عرب میں قبولیت

حضرت مصلح موعود کی درج ذیل رؤیا میں خلافت خامسہ میں بلاد عربیہ میں احمدیت پھیلنے کی طرف خاص اشارہ معلوم ہوتا ہے۔

حضرت مصلح موعود خطبہ جمعہ 23 نومبر 1945ء میں فرماتے ہیں:۔

‘‘تین چار دن ہوئے، میں نے ایک رؤیا میں دیکھا کہ میں عربی بلاد میں ہوں اور ایک موٹر میں سوار ہوں۔ ساتھ ہی ایک اور موٹر ہے جو غالباً میاں شریف احمد صاحب کی ہے۔ پہاڑی علاقہ ہے اور اس میں کچھ ٹیلے سے ہیں۔ جیسے پہل گام، کشمیر یا پالم پور میں ہوتے ہیں۔ ایک جگہ جا کر دوسری موٹر جو میں سمجھتا ہوں میاں شریف احمد صاحب کی ہے کسی اور طرف چلی گئی ہے اور میری موٹر اور طرف۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ میری موٹر ڈاک بنگلے کی طرف جارہی ہے۔ بنگلہ کے پاس جب میں موٹر سے اترا تو میں نے دیکھا کہ بہت سے عرب جن میں کچھ سیاہ رنگ کے ہیں اور کچھ سفید رنگ کے، میرے پاس آئے ہیں میں اس وقت اپنے دوسرے ساتھیوں کی طرف جانا چاہتا ہوں لیکن ان عربوں کے آجانے کی وجہ سے گیا ہوں۔ انہوں نے آتے ہی کہا:۔

السلام علیکم یاسیدی
میں ان سے پوچھتا ہوں۔
من این جئتم؟
کہ آپ لوگ کہاں سے آئے ہیں؟ وہ جواب دیتے ہیں کہ
جئنا من بلاد العرب وذھبنا الی قادیان وعلمنا انک سافرت فاتبعناک علمنا انک جئت الی ھذاالمقام۔
یعنی (ہم عربی بلاد سے آئے ہیں اور) ہم قادیان گئے اور وہاں معلوم ہوا کہ آپ باہر گئے ہیں اور ہم آپ کے پیچھے چلے یہاں تک کہ ہمیں معلوم ہوا کہ آپ یہاں ہیں۔ اس پر میں نے ان سے پوچھا کہ
لای مقصد جئتم؟
کس غرض سے آپ تشریف لائے ہو؟ تو ان میں سے لیڈر نے جواب دیا کہ
جئنا لنستشیرک فی الامور الاقتصادیۃ والتعلیمیۃ۔
اور غالباً سیاسی اور ایک اور لفظ بھی کہا۔ اس پر میں ڈاک بنگلہ کی طرف مڑا اور ان سے کہا کہ مکان میں آجایئے، وہاں مشورہ کریں گے۔ جب میں کمرہ میں داخل ہوا تو دیکھا کہ میز پر کھانا چنا ہوا ہے اور کرسیاں لگی ہیں اور میں نے خیال کیا کہ شاید کوئی انگریز مسافر ہوں۔ ان کے لیے یہ انتظام ہو اور میں آگے دوسرے کمرے کی طرف بڑھا۔ وہاں فرش پر کچھ پھل اور مٹھائیاں رکھی ہیں اور اردگرد اس طرح بیٹھنے کی جگہ ہے جیسے کہ عرب گھروں میں ہوتی ہے۔ میں نے ان کو وہاں بیٹھنے کو کہا اور دل میں سمجھا کہ یہ انتظام ہمارے لیے ہے۔ ان لوگوں نے وہاں بیٹھ کر پھلوں کی طرف ہاتھ بڑھایا کہ میری آنکھ کھل گئی۔ اس رؤیا سے میں یہ سمجھتا ہوں کہ اللہ کے فضل سے بلاد عرب میں احمدیت کی ترقی کے دروازے کھلنے والے ہیں۔ (مطبوعہ الفضل 17 دسمبر 1945ء)

خاکسار کے خیال میں

٭حضرت مرزا شریف احمد صاحب سے حضورِ انور خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ مراد ہیں۔
٭ان کی موٹر حضرت مصلح موعود کی موٹر سے دوسری طرف جانے سے مراد وقت کے بدلے ہوئے تقاضوں کے پیشِ نظر الگ الگ حکمت عملی ہے جو پہلے اور تھی اب ایم ٹی اے کے ذریعہ بدل گئی ہے۔
٭عرب حضور سے قادیان میں نہیں ملے بلکہ سفر کے دوران باہر ملے ہیں۔ اس سے مراد حضور کا مستقر انگلستان ہے۔ اسی لیے رؤیا میں انگریزوں کا ذکر بھی ہے۔
٭پھلوں سے مراد بیعتیں ہیں۔

عربوں میں احمدیت کے پیغام کی خصوصی اشاعت کے حوالہ سے بہت سے عربوں کو بھی خواب دکھائے گئے۔ صرف 2 خوابیں ملاحظہ ہوں۔

مکرمہ فجر عطایاصاحبہ، مرحوم حلمی شافعی صاحب کی نواسی اور مکرم تمیم ابو دقہ صاحب آف اردن کی اہلیہ ہیں، وہ لکھتی ہیں:

میں نے حضور انو رکے خلافت پر متمکن ہونے سے تقریباً نو ماہ قبل مورخہ 22جولائی 2002ء کو خواب میں دیکھا کہ گویا قیامت کا روز ہے اورآسمان پر اللّٰہ جَلَّ جَلَالُہٗ لکھا ہے۔ ساتھ مَیں نے ایک پہاڑ پر ایک شخص کو دیکھا جس نے سفید لباس زیب تن کیا ہوا تھااور لوگ اسے ‘‘اَلدَّاعِیْ’’ کہہ کر پکار رہے تھے۔

میں اس وقت حضورِ انور کو جانتی تک نہ تھی اس لیے پہچاننے سے قاصر رہی۔ا ب حضورانور کے خلیفہ منتخب ہونے کے بعد جب حضور انو رکو دیکھا توبے اختیار پکار اٹھی کہ یہ تو وہی شخصیت ہے جسے لوگ ‘‘اَلدَّاعِی ’’ کہہ کر پکار رہے تھے۔

مکرمہ خلود محمود صاحبہ دمشق سے لکھتی ہیں کہ:

انتخاب کے بعد حضورانورکو ٹی وی سکرین پر دیکھنے سے قبل اللہ تعالیٰ نے مجھے خواب میں ہی حضورِ انور کی زیارت سے نوازدیا تھا۔مَیں نے دیکھا کہ حضورِ انور لِقَاء مَعَ الْعَرَب میں تشریف رکھتے ہیں اوردرس دے رہے ہیں۔ایک عجیب بات جو اس وقت نظر آئی یہ تھی کہ حضورِ انور کے بال سرخی مائل تھے۔پھر جب حضورانور کو ٹی وی پر دیکھا تو بالوں کے سوا باقی شکل وصورت بعینہٖ وہی تھی جو خواب میں دیکھی تھی۔ (الفضل 24 مئی 2012ء)

