واقفہ نو کی شادی اور اس کے بعد کی زندگی کے بارہ میں حضرت خلیفۃ المسیح لخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے نصائح
(عاطفہ احمد)
رشتہ تلاش کرنے کے متعلق نصیحت۔۔۔
’’جب بھی رشتہ ہو تو جس طرح مرد کوحکم ہے کہ ایک ایسی لڑکی تلاش کرو جو دیندار ہو۔اِسی طرح لڑکیوں کو بھی دینداری دیکھنی چاہئے۔آنحضرت صلى الله عليه وسلم نے جیسے فرمایاہے کہ نہ دنیا دیکھو، نہ دولت دیکھو، نہ خاندان دیکھو، نہ خوبصورتی دیکھو۔ بلکہ دینداری دیکھو۔ اور اگر خاوند وقفِ نو ہواور دیندار بھی ہو توآپ کو دین کی خدمت کرنے سے نہیں روکے گا۔‘(کلاس واقفاتِ نو کینیڈا۔ 20 مئی 2013 ء۔ مریم ۔اکتوبر تا دسمبر 2013ء)
ایک سوال پر کہ شادی کےلئے استخارہ کس کو کرنا چاہئے، حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا
’’ لڑکی کو خود کرنا چاہئے۔ حضرت اماں جان فرمایا کرتی تھیں کہ جب لڑکیاں چھ سات سال کی ہو جائیں تو اپنے نیک نصیب کے لئے دعا کرنی شروع کردیں۔ تو ہر لڑکی کو اپنےنیک نصیب کے لئے دعا کرنی چاہئے کہ جب بھی ایسا وقت آئے جب ان کا رشتہ آئے تو جو بہترہووہ ہو۔ یہ نہیں کہ فلاں کےپاس پیسے ہیں، فلاں کے پاس عہدہ ہے،فلاں کے پاس ملازمت ہے، فلاں خاندان اچھا ہےتو میں نے رشتہ کرنا ہے۔ اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے، غیب کا علم اس کو ہے وہ جس کے لئے جو بہتر سمجھتاہےاس کے مطابق کرو۔ باقی چھوٹی چھوٹی باتیں تو رشتوں کے بعد بھی ہو جا تی ہیں۔ پھر ان کوIgnoreبھی کرنا چاہئے۔ پھر یہ ہے کہ غیر متعلقہ لوگ جو ہیں جن کا کوئی براہ راست تعلق نہیں ہوتااس سے بھی استخارہ کروا لیناچاہئے۔ ان کو بھی بعض دفعہ کوئی خواب آجاتی ہےیا کوئی نہ کوئی پیغام مل جاتا ہے۔ ‘‘(کلاس واقفاتِ نو جرمنی 27 مئی 2012۔ الفضل انٹرنیشنل 20 جولائی 2012)
واقفاتِ نو کو نکاح کے موقع پر نصائح۔۔۔
’’اب اللہ تعالیٰ کے فضل سے وقفِ زندگی کی فوج میں لڑکیاں بھی شامل ہیں۔ ان کی بھی ذمہ دار ی بن جاتی ہے۔ اپنے ذاتی خواہشات کو پسِ پشت ڈال کر ، پیچھے رکھ کر ، صرف اور صرف ایک خواہش ہونی چاہئےکہ ہم نے زندگی اللہ تعالیٰ کی ر ضاکے مطابق گزارنی ہے اور اپنی ذمہ داریوں کو ادا کرنا ہےاور کبھی کسی کے لئے اپنے نمونہ سے ٹھوکر کا باعث نہیں بننا۔ ‘‘(خطبہ نکاح 12 نومبر 2014 ۔ الفضل انٹرنیشنل 27 جنوری2017)
’’ایک واقفِ زندگی، واقف نِو کو ہمیشہ یاد رکھنا چاہئےکہ چاہے اس کے گھریلومعاملات ہوں یا بیرونی معاشرتی تعلقات، ان سب میں اس کو ا یک نمونہ ہونا چاہئے۔ خاص طور پر اگر آپ گھریلو معاملات میں، میاں بیو ی کے تعلقا ت میں ایک دوسرے کے جذبات کا احساس رکھیں گے تو زندگی بہت خوبصورتی سے گزرے گی، بڑی آسانی سے گزرے گی، بڑے امن میں گزرے گی۔ اور پھر آئندہ نسلیں بھی اپنے والدین کے ان نمونے پر چلتے ہوئے اس زندگی کو اختیار کرنے کی طرف توجہ دیں گی جو اللہ تعالیٰ نے ایک مومن کے لئے اختیار کرنے کا ارشاد فرمایا ہے۔‘‘(خطبہ نکاح۔ 09 ؍اگست 2014 ۔ ا لفضل انٹرنیشنل 04 نومبر 2016)
