رپورٹ دورہ حضور انور

امیرالمومنین حضرت خلیفۃالمسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کا دورۂ امریکہ اکتوبر 2018ء

(عبد الماجد طاہر۔ ایڈیشنل وکیل التبشیر)

… … … … … … … … …
20؍اکتوبر 2018ء بروز ہفتہ
(حصہ دوم)
… … … … … … … … …


مسجد بیت الصمد بالٹی مور کی افتتاحی تقریب
پروگرام کا آغاز تلاوت قرآن کریم سے ہوا جو مکرم سلمان طارق صاحب مبلغ سلسلہ امریکہ نے کی اور اس کا انگریزی زبان میں ترجمہ پیش کیا۔

بعدازاں نیشنل سیکرٹری امورِخارجہ مکرم امجد محمود خان صاحب نے اپنا تعارفی ایڈریس پیش کیا اور آنے والے مہمانوں کو خوش آمدید کہا۔

اس کے بعد سینیٹر Ben Cardin نے اپنے ایڈریس میں کہا:
عزت مآب خلیفۃ المسیح! ہم آپ کو بالٹی مور میں خوش آمدید کہتے ہیں، آپ نے تشریف لا کر ہماری عزت افزائی فرمائی اورہم آپ کی قیادت سے متاثر ہیں۔ آپ کی جماعت میری لینڈ بالٹی مور امریکہ کو مزید پُرامن بنانے کا باعث ہے۔ آپ کی قیادت بین الاقوامی ہے۔ امن کے قیام کی آجکل جس شدت سے ضرورت ہے ویسی ضرورت پہلے کبھی نہ تھی اور آپ نے ہمیں بتایا ہے کہ ہم بالٹی مور میں اس مقصد کے لئے مزید اچھا کام کرسکتے ہیں۔ مجھے فخر ہے کہ میں میری لینڈ بالٹی مور کے لوگوں کی سینیٹ میں نمائندگی کرتا ہوں اور میرے لئے اعزاز ہے کہ میں آپ کو اس عظیم شہر میں خوش آمدید کہہ رہا ہوں اور بہت ممنون ہوں کہ آپ اپنی بین الاقوامی مصروفیات میں سے وقت نکال کر یہاں امن اور انسانیت کے لئے امید کا پیغام لے کر تشریف لائے۔اللہ تعالیٰ آپ پر فضل فرمائے۔ آمین

اس کے بعد John Robin Smith (جو میری لینڈ کے 71 ویں سیکرٹری آف سٹیٹ ہیں) نے اپنا ایڈریس پیش کرتے ہوئے کہا:
عزت مآب خلیفۃ المسیح اور تمام حضرات وخواتین کا بہت بہت شکریہ۔ گورنر اور ان کی انتظامیہ آپ لوگوں کی یہاں آمد پر بہت خوش ہے اور بہت شکریہ کہ آپ نے مجھے یہاں مدعو کیا۔ میری لینڈ سٹیٹ کو فخر ہے کہ یہ احمدیہ مسلم جماعت یوایس اے کا ہیڈکوارٹر ہے اور یہاں بالٹی مور میں مسجد کا افتتاح یقینًا ایک تاریخی موقع ہے۔ میری لینڈ ایک متنوع آبادی والی ریاست ہے اور یہ تنوع ہر طبقہ میں موجود ہے۔

خلیفۃ المسیح کے سفر کا پروگرام بے حد مصروف ہے اور آپ بہت ہی اہم پیغام لے کر آئے ہیں جو انسانی اقدار کو سمجھتے ہوئے انسانیت کی خدمت کرنا اور امن کا قیام ہے اور یہ ہمارے بہت سے مسائل کے حل کے لئے کارآمد ہے۔ یہ وہ پیغام ہے جو ہم سب مسلمان اور غیرمسلم قبول کر سکتے ہیں۔ مجھے ملک میں اور بیرون ملک بہت سے لوگوں سے ملنے کا اتفاق ہوتا ہے اور بہت سے کلچرز کا مشاہدہ کرنے کا موقع ملتا ہے جس میں مجھے بہت کچھ سیکھنے کا موقع ملتا ہے۔ یہاں بالٹی مور میں بہت سے انٹرنیشنل مہمانوں کو خوش آمدید کہنے کا موقع ملتا رہتا ہے اور میں آپ سب مہمانوں کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔ میں خلیفۃ المسیح کے دنیا کے محفوظ سفر کے لئے دعا گو ہوں، اللہ تعالیٰ آپ پر اپنا بہت فضل فرمائے۔

میں اس موقع پر آپ کو گورنر کی جانب سے جاری کردہ Governor Citation پیش کرنا چاہتا ہوں۔ چنانچہ موصوف نے انگریزی زبان میں تحریر پڑھ کر سنائی جس کا اردو ترجمہ درج ذیل ہے:

’’خوش آمدید

اس صوبہ کے باشندوں کی طرف سے یہ اعلان کیا جاتا ہے۔
بطور اعزاز مسجد بیت الصمد کے افتتاح کے موقع پر، نہایت ادب اور خوشی کے ساتھ عرض ہے۔ میری لینڈ کے باشندے ہمارے ساتھ مل کر اس خوشی کے موقع پر اپنے دلی جذبات کی عکاسی کرتے ہیں۔ نیز مبارک باد پیش کرتے ہوئے ہم یہ گورنر سائیٹیشن پیش کرتے ہیں۔