چنانچہ پیشگوئیوں کے مطابق عربوں میں تبلیغ کا جو وسیع کام ہورہا ہے اس کی تفاصیل حضورِ انور ایدہ اللہ جلسہ سالانہ کے خطابات اور خطبات جمعہ میں ارشاد فرماتے ہیں۔

لندن میں مدلل تقریر

حضرت مسیح موعودؑ فرماتے ہیں:

میں نے دیکھا کہ میں شہر لندن میں ایک منبر پر کھڑا ہوں اور انگریزی زبان میں ایک نہایت مدلل بیان سے اسلام کی صداقت ظاہر کر رہا ہوں بعد اس کے میں نے بہت سے پرندے پکڑے۔

(ازالہ اوہام حصہ دوم ص516 طبع اول 1891 ء)

حضرت خلیفۃ المسیح الرابع لندن اور پھر مختلف یورپی ملکوں اور امریکہ میں مدلل خطاب فرماتے رہے۔ خلافت خامسہ میں اس کا نیا جلوہ ظاہر ہوا ہے اور حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیزکو اللہ تعالیٰ نے توفیق دی کہ لندن، جرمنی، ہالینڈ، یورپین یونین، امریکہ اور کینیڈا میں بڑے بڑے اجتماعات اور حکومتی و سیاسی شخصیات کے ہجوم سے انگریزی میں خطاب فرمایا اور احمدیت کا پیغام پہنچایا۔ 11 فروری 2014ء کو حضور نے لندن میں مذاہب عالم کانفرنس سے بھی خطاب فرمایا جس میں متعدد مذاہب کے نمائندے اور سرکردہ افراد موجود تھے اور کئی سربراہان کے پیغامات بھی پڑھ کر سنائے گئے۔ (الفضل 16 مئی 2014ء)

اس کے علاوہ حضور ہر سال پیس سمپوزیم سے خطاب کرتے اور عالمی راہنماؤں کو امن کا پیغام پہنچاتے ہیں۔ اس کے نتیجہ میں جماعت احمدیہ کے حق میں آوازیں اٹھنی شروع ہو گئی ہیں۔

بادشاہ تیرے کپڑوں سے برکت ڈھونڈیں گے

حضرت مسیح موعود کا 1868ء کا الہام ہے۔

بادشاہ تیرے کپڑوں سے برکت ڈھونڈیں گے پھر بعد اس کے عالم کشف میں وہ بادشاہ بھی دکھلائے گئے جو گھوڑوں پر سوار تھے۔(براہین احمدیہ جلد1 ص521)

یہ الہام پہلی دفعہ سو سال بعد 1968ء میں پورا ہوا جب گیمبیا کے گورنر جنرل ایف ایم سنگھاٹے نے حضرت خلیفۃ المسیح الثالثؒ سے حضرت مسیح موعوؑد کا متبرک کپڑا طلب کیا۔ خلافت رابعہ میں افریقہ میں بیسیوں بادشاہ احمدی ہوئے اور بعض نے جلسہ سالانہ 1986ء پر حضرت خلیفۃ المسیح الرابع ؒسے تبرک وصول کیا۔ 2002ء کے جلسہ سالانہ بینن پر کئی بادشاہ گھوڑوں پر سوار ہو کر جلسہ میں شامل ہوئے۔

حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ 4؍اپریل 2004ء کو بینن تشریف لے گئے تو VIP لاؤنج کے قریب پورٹونووو (Porto Novo) کے احمدی بادشاہ نے حضور کا استقبال کیا۔ حضور ذرا آگے بڑھے تو نائیجر (Niger) کے سلطان آف آگادیس نے اپنے گیارہ رکنی وفد کے ساتھ حضورِ انور کا استقبال کیا اور خوش آمدید کہا۔ سلطان اڑھائی ہزار کلومیٹر کا لمبا اور مشکل سفر طے کرکے حضورِ انور کے استقبال کے لیے ایئرپورٹ پر آئے تھے۔

6؍اپریل کی صبح حضورِ انور Parakou کے لیے روانہ ہوئے۔ راستے میں حضورِ انور نے کنگ آف الاڈا Allada کے گھر ایک تقریب سے خطاب فرمایا۔ اگلا پڑاؤ داسا (Dassa) میں ہوا، جہاں کنگ آف داسا نے اپنے ماتحت 41گاؤں کے بادشاہوں، اماموں اور لوگوں کے ساتھ حضورِ انور کو بڑے والہانہ انداز میں خوش آمدید کہا۔

حضرت مسیح موعود ؑکا یہ الہام بھی ہے کہ:

وہ وقت آتا ہے بلکہ قریب ہے کہ خدا بادشاہوں اور امیروں کے دلوں میں تیری محبت ڈالے گا۔ یہاں تک کہ وہ تیرے کپڑوں سے برکت ڈھونڈیں گے۔

(تذکرہ ص 112)

28 ؍اکتوبر 2013ء کو حضورِ انور نیوزی لینڈ تشریف لائے اور 29 ؍اکتوبر کو نیوزی لینڈ کی قدیم ترین قوم ماؤری (Maori) کے بادشاہ کی طرف سے ایک استقبالیہ تقریب کا اہتمام کیا گیا۔

جب حضورِ انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کا نیوزی لینڈ آنے کاپروگرام بنا تو ماؤری بادشاہ کی مرائے کی کونسل نے، اپنے بادشاہ کی طرف سے حضورِ انور ایدہ اللہ تعالیٰ اور جماعتی وفد کو مرائے آنے کی دعوت دی اور بادشاہ کی منظوری کے بعد یہ اطلاع دی گئی کہ حضورِ انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے لیے ایسے استقبال کا انتظام کیا جارہا ہے جو کہ ماؤری روایات کے مطابق کسی سربراہ حکومت یا کسی بڑے قبیلہ کے بادشاہ کے لیے مخصوص ہے۔ اسی طرح ماؤری سنٹر مرائے پر ماؤری جھنڈے کے ساتھ لوائے احمدیت لہرائے جانے کا بھی انتظام کیا گیا۔

بادشاہ اگرچہ عموماً اس تقریب میں شامل نہیں ہوتا اور دوسرے ماؤری چیف ہی مہمانوں کا استقبال کرتے ہیں۔ لیکن آج حضورِ انور کے استقبال کے لیے منعقدہ اس تقریب میں بادشاہ اپنی ملکہ کے ساتھ شامل ہوا۔ نیز حضورِ انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز اور حضرت بیگم صا حبہ مدظلہا العالی کو اس جگہ میں بٹھایا گیا جو سب سے مقدس سمجھی جاتی ہے اور بادشاہ اس جگہ بیٹھ کر ایسی تقریبات کی صدارت کرتا ہے۔

