حضرت صاحبزادہ مرزا خورشید احمد صاحب ناظر اعلیٰ و امیر مقامی ربوہ پاکستان کی وفات۔ مرحوم کا مختصر سوانحی خاکہ۔ نماز جنازہ حاضر اور بہشتی مقبرہ ربوہ میں تدفین کی رپورٹ
(مرسلہ شعبہ تاریخ احمدیت ربوہ)
حضرت صاحبزادہ مرزا خورشید احمد صاحب کی پیدائش 12 ستمبر 1932ء کو ہوئی۔
• آپ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے پڑپوتے، حضرت صاحبزادہ مرزا سلطان احمد صاحب کے پوتے اور حضرت صاحبزادہ مرزا عزیز احمد صاحب کے بیٹے ہیں۔
• حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ نے آپ کا نکاح 26؍ دسمبر 1955ء کو جلسہ سالانہ کی افتتاحی تقریر سے قبل محترمہ صاحبزادی امتہ الوحیدبیگم صاحبہ (پیدائش 21 اگست 1935ء۔ وفات 10 اپریل 2017ء) بنت حضرت صاحبزادہ مرزا شریف احمد صاحب کے ساتھ پڑھا۔ آپؓ نے فرمایا ’’یہ لڑکا بھی ہمارے خاندان میں سے وقف ہے۔ مرزا عزیز احمد صاحب کو خدا تعالیٰ نے توفیق دی کہ وہ اپنے اس بچے کو اعلیٰ تعلیم دلوائیں۔ چنانچہ ان کا یہ لڑکا ایم اے میں پڑھ رہا ہے۔ ابھی پاس تو نہیں ہوا مگر انگریزی میں ایم اے کا امتحان دے رہا ہے اور کہتے ہیں کہ انگریزی میں بڑا لائق ہے۔ میرا ارادہ ہے کہ بعد میں یہ کالج میں پروفیسر کے طور پر کام کرے۔ ‘‘
• آپ کی شادی 10دسمبر 1958ء کو ہوئی۔
آپ ستمبر 1956ء سے 1973ء تک تعلیم الاسلام کالج میں انگریزی کے پروفیسررہے۔ آپ اپنے لیکچر نہایت محنت سے تیار کرتے تھے۔ آپ کو اپنے مضمون پر مکمل دسترس حاصل تھی۔ اسی وجہ سے طلباء میں مقبول تھے۔
• حضرت خلیفۃ المسیح الثالث رحمہ اللہ تعالیٰ نے 1970ء میں بلادِ افریقہ میں بنیادی طبی و تعلیمی خدمات بہم پہنچانے کے لئے مجلس نصرت جہاں کا قیام فرمایا۔ اس کے انتظام و انصرام کے لئے جو اوّلین کمیٹی ترتیب دی، آپ کو اس کا ایک ممبر مقرر فرمایا۔
• حضرت خلیفۃ المسیح الثالث ؒ نے 1973ء میں ربوہ اور اس کے گرد و نواح میں آنے والے سیلاب کی تباہ کاری میں ریلیف پہنچانے کے لئے جو کمیٹی ترتیب دی اس میں آپ کو شامل فرمایا۔
• سال 1974ء سے جلسہ سالانہ سے قبل سرکاری افسران اور جماعت کے نمائندگان کا باہمی اجلاس ہوتا تھا۔ مکرم صاحبزادہ مرزا خورشید احمد صاحب بھی عموماً جماعتی وفد میں شامل ہوتے تھے۔
• 1974ء کے ہنگامی حالات میں مکرم صاحبزادہ مرزا خورشید احمد صاحب اور مکرم صاحبزادہ مرزا غلام احمد صاحب حضرت خلیفۃالمسیح الثالث ؒ کی درونِ خانہ معاونت کرتے رہے۔
• حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ کی منظوری سے ربوہ میں یتیم اور نادار بچوں کی نگہداشت اور تعلیم و تربیت کے لئے 1962ء کے وسط میں "دارالاقامۃ النصرت” کا قیام عمل میں لایا گیا تھا۔ بعد ازاں حضرت خلیفۃ المسیح الثالث نے اس کا نام ’’مدّ امدادِ طلبا‘‘ رکھا۔ اس شعبہ کے 1978ء سے 17 جولائی 1983ء تک مکرم صاحبزادہ مرزا خورشید احمد صاحب نگران رہے۔ اس کے بعد حضرت خلیفۃالمسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ نے اس مدّ کا انتظام نظارت تعلیم کے ذمّہ مقرر فرمایا۔
• فضل عمر ہسپتال ربوہ کی تنظیم نَو کے لئے حضرت خلیفۃالمسیح الرابع ؒ نے ایک کمیٹی مکرم صاحبزادہ مرزا مبارک احمد صاحب کی صدارت میں مقرر فرمائی۔ ان کے بعد حضور ؒ نے مکرم صاحبزادہ مرزا خورشید احمد صاحب کو کمیٹی کا صدر مقرر فرمایا۔
• 1991ءمیں حضرت خلیفۃالمسیح الرابع ؒ نے صدسالہ جلسہ سالانہ قادیان کے انتظام و انصرام کے لئے ایک کمیٹی ’’کمیٹی صد سالہ جلسہ سالانہ قادیان‘‘ مقرر فرمائی جس میں آپ کو بطور ممبر شامل فرمایا۔
• حضرت خلیفۃ المسیح الثالث ؒ نے اس عزم کے تحت کہ کوئی احمدی بھوکا نہ رہے ’’امداد مستحقین‘‘ کے نام سے ایک کمیٹی مقرر فرمائی۔ اس کمیٹی کاکام تھا کہ ضرورت مند افراد کو فیملی کی ضرورت کے مطابق گندم خرید کر دے۔ سال 2000ءسے 2003ء تک مکرم صاحبزادہ مرزا خورشید احمد صاحب نے بطور صدر مجلس انصاراللہ پاکستان اس کمیٹی کی صدارت سنبھالی۔
• خلافت احمدیہ صد سالہ جوبلی منصوبہ کے تحت حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ کی منظوری سے یہ فیصلہ ہوا تھا کہ خلافت احمدیہ صد سالہ جوبلی کے موقع پر مقام ظہور قدرت ثانیہ پر ایک یادگار تعمیر کی جائے۔2جنوری 2008ء کو حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی ہدایت پر مکرم صاحبزادہ مرزا خورشید احمد صاحب نے مجوزہ ڈیزائن کے مطابق جنازہ گاہ والے حصہ پربنیاد رکھی۔
جلسہ سالانہ کے حوالہ سے خدمات
• حضرت مصلح موعود ؓنے 1960ء میں جلسہ سالانہ کے انتظامات کے لئے ایک سب کمیٹی بنائی، آپ بھی اس کے ممبر مقرر ہوئے۔
• 1961ء تا 1963ء کمیٹی برائے انتظامات جلسہ سالانہ ربوہ کے ممبر رہے۔
• 1967ء تا 1974ء ناظم لنگر خانہ نمبر 1دارالصدر کے طور پر خدمات سرانجام دیں۔
• 1975ء تا 1983ء بطور نائب افسر جلسہ سالانہ خدمات کی توفیق پائی۔ اس کے بعد اگرچہ پابندی کی وجہ سے جلسہ ہائے سالانہ ربوہ منعقد نہیں ہوئے تاہم 1984ء سے لے کر2002ء تک حضور انور رحمہ اللہ تعالیٰ کی منظور ی سے نائب افسر جلسہ سالانہ خدمات سرانجام دیتے رہے۔
تنظیمی خدمات
• آپ کو ممبر عاملہ مجلس خدام الاحمدیہ کے طور پر مختلف شعبہ جات میں خدمت کا موقع ملا مثلاًایثار و استقلال، وقارعمل، اطفال،عمومی،صحت جسمانی اور امورِ طلباء وغیرہ۔ اسی طرح آپ 2 سال (1970-71تا1971-72) نائب صدر بھی رہے۔ اسی دوران18 اپریل 1972ء کو چینی سفیر کی مجلس خدام الاحمدیہ مرکزیہ کے دفتر تشریف آوری پر آپ نے بطور نائب صدر استقبال کیا۔