20؍اکتوبر 2018ء
دستخط
گورنرلاری ہوگن
لفٹیننٹ گورنر بوئدردرفورڈ

جان رابن سمتھ سیکرٹری آف سٹیٹ‘‘
اس کے بعد مکرم صاحبزادہ مرزا مغفور احمد صاحب امیر جماعت یوایس اے نے اختصار کے ساتھ حضورِانور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کا تعارف کرواتے ہوئے کہا:
خواتین وحضرات! یہ ہمارے لئے انتہائی اعزاز کی بات ہے کہ حضرت مرزا مسرور احمد خلیفۃ المسیح الخامس جو کہ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے پانچویں خلیفہ ہیں، ہمارے درمیان موجود ہیں۔ میں حضورِانور سے درخواست کرتا ہوں کہ تشریف لائیں اور اپنے خطاب سے نوازیں۔

حضورِانور ایدہ اللہ تعالیٰ کا خطاب

حضورِانور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کا یہ خطاب 7 بجے شروع ہوا۔حضورِانور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیزنے انگریزی زبان میں خطاب فرمایا۔ اس کا اردو مفہوم یہاں پیش کیا جارہا ہے۔

حضورِانور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے اپنے خطاب کے آغاز میں ’بسم اللہ الرحمن الرحیم‘ پڑھی اور فرمایا:

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔ اللہ تعالیٰ کی رحمتیں اور برکتیں آپ سب پر ہوں۔

سب سے پہلے میں ان تمام مہمانوں کا دلی شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں جو آج وقت نکال کر ہمارے ساتھ اس موقع پر شامل ہورہے ہیں۔ ایسی دنیا میں جہاں مذہب میں دلچسپی زوال پذیر ہے، وہاں آپ کا ایک مذہبی جماعت کے پروگرام میں شامل ہونا قابل ستائش ہے۔ یہ بات اور بھی اہمیت کی حامل ہے کہ آپ مسلمانوں کے ایک پروگرام میں شامل ہورہے ہیں، جہاں ایک مسجد کا افتتاح ہورہاہے، باوجود اس کے کہ آپ میں سے اکثر غیرمسلم ہیں اور ان کی اسلام اور مسجد کے ساتھ کوئی مذہبی یا جذباتی وابستگی نہیں ہے۔ یقیناً آپ سب اس بات سے بخوبی آگاہ ہیں کہ آجکل بہت سے لوگ اسلام اور مسلمانوں کے بارہ میں خوف اور تحفظات میں مبتلا ہیں۔ اس تمام پس منظر میں آپ کی یہاں حاضری قابل تعریف ہے اور مجھے پابند کرتی ہے کہ میں آپ سب کا دلی شکریہ اداکروں۔ نیز میں یہ بھی واضح کردینا چاہتا ہوں کہ شکریہ کے یہ جذبات صرف اخلاقاً نہیں بلکہ اسلام مجھ پر یہ مذہبی فرض عائد کرتا ہے، جیسا کہ پیغمبر اسلام حضرت محمد ﷺ نے ہمیں تعلیم دی ہے کہ جو لوگوں کا شکریہ ادا نہیں کرتا وہ اللہ تعالیٰ کا بھی شکرگزار نہیںہوسکتا۔ اس لئے میں یہ اپنا مذہبی فریضہ سمجھتا ہوں کہ دلی طور پر اخلاص کے ساتھ آپ کا شکریہ اداکروں۔

حضورِانور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا:

میرے خیال میں آپ آج اسلام کے بارہ میں مزید سیکھنے کی اُمید کے ساتھ اور یہ جاننے کے لئے تشریف لائے ہیں کہ ہم نے یہ مسجد کیوں بنائی ہے۔ لوگ اسلام کے بارے میں میڈیا میں جو کچھ دیکھتے اور سنتے ہیں، اس لحاظ سے انہیں توجہ بھی پیدا ہوتی ہے کہ اسلام کے بارے میں حقیقت جاننے کی کوشش کریں۔ ہم جس ماحول میں رہ رہے ہیں، اس میں لوگوں کے ذہنوں میں مسجد کے بارے میں کچھ خدشہ یا خوف ہے تو یہ قابل فہم ہے۔ بے شک دنیا میں مسلمانوں کے خوف کا تاثر بڑھ رہا ہے۔ مجموعی طور پر مسلمانوں کو فساد پیدا کرنے والا اور مسلمانوں کو ایسی قوم سمجھا جاتا ہے جو نہ تو آپس میں اور نہ ہی دوسروں کے ساتھ امن سے رہ سکتے ہیں۔ پھر مسجد کی تعمیر تو اَوربھی زیادہ بے چینی اور خوف پیدا کرتی ہے۔ بہت سے لوگ ڈرتے ہیں کہ مسجد مسلمانوں کو ایک ایسا مرکز مہیا کرے گی جو انہیں باقی معاشرہ سے الگ کردے گی اور مقامی آبادی، شہر اور ملک کا امن وسکون دائو پر لگ جائے گا۔ میں نے غیرمسلم دنیا میں ان خدشات کا خود مشاہدہ کیا ہے۔ بدقسمتی سے یہ بے چینی اور شکوک اسلام اور اس کے ماننے والوں کے متعلق مسلسل بڑھ رہے ہیں۔

حضورِانور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا:

ان تمام باتوں کے باوجود سچ یہ ہے اور ہمیشہ یہی رہے گا کہ اسلام ہر قسم کی شدت پسندی، دہشت گردی اور تشدد کی کلیۃً نفی کرتا ہے۔ یہ ہر اس قدم کی سختی سے مذمت کرتا ہے جس سے آزادیٔ مذہب اور آزادیٔ ضمیر متاثر ہوتی ہے۔ اسلام کسی بھی صورت مذہب کے معاملہ میں کسی جبر اور زبردستی کی اجازت نہیں دیتا بلکہ اسلام تعلیم دیتا ہے کہ مذہب انسان کے دل کا معاملہ ہے اور یہ قرآن مجید میں لکھا ہوا ہے۔ اس لئے میرا یہ مضبوط ایمان ہے کہ غیرمسلموں کے اسلام کے بارہ میں جو تحفظات ہیں ، وہ غلط فہمی پر مبنی ہیں۔