بعدازاں ماؤری سرکردہ افراد نے اپنے ایڈریسز پیش کیے۔ ان مقررین نے اپنے ایڈریسز میں حضورِ انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی مرائے (Marae) آمد پر انتہائی خوشی کا اظہار کیا اور حضورِ انور کے لیے تعریفی کلمات کہے۔ ایک چیف نے کہا کہ آج عزت مآب خلیفۃ المسیح کے آنے کی وجہ سے ہماری شان میں اضافہ ہوا ہے اور حضورِ انور کا یہاں آنا ہمارے لیے باعث عزت ہے اور اس سے ہمارے تعلقات اور پختہ ہوں گے۔ ہر ایڈریس کے بعد کچھ لوگ کھڑے ہو کر اپنا روایتی استقبالیہ گیت پیش کرتے تھے۔

ایک نظم کے بعد ماؤری پروٹوکول کے مطابق بادشاہ نے آگے بڑھ کر حضورِ انور سے مصافحہ کیا۔ اسی طرح دیگر ماؤری Elders اور موجود لوگ باری باری جماعت کے وفد سے ملے اور خیر سگالی کے جذبات اور تعلق کا اظہار کیا۔

بعدازاں ماؤری روایات کے مطابق حضورِ انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کو اس ہال سے باہر ملحقہ برآمدے میں لے جایا گیا جہاں آج کے اس استقبال کا پروگرام منعقد ہوا۔

حضورِ انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے ماؤری بادشاہ کو قرآن کریم کا ماؤری زبان میں ترجمے کا تحفہ دیا اور کرسٹل سے بنا ہوا مینارۃ المسیح دیا۔ ماؤری بادشاہ نے بھی حضورِ انور کی خدمت میں ایک تحفہ پیش کیا۔

بعدازاں حضورِ انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے اپنے مختصر خطاب میں ماؤری بادشاہ کا شکریہ ادا کیا۔
بعدازاں ماؤری بادشاہ کا بیٹا اور بعض دیگر ماؤری سرکردہ حکام حضورِ انور کو باہر گاڑی تک چھوڑنے آئے اور حضورِ انور کو انتہائی عزت و احترام کے ساتھ رخصت کیا۔

(الفضل 25 نومبر 2013ء)

2نومبر 2013ء کو نیوزی لینڈ کی پہلی مسجد بیت المقیت کے افتتاح کے سلسلہ میں تقریب منعقد ہوئی۔ جس میں ماؤری بادشاہ نے بھی شرکت کی۔

بعدازاں ماؤری بادشاہ کے ساتھ حضورِ انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز بیت کے داخلی حصہ میں تشریف لے گئے جہاں ماؤری بادشاہ نے حضورِ انور کے ساتھ تصویر بھی بنوائی اور اپنی روایت کے مطابق ناک سے ناک لگا کر حضورِ انور سے ملے اور تصویر بنوائی۔ اخبارات کے جرنلسٹ اس موقع پر موجود تھے جنہوں نے موقع پر تصاویر بنائیں اور اگلے روز اخبار Sunday Star Times نے اپنے فرنٹ پیج پر بڑے سائز میں یہ تصویر شائع کی۔

(الفضل 2 دسمبر 2013ء)

حضرت مسیح موعود کے الہام ‘‘وہ بادشاہ آیا’’ کے مطابق ایک طرف حضورِ انور ان بادشاہوں کو دعوت حق دے رہے ہیں اور دوسری طرف یہ بادشاہ محبت اور خلوص کے جذبات لے لے کر آرہے ہیں اور انشاء اللہ ان کے رابطوں سے نئے جہان پیدا ہوں گے جو احمدیت اور انسانیت کے لیے نئی خوشیوں کا سامان لے کر آئیں گے۔

ہمارے گرد سنہری ہوا چلا دی ہے
کسی بزرگ نے ہم کو بڑی دعا دی ہے
ہمیں زمانے کی گرد سفر سے کیا لینا
کہ خضر راہ نے منزل ہمیں دکھا دی ہے

وَسِّعْ مَکَانَکَ

‘‘وسع مکانک’’ یعنی اپنے مکان کو وسیع کر کا الہام حضرت مسیح موعود کو 3 دفعہ ہوا۔ 1882ء، 1903ء، 1907ء۔

چنانچہ یہ الہام جماعت کی زندگی کے ہر دن میں پورا ہورہا ہے۔ قادیان کی وسعت سے لے کر ربوہ کی تعمیر تک، بیرون پاکستان کے تمام مشنز، مساجد کی مرکزی اور ذیلی تنظیموں کی جائیدادیں، جلسہ گاہ وغیرہ سب اسی الہام کے تابع ہیں اور ان میں توسیع کا عمل بھی جاری ہے۔ خلافت خامسہ میں مسجد بیت الفتوح لندن کا افتتاح ہوا، پھر حضور نے اس میں اضافہ اور تزئین نو کی تحریک فرمائی جس پر کام جاری ہے۔

حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ نے 15 فروری 2014ء کو طاہر ہاؤس لندن میں نئے ویئر ہاؤس اور مرکزی دفاتر کے نئے بلاک کا افتتاح فرمایا۔ 2002ء میں خریدی جانے والی اس عمارت میں 8 شعبے اور 9 کارکن تھے۔ اب شعبہ جات اور کارکنان اور رضاکاران کی تعداد میں خاطر خواہ اضافہ ہو چکا ہے۔ اس عمارت میں موجود دفاتر میں ریویو آف ریلیجنز، التقویٰ، ایم ٹی اے، اشاعت، وقفِ نَو، احمدیہ آرکائیوز، مرکزی شعبہ AIMS، مرکزی خدام، لجنہ اور انصار ڈیسک، رشین، بنگلہ اور ترکش ڈیسک، مرزا شریف احمد فاؤنڈیشن، مخزنِ تصاویر اور الفضل انٹرنیشنل وغیرہ کے شعبہ جات شامل ہیں۔

گھانا میں خدام الاحمدیہ کے مرکزی دفتر ایوانِ خدمت کی تین منزلہ عمارت کا افتتاح 8اپریل 2018ءکو ہوا ہے۔ قادیان میں ظہورِ قدرت ثانیہ کے مقام پر شاندار یادگار تعمیر کی گئی ہے۔

اسلام آباد ٹلفورڈ میں حضور کی رہائش گاہ، مسجد اور مرکزی دفاتر تعمیر ہو چکے ہیں اور حضور اپنی نئی رہائش گاہ میں قیام فرما ہیں۔ گذشتہ جمعہ 17؍ مئی کے روز مسجد مبارک (اسلام آباد) کا پر شوکت افتتاح ساری دنیا نے براہِ راست نظارہ کیا۔ قادیان میں ظہورِ قدرت ثانیہ کے مقام پر شاندار یادگار تعمیر کی گئی ہے۔

پھرنورمسیحاسےسجاقصرِخلافت
لندن کو مبارک ہو نیا قصرِخلافت
سرچشمہ ہدایت کا رہا اور رہے گا
ہے لاکھوں دعاؤں کا صلہ قصرِخلافت

لنگرخانوں میں وسعت

1874ء کے ایک رؤیا میں ایک فرشتے نے حضرت مسیح موعود کو نان دیتے ہوئے کہا:

یہ تیرے لیے اور تیرے ساتھ کے درویشوں کے لیے ہے۔

(نزول المسیح۔رو جلد18 ص207)

ایک دوسری روایت میں ہے کہ فرشتے نے دو روٹیاں دیں اور کہا ایک تمہارے لیے ہے اور دوسری تمہارے مریدوں کے لیے ہے۔

