ان (مقر ّبین الٰہی) کی ایک علامت یہ ہے کہ فرشتے ان پر برکات لے کر نازل ہوتے ہیں۔ قحط سالی کے موقع پر ان کی بدولت لوگوں کی فریاد رسی کی جاتی ہے۔ انہیں اُن کی آفات سے نجات دی جاتی ہے اور اُن کی تضرعات کے نتیجہ میں قوم کی کایا پلٹ دی جاتی ہے اور ان کی اکثر دعائیں قبول ہوتی ہیں اور ان کی حاجت روائی کے لئے خارق عادت امور ظاہر ہوتے ہیں ۔ وہ اللہ کے نور میں گم ہو جاتے ہیں۔ان کی حقیقت کو بجز اس شخص کے جس کو اللہ نے ان کے متعلق معرفت دی ہو، کوئی اور دوسرا نہیں جان سکتا۔
’’ان (مقر ّبین الٰہی) کی ایک علامت یہ ہے کہ فرشتے ان پر برکات لے کر نازل ہوتے ہیں ۔قحط سالی کے موقع پر ان کی بدولت لوگوں کی فریاد رسی کی جاتی ہے۔ انہیں اُن کی آفات سے نجات دی جاتی ہے اور اُن کی تضرعات کے نتیجہ میں قوم کی کایا پلٹ دی جاتی ہے اور ان کی اکثر دعائیں قبول ہوتی ہیں اور ان کی حاجت روائی کے لئے خارق عادت امور ظاہر ہوتے ہیں ۔ وہ اللہ کے نور میں گم ہو جاتے ہیں ۔
ان کی حقیقت کو بجز اس شخص کے جس کو اللہ نے ان کے متعلق معرفت دی ہو، کوئی اور دوسرا نہیں جان سکتا۔
‘‘ان (مقربین الٰہی) کی ایک علامت یہ ہے کہ فرشتے ان پر برکات لے کر نازل ہوتے ہیں اور اللہ مکالمات و مخاطبات سے انہیں عزت بخشتا ہے اور ان کی طرف یہ وحی کرتا ہے کہ وہ سردارانِ جنت میں سے ہیں اور مقرب ہیں اور ان کے دل جو چاہیں گے وہ انہیں اس میں مل جائے گا اور وہ جس چیز کی خواہش کریں گے وہ اس (جنت) میں ان کی ہو جائے گی۔
حضرت باری سے ان پر لذت بخش کلام اور ربّ العزت کی طرف سے ان پر فصیح کلمات نازل ہوتے ہیں ۔ انہیں خدائے قدیر و کریم کی طرف سے ہر عظیم خبراور اخبار غیبیہ سے مطلع کیا جاتا ہے، قحط سالی کے موقع پر ان کی بدولت لوگوں کی فریاد رسی کی جاتی ہے۔ انہیں ان کی آفات سے نجات دی جاتی ہے اور ان کی تضرعات کے نتیجہ میں قوم کی کایا پلٹ دی جاتی ہے اور ان کی اکثر دعائیں قبول ہوتی ہیں اور ان کی حاجت روائی کے لئے خارق عادت امور ظاہر ہوتے ہیں ۔ اور اس کے ساتھ ساتھ اللہ تعالیٰ کی طرف سے انہیں ایسی قوم کی سزا دہی کی بابت اطلاع اور خبر دی جاتی ہے جو اپنی رائے دوسروں پر ٹھونسنے کے لئے کوئی کسر نہیں چھوڑتی۔ اس طرح مقربین کی تائید کی جاتی ہے، انہیں بشارتیں دی جاتی ہیں ، ان کی مدد کی جاتی ہے اور انہیں منور اور بار آور کیا جاتا ہے۔ وہ کئی بار ہلاک کئے جاتے ہیں مگر پھر انہیں دوبارہ جنم دے دیا جاتا ہے یہاں تک کہ وہ اپنے ربّ کا دیدار کرتے اور انہیں یقین ہوتا ہے ان پر کوئی سورج طلوع نہیں ہوتا اور نہ کوئی رات ان پر چھاتی ہے مگر وہ اللہ کے اور قریب ہو جاتے ہیں ۔ اور ان کے علم میں ان کے پہلے علم سے کہیں بڑھ کر اضافہ ہوتا ہے اور جب وہ بڑھاپے کی عمر کو پہنچیں تو ایمان میں ان کا شباب کمال پر ہوتا ہے۔ وہ خوبرومرد کی طرح دکھائی دیتے ہیں گویا کہ وہ نوخیز جوان ہوں اور اسی طرح عمر کے بڑھنے کے ساتھ ساتھ ان کا ایمان اور عرفان بھی بڑھتا رہتا ہے۔ وہ تقویٰ میں اس قدر ترقی کرتے ہیں کہ ان کا کچھ بھی باقی نہیں رہتا اور نہ اس کا کوئی نشان۔ اور ان کو ہر آن تبدیل کیا جاتا ہے اور وہ ایک عرفان سے اگلے عرفان کی طرف منتقل کئے جاتے ہیں جو اپنی تابانی میں پہلے سے قوی تر ہوتا ہے۔ اور اس طرح ان کا ربّ اپنے فضل و احسان سے ان کی پرورش فرماتا ہے اور انہیں ایک فرسودہ تیر کی طرح رہنے نہیں دیتا بلکہ نئے سرے سے ان کے نورِ قلب کی تجدید کرتا ہے اور وہ انہیں دائیں بائیں پھراتا رہتا ہے۔ اور ان پر نفسانی خواہشات وارد ہوتی ہیں اور وہ جمال باری کے مشاہدہ کے نتیجہ میں ان سے بچ جاتے ہیں ۔ تو انہیں جاگتا ہوا خیال کرے گا حالانکہ وہ وصال الٰہی کے پنگھوڑے میں محوِ خواب ہوتے ہیں ۔ اور انہیں ردّی حالت میں نہیں چھوڑا جاتا بلکہ ان کو شگوفوں سے خوشے بنا دیا جاتا ہے اور ان میں تغیر و تبدل پیدا کر دیا جاتا ہے۔ اوروہ دنیا سے دُور رکھے جاتے ہیں ۔ اور خدائے فعّال کے حکم سے وہ اپنے پہلے مرتبوں سے کہیں ارفع مقامات پر پہنچائے جاتے ہیں ۔ان کے معاملہ کی انتہا یہ ہوتی ہے کہ وہ موت کے بعد زندہ کئے جاتے ہیں اور ٹوٹنے کے بعد جوڑے جاتے ہیں اور ان پر موت کے بعد موت وارد ہوتی ہے پھر ان کے اخلاص کے باعث انہیں حیات ابدی عطا کی جاتی ہے۔ اور وہ ابلیس کی گمراہ کن پکار اور ذکر الٰہی سے اعراض کرنے والوں اور اس قسم کے افراد کی دشمنی سے بچائے جاتے ہیں ۔ جب وہ اپنا مقصد پا لیتے ہیں توپھر انہیں ایک ایسا مقام عطا کیا جاتا ہے جسے مخلوق نہیں جانتی اور وہ ان کے صحنوں سے دور رہتے ہیں اوروہ ایسا نور بن جاتے ہیں جس سے آنکھیں ماندہ ہو جائیں ۔ وہ اللہ کے نور میں گم ہو جاتے ہیں ۔ ان کی حقیقت کو بجز اس شخص کے جس کو اللہ نے ان کے متعلق معرفت دی ہو، کوئی اور دوسرا نہیں جان سکتا۔ وہ نہاں در نہاں روح کی روح اور ہر مخفی سے زیادہ مخفی وجود ہو جاتے ہیں کہ ان پر پڑنے والی نظر ماندہ ہو کر لَوٹ آتی ہے اور دیکھ نہیں پاتی۔ جب ان کا نام جو آسمان میں ہے اور ان کے ربِّ اعلیٰ کے ہاں اپنی تکمیل کو پہنچ جاتا ہے اور جب ان کا وہ کام پورا ہو جاتا ہے جس کا اللہ نے اِرادہ اور فیصلہ کیا ہوتا ہے تو آسمان میں ان کی آسمان کی طرف واپسی کی منادی کر دی جاتی ہے تو وہ اپنے ربّ کی طرف لَوٹ جاتے ہیں اوران کی جانیں ایسی حالت میں نکل کر اللہ کی طرف جاتی ہیں کہ وہ اللہ سے راضی اور اللہ ان سے راضی ہوتا ہے۔ ان کی جانیں ان کے جسموں سے اس طرح نکلتی ہیں جیسے تلوار اپنے میان سے۔ وہ دنیا کو اس طرح چھوڑتے ہیں کہ انہیں اس پر کوئی حزن و ملال نہیں ہوتا۔ وہ دنیا کو ایک تھوڑے دودھ والی بکری کی طرح اور ایسے مردار کی طرح دیکھتے ہیں جس کا گوشت متعفّن ہوگیاہو اور دنیا کی طرف ان کی نظر نہیں اٹھتی اور نہ ہی انہیں اس دنیا کے چھوڑنے پر کوئی افسوس ہوتا ہے اور وہ اپنے محبوب کے گھر میں ڈیرے ڈال رہتے ہیں اور وہ تیز دھار تلواروں کے باوجود بھی(محبوب کے گھر کو) نہیں چھوڑتے اور بے حیا شخص کے علاوہ انہیں کوئی ملامت نہیں کرتا اور اندھی قوم کے علاوہ کوئی ان کا انکار نہیں کرتا۔سبّ و شتم کرنے والوں پر افسوس! وہ یقینا ہلاک کئے جائیں گے۔ تاریکیوں میں بھٹکنے والوں کا بُرا ہو کہ وہ لُوٹے جائیں گے۔ اور افتراپردازوں پر افسوس کہ ان سے باز پرس کی جائے گی اور ان لوگوں پر افسوس جن کی آنکھیں رحمان کے بندوں کو حقارت سے دیکھتی ہیں کہ وہ ضرور اندھے ہو کر مریں گے۔ بُرا ہو ان لوگوں کا کہ جب حق کی بات سنتے ہیں تو غضبناک ہو جاتے ہیں ۔پس وہ اپنی ہی آگ میں جلائے جائیں گے۔’’
(تذکرۃ الشہادتین مع علامات المقرّبین۔(مع اردو ترجمہ) صفحہ 79تا 83)