حضورِانور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا:

کوئی بھی مسجد بنانے کے لئے ضروری ہے کہ اسلامی تعلیم کے مطابق اس کی تعمیر کے مقاصد کو سامنے رکھا جائے۔ جب حقیقی مسلمان مسجد بناتے ہیں تو ان کا مقصد کیا ہوتا ہے۔ اگر کوئی انسان منصفانہ نظر سے دیکھے کہ مسجد کیوں بنائی جاتی ہے اور کیا وجہ ہے کہ اسے مسلمانوں کے لئے مقدس سمجھا جاتاہے، تو وہ اس نتیجہ پر پہنچے گا کہ حقیقی مسجد سے ڈرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ اس لئے اب مقامی لوگوں میں پیدا ہونے والی کسی بھی ممکنہ بے چینی کو کم کرنے کے لئے مسجد کے بنیادی مقاصد بیان کروں گا تا کہ آپ کو معلوم ہو کہ یہ مسجد اور تمام حقیقی مساجد کس چیز کی علامت ہیں۔

حضورِانور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا:

مسجد بنانے کا بنیادی مقصد بلاشبہ ایک خدا کی عبادت ہے۔ اس لئے مساجد وہ جگہیں ہیں جہاں مسلمان اکٹھے ہوتے ہیں اور اللہ کے سامنے جھکتے ہیں، سجدہ ریز ہوتے ہیں اور اس کی عبادت کرتے ہیں۔ ایسی عبادت دن میں پانچ دفعہ کی جاتی ہے اور اسے نماز کہتے ہیں۔ یہ ہر مسلمان کے ایمان کا بنیادی حصہ ہے جو اس کے لئے بجالانا واجب ہے۔ دوسرا اہم مقصد مساجد کا یہ ہے کہ ایک ایسی جگہ جہاں مسلمان اکٹھے ہو کر عبادت کرسکیں اور آپس کے تعلقات کو مضبوط بناتے ہوئے معاشرے میں اتحاد پیدا کرسکیں۔ لہٰذا مساجد کے ذریعہ سے مسلمان زیادہ آسانی سے معاشرہ میں حسن سلوک، ہمدردی اور بھائی چارہ کی فضاء قائم کرسکتے ہیں۔ تیسرا اہم مقصد کسی بھی مسجد کا یہ ہے کہ غیرمسلموں کو اسلام کی تعلیمات کے متعلق آگاہی دی جائے اور تمام معاشرے کے حقوق ادا کئے جائیں۔ یہ مساجد ایک پلیٹ فارم مہیا کرتی ہیں تاکہ مسلمان متحد ہو کر اپنی مقامی آبادی کی خدمت کرسکیں اور معاشرے کے تمام افراد کی بلاتمیزرنگ ونسل مدد کرسکیں۔

اللہ تعالیٰ قرآن مجیدکی سورۂ نساء آیت 37 میں فرماتاہے:

’اور اللہ کی عبادت کرو اور کسی چیز کو اس کا شریک نہ ٹھہرائو اور والدین کے ساتھ احسان کرو اور قریبی رشتہ داروں سے بھی اور یتمیوں سے بھی اور مسکین لوگوں سے بھی اور رشتہ دار ہمسایوں سے بھی اور غیررشتہ دار ہمسایوں سے بھی۔ اور اپنے ہم جلیسوں سے بھی اور مسافروں سے بھی اور ان سے بھی جن کے تمہارے داہنے ہاتھ مالک ہوئے۔ یقینًا اللہ اس کو پسند نہیں کرتا جو متکبر (اور) شیخی بگھارنے والا ہو۔‘

اس آیت کریمہ میں قرآن مجید مسلمانوں کو تعلیم دیتا ہے کہ تمام لوگوں سے ہمدردی اور شفقت کا سلوک کیا جائے۔اسلام مسلمانوں سے کہتا ہے کہ وہ والدین، افرادِخانہ، دیگررشتہ داروں اور معاشرے کے بے کس افراد کی بھی خدمت کریں۔ قرآن کریم ہمسائے کے حقوق ادا کرنے پر بھی بہت زور دیتا ہے۔ ہمسائے سے صرف وہی افراد مراد نہیں ہیں جو انسان کے گھر کے ساتھ رہتے ہیں بلکہ اسلام میں ہمسائے کا تصور بہت وسیع ہے۔ صرف وہ جو قریب یا دور رہتے ہیں اس میں شامل نہیںبلکہ ہمسایہ کی تعریف میں انسان کے وہ ساتھی بھی شامل ہیں جو اس کے ساتھ کام کرتے ہوں، یا اس کے ساتھ سفر میں ہوں، اور وہ بھی شامل ہیںجن کا اس کے ساتھ تعلق ہو۔ اس لئے خلاصۃً اس شہر کے تمام افراد اس مسجد کے ہمسائے ہیں۔ اس لئے حقیقی مساجد بجائے معاشرہ کا امن برباد کرنے کے مختلف طبقات اور مذاہب کے افراد کے درمیان امن کو فروغ دیتی ہیں۔ مساجد جہاں مسلمانوں کے اپنے خالق کے ساتھ تعلق کو مضبوط کرتی ہیں وہاں دوسرے لوگوں کے حقوق ادا کرنے میں بھی ممد ہیں۔ وہ مساجد کسی کام کی نہیں ہیں جو یہ اہم مقاصد پورا نہیں کرتیں، ایسی مساجد ان کھوکھلے شیلز کی طرح ہیں جو کسی کام نہیں آتے۔