(سیرت المہدی جلد 3 ص 885۔ تذکرہ ص 67)

جماعت کی تاریخ میں ایک دن بھی ایسا نہیں آیا جب حضرت مسیح موعود کا لنگر بند ہوا ہو یا کوئی کمی آئی ہو۔ پہلے صرف مرکزِ خلافت میں یہ لنگر تھا اب تو ہر بڑی جماعت اور ہر بڑے شہر میں یہ لنگر وسعت پذیر ہے۔ جماعت کی افرادی قوت اور سرگرمیوں کی وجہ سے لنگر بڑھ رہے ہیں۔

اس وسعت کا ذکر حضرت مصلح موعودؓ کے رؤیا میں بھی ہے۔

یہ رؤیا غالباً فروری 1954ء کی ہے۔

فرمایا: میں نے دیکھا کہ قادیان میں ایک نیا لنگر خانہ بنا ہے نہایت وسیع اور شاندار ہے میں اس کے معائنہ کے لیے گیا ہوں۔ سامان کا کمرہ اتنا وسیع ہے کہ بندرگاہوں کے بڑے گودام بھی اس کے سامنے ہیچ معلوم ہوتے ہیں کوئی دو اڑھائی سو گز لمبا اور کوئی ڈیڑھ سو گز چوڑا وہ کمرہ ہے۔ سامان کو گردوغبار سے بچانے کے لیے چھت سے زنجیروں سے بندھے ہوئے پھٹے لٹکے ہوئے ہیں جن پر اجناس کی بوریاں دھری ہیں شاید لاکھوں کی ضیافت کا سامان ہے اس کے علاوہ دور تک تنوروں اور چولہوں کے لیے جگہ بنی ہوئی ہے اور دیگر اشیاء کے سٹور ہیں ایک بڑے قصبہ کے برابر وہ لنگرخانہ ہے اس وقت میں کہتا ہوں کہ موجودہ ضرورتوں کے مطابق میں نے یہ لنگرخانہ بنوایا ہے جب ضرورت بڑھ جائے گی میں اسے اور بڑھا دوں گا اس وقت مجھے معاً خیال آیا کہ اور جگہ کہاں ہے مگر پھر ذہن میں آیا کہ اور جگہ ہے اور اس لنگر کو اس طرف بڑھایا جاسکتا ہے۔

(الفضل 24 ستمبر 1954ء ص3)(رؤیا و کشوف سیدنا محمود ص524)

قادیان اور ربوہ میں لنگرخانوں میں اس دور میں بے پناہ وسعت پید اہوئی ہے۔ ربوہ میں 7منزلہ نئی عمارت اس رؤیا کی صداقت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔

اب تو اللہ کے فضل سے قادیان، ربوہ، لندن اور جرمنی میں روٹی پلانٹ بھی لگ گئے ہیں۔ جو صرف احمدیوں کی نہیں کثیر تعداد میں آنے والے مہمانوں کی ضرورت بھی پوری کر رہے ہیں۔

حضور نے 4 ستمبر 2015ء کو خطبہ جمعہ میں فرمایا:

قادیان ہی نہیں بلکہ قادیان سے باہر بھی دنیا کے کئی ممالک میں آپ کا لنگر چل رہا ہے۔ اُس وقت تو شاید دو تین تنوروں پرروٹی پکتی ہو اور لنگر چل رہا تھا اور آج ہم دیکھتے ہیں کہ آپ کے لنگروں میں روٹی کے پلانٹ لگے ہوئے ہیں۔ قادیان میں بھی، ربوہ میں اور یہاں لنگر میں بھی لاکھوں روٹیاں ایک وقت میں پکتی ہیں۔ اللہ کے فضل سے یہاں جلسہ پر جو انتظامات ہیں ان میں بڑا وسیع لنگر کا انتظام ہے۔ جیساکہ میں پہلے پچھلے جمعہ ذکر کر چکا ہوں، اس دفعہ بہت سارے جرنلسٹ بھی آئے ہوئے تھے۔ اخباری نمائندے آئے ہوئے تھے۔ وہ لنگر کے انتظام کو دیکھ کے، کھانا پکتے دیکھ کے، روٹی پلانٹ کو دیکھ کے بڑے متاثر ہوئے ہیں۔ مشین کی روٹی ساروں کو پسند آئی۔ ایک جرنلسٹ جو دیکھ رہے تھے انہوں نے وہاں کھڑے کھڑے کھانے کی خواہش کی۔ انہیں روٹی دی گئی تو ان کو بڑی پسند آئی اور کھا گئے۔ پھر انہوں نے کہا اور کھا سکتا ہوں؟ تو احمدی نے جو اُن کے ساتھ تھے کہا کہ بیشک کھائیں، جتنی مرضی کھائیں کیونکہ یہ مسیح کا لنگر ہے یہاں کوئی کمی نہیں ہے۔

پس کیا وہ زمانہ تھا کہ ایک مہمان آتا تھا تو آپ اپنا کھانا اسے دے دیتے تھے اور خود فاقہ کرتے تھے اور کہاں آج کہ دنیا کے مختلف ممالک میں ہزاروں لوگ آپ کے دستر خوان سے کھانا کھا رہے ہیں اور یہ بھی انتہا نہیں ہے۔ ابھی تو ان لنگروں نے دنیا کے مختلف ممالک میں پھیلنا ہے۔ انشاء اللہ۔ لاکھوں لوگوں نے، کروڑوں لوگوں نے آپ کے دستر خوان سے کھانا کھانا ہے۔

(الفضل 20؍اکتوبر 2015ء)

اسی طرح جرمنی اور لندن میں دیگیں دھونے کی مشینیں بھی بنائی گئی ہیں جو اس شعبہ کے ماہرین کے لیے بھی تعجب کا موجب ہیں۔

افرادی قوت میں اضافہ

حضرت مسیح موعودؑ فرماتے ہیں:

وہ زمانہ چلا آتا ہے بلکہ قریب ہے کہ خدا اس سلسلہ کی دنیا میں بڑی قبولیت پھیلائے گا اور یہ سلسلہ مشرق اور مغرب اور شمال اور جنوب میں پھیلے گا۔

(تحفہ گولڑویہ۔روحانی خزائن جلد17 ص182)

جماعت کی تعداد تین لاکھ تک پہنچ چکی ہے اور دن بدن ترقی ہو رہی ہے اور یقینا کروڑوں تک پہنچے گی۔
(لیکچر لدھیانہ۔روحانی خزائن جلد20 ص250)

اس الہام کے تابع بھی جماعت کی افرادی قوت مسلسل بڑھ رہی ہے۔ حضرت خلیفۃ المسیح الرابعؒ نے 1993ء میں عالمی بیعت کا سلسلہ شروع فرمایا تھا۔ 2018ء کی عالمی بیعت کی تقریب میں 6لاکھ نئے احمدیوں نے بیعت کی توفیق پائی۔