’’… دونوں واقف نو ہیں۔اللہ تعالیٰ ان کو توفیق دے کہ یہ وقف نبھائیں۔ صرف یہ نہ ہو کہ وقف کا ٹائٹل لگ گیا تو ا سی پر خوش ہو جائیں۔ ان کو چاہئےکہ اپنے آپ کومکمل طور پر خدمتِ دین کے لئے پیش بھی کریں۔ اللہ تعالیٰ توفیق دے۔‘‘ (خطبہ نکاح ۔ 4 اکتو بر 2014 ۔ الفضل انٹرنیشنل 25 نومبر 2016)
’’زیادہ سے زیادہ قناعت پیدا کرنے کی کوشش کرنی چاہئے۔ قناعت ایک ایسی جیز ہے جو کہ گھروں میں پیدا ہو جائے تو بہت سارے مسائل گھروں کےسلجھ جا تےہیں۔ عورتوں کی طرف سے بھی خاص طور پر اس بات کا خیال رکھنا چاہئےکہ اپنے خاوند کی جتنی آمد ہے، اس کے مطابق اپنے پاؤں پھیلائیں،چادر کو ہمیشہ دیکھیں۔ نہ کہ غیر ضروریDemandsہوں۔‘‘(خطبہ نکاح ۔ 10 اگست 2015 ۔ الفضل انٹرنیشنل 14 جولائی 2017)
مربیان یا وقفِ زندگی سے بیاہی جانے والی واقفاتِ نو کو نصائح۔۔۔
’’پس یہ سوچ واقفین زندگی سے، مربیان سے شادی اور نکاح کرنے والو ں کی ہونی چاہئے کہ یہ نہ سمجھیں کہ ان کی بیٹی کی ساری خواہشات پوری کی جائیں گی۔ محدود وسائل میں اور مختلف جگہوں پر رہتے ہوئے، جہاں بھی مربی یا واقف زندگی تعینات ہوتا ہے اس کو ا سکے ساتھ ان سختیوں سے بھی گزرناپڑے گا۔‘‘(خطبہ نکاح ۔ 16 جون 2014 ۔ الفضل انٹرنیشنل 21 اکتوبر 2016
’’جس لڑکی نے مر بی سلسلہ سے شادی کرنے کی حامی بھری ہو اس کی بھی یہ ذمہ داری ہے اور خاص طور پر واقفۂ نو ہے توپھر اور بھی ذمہ داری بڑھ جاتی ہے کہ جہاں بھی میدانِ عمل میں مربی کو بھیجا جائے جو کام بھی اس کے سپرد کئے جائیں، جیسے حالات میں بھی رکھا جائے اس نے رہنا ہے اور کسی قسم کااعتراض تو ا یک جگہ رہا، ماتھے پر بل بھی نہیں آنا چاہئے۔‘‘(خطبہ نکاح۔ 10 مئی 2014 ۔ الفضل انٹرنیشنل 07 اکتوبر 2016)
واقفاتِ نو کے اجتماع کے موقع پر حضور انوار ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے نصائح۔۔۔
’’آپ میں سے بڑی تو بعض شادی شدہ ہیں بچوں والی بھی ہیں۔ ایسا نمونہ دکھائیں کہ نہ صرف اِس زما نہ کے لوگ ہی بلکہ آئندہ آنے والے بھی آ پ کےلئے دعائیں مانگیں۔۔۔ آپ کی تمام زندگی ، آپ کے لفاظ، آپ کے طَورواطوار اِس چیز کا مظہر ہونےچاہئیں کہ آپ نے اللہ تعالیٰ کو چیز پر ترجیح دی اور آپ کو کسی انعام کی طلب نہیں ، خدمات دینیہ کا ولولہ محض خدا تعالیٰ کے لئے ہے۔ پھر آپ حقیقی واقفات نو بن جائیں گی۔ صرف نام کی نہیں بلکہ حقیقت میں، اور آپ نے اپنا عہد پورا کر دیا ہوگا۔‘‘(یکم مئی 2011 ۔ واقفاتِ نو اجتماع پر حضرت خلی فت ہ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کا خطاب)