حضورِانور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا:

ہماری تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ ہم جب مسجد بناتے ہیں تو ان مقاصد کو جو میں نے ابھی بیان کئے ہیں پورا کرنے کی کوشش کرتے ہے۔ ہم اپنے حسن سلوک اور نیک برتائو سے عملی طور پر یہ ظاہر کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ ہم اپنی جماعت کے ماٹو’’محبت سب کے لئے، نفرت کسی سے نہیں‘‘ کو زندہ رکھے ہوئے ہیں۔ ہم دیگر مسلمانوں اور غیرمسلموں سے تعلقات استوار کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ہم بین المذاہب بات چیت کوفروغ دینے کی کوشش کرتے ہیں۔ ہم اپنے ہمسایوں کی قدر اور ان کا خیال رکھتے ہیں۔ ہم ہمیشہ ضرورت پڑنے پر ان کی مدد کے لئے تیار رہتے ہیں۔ ہم کمزوروں اور محروموں کے حقوق ادا کرتے ہیں۔ ہم ہر جگہ معاشرے کی خدمت کے لئے تیار رہتے ہیں اور محب وطن شہری ہیں۔ یہی ہمارا مذہب اور تعلیمات ہیں۔ انہی مقاصد کے لئے ہم مسجد بناتے ہیں۔ میں اُمید کرتا ہوں کہ آپ سب لوگ سمجھ گئے ہوں گے کہ مسجد کوئی ایسی جگہ نہیں ہے جس سے ڈرا جائے۔

حضورِانور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا:

حقیقی مسجد صرف خدا کی عبادت کی جگہ ہی نہیں بلکہ ایک ایسی جگہ ہے جہاں سے مسلمان اکٹھے مل کر دیگر افرادِمعاشرہ کے حقوق ادا کرتے ہیں۔ قرآن مجید کی سورۂ ماعون کی آیات 5 تا 7 میں بیان ہے کہ:

’’پس اُن نماز پڑھنے والوں پر ہلاکت ہے جو اپنی نماز سے غافل رہتے ہیں۔ وہ لوگ جو دکھاوا کرتے ہیں۔ ‘‘

یہ آیات واضح طور پر بیان کرتی ہیںکہ ان لوگوں کی نمازیں ردّ کردی جائیں گی جو اللہ تعالیٰ کی عبادت تو کرتے ہیں مگر اس کی مخلوق کے حقوق ادا نہیں کرتے۔ ان کی نمازوں اور مسجد میں حاضری کی کوئی حقیقت نہیں بلکہ وہ صرف ایک دکھاوا ہے۔ قرآن مجید نے نہایت واضح طور پر بیان کردیا ہے کہ ان کی نمازیں بے معنی ہیں اور ان کے منافقانہ اطوار انہیں صرف ذلت وگمراہی میں بڑھاتے ہیں۔

دراصل حقیقت یہ ہے کہ سچے مسلمان جو مخلص ہو کر اللہ تعالیٰ کی عبادت کرتے ہیں وہ کبھی کوئی ایسا کام نہیں کرسکتے جس سے معاشرے کا مفاد یا امن خراب ہوتا ہو۔ نہ ہی وہ دوسروں کے حقوق غصب کرنے کی کوشش کرتے ہیں کیونکہ ایسا کرنے سے ان کا ایمان خراب ہوتا ہے اور ایسا عمل قرآن کریم اور آنحضرت ﷺ کی تعلیمات کے منافی ٹھہرتا ہے۔

حضورِانور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا:

اس لئے میں آپ کو ایک بار پھر یہ یقین دلانا چاہتا ہوں کہ اس مسجد کے بارہ میں آپ کو کسی بھی قسم کی بے چینی کی ضرورت نہیں۔ اس مسجد کے دروازے ہمیشہ امن پسند لوگوں کے لئے کھلے رہیں گے۔ یہ ہمیشہ ان لوگوں کے لئے کھلے رہیں گے جو انسانیت کی قدر کرتے ہیں۔ میں آپ کو مکمل اعتماد سے کہہ سکتا ہوں کہ انشاءاللہ یہ مسجد امن کی علامت بن کر اُبھرے گی اور اس سے جو پیار، محبت، بھائی چارہ پھوٹے گا وہ اس پورے شہر بلکہ اس سے بھی آگے جائے گا۔ یہ ایک ایسا مینار بنے گی جو چارسو روشنی پھیلائے گی۔ یہ ایسا مقام امن ہوگی جہاں اکٹھے ہوکر عبادت کرنے والے اپنے ہمسایوں سے حسن سلوک کریں گے اور ان کے حقوق ادا کریں گے۔ یہ اسلام کی روشن تعلیم کو ظاہر کرے گی اور تمام خوفوں اور تصورات کو دور کردے گی جو ہمارے مذہب کے بارہ میں پائے جاتے ہیں۔ انشاءاللہ مقامی لوگوں کے دلوں میں رہ جانے والے خوف سب دور ہوجائیں گے جب وہ اس مسجد کو دیکھیں گے اور لوگوں سے ملیں گے جو یہاں عبادت کریں گے تو وہ جلد سمجھ جائیں گے کہ کسی پریشانی اور بے چینی کی ضرورت نہیں ہے۔ اگرچہ یہ بات کہہ دینا آسان ہے لیکن جلد ہی آپ میری ان باتوں کی خود تصدیق کریں گے کہ احمدی مسلمان وہی کرتے ہیں جس کی وہ تبلیغ کرتے ہیںاور اسلام کی امن والی تعلیم کا صرف دعویٰ ہی نہیں کرتے بلکہ اسے مقدم بھی رکھتے ہیں۔ مجھے یقین ہے کہ مقامی آبادی جلد ہی یہ محسوس کرلے گی کہ جو کچھ میں نے مسجد کے مقاصد کے بارہ میں ابھی بیان کیا ہے وہ کوئی سہانے سپنے نہیں بلکہ کامل سچائی ہے۔