• آپ کو مجلس عاملہ انصار اللہ مرکزیہ اور مجلس عاملہ انصار اللہ پاکستان میں بھی خدمت کی توفیق ملی۔ چنانچہ مجلس عاملہ انصار اللہ مرکزیہ میں 1982ء سے 1989ء تک نائب صدر و قائد مجالس بیرون و قلمی دوستی رہے۔ جبکہ مجلس انصاراللہ پاکستان میں 1990ء سے 1999ء تک نائب صدر اور 2000ء سے 2003ء تک صدر مجلس رہے۔
(نوٹ حضرت خلیفۃ المسیح الرابع ؒ کے ارشاد کے تابع 3نومبر 1989ء سے مجلس انصار اللہ مرکزیہ کا دائرہ کار پاکستان تک محدود ہوگیا۔)
صدر انجمن احمدیہ پاکستان میں خدمات
دورانیہ عہدہ
1973-74 تا 1988-89 ناظر خدمت درویشاں
1977-78 تا 1988 -89 ایڈیشنل ناظر اعلیٰ
1989-90 تا 1991 -92 ناظر امورِ عامہ
1992-93 تا 2002 -03 ناظر امورِ خارجہ
2003-04 تا 2017 -18 ناظر اعلیٰ
2004-05 تا 2017 -18 صدر صدر انجمن احمدیہ پاکستان
• آپ مورخہ 18 جنوری 2018ء کی صبح 2 بج کر 55منٹ پر طاہر ہارٹ انسٹیٹیوٹ ربوہ میں وفات پاگئے۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْن
• آپ کی اولاد کے اسماء درج ذیل ہیں۔
1۔ مکرم صاحبزادہ مرزا وحید احمد صاحب
2۔ مکرم صاحبزادہ مرزا سلطان احمد صاحب
3۔ مکرم صاحبزادہ مرزا نصیر احمد صاحب
4۔ مکرم صاحبزادہ مرزا ثمر احمد صاحب
5۔ مکرم صاحبزادہ مرزا عدیل احمد صاحب
6۔ مکرم صاحبزادہ مرزا تقی الدین احمد صاحب
جنازہ اور تدفین
مورخہ18 جنوری 2018ء کو مکرم و محترم صاحبزادہ مرزا خورشید احمد صاحب بقضائے الٰہی وفات پا گئے۔ اِنّا للہ وَ اِنّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ
آپ کی جماعت کے لئے خدمات کا عرصہ 60 سال سے زائد ہے۔ آپ گزشتہ کچھ عرصہ سے علیل چلے آرہے تھے۔ تاہم آپ بیماری کے باوجود باقاعدہ دفتر تشریف لا کر اپنے فرائض منصبی ادا کرتے رہے۔ آخری بار یکم جنوری کو شدید بیماری کے باوجوددفتر تشریف لاکر اپنے فرائض سر انجام دیئے اور پھر طبیعت زیادہ خراب ہونے پر 2 جنوری کو طاہر ہارٹ انسٹی ٹیوٹ ربوہ میں داخل ہو گئے۔ وہاں بھی آپ بعض دفتری فرائض ادا فرماتے رہے اور ضروری ہدایات بھی دیتے رہے۔ 17،18 جنوری کی رات طبیعت زیادہ خراب ہوگئی اور پھر 18 جنوری بروز جمعرات صبح 2:55 پر آپ اپنے خالق حقیقی سے جا ملے۔
18 جنوری کی صبح نماز فجر سے قبل طاہر ہارٹ انسٹی ٹیوٹ میں غسل دینے کے بعد آپ کا جسد خاکی مورچری فضل عمر ہسپتال ربوہ میں رکھوا دیا گیا۔