’’آپ کی ازدواجی زندگی میں سچائی کا اظہار نہایت ضروری ہے۔ یقیناً شاد ی کے بعد اپنے خاوند اور سسرال کے ساتھ تعلق میں سچائی میںمعمولی کمی بھی نہیں آنی چاہئے۔‘‘(خطاب حضرت خلی فت ہ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز بر موقع سالانہ اجتماع واقفات نو۔ 5مئی 2012 ۔مریم ۔اپریل تا جون 2013)
شادی کے بعد کے لئے مختلف نصائح۔۔۔
’’اگر رشتہ ہو گیا ہے تو پھر چھوٹی چھوٹی باتیں برداشت کریں۔ مسائل برداشت کریں، مسائل کو حل کرنے کی کوشش کریں۔ اگر کوئی بڑا معاملہ ہے،کوئی شرعی مسٔلہ ہے ، غیر اخلاقی حرکات ہیں تو پھر علیحدگی ہوتی ہے تو ٹھیک ہے… واقف زندگی کو خوراک کی تنگیاں بھی برداشت کرنی پڑ تی ہیں۔بیوی کو بھی برداشت کرنی پڑتی ہیں۔ تم واقف زندگی سے بیاہی جاؤ اور پھر یہ تنگیاں اور تکلیفیں برداشت کرنی پڑیں تو شو رنہیں ڈالنا۔ خدا تعالیٰ نے کبھی تنگی میں نہیں رکھا۔ کوئی چیز ختم ہو تو ا س کا خود انتظام ہو جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ انتظام کرتا ہے۔‘‘(کلاس واقفاتِ نو۔ ہیمبرگ ،جرمنی اکتوبر 2011 ۔مریم۔ اپریل تا جون 2012)
ایک بچی کے سوال پر کہ واقفاتِ نو شادی کے بعد اپنی زندگی کیسے گزاریں، حضور انوار ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا’’پہلے تو یہ ہے کہ اپنے اماں ابا کو کہو اور خود بھی کوشش کرو کہ ایسے لڑکے سے شادی کروجو نیک ہو، دیندار ہو، نمازیں پڑھنے والا ہوتاکہ وقفِ نو کےکام کو پورا کرنے میں روک نہ ڈالے۔ دوسرا یہ کہ جب شادی ہو جاتی ہے تو مختلف طبیعتیں ہوتی ہیں۔ بعض دفعہ ا یڈ جسٹ کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔ اس لئے یاد رکھو کہ کوئی کا مل نہیں ہوتا۔ ہر ایک میں چھوٹی چھوٹی کمیاں، برائیاں ، خامیاں ہوتی ہیں۔ اس لئے اگر کوئی خاوند کو ئی بیوی دوسر ےکی برائی دیکھے تو اپنی آ نکھ بند کر لے۔ بولنے کی جہاں ضرورت پڑے اور تبصرہ کرنا ہو تو زبان بند کر لو۔ اگر تمہارے پاس آکر ایک دوسرے کی برائی سنانا چاہے توکان بند کر لو۔ اگر اچھی چیز دیکھوتو منہ سے تعریف کر و۔ اچھی بات ضرو رسنو، دیکھو۔ بس یہ تین برائیوں سے منہ پھیر لو اور تین اچھائیاں کر لو تو زندگی آسان ہو جاتی ہے۔‘‘ (کلاس واقفاتِ نو کینیڈا۔ 14 اکتوبر 2016 ۔ الفضل انٹرنیشنل 9دسمبر 2016)
اگرایک واقفہ نو اپنی پڑھائی مکمل نہیں کر پاتی اور شادی ہو جاتی ہے اور بچوں کی پیدائش کے بعد گھر کے کاموں میں لگ جاتی ہےتو وہ کس طرح خدمت کرے گی، اپنا وقف نبھائے گی؟
حضور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا
’’ وہ نمازیں پڑھے۔ دعائیں کرے اور اپنے بچوں کی اعلیٰ تربیت کرے تو اس کے وقف کا یہی معیار ہوگا…نیک بچے بنا دو، دین کے خادم بچے بنا دو،تربیت کر کے ایسے بچے بنا دو جو دین سے جُڑ ے رہنے والے ہوں، اللہ تعالیٰ سے تعلق پیدا کرنے والے ہوں، قرآن کریم پڑھنے والے ہوں، دین کا علم جاننے والے ہوں تو یہی تمہارا وقف ہے۔ اکثر 90 فیصد واقفات نو لڑکیوں کا یہی کام ہے کہ اپنے گھروں کی تربیت کریں۔ حدیث میں آیا ہے کہ ایک عورت اپنے گھر کی نگران ہوتی ہے اور یہ ایک عام مسلمان عورت کے لئے ہے لیکن جو واقفات نَو ہیں ان پر تو گھر کی نگرانی کی زیادہ ذمہ داری ہے۔ ‘‘(کلاس سڈنی، آسٹریلیا۔ 7اکتوبر 2013 ۔ مریم رسالہ جنوری۔مارچ 2014)
’’ اگر پڑھائی کر رہی ہو اور شادی جلد ہوجاتی ہے تو شادی سے قبل پڑھائی کے لئے شرط رکھو کہ شادی کے بعد پڑھائی جاری رکھنی ہے اور تعلیم مکمل کرنی ہے۔ باقاعدہ خاوند سے طے کرو اور تحریر کرو۔دوسرے اگر پڑھائی کے ساتھ ساتھ گھر کے حقوق بھی ادا کرنے ہیں تو مختلف وقتوں میں کورس آفرہوتے ہیں۔ لوگ اپنی سہولت کے مطابق کورس لے لیتےہیں۔ اس طرح خاوند اور بچوں کے حق بھی ادا کر سکتی ہو۔‘‘(کلاس واقفاتِ نو۔ ہیمبرگ ،جرمنی اکتوبر 2011 ۔مریم۔ اپر یل تا جون 2012)
اگر ہماری شادی ایسے لڑکے سے ہو جاتی ہے جو وقف نہیں ہے تو ہم کس طرح اپنا وقف قائم رکھ سکتی ہیں؟
حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا
’’جس ماحول میں ہو وہاں خدمت کر سکتی ہو۔لجنہ کے ذریعے سے خدمت کی جا سکتی ہے۔ پھر تبلیغ کی خدمت ہے۔ اگر تم Linguist ہو تو جماعتی لٹریچرکے ترجمہ کی خدمت کر سکتی ہو۔ اگر ڈاکٹر ہو تو اپنے خاوند کو کہہ سکتی ہو کہ کچھ عرصہ کے لئے وقف کر دیں۔ جس طرح بعض لڑکیاں وقف ہیں اُن کے خاوند بھی اُن کے ساتھ چلے گئےاور دونوں کام کر ر ہےہیں۔ اگرجماعت 24 گھنٹے کےلئے کہے تو پوری طرح وقف کر کےMain streamجماعت کے وقف سسٹم ہے اُس میں آجاؤ پھر جماعت کوئی نہ کوئی حل نکال لے گی۔ اور اگر یہ نہیں ہے تو جس جگہ تم بیٹھے ہو، اُسی جگہ خدمت کرتے رہو۔ تبلیغ سے تو کسی نے نہیں روکا اور نہ ہی دعائیں کرنے سے۔ ہاتھ سے کام کرنے سے، لٹریچر کا ترجمہ کرنے سے تو کسی نےنہیں روکا ہے۔ اور نہ لجنہ کے کام کرنے سے روکا ہے۔ عبادت کرنے سے نمازیں پڑھنے سےکسی نے نہیں روکا۔ یہ سب کام تو آپ کر سکتی ہیں۔‘‘ (کلاس واقفاتِ نو کینیڈا۔ 20 مئی 2013 ۔ مریم ۔اکتوبر تا دسمبر 2013)
تربیت اولاد کے بارہ میں حضور ایدہ اللہ تعالیٰ نےفرمایا۔
’’اپنا نمونہ ایسا بنائیں کہ بچے اسے دیکھ کرعمل کریں اور نمونہ پکڑیں۔ نمازوں میں پابندی آپ میں ہو۔ قرآن کریم کی تلاوت آپ با قاعدہ کرنے والےہوں، ماں اور باپ دونوں تلاوت کرنے والے ہوں، صرف نیکی کرنے کی تلقین نہ ہو بلکہ خود نیکیوں کی طرف ماں اور باپ کی بھی توجہ ہو۔ سچ بولنے کی طرف رجحان ماں باپ کا ہو۔ غلط بات کو برداشت نہ کریں۔ بچے کو یہ پتہ ہو کہ میرے ماں باپ خود بھی سچ بو لتےہیں اور سچ کو پسند کرتے ہیں تو آپ کا اپناعمل ہے جو بچوں کو نیک بنائےگا۔‘‘ (کلاس سڈنی، آسٹریلیا۔ 7اکتوبر 2013 ۔ مریم رسالہ جنوری۔ مارچ 2014)
(بشکریہ رسالہ مریم اکتوبر تا دسمبر 2017)