حضورِانور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا:

اس وقت میں یہ بھی کہنا چاہوں گا کہ معاشرے کے ہر فرد کا یہ فرض ہے، چاہے مسلمان ہوں یا غیرمسلم، مذہبی ہوں یا غیرمذہبی کہ دنیا کی فلاح وبہبود اور امن کے لئے مل جل کر کام کریں۔ ایک دوسرے پر الزامات لگانے اور دوسروں کی خامیوں اور کمزوریوں پر انگلی اُٹھانے کی بجائے ہمیں اپنے دلوں کو کشادہ کرتے ہوئے ہمدردی اور حسن سلوک کا مظاہرہ کرنا چاہئے۔ ایک دوسرے کے مذاہب پر حملہ کرنے اور بلاضرورت دوسروں کو اشتعال دلانے کی بجائے یہ وقت کی فوری ضرورت ہے کہ ہم باہمی عزت واحترام اور برداشت کا مظاہرہ کریں۔ حقیقی اور دیرپا امن اچانک قائم نہیں ہوجاتا بلکہ ہم سب پر فرض ہے کہ ہم اُن باتوں پر اپنی توجہ مرکوز کریں جو ہمیں آپس میں ملائیں اور متحد کریں نہ کہ ہمارے اختلافات ہمیں تقسیم کردیں اور معاشرے کو تباہ کردیں۔

حضورِانور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا:

یقینًا میں تسلیم کرتا ہوں کہ ہم دنیا کی تاریخ کے نازک موڑ سے گزر رہے ہیں جہاں دنیا قومی اور بین الاقوامی سطح پر تقسیم درتقسیم ہورہی ہے۔ ہم تباہی کے دہانے پر کھڑے ہیں۔ اس لئے اب وقت ہے کہ ہم ازسرِنو جائزہ لیں اور اپنی تمام ترتوانائی انسان کے مستقبل کو محفوظ بنانے میں صرف کریں۔ اب وقت ہے کہ ہم اپنی انسانیت کو ظاہر کریں اور اپنے معاشرہ، قوم بلکہ ساری دنیا میں امن قائم کرنے کے لئے ہر ممکن کوشش کریں۔ یہ تب ہی ممکن ہے کہ جب ہم آپس میں مل جائیں اور ایک دوسرے کے عقائد کا احترام کریں، تب ہی ہم اس خلیج کو پُر کرسکتے ہیں جو اکثر دنیا میں پھیل چکی ہے۔ تب ہی ہم اپنے بچوں کے لئے اُمید کی کرن پیدا کرسکتے ہیں، تب ہی ہم اپنے پیچھے آنے والی نسلوں کے لئے پُرامن اور خوشگوار دنیا چھوڑ سکتے ہیں۔ ہمیں ذاتی نفع اور لالچ کی وجہ سے اندھا نہیں ہوجانا چاہئے بلکہ ہمیں اپنی آنکھیں کھولنی چاہئیں اور مشترکہ مفاد پر نظر رکھنی چاہئے۔

حضورِانور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا:

میں اُمید کرتا ہوں اور دعا کرتا ہوں کہ ہم سب بلاامتیاز مذہب اور عقیدہ، اکٹھے مل کر خیرخواہی اور باہم احترام کے جذبہ کے ساتھ کام کرسکیں۔ ہماری مشترکہ خواہش یہ ہونی چاہئے کہ ہم اپنے بعد آنے والوں کے لئے دنیا کو ایک بہتر جگہ بنائیں۔ ہمارا مشترکہ مقصد امن کا قیام اور تمام افرادِمعاشرہ کے درمیان ہم آہنگی اور خیرخواہی پیدا کرنا ہو۔ ہمیں مستقل یہ کوشش کرنی ہوگی کہ ہم اپنے پیچھے اپنے بچوں کے لئے ایک پُرامن دنیا چھوڑیں، جہاں لوگ بلاامتیاز مذہب، قوم اور عقیدہ کے ایک دوسرے کے ساتھ مل کر رہ سکیں۔ اللہ تعالیٰ ہمیں توفیق دے کہ ہم سب مل کر انسانیت کی بہتری کے لئے کام کرسکیں۔آمین۔

حضورِانور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا:

آخر میں مَیں آپ سب کا ایک بار پھر شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں کہ آپ لوگ یہاں ہمارے ساتھ شامل ہوئے، اللہ تعالیٰ آپ سب پر اپنا فضل فرمائے، آمین۔ آپ سب کا بہت بہت شکریہ۔

حضورِانور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کا یہ خطاب سات بج کر پچیس منٹ تک جاری رہا۔

آخرپرحضورِانور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے دعا کروائی۔ اس کے بعد مہمانوں کی خدمت میں عشائیہ پیش کیا گیا۔ازاں بعد بعض مہمانوں نے باری باری حضورِانور سے ملنے کی سعادت حاصل کی اور بعض نے درخواست کرکے تصاویر بنوائیں۔

تقریب کے بعد یہاںسے مسجد بیت الرحمٰن کے لئے روانگی ہوئی۔ بالٹی مور سے مسجد بیت الرحمن کا فاصلہ 34 میل ہے۔ ساڑھے نو بجے حضورِانور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی یہاں تشریف آوری ہوئی۔ حضورِانور ایدہ اللہ تعالیٰ مسجد تشریف لے آئے اور نمازِمغرب وعشاء جمع کرکے پڑھائیں۔ نمازوں کی ادائیگی کے بعد حضورِانور ایدہ اللہ تعالیٰ اپنی رہائش گاہ پر تشریف لے گئے۔