ذرائع سفر کی ترقیات

حضرت مفتی محمدصادق صاحب رفیق حضرت مسیح موعود علیہ السلام 1920ء میںبرطانیہ میںتبلیغ میں مصروف تھے کہ حضرت مصلح موعود نے آپ کو امریکہ میںاحمد یہ مشن کھولنے کا ارشاد فرمایا اور آپ26 جنوری 1920ء کو انگلستان سے روانہ ہوئے اور15فروری کو فلاڈلفیاکی بندرگاہ پر اترے۔

حضرت مفتی محمدصادق صاحب نے امریکہ سے ایک مضمون جلسہ سالا نہ 1920ء پر سنانے کے لیے بھیجا جو28دسمبرکوسنایاگیا۔اس میں اپنے سفر اورجہاز کی تکالیف کاذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں۔

جہاز کی سواری بالخصوص ایسے ایام میں جبکہ ہوا تیز ہو۔میرے واسطے ایک مصیبت کا سامنا ہوتا ہے۔اتفاق سے مجھے ایسا جہاز ملا۔ جس نے بعض سرکاری ضرورتوں کی خاطراِدھر اُدھرکے بندرگاہوں میں اتنے چکر لگائے کہ پانچ روز کا سفر انیس روز میں طے ہوا۔ ہواتیز تھی۔ اس واسطے جہاز کی حرکت سے سرکا چکرانا۔ جی متلانا۔قے ہونا اور کئی قسم کی تکالیف ہوئیں۔ کئی دن بستر سے سراٹھانامشکل ہوگیا اول توکچھ کھانے کی خواہش ہی نہ ہوتی۔ اورجوکچھ تھوڑا بہت کھایاجاتا وہ بھی لیٹے ہی لیٹے۔ اس سے بڑھ کردوسری تکلیف یہ کہ جہازمیںجوکچھ کھاناملتا۔اس میںسے گوشت اور گوشت سے بنی ہوئی اشیاء شورباوغیرہ سب چھوڑنی پڑتی۔کیونکہ وہ مشکوک تھیں۔

ان سب حالات کو دیکھ کراور پھراس کے ساتھ راہداری کی تکالیف کوپاکرمجھے بارہا خیال آیاکہ ہمیںایک اپنا احمدیہ جہاز بناناچاہیے جوہمارے مشنریوںکو مختلف ممالک میںپہنچائے اور احمدیوںکو حج کے واسطے بمبئی سے جدہ لے جائے اور حسب گنجائش احمدیوںکے علاوہ دوسرے مسافربھی سوار ہوں ۔ یہ جہازبڑے سائز کا ہونا چاہیے تاکہ اس میں جنبش کم ہو۔اورآج تک جس قدرترقیات جہاز سازی میں ہوچکی ہیں ۔وہ سب اس میں شامل ہونی چاہئیں اور اللہ تعالیٰ کے فضل پراُمیدرکھتاہوں کہ وہ دن دُورنہیں کہ ایسا جہاز تیارہوجائے۔

(الفضل 17جنوری 1921ء)

اس خواہش کی بازگشت 1924ء میں حضرت مصلح موعود کے سفر یورپ میں سنائی دیتی ہے۔ جب حضور نے بذریعہ بحری جہاز بمبئی سے سفر یورپ شروع کیا۔ حضرت بھائی عبدالرحمان صاحب قادیانی سفر یورپ کی ڈائری میں لکھتے ہیں:۔

چونکہ ہماری قوم کو اب انشاء اللہ جہازی سفروں کا کثرت سے موقع ملنے والا ہے کیونکہ حضور کا منشاء ہے کہ جہاز اپنے بنوائے جائیں تاکہ تجارتی اور (تبلیغ کی) اغراض میں معاون ہوسکیں۔

(سفر یورپ 1924ء ص37)

حضرت مصلح موعود نے 1936ء کی مجلس مشاورت میں ایک عجیب رنگ میں اس خواہش کا اظہار کیا۔

میں نہیں جانتا کہ دوسرے دوستوں کا کیا حال ہے لیکن میں تو جب ریل گاڑی میں بیٹھتا ہوں میرے دل میں حسرت ہوتی ہے کہ کاش! یہ ریل گاڑی احمدیوں کی بنائی ہوئی ہو اور اس کی کمپنی کے وہ مالک ہوں اور جب میں جہاز میں بیٹھتا ہوں تو کہتا ہوں کاش! یہ جہاز احمدیوں کے بنائے ہوئے ہوں اور وہ ان کمپنیوں کے مالک ہوں۔(خطابات شوریٰ جلد2 ص79)

اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے حضرت مصلح موعود اور حضرت مفتی محمد صادق صاحب کی خواہش کو حیرت انگیز اور عجیب رنگ میں پورا فرمایا ہے۔

حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ صدسالہ خلافت جوبلی سال کے دوران دورہ امریکہ 2008ء کے بعد جس جہاز سے کینیڈا تشریف لے گئے اسے خلافت فلائٹ کانام دیا گیا۔ یہ سفر 24 جون 2008ء کو Continental ایئرلائن پر کیا گیا۔ منعم نعیم صاحب (نائب امیر یو ایس اے) اس کے وائس پریذیڈنٹ ہیں۔

اس جہاز میں سفر کرنے والے احباب کی تعداد 27 تھی۔ جو بورڈنگ کارڈ مہیا کیا گیا اس پر صد سالہ خلافت جوبلی کا لوگو (Logo) بنا ہوا تھا اور ایک طرف منارۃ المسیح کی تصویر تھی۔ بورڈنگ کارڈ کے اوپر لکھا ہوا تھا Khilafat Flight اور ایک حصے پر Ahmadiyya Muslim Community لکھا ہوا تھا اور نچلے حصہ میں Khilafat Centenary Celebrationکے الفاظ درج تھے۔

جہاز کی روانگی کے بعدمنعم نعیم صاحب نے جہاز کے سٹاف کی طرف سے یہ اعلان کیا۔

‘‘خاکسار منعم نعیم پیارے آقا کی خدمت میں، حضرت بیگم صاحبہ مدظلہا کی خدمت میں السلام علیکم اور خوش آمدید کہتا ہے۔ ہم اس وقت پیارے آقا کے ہمراہ ‘‘خلافتِ احمدیہ’’ کی فلائٹ 2008ء پر ٹورانٹو کی جانب رواں دواں ہیں۔ یہ فلائٹ کانٹی نینٹل ایئرلائن کی چارٹرڈ ڈویژن کی جانب سے چلائی جارہی ہے۔ آپ اس وقت برازیلین کمپنی Embrey E.R.J کے تیار کردہ جہاز پر سفر کررہے ہیں۔ اس طرح کے 250 جہاز کانٹی نینٹل ایئرلائن کے Fleet میں ہیں۔ اس کے علاوہ 350 بڑے جہاز جن میں بوئنگ 777، بوئنگ 767، بوئنگ 757 اور بوئنگ 737کے ماڈل ہمارے Fleet میں شامل ہیں۔ کانٹی نینٹل ایئرلائن اس وقت دنیا کی چوتھی بڑی ایئرلائن ہے۔ اس سفر کی تفصیلی روئیداد الفضل 11 جولائی 2008ء میں شائع ہوچکی ہے۔2018میں حضور کے دورہ امریکہ کے وقت حضور کو اسی طرح اعزاز کے ساتھ سفر کروایا گیا۔