غسل دینے کی سعادت مکرم صاحبزادہ مرزا نصیر احمد صاحب، مکرم صاحبزادہ مرزا ثمر احمد صاحب ، مکرم صاحبزادہ مرزا عدیل احمد صاحب ، مکرم سید میر مدثر احمد صاحب، مکرم اکبر احمد صاحب ناظم جائیداد ، مکرم ظفر احمد صاحب کارکن طاہر ہارٹ انسٹیٹیوٹ اور عزیزم صاحبزادہ مرتاض عزیز احمد صاحب ابن مکرم صاحبزادہ مرزا سلطان احمد صاحب کے حصہ میں آئی۔
19 جنوری بروز جمعہ صبح سات بجے جسد خاکی مورچری سے آپ کی رہائشگاہ منتقل کیا گیا۔ صبح 8 بجے تا 11:30 کثیر تعداد میں احباب جماعت نے آخری دیدار کیا۔ کیونکہ آپ کی وفات کی اطلاع ملتے ہی ربوہ اور قریبی اضلاع مثلاً فیصل آباد، جھنگ، سیالکوٹ، گوجرانوالہ، سرگودھا اور لاہور وغیرہ سے کثیر تعداد میں احباب ربوہ پہنچنا شروع ہو گئے تھے۔
جمعۃ المبارک کی نماز سے قبل مکرم صاحبزادہ صاحب کا جنازہ آپ کے گھر سے چارپائی پر روانہ ہوا جس کے دونوں اطراف میں بانس باندھے گئے تھے تاکہ جو احباب کندھا دینا چاہیں ان کو سہولت رہے۔جنازہ کے گرد خدام نے حصار بنایا ہوا تھا جس کے اندر افراد خاندان کے علاوہ ہر سہ انجمنوں، ذیلی تنظیموں کے عہدیداران اور بعض امرائے اضلاع جنازہ کے ہمراہ چل رہے تھے۔جنازہ دار الصدر میں واقع گورنمنٹ نصرت گرلز ہائی سکول کے سامنے سے احاطہ خاص میں داخل ہوا۔ احاطہ خاص میں حضرت صاحبزادہ مرزا منصور احمد صاحب مرحوم کے گھر کے سامنےسے ہوتا ہوا احاطہ قصر خلافت کے غربی دروازہ سے اندر داخل ہوا۔
ربوہ کے تمام محلہ جات میں خطبہ جمعہ کا وقت دوپہر 12:45 جبکہ مسجد مبارک میں خطبہ جمعہ کا وقت 1:15 مقرر کیا گیا تھا۔ تاکہ اہالیان ربوہ اپنے محلہ جات میں نماز جمعہ کی ادائیگی کے بعد مسجد مبارک پہنچ سکیں۔
مسجد مبارک میں نماز جمعہ مکرم و محترم سید محمود احمد شاہ صاحب ناظر اصلاح و ارشاد مرکزیہ نے پڑھائی۔ اور اس کے بعدحضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیزکے ارشاد پرمکرم و محترم سید میر محمود احمد صاحب ناصرابن حضرت میر محمد اسحاق صاحب رضی اللہ عنہ نے نماز جنازہ پڑھائی۔
نماز کی ادائیگی کے بعدخدام کے حصار میں جنازہ تدفین کے لئے کندھوں پر لے جایا گیا۔ جنازہ مسجد مبارک سے کوارٹرز صدر انجمن احمدیہ اور پھر کوارٹرز کے شمالی گیٹ سےبہشتی مقبرہ دار الفضل لے جایا گیا۔جس کے بعدقطعہ خاص میں تدفین ہوئی۔ تدفین کے بعد مکرم و محترم میر محمود احمد ناصر صاحب نے دعا کروائی۔ حضرت میاں صاحب کے جنازہ میں شرکت کے لئے نہ صرف قریبی اضلاع بلکہ پاکستان بھر کی جماعتوں سے نمائندگان تشریف لائےتھے۔ جنازہ کی حاضری چوبیس ہزار سے اوپر تھی۔ اس موقع پر مجلس خدام الاحمدیہ کے تین ہزار رضاکاران نے بھی جنازہ کے انتظامات اور حفاظتی اقدامات کے لئے خدمت کی توفیق پائی ۔
اللھم اغفر لہ وارحمہ واجعل مثواہ فی جنۃ اعلیٰ علیین