تقریب میں شامل مہمانوں کے تأثرات

حضورانور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیزکے آج کے خطاب نے مہمانوں پر گہرا اثر چھوڑا اور بہت سے مہمانوں نے اپنے تأثرات کا اظہار کیا۔

٭… ایک مہمان ٹیچر نے کہا :

حضورانور کے خطاب نے مجھے بہت متأثر کیا ہے۔ یہ وضاحت ضروری تھی۔ مجھے خاص طور پر اس بات پر خوشی ہوئی ہے کہ جو آپ نے مسجد کے مقاصد بیان فرمائے ہیں اور یہ کہ مسجد اپنے ہمسایوں کے لئے کیا کام آئے گی۔ ہمیں ایک دوسرے سے اختلافات کے باوجود مشترکہ امور پر اکٹھے ہونا چاہئے اور باہم مِل کر معاشرے کی بہتری کے لئے کام کرنا ہے۔ یہ ایک شاندار پیغام تھا۔ اگر اس پر عمل ہو تو معاشرہ بہت بہتر ہوسکتا ہے۔

٭… ایک یونیورسٹی کے پروفیسر نے اپنے تأثرات کا اظہار کرتے ہوئے کہا:

حضورانور کا پیغام کہ ہمیں مثبت چیزیں دیکھنی چاہئیں۔ جہاں ہمارے مابین اختلافات ہیں اسی جگہ ہم میں بہت سی چیزیں مشترکہ ہیں۔ یہ ایک حیرت انگیز پیغام تھا کہ جس کے ذریعہ ہم معاشرے میں اہم تبدیلی پیدا کرسکتے ہیں۔ ہمیں ایک دوسرے کے ساتھ مل کر کام کرنا ہے، ایک دوسرے کا احترام کرنا ہے۔ بہت ہی اچھا پیغام ہے۔ یو ایس اے کے ماحول میں یہ پیغام بہت اہم ہے۔ بطور امریکی ہمیں نہ صرف اپنے لئے بلکہ اپنے بچوں کے لئے کام کرنا ہے، معاشرے میں سب کو ساتھ ملاکر آگے چلنا ہے۔ مجھے اس حیرت انگیز پیغام نے بہت متأثر کیا ہے۔

٭… گیمبیا کی ایمبیسی سے تعلق رکھنے والے Lamin صاحب نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا:

یہ خطاب بہت متأثر کُن تھا۔ مَیں خود بھی ایک احمدیہ سکول میں پڑھا ہوں۔ جو میں نے آج ہوں وہ احمدیہ جماعت کے باعث ہوں۔ میں آپ لوگوں کا بہت شکرگزار ہوں۔ مَیں گیمبیا کی ایمبیسیڈر اور تمام ملک کی جانب سے آپ لوگوں کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔ گیمبیا میں آپ لوگوں کے رفاہی کام انتہائی شاندار ہیں۔ سکول، ہسپتال وغیرہ، ہر جگہ آپ انسانیت کی خدمت کر رہے ہیں۔ آپ لوگوں کا بہت شکریہ۔

٭… ایک خاتون نے اپنے تأثرات کا اظہار کرتے ہوئے کہا:

میں حضورانور کے پیغام کو سن کر بہت جذباتی ہوگئی ہوں۔میرے لئے یہ بہت پُرسکون باتیں تھیں۔ ان میں امید نظر آتی ہے۔ آجکل کے حالات میں میرے لئے اس خطاب میں بہت ہی اہم پیغامات تھے۔ مسلمانوں اور غیرمسلموں، کالے اور گورے کے درمیان یہاں بہت خلیجیں حائل ہیں۔ ہمیں ان سب دوریوں کا حل تلاش کرنا ہے اور یہ باہمی احترام سے ہی ممکن ہے۔ حضورانور نے جو ہمسایہ کی تعریف فرمائی ہے، ہمسایہ سے حسن سلوک کا جو پیغام دیا ہے، یہ میرے لئے بہت ہی شاندار تھا۔ اس پیغام کو سُن کر مجھے اسلام کے بارے میں مزید جاننے کی ترغیب ہوئی ہے۔ آپ لوگوں کا بہت شکریہ۔

٭… ایک مہمان نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا:

ایک دوسرے کے ساتھ مل کر کام کرنا، ایک بہت ہی شاندار پیغام تھا۔ میں ہندو ہوں لیکن میں یہاں آیا ہوں، کیونکہ ہم سب انسان ہیں، ہمیں اکٹھے مل کر کام کرنا ہے۔ مجھے یہاں آکر اور ایسا پیغام سن کر بہت خوشی ہوئی ہے۔

٭… بلال علی صاحب (Representative of State from 41 District) بھی اس پروگرام میں شامل تھے۔ انہوں نے اپنے تأثرات کا اظہار کرتے ہوئے کہا:

حضورانور نے جو پیغام دیا ہے اس کی گونج یہاں تمام افراد میں سنائی دے رہی ہے۔ باہمی اتحاد، یگانگت، محبت اور پیار کی فضا قائم کرنے میں یہ پیغام بہت اہم ہے۔ اسلام کے خلاف جو تحفظات پائے جاتے ہیں، انہیں دُور کرنے میں بہت مدد ملے گی۔ آپ کا موٹو ’محبت سب کے لئے، نفرت کسی سے نہیں‘ ایسا پیغام ہے، جو ہم سب کے لئے ایک قابلِ قبول ماٹو ہے۔ حضورانور نے بروقت بہت سے مسائل کا حل ہمیں بتا دیا ہے۔ خاص کر یہاں کے حالات میں جہاں کافی حد تک سیاسی بیانیہ بھی مسلمانوں کے خلاف جذبات ابھار رہا ہے، حضورانور جیسے اعلیٰ وجود کی یہاں آمد اور ان امور کے حوالہ سے رہنمائی بہت ہی اچھا قدم ہے۔ آپ نے ایسے ماحول میں بہت ہی پُرحکمت، دلائل سے پُر پیغام دیا ہے، جس سے کوئی بھی عقل رکھنے والا انکار نہیں کرسکتا۔ میں نے معاشرہ میں امن قائم کرنے کا بہت آسان حل سیکھا ہے، وہ یہ کہ اپنے گھر سے شروع کریں، ہمسایوں سے حسنِ سلوک کریں، آپ کو تمام دنیا کو بدلنے کی ضرورت نہیں ہے، صرف وہ افراد جن سے آپ ملتے جلتے ہیں، ان میں پیار بانٹیں، ان کی خدمت کریں تو تمام معاشرہ پُرامن ہوجائے گا۔ یہ ایک بہت ہی آسان نسخہ ہے۔ اسلام کہتا ہے کہ دعوتِ حق کرو۔ اصل دعوتِ حق تو آپ کا اپنا نمونہ ہے۔ اگر آپ کا نمونہ اچھا ہے تو پھر تمام کام آسان ہوجاتے ہیں۔ بالٹی مور میں حالات کا مقابلہ کرنے کے لئے احمدیہ مسلم جماعت میدان میں آئی ہے اور معاشرے میں ایک مثبت کردار ادا کرنے کے لئے اس نے اپنے عزم کا اظہار کیا ہے۔ یہ بہت ہی قابلِ تقلید نمونہ ہے۔ لیکن آپ کے اچھے کام یہاں پر میڈیا میں اتنے پیش نہیں کئے جاتے اور ان کاموں کو سراہا نہیں جاتا۔ میں ہر حال میں آپ لوگوں کے ساتھ ہوں۔

٭… ڈسٹرکٹ 48سے سٹیٹ نمائندہ بھی اس پروگرام میں شریک تھیں۔ انہوں نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا:

میں کہنا چاہتی ہوں کہ میں اس خطاب سے بہت متاثر ہوئی ہوں۔ خاص کر ایسے حالات میں جب مسلمانوں کے حوالہ سے معاشرے میں خوف پایا جاتاہے اور اس ملک میں نسلی بنیادوں پر تفریق ہے، ان حالات میں مجھے بہت خوشی ہے کہ حضورِ انور نے ہمیں اپنی ذمہ داریوں کی طرف توجہ دلائی ہے۔ آپ نے ہمیں بتایا ہے کہ ہر ایک سے محبت کرو اور کسی سے نفرت نہ کرو۔ یہی وہ باتیں ہیں جو ہمیں چاہئیں، محبت، امن، انصاف، بالٹی مور کو یہ اعلیٰ اقدار حاصل کرنے کی ضرورت ہے۔ میں آپ کا شکریہ ادا کرتی ہوں کہ آپ یہاں تشریف لائے ہیں اور اس اہم پیغام کی طرف ہماری توجہ مبذول کروائی ہے۔

٭…ان کے خاوند نے اپنے تأثرات کا اظہار کرتے ہوئے کہا؛

جیسا کہ میری اہلیہ نے کہا ہے، یہ ہمارے لئے بہت ہی اہم پیغام ہے۔ حضورِ انور کی موجودگی ہمارے لئے بہت اعزاز کی بات ہے۔ ہم خود کوشش کرکے جتنی بھی معاشرے کی بہتری کی باتیں کرلیں، ان کا اتنا اثر نہیں ہوسکتا جتنا حضورِ انور کی موجودگی سے ہوا ہے۔ احمدیہ مسلم کمیونٹی صرف یہاں ہی نہیں بلکہ تمام یو ایس اے میں ایک شاندار کردار ادا کررہی ہے۔ہم دونوں عیسائی ہیں اور ہمارےبہت سے مسلمان دوست ہیں اور ان سے بہت اچھا گہرا تعلق ہے۔ آپ سب کی کاوشوں کا بہت شکریہ۔

٭…ایک عمر رسیدہ خاتون نے اپنے جذبات کا اظہار کرتے ہوئے کہا؛

میں نے حضورِ انور سے بہت کچھ سیکھا ہے۔ یہ پیغام یو ایس اے کے لئے بہت اہم پیغام تھا۔ میری خواہش ہےکہ یوایس اے میں مزید بھی ایسی بڑی شخصیات ہوں جو امن کے قیام کے لئے اپنا کردار ادا کریں، جیسا کہ حضورِ انور کوشش کررہے ہیں۔ آپ کا بہت شکریہ۔

٭…ایک مہمان عمیرہ قاضی صاحبہ نے اپنے جذبات کااظہار کرتے ہوئے کہا؛

ایک فیملی فرینڈ نے ہمیں یہاں آنے کی دعوت دی تھی اور میں اسی تجسس میں یہاں آئی تھی کہ جا کر احمدیوں کا پروگرام دیکھوں۔ میں حضورِ انور کی شخصیت سے بہت متاثر ہوئی ہوں، حضورِ انور کا پیغام بہت اہم تھا۔ حضورِ انور نے جو ہمیں یقین دلایا ہے کہ یہ مسجد اپنے مقاصد پورے کرنے والی ہوگی، میں دیکھنا چاہتی ہوں کہ یہاں کی کمیونٹی اب کیسے ان مقاصد کو پورا کرتی ہے۔ میں یہاں نمازیں پڑھنے آؤں گی۔میرے خیال میں آپ نے نہایت ہی موزوں وقت پر بڑے اچھے انداز میں ہمیں سمجھایا ہے۔ ہمیں تمام اختلافات بھلا کر، مشترکہ باتوں پر اکٹھے ہو کر معاشرہ کی خدمت کرنی ہے۔ میری خواہش تھی کہ ہمیں کوئی ایسا پلیٹ فارم ملے اور یہ پلیٹ فارم حضورِ انور نے ہمیں فراہم کردیاہے۔میں سمجھتی ہوں کہ احمدیہ مسلم جماعت نے بہت شاندار کام کیا ہے اور میں اس کام کو مزید بڑھتا اور پھیلتا دیکھنا چاہتی ہوں۔