حضور کے عالمی دورے

مسیح کے لفظ میں سیاحت کی طرف بھی اشارہ ہے جیسا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے فلسطین سے کشمیر کا لمبا سفر کیا اسی طرح رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مسیح موعود اور امام مہدی کو ذوالقرنین بھی قرار دیا ہے۔ حضرت جابر بن عبداللہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا ذوالقرنین مشرق و مغرب میں پہنچا۔اللہ تعالی اس کی یہی سنت میرے بیٹے امام مہدی میں قائم کرے گا اور وہ مشرق و مغرب کے دور دراز علاقوں اور پہاڑوں میں بلند و پست ہرجگہ پر پہنچے گا اللہ اس کے لیے زمین کے خزانے اور معدن ظاہر فرمائے گا اور رعب سے اس کی مدد کرے گا اور وہ زمین کو عدل و انصاف سے بھر دے گا جس طرح وہ ظلم و جور سے بھر چکی تھی۔

( اکمال الدین صفحہ 364 365 ابو جعفر محمد بن علی بابویہ القمی متوفی381 ھ بیروت لبنان )

حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ذوالقرنین ہونے کا بھی دعویٰ فرمایا اور آپ اور آپ کے خلفاء دعوت حق کے لیے مسلسل سفر اختیار کرتے رہے ۔حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالی بنصرہ العزیز نے بھی اس سنت کو قائم رکھتے ہوئے سفرو ں کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے ایک محتاط اندازے کے مطابق حضور نے منصب خلافت پر متمکن ہونے کے بعد 2003ءسے لے کر 2018ء کے آخر تک 29 ممالک کے 110 دورے فرمائے۔جس میں1073 کے قریب دن صرف ہوئے103 مساجد کا افتتاح فرمایا 42 مساجد کا سنگ بنیاد رکھا۔ ایک لاکھ ستاسی ہزار کے قریب احباب جماعت سے ملاقات ہوئی اور جن غیر احمدی عمائدین سرکاری افسران اور دانشوروں سے ملاقات ہوئی ان کی تعداد14200 کے لگ بھگ ہے ۔تبلیغی مہمات، خطبات جمعہ ، جلسہ سالانہ اور دیگر تقاریب سے خطاب ذیلی تنظیموں اور دوسری مجالس کو ہدایات ، تقاریب آمین مجالس عاملہ کی رہنمائی ،تقسیم انعامات واعزازات اس کے علاوہ ہیں۔

(الفضل انٹرنیشنل 19؍ اپریل 2019ء)

حرمَین ہائی سپیڈ ریلوے

حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانے کی اہم علامات میں سے ایک پرانے ذرائع سفر یعنی اونٹنیوں وغیرہ کا متروک ہو نا اور جدید سفر کے ذرائع کی ایجاد بھی ہے جیسا کہ سورہ تکویر اور پھر احادیث میں بھی ذکر ہے ان کے مطابق جدید ذرائع سفر ایجاد ہوئے جن میں موٹریں ریل گاڑیاں اور جہاز شامل ہیں اور یہ سلسلہ بڑھتا جا رہا ہے۔

حضرت مسیح موعود کے زمانہ میں یہ پیش گوئی لفظا ً لفظا ً پوری ہو چکی ہے آپ کی زندگی میں حجاز ریلوے بن رہی تھی جس نے دمشق سے مدینہ تک چلنا تھا اس لیے حضور نے ایک ضمنی نشان کے طور پر اپنی کتب میں اس کا ذکر فرمایا مگر بعد میں یہ منصوبہ رُک گیا اور تقریبا ًسو سال تک رکا رہا۔

لیکن اب یہ پیش گوئی خلافت خامسہ میں ایک نئے رنگ میں پوری ہوئی ہے اور حرمین ہائی اسپیڈ ریلوے کا افتتاح سعودی عرب کے بادشاہ نے 25ستمبر 2018ءکو کیا اور یہ ریلوے 11؍ اکتوبر 2018سے جدہ مکہ اور مدینہ کے درمیان چل رہی ہے اور اسلام کی صداقت ایک نئے انداز میں ظاہر کر رہی ہے۔ (الفضل انٹرنیشنل 12؍ اپریل 2019ء)

ایسی تیز ہوا اور ایسی رات نہیں دیکھی
لیکن ہم نے مولا جیسی ذات نہیں دیکھی
صدیوں کی اس دھوپ چھاؤں میں کوئی ہمیں بتلائے
کونسی پوری ہوتی اس کی بات نہیں دیکھی

مساجد کی تعمیر

علامہ برزنجی تحریر فرماتے ہیں:

مہدی ساری دنیا کو اسی طرح فتح کریں گے جس طرح ذوالقرنین اور سلیمان علیہ السلام نے فتح کیا تھا۔ وہ تمام آفاق میں داخل ہوں گے جیسا کہ بعض روایات میںآتا ہے۔ اور وہ سب شہروں میں مساجد بنائیں گے۔

(الاشاعۃ لاشراط الساعہ ص 106 دارالکتب العلمیہ بیروت از محمد بن رسول الحسینی البرزنجی)

خلافت خامسہ میں حضور نے مساجد کی تعمیر کی طرف خصوصی توجہ فرمائی۔ حضرت خلیفۃ المسیح الرابع نے جرمنی میں 100 مساجد کی تحریک فرمائی تھی۔ حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ نے اس کی رفتار تیز کرنے کی ہدایت فرمائی اور اب جرمنی میں 52مساجد مکمل ہوچکی ہیں، 6 زیرِ تعمیر ہیں، اور 7کا سنگِ بنیاد رکھا جا چکا ہے۔ جرمنی میں ہی حضور نے برلن مسجد کی بنیاد رکھی جس کی ابتدائی تحریک خلافت ثانیہ میں ہوئی تھی مگر مختلف وجوہ کی بناء پر یہ تعمیر نہ ہو سکی۔ حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ نے 2 جنوری 2007ء کو بیت خدیجہ برلن کا سنگ بنیاد رکھا۔

100 مساجد کی یہی سکیم حضور نے افریقن ملکوں میں بھی عطا کی تھی۔ چنانچہ کئی ممالک میں یہ سلسلہ تیزی سے جاری ہے۔

حضور نے کینیڈا میں کئی مساجد کا سنگ بنیاد رکھا۔کیلگری کی مسجد کینیڈا کی سب سے بڑی مسجد ہے۔

فرانس کی پہلی باقاعدہ مسجد کا سنگ بنیاد 26 جنوری 2007ء کو اور کمبوڈیا کی پہلی مسجد نورالدین کا افتتاح 17 مارچ 2004ء کو ہوا۔

جن ممالک میں جماعت کی مساجدنہیں تھیں یا صرف ایک مسجدتھی حضور نے ان میں مساجد بنانے اور اضافے کی تحریک فرمائی۔ ان میں خصوصیت سے ناروے پرتگال، سپین اور ہالینڈ شامل ہیں۔

اس طرح خلافت خامسہ میں 3000 سے زائد نئی مساجد تعمیر ہوچکی ہیں اور بہت سی بنی بنائی ملی ہیں۔ کئی ممالک میں پہلی دفعہ مسجد تعمیر ہوئی۔ اس میں آئرلینڈ، مڈغاسکر، برازیل، جاپان بھی شامل ہیں۔

بیت الفتوح میں ہونے والے افسوسناک سانحہ کے بعد حضورِ انور نے اس کی تعمیرِ نَو کے لیے تحریک فرمائی۔ اب اللہ تعالیٰ کے فضل سے اس کی تعمیر کا کام بھی تیزی سے جاری ہے۔

عالمی بیعت خلافت

خلافت خامسہ میں جماعتی ترقیات کی پہلی اینٹ انتخاب خلافت کے چند لمحوں بعد رکھی گئی۔ جب مواصلاتی رابطوں کے ذریعہ کل عالم کے احمدیوں نے اجتماعی بیعت کرکے مذاہب عالم اور خلافت کی تاریخ میں ایک نیا جھنڈا نصب کیا اور یہی پرچم ہمیں خلافت خامسہ کے ہر صبح و شام لہراتا ہوا نظر آتا ہے۔

اسی ضمن میں حضرت ابوسعید خدریؓ سے مروی حدیث رسول ہے۔ ‘‘فتاتیہ الخلافۃ ولم یھرق فیھا عجمۃ من دم’’۔(ناسخ التواریخ لعلامہ مجلسی جلد1 ص186 مطبوعہ ایران)

یعنی مہدی موعود کی خلافت کا قیام نہایت امن پرور ماحول میں ہوگا اور اس کے لیے کھجور کی گٹھلی کے برابر بھی خون نہیں بہایا جائے گا۔

سبحان اللہ ! جہاں پچھلی دو صدیاں خون کے طوفان میں گھری ہوئی ہیں وہاں خلافتِ احمدیہ کا سوسالہ نظام صلح، آشتی اور عالمی اخوت کے پُرامن ماحول میں پروان چڑھ رہا ہے جو سینکڑوں نشانوںسے بڑھ کر عظیم معجزہ ہے۔

جامعہ احمدیہ میں وسعت پذیری

حضرت مصلح موعود کے دل میں تبلیغ کا بےکراں جذبہ موجزن تھا۔ آپ جماعت کے ہر فرد کو داعی الی اللہ بنانا چاہتے تھے۔ واقفین کی تعداد بڑھانے کی ترغیب بھی دیتے تھے۔ جاگتی آنکھوں سے خواب دیکھتے دیکھتے داعیان الی اللہ کو 20لاکھ تک پہنچا دیتے تھے۔(الفضل 28؍اگست 1959ء)

حضرت مصلح موعودؓ نے 1945ء میں بیرونی ممالک میں مدرسے جاری کرنے کی سکیم پیش کرتے ہوئے فرمایا:

خوب یاد رکھو کہ اللہ تعالیٰ احمدیت کی تبلیغ کے نئے رستے جلد کھولنے والا ہے اور ہمیں ہزاروں مبلغین کی ضرورت ہوگی اور اگر آج تیاری شروع کی جائے تو آٹھ سال کے بعد پہلا پھل مل سکے گا اور اس وقت تک ہم تبلیغ وسیع پیمانے پر نہ کرسکیں گے۔ اس لیے میں یہ بھی چاہتا ہوں کہ گریجوایٹ اور مولوی فاضل نوجوان اپنے آپ کو پیش کریں تا انہیں جلد سے جلد کام پر لگایا جاسکے۔ ایسے نوجوان دو سے چار سال تک کے عرصہ میں کام کے قابل ہوسکیں گے اور ان سے وقتی ضرورت کو پورا کیا جاسکے گا۔ مگر اصل چیز تو یہ ہے کہ ہر سال مدرسہ احمدیہ میں سو دو سو طالب علم داخل ہوتے رہیں۔

اس کا دوسرا قدم یہ ہوگا کہ ہندوستان کے مختلف صوبوں میں ہم ایسے ہی مدرسے جاری کریں گے اور پھر مختلف ملکوں میں عرب، مصر، فلسطین، شام اور دیگر ممالک میں اسی طرز پر اور اسی کورس پر مدرسے جاری کیے جائیں گے۔ یہاں سے تعلیم مکمل کرنے کے بعد آدمی جائیں گے اور وہاں ایسے مدرسے چلائیں گے۔ تا ان ممالک کی تبلیغ اور تعلیمی ضرورت کے لیے آدمی تیار ہوسکیں۔ تمام ممالک میں ایسے مدرسے ہمیں جاری کرنے ہوں گے۔ حتیٰ کہ یورپ اور امریکہ میں بھی۔ پھر ان میں سے چند منتخب طالب علم یہاں آکر رہیں گے اور مکمل تعلیم حاصل کرنے کے بعد وہاں جاکر کام کریں گے اور اس طرح مرکز سے گہرا تعلق ان ملکوں کو پیدا ہوتا رہے گا۔ (خطبات محمود 1945ء صفحہ 17)

پھر حضور نے خطبہ جمعہ 12۔اپریل 1946ء میں فرمایا:

ضروری ہے کہ جماعت کے بڑھنے کے ساتھ ہی علماء کی تعداد بھی ہماری جماعت میں بڑھتی چلی جائے۔ اس وقت ہماری جماعت میں علماء پیدا کرنے کا ذریعہ مدرسہ احمدیہ اور جامعہ احمدیہ ہے۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ ایک زمانہ ایسا بھی آنے والا ہے جب ہماری ضروریات کے لیے صرف مرکزی مدارس ہی نہیں ہندوستان کے کالج اور سکول بھی کافی نہیں ہوں گے اور ہمیں دنیا کے گوشہ گوشہ میں مدرسہ احمدیہ اور جامعہ احمدیہ قائم کرنے پڑیں گے۔ بلکہ ہر براعظم میں ہمیں ایک بہت بڑی یونیورسٹی قائم کرنی پڑے گی جو دینیات کی تعلیم دینے والی ہو اور جس سے تبلیغ کو زیادہ سے زیادہ وسیع کیا جاسکے۔

(خطبات محمود جلد 27 صفحہ 166)

آپ نے جامعہ احمدیہ کو مضبوط بنیادوں پر قائم فرمایا۔ بیرون ہند اس کی شاخیں کھلنی شروع ہوئیں اور دنیا کے بارہ ممالک میں 13 جامعات قائم ہیں۔ سینکڑوں بچے ان سے فارغ التحصیل ہوچکے ہیں۔ 1987ء میں حضرت خلیفۃ المسیح الرابعؒ نے تحریک وقف نو کی بنیاد ڈالی اس میں اب تک 60 ہزار سے زیادہ بچے شریک ہوچکے ہیں اور یہ سلسلہ لامتناہی ہے۔

خلافت خامسہ میں جامعہ احمدیہ کینیڈا کا آغاز 2003ء میں ہوا، جامعہ احمدیہ لندن کا افتتاح یکم اکتوبر 2005ءکو ہوا۔ 20 ؍اگست 2008ء کو جامعہ احمدیہ جرمنی کا افتتاح ہوا۔ اس موقع پر حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے خطاب کرتے ہوئے سیدہ امۃ المتین صاحبہ بنت مصلح موعود کی ایک رؤیا اور اس کی تعبیر بیان کرتے ہوئے فرمایا:

جامعہ کے بارے میں چند دن ہوئے۔ میر محمود احمد صاحب نے اپنی اہلیہ کی خواب لکھی جو حضرت مصلح موعود کی بیٹی ہیں۔ انہوں نے دیکھا کہ ایک جہاز ہے اس میں حضرت مصلح موعود کے ساتھ وہ بیٹھی ہوئی ہیں اور جہاز اڑ رہا ہے اور نیچے جامعہ احمدیہ ہے اور جہاز اڑتا چلا جارہا ہے اور نیچے جامعہ احمدیہ چلتا جارہا ہے۔ ختم نہیں ہورہا۔ تو اس کی ایک تعبیر یہ بھی ہے کہ انشاء اللہ تعالیٰ دنیا میں جامعات کھلتے چلے جائیں گے۔ جہاں دینی علم حاصل کرنے والے پیدا ہوتے چلے جائیں گے۔ آئندہ ضرورت کے پیش نظر ہوسکتا ہے کہ جب تعداد بڑھے تو یورپ کے اور ملکوں میں بھی جامعہ کھلیں، امریکہ، کینیڈا اور ساؤتھ امریکہ وغیرہ کے علاقوں میں اور جامعہ کھلیں۔ جزائر میں جامعات کھلیں تو یہ تو کھلتے چلے جائیں گے انشاء اللہ تعالیٰ اور دین کے خادم پیدا ہوتے چلے جائیں گے۔(الفضل 4 ستمبر 2008ء)

الحمد للہ کہ اب خلافت خامسہ میں یہ سلسلہ ترقی پذیر ہے اور نئے نئے ممالک میں جامعہ کا قیام ہورہا ہے اور واعظین اور داعیان کی ایک بڑی تعداد میدان عمل میں پہنچ رہی ہے اور حضرت مصلح موعود کے خواب پورے ہو رہے ہیں۔ 2012ء میں جامعہ احمدیہ انٹرنیشنل گھانا کی بنیاد ڈالی گئی جس میں اب 25 ممالک کے 185 طلباء تعلیم حاصل کررہے ہیں اور 11ممالک کے 39مربیان پر مشتمل دو کلاسیں فارغ التحصیل ہو چکی ہیں ان کے علاوہ بنگلہ دیش اور ملائیشیا میں بھی سات سال کے جامعات احمدیہ نے کام شروع کر دیا ہے۔

قرآن کی آیات تڑپتی ہیں لبوں پر
سینوں میں لیے سوزشِ الہام چلے ہیں
کس ذوق سے کس شوق سے کس جوش سے تنویر
محمود کے جان دادہِ اسلام چلے ہیں

آفات سماوی

امام مہدی کے ظہور کی ایک علامت کثرت زلازل اور طرح طرح کی آفاتِ سماوی کے نتیجہ میں قتل و غارت گری اور موتا موتی بھی ہے۔ حضرت ابو سعید خدری ؓبیان کرتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا ۔

میں تمہیں مہدی کی بشارت دیتا ہوں جو لوگوں کے اختلاف اور زلازل کے وقت آئے گا اور زمین کو عدل وانصاف سے بھر دے گا۔

(مسند احمد۔ حدیث نمبر10898)

اس دَور میں کثرت سے زلازل اور آفاتِ سماویہ ظاہر ہوتی رہی ہیں۔ اور دلچسپ بات یہ ہے کہ رفاہی تنظیمیں جو آفت زدگان کی مدد کو پہنچتی ہیں ان میں حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے ارشاد پر ہیومینٹی فرسٹ صفِ اوّل میں شامل ہوتی ہے۔ اور اس طرح ان مصائب اور آفات کی وجہ سے بھی اسلام کی بے مثال تعلیم کا تعارف لوگوں تک پہنچتا ہے۔

سیلاب اور طوفان

یورپ، امریکہ، آسٹریلیا میں بڑے بڑے سمندری طوفانوں کے علاوہ پاکستان میں 2010ء میں شدید سیلاب آیا۔ اس بارے میں حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ کی رؤیا ایک بار پھر پوری ہوئی۔حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا:

17یا18مارچ( 1951ء)کی شب کو مجھے یہ الہام ہوا کہ سندھ سے پنجاب تک دونوں طرف متوازی نشان دکھائوں گا۔جس وقت یہ الہام ہو رہا تھا میرے دل میں ساتھ ہی ڈالاجاتا تھا کہ متوازی کا لفظ دونوں طرف کے ساتھ لگتا ہے اور دونوں طرف سے مراد یا تو دریائے سندھ کے دونوں طرف ہیں اور یا ریل یا سڑک کے دونوں طرف ہیں جو کراچی اور پاکستان کے مشرقی علاقوں کو ملاتی ہے…… دونوں طرف سے یہ شبہ پڑتا ہے کہ خدانخواستہ اس سے کسی طوفان کی طرف اشارہ نہ ہو کیونکہ بظاہر دونوں طرف سے ظاہر ہونے والا نشان دریاکی طغیانی معلوم ہوتی ہے۔

(الفضل 29مارچ1951ء ص 3)

الغرض پیشگوئیوں کا ایک طویل سلسلہ ہے جو ایک طرف خلافتِ احمدیہ کی صداقت کو آشکار کر رہا ہے تو دوسری طرف خدائے لم یزل کی عظمت کے ترانے گا رہا ہے۔

ایک طرف دنیا کو جنگوں، قتل و غارت، تباہیوں اور بربادیوں کا سامنا ہے۔ تو دوسری طرف خدا کا ایک بندہ امن و انصاف کا جھنڈا اٹھائے ساری دنیا کو خدائے واحد کی طرف بلا رہا ہے۔ اللہ تعالیٰ اس کی ہمیشہ تائید و نصرت فرماتا رہے۔ آمین

تمام خلفاء اپنے اپنے زمانہ میں رسول کریم ﷺ کے نمائندہ اور جانشین ہوتے ہیں اور اللہ تعالیٰ اس کی بشارتیں بھی عطا فرماتا رہتا ہے۔ مثلا ًشام کے عبدالکریم فہد صاحب نے ایک دفعہ احمدیت قبول کرنے سے پہلے رسول کریم ﷺ کو خواب میں دیکھا ۔ ایک عرصہ بعد انہوں نے ایم ٹی اے پر حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ کو دیکھا تو پہچان لیا کہ مجھے خواب میں یہی بزرگ دکھائے گئے تھے اور احمدیت قبول کر لی۔

(بدر قادیان 30نومبر 2017ء)

ہم خوش قسمت ہیں کہ اس عظیم دور میں موجود ہیں اور فیض اٹھا رہے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ہمیںہمیشہ خلافت سے وابستہ رہنے کی توفیق عطافرمائے۔ آمین۔

٭…٭…٭

مزید دیکھیں

متعلقہ مضمون

رائے کا اظہار فرمائیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close