&٭…نیو جرسی سے ایک میڈیکل سٹوڈنٹ لیلیٰ قاضی صاحبہ بھی اس پروگرام میں شریک تھیں۔ یہ کہتی ہیں؛

حضورِ انور نے جو سب لوگوں کو ساتھ ملا کر کام کرنے کا ارشاد فرمایا ہے، یہ بہت ہی اہم پیغام ہے۔ آپ نے فرمایاہے کہ مسجد لوگوں کے اکٹھے ہونے کی جگہ ہے، نہ صرف عبادت کرنے کے لئے بلکہ مل کر معاشرہ کی خدمت کرنے کے لئے۔ میں اس پیغام سے بہت متاثر ہوئی ہوں۔ خاص کر 9/11 کے سانحہ کے بعد مسلمانوں کو یہاں عجیب نظر سے دیکھا جاتا ہے، اسی طرح اسلامی مساجد کو بھی شک کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ میرے خیال میں یہ بہت اچھا پروگرام تھا جس میں غیر مسلم بھی مدعو تھے، تاکہ وہ خود آکر مسجد کے مقاصد کے حوالہ سے کھل کر سوال کرسکیں اور اپنی تسلی کرسکیں۔ حضورِ انور نے یہ بھی فرمایاہے کہ ان کی جماعت معاشرے کی بہتری کے لئے بہت سے فلاحی کام کررہی ہے، میرے خیال میں غیر مسلم یہاں سے اسلام کے بارے میں بہت مثبت تصویر لے کر جائیں گے۔

٭…مشعل صاحبہ جو کہ ایک پریسبیٹیرین چرچ میں منسٹر ہیں، اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہتی ہیں؛

میں حضورِ انور کے امن کے پیغام سے بہت متاثر ہوئی ہوں۔ حضورِ انور نے باہمی اتحاد، یگانگت پر زور دیا ہے اور خوف ختم کرکے محبت قائم کرنے کی طرف توجہ دلائی ہے۔ یہ پیغام بہت اہمیت کا حامل ہے۔ مساجد کے قیام کے حوالہ سے آپ نے جو مقاصد بیان فرمائے ہیں، یہ بہت شاندار ہیں۔ پھر حضور نے ہمسایوں سے حسنِ سلوک کی تعلیم کا بھی ذکر کیاہے۔ میرے لئے یہ نئی چیزیں ہیں۔ میں بہت متاثر ہوئی ہوں۔ مجھے آج معلوم ہوا ہے کہ عیسائیت میں جو پیار محبت کی تعلیم دی گئی ہے، یہ تو وہی باتیں ہیں۔ جبکہ میڈیا ایک الگ ہی چیز پیش کرتا ہے۔ مجھے بہت خوشی ہے کہ حضورِ انور نے ہمیں یہ باتیں بتائی ہیں۔

٭…ایک ہسٹورین ڈاکٹر فاطمہ صاحبہ بھی اس پروگرام میں مدعو تھیں۔ یہ اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہتی ہیں؛

میری سپیشلائزیشن یوایس اے میں اسلام ہے اور اس حوالہ سے میں نےیوایس اے میں اسلام کی تاریخ پر کافی کام کیا ہواہے۔ میں کوئی دینی سکالر نہیں ہوں، بلکہ صرف تاریخ دان ہوں۔ اس حوالہ سے حضورِ انور نے جو یہ فرمایاہے کہ حضرت مرزا غلام احمد صاحب نے اس دور میں اسلام کی تجدید کی ہے، میرا ذہن اُسی طرف لگا ہواہے اور میں اب اس حوالہ سے مزید تحقیق کو بڑھاؤں گی۔ مجھے یہ جان کر بہت خوشی ہوئی ہے۔ اب میری تحقیق کا محور نہ صرف مرزا غلام احمد قادیانی(علیہ الصلوٰۃ والسلام) ہیں بلکہ آپ کی تحریرات اور ارشادات بھی ہیں، جن کے ذریعہ سے آپ نے یہ احیاء فرمایاہے۔ حضورِ انور کا امن کا پیغام ایک حیرت انگیز پیغام ہے۔ آپ نے اسلامی حسنِ سلوک کو دیگر مذاہب تک محدود نہیں رکھا بلکہ غیر مذہبی افراد سے بھی حسنِ سلوک کا ارشاد فرمایاہے۔ آپ کا نظریہ ہے کہ بلا تفریق رنگ و نسل اور مذہب ہم سب ایک ہو کر بنی نوع انسان کی بھلائی کے لئے کام کریں۔ کیا ہی شاندار پیغام ہے۔ بطور مسلمان ہمیں شک کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے، اس لئے ایک عظیم مسلمان کی جانب سے اسلامی تعلیم بیان کیا جانا ایک احسن قدم ہے۔ مجھے خوشی ہے کہ میں اس پروگرام میں آئی ہوں۔ دعوت دینے کا بہت شکریہ۔

(…………………جاری ہے)

متعلقہ مضمون

رائے کا اظہار فرمائیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